(آفتاب عالم کے نام)
ہمدم دیرینہ! سلام
ونیاز
مختصر پیغام رساں (ایس ایم
ایس) کے ذریعہ آپ کا غیر تحریری پیغام موصول ہوا۔ اب میں اس کو آپ کی خموشی سمجھوں
یا سادہ لوحی اس کا قطعی فیصلہ نہیں کرسکا۔ البتہ نیچے کا توضیحی بیانیہ
پڑھ کر غالب کا ایک مشہور مصرعہ ذہن میں کوند کرگیا:‘‘اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے
خدا’’۔ معا یہ خیال بھی آیا کہ اس دور پیچاں میں اس سادگی کا اظہار! اللہ اللہ!!
میں عجب تذبذب میں ہوں کہ اگر
اس سادگی پر اعتبار نہ کروں تو ننگ دوستی کا مرتکب کہلاؤں اور اگر کروں تو جمیل مظہری
کی زبان میں خود سے ہی گلہ کا موقع ہاتھ آئے کہ میں ‘‘شہید ہوں اپنی سادگی کا’’۔
آپ نے لکھا تھا کہ آج کچھ سمجھ
میں نہیں آرہا ہے جو سمجھ میں آئے اوپر لکھ لیں ۔ سو میں ایک لاابالی ذہن یہی لا ابالی
باتیں لکھ سکا۔ آپ نے کورا کاغذ بھیجا تھا۔ میں اگر رنگ وآہنگ کے آرٹ سے واقف ہوتا تو اس کاغذ میں پنہاں لازوال تصویر
کو صیقل کردیتا اور اپنی جاودانی کا سامان پیدا کرلیتا۔ لفظوں سے کھیلنے کا ہنر
جانتا تو قوت اظہار کے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاکر اپنی قادر الکلامی کے ثبوت
فراہم کرتا اور امر ہو جاتا اور اگر فکر وفلسفہ
کے در وبست مجھ پر واشگاف ہوتے تو اس پر سنہری باتیں لکھنے کے بھی ہزار موقعے تھے
۔ اس سادے ٹکڑے پر فلسفیانہ موشگافیوں کے ذریعہ ناقابل تفہیم نکتے پیش کر کر کے آپ
کو تو اپنا ہم نوا اور قائل کر تا ہی آنے والوں کے لیے بھی اس نکتہ کی تفہیم پر
سر دھنتے رہنے اور کبھی حل نہ ہونے والے
مسائل دے جاتا لیکن ظاہر ہے کہ جو دماغ منور ہوگا روشنی اسی سے پھوٹے گی۔ ایسے
بھی یہ دور وسائل کے مثبت استعمال کی بجائے منفی استعمال کا ہے اور اس خاکسار کو
بندہ عہد ہی سمجھیں۔
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا۔
آپ کا مخلص
احتشام الحق
No comments:
Post a Comment