مشمولات

Friday, 27 July 2018

بہتر تعلیم کیلئے صرف خصوصی تربیت مسئلہ کا حل نہیں



بہتر تعلیم کیلئے صرف خصوصی  تربیت مسئلہ کا حل نہیں
جڑوں کو سوکھا رکھ کر شاخوں پر پانی چھڑکنے سے درخت شاداب نہیں ہوں گے

میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ریاضی اور دیگر مضامین میں کمزور بچوں کو محکمہ کی جانب سے خصوصی تربیت دی جائے گی۔ اس کی ذمہ داری حکومت نے بہار ایجوکیشن پراجیکٹ کونسل کو دی ہے۔ حکومت کو یہ خیال اس لیے آیا ہے کہ وزیر اعلی کے مشیر اور چیف سکریٹری نے محکمہ تعلیم کے حکام کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں یہ معاملہ سامنے آیا کہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم درجہ اول تا درجہ پنجم کے طلبہ ریاضی کے عام سوالات بھی حل نہیں کرپاتے ہیں۔
                حکومت کی یہ سنجیدگی قابل ستائش ہے۔ اگر حکومت یہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقینا  سماج کے لیے بڑا کام ہوگا۔ لیکن ماضی میں کی  گئی اس طرح کی کوششوں کے مد نظر امکان یہ ہے کہ حکومت کی یہ کوشش  بھی ناکام ہوگی۔ کیونکہ یہ جڑوں میں پانی دینے کی بجائے شاخوں پر پانی دینے کا عمل ہوگا جس سے درخت شاداب نہیں ہوتے۔ اولا تو محکمہ کا یہ خیال کہ درجہ اول تا درجہ پنجم کے طلبہ ریاضی  کے عام سوالات حل نہیں کرپاتے گرچہ  صد فیصد درست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ درجہ ہشتم تک ایسے طلبہ ہیں جو ریاضی ہی نہیں قومی و مادری زبان ہندی میں بھی اتنے کمزور پائے جاتے ہیں کہ اس کا بیان انتہائی تکلیف دہ ہے۔ حکومت جو خصوصی تربیت کا انتظام کرے گی اندازہ یہ ہے کہ اس کے  لیے اساتذہ کو یہ ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ اسکول میں بچوں کی چھٹی ہوجانے کے بعد ایک گھنٹہ ایسے بچوں کو تربیت دیں۔ جو کاغذ پر تو ممکن ہے شاید عمل میں نہ آسکے۔ اگر یہ اساتذہ اتنے ذمہ اور ایماندار ہوتے کہ وہ بچوں کی تعلیمی ترقی اور پیش رفت کے لیے درجوں کے بعد انہیں ٹریننگ دینے کا اہتمام کریں تو خود کلاس میں ہی بچوں کو اتنی تعلیم ضرور دیتے کہ بیشتر بچوں کی تشفی درجہ میں ہوجائے اور کچھ بچے جو پیدائشی طور پر یا معاشی اور دیگر مسائل کے سبب کمزوریوں کے شکار ہیں محض ان کا مسئلہ رہ جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو خصوصی تربیت کے ذریعہ درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں درجوں میں بیشتر کمزور ہوتے ہیں اور چند ایک اچھے ہوتے ہیں۔ یہ  بھی سچائی ہے کہ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کلاس کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے اور اس کے چند اسباب بھی ہیں۔
                اسکولوں میں تعلیم کی بہتری کے لیے محکمہ کا پورا نظام موجود ہے لیکن جس طرح اساتذہ تعلیم کے تئیں غیر سنجیدہ ہیں اس سے کہیں زیادہ محکمہ کا نظام غیر سنجیدہ ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اساتذہ کو ذمہ دار ی سے راہ فرا ر اختیار کرنے میں محکمہ کی جانب سے حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ محکمہ کی جانب سے اکثر اسکولوں میں سی آر سی سی، بی آر پی ، بلاک ایجوکیشن افسر ، ضلع ایجوکیشن افسر اور ضلع پروگرام افسر کی جانب سے معائنہ ہوتا رہتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معائنہ میں ایسے افسران درجہ میں نہیں جاتے یا جاتے بھی ہیں تو محض بچوں کا سر گننے اور حاضری رجسٹر میں بنائی گئی حاضری سے گنے ہوئے سر کا مقابلہ کرنے تاکہ سر شماری اور رجسٹر میں درج تعداد میں بڑا فرق پائے جانے پر اسکول کے  ہیڈ ماسٹر سے پیسے کی وصولی کو جائز ٹھہرایا جاسکے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسکولوں کا معائنہ کرنے والے ہر سطح کے افسران درجہ میں پہنچ کر بچوں سے سوال کرتے۔ آج ان کو کون سا سبق پڑھایا گیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے جو کیلنڈر دستیاب کرایا گیا ہے اس کے مطابق پڑھائی ہوئی ہے یا نہیں؟جو سبق پڑھایا گیا ہے اس کا حق ادا ہو سکا  ہے یا نہیں؟  سبق اگر بہت پیچھے ہے تو اس کے اسباب کیا ہیں؟کون کون سے مضامین پڑھائے گئے اور روزانہ پڑھائے جا رہے ہیں اور جن مضامین کی پڑھائی نہیں ہو پارہی ہے اس کے اسباب کیا ہیں؟ کیا اساتذہ کی کمی سے ایسا  ہو رہا ہے یا پھر اساتذہ اپنی ذمہ داری کے تئیں لا پرواہ ہیںَ جن مضامین کی پڑھائی ہوچکی ہے اس میں بچوں کی معلومات کی سطح کیا ہے؟  جن مضامین کے اساتذہ کی کمی  ہے اس کا حل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ کو رپورٹ دی جانی چاہے کہ اساتذہ کی کمی کے سبب تعلیم کا کیا نقصان ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افسران کو ان سب سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
                اسکولوں میں ناقص تعلیمی نظام  کی ایک بڑی وجہ اساتذہ کی غیر معمولی کمی ہے۔ اکثر اسکولوں میں ضرورت کے مطابق اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ ایک ہی درجہ میں دو دو، تین تین سے پانچ پانچ کلاسوں کی تعلیم بھی دیکھنے کو مل جائے گی اور اسکولوں کی ایسی تعداد بھی ہر ضلع میں قابل لحاظ ہے۔  جہاں ایسا ہے وہاں بچوں کی تعلیمی پیش رفت کیا ہوگی اس  کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا ذمہ دار اساتذہ کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکولوں کو ضرورت کے مطابق اساتذہ فراہم کرائے۔ اگر ایسے اسکولوں میں بچوں کی تعلیمی  ترقی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کلاس کا اہتمام کر بھی دیا جائے تو اس کا نتیجہ صفر ہی ہوگا۔
                حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں جو تقرری کی ہے اس میں درجہ ششم تا درجہ ہشتم میں اساتذہ کی تقرری میں مضمون کی شرط رکھی گئی  ہے۔ یہ بڑی  حد تک اچھی بات ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر اسکول میں تمام مضامین کے اساتذہ  کی لازمی طور پر تقرری ہوتی۔ بلکہ نظام تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ ہر سال اسکولوں سے سکبدوش ہونے والے اساتذہ کے مقابلہ میں مضامین کے مطابق تقرری ہر سال ایک روٹین کے مطابق ہوتی رہنی چاہیے تھی تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ لیکن یہاں تقرری صرف ایک انتخابی ایجنڈہ ہے۔ تقرری کا اشتہار جتنا ہوتا ہے تقرری اتنی نہیں ہوتی۔ ریلیف کے فنڈ کی طرح تقرری نامہ تقسیم کیا جاتا ہے پھر برسوں حکومت اور عوام کسی جانب سے ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے۔ صرف ملازمت پانے والے امید کی نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں۔  بڑی تعداد اسکولوں کی ایسی ہے جہاں تمام مضامین میں اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ سماجی علوم کا استاذ ہے تو سائنس کا نہیں، ریاضی کا استاد ہے تو سماجی علوم کا نہیں۔ اسکولوں میں انگریزی، ہندی، اردو اور سنسکرت سمیت زبان کے اساتذہ کی بڑی کمی پائی جاتی ہے۔  حالت یہ ہوتی ہے کہ ایک استاذ کو بسا اوقات ایک ساتھ کئی درجوں پر نگرانی رکھنی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے تعلیم متاثر ہوتی ہے۔  ان سب کاذمہ  دار اساتذہ کو تو بالکل ٹھہرایا نہیں جاسکتا ہے۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر عوام میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے سلسلہ میں گمراہی پیدا  کر کے ان کے خلاف بد ظنی پید ا کردی ہے تاکہ عوام کی نظر اصل مسائل کی طرف نہیں جاسکے۔ عوام محکمہ کی جانب سے ملنے والے چند پیسوں کے مالی مفاد( پوشاک، اسکالر شپ ، کتابوں اور انڈوں) میں کھوجاتے ہیں اور اسکول انتظامیہ سے دست و گریباں رہتے ہیں۔ حالانکہ ان چیزوں کی دستیابی میں تاخیر یا کمی کا ذمہ دار بھی محکمہ ہی ہوتا ہے لیکن عوام کی نظروں میں قصور وار اساتذہ اور اسکول انتظامیہ ہوتی ہے۔اپنے کام کے تئیں اساتذہ کے والہانہ لگاؤ میں کمی کی ایک وجہ  وقت پر ماہانہ تنخواہ کی عدم ادائیگی بھی ہے۔ گرچہ اس کی ذمہ دار حکومت ہے اور اس کے لیے بچوں کے ساتھ نا انصافی کرنا  ناروا ہے۔ اساتذہ کو اس سے یقینا بچنا چاہیے۔ لیکن انسانی ضروریات کی تکمیل میں رکاوٹ پر یکسوئی پیدا ہونا محال بھی ہے۔ اساتذہ کی یکسوئی میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ اساتذہ سے غیر تدریسی کاموں کا لیا جانا ہے۔ درجہ اول تا درجہ ہشتم تک کے اسکولوں میں کوئی کلرک نہیں ہوتا ہے۔ یہ سارے کام اساتذہ کو کرنے ہوتے ہیں۔ مڈ ڈے میل کے علاوہ روزانہ کی مختلف طرح کی رپورٹوں کے علاوہ کھلے میں قضائے حاجت کرنے والوں کی تصویر کشی اور بیت الخلا کی گنتی جیسے گھناؤنے عمل اور وقفہ وقفہ پر ملنے والی غیر تدریسی ذمہ داریاں اس  پر مستزاد ہیں۔  
                اسکولوں میں بہتر تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی جانب سے بھی کچھ تعاون اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو ملے۔ الیکشن میں عوام کے جو مطالبات ہوتے ہیں یا حکومت عوام کے سامنے جو ایجنڈے پیش کرتی ہے اس میں بھی کبھی یہ شامل نہیں ہوتا کہ ہر اسکول میں ضرورت کے مطابق اساتذہ فراہم کرائے جائیں ۔ یہ صرف روزگار کی فراہمی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بجلی، پانی، صحت اور سڑک جیسی بنیادی ضرورتوں کی طرح ایک ضرورت ہے کہ ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے بھرپور اساتذہ بھی فراہم کرائے جائیں اور ان سے تدریسی کام لئے جائیں۔ حکومت اساتذہ کی ضروریات کا خیال رکھے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ درس و تدریس میں منہمک ہوسکیں۔
                اگر حکومت کو اسکولوں میں بہتر نظام تعلیم کا ماحول فروغ دینا ہے تو اولا تو ضرورت کے مطابق اساتذہ بحال کرنے ہوں گے۔ اساتذہ کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ان کو غیر تدریسی کاموں سے فارغ رکھنا ہوگا۔ اس بات کو یقنیی بنانا ہوگا کہ نگرانی اتھارٹی مالیات کی فراہمی کی بجائے تدریس کو یقینی بنائے۔ ورنہ یوں شاخوں پر پانی چھڑکے جاتے رہیں اور جڑیں سوکھی کی سوکھی ہی رہیں گی۔
***

بازار میں اردو کی تدریسی کتابوں کی دستیابی کے لیے اس کا ڈیمانڈ بڑھانا ضروری



بازار میں اردو  کی تدریسی کتابوں کی دستیابی کے لیے اس کا ڈیمانڈ بڑھانا ضروری
سرکاری اسکولوں کے درجہ اول تا درجہ ہشتم  کی کتابیں بازار میں دستیاب تو ہوگئی ہیں لیکن ایک بار پھر اردو کتابیں نظر انداز کردی گئی ہیں جس سے اردو پڑھنے والوں بچوں کا بڑا نقصان ہونا طے ہے۔ مجموعی طور پر یہ اردو زبان اور اردو داں آبادی کا بھی بڑا نقصان ہے۔ گزشتہ سال تک جب محکمہ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں کتابیں فراہم کرائی جاتی تھیں اردو کتابوں کے ساتھ سوتیلا رویہ صاف نظر آتا تھا۔ کتابیں اگر فراہم بھی کرائی جاتی تھیں تو آدھی ادھوری۔ اب جبکہ کھلے بازارمیں کتاب دستیاب کرانے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے تب بھی اردو کی کتابیں اب تک بازار میں نہیں آسکی ہیں جو انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ پتہ چلا ہے کہ ابھی اردو کی کتابیں شائع نہیں ہوئی ہیں جبکہ سنسکرت سمیت تمام مضامین کی کتابیں شائع ہو کر بازار میں دستیاب ہیں۔ یہ اردو کے ساتھ کھلا تعصب ہے۔ حالانکہ بعض جگہوں سے ایسی خبر بھی ہے کہ اردو کتابیں وہاں دستیاب ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ اچھی بات ہے لیکن بیشتر اضلاع میں کتابیں عام کتابوں کی طرح نہیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں اردو والوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت اور فروغ کے لیے آگے آئیں اور  ڈٹ کر ایسے حالات کا مقابلہ کریں۔
 سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ بچوں اور ان کے والدین میں اردو کے تئیں بیداری پیدا کی جائے اور انہیں کہا جائے کہ وہ بازار میں دکانوں پر جہاں سرکاری اسکولوں کی کتابیں فروخت ہو رہی ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اردو کتابیں ابھی بازار میں نہیں آئی ہیں خریدنے ضرور جائیں۔ اس سے ڈیمانڈ بڑھے گا  اور پبلشر اردو کتاب شائع کرنے اور دکاندار بیچنے پر مجبور ہوں گے۔ مزید اردو تنظیموں اور سرپرستوں کی یونین کی جانب سے محکمہ تعلیم اور حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ جس طرح دیگر کتابیں بازار میں آچکی ہیں اسی طرح اردو  کی کتابیں بھی فورا بازار میں دستیاب کرائی جائیں اور یہ سوال بھی کیا جائے کہ آخر اردو کے ساتھ ایسا رویہ کیوں برتا گیا ہے کہ ساری کتابیں آچکی ہیں اور اردو کو چھوڑ دیا گیا ہے؟
خیال رہے کہ یہ صرف اردو مضمون کی بات ہو رہی ہے۔ اردو میڈیم کی کتابوں کا تو بازار میں کوئی پتہ ہی نہیں ہے اور حکومت نے جو طریقہ اختیار کیا ہے اور خود  اردو والوں کا  اپنا  جو رویہ ہے کہنا چاہیے کہ اس سے بہار میں اردو میڈیم ختم ہی ہوگیا ہے۔اب اردو اسکول برائے نام رہ گئے ہیں۔ اس میں بھی ایک ہی ضلع میں ایسے سیکڑوں اردو اسکول مل جائیں گے جن کو اپنا نام بھی اردو میں لکھا ہوا نصیب نہیں ہے۔ افسوس تو وہاں کی اردو آبادی پر ہے جس کو اس زیاں کا احساس تک نہیں ہے۔ اب  شاید باید ہی کوئی اسکول ہو جہاں اردو میڈیم میں سارے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اب اگر اردو مضمون کی کتابیں بھی بازار میں نہیں ہوں گی تو  آنے والے دنوں میں سرکاری اسکولوں میں اردو کا کیا حال  ہوگا اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔
اردو اساتذہ سے بھی مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ خود بھی کتابوں کی دکانوں پر اردو کتابیں خریدنے جائیں اور دکانداروں سے بات کریں کہ وہ اردو کتابیں منگوائیں۔ ممکن ہو تو بچوں سے بات کر کے خود ہی اردو کتابیں لا کر دستیاب کرائیں۔ اس ضمن میں عام اردو آبادی میں دانشورں، حساس، سماج کے ذمہ دار افران اور ائمہ مساجد کہ وہ لوگوں میں اردو کے تئیں بیداری لانے کے لیے سرگرم ہوں۔ سرکاری اسکولوں میں پڑھ رہے بچوں کے والدین اور سرپرستوں کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اردو کتابیں خریدنے بازار جائیں اور جب اردو کتاب بازار میں دستیاب ہوجائے تو لازمی طور پر خریدیں۔ کیونکہ جب ڈیمانڈ بڑھے گا تو تجارتی منفعت کے مد نظر بھی پبلشر اردو کتابیں شائع کریں گے اور دکانوں میں فروخت بھی ہوگی۔کیونکہ تعصب خواہ کتنا بھی ہو تجارتی مفاد کے آگے وہ ماند پڑجاتا ہے۔ سماج کے ذمہ دار اور ہوش مند افراد جو شہر اور قصبات میں جاتے رہتے ہیں ایسے ماحول میں جب تک اردو کتابیں بازار میں نہیں آتی ہیں  ڈیمانڈ بڑھانے کے لیے بھی اردو کتابوں کے بارے میں بک اسٹالوں پر دریافت کریں یا خریدنے جائیں۔ ا س سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا اور ان شاء اللہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
سرکاری اسکولوں کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ وہاں تعلیم نہیں ہوتی ہے اور اسی ضمن میں اردو کی تعلیم کا بھی حال ہے۔ اس میں کسی حد تک سچائی بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے والدین اور سرپرستوں کو بیدار ہونا ہوگا اور انہیں بیدار ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہ ان کی مستقبل کی تعمیر کا مسئلہ ہے۔ جس طرح وظیفہ اور پوشاک کی رقم نہیں ملنے پر وہ اسکول انتظامیہ سے محاسبہ کرتے ہیں اسی طرح تعلیم اور تدریس کے لیے بھی اسکول انتظامیہ سے مہذب اور احسن  طریقہ پر محاسبہ کا ماحول بنائیں اور ان بچوں کی تعلیمی پیش رفت پر ثبوت کے ساتھ محاسبہ کریں کہ ان کے بچوں کی پڑھائی نہیں ہو رہی ہے۔ اتنے دنوں سے انہیں اسکول کی جانب سے کوئی سبق نہیں ملا ہے۔ اسی طرح اگر اردو کی پڑھائی نہیں ہو رہی ہے تو  اسکول انتظامیہ اور اردو استاذ سے مہذب انداز مین محاسبہ کریں کہ اسکول میں اردو استاذ موجود ہونے کے باوجود اس کی پڑھائی کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ اس کام کے لیے سماج کے ذمہ  دار افراد کی ذمہ داری زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس کام کے لیے تیار کریں اور انہیں بتائیں کہ وہ اردو پڑھانے کے لیے اسکول سے بات چیت کرتے رہیں۔ اس سے اسکول انتظامیہ پر دباؤ بنے گا تو اسکول انتظامیہ اور اردو اساتذہ کو بھی اردو پڑھانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔سرکاری اسکولوں میں ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو والدین - اساتذہ میٹنگ تعلیمی پروگرام کا حصہ ہے جو اکثر جگہوں پر عمل میں نہیں ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکول میں ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو اسکول سے کوئی اطلاع نہیں ملنے کے باوجود اسکول جائیں اور اسکول انتظامیہ سے اس میٹنگ کے بارے میں سوال کریں۔ اپنے بچوں کے اساتذہ سے مل کر ان کی تعلیمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کریں۔ اگر وہاں اردو کی تعلیم نہیں ہو رہی ہے تو اس کے بارے میں سوال کرنا ہرگز نہ بھولیں۔
کتابوں کے لیے گرچہ حکومت کی جانب سے کتابوں کی قیمت فراہم کرائی جا رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اسکولوں کو جو رقم ملتی ہے اس میں زیادہ امکان یہ رہتا ہے کہ سارے بچوں کو رقم نہیں مل سکے۔ اس کے لیے بھی لوگوں کو بیدار رہنا چاہیے اور حکومت سے محاسبہ اور مطالبہ جاری رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی خوشحال لوگوں کو چاہیے کہ اپنے معاشرہ میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے غریب بچوں کو جن کو حکومت کی جانب سے رقم نہیں مل سکی ہے کتابیں خرید کر عطیہ کرنے کا ماحول بنائیں۔ یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہوگا اور آپ کے سماج  میں تعلیم کی روشنی بھی پھیلے گی۔ ساتھ ہی جب کتابیں عطیہ کی جائیں گی تو ایسے بچوں سے ا س کی تعلیمی پیش رفت کے بارے میں پوچھ گچھ کا بھی ماحول پیدا ہوگا اور بچوں میں جواہدہی کا احساس پیدا ہوگا ۔ان شاء اللہ اس کے بھی کچھ نہ کچھ اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ عام طور پر لوگوں میں اپنے بچوں کی تعلیم اور ترقی پر ہی توجہ رہتی ہے۔ حالانکہ کوئی بھی سماج چند افراد اور گھروں  کے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ہونے سے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ نہیں کہلاتا ہے بلکہ جب مجموعی طور پر کسی سماج میں تعلیم اور ترقی عام  ہوتی ہے تب جا کر کسی گاؤں، محلہ اور سماج کو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ گاؤں، محلہ اور سماج کا نام دیا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے لوگ جن کی نظر میں تعلیم اور ترقی کی اہمیت واضح ہے اگر وہ خود کو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ سماج کا حصہ کہلانا چاہتے ہیں تو اپنے ساتھ ساتھ پورے سماج کی تعلیم اور ترقی کی کوشش کریں۔
***

Wednesday, 4 July 2018

پینٹ شرٹ ڈریس کوڈ تکثیری ثقافت کو مٹانے کی مذموم کوشش



پینٹ شرٹ ڈریس کوڈ  تکثیری ثقافت کو مٹانے کی مذموم کوشش

میڈیا میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ یوپی مدرسہ بورڈ سے ملحقہ مدارس میں یوپی حکومت نیا ڈریس کوڈ نافذ کرنے جا رہی ہے اور اب وہاں کرتا پاجامہ یونیفارم کے طور پر پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ابھی تک کی موصولہ خبر کے مطابق نیا ڈریس کوڈ پینٹ شرٹ یا پٹھانی سوٹ ہوسکتا ہے لیکن حکومت کے اب تک کے رویہ سے قیاس یہی کیا جارہا ہے کہ پینٹ شرٹ کا ہی زیادہ امکان ہے۔ خبروں کے مطابق حکومت  کے ذریعہ ایسا فیصلہ مدارس کے طلبہ کو قومی دھارے میں لانےاور احساس کمتری سے نکالنے کے لیے  کیا جارہا ہے۔
جہاں تک یونیفارم کی بات ہے تو چونکہ یہ فیصلہ بورڈ کے ملحقہ مدارس کے لیے  کیا جارہا ہے اس لیے یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ حکومت ڈریس کوڈ کے سلسلہ میں کوئی رائے دے سکے لیکن حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ مدارس اقلیتی اداروں کے زمرہ میں آتے ہیں اور اسی حیثیت سے مدارس کے نصاب اور اسکولوں کے نصاب میں قدرے فرق بھی ہے۔ آج حکومت مدرسوں میں اسکول کا ڈریس کوڈ نافذ کرنا چاہتی ہے تو کیا کل مدرسوں کے نصاب کو بھی اسکول کے نصاب کے مطابق مکمل ڈھال دے گی حالانکہ اس کی کوشش تو مسلسل پہلے سے ہی جاری ہے اور جب نصاب بھی پوری طرح اسکول کے نصاب کے مطابق ڈھال دیا جائے تو پھر مدارس کے الگ نظام کی ضرورت ہی کیا ہوگی۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آئین نے اقلیتوں کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ادارے قائم کریں اور اس کا نصاب تشکیل دیں۔ ڈریس کوڈ کا تعلق بھی تعلیمی نظام سے ہے۔ اس لیے اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح ان کو تعلیمی ادارے قائم کرنے، قومی تعلیمی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے تدریسی نصاب مرتب کرنے کی آزادی ہے اسی طرح اپنے تعلیمی نظام میں اپنی مرضی کا ڈریس کوڈ نافذ کرنے کی آزادی کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔  ہاں اگر ایسے اداروں میں کوئی ڈریس کوڈ نہ ہو یا اس سلسلہ میں بے ضابطگی پائی جاتی ہو تو حکومت یہ  زرو ڈال  سکتی ہے کہ مدارس میں بھی ڈریس کوڈ نافذ ہو اور تمام طلبہ یکساں یونیفارم اختیار کریں تاکہ طلبہ میں مساوات کا جذبہ ابھر سکے۔ لیکن حکومت کے ذریعہ اقلیتی اداروں میں ان کی مرضی کے خلاف ڈریس کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کرنا جمہوریت اور آئینی آزادی کے خلاف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
خیال رہے کہ مسلمانوں میں کرتا پاجامہ کے ساتھ ساتھ پینٹ شرٹ بھی بالکل عام ہے اور کسی بھی سطح پر پینٹ شرٹ کو ناجائز لباس کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے۔ اسکولوں میں جہاں مسلمان بچوں کی مدرسوں میں پڑھنے والوں سے بڑی تعداد پڑھتی ہے اسکول کا یونیفارم پینٹ شرٹ بلا چوں چرا زیب تن کرتی ہے اور کہیں سے بھی کوئی ایسی آواز اقلیتوں کی جانب سے نہیں اٹھائی گئی ہے کہ مسلم بچوں کو پینٹ شرٹ پہننے پر کیوں مجبور کیا گیا۔ یہ صحیح ہے کہ مدرسوں میں ہر جگہ کرتا پاجامہ ہی ڈریس کوڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ایسے میں پینٹ شرٹ کو مدرسوں میں جبرا نافذ کرنے کی کوشش کرنا اور اس کو مسئلہ بنانا کسی طرح بھی روا نہیں ہے۔ جس طرح مدرسوں  کو نصاب کی تشکیل میں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسکولوں میں رائج نصاب کی کتابوں  کے علاوہ دیگر کتابوں کو بھی شامل کریں اسی طرح یونیفارم کے معاملہ میں انہیں اب تک  جو اختیار حاصل رہا ہے اسے چھینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
مدارس میں ڈریس کوڈ کے نفاذ کے سلسلہ میں جو دلیل دی گئی ہے  کہ اس کا مقصد وہاں پڑھنے والے بچوں کو قومی دھارے میں لانا اور احساس کمتری سے نکالنا ہے، یہ بھی سراسر احمقانہ دلیل ہے۔ کرتا پاجامہ ہندوستان کا قدیم لباس رہا ہے۔ماضی میں برادران وطن کے درمیان کرتا اور دھوتی کا رواج رہا ہے جو اب کم ہوتا جا رہا ہے اور ان کے یہاں بھی ایک بڑی تعداد کرتا پاجامہ زیب تن کرتی ہے۔ مختلف تقریبات میں بڑے شوق اور ذوق سے وہ کرتا پاجامہ پہنتے ہیں۔ بلکہ ریشمی اور مٹکا کے کرتے تو ان کے یہاں ہی پہنے جاتے ہیں۔  ملک بھر میں خاص طور پر شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے تقریبا تمام بڑے لیڈران آج بھی اور ہر دور میں کرتا پاجامہ زیب تن کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ تمام لیڈران قومی دھارے سے الگ ہیں اور ان میں احساس کمتری پایا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں سب سے پہلے ایوانوں میں نفیس قسم کے کرتے پاجامے زیب تن کئے ہوئے ان لیڈران کو احساس کمتری سے نکالنے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خود یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ جو لباس پہنتے ہیں  وہ ایک مخصوص رنگ کا ہے  جس کی رنگت میں بظاہر  اتنی نفاست پائی  بھی نہیں جاتی ہے جیسا کہ مروجہ کرتا پاجاموں میں پائی جاتی ہے۔رنگ خواہ کوئی ہو وہ کرتا اور تہ بند ہی پہنتے ہیں۔ مدارس کے طلبہ کو پینٹ شرٹ پہنانے سے قبل وہ خود پینٹ شرٹ کیوں نہیں زیب تن کرلیتے۔ وہ  ہی  نہیں  ملک بھر میں سادھوؤں سنتوں کے درمیان پینٹ شرٹ رائج نہیں ہے۔ یوگی اور مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک بھر میں پھیلے سادھوؤں سنتوں کا ورکشاپ کراکر ان کی کونسلنگ کرائیں کہ وہ ان کپڑوں میں پسماندہ نظر آتے ہیں اور اس کے پیچھے ان کی پسماندہ ذہنیت کام کر رہی ہے۔ وہ اس احساس کمتری سے نکل کر قومی دھارے سے منسلک ہوں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو تب مدارس یا ملک کے کسی طبقہ  کو ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا حکم نامہ جاری کریں۔ اگر بفرض محال یہ ممکن بھی ہوجاتا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی ذہنیت رکھنے والے لوگ دشمنی میں ایسا کرنے بھی آمادہ ہوجائیں  اور اپنے مروجہ لباس کو چھوڑ کر پینٹ شرٹ پہن کر بابو بن جائیں تب بھی ہم اس بات کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے ہیں حکومت کی جانب سے آئینی اختیارات کو چھینا جائے اور اس کی جگہ ایک مخصوص قسم کا ڈریس کوڈ نافذ کیا جائے۔ کیونکہ اس سے ہمارے ملک کی روایت اور تکثیری ثقافت والی شناخت مجروح ہوگی وہیں شخصی آزادی بھی مجروح ہوگی اور ہم ان دونوں سے دست بردار ہونے کو کسی طرح تیار نہیں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لباس کے سلسلہ میں ہمارا قومی دھارا پینٹ شرٹ ہے؟ آخر اس ملک میں کیا صدیوں سے یہی پینٹ شرٹ رائج رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بھی شخص اس ملک میں پینٹ شرٹ کے رواج کو ڈیڑھ دو سو سال سے اوپر نہیں لے جائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں ہمارے بیشتر مجاہدین آزادی جو اس ملک کے تمام مذاہب اور ذات سے تعلق رکھنے والے تھے بیشتر کرتا پاجامہ اور شیروانی زیب تن کرتے تھے۔ اگر پینٹ شرٹ اس ملک کا قومی دھارا ہوتا تو ہمارے لیڈران اور مجاہدین آزادی بھلا کرتا پاجامہ اور شیروانی کیونکر زیب تن کرتے؟جنگ آزادی کے درمیان جس سودیشی کپڑے کی تحریک چلائی گئی تھی کیا اس سے مردوں کے لیے کرتے نہیں سلائے جاتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرکز اور یوپی میں برسر اقتدار حکومت جو آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے وہ ملک میں مسلمانوں کی دشمنی میں اتنی اندھی ہوگئی ہے کہ اس نے اس ملک کی روایتوں کو بھی مٹانے کی مہم چھیڑ دی ہے  جس کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کرتا جو ایک سودیشی لباس ہے وہ اس کو ختم کرکے  ملک ایک روایت کو مٹانا چاہتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے اس سلسلہ میں تمام مذاہب کے اور ذات کے لوگوں کو یوپی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہے۔ کیونکہ اس پر روک نہیں لگائی گئی تو اس ملک میں شخصی آزاد ی پوری طرح سے خطرہ میں پڑجائے گی اور پہننے کھانے، رہنے سہنے اور زندگی کے دیگر طریقے جن کا تعلق شخصی آزادی سے خطرہ میں پڑ جائے گی اور ہر چیز حکومت سے پوچھ کر کرنا ہوگا۔
ان سب سے اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی  جو ترقی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعروں کے ساتھ اقتدرا میں آئی تھی اب جبکہ اپنی پانچ سالہ میعاد کو پورا کرنے تک ملک میں ترقی لانے، سب کو ساتھ لے کر چلنے اور سب کا وکاس کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ۲۰۱۹ کے انتخاب کے لیے پولرائزیشن کے ایشوز عوام میں شدت سے اچھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہی ایجنڈوں میں سے ایک ایجنڈا مدرسوں کا یونیفارم کرتا پاجامہ نہیں پینٹ شرٹ ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس سیاسی ایشو کا مقابلہ ہم کس طرح کرتے ہیں۔
بی جے پی جس طرح نان ایشو کو ایشو بنارہی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ملک میں ترقی کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اب صرف طرز زندگی کے کچھ ایشوز باقی رہ گئے ہیں جن کے ختم ہوتے ہی ہمارا ملک ترقی یافتہ ہوجائے گا۔ حالانکہ دنیا کی ترقی جس رفتار سے جاری ہے اگر ہم اس کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا ملک ترقی میں مزید پیچھے ہوجائے گا۔
***