مشمولات

Thursday, 27 August 2015

تبصرہ ’’ٹھہری ہوئی صبح‘‘ (افسانوی مجموعہ)۔

تبصرہ

نام کتاب: ٹھہری ہوئی صبح (افسانے)                                                   
تصنیف: ڈاکٹر مجیر احمد آزاد
سن اشاعت: ۲۰۱۵
قیمت: ۲ سو روپے
صفحات: ۲۱۱
ملنے کا پتہ: ناولٹی بکس، قلعہ گھاٹ، دربھنگہ
مبصر: احتشام الحق
کہانی کہنا اور کہانی سننا یہ انسانی زندگی کا شاید لازمہ ہے۔ انسان تب بھی کہانیاں سنتا اور کہتا تھا جب زندگی محدود تھی۔ محدود زندگی کو گذارنے کے لیے وسائل بھی محدود اور تفریحات کے ذرائع بھی مفقود تھے۔ ایسی محدود زندگی کو بسر کرنے کے لیے لا محدود تگ ودو کے بعد اس وقت کا انسان رات کو جب بستر پر جاتا تھا یا تگ ودو کی زندگی میں جب کبھی فرصت کے لمحات میسر ہوتے چھوٹی بڑی کہانیاں سنتا تھا۔ ظاہر ہے سننے والے تھے تو کہنے والا بھی تھا۔ آج جب لامحدود زندگی کے لامحدود مشاغل ہیں اور اس لا محدود زندگی میں گذر اوقات کے لیے مشکل اور آسان ہر طرح کے پیشے میسر ہیں اور تفریح کے ذرائع بھی لا محدود تب بھی کہانیاں سنی اور پڑھی جاتی ہیں اور کہانیاں کہی بھی جاتی ہیں۔ کہانی وہ بھی ہے جو اردو زبان کی کتابوں میں سود وزیاں کی پروا کیے بغیر لکھی جاتی ہے اور کہانی وہ بھی ہے جو فلموں کے پردے پر پیش کی جاتی ہے اور باکس آفس پر گذشتہ فلموں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی کامیابی کی تاریخ رقم کرتی ہے۔ کہانی وہ بھی ہے جس کو قسط وار ہماری خواتینِ خانہ یا ملازمت پیشہ خواتین امور خانہ داری کو ملتوی کرکے روزانہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر سیریل کے نام پر دیکھتی ہیں۔
                کہانیاں وہ بھی تھیں جنہیں ہماری نانی ، دادیاں یا محلہ کی خواتین سناتی تھیں اور محلہ کے بچے رات کی پڑھائی ختم کر کے سونے جاتے ہوئے بستر پر سنتے تھے اور کہانیاں وہ بھی تھیں جن کو ہم کتابوں میں الف لیلہ، طلسم ہوش ربا کے نام سے جانتے ہیں اور کہانی ہیری پوٹر کی بھی ہے جو لڑکوں کو اپنا دیوانہ بناتی ہے۔
                جب ہم کہانی پڑھتے ہیں ہمارے گرد تصورات کا ہالہ بننا شروع ہوجاتا ہے اور ہم کہانی کے درمیان کھوجاتے ہیں۔ کہانی میں جو کچھ بیان ہوتا ہے وہ شاید اس مقام پر موجود نہ لیکن ہم اس کو یقین کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ کہانی کار کے زبان کا جادو ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیان سے ہمیں خیالی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں پہنچادیتا ہے۔ ہمارے سامنے ابھی مجیر احمد آزاد کی کہانیوں کا مجموعہ” ٹھہری ہوئی صبح“ ہے جو ہمیں ہماری زندگیوں کے ایسے حقائق سے واقف کراتا ہے جس سے ہم روزانہ واقف ہوتے ہیں۔ ہم ان حقائق میں پنہاں کرب کو محسوس بھی کرتے ہیں لیکن انہیں اپنے مستقل احساس کا حصہ نہیں بناپاتے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرے اور ہمارے رویہ میں تبدیلی لادے۔
                ”ٹھہری ہوئی صبح “میں کل سولہ افسانے شامل ہیں جن کے موضوعات ہماری آس پاس کی زندگی ہے۔ بیشتر کا تعلق دیہی یا نیم شہری زندگی کے متوسط طبقہ سے ہے۔ کہانیوں کے موضوعات ومسائل گرچہ الگ لگ ہیں لیکن ان تمام میں قدر مشترک کے طور پر تعمیر پسند فکر کا غلبہ نظر آتا۔افسانہ نگار نے جن مسائل کو ان کہانیوں میں بیان کیا ہے اس طرح کے واقعات کا مشاہدہ ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں اکثر کرتے رہتے ہیں۔ عام طور پر جب ایسے مسائل، سماج کے ایسے انتشار اور قدروں کا ایسا زوال ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں تو ہم بڑی حد تک یک رخے ہوکر سوچنے لگتے ہیں اور اس کے سلبی پہلوؤں کو اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اپنی فنکاری کا ثبوت دیتے ہوئے ان کے ایجابی پہلوؤں بھی نظر رکھی ہے اور ہر کہانی میں امید کا دامن تھاما ہوا نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فنکار سماج میں لاکھ خرابیوں کو دیکھنے کے باوجود اس میں بدلاؤ اور بہتری کے توقعات سے ناامید نہیں ہوا ہے۔
                کتاب میں شامل کہانیاں بیانیہ کی تکنیک میں لکھی گئی ہیں اور زندگی کے پیچیدہ مسائل کی ترجمان ہیں لیکن فنکار نے ان پیچیدہ مسائل کو بیان کرنے کے لیے پیچیدہ اسلوب کو اختیار کرنے کے بجائے سادہ اور سپاٹ اظہار کو اختیار کر کے بیان پر اپنی قدرت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ورنہ ہمارے یہاں اس ناکامی کی پردہ داری یہ کہہ کر کی جاتی ہے کہ زندگی کے مسائل اتنے پیچیدہ ہیں ان کو بیان کرنے کے لیے پیچیدہ اسلوب اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کا بیان کا یہ سادہ اور سپاٹ لہجہ قاری کو اپنی گرفت میں رکھنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔
                کتاب میں شامل سولہ کہانیاں اپنی اپنی جگہ پر اپنا مقام رکھتی ہیں لیکن انہی کے درمیان و”یران آبادی“ ایک اہم مسئلے کو بیان کرتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ترقیوں کا خواب ، دیہی زندگی کے محدود اقتصادی وسائل اور قناعت پسندی کے فقدان نے شہری زندگی کو اس قدر فروغ دیا ہے کہ اب گاؤں کے گھر اولڈ ایج ہوم بنتے جارہے ہیں۔ وہیں ”عورت ہوں نا!“ میں سماج میں رائج عورت کی ملازمت کے سلسلہ میں رد واختیار کے دونوں پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہوئے ایجابی سوچ کو اجالا گیا ہے۔” سیاست“ میں موجودہ ہندوستانی سیاست اور ہندواور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی کشیدگیوں کے پیچھے پنہاں سیاست کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ افسانہ” ٹھہری ہوئی صبح“ جس کے عنوان سے کتاب کا نام بھی معنون ہے اچھا تناظر رکھتی ہے یاد ماضی کی کیفیت اور آبائی ورثے سے وابستہ یادوں کو ظاہر کرنے والی نمائندہ کہانیوں میں شمار ہونے کے لائق ہے۔جدید اور اعلی تعلیم کے نام پر بے مہار آزادی، روشن خیالی کے نام پر عصر حاضر میں اعلی اقدار کی پامالی کا جو منظر نامہ ہمارے سامنے ہے اس کی ایک جھلک ”ہم سائیگی“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ دوسری شادی اورسوتیلی ماں کا تصور ہمیشہ سلبی پہلوؤں کے ساتھ ہمارے ذہن میں جالابنتے ہیں لیکن افسانہ نگار نے ”میری ماں“ میں اس کے ایجابی پہلوؤں کو اس طرح روشن کیا ہے کہ اس خیال کا ہم نوا ہونا پڑتا ہے۔” کلر پیج“ موجودہ صحافتی بدعنوانیوںکا بہترین اشاریہ ہے۔”دل لگی“،” صبح کا بھولا “ اور ”روشنی“وغیرہ کہانیاں بھی قاری کو سوچنے پرمجبور کرتی ہیں۔ اس طرح ہر کہانی اپنے تناظر میں منفرد معنویت رکھتی ہے اور زندگی کے ہر لمحہ میں تعمیر کے امکان کو روشن کرتی ہے۔
                کتاب میں جو افسانے شامل ہیں وہ ۲۰۰۹ سے ۲۰۱۱ کے درمیان ملک وبیرون ملک کے معیاری ادبوں رسالوں کی زینت بن چکے ہیں۔ افسانہ نگار نے منتشر افسانوں کو اس کتاب میں یکجا کرکے اردو داں طبقہ کو ایک تحفہ دیا ہے۔
                محکمہ راج بھاشا کے مالی تعاون سے شائع ہونے والی اس کتاب کو افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر محمد ضمیر الدین ضیاءکے نام معنون کیا ہے۔ کتاب کے بطن میں تحریر ظہری کے عنوان سے افسانوں میں آنے والے مقامات اور کردا وغیرہ کی وضاحت کی گئی ہے۔ افسانہ نگار نے اپنے مختصر سے پیش لفظ میں اس کتاب میں شامل افسانوں کو جذبات و احساسات کی تیز رو سے مغلوب اور کسی فنی ضابطے کی تلاش کے بغیر پیشکش کا دعوی کرتے ہوئے خود اعتمادی کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کردیا ہے اور اپنی افسانہ نگاری پر کسی سے بلند وبانگ دعوے کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ کتاب کا ٹائٹل عنوان کے لحاظ اور افسانہ کے موضوع سے قدرے مناسبت رکھتا ہے۔ کاغذ عمدہ اور طباعت بھی بہترین ہے جس سے افسانہ نگار کے ذوق جمال کی عکاسی ہوتی ہے۔
                امید کی جاتی ہے کہ افسانہ نگار کا یہ تیسرا افسانوی مجموعہ فن افسانہ نگاری کے میدان میں اپنی منفرد پہچان بنائے گا اور سماج کے لیے آئینہ داری کا کام بھی کرے گا۔
٭٭٭
نوٹ: یہ تبصرہ دربھنگہ ٹائمز دربھنگہ کے شمارہ اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۵ تا جنوری تا مارچ ۲۰۱۶ کے شمارے میں شائع ہوا

Sunday, 23 August 2015

خط

از دربھنگہ                                                                                                                                                                  
بتاریخ ۲۲؍ اگست ۲۰۱۵
ڈیئر ہما
                امید ہے صحت و سلامتی کے ساتھ گزر رہی ہوگی۔
کئی دن ہوئے  ہمارے درمیان ڈھنگ کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ نہ کچھ کہا نہ کچھ سنا۔ آج صبح سے ہی موسم بڑا سہانا ہے۔ آسمان پر بادل منڈلا رہے ہیں۔ بس اب تب میں بارش ہونے ہی کو ہے۔ تیز بارش کے امکان کی وجہ سے آج اسکول میں بھی چھٹی ہے۔ خالی بیٹھا کیا کروں؟ تم پاس ہو نہیں۔ جی میں  آیا خط  کے  ذریعہ ہی  دو چار باتیں کر لوں۔ کچھ سننے کے لیے کچھ بات کہہ  دوں۔
یہ  دیکھو ابھی قلم لے کر بیٹھا ہی تھا کہ نہ جانے کہاں سے ذہن میں یہ لا ابالی باتیں گردش کرنے لگیں۔ سارا مزہ کڑکڑا ہو گیا۔ بہت چاہا کہ ذہن سے جھٹک دوں اور یکسو ہو کر باتیں کروں مگر یہ باتیں ہیں کہ مستقل ذہن پر اپنی گرفت سخت کرتی جا رہی ہیں۔ اب ایک ہی چارہ ہے کہ کچھ بد مزگی برداشت کر کے تم بھی  یہ باتیں سن ہی لو۔ اس طرح میرا ذہن بھی ہلکا ہو جائے گا اور پھر شاید کچھ باتیں  بھی کرسکوں۔
لو سنو!
رشتے مختلف طریقے سے بنتے ہیں۔ کچھ رشتے خون کے نہیں بول کے ہوتے ہیں۔ ایسے  دو ساتھی  جب تک ایک دوسرے سے نزدیک رہتے ہیں انہیں شاید اپنی قربت اور نزدیکی کا وہ احساس نہیں ہوتا جو ان  دونوں کے درمیان ہوتی ہے۔ لیکن وہ ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں تو انہیں اپنی نزدیکی،  قربت اور ایک دوسرے کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔ شدید احساس۔ جیسے  جیسے کھچاؤ اور دوری بڑھتی ہے احساس کی شدت اور قربت کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔جیسے ربڑ کہ  اگر اس کے کسی مضبوط ٹکڑے کے دونوں سروں  کو کھینچے تو دونوں ایک دوسرے سے قریب آنا چاہتے ہیں۔ کھچاؤ کے ساتھ ان میں قربت کی ضرورت کی کشش بھی شدید ہوتی جاتی ہے۔
لیکن ربڑ تو ربڑ ہے۔ کھینچنے کی بھی ایک حد ہوگی۔ اتنی ہی دور کھنچ سکتا ہے جنتی اس کی حد اور صلاحیت ہے۔ اس سے زیادہ کھینچنے پر ربڑ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر اس ٹوٹے ہوئے ربڑ کو جوڑ بھی دیا جائے تو اس میں گانٹھ پڑہی  جاتی ہے۔
یا پھر  کھینچا تو اس کی حد ہی میں جائے لیکن اس کو کھنچی ہوئی حالت میں غیر معین وقت تک چھوڑ دیا جائے ۔ ایسی صورت میں بھی وقت کی تیز دھوپ اور بارش اس کو جگہ جگہ سے سنڑانا شروع کر دیتی ہے اور اسی کھنچی ہوئی حالت میں وہ  ہوا کے جھونکوں سے  بھی  ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی گانٹھ اور بھی کمزور ہوتی ہے۔ گانٹھ لگاتے ہی ٹوٹ جاتا ہے یا  ذرا برابر بھی کسی مزید کھچاؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔
بول کے رشتوں کی حالت بھی کچھ ایسی ہے۔ اگر ان کے درمیان کے کھچاؤ کو بہت بڑھا دیا جائے  یا اسے کھنچی ہوئی حالت میں لمبی مدت تک چھوڑ دیا جائے تو ٹوٹنا اس کا مقدر ہے۔
پھر ربڑ تو بے جان شے  ہے۔ اس کی کشش ہمیشہ اپنے ہی حصہ کی طرف ہوگی۔ رشتے جو جاندار کا حصہ ہیں اس میں اگر کھچاؤ بنا رہے تو انسان کی اپنی فطرت ہے کہ وہ کشش کے بغیر جی بھی نہیں سکتا۔ ایسے میں یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک کھچاؤ کی دوری مستقل بنے رہنے کے بعد دوسری کشش اسے اپنی طرف لے لیتی ہے۔یا فولاد کا کوئی دوسرا ٹکڑا اس کی مقناطیسی شخصیت کی پناہ میں جاں گزیں ہو جاتا ہے۔ اس طرح بھی پہلے کھچاؤ کا رشتہ خود بخود کمزور ہو کر ٹوٹ جاتا ہے۔
یہ کھچاؤ تعلقات اور زمان و مکان کا بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ تعلقات  کی کشیدگی اور  زمانی و مکانی  بعد کی کشش کے درمیان قدرے فرق ہوتا ہے۔ تعلقات کی کشیدگی میں زیادہ تر کچھ وقفے یا لمحے کے لیے بالکل کشش نہیں ہوتی جبکہ  زمانی و مکانی  بعد کے درمیان کشش کا فقدان کم ہوتا ہے یا ہوتا بھی ہے تو دونوں کی کیفیت میں واضح فرق ہوتا ہے۔ لیکن ہر حال میں کھچاؤ کے بعد کشش ضرور ہوتی اور نظر انداز نہ کیا جائے  تو شد ت میں اضافہ کے ساتھ کشش برقرار رہتی ۔
                دیکھو بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور میں کہاں سے اچاؤ کھچاؤ کو پھیر میں پڑ گیا۔ چلو اس بات کو یہیں رہنے دو۔ لیکن ہاں اب تم یہ نہ سمجھنا کہ یہ ساری باتیں میں نے تم سے ہی کہیں ہیں۔ کیونکہ  میرے اور تمہارے درمیان میں بھی تو بول ہی کا رشتہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہمارا رشتہ بول کا ہے لیکن ہمارے بول کے رشتے کے درمیان اب دو خون کے رشتے بھی تو آگئے ہیں جو ہمارے بول کے رشتہ کو کچے دھاگے سے بندھا نہیں رہنے دیتے۔
‘‘ملے دل سے دل زندگی مسکرادی’’
                                                                                                                                فقط
                                                                                                                                        بس تمہارا
احتشام الحق

Monday, 3 August 2015

ما بعد پھانسی

ما بعد پھانسی
احتشام الحق
یعقوب میمن کو پھانسی دی جانی تھی سو پھانسی کے ضابطوں اور قانونی کارروائیوں کو پورا کرتے ہوئے بالآخر اسے پھانسی دے دی گئی۔ عدلیہ یعقوب کو مجرم تسلیم کرتی ہے تو ایک شہری کی حیثیت سے ہمیں عدلیہ کا فیصلہ بسر وچشم قبول ہے۔ لیکن آخری ایام میں جس طرح سے ملک دانشوران اور قانونی ماہرین کے درمیان اس پر گرما گرم بحث ہوئی اور  یعقوب کی  خود سپردگی سے قبل  ایجنسیوں کے ذریعہ کئے گئے معاہدوں کے خلاف سزا کی کارروائی انجام دی گئی  اس کے بعد یہ کہنا بے شاید بے جا نہ ہوگا کہ جب کبھی ہندوستانی پولیس یا تفتیشی ایجنسیاں کسی واقعہ کی تہہ تک پہنچنے اور اصل مجرموں کی گردن تک قانون کا ہاتھ پہنچانے کے لیے کسی ملزم کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گی تو ایسے ملزم کو یعقوب میمن یاد آئے گا۔
 یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس طرح تفتیش کا دروازہ بند ہوجائے گا اور مجرموں تک پولیس یا تفتیشی ایجنسیوں کی رسائی نا ممکن ہوجائے گی یا مجرم بے نقاب نہیں ہوں گے۔ کیونکہ ہیمنت کرکرے جیسے غیر جانب دار افسران کے ہونے کی امید ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ ساتھ ہی اس  خوش فہمی کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ  ہماری ایجنسی ہماری ایجنسی ہے۔ وہ جانتی ہے کسی کو گناہ گار کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے۔ گناہ گار ثابت کرنے کے لیے حقائق تک پہنچے یا نہیں پہنچے حقائق بنانا جانتی ہے۔ جرم ثابت کرنے کے لیے شواہد تلاش کرسکے یا نہ کرسکے شواہد تراش سکتی ہے۔ ملزم سے سچائی اگلوانے کا ہنر اسے آئے یا نہیں اپنی بات منوانے کے ہنر سے وہ ضرور واقف ہے۔
جب کبھی کسی واقعہ کے بعد کسی پولیس یا ایجنسی کے افسر کو اپنے شانہ پر تارے ٹنکوانا ہو یا تارے بڑھانا ہو وہ  کہیں نہ کہیں سے مجرم تلاش سکتی  اور مجرم تراش سکتی ہے۔ یہ اور بات کہ یہ مجرم ملے گا کہاں؟ سرکاری رپورٹ کے مطابق چونکہ جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد  اس کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے تو ایک بلی کا بکر اور سہی۔  اس کا صحیح اندازہ تب ہوتا ہے جب دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں بند مسلمان اپنی ۸ سے ۱۰ سالہ زندگی کے خوبصورت ایام بے گناہی اور جرم ضعیفی کی سزا کاٹ کر بے قصور رہا ہوتے ہیں۔
اب ہمارے قانون میں اس کی گنجائش تو ہے نہیں کہ جن افسر ان نے ان بے گناہوں سے اس کی زندگی کے بہترین دن چھین لیے، اس کے گھر والوں کو سماجی ذلت اور اقتصادی اذیت سے دوچار کیا اس کے تارے چھین لیے جائیں ۔ اس مدت میں اس نے جو تنخواہ وصول کی اس کو واپس لیا جائے ، اس کو جو ترقی ملی اس کو واپس کرتے ہوئے اپنی پہلی جگہ سے نیچے یا برخاست کردیا جائے اور اس پر قانون کا شکنجہ کستے ہوئے بے قصوروں کو انصاف دلایا جائے۔ اس لیے کہ قومی سلامتی کے نام پر سارے دروازے کھلے ہیں۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ جن کے اچھے دن بیت گئے ، جن کے بچے تعلیم سے محروم ہوگئے ، جن کے گھرانے دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں سماج میں آنکھ اٹھاکر جینے کے لائق نہیں رہے جیل سے بے قصور رہا ہونے کے بعد بھی ان کی بھرپائی ناممکن ہے۔