عام انتخاب اور مسلم ووٹروں کی ذمہ داریاں
عام انتخاب ۲۰۱۴ دربھنگہ اور مدھوبنی اضلاع کے اقلیتی عوام کے لیے کٹھن گھڑی اور سخت امتحان کا
وقت ہے۔ واضح رہے کہ دربھنگہ اور مدھوبنی مسلم غلبہ والے اضلاع ہیں۔ پارلیمانی حلقہ
کی تقسیم کے اعتبار سے دونوں اضلاع کے کچھ بلاک ایک دوسرے سے ملے جلے ہیں۔ پارلیمانی
انتخاب میں یہاں کے مسلم ووٹوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور کسی امیدوار کی جیت کو یقینی
بناتی ہے۔ لیکن عام طور پر مسلم ووٹوں میں اتحاد نہیں ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے
خوش آئند نتیجہ نہیں ہوتا ہے۔ اس بار بھی ان دونوں اضلاع کے حساس اور با شعور عوام
مسلم ووٹوںکے تئیں بڑی الجھن محسوس کر رہے ہیں۔ کیونکہ ایک طرف ایوان میں مسلمانوں
کی نمائندگی آزادی کے بعد سے مسلسل گھٹتی جارہی ہے جو ان کی آبادی کی شرح سے بہت
پیچھے ہے۔ قیادت کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کے بنیادی مسائل بھی ایوان میں پیش نہیں
ہو پارہے ہیں جبکہ یہ بھی صحیح ہے کہ عام طور پر ایوان تک پہنچنے والے مسلم لیڈران
کی ایوان میں مسلم مسائل کو پیش کرنے سے بڑی دلچسپی نہیں ہوتی ہے ۔ شاید تعداد کی کمی
بھی جرأت اظہار کو روکتی ہو لیکن ان میں کچھ مسلمان نمائندے واقعی ایسے ہیں جنہوں
مسلم مسائل کے تئیں ایوان کو متوجہ کیا ہے اور کچھ نے خاموشی سے بھی مسلمانوں کے مسائل
کا مناسب حل نکالنے کی کوشش کی ہے۔اس گھٹی ہوئی نمائندگی کو پارٹیاں بھی محسوس کرتی
ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتی رہی ہیں لیکن جب الیکشن کا وقت آتا ہے تب یا تو مسلمانوں
کو مناسب نمائندگی نہیں دیتیں اور دیتیں بھی ہیں تو ایسی جگہ سے جس سے مسلم ووٹ تقسیم
ہوجاتے ہیں اور کوئی مسلم امیدوار جیت کا سہرا نہیں لے پاتا ہے۔ اس وقت دربھنگہ سے
مسلم لیڈر کے طور محمد علی اشرف فاطمی ہیں جو دربھنگہ سے ۳؍ مرتبہ جیت کر ایوان میں جاچکے ہیں اور وزیر مملکت کے عہدہ پر بھی فائز ہوچکے
ہیں جبکہ جدیو سے سنجے جھا اور عآپ سے سماجی کار کن ڈاکٹر پربھات داس میدان میں ہیں
اور بی جے پی کے موجودہ ایم پی کرتی جھا آزاد بھی ایک بار پھر قسمت آزمائی کریں گے۔
ان میں محمد علی اشرف فاطمی کے علاوہ ۲ ؍چہرے اور سیکولر ہیں جن میں ایک طرف بہار کی بر سر
اقتدار حکومت جد یو کے سنجے جھا ہیں تو عآپ کے پربھات داس ہیں جو سیاسی طور پر گوکہ
اپنی پہچان نہیں رکھتے ہیں لیکن اپنی سماجی خدمت اور عآپ کی بد عنوان مخالف پالیسی
کی وجہ سے مسلم ووٹروں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ وہیں مدھوبنی سے جہاں اتحاد کی وجہ
سے ڈاکٹر شکیل احمد میدان میں تو نہیں ہیں البتہ گذشتہ انتخاب میں دوسرے نمبر پر رہنے
والے راجد کانگریس اتحاد کے عبد الباری صدیقی ہیں جبکہ راجد کے ہی باغی لیڈر غلام غوث
ریاستی حکومت کی بر سر اقتدار پارٹی جد یو کے امیدوار کے طور پرتو عآپ کے ارشاد احمد
مسلمان لیڈر میدان میں آمنے سامنے ہیں وہیں موجودہ ایم پی حکم دیو نارائن یادو بھی
بی جے پی امیدوار کے طور پر قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ مدھوبنی میں بھی ۳؍ چہرے سیکولر ہیں اور تینوں مسلمان ہیں۔ اس لیے یہاں دربھنگہ کے مقابلہ میں مسلم
ووٹروں کا کچھ زیاد ہ ہی سخت امتحان ہے کہ وہ اپنے ووٹوں کی بندر بانٹ کرتے ہیں یا
سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
عوام کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی سیٹیں عام طور پر ووٹوں
کی تقسیم کی وجہ سے ہی ضائع ہوجاتی ہیں۔ یقینی طو رسیاسی پارٹیوں کی اپنی اہمیت ہے
لیکن ہندوستانی سیاست کا موجودہ منظر نامہ یہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے بیساکھی
کے سہارے کھڑی ہونے والی حکومتیں زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ریاستی حکومت
کے کاموں سے بھی یکسر انحراف کی گنجائش نہیں ہے وہیں موجودہ مرکزی حکومت کے با لمقابل
جو خیمہ ہے وہ مسلمانوں کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔ ایسے میں دونوں اضلاع کے
مسلمانوں کے لیے سخت مشکل کی گھڑی ہے اور انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کسی پارٹی کی
حمایت کے لیے آگے آئیں یا جماعتی سیاست سے بلند ہوکر مسلم نمائندوں کو ایوان تک پہنچانے
کی کوشش کریں۔
با شعور عوام کا خیال ہے کہ دربھنگہ میں اگر مسلمان ذرا سا سیاسی شعور کا مظاہرہ
کریں تو یہاں کی سیٹ بچائی جاسکتی ہے۔ جبکہ مدھوبنی میں مسلم عوام کو سخت محنت اور
بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت پڑے گی۔ جہاں تک عام آدمی پارٹی کے امیدوار کا مسئلہ
ہے تو وہ پہلی مرتبہ میدان میں ہیں اور ان کا سیاسی کیئر یر بالکل مضبوط نہیں ہے۔ اس
سے قبل ان کے پختہ سیاسی شعور کا بھی مظاہرہ بھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ جبکہ غلام
غوث جد یو کے اچھے امیدوار ہیں اور موجودہ حکومت کے قانون ساز کونسل میں حزب مخالف
جماعت کے لیڈر کے طور پرمسلم نوجوانوں کی بے قصور گرفتاری اور ٹی ای ٹی وغیرہ کے مسائل
کو بلند کرنے کی وجہ سے ان کی الگ سے کچھ پہچان بن سکی ہے۔ان کے لیے بھی یہ حلقہ نیا
ہی ہے اور وہ خود راجد سے بغاوت کرنے کے بعد بتیا سے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ جبکہ عبد
الباری صدیقی بہار کے مسلمانوں کے قد آور لیڈر ہیں اور اپنی سیاسی پہچان اور بالیدہ
سیاسی شعوررکھنے کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے
ہوئے دربھنگہ اور مدھوبنی حلقہ کے مسلم ووٹروں کو احتیاط سے کام لینے اور سیاسی سوجھ
بوجھ کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں سیکولرزم اور فرقہ
پرستی کے نام پر عوام کو ہمیشہ گمراہ کیا جاتا رہا ہے ۔عام انتخاب ۲۰۱۴ میں اس خیمہ سے اس خیمہ اور اس خیمہ سے اس خیمہ میں کودنے پھادنے کا جو کھیل کھیلا
گیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے سیکولرزم اور فرقہ پرستی کی سیاست کرنے والے تمام لیڈران
جھوٹے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اس طرح کی سیاست کرتے پھر رہے ہیں۔ اصل میں
ہندوستانی سیاست میں سب کے سب مفاد پرست ہیں ۔ سیکولرزم اور فرقہ پرستی کا یہ کھیل
اس لیے کھیل رہے ہیں کہ اسی کے ذریعہ وہ عوام کو گمراہ کرسکتے ہیں اور اسی ان کا مفاد
پنہاں ہے۔ ایسے میں ووٹروں کے لیے بھی یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ وہ سیکولر رہے یا فرقہ
پرست یا ان کو بھی مفاد پرست ہوجانا چاہیے۔ مسلم ووٹر کم از کم اتنے مفاد کا ضرور خیال
رکھ سکتے ہیں کہ جس حلقہ میں جو مسلم امیدوار جیت کی پوزیشن میں ہو اسے حتی الامکان
جیت دلانے کی کوشش کریں اور ووٹ کی بندر بانٹ سے بچیں۔ جبکہ مقامی لیڈران جو ووٹ کاسٹ
کرانے میں خصوصی دخل رکھتے ہیں انہیں ذاتی اور وقتی مفاد کی جگہ دائمی اور بڑے مفاد
کو ترجیح دینی ہوگی۔ اسی طرح ذات پات اور الزام تراشیوں کی سیاست بھی پرہیز کرنا ہوگا۔
اس وقت ملک میںمسلم ووٹوں کا اتحاد ہی کسی پارٹی کو مسلمانوں کے طرف متوجہ کرسکتی ہے۔
No comments:
Post a Comment