از دربھنگہ:
عالی
جناب پروفیسر احمد سجاد صاحب حفظہ اللہ
السلام
علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید
ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا۔
حسب حکم ایک
مضمون "پروفیسر احمد سجاد کے ملی تعلیمی ایجنڈے"(اکیسویں صدی کے تناظر میں) حاضر
خدمت ہے۔ میں سب سے پہلے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے مضمون لکھنے میں انتہائی تاخیر کی۔
تاخیر کا باعث میری پیشہ وارانہ اور گھریلومصروفیات تھیں۔ اسی کے ساتھ ایک بڑی وجہ
یہ بھی رہی کہ آپ جیسی علمی، ادبی اور تحریکی شخصیت پر لکھنے میں انگلیاں بھی ساتھ
نہیں دے پارہی تھیں۔ میں بالکل صحیح کہہ رہا ہوں کہ میں نے کئی بار بہت حوصلہ جٹاکر
تختۂ کلید سنبھالا مگر بہت آزادی اور فراٹے کے ساتھ گردش کرنے والی انگلیاں جامد ہوہوجاتی
تھیں۔ بہت جرأت کر کے چند سطور خامہ فرسائی کی ہے۔ میں ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں
کہ یہاں مجھ سے ایک جھوٹ بھی سرزد ہوگیا. کیوں کہ اس مضمون کے تحریری عمل میں پروف ریڈنگ
کے علاوہ کہیں بھی خامے کا استعمال نہیں کیا جاسکا اور وہ خامہ بھی میں نے نہیں پکڑا
تھا۔ چونکہ کچھ پرانے محاورے ہیں جو زبان زد ہوجاتے ہیں، میں بھی اسی کا شکار ہوا۔
ٹیکنالوجی نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے تو کچھ چھینا بھی ہے۔ ٹیکنالوجی کا جوں جوں زندگی
میں نفوذ ہوگا کئی محاورے ، روز مرہ اور استعارے اپنی حقیقت کھوتے چلے جائیں گے۔ اس
کے لیے ہمیں کچھ نئے محاورے بھی تراشنے ہوں گے۔ ایک طرح سے میں اپنے لیے اس کو محرومی
بھی سمجھتا ہوں کہ اللہ نے وہ قلم مجھ سے چھین لیا ہے جس کو علم سکھانے کا آلہ بتایا
گیا ہے۔
خیر یہ ایک الگ
بات ہے۔ میں ان سطور میں کہاں تک کامیاب ہوسکا یہ تو نہیں کہہ سکتاالبتہ مجھے یہ اعتراف
ہے کہ میں نے آپ کی تعلیمی اور تحریکی خدمات کے حوالے سے جس موضوع کو منتخب کیا تھااس
مضمون میں آپ کی شخصیت کے شایان شان گفتگو نہیں ہوسکی۔ آپ کی خدمات کو اجاگر کرنے کے
لیے جو مجموعی خاکہ مضمون میں ابھرنا چاہئے شاید میں اس کو بیان کرنے میں ناکام رہا۔
اس کو محض راقم کے عجز بیان پر محمول کیا جائے۔
اسی کے ساتھ
میں آپ کا انتہائی شکر گذار بھی ہوں کہ آپ نے ایک ایسے عزیز کو جس سے شناسائی بھی نہیں
ہے لکھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ میرے لیے سعادت کی بات ہے۔ میں نے حتی الامکان اللہ
کی مدد سے آپ کے حکم کی تعمیل کی کوشش کی ہے۔
اگر یہ مضمون
تحریر میں آسکا اور چند باتیں کچھ کام کی ہوگئی ہوں تو اس کے شکریے کے حقدار بھی محبی
ومحترمی ڈاکٹر مظفر مہدی صاحب ہیں جو میری تساہلی پر تازیانہ دیتے رہے اور مجھ جیسے
لاابالی شخص سے قلم بند تو نہیں کہہ سکتا ضبط تحریر کروالیا۔
دعاؤں
کا طالب
احتشام الحق
۲۱
جنوری ۲۰۱۷
1 comment:
تاریخ کوروڈیہ کتاب کھا ملیگی
Post a Comment