مشمولات

Sunday, 30 November 2014

واقعہ کربلا

باسمہ تعالی
از دربھنگہ
بتاریخ ۱۲ نومبر ۲۰۱۴؁ ۱۰:۳۰ بجے شب

ہمدم دیرینہ!                                                                                                                          السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
                مختصر پیغام رساں کے ذریعہ محمد علی جوہر کے بہت مشہور شعر کے دوسرے مصرعہ کے حوالہ سے آپ کی علامتی بات دیکھی۔ لیکن میں اس کی تہہ میں نہ پہنچ سکا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟
                بھائی!اس سلسلہ میں اپنی جو کچھ ناقص سوچ ہے وہ یہی ہے کہ سن ۶۱ ہجری میں عراق کے طف کے نزدیک وادی فرات یا کربلا میں جو عظیم سانحہ پیش آیا وہ دنیائے انسانیت کی تاریخ میں بہت کم مواقع پر پیش آیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کیا کسی بھی شخص کے ساتھ خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم روا اور درست قرار نہیں دئیے جاسکتے ہیں۔فریب دے کو کسی کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ بے قصو ر بچوں اور خواتین پر ہاتھ اٹھانے سے بھی اسلام روکتا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ حضرت حسین اور ان کے کنبہ کے ساتھ روا رکھا گیا۔ اسلام نے جنگ کے بھی طریقے بتادئیے ہیں۔ مخالفین کے ساتھ اپنائے جانے والے رویہ کی وضاحت قولی اور عملی دونوں طریقوں سے کردی گئی ہے۔ لیکن ان سے قطع نظرجب کبھی میں خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اگر حضرت حسین ؓ نے اکابر صحابہ کے مشورہ کو تسلیم کرتے ہوئے کوفہ کا سفر نہ کیا ہوتا اور اس راہ میں جان نہ دی ہوتی کیا اسلام نست ونابود ہوجاتا یا اس کی شکل ایسی بھی نہیں ہوتی جیسی آج ہے؟ دوسرا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد کون سا تاریخی انقلاب برپا ہوگیا؟تو مجھے کچھ تشفی بخش جواب نہیں مل پاتا ہے جو میری کم نگہی کی دلیل بھی ہوسکتی ہے اور تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت بھی۔ معاف کیجئے گا یہاں میرا مقصد فریقین میں سے کسی کو حق و ناحق پر قرار دینا نہیں ہے ۔ پھر یہ کہ یہ تسلیم نہ کرنا تو ظلم ہوگا کہ حضرت حسین ؓ کے ساتھ بد عہدی ہوئی اور انہیں فریب دے کر شہید کیا گیا۔
                مجھے تو اس سلسلہ میں ایسا بھی لگتا ہے کہ کربلا کے سلسلہ میں جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں ان میں کچھ تو حقیقی ہیں اور کچھ حزم واحتیاط کے ساتھ کہئے تو تخلیقی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلہ میں جنگ کے جو مناظر بیان کئے جاتے ہیں اس سے عربی نہیں عجمی فضا قائم ہوتی ہے بلکہ آپ اسے ہند ایرانی کا بھی نام دے سکتے ہیں۔جبکہ دونوں کے درمیان بنیادی تفاوت ہے۔ حالانکہ یہ جنگ نہیں تھی بلکہ ایک طرفہ وار تھا۔
                یہاں یہ بات بھی محل نظر ہے کہ ان واقعات میں بیان کیا جاتا ہے کہ کوفہ پہنچ کر حضرت حسین نے دیکھا کہ بد عہدی ہورہی ہے تو انہوں نے واپسی کی اجازت چاہی لیکن ظالموں نے انہیں جانے نہیں دیا بلکہ راستہ روک لیا۔ معاملہ اگر اسلام کی بقا اور عدم بقا کا ہوتا تو کسی صحابی کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی جان کی امان کو ترجیح دے اور واپسی کی اجازت چاہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت حسین ؓ جب کوفہ کے لیے کوچ کر رہے تھے تو اکابر صحابہ نے ا نہیں منع کیا تھا ۔ معاملہ اسلام کی بقا کا ہوتا صحابہ کے ذریعہ منع کرنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔
                جناب من! یہ جنگ سیاسی نہ صحیح لیکن سیادت کے جذبہ سے بالکلیہ انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ حضرت حسین بجا طور پر اس کے حقدار تھے۔ اس لیے نہیں کہ وہ نواسہ رسول تھے بلکہ تقوی وپرہیز گاری کے اعتبار سے وہ اس مرتبہ پر فائز تھے۔ کیونکہ اسلام میں خاندان اور رشتوں کی بنیاد پر سرفرازی کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی عہدہ ومناصب دئیے جاتے ہیں۔ یہ تو جاہلیت کی باتیں تھیں جس کو اسلام مٹانا چاہتا ہے۔
                بھئی! ایک بات اور کہہ دوں یہ میری اپنی بات تھی یا یہ کہئے کہ میری ذاتی رائے ہے جس کی صداقت میں مجھے گرچہ کوئی تردد نہیں ہے لیکن اس کی صداقت کی حتمیت پر مجھے اتنا اصرار بھی نہیں ہے کہ دوسروں کی باتیں غلط ٹھہرانے لگوں۔ کیونکہ اس کے بعد رواداری کی صفت مجروح ہونے لگتی ہے جو آزادی اظہار رائے کے منافی ہے۔ فی الحال اتنا ہی۔
آپ کا مخلص

احتشام الحق

No comments: