مشمولات

Monday, 24 February 2014

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور فاطمی کمیٹی کی رپورٹ


مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور فاطمی کمیٹی کی رپورٹ

                ’’مسلمانوں کو کمیشن اوراوروں کو ریزرویشن‘‘ یہ ہندوستانی سیاست کی ایک غیر دستوری مگر عملی پالیسی رہی ہے جس پر آزادی سے تا حال بلا انقطاع تسلسل عمل ہوتا رہا ہے۔سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن تو اعداد وشمار پر مبنی حکومت کے تحت تشکیل شدہ معیارومیزان پر جانچی پرکھی سب سے معتبر رپورٹ ہے ۔اس کا اندازہ حکومت کا بھی اس طرح سے نہیں رہا ہوگا جن کا انکشاف ان رپورٹوں کے ذریعہ ہوا۔ ان کے سامنے آنے کے بعد یہ حکومت کے اپنے گلے کا پھندا ضرور بن گیا ہے جس سے اس کو نہ جان چھڑاتے بنتی ہے اور نہ ہی ہندوستانی سیاست میں یہ رنگ بھرا جاسکتا ہے کہ مسلمان اس رپورٹ کی سفارشات کے مطابق ۲۵؍ فیصد بھی مستفید ہوسکیں۔حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ آئین میں اس کی گنجائش نہیں ہے یا نہیںہوسکتی ہے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اگر مسلمانوں کے فلاح کی کوشش کی جائے تو کسی بھی حکومت میں بل پاس ہونا تو دور کی بات پارلیامنٹ میں اس پر غور کرنے کے اعلان کے دوسرے دن اس حکومت کا ڈانوا ڈول جائے گا۔ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے بات کرکے اقتدار کو پنڈولم بنانا برسر اقتدار جماعت کے لیے کسی بھی طورپر دانشمندی نہیں ہوسکتی ہے۔ بہر کیف ماضی میں بھی مسلمان اور انصاف پسند غیر مسلم دانشوران کی جانب سے مسلمانوں کے تعلیمی، اقتصادی اور سماجی وسیاسی صورتحال کے حوالہ سے ملکی سطح پر دور کی بات صوبائی یا علاقائی سطح پر بھی گفتگو کی گئی ہے تو اعداد وشمار کی روشنی میں بارہا یہ انکشاف ہوتا رہا ہے کہ اس ملک میں مسلمان آئینی طور پر چاہے جس درجہ کے شہری ہوں عملی طور پروہ دوسرے درجہ کے شہری ضرور بنادیئے گئے ہیں اور دن بدن ان کی اقتصادی بنیادوں کو کمزور کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کی تعلیمی ، سماجی وسیاسی حیثیت تنزل پذیر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے حوالے حکومتوں کے سامنے بھی جاتے رہے ہیں جن کا فائدہ بھی حکمراں جماعتوں کو الیکشن کے دوران تشہیر اور خوش کن بیانات دینے کی شکل میں ملتا رہا اور سادہ لوح مسلمان ہر مرتبہ کسی نہ کسی پارٹی کو ایک موقع دیتے ہوئے وہاں پہنچے جس کا خاکہ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن نے کھینچا۔ دیگر رپورٹوں کی طرح سچر کمیٹی کی رپورٹ کا سرد خانہ میں چلا جانا کوئی غیر یقینی بات نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔ محض اس لیے نہیں کہ حکومت مسلمانوں کے لیے سنجیدہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ اس لیے کہ مسلمان اس کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سب سے حسرت آمیز امر تو یہی ہے کہ آزادی کے ۶۷؍ سال میں بھی مسلمانوں نے اپنا کوئی لیڈر نہیں چنااور اس سے زیادہ حسرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایسا کوئی لیڈر پیدا نہیں ہوا جو گاندھی اور پٹیل تو دور کیجریوال نہیں بن سکا یا کہا جاسکتا کہ نہیں بننے دیا گیا۔ ہمارے یہاں صورتحال یہ ہے کہ کوئی بڑے طمطراق سے اٹھتا ہے۔ اپنے خطابوں میں مسلمانوں کے درد کو بیان کر کے حکومت کو جھنجھوڑتا ہے۔ حکومت اس کو ان کی نمائندگی کا جھانسہ دیتی ہے اور حکومت کے ایوانوں کی ایک کمزور پایہ والی کرسی پر بٹھادیتی ہے پھر اسی دن سے اس کی زبان گنگ ہوجاتی ہے۔ کوئی اپنے قلم سے حکومت کی کارستانیوں کا عوام کے سامنے پردہ فاش کرتا ہے حکومت اسے سیاسی گلیاری میں دو چار مرتبہ بھٹکنے کا موقع دیتی ہے پھر وہ اپنا منشور بھول بیٹھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے آزادی کے۶۷ بھی بعد اصلی نقلی میں فرق کرنا نہیں سیکھا ۔عین اس کے برعکس اگر کسی نے ان کی نمائندگی کی کوشش کی تو ان کے نزدیک فوری اور ذاتی نوعیت کی ضرورتیں اتنی اہم ہوجاتی ہیں کہ ان کے عدم تکمیل کی صورت کے پیدا ہوتے ہی اس کے لیے دوبارہ راستہ بند کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتے بلکہ عملا اسے کر دکھاتے ہیں۔اس صورتحال سے ہندوستان کی برہمنی ذہنیت مسلمانوں کی پسند وناپسندسے اتنی واقف ہوچکی ہے کہ وہ جب تک چاہے انہیں اپنی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان کا دانہ بنا رہنے پر مجبور رکھے۔ وہ جان گئے ہیں کہ یہ لالی پاپ کے عادی ہیں۔ اس لیے کیوں نہ انہیں لالی پاپ دے کر دے کر قومی قیادت کی تشکیل سے محروم رکھا جائے۔
                بہر حال سچر کمیٹی نے رپورٹ کے ساتھ چند سفارشات بھی کیں جس کے تحت کہا گیا کہ مسلمانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں تعلیمی، سماجی اور سیاسی سطح پر بڑھایا جائے۔ ان سفارشات کو روبہ عمل لانے کے لیے دوبارہ وزارت فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت (اسکول ایجوکیشن اینڈ لیٹریسی) محمد علی اشرف فاطمی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جسے فاطمی کمیٹی کا نام دیا گیا۔ اس رپورٹ کا اندازہ مولانا ولی رحمانی کے اس اقتباس سے کیا جاسکتا ہے :
’’یہ رپورٹ مسلمانوں کی حالت کی بہتری کے لیے ایک منظم کوشش ہے، ملی جماعتوں اور تعلیمی اور سماجی کام کرنے والوں کو اس رپورٹ کا مطالعہ کرنا چاہیے، اس پر بحث ہونی چاہیے اور اس بنے بنائے راہ عمل کو عوامی طاقت فراہم کرنی چاہیے، تاکہ بات آگے بڑھ سکے اور مسلمانوں کا کارواں بھی شاہراہ علم وترقی پر تیزی سے چل پڑے‘‘
                فاطمی کمیٹی کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاطمی کمیٹی نے پورے ہندوستان کے گوشہ گوشہ پھیلے مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی حالات کا جائزہ لے کر جو نسخہ تجویز کیا ہے وہ فی الوقت ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیمی انقلاب برپا کرنے اور تعلیم کے ذریعہ اپنی سماجی وسیاسی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے نسخہ کیمیا ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اس سے بڑی حسرت کی بات کیا ہوگی کہ عوام تو عوام خواص تک اس رپورٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ کوششوں کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گوکہ اس رپورٹ کی سفارشات کے چند حصوں پر عمل بھی ہوا ہے لیکن ابھی اس کے ۹۰؍ فیصد حصوں پر عمل ہونا باقی ہے۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت اس بات کے لیے آمادہ ہو۔ اس کے لیے نہ صرف آئینی طریقہ کار کو اپنانا ہوگا بلکہ حکومت میں ایسی قیادت بھی بھیجنی ہوگی جس میں فاطمی جیسا درد مند اور فکر مند اشخاص موجود ہوں۔
                فاطمی کمیٹی نے سچر کمیٹی کے انکشافات کی روشنی میں بطور خاص مسلمانوں کے زمینی حقائق کا پتہ لگاکر جو سفارشات کی ہیں ان کے نفاذ کے لیے ہمیں حکومت میں اپنی نمائندگی مضبوط کرانی ہوگی اور وہ بھی ایسی جو پارٹی کی کاسہ لیسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھنے کی بجائے ایک منشور کے تحت آئین کے بموجب اپنے حقوق بازیافت کے لیے رات دن ایک کر سکے۔
                فاطمی کمیٹی نے سب سے زیادہ تعلیم کو اہمیت دی ہے اور مسلمانوں میں تعلیمی انقلاب لانے کے لیے جہاں سرکاری وظائف کو عام کرنے اور آسان کرنے کی سفارش کی ہے اس سے زیادہ تعلیمی اداروں تک ان کی رسائی کو آسان کرنے پر زور دیا ہے ۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مسلم علاقوں میں زیادہ سے زیادہ اسکول قائم کئے جائیں ۔ اس کے علاوہ آئی ٹی آئی ، پالی ٹیکنیک اور دیگر پیشہ وارانہ تعلیمی ادارے کھولنے اور ان کی طرف مسلمانوں کی رغبت بڑھانے کے لیے حوصلہ افزا اقدامات کی سفارش کی ہے۔چنانچہ مجوزہ عمل اور منصوبہ کے تحت عمومی سفارشات، خواندگی اور تعلیم بالغان، پرائمری تعلیم ، ثانوی تعلیم، ہائر ایجوکیشن، پیشہ ورانہ تعلیم ، اعلی تعلیم اور طالبات کے لیے امداد جیسے عناوین کے تحت سفارشات اور گیارہویں پنچ سالہ منصوبے میں ان سفارشات کو شامل کر نے کی سفارش کی ہے۔
                الغرض کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی ہیں ان کے ہر شق کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ کم سے کم پڑھا لکھامسلمان بھی اس رپورٹ کو حاصل کر کے پڑھے۔ اس کی ذمہ داری مسلم دانشوران کی ہے کہ وہ کم سے کم پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اس رپورٹ سے واقف کرائے تاکہ مسلم عوام آئین میں موجود اپنے حقوق کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ان کے حصول کو آسان نے بنانے کی جو ترکیب بتائی گئی ہیں اس کو جان سکیں اور پھر اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔
                لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ان سفارشات کے لیے سڑک پر اترنے، ہنگامہ کھڑا کرنے اورریلی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں ایوانوں میں اپنا مناسب نمائندہ بھیجنے کی ضرورت ہے۔ یہ تب ممکن ہے جب ہم مسلمان اپنی انفرادی اور وقتی ضرورتوں کی جگہ مستقل اور جماعتی ضرورتوں کو ترجیح دیں اور ملک میں سیکولر محاذ کی حکومتوں کے قیام میں اپنے اتحاد کا ثبوت پیش کریں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ملک کی ہر جماعت نے مسلمانوں کو ہمیشہ بے وقوف ہی بنایا ہے اور جسے جہاں موقع ملا ہے مسلمانوں کے ساتھ مظالم روا رکھے ہیں۔ ایسے میں ہمارا کام یہ ہے کہ ان میں ہلکے کا انتخاب کریں اور ہم اپنی حیثیت کو تعلیم ، سیاست اقتصادیات اور سماجی ہر سطح پر جلد از جلد مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ ان سب میں سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم تعلیم میں مستحکم ہوں۔ کیونکہ یہی وہ کلید ہے جو ملک میں ہماری دیگر حیثیتوں کو بھی مستحکم کرے گی۔
                اس رپورٹ کے بارے میں ایک اور حقیقت جان لینی چاہیے کہ آزادی اور تقسیم کے بعد مسلمانوں نے اپنے حالات کے بارے میں حکومتوں کے سامنے اپنی بے بسی کا بہت اظہار کیا لیکن وہ کام نہیں کیا جو ان رپورٹوں کے ذریعہ ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی کام اگر ہم آزادی کے فورا بعد کرلیتے تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ اب جبکہ آزادی ۶۷۔۶۵ سال بعد اس طرح کا دستاویزی کام ہوپایا ہے ہمیں اس کے نفاذ کے لیے مزید ۶۵ سال کا انتظار نہیں کرناچاہیے بلکہ اب ہم صرف اتحاد کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ملک میں کسی کو اپنا لیڈر منتخب کریں جو ہمیں وقتی ، انفرادی مسائل اور مسلک ومشرب کے ذریعہ گمراہ کرنے کے بجائے مستقل حل پیش کرسکے۔ جبکہ یہ کام بھی ہم نے نہیں کیا ہے بلکہ بعض حالات کے در پیش ہونے پر خود حکومت کرانے پر مجبور ہوئی ۔ پھر خوش قسمتی ہے اس کو ایسی قیادت مل گئی جس نے اس پر خوشنما خاکہ کھینچ دیا ہے اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس میں رنگ بھرنے کے لیے اپنی عملی جد وجہد کا ثبوت پیش کریں اور ایک بار پھر جبکہ پارلیامانی الیکشن ہمارے سامنے ہے ہم ایک بار عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو ہماری طرف اس میں رنگ بھرنے کی پہل کرسکیں۔
٭٭٭

No comments: