کیا اب بھی یہ وقت نہیں آیا
کہ دوسرے شہر میں رہتے ہوئے بھی ہم ووٹ دے سکیں
کہ دوسرے شہر میں رہتے ہوئے بھی ہم ووٹ دے سکیں
انتخاب کو جمہوریت کا تہوار کہا جاتا ہے اور تہوار کا مطلب یہ ہوتا
ہے کہ اس تہوار کے ماننے والی کمیونٹی کا ہر شخص اس میں اپنے طور پر شامل ہو۔ انتخاب
ایسا تہوار ہے جس میں بڑے چھوٹے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا ہے اور ہر شخص کو تہوار منانے
کا مساوی حق حاصل ہے۔ ہر شخص کے ووٹ کی قدر یکساں ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ہمیں یہ تسلیم
کرنا چاہیے کہ ہمارے ملک میں آج بھی ایک بہت بڑی تعداد اس جمہوری تہوار میں شریک نہیں
ہو پارہی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کو اس محرومی کا احساس بھی نہیں ہے۔ اس
کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان پر اس تہوار میں شمولیت کے لیے کوئی پابندی ہے بلکہ ٹیکنالوجی
کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ایسا نظام تیار نہیں کیا جاسکا ہے کہ ہر شخص اس میں شامل
ہوسکے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان ان ممالک میں سے ہے جس کی ۷۰؍ فیصد سے زائد آبادی
دیہی علاقوں میں بستی ہے۔ ہندوستان کی دیہی علاقوں کی خامی یہ ہے کہ وہاں زراعت کے
علاوہ روزگار کے مواقع بہت کم ہیں اور زراعت سے ملنے والی روزگار ناکافی ہے۔ اس لیے
دیہات کے لوگ شہر جاکر روزی روٹی کمانے پر مجبور ہیں ۔موجودہ انتخابی نظام کے مطابق
جس شخص کا نام جس انتخابی حلقہ میں موجود ہے اس کو انتخاب کے دن وہاں حاضر ہوکر اپنے
حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوتاہے۔ سوائے اس کے کہ جو لوگ کام کی غرض سے گذشتہ چھ
ماہ سے ملک سے باہر رہ رہے ہیں انہیں پارلیامنٹ نے ۲۰۱۰ میں
ایک بل کے ذریعہ این آر آئی ووٹ دینے کا بھی حق دیا ہے۔اس کا پورا نظام ہے جس کے
مطابق بیرون ممالک رہنے والا شخص ووٹ دے سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ این آر آئی ووٹنگ
حق(غیر حاضر ووٹنگ سہولت) پر بات کی جائے ہم یہاں ان لوگوں کی بات کرنا چاہ رہے جو
ملک میں رہتے ہوئے بھی ووٹ کے حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس وقت ہماری دیہی آبادی کا
تقریبا ۳۰؍ فیصد سے زائد بڑا طبقہ
علاقے سے دور کے شہروں میں روزی روٹی کماتا ہے۔جس کی مسافت پورے ایک دن سے تین اور
چار دن تک ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو حق رائے دہی کا استعمال کرنے
کے لیے الیکشن کے وقت اپنے حلقہ میں آسکتے ہیں جبکہ قابل لحاظ آبادی ایسی ہے جوکسی
بھی صورت میں نہیں آسکتی ہے۔ کیونکہ وہ اتنا روزگار نہیں کماتے ہیں کہ کرایہ سمیت
آنے جانے کے دیگر اخراچات کو برداشت کرسکیں۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ حکومت ان لوگوں
کو ریل یا دیگر کسی بھی ذریعہ سے مفت سفر کی اجازت دے دیتی ہے تب بھی یہ ممکن نہیں
ہے کہ جتنی بڑی تعداد میں دیہی علاقوں کے لوگ شہروں میں رہتے ہیں وہ سفر کرسکیں۔ عام
طور پر چھٹیوںیا تہوار کے موقع پر کئی ماہ قبل سے ٹرینوں کی ساری سیٹیں ریزرو ہوتی
ہیں جبکہ شہر میں رہنے والے دیہی لوگوں کا ۱۰؍ فیصد حصہ ہے ان مواقع پر ایک ساتھ گاؤں کا سفر کرتا ہے۔ یہاں یہ
بات بھی قابل غور ہے کہ اگر مفت سہولت بھی ہوگی تو وہ مزدور طبقہ جو ایک دن کماکر ایک
دن کی خوراک مہیا کرتا ہے بھلا انتخاب کے لیے کئی دنوں کا اور کئی دنوں کے لیے کیونکر
سفر کرے گا۔شہروں میں کمانے والے لوگوں میں سے بہت سے لوگ چھوٹی موٹی ملازمت سے وابستہ
ہوتے ہیں جنہیں انتخاب کے لیے ہفتہ عشرہ کی چھٹی ملنی ہی مشکل امر ہے۔ اگر مل گئی تو
ان کی اجرت کاٹ لی جائے گی۔دوسری جانب اگر تمام لوگ سفر کرکے اس تہوار میں شامل ہونا
چاہیں تو ہمارے یہاں اب بھی سفر کی ایسی سہولت موجود نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک ساتھ
اپنے گاؤں کا سفر کرسکیں۔ اسی طرح تجارت کرنے والے بھی اگر گھر اس حق کے لیے گھر آنا
چاہیں تو کم از کم ہفتہ عشرہ تک ان کی تجارت میں خلل پیدا ہوگا جس سے بڑے نقصان ہوسکتا
ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی اتنا بڑا نقصان کا سودابھی کیونکر کرے گا۔
این آر آئی ووٹ کا اختیار دیتے ہوئے جن امور پر غور کیا گیا تھا اس
میں سے ایک یہ تھا کہ ہمارے ملک کے تقریبا ۲۵؍ ملین لوگ ملک سے باہر رہ کر روزگار کماتے ہیں اور۴۵ ؍ دن قبل سے ساری سیٹیں
ریزرو کی جائیں جیسا کہ ایئر ٹکٹ ریزرو ہوتی ہے تو صرف ۵؍ ملین لوگ ہی سفر کرسکیں گے۔
چونکہ اس سے کہیں بڑی تعداد خود ملک کے اندر اپنے حلقہ سے بہت دور رہتی ہے اور وہ چاہ
کر بھی سفر نہیں کرسکتی۔ لیکن صرف اس وجہ سے کہ وہ انتخاب کے وقت اپنے گاؤں آنے سے
مجبورہیں ملک کی اتنی بڑی آبادی کو اس تہوار میں شامل ہونے کا مناسب موقع فراہم نہ
کیا جانا ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں جمہوریت کی محرومی کہلائے گی اور ہمیں
یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جب تک ایسی آبادی ووٹ کے حق سے محروم رہے گی ہماری جمہوریت
غیر مستحکم ہی رہے گی۔ اب جبکہ مختلف شعبہ حیات میں آن لائن خدمات موجود ہیں ،یہ نہ
تو ناممکن ہے اور نہ ہی بہت مشکل ترین امر ہے کہ ایسی آبادی کو اپنے روزگار کے مقامات
پر رہتے ہوئے ووٹ کا حق دیا جائے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر جو لوگ ۶؍ مہینہ یا اس سے زائد
مدت سے کسی خاص مقام پر رہ رہے ہیں تو ان کا نام وہاں کے ووٹر لسٹ میں شامل کیا جاسکتا
ہے۔لیکن زمینی حالات ایسے ہیں کہ عوام میں اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی اور کسی طرح
بھی عوام دلچسپی نہیں لیں گے۔ اسی طرح عوام کو دوسرے حلقہ سے ویسی دلچسپی نہیں ہوگی
جیسا کہ اپنے حلقہ سے ہوا کرتی ہے۔ پھر یہ کہ ملک میں نام کا داخل کرانا اور کٹوانا
اور پھراپنے حلقہ میں نام داخل کروانے کا عمل اتنا پیچیدہ اور دشوار کن ہے کہ ایک شخص
بھی اپنے حلقہ سے اپنا نام کسی بھی قیمت پر کٹوانا نہیں چاہے گا ۔ پھر یہ کہ ان کے
گھرانے کے سارے لوگ اپنے حلقہ میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں علاقائی تعصب بھی اتنا
ہے کہ وہ ہمیشہ باہری کہلاتے رہیں گے۔ جہاں تک دوہریت کی بات ہے کہ اب الیکٹرانک اور
انٹرنیٹ عہد میں اس پر قابوپانا بہت آسان ہے جس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ Eye Impression, Electronic thumb
Impressionاور
Magnetic Cardوغیرہ تو بالکل عام سی چیزیں
ہیں۔واضح رہے کہ الیکٹرول لسٹ بھی اب بھی الیکشن کمیشن کی سائٹ پر ڈال دی گئی ہے جسے Epic Code ڈال
کر بھی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ این آر آئی (غیر مقیم ہندوستانی)
ووٹ کا حق بھی کتنے لوگ حاصل کرپارہے ہیں اور اس کی ۱۰۰؍ فیصد تعمیل کے لیے الیکشن کمیشن
یا حکومت کی جانب سے کیا حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حق کا استعمال
صرف ہائی پروفائل ملازمت سے وابستہ افراد ہی کرپاتے ہیں۔ خصوصا بیرون ممالک ملازمت
کرنے والا اقلیت طبقہ اس سے بالکل ناواقف ہے اور اگر کچھ لوگ واقف بھی ہیں تو اس کے
تئیں حساس نہیں ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ہر شخص
کو اس سے واقف کرایا جائے تاکہ ہر فرد اس حق کو حاصل کر کے جمہوریت کے استحکام میں
اپنی حصہ داری نبھائے۔
غیر مقیم ہندوستانیوں کو ووٹ دینے کے لیے کم از کم ۳۰؍ دن قبل اپنے پاسپورٹ
اور بیرون ملک رہائش کی سند کے ساتھ درخواست دینی پڑتی ہے ۔ الیکشن کمیشن اسے اپنی
طرف سے یااس ملک میں موجود ملک کے قونصلیٹ کے تعاون سے بیلٹ پہنچاتا ہے۔ ووٹر کو اپنے
انتخاب پر نشان لگاکر دوبارہ دیئے گئے پتہ پر بھیجنا پڑتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ
رجسٹرڈ ووٹر انٹرنیٹ سے بیلٹ پرنٹ کر کے آن لائن بھیج سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں
http://www.nrivotingrights.info/index.php?option=com_content&view=article&id=62&Itemid=68
پر مزید معلومات کا مشاہدہ کر کے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا
چاہیے۔
مسلمانوں کی کمزوری یہ ہے کہ جب انہیں کوئی حق نہیں ملتا ہے تو ہنگامہ
برپا کرتے ہیں لیکن جب حق حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کا استعمال نہیں کرتے حتی کہ بسا اوقات
عدم دلچسپی کی وجہ سے کئی مراعات ختم کردی گئے ہیں۔ این آر آئی ووٹ بھی ایک اہم اختیار
ہے۔ بیرون ممالک مقیم ہندوستانیوں اور بطور خاص مسلمانوں کو چاہیے کہ نہ صرف اس کا
استعمال کریں بلکہ ملنے جلنے والوں کو بھی اس کے استعمال پر راغب کریں ۔ ایسے لوگ جو
کم پڑھے لکھے ہیں اور بیرون ممالک ملازمت کرتے ہیں ان کی رہنمائی بھی کریں تاکہ ملک
کے ایک اچھے شہری کی حیثیت سے آپ کی پہچان بن سکے۔
٭٭٭
No comments:
Post a Comment