مشمولات

Monday, 13 February 2017

Educational Agenda of Prof. Ahmad Sajjad

پروفیسر احمد سجاد کے ملی تعلیمی ایجنڈے
(اکیسویں صدی کے تناظر میں)
                ہبوط آدم سے ہی دنیا میں تبدیلی وترقی کا سفر جاری ہے۔ تبدیلی وترقی ہی عین زندگی ہے۔ اس لیے ہر زمانہ اپنے گذشتہ زمانوں کی ترقیات سے آگے بڑھتا رہا ہے۔ جو قومیں زمانے کی تبدیلی کا ساتھ نہیں دے سکیں وہ ماضی میں خواہ کتنی ہی ترقی یافتہ رہی ہوں جیسے ہی ان کے قدم میں جمودآیا سیار قوموں نے انہیں خس وخاشاک کی طرح کنارے کردیا۔کیونکہ تغیر کو ہی زمانے میں ثبات حاصل رہا ہے اور سفر کے درمیان جو ٹھہرگئے پیچھے کے مسافر انہیں کچل کر آگے بڑھ گئے۔
                ترقی کی رفتار جو پچھلے زمانے سے تیز ہوتی جارہی تھی اکیسویں صدی میں سرپٹ دوڑنے لگی۔ علمی دھماکوں کے ساتھ سائنسی ایجادوں اور دریافتوں کا ایسا سلسلہ شروع ہواکہ پوری انسانی زندگی پر مشینوں کی حکومت راج کرنے لگی۔ اطلاعات کو نئی ٹیکنالوجی نے اتنا آسان کردیا کہ اطلاعات رسانی کے پچھلے تمام تر نظام مضحکہ خیز معلومات ہوتے ہیں۔ سائنسی تحقیقات اور علم کے فروغ نے ان تمام مہلک امراض کو چیلنج دیا جن سے انسانی زندگی نشانے پر رہا کرتی تھی۔ وہ وبائی امراض جو گاؤں کے گاؤں اور شہر کے شہر نگل جاتے تھے اب قصہ ماضی بن گئے۔
                اکیسویں صدی اپنے ساتھ جہاں بہت سی برکتیں لائی ہیں اسی کے ساتھ دنیا کئی طرح کی سائنسی اور سماجی تخریبات کا بھی شکار ہوئی ہے۔ گلوبلائزیشن جس کے نتیجے میں صارفیت کا فروغ ہوا اس نے دنیا کی مادی وروحانی ہر شے کو نفع ونقصان کی نظر سے دیکھنا شروع کردیا ۔ اس نظریے نے مفاد پرستی اور موقع پرستی کے جذبے کو فروغ دیا۔ ترقی کی دوڑ میں آگے نکل جانے کے احساس نے لوگوں کو عام انسانی اور جبلی نقصانات سے بے توجہ کردیا۔ انسانی ہمدردی کے جذبات کا فقدان پورے انسانی سماج پر عام ہوتا جارہا ہے۔ایک طرف ترقی کا یہ عالم ہے کہ انسان ایک رات میں کروڑوں روپے محض عیش پرستی میں اڑادیتا ہے۔ تقریبات میں سیکڑوں انسانوں کی بھوک مٹانے کی مقدار میںکھانے ضائع کردیئے جاتے ہیں۔ وہیں سماج کا ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اب بھی کچڑوں کے ڈھیر پر سے روٹی چن کر بھوک مٹانے پر مجبور ہے۔ ہر روز نئے نئے تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں جو نئی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں تو آج بھی دنیا میں لاکھوں ایسے بچے جن کو تعلیم گاہوں کا منہ تک دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ ہندوستان کے سرکاری اسکولوں میں ایسے غریب بچوں کی بڑی تعداد ہے جو مڈ ڈے میل کے لالچ میں اسکول تک پہنچ تو جاتی ہے لیکن ایک وقت کے کھانے کی قیمت پر اپنا بیش قیمت وقت ضائع کردیتی ہے۔ نہ اسے تعلیم حاصل ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے وقت کا صحیح استعمال کرپاتی ہے۔ پوری دنیا میں طاقتور کمزور کو زیر نگیں کرنے کے نئے نئے حربے اپنا رہے ہیں۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ ہر ملک اپنے سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاع پر خرچ کررہا ہے۔ اس کے باوجود دنیا میں تشدد اور دہشت نے شہر شہر اور قریہ قریہ کو سراسیمہ کر کے رکھا ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ انسان تیوہار جیسی خوشیاں بھی پولیس کی چھاؤنی میں منانے پر مجبور ہے۔ وہ ممالک جو اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ دفاع اور اسلحہ جات کی خریداری پر خرچ کر رہے ہیں وہاں بھی لاکھوں بچے بھوک اور افلاس سے مر رہے ہیں۔ بیماروں کو مناسب علاج کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے ایسی پالیسی اختیار کرلی ہے کہ ترقی پذیر اور کمزور ممالک چاہ کر بھی اپنی آمدنی کو ملک کے عوام کی فلاح پر خرچ کرنے کے بجائے ان ممالک کے اسلحہ خرید کر اپنی گاڑھی کمائی اسلحہ کی قیمتوں کی شکل میں دینے پر مجبور ہیں۔ جنسی بے راہ روی، قتل، لوٹ، معاشی بحران اور اس جیسی سماجی خرابیاں اس پر مستزا د ہیں۔ اگر ہم ان تمام خرابیوں پر غور کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا میںترقی کی رفتار کے ساتھ تخریبات سامنے آئی ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان کے سامنے مقصد حیات واضح نہیں ہے۔ انسانوں اسی زندگی کو سب کو کچھ سمجھ لیا ہے اور جب ذہن پر اس دنیا کا تصور آخری تصور ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت یا تصور استحصال کے راستے کو بند نہیں کرسکتا ہے۔
                الغرض دنیا میں جتنی بھی ترقیات آئی ہیں وہ صرف اور صرف علمی ترقی کے نتیجے ہیں جس کے لیے دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے محنت کی اور لگن سے کام لیا ہے ۔ اس صورتحال میں یہ سوال پید ا ہوتا ہے کہ مسلمان علم کی اس جنگ میں کہاں کھڑے ہیں۔ کیا وہ دنیا کے اس علمی دھماکے کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا انہوں نے خود کو حالات کے حوالے کردیا ہے۔ بے پناہ ترقی کے باوجود دنیا جس بے راہ روی کی شکار ہے اس میں ایک مسلمان کا جو مذہبی فریضہ ہے کیا وہ اس کو ادا کرنے کی حیثیت میں ہے۔
                عالمی سطح پر جاری اس علمی وسیاسی جنگ سے نبرد آزما ہونے کے لیے بشمول ہندوستان دنیا بھر کے مفکرین اسلام غور وفکر کرتے رہے ہیں۔ علمی برتری حاصل کرنے اور دنیا کی ترقیات میں مسلمانوں کے شامل ہونے اور دنیا کو ایک سچی اور ابدی راہ دکھانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان کے ایسے مفکرین میں ایک اہم نام پروفیسر احمد سجاد کا بھی ہے۔
                احمد سجاد کی حیثیت ادبی اور علمی شخصیت کے علاوہ ایک دانشور کی ہے۔ وہ ادبی و علمی کام کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کی علمی، معاشی، سماجی ترقی اور سیاسی بیداری کے لیے بھی غور کرتے رہیں۔ مرکز علم وادب کی صورت میں انہوں نے اپنی مخصوص فکر کو عملی صورت دینے کی مخلصانہ کوششیں بھی کی ہیں۔ ا ن علمی کوششوں میں یہ امر بہت اہم رہا ہے کہ انہوں نے دین ودنیا کی دوئی کو مٹاکر اسلامی سانچے میں تمام تر علوم کو ڈھالنے اور مسلمان کی زندگی کو ان سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔
                پروفسیر احمد سجاد اردوکے ایک مایہ ناز استاد، نامور ادیب، منفرد نقاد ، ممتاز دانشوراور ماہر تعلیم کی حیثیت سے بر صغیر میں معروف ہیں۔ ادب کا وہ ایک مخصوص اور مربوط نظریہ رکھتے ہیں۔ ادب کا یہ مربوط نظریہ بھی انہوں نے اسلامی تعلیمات سے کشید کیا ہے۔ انہوں نے ان نظریات کی روشنی میں اردو زبان وادب کے علمی سرمایوں اور اصناف کا جائزہ بھی لیا ہے اور نہ صرف خود ان نظریات کو اپنے علمی سرگرمیوں میں بروئے کار لائے ہیں بلکہ اس کو ایک تحریک کی صورت دے کر ایک نسل کی آبیاری بھی کی ہے۔ ان کے یہ نظریات اردو ادب میں ایک سنگ میل اور تنقیدی دبستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ادب میں انہوں نے جن نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اس پر مستقل اور ایماندارانہ طریقے سے کام نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن جب کبھی ان کے نظریات کو فروغ دے کر ادب کا جائزہ لیا جائے گا اور اس پر ادب کی تعمیر کی بنیاد رکھی جائے گی تو اردو ادب میں ایک نئی اور توانا فکر اور ادب کا ایک لازوال سرمایہ سامنے آئے گا جو انسان کی دنیاوی زندگی کی اصلاح کے ساتھ اخروی زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنے گا اور وہ ادب جو انسان کی اصلی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے تخلیق ہوگا۔
                انہوں نے جہاں ادب وتنقید میں شاہکار تصنیفات پیش کی ہیں وہیں ہندوستانی مسلمانوں کے علمی، معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کو بھی اپنی تحریروں میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا ہے اور منصوبہ بند طریقے سے ان کے حل پر سنجیدگی سے غور کیا ہے۔ ایسے مسائل پر انہوں نے ”ہندوستانی مسلمانوں کے بنیادی مسائل اور ان کا حل، ہندوستان کا جدید تعلیمی انقلاب اور اقلیت، اکیسویں صدی کا چیلنج اور ملی تعلیمی ایجنڈا، جدید نظریات کی کھلی ناکامی اور اسلام کا روشن مستقبل، پندرہویں صدی ہجری کے تقاضے اور مطالبات(اردو اور انگریزی بنام Islamic Revival and 15th Century Hijri)، ملک میں بڑھتی ہوئی تہذیبی جارحیت کی لہر، اسباب وعلاج، کیا بر صغیر کی اردو آبادی عذاب مسلسل کا شکار ہے، بھارت میں نئے منووادی انقلاب کی تیاری اور مسلمان، ہندوستان میں مسلم جماعتوں کا سیاسی طریق کار، Points to Ponder، مسلم سیاسی نمائندگی کا مسئلہ پنچایت سے پارلیمنٹ تک جیسی کتابیں تحریر کی ہیں جن میں بیشتر منظر عام پر آچکی ہیں۔
                ان کتابوں کے مطالعے سے ملت کے تئیں ان کی فکر مندی اور قلب میں موجزن ملت کی سرفرازی کے جذبات صادق کا احساس ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام کتابوں کو سامنے رکھ کر مجموعی مطالعہ پیش کیا جائے تا کہ ان کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔
                اس مختصر مضمون میں ان تمام کتابوں کا سرسری مطالعہ بھی پیش کرنا ناممکن ہے۔ یہاں اس حوالے سے احمد سجاد کی ایک معتبر کتاب ”اکیسویں صدی کا چیلنج اور ملی تعلیمی ایجنڈا“ میں پیش کردہ خیالات کے چند زایوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
                بنیادی طور پر یہ کتاب اکیسویں صدی کا چیلنج اور ملی تعلیمی ایجنڈا، جدید اسلامی یونیورسٹی کا قیام (فکری پس منظر)، علی گڑھ تحریک کی نشأة ثانیہ- چند قابل عمل نکات، عصری اور علوم اسلامیہ کو ایک نئے تعلیمی انقلاب سے ہمکنار کرنے کی فوری ضرورت، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ- اہمیت وافادیت، حق تعلیم، سرکاری منصوبے اور ملی تعلیمی صورتحال، اقداری تعلیم، کیوں او رکیسے؟ جدید تعلیمی مسائل اور ہمارے کرنے کے کام (جھارکھنڈ کے حوالے سے)، مرکز ادب وسائنس تعلیمی وفلاحی رجسٹرڈ ٹرسٹ رانچی- ایک مختصر تعارف جیسے بنیادی مضامین میں تقسیم ہے۔
                حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک مضمون وسیع مطالعے کا متقاضی ہے اور تعلیم کے جدا گانہ اور منفرد زاویوں کو سامنے لاتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے لائحہ عمل کو طے کرتا ہے۔
                اس سے پہلے کہ ان مضامین پر بات شروع کی جائے پہلے مضمون کے ذیلی عناوین پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ انقلاب انگیز صورتحال، ملکی تناظر، دانشوروں کی رائے، عذاب دانش حاضر، فکری گمراہی، نام نہاد مصلحین، ادب کی بے ادبی، کھوکھلے دعوے، مادہ پرستی کا عمل، اسلامی عالمی ثقافت، اسلامی سائنس، نئے خانے کی ہلتی ہوئی بنیادیں، حق کی تلاش، قرآنی سائنس، چھ چیلنج، مہلک چرکے اور تاریخی معجزے، اسلامی حل،۵۷، مسلم ممالک، ملی تعلیمی ایجنڈا، انفارمیشن ٹیکنالوجی جدید ترین ایجنڈا، غلامی یا آزادی، روزگار، ماس میڈیا پاپولر کلچر کا نیا چیلنج یہ اس کے ذیل عناوین ہیں۔
                عذاب دانش حاضر کے تحت انہوں نے جہاں تیرہویں چودہویں صدی سے تاحال سائنسی تحقیقات کے نام پر فکری بے راہ روی کو وا کیا ہے وہیں فکری گمرہی کے تحت انہوں نے فلسفے کی ان کارستانیوں کو پیش کیا ہے جنہوں نے انسان کو الحاد وزندقہ کی دلدل میں پھنساکر ا س سے اعتماد ویقین کی دولت بھی چھین لی ۔ اس کے بعد مصلحین نے اصلاحی نعروں کے ساتھ انسان کو در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے جس طرح مجبور کیااحمد سجاد نے نام نہاد مصلحین میں اس کا انکشاف کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کوپر نیکس، ڈیکارٹ، سر اسحاق نیوٹن، لوائے زر، ٹائٹ، ڈارون، ژول، فرائڈ، ڈرکائ، واٹسن، میکیاویلی، تھامس ہابز، جان لاک، روسو، کانٹ، مالتھس، ہیگل، آدم اسمتھ، جین آسٹن، فری میسن لاج، فیور باخ، اسٹوارٹ مل، فریڈ رخ اسٹراس، برونو بور، ہولیاک، کارل مارکس، ولیم جمیس، نطشہ، جان ڈیوی، پال سارتر، کارنپ، صلح نامہ فیلیا، فکٹے، گوسپ مازنی، تھامس مین، بریڈلا، اینٹی گاڈ سوسائٹی، جیکسن بلیک، صلح نامہ وارسائی، لینن، فرانسس بیکن، والٹیر، سائمن لاپلاس، ارنسٹ ہیکل، بشپ برکلے، ڈیوڈ ہیوم، ارنسٹ رینان، امام غزالی، اقبال وغیرہ جیسے سائنس دانوں، فلاسفہ، مصلحین ومفکرین ، ادبا اور ان کے رد عمل کے طور پر ابھرنے والے فلاسفہ اور مفکرین کی آرا، ان کے نظریات، انسانی زندگی پر ان نظریات کے دیرپا اثرات، ان کے نتیجے میں مذاہب عالم کی آفاقی سچائیوں کی تکذیب، سائنس اور فلسفوں کے ذریعہ ایک دوسرے کی تردید، انسان کو حیوانیت اور شہوانیت کے درجے تک پہنچانے والی فکروں اور ذہنی تنگی سے نکلنے کے رد عمل جیسے افکار ونظریات کو انہوں ے جزو اول کے طور پر پیش کیا ہے۔
                یہ تمام حوالے ان کے وسعت مطالعہ، آزاد فکر ونظر اور شرح صدر کی عکاسی کرتے ہیں۔ جس طرح سے اس میں احمد سجاد نے سائنس کے نام پر انسانیت کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے ایسا مطالعہ ایسا شخص کرسکتا ہے جس کے سامنے مخصوص نظریہ حیات ہو او وہ اس نظریہ حیات کے تئیں اخلاص وایقان عمل کی دولت سے مالا مال ہو۔ مذکورہ بالا سائنس دانوں، مفکرین، مصلحین کے کوکھلے دعووں اور ان کے برے نتائج کو سامنے لانے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں :
”میرے خیال میں اکیسویں صدی میں اس زمین یا کرہ ارض کو بھی مرنے سے بچانے اور یا خدا اور انسان کو دوبارہ زندہ ومتحرک کرنے کا نسخہ شفا امت محمدیہ کے پاس موجود ہے۔ بشرطیکہ امت مسلمہ اقراء باسم ربک الذی، طلب العلم فریضہ علی کل مسلم اور سنریھم آیاتنا فی الآفاق وفی انفسھم کی اسپرٹ کے تحت علم حاضر کے معلومات کے خزانوں کو اپنے تصرف میں لاکر انہیں اسلامیانے کی کوشش کرے“
                                                (اکیسویں صدی کا چیلنج ۔۔۔۔۔ ص۱۲-۱۳)
پھر اسلامی عالمی ثقافت کے خط وخال کو ابھارتے ہوئے اسلامی سائنس کی ضرورتوں کا احساس کچھ اس طرح دلایا ہے:
”ملی تعلیمی ایجنڈے میں مذکورہ بالا پہلوؤں کے علاوہ اسلامی سائنس کی نظری وعملی بنیادوں اور کارناموں پر مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم محققوں اور دانشوروں نے جو قیمتی کام کیا ہے وہ امت مسلمہ کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں۔ اس پہلو سے دریا کے مقابلے میں صرف قطرہ بھر کام ہوا ہے۔“
                                                                                                (ایضا،ص ۱۵)
                ابتدا سے سائنس دانوں، فلاسفہ اور مفکرین زندگی کے مختلف امور پر غور کرتے رہے ہیں۔ احمد سجاد کی اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے ان کی دریافتیں، تحقیقات، انکشافات اور افکار ونظریات کس طرح ایک دوسرے سے متصادم ہیں اورزندگی کی رہنمائی کرنے کی بجائے انہیں تاریک راہوں سے گذار کر بھول بھلیوںمیں گم گشتہ راہ بنا دینا چاہتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے انہوں نے زندگی کو بے سمت رخ پر چلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے اس مطالعے میں مئے خانے کی ہلتی ہوئی بنیاد کے عنوان سے فکر کی اس بے راہ روی اور سائنسی تضادات کو پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب تک زندگی کا ایک مقصد واضح نہیں ہوگا اور زندگی کو اس رخ پر چلایا نہیں جائے گا زندگی اپنے افکار کے درمیان متصادم رہے گی۔ کتاب کے ان ابواب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ فکر ونظر کا ایک ہجوم ہے جو مصنف کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ سائنس دانوں، فلاسفہ اور مفکرین کی زندگی کے بے سمت سفر کے درمیان پیاسی روح کے لیے حق کی تلاش ، اس میں قرآنی سائنس کے نسخے کو پیش کرتے ہوئے بھٹکتی ہوئی اس دنیا کو فضائی آلودگی، منشیات کے پھیلاؤ، افراط زر اور جان لیوا گرانی، ناخواندگی کا سیلاب، نئی نسل کی بے راہ روی اور جدید امریکی سامراجیت کی شکل میں درپیش چھ چیلنجز، بیسوی صدی میں امت مسلمہ کو لگائے گئے تین مہلک چرکوں اور تین معجزوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بڑی قطعیت کے ساتھ اسلامی حل پیش کیا ہے:
اکیسویں صدی میں اگر مغرب کی مادہ پرستی اور بہیمیت نیز مشرق کی مریضانہ مذہبیت اور علمی زوال کی دلدل سے انسانیت کو نکالنا ہے تو عالم انسانی کو آج اکیسویں صدی میں جن تین چیزوں کی ضرورت ہے وہ اسلام اور صرف اسلام ہی پیش کرسکتا ہے۔ جن کی روشنی میں امت مسلمہ کو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی ہے:
اولا کائنات کی روحانی تعبیر، دوم: فرد کا روحانی استخلاص، سوم: وہ بنیادی اصول (قرآن کے محکمات) جن کی نوعیت عالم گیر ہے اور جن سے انسانی معاشرے کا ارتقا روحانی اساس پر ہوتا ہے۔
                                                                                                                (ایضا، ص ۲۴)
”معرفت نفس، احتساب نفس، تربیت نفس، عزت نفس وغیرہ غرض آدم کی خلافت اور رسول کریم کی وسیع تر معنوں میں معلمی،علم نافع کی چاہت، سمع، بصر اور فواد کی ذمہ دارانہ جوابدہی، دینی ودنیوی علوم کی دوئی کا خاتمہ، خشیت الٰہی سے گہرا رشتہ اور توحیدی ودعوتی اقدار کی بالا دستی پر مشتمل کسی جامع ملی تعلیمی ایجنڈے پر کامیاب عمل آوری تو کسی مکمل اسلامی ملک ہی میں ممکن ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تب تقریبا نصف صدی سے زاید ایسی مسلم آبادی جو مسلم سیکولر ملکوں اور دیگر ملکوں میں اقلیتی حیثیت سے رہ بس رہے ہیں ، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ ہر حال میں ان کی دینی ودنیوی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اپنے حالات کے پیش نظر غور وفکر کے بعد اپنے ملی تعلیمی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنائیں اور اپنی یونیورسیٹیاں اور ادارے قائم کریں۔ ان کے بغیر ان کی اخلاقی وروحانی اورمعاشی وسیاسی بہتری وخوشحالی بھی ممکن نہیں ہے۔ “                                                                                                                    (ایضا، ص۲۶)
                اس طویل پس منظر کو پیش کرنے کے بعد احمد سجادنے ملی تعلیمی ایجنڈے اور اس کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی صراحت کی ہے۔ ایک سیکولر ملک کی حیثیت سے ہندوستان میں مسلمانوں کو تعلیمی اداروں کے قیام اور ان کو چلانے کا جو حق ہے اس پر قائم تعلیمی اداروں کے حوالے سے انہوں نے از سر نو حالات حاضرہ کی روشنی میں نظر ثانی کی فوری ضرورت کا احساس کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے تقریبا ۱۳ امور پر بحث کی ہے جن میں دینی وعام تعلیمی اداروں کی بہتر کار کردگی کے لیے الگ الگ مرکزی واساسی ادارے کا قیام جو پورے ہندوستان میں مشترکہ لائحہ عمل کو پورا کرسکے۔ مسلم مالیاتی رابطہ کمیٹی کا قیام جو زکوة ، اوقاف اور نجی وسرکاری گرانٹس کی تنظیم کر کے عمومی مفاد کو یقینی بناسکے۔ اسی ضمن میں کل ہند انفارمیشن سینٹر یا مشاورتی بورڈ کے قیام کی ضرورت بھی انہوں نے محسوس کی ہے۔ مرکزی قانونی صلاح کار تنظیم بھی ان کے ملی تعلیمی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے جس کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
                احمد سجاد نے اپنے ملی تعلیمی ایجنڈے میں اسلامی نظریات کی روشنی میں جملہ علوم کے نصاب کی تدوین کو بڑی اہمیت دی ہے۔ انہوں نے ۷ ذیلی حصوں پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے جن سے ان کی دور رس فکر کا بھی احساس ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان امور پر اگر ملی جماعتیں غور کریں اور اس کو عملی جامہ پہنائیں تو یقینا ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیم ایک نئی صورت میں ابھر کر سامنے آئے گی۔ یہ وہ امورہیں جو ہندوستان میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مستقبل کو بھی طے کرتے ہیں۔
                ہمارے ہندوستانی تعلیمی نظام نے دین ودین کو الگ الگ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے دنیا کی سرگرمیوں سے نا آشنا ہے تو عمومی تعلیم حاصل کرنے والے دین احکامات اور فرائض اور دینی شعور واحساس بیگانہ ہیں۔ اس دوئی کا احساس کرتے ہوئے بجائے اس کے تعلیمی نصاب میں سردست اس دوئی کے فرق کو مٹانے کی کوشش کرنے کی بجائے دسویں جماعت تک دینی وعصری علوم کا امتزاجی نصاب تیار کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ جبکہ خالص دینی مدارس میں دو گھنٹے عصری مضامین مختص کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ اسی طرح عصری دانش گاہوں میں دو گھنٹے قرآن ودینیات کی تعلیم وتربیت کا نظم ہو۔ مدارس کے فارغ طلبہ پری طب(میڈیکل) پری سائنس اور پری انجینئرنگ اور سول سروسیز کے لیے دو سالہ کورس مرتب کر کے ضلع وار رحمانی ۳۰ کے طرز پر ادارے اور کوچنگ سینٹرس کا قیام عمل میں لایا جائے۔ چھوٹے چھوٹے مکاتب کا ہر مسجد اور ٹولہ، محلہ میں نیٹ ورک قائم ہو جس کی مالی کفالت کی ذمہ داری اس علاقہ کے باشندوں پر ہو۔ہر بڑا مدرسہ اور اسکول اپنے اطراف میں امکانی حد تک ابتدائی مکاتب کے قیام کی کوشش کرے۔
                اس ضمن میں احمد سجاد نے مسلمانوں کی تعلیم کو عہد جدید کے تقاضوں سے جوڑنے کے لیے دو فاصلاتی اور دو آن لائن یونیورسیٹیوں کے قیام کا مشورہ دیا ہے۔ جن میں ایک ایک عمومی وتکنیکی تعلیم کے لیے ہو اور ایک دینی تعلیم کے لیے۔
                دور جدید میں حصول تعلیم کے ان دونوں ذرائع نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔ آج ہندوستان میں ایک طرف تو عام یونیورسیٹیوں نے رسمی تعلیم کے ساتھ ایک اپنا ایک شعبہ فاصلاتی تعلیم کا قائم کیا ہے تو ملک کی کئی یونیورسیٹیوں نے فاصلاتی یونیورسیٹیوں کی حیثیت سے اپنی جگہ بنائی ہے جن میں لاکھوں طلبہ اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کورس کر رہے ہیں۔
                راقم الحروف نے بھی اپنے ایک مضمون یہ بات کہی تھی کہ طلبہ مدارس کی ایک بڑی تعداد مختلف وجوہات سے نصاب کی تکمیل سے قبل ہی تعلیم سے منقطع کردیتی ہے۔ مدارس کے ڈراپ آؤٹ طلبہ کو ان کی دینی تعلیم کی تکمیل کے لیے اگر فاصلاتی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے تو بہت ممکن ہے کہ بطور خاص معاشی مجبوریوں سے تعلیم چھوڑنے والے طلبہ اپنی تعلیم کو مکمل کرسکیں گے۔ جبکہ عمومی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی اپنی ملازمت کے درمیان دینی تعلیم حاصل کرسکیں گے۔
                آن لائن تعلیم کے اس زمانے میں ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی تعلیم کے لیے ان ذرائع کا استعمال کرنا ایک محرومی ہوگی۔
                احمد سجاد نے تعلیمی بیداری مہم جاری رکھنے کے ساتھ این آئی او ایس کے اقلیتی سیل کو با اختیار بناتے ہوئے جملہ مسلم پرائمری اسکولوں میں اس کا اسٹڈی سینٹر قائم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
                ان کے اس ایجنڈے میں بڑی تعداد میں مسلم یونیورسیٹیوں کا قیام بھی شامل ہے:
       ”اکیسویں صدی کی تعلیمی ضروریات کے لیے اگلے دس برسوں کے اندر اگر حکومت ہند مزید ایک ہزار یونیورسٹیاں قائم کرنے کا آغاز کرچکی ہے تو بیسیوں کروڑ کی مسلم آبادی کے لیے مختلف ریاستوں میں ۲۰-۲۵ یونیورسیٹیوں کا قیام بھی ملی تعلیمی ایجنڈے کا ایک لازمی جز و ہونا چاہئے“
                جدید دور میں علمی ترقی اور برتری کا سب سے بڑا ذریعہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے۔ اس وقت جو قوم اس ٹیکنالوجی میں پچھڑ جائے گی اس کے مستقبل کو تاریک ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔
اب یہ ٹیکنالوجی چونکہ جملہ علوم وفنون اور مختلف النوع پیشوں کی رگ و ریشے میں نفوذ کرچکی ہے۔ اس لیے ذخیرہ معلومات اور تعلیم وتعلم کے ساتھ روزگار کے بے شمار مواقع مہیا کردیئے ہیں۔ مگر اردو والوں کی عدم واقفیت، بے توجہی اور بے رواجی کے سبب اردو سائبر اسپیس میں تمام تر دستیاب سہولیات کے باوجود فوائد حاصل نہیں ہو پارہے ہیں جو واقعی ہونے چاہئے تھے۔“
                                                                (ایضا، ص ۳۳)
                قومی ترقی میں ان کی معاشی حیثیت کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں ان میں ان کی معاشی صورتحال بھی ہے۔ آزادی کے بعد سے مسلسل ان اقتصادی بنیادوں کو کمزور کھوکھلا کیا جاتا رہا ہے۔ دور حاضر میں جہاں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اقتصادیات کی بنیادوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ احمد سجاد نے اپنے اس ملی تعلیمی ایجنڈے میں اس کی تشخیص ان الفاظ میں کی ہے:
”لہٰذا اکیسویں صدی میں غلامی سے وہی اقوام بچ سکتی ہیں جو نالج اکونامی پر حاوی ہوں گی۔ کیونکہ نالج سے دولت کمانا بہت منافع بخش ہوگا کہ اس میں توانائی کا استعمال بہت کم ہوگا۔ اس میں صرف انسانی ذہن استعمال ہوگا۔ مستقبل میں جس کی اچھی نالج اکونامی کی ورک فورس ہوگی وہ دنیا کی قیادت کرے گا۔ “
جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

                مختصر یہ کہ احمد سجاد اپنی اس کتاب میں مذکورہ حالات کو نظر میں میں رکھتے ہوئے ایک مجموعی حل پر پہنچے ہیں۔ یہ وہ آخری حل جو انسان کو بے سمتی ، استحصال اور غلامی سے نکال کر زندگی کا ایک سمت متعین کرتا ہے۔ حقدار کو اس کا حق دیتا ہے اور آزاد فضا میں جینے کا موقع فراہم کرتا ہے:                
‘‘اکیسویں صدی کے علمی دھماکے، برق رفتار ابلاغ اور عالم گیری کو گن کلچر، قتل وغارت گری، عصمتوں کی تباہی، خواتین کی توہین کی جگہ عزت وتوقیر امن وشانتی اور انسانی واخلاقی اقدار کو جاری وساری کرنا چاہتے ہیں تو اس کائنات کے خالق ومالک نے جو آخری صراط مستقیم دکھائی ہے اسی راستے پر ملی تعلیمی وتربیتی ایجنڈے کو ڈالنے اور ڈھالنے کی ضرورت ہے۔’’
٭٭٭
۱۲ جنوری ۲۰۱۷
نوٹ:  یہ مضمون پروفیسر احمد سجاد کی شخصیت اور خدمات پر آنے والی کتاب کے لیے لکھا گیا ہے اور ابھی غیر مطبوعہ ہے۔ مجوزہ کتاب کی اشاعت سے قبل بلا اجازت اس مضمون یا اس کے کسی جزو کا استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ (مضمون نگار)،۔ 

No comments: