ملحقہ مدارس سے طلبہ کا ختم ہوتا رجحان تشویشناک
بہار کی
موجودہ حکومت نے ملحقہ مدارس کے اساتذہ کے معاملے میں جو انقلابی قدم اٹھایا وہ نہ
صرف قابل تعریف ہے بلکہ تاریخی کہاجاسکتا ہے۔حالانکہ اب بھی ۶ پے رویزن کے نام
پر جس تنخواہ کا اعلان کیا گیا ہے اسے کسی بھی طرح ۶ پے کا نام نہیں
دیا جاسکتا ہے۔ یہ اور بات کہ مدارس کے اساتذہ” تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا“
کے مصداق حکومت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ اس کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا
ہے کہ ریاست کا جو پیسہ مدارس کے لیے خرچ ہورہا ہے اس کا خاطر خواہ فائدہ نظر نہیں
آرہا ہے اور دن بدن لوگوں کا رجحان مدارس اور بطور خاص سرکاری مدارس سے ختم ہورہا ہے۔
اس کی وجہ صرف اسکولی تعلیم کی مقبولیت اور روزگار کے مواقع کی پیداواری نہیں بلکہ
مدارس کا گھٹتا ہوا معیار تعلیم بھی ہے۔ بیشتر مدارس میں قابل اور با صلاحیت اساتذہ
بحال نہیں کئے جارہے ہیں۔ مدارس میں اساتذہ کی بحالی کے لیے جو اکسپرٹ متعین کئے جاتے
ہیں عام طور پر انٹرویو میں معروضیت کا ختم ہوجانا بہت یقینی ہے۔ جبکہ یہ اکسپرٹ خود
وہ ہوتے ہیں جو بورڈ میں اپنی چلت پھرت بڑھائے ہوئے ہوتے ہیں اور انٹرویو کے لیے ان
کا انتخاب ان کی صلاحیت اور غیر جانب داری کی بنیاد پر نہیں بلکہ بورڈ افسران سے تعلقات
اور مہربانی کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔جبکہ مدرسہ بورڈ کے انٹرویو میں حالات یہ ہیں کہ
اگر یہ اکسپرٹ مدرسہ انتظامیہ کی خواہش کے مطابق متاثر نہ ہوئے تو بہت ممکن ہے کہ وہ
امیدوار سے متاثر ہوجائیں حالانکہ کچھ اچھے لوگ بھی ہیں لیکن انہیں موقع ہی کم مل پاتا
ہے۔ اس سلسلہ میں ماہرین کی رائے یہ ہے کہ بی ٹی ای ٹی یا بی ایس ٹی ای ٹی کی طرز پر
مدارس میں تقرری کے لیے بھی ریاستی سطح کا ایک معیاری امتحان منعقد کرایا جائے جس میں
مدرسہ بورڈ اور مدارس میں ملازمت کے لیے منظور شدہ مدارس کے فارغین حصہ لیں سکیں اور
اس امتحان کے پاس کرنے کے بعد ہی مدارس کے خالی عہدوں کے لیے وہ امیدوار ہوسکیں۔ واضح
رہے کہ مدرسہ بورڈ میں ملازمت کے لیے مدارس بورڈ کی سند کے ساتھ ہندوستان کے کچھ مشہور
مدارس کی سند کو بھی منظوری دی گئی ہے جس کے فارغین اپنی اسی سند پر یہاں ملازمت کرسکتے
ہیں۔ حالانکہ بحالی کا جو اختیار مدارس انتظامیہ کو حاصل ہے اسے بھی برقرار رکھا جانا
ضروری ہے۔ اس امتحان کے کامیاب امیدواروں کی بحالی سے ایسا ہوگا کہ کم از کم ایسے لوگ
امیدوار ہوں گے کہ اگر اکسپرٹ ان سے یا مدارس انتظامیہ کی ایما پر ان کے بارے میں متاثر
ہوجائے تب بھی ان کی صلاحیت قابل اعتبار ہوگی اور مدارس اساتذہ کی بحالی میں لگایا
جانے والا کنبہ پروری اور لین دین کا الزام بھی بڑی حد ختم ہوسکتا ہے۔اس سلسلہ میں
قابل توجہ بات یہ ہے کہ تقرری کا اختیار مدارس انتظامیہ کو رہتے ہوئے بھی معیاری اساتذہ
مدارس میں خدمت پر مامور ہوں گے اور لوگوں کا ان پر اعتبار قائم ہوگا اور اس سے سرکاری
مدرسوں میں پڑھنے کا رجحان بڑھے گاجبکہ مدارس میں ماسٹر کی جگہوں پر بحالی کے لیے بی
ٹی ای ٹی امیدواروں کا بھی انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس طرح کے عمل کو مدارس انتظامیہ
اپنی آزادی کے خلاف سمجھیں گے لیکن آج جس طرح لوگوں کا رجحان مدارس کے ختم ہورہا ہے
وہ تشویشناک ہے اور جب بچے ہی نہیں ہوں گے تو ان کی نظامت اور صدارت کسی کام کی نہیں
رہے گی۔ اس ضمن میںقابل توجہ امر یہ ہے کہ آج مدارس میں جو انفرا اسٹرکچر ہے اس کی
نفع بخش صلاحیت کے ضیاع کے ساتھ مدارس میں بچوں کی مناسب تعداد نہیں رہنے کی وجہ اساتذہ
کی افرادی قوت اور توانائی ضائع ہورہی ہے۔ جبکہ وسائل کا ضیاع قوم اور ملت کے لیے دونوں
کے لیے مہلک ہے۔ اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ وسائل کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے بھی
ضروری ہے کہ مدارس کے نظام کی تشکیل نو کی جائے۔ پھر یہ کہ ہندوستان میں مدارس کے ذریعہ
ہی مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو بچایا جاسکتا ہے۔ ایسے میں علما اور دانشوران کی ذمہ
داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ مدارس کے نظام کو درست کر کے مناسب تعداد میں بچوں کو مدارس
میں پڑھنے کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ملی تشخص کی بقا کا
مسئلہ پیدا نہ ہو۔ واضح رہے کہ ہندوستان جیسے کثیر التہذیب ملک میں اب بھی کوئی ایسی
چھوٹے چھوٹے لسانی اور منفرد تہذیب رکھنے والے طبقات ہیں جو اپنی تہذیب کو باقی نہیں
رکھنے کی وجہ سے اپنا تشخص کھو رہے ہیں۔ یہ صرف اس طبقہ کے لیے تشویشناک بات نہیں بلکہ
ملک میں موجود کثرت میں وحدت کی خصوصیت کو باقی رکھنا بھی ایک مسئلہ ہے جو اس ملک کی
انفرادی شان ہے۔
No comments:
Post a Comment