اردو زبان میں سائنسی ،تکنیکی، حرفتی، پیشہ ورانہ
اور اعلی تعلیم کے مسائل
اردو
زبان میں سائنسی ، تکنیکی ، حرفتی، پیشہ ورانہ اور اعلی تعلیم پر کئی پہلؤوں سے
غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ اردو ہندوستان کی مقبول اوراہم زبانوں میں سے ایک
ہے۔ ہندوستان کی بہت بڑی آبادی بلا لحاظ مذہب وعلاقہ اسے بولتی اور سمجھتی ہے۔
پاکستان کی تو خیر قومی زبان ہی ہے۔ دنیا کے دوسرے گوشوں حتی کہ یورپین ممالک میں
بھی اس زبان کے سمجھنے اور بولنے والے اچھی تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن اس موضوع کی
مناسبت سے سب سے اہم مسئلہ زبان بحیثیت ذریعۂ تعلیم ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی زبان کے
ذریعہ تعلیم ہونے کے لیے اس کا صرف سمجھا جانا ور بولا جانا ہی کافی نہیں بلکہ اس
کے رسم الخط (Script)اور علمی زبان کا
جاننا بھی ضروری ہے اور کوئی زبان علمی زبان تب ہوگی جب اس کے اندر دنیا بھر کے
مروجہ علوم وافکار کے مسائل وموضوعات کی ہر کیفیت کو اپنی زبان کے مزاج وروایات کے
مطابق بیان کرنے کی قدرت موجود ہو۔
عام
طور پر جو زبانیں علمی کہی جاتی ہیں ان میں علوم کی اشاعت میں ایک تسلسل پایا جاتا
ہے۔ یہ بھی قدرتی امر ہے کہ اگر کسی زبان میں علوم کی اشاعت کا تسلسل ٹوٹ جائے تو
علوم کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ ایک وقفہ کے بعد اس کے بیان پر عبور مشکل ترین
امر ہوجاتا ہے اور وقفہ جتنا بڑھے گا مشکل اتنی زیادہ بڑھے گی۔
ماہرین
کا خیال ہے کہ مؤثر تعلیم وہی ہوگی جس کا میڈیم مادری زبان ہو۔ چنانچہ ابتدا ہی سے
دور رس اور گہر ی نظر رکھنے والے ہمارے اسلاف نے کوشش کی کہ ہماری زبان اردو کو اس
لائق بنایا جائے کہ اس میں ہر طرح کے خیالات کا اظہار ہوسکے اور وہ تعلیم کا میڈیم
بن سکے۔ اس سلسلے میں چند شخصیتوں اور چند اداروں کی ناقابل فراموش خدمات رہی ہیں۔
خاص طور پر دلی کالج جس میں سائنسی اور علمی مضامین کی تعلیم کا ذریعہ ہندوستانی
تھا اور اس وقت ہندوستانی یہی اردو زبان تھی۔ اس ادارے میں ماسٹر رام چندر کی
خدمات قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے جہاں بچوں کو اردو زبان کو میڈیم بناکر تعلیم دی وہیں
اپنے زیر ادارت نکلنے والے اخبار میں ایسے علمی اور سائنسی مضامین کی اشاعت کی جن
سے ہماری زبان علمی اور سائنسی زبان کے اظہار کا ذریعہ بن سکے ۔اس کام کے لیے ورنا
کلر سوسائٹی قائم کی گئی تھی اور منصوبہ کے تحت اس کے ذریعہ ادب سے الگ ہوکر علوم
وسائنس پر مضامین لکھے گئے۔ اس کے بعد کے زمانہ میں علی گڑھ تحریک اور سرسید کی
شخصیت ہے جس نے اس ضرورت کو شدت سے محسوس کیا اور اپنے رفیقوں کے ساتھ خودبھی اس
کام کو بخوبی انجام دیا ۔ فورٹ ولیم کالج کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں لیکن
وہاں محض زبان سے سروکار تھا۔ان حضرات کی گراں قدر خدمات سے ہماری زبان میں اتنی
طاقت آگئی کہ وہ اس وقت کی رائج علمی زبانوں کو بخوبی بیان کرسکے۔ ان کے بعد ایک
اہم ادارہ جس نے اردو کو تعلیم کا میڈیم بنانے اور اسے کامیاب طور پر عملی جامہ
پہنانے کی نیک خدمات انجام دی جامعہ عثمانیہ حیدرآباد ہے۔ اس ادارے میں دارالترجمہ
کا ایک شعبہ ہی اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ دوسری زبانوں کے مفید علمی مضامین کو
اردو کے قالب میں ڈھالا جاسکے ۔ اس کا یہ شعبہ اردو کے فروغ میں اپنی ایک الگ
شناخت رکھتا ہے۔
ان
لوگوں نے محسوس کیا کہ کوئی زبان جب تک وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوگی تو
زندہ نہیں رہ سکتی ہے اور کوئی زبان محض ادب اور شاعری کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھتی
ہے بلکہ اس کی بنیاد علمی ہوتی ہے ۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ ادب ؛علمی زبان کو خیالات
کے اظہار کے لیے جن ترسیلی قوتوں کی ضرورت ہے؛ ان کو سہل اور سریع الفہم بناتا ہے
۔ اس میں ایسی لفظیات کا اضافہ کرتا ہے جو پیچیدہ خیالات کی ترسیل میں معاون ہو ں
اور ان کی کیفیات کا بخوبی اظہار ہوسکے۔ انہوں نے دیکھا کہ جو قومیں علمی بنیاد پر
جتنی ترقی یافتہ ہیں ان کی زبان دوسری زبانوں پر اتنی ہی فوقیت رکھتی ہے۔ لیکن
انگریزجو Devide and Rule کی پالیسی پر عمل کرتے
تھے زبان کی بنیاد پر بھی ہندوستانیوں کے درمیان تفریق ڈالنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس
وجہ سے ہندؤوں کا رجحان سنسکرت کی طرف ہوگیا اور ہندی زبان کو فروغ حاصل ہوا ۔
دوسری طرف تقسیم کا سانحہ ہوگیا اور پاکستان کی زبان اردو ٹھہر ی ۔ اس کے نتیجہ میں
ہندوستا ن کی زبان ہندی ہوگئی ۔ پھر یہ کہ اردو بولنے والی ایک بڑی آبادی پاکستان
منتقل ہوگئی۔ اس طرح اردو میں جو علمی سرمایہ اور علمی دماغ تھا وہ دو حصوں میں
تقسیم ہوگیا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ اردو رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہوگئی اور
زمانے کے تقاضوں سے اس کا رشتہ ٹوٹ گیااور اس کی ارتقائی کڑی بکھر کر رہ گئی۔ اس
طرح ایک علمی زبان میں ترسیل کی جو قوت درکار ہوتی ہے اس میں کمی آگئی ۔
لیکن
ہماری زبان کے علما نے اس فلسفہ پر غور کیا اور اپنی زبان کو علمی اور سائنسی زبان
سے جوڑنے کی پوری کوشش کرتے رہے۔ اس سلسلے میں موجودہ دور میں دو اداروں کی خدمات
نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جس کا قیام ۱۹۹۶ میں
عمل میں آیا۔ یہ ادارہ جہاں اپنے پرانے سرمائے کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے فروغ
واشاعت کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے وہیں اپنی زبان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ
کرنے کے لیے سائنسی اور تکنیکی علوم کی کتابوں کو ترجمہ کراکر شائع کر رہا ہے۔
ساتھ ہی اس نے اردو والوںکو تکنیکی تعلیم سے قریب لانے کے لیے کمپیوٹر کورس کا
آغاز کیا ہے جو بڑی کامیابی سے ملک بھر میں فروغ پارہا ہے۔اس کے ساتھ حرفتی تعلیم
سے اردو کو جوڑنے کے لیے ایک کورس اور لانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے لیے موجودہ
ڈائرکٹر ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین کی اہم پیش رفت ہے۔وہ خود بھی سائبر اسپیس اور
اردو کے حوالے سے کام کرنے کے ساتھ ساتھ اردو ٹکنالوجی پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس
کے علاوہ مرکزی حکومت کے ذریعہ ۱۹۹۸میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ایک
سنٹرل یونیورسٹی کی حیثیت سے قائم ہوئی جو روایتی اور فاصلاتی دونوں طرز پر اردو میڈیم
میں کامیابی کے ساتھ تعلیم دے رہی ہے۔ اس یونیورسٹی میںسماجی اور روایتی علوم کے
علاوہ پالی ٹیکنک کے چار برانچ ، آئی ٹی آئی کے تین برانچ ، ڈگری سطح پر بی ایس سی،
بی کام اورپیشہ ورانہ تعلیم میں بی ایڈ، ایم ایڈ، جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن وغیرہ
کے کورس اردو میڈیم میں موجود ہیں۔ ان کورسوں کا اردو آبادی کی طرف سے بھر پور
استقبال بھی ہورہا ہے۔
ذریعہ
تعلیم کی زبان اور عام زبان میں قدرے فرق ہوتا ہے۔ ذریعہ تعلیم ایک علمی زبان ہوتی
ہے جس میںہر فن سے متعلق اپنی اصطلاحات ہوتی ہیںجو کسی بھی مضمون کو بڑی بڑی تشریحات
سے بچاتی ہیں۔وہ اصطلاحات اپنے فن کی نمائندگی کر تی ہیں۔ جب دلی کالج، علی گڑھ
تحریک اور جامعہ عثمانیہ نے اس ضمن میں پیش رفت کی تو اصطلاح سازی پر بھی بھر پور
توجہ دی گئی۔ اس سلسلے میں عثمانیہ یونیورسٹی کی ناقابل فراموش خدمات رہی ہیں۔ اسی
زمانے میں اصطلاح سازی کے لیے کامیاب اصول بھی بنائے گئے۔ الغرض کسی زبان کو علمی
زبان بننے کے لیے جس ترسیلی صلاحیت کی ضرورت ہے اس میں اصطلاحات کی اہمیت مسلم ہے۔
بلا شبہ اردو میں یہ صلاحیت موجودرہی ہے۔ البتہ وقت کے ساتھ نہیں چلتے رہنے کی وجہ
سے اس میں ایک خلا ضرور پیدا ہوگیاجس نے چند ایسے مسائل کو جنم دیا ہے کہ اگر ان کی
جانب توجہ نہیں دی گئی تو امید بھر کامیابی نہیں مل سکتی ہے۔
موجودہ
وقت میں جب کبھی اپنے یا غیر اردو زبان کی خوبیوں پر گفتگو کرتے ہیں تو صرف اس کے
رومانی وصف کو بیان کرتے ہیں۔ اردو محبت اورشاعری کی زبان ہے۔ اردو دلوں پر محبت
کرتی ہے اور کانوں میں رس گھولتی ہے۔ یہ غزل ، قصیدہ اور مرثیہ (عاشقی، خوشامد اور
نوحہ و ماتم ) کی زبان ہے۔ہندوستان کی کامیاب فلموں کا راز بھی اردو زبان کی چاشنی
ہے۔اردو زبان کے نغمات مسرور کردیتے ہیں۔ یہ باتیں سننے میں بھلی لگتی ہیں اور ہم
خوش ہوجاتے ہیں اور ان کے منفی پہلوؤوں پر غور نہیں کرتے۔ لیکن قابل غور امر یہ ہے
کہ کیا رومانی جذبات دائمی ہوتے ہیں؟ رومانیت ایک قسم کی جذباتیت ہے جو دیر تک
قائم نہیں رہتی۔ یہ بات صحیح ہے کہ جس کی زبان میں مٹھاس ہوتی ہے وہ دلوں پر حکومت
کرتا ہے لیکن ہمیں دلوں کے ساتھ ساتھ جہاں داری وجہاں بانی کا کام بھی کرنا ہوگا
جس میں صرف عاشقی کی زبان بہت دیر تک ہمارا ساتھ نہیں دے سکے گی۔ ہمیں صرف رقص
وسرور کی نہیں علم وسائنس کی زبان بھی درکار ہوگی ۔ ہماری زبان کی بد قسمتی یہ بھی
رہی ہے کہ اس میں علوم کی اشاعت کا تسلسل بھی ٹوٹا ہے۔ ہماری شاعری اور ادب میں
زبان کا ایسا تجربہ بھی اب نہیں ہو رہا ہے جو علوم کے پیچیدہ افکار وخیالات کے بیان
پر قادر ہوسکے۔حالانکہ پہلے اردو زبان میں علوم کے فارمولے بھی شعروں میں بیان کیے
جاتے تھے۔
اردو
زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے میں ان سب کے علاوہ بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ مثلاآج
لوگوں کا رجحان انگریزی میڈیم کی طرف ہے۔ اس لیے اردو مادری زبان رکھنے والے اردو
کی تحریری اور علمی زبان سے نا بلد رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف پرائمری اور مڈل سطح پر
اردو میڈیم کے جو اسکول ہیں ان میں مناسب تعلیم نہیں ہونے کی وجہ سے عوام کا رجحان
ادھر نہیں ہوتا ہے۔ اکثر ریاستوں میں اردو میڈیم اسکول موجود ہی نہیں ہیں ۔ سیکنڈری
سطح کے اسکول کا تو اور بھی فقدان ہے۔ پھر یہ کہ اردو میں نصاب کی کتابیں بھی دستیاب
نہیں ہوتی ہیں۔ اس لیے جو طلبہ ایک زبان کے طور پر پرائمری ، مڈل اور سکنڈری سطح
پر کسی طور سے اردو پڑھتے بھی ہیں تو اس میں ان کی لیاقت بس واجبی سی ہوتی ہے۔ سیکنڈری
کے بعد سینئر سیکنڈری سطح پر اس میں مزید کمی آجاتی ہے۔ ظاہر ہے ایسے بچے جب تکنیکی
تعلیم میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنائیں گے تو یہاں پر زبان ان کی سمجھ سے بالاتر
ہوگی۔ ایسے میں ان کی یہ تعلیم بھی متاثر ہوگی۔
جیسا
کہ اوپر کہا گیا کہ موجود وقت میں دو اداروں نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا ہے ۔
اگر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو نظرمیں رکھتے ہوئے اس موضوع پر بات کی
جائے تو سب سے پہلے جوبات سامنے آتی ہے وہ مواد کی فراہمی کا ہے۔ نصاب کے مطابق اب
بھی بازار میں اردو زبان میں کتابیں دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے جو کتابیں پڑھائی
جارہی ہےں وہ انگریزی میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ طلبہ اس سطح پر اتنی لیاقت تو رکھتے نہیں
ہیں کہ وہ بہ آسانی ترجمہ بھی کریں اور مواد کو بھی سمجھیں ۔ ایسی صورت میں لیاقت
بھی متاثر ہوگی اور امتحان میں نمبرات بھی نہیں آئیں گے۔ جو اساتذہ مامورکیے گئے ہیں
گرچہ ان کے لیے اردو جاننے کی شرط رکھی گئی ہے لیکن خود ان کی تعلیم انگریزی یا دیگر
کسی زبان میں ہوئی ہے اورسر دست اردو میں تدریس کے لیے ان کی تربیت کا کوئی نظم بھی
نہیں کیا گیا ہے ۔مزید یہ کہ اردو سے ان کا تعلق بس ذریعہ اظہار کی حد تک ہے ۔ وہ
بھلا اردو میڈیم میں بخوبی کس طرح تدریس کا کام انجام دے سکتے ہیں۔جبکہ اب تو ایسے
اساتذہ بھی بحال کئے گئے ہیں جن کا اردو زبان سے ایسا بھی تعلق نہیں ہے۔ خود یونیورسٹی
کی پالیسی یہ ہے کہ بازار کے ڈیمانڈ کو نظر میں رکھتے ہوئے Termsکو
انگریز ی ہی میں پڑھا یا جائے اور درمیان کی چیزیں اردو میں ہوں ۔ ایسی زبان کا ہم
مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ نہ اردو ہوتی ہے نہ انگریزی۔ یہ صحیح ہے کہ زندہ زبان نئی ایجادوں
کو قبول کرنے سے بھاگتی نہیں ہے لیکن ایک زندہ زبان نئی چیزوں کو اپنے رنگ میں
ڈھال کر ہی اسے استعمال میں لاتی ہے۔ اس کے لیے اصطلاح سازی کی ضرورت ہے۔ ایک علمی
زبان کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اصطلاح سازی کا کام ہمیشہ جاری رہے ۔ تب ہی ایک
زندہ زبان کی اپنی خصوصیتیں باقی رہ سکتی ہیں۔ ہمارے لیے ہندی زبان اس کا نمونہ
ہے۔ وہ نئے الفاظ کو اپنی اصطلاح دے کر ہی استعمال کرتی ہے ۔خواہ وہ لفظ سنسکرت سے
ماخوذ ہونے کی وجہ سے کتنا ہی ثقیل کیوں نہ ہو۔ان دنوں دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ
علمی موضوعات تو درکنار ادبی زبان میں بھی انگریزی الفاظ ہو بہو استعمال کئے جانے
لگے ہیں۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ اردو میں انجذابی صلاحیت ہے ۔اگر یوں ہی نئے الفاظ اپنی
تمام تر خصوصیتوں کے ساتھ لیے جانے لگیں تو بہت جلد یہ زبان دوسری زبان میں ضم ہو
کر رہ جائے گی۔
مولانا
آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے جب اس پیمانے پر اردو کو میڈیم بنایا ہے توجامعہ
عثمانیہ کے طرز پر اسے بھی شعبہ ترجمہ میں اصطلاح سازی پر توجہ دینی چاہیے۔ اور
لازمی طور پر ہر کیمپس میں دار الترجمہ کے تحت ایک فرد مامور کرنا چاہیے جو اصطلاح
سازی کی خدمت انجام دے اورتدریس میں آنے والی ترجمہ کی پریشانیوں کو حل کرے۔ گرچہ
اصطلاح سازی کا کام گروہی (Group
work)ہے انفرادی نہیں۔
ایک
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مولانا آزاد قومی یونیورسٹی میں اس وقت تکنیکی تعلیم میں
ڈپلوما سطح تک تعلیم جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ طلبہ تکمیل کے بعد روزگار سے لگ جائیں گے
ایسا ضروری تو نہیں ہے۔ ان میں بہت سے طلبہ ڈگری اور پی جی سطح تک بھی پڑھ سکتے ہیں۔
اردو ذریعہ تعلیم سے پڑھنے کے بعد کیا اس سطح پر ان کے ساتھ مسائل نہیں کھڑے ہوں
گے۔ ابھی تو نچلی سطح پر کتابیں مفقود ہیں تو آگے کی سطح کا کیا کہنا۔ مستقبل قریب
میں ان کے مواد کی دستیابی ممکن بھی نظر نہیں آتی ہے۔
پیشہ
ورانہ تعلیم کے حوالہ سے بھی بات کی جائے تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ آج صارفیت کا
دور ہے ۔ بازار میں اس کی کھپت ہے جو بازار کے لائق ہے۔ تعلیم اب بازار کے تقاضے
اور ملازمت پر مبنی (Market Based &
Job Oriented)ہے۔ بازار کی زبان عالمی طور پر انگریزی ہے۔ کیا اردو میں تعلیم
حاصل کرنے کے بعد بازار میں ان کی کھپت دوسروں کی طرح ہوگی ؟ یونیورسٹی نے اسی کو
مد نظر رکھتے ہوئے ہر کورس کے ساتھ انگریزی کو بھی شامل کیا ہوا ہے۔ لیکن کیا عام
طور پر طالب علم اس لائق ہوتے ہیں کہ وہ دو اور تین زبانوں میں بولنے کی مہارت (Communication Skill)پیدا کرسکیں؟ جب ان میں
Communicationکی کمی ہوگی تو صارفی مزاج بازار کیا انہیں قبول کرلے گا
اور قبول کر بھی لے توکیا ان کی اہمیت بھی دوسروں کی طرح ہی ہوگی؟ ہوسکتا ہے کہ
ملازمت ملنے پر ذہین اور با صلاحیت طلبہ اپنی قابلیت ثابت کر لیں ۔ لیکن ابتدا میں
ہی اردو میڈیم ہونے کی وجہ سے ملازمت سے انکار ہوگا تو وہ اپنی قابلیت کا اظہار
کہاں کریں گے؟ اور جب بازار میں اردو زبان میں تعلیم کی وجہ سے ملازمت میں امتیازی
سلوک سہنا پڑا تو اس کے منفی اثرات ظاہر ہوں گے۔ آج جبکہ اعلی اور کم ازکم پیشہ
ورانہ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کا بنیادی مقصدہی کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ
دولت کا حصول ہے تو کیونکر کوئی محض زبان کی وجہ سے یہ مواقع کھوئے گا۔
یہ
ایک شبہ ہے ۔ لیکن شبہ کی بنیاد پر اس سے منہ موڑا نہیں جاسکتا ۔ ہاں یہ ضروری ہے
جن طلبہ نے اس سے رشتہ جوڑا ہے ان کے والدین جن کی مادری زبان اردو ہے اور جن کی
تہذیب اس سے وابستہ ہے وہ کو شش کریں کہ ان کے بچے بازار کے تقاضوں پر کھرے اتریں۔
کیوں کہ زمانے سے ہم آہنگ نہ ہوکر ان کی زبان مرجائے گی تو ان کی تہذیب بھی ان کے
ہاتھوں سے جاتی رہے گی تب ان کا ہونا اور نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ کیوں کہ
قومیں اپنی مخصوص تہذیب ، مسلمات اور عقائد ہی سے پہچانی جاتی ہیں۔
مختصر
یہ کہ اردو میں تکنیکی تعلیم دی جاسکتی ہے ۔ اس راہ میں چند رکاوٹیں ضرور ہیں۔ لیکن
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ابھی یہ عمل تشکیلی حالت میں ہے۔ آئندہ بھی اسی صورت میں
کام جاری رہا ہے تو ان پر قابو پالیا جائے گا۔ اگر ابھی سے ہی شبہات اور مسائل کو
دیکھتے ہوئے اس سے فرار اختیار کیا جانے لگے تو ہماری زبان کی ترقی نہیں ہوسکے گی۔
ان
سب کے علاوہ ہمیں زبان کے فروغ کے لیے ایک ہدف مقرر کے اپنی زبان کو تحقیق و ایجادات
کی سطح تک لے جانا ہوگا۔ جب ہم اپنی زبان میں نئی تحقیقات اور ایجادات لائیں گے تو
دوسرے لوگ بھی ہماری زبان پڑھنے پر مجبور ہوں گے اور تبھی جاکر زبان کو بھی بقائے
دوام حاصل ہوسکتا ہے۔ حالانکہ یہ مشکل بھی ہوگا اور وقت طلب بھی۔ خود آمادگی کی
ضرورت بھی ہوگی اور ذہن سازی کی بھی۔
ہمیں
اردو زبان میں علمی وسائنسی تحقیقات کو فروغ دینے کے لیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ایسے
رائٹرز گلڈ کلب کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جہاں طلبہ وطالبات، شوقین
حضرات وخواتین اور دانشوران ماہانہ یا سہ ماہی طور پر بیٹھ کر ادب کے ساتھ علمی و
سائنسی زبانوں پر ٹوٹی پھوٹی زبان میں ہی صحیح پرچے پیش کریں۔جس طرح کہ ہر چھوٹے
بڑے شہروں میں شعری نشستوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس سے ہماری زبان میں لکھنے والوں میں
تو اضافہ ہوگا ہی۔ انہی میں سے کوئی آئندہ سائنس اور دیگر علوم کا ماہر ہوگا تو
اردو زبان میں کوئی علمی خدمت بھی انجام دینے کا حوصلہ رکھے گا۔ اس طرح کی نشستوں
میں اگر ان میں ایک شخص ایسا ہو جو زبان کا ماہر ہو اور پرچے پیش کردینے کے بعد
زبان کو صحیح کرنے کے قواعد کے نکات بتادے تو رفتہ رفتہ ان کی زبان بھی درست ہوجائے
گی۔ انہی پرچوں میں اگر کسی کو اخبارات اور رسالوں میں جگہ مل گئی تو حوصلہ بلند
ہوگا اور معیار لانے کی کوشش کرے گا۔
قابل
توجہ امر یہ بھی ہے کہ ہندوستان بھر میں موجود اردو اکاڈمیوں کی جانب سے ہر سال سیکڑوں
سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں اور کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی تعاون دیا جاتا ہے لیکن
ان میں بیشتر ادب سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس میں اکاڈمیوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ کیونکہ
ان کے پاس سائنس وٹکنالوجی اور دیگر فکری علوم کے لیے منصوبے ہی موصول نہیں ہوتے ۔
.jpg)
اس سلسلہ میں اکاڈمیوں کی جانب سے یہ اقدام کیا
جاسکتا ہے کہ ۵۰ ؍فیصدسائنسی وعلمی سیمیناروں کے انعقاد اور ۵۰؍ فیصد سائنسی وعلمی
کتابوں کی اشاعت کے لیے رقم مختص کردی جائے۔ ہر سال سائنس اور علوم کی اعلی تحقیقات
پر مبنی عمدہ کتابوں کا ترجمے شائع کرائے جائیں۔ ہر سال اردو میڈیم میں سائنس ،
ٹکنالوجی اور علوم کی اشاعت میں نمایاں کار کردگی انجام دینے والوں کو صوبائی اور
مرکزی سطح کا کوئی اعلی ایوارڈ دیا جائے۔
اردو
میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ عام طور اس
طرح کے اسکول بے بسی و بدحالی کی منہ بولتی تصویر ہوتے ہیں اور ان کے بچوں کے چہرے
سے مفلسی ٹپکتی ہوتی ہے۔ ان اسکولوں کے طلبہ وطالبات میں نصابی وہم نصابی سرگرمیاں
مفقود ہوتی ہیں۔ قومی ریاستی وظیفوں میں ان پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
اس
وقت پری پرائمری تعلیم کے لیے سمعی بصری آلات استعمال کر کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو
حروف تہجی، اعداد ، Rhymes اور کہانیوں کے ذریعہ
ہلکی پھلکی اور بوجھ ڈالے بغیر تعلیم دی جارہی ہے۔ اردو زبان میں ایسے وسائل انکار
کی حد تک محدود و ہیں اور جو ویڈیوز ویب سائٹ پر ملتے ہیں وہ انتہائی ناقص ہوتے ہیں
جبکہ دیگر زبانوں کے اتنے خوبصورت دلچسپ اور بہترین ہوتے ہیں کہ جی خوش ہوجاتا ہے
اور بچہ ان سے راغب ہوتا ہے۔ انگریزی کے علاوہ عربی وفارسی میں بہت اچھی اچھی ویڈیو
موجود ہے۔ اکاڈمیوں کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ بچوں کو دوسری زبانوں کی
طرح نئی ٹکنالوجی کے ذریعہ تعلیم دے کر اپنی مادری زبان سے وابستہ وپیوستہ رکھا
جاسکے۔ یہ وقت کے تقاضے ہیں اورخود کو باقی رکھنے کے ان تقاضو ںکو بھی پورا کرنا
ہوگا۔
یہ مضمون سہ ماہی اسالیب مطبوعہ سرگودھا
پاکستان میں جنوری تا رچ ۲۰۱۴ کے شمارے میں شائع ہوا۔
No comments:
Post a Comment