بہتر تعلیم کیلئے صرف خصوصی تربیت مسئلہ کا حل نہیں
جڑوں کو سوکھا رکھ کر شاخوں پر پانی چھڑکنے سے درخت شاداب
نہیں ہوں گے
میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم
ریاضی اور دیگر مضامین میں کمزور بچوں کو محکمہ کی جانب سے خصوصی تربیت دی جائے
گی۔ اس کی ذمہ داری حکومت نے بہار ایجوکیشن پراجیکٹ کونسل کو دی ہے۔ حکومت کو یہ
خیال اس لیے آیا ہے کہ وزیر اعلی کے مشیر اور چیف سکریٹری نے محکمہ تعلیم کے حکام
کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں یہ معاملہ سامنے آیا کہ سرکاری اسکولوں میں زیر
تعلیم درجہ اول تا درجہ پنجم کے طلبہ ریاضی کے عام سوالات بھی حل نہیں کرپاتے ہیں۔
حکومت
کی یہ سنجیدگی قابل ستائش ہے۔ اگر حکومت یہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقینا سماج کے لیے بڑا کام ہوگا۔ لیکن ماضی میں کی گئی اس طرح کی کوششوں کے مد نظر امکان یہ ہے کہ
حکومت کی یہ کوشش بھی ناکام ہوگی۔ کیونکہ
یہ جڑوں میں پانی دینے کی بجائے شاخوں پر پانی دینے کا عمل ہوگا جس سے درخت شاداب
نہیں ہوتے۔ اولا تو محکمہ کا یہ خیال کہ درجہ اول تا درجہ پنجم کے طلبہ ریاضی کے عام سوالات حل نہیں کرپاتے گرچہ صد فیصد درست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ درجہ ہشتم
تک ایسے طلبہ ہیں جو ریاضی ہی نہیں قومی و مادری زبان ہندی میں بھی اتنے کمزور
پائے جاتے ہیں کہ اس کا بیان انتہائی تکلیف دہ ہے۔ حکومت جو خصوصی تربیت کا انتظام
کرے گی اندازہ یہ ہے کہ اس کے لیے اساتذہ
کو یہ ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ اسکول میں بچوں کی چھٹی ہوجانے کے بعد ایک گھنٹہ
ایسے بچوں کو تربیت دیں۔ جو کاغذ پر تو ممکن ہے شاید عمل میں نہ آسکے۔ اگر یہ
اساتذہ اتنے ذمہ اور ایماندار ہوتے کہ وہ بچوں کی تعلیمی ترقی اور پیش رفت کے لیے
درجوں کے بعد انہیں ٹریننگ دینے کا اہتمام کریں تو خود کلاس میں ہی بچوں کو اتنی
تعلیم ضرور دیتے کہ بیشتر بچوں کی تشفی درجہ میں ہوجائے اور کچھ بچے جو پیدائشی
طور پر یا معاشی اور دیگر مسائل کے سبب کمزوریوں کے شکار ہیں محض ان کا مسئلہ رہ
جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو خصوصی تربیت کے ذریعہ درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں درجوں
میں بیشتر کمزور ہوتے ہیں اور چند ایک اچھے ہوتے ہیں۔ یہ بھی سچائی ہے کہ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کلاس
کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے اور اس کے چند اسباب بھی ہیں۔
اسکولوں
میں تعلیم کی بہتری کے لیے محکمہ کا پورا نظام موجود ہے لیکن جس طرح اساتذہ تعلیم
کے تئیں غیر سنجیدہ ہیں اس سے کہیں زیادہ محکمہ کا نظام غیر سنجیدہ ہے بلکہ یہ کہنا
بے جا نہ ہوگا کہ اساتذہ کو ذمہ دار ی سے راہ فرا ر اختیار کرنے میں محکمہ کی جانب
سے حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ محکمہ کی جانب سے اکثر اسکولوں میں سی آر سی سی،
بی آر پی ، بلاک ایجوکیشن افسر ، ضلع ایجوکیشن افسر اور ضلع پروگرام افسر کی جانب
سے معائنہ ہوتا رہتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معائنہ میں ایسے افسران درجہ میں نہیں
جاتے یا جاتے بھی ہیں تو محض بچوں کا سر گننے اور حاضری رجسٹر میں بنائی گئی حاضری
سے گنے ہوئے سر کا مقابلہ کرنے تاکہ سر شماری اور رجسٹر میں درج تعداد میں بڑا فرق
پائے جانے پر اسکول کے ہیڈ ماسٹر سے پیسے
کی وصولی کو جائز ٹھہرایا جاسکے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسکولوں کا معائنہ کرنے والے
ہر سطح کے افسران درجہ میں پہنچ کر بچوں سے سوال کرتے۔ آج ان کو کون سا سبق پڑھایا
گیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے جو کیلنڈر دستیاب کرایا گیا ہے اس کے مطابق پڑھائی ہوئی
ہے یا نہیں؟جو سبق پڑھایا گیا ہے اس کا حق ادا ہو سکا ہے یا نہیں؟ سبق اگر بہت پیچھے ہے تو اس کے اسباب کیا ہیں؟کون
کون سے مضامین پڑھائے گئے اور روزانہ پڑھائے جا رہے ہیں اور جن مضامین کی پڑھائی
نہیں ہو پارہی ہے اس کے اسباب کیا ہیں؟ کیا اساتذہ کی کمی سے ایسا ہو رہا ہے یا پھر اساتذہ اپنی ذمہ داری کے تئیں
لا پرواہ ہیںَ جن مضامین کی پڑھائی ہوچکی ہے اس میں بچوں کی معلومات کی سطح کیا
ہے؟ جن مضامین کے اساتذہ کی کمی ہے اس کا حل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ کو
رپورٹ دی جانی چاہے کہ اساتذہ کی کمی کے سبب تعلیم کا کیا نقصان ہو رہا ہے۔ حقیقت
یہ ہے کہ افسران کو ان سب سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
اسکولوں
میں ناقص تعلیمی نظام کی ایک بڑی وجہ
اساتذہ کی غیر معمولی کمی ہے۔ اکثر اسکولوں میں ضرورت کے مطابق اساتذہ موجود نہیں
ہیں۔ ایک ہی درجہ میں دو دو، تین تین سے پانچ پانچ کلاسوں کی تعلیم بھی دیکھنے کو
مل جائے گی اور اسکولوں کی ایسی تعداد بھی ہر ضلع میں قابل لحاظ ہے۔ جہاں ایسا ہے وہاں بچوں کی تعلیمی پیش رفت کیا
ہوگی اس کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا
ذمہ دار اساتذہ کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکولوں
کو ضرورت کے مطابق اساتذہ فراہم کرائے۔ اگر ایسے اسکولوں میں بچوں کی تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کلاس کا
اہتمام کر بھی دیا جائے تو اس کا نتیجہ صفر ہی ہوگا۔
حکومت
نے گزشتہ چند سالوں میں جو تقرری کی ہے اس میں درجہ ششم تا درجہ ہشتم میں اساتذہ
کی تقرری میں مضمون کی شرط رکھی گئی ہے۔
یہ بڑی حد تک اچھی بات ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے
تھا کہ ہر اسکول میں تمام مضامین کے اساتذہ کی لازمی طور پر تقرری ہوتی۔ بلکہ نظام تو ایسا
ہونا چاہیے تھا کہ ہر سال اسکولوں سے سکبدوش ہونے والے اساتذہ کے مقابلہ میں مضامین
کے مطابق تقرری ہر سال ایک روٹین کے مطابق ہوتی رہنی چاہیے تھی تاکہ طلبہ کا
تعلیمی نقصان نہ ہو۔ لیکن یہاں تقرری صرف ایک انتخابی ایجنڈہ ہے۔ تقرری کا اشتہار
جتنا ہوتا ہے تقرری اتنی نہیں ہوتی۔ ریلیف کے فنڈ کی طرح تقرری نامہ تقسیم کیا
جاتا ہے پھر برسوں حکومت اور عوام کسی جانب سے ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے۔ صرف
ملازمت پانے والے امید کی نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں۔ بڑی تعداد اسکولوں کی ایسی ہے جہاں تمام مضامین
میں اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ سماجی علوم کا استاذ ہے تو سائنس کا نہیں، ریاضی کا
استاد ہے تو سماجی علوم کا نہیں۔ اسکولوں میں انگریزی، ہندی، اردو اور سنسکرت سمیت
زبان کے اساتذہ کی بڑی کمی پائی جاتی ہے۔ حالت یہ ہوتی ہے کہ ایک استاذ کو بسا اوقات ایک
ساتھ کئی درجوں پر نگرانی رکھنی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے تعلیم متاثر ہوتی ہے۔ ان سب کاذمہ
دار اساتذہ کو تو بالکل ٹھہرایا نہیں جاسکتا ہے۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ
حکومت نے جان بوجھ کر عوام میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے سلسلہ میں گمراہی
پیدا کر کے ان کے خلاف بد ظنی پید ا کردی
ہے تاکہ عوام کی نظر اصل مسائل کی طرف نہیں جاسکے۔ عوام محکمہ کی جانب سے ملنے
والے چند پیسوں کے مالی مفاد( پوشاک، اسکالر شپ ، کتابوں اور انڈوں) میں کھوجاتے
ہیں اور اسکول انتظامیہ سے دست و گریباں رہتے ہیں۔ حالانکہ ان چیزوں کی دستیابی
میں تاخیر یا کمی کا ذمہ دار بھی محکمہ ہی ہوتا ہے لیکن عوام کی نظروں میں قصور
وار اساتذہ اور اسکول انتظامیہ ہوتی ہے۔اپنے کام کے تئیں اساتذہ کے والہانہ لگاؤ
میں کمی کی ایک وجہ وقت پر ماہانہ تنخواہ
کی عدم ادائیگی بھی ہے۔ گرچہ اس کی ذمہ دار حکومت ہے اور اس کے لیے بچوں کے ساتھ
نا انصافی کرنا ناروا ہے۔ اساتذہ کو اس سے
یقینا بچنا چاہیے۔ لیکن انسانی ضروریات کی تکمیل میں رکاوٹ پر یکسوئی پیدا ہونا
محال بھی ہے۔ اساتذہ کی یکسوئی میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ اساتذہ سے غیر تدریسی
کاموں کا لیا جانا ہے۔ درجہ اول تا درجہ ہشتم تک کے اسکولوں میں کوئی کلرک نہیں
ہوتا ہے۔ یہ سارے کام اساتذہ کو کرنے ہوتے ہیں۔ مڈ ڈے میل کے علاوہ روزانہ کی
مختلف طرح کی رپورٹوں کے علاوہ کھلے میں قضائے حاجت کرنے والوں کی تصویر کشی اور بیت
الخلا کی گنتی جیسے گھناؤنے عمل اور وقفہ وقفہ پر ملنے والی غیر تدریسی ذمہ داریاں
اس پر مستزاد ہیں۔
اسکولوں
میں بہتر تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی جانب سے بھی کچھ تعاون اساتذہ اور
اسکول انتظامیہ کو ملے۔ الیکشن میں عوام کے جو مطالبات ہوتے ہیں یا حکومت عوام کے
سامنے جو ایجنڈے پیش کرتی ہے اس میں بھی کبھی یہ شامل نہیں ہوتا کہ ہر اسکول میں
ضرورت کے مطابق اساتذہ فراہم کرائے جائیں ۔ یہ صرف روزگار کی فراہمی کا مسئلہ نہیں
ہے بلکہ بجلی، پانی، صحت اور سڑک جیسی بنیادی ضرورتوں کی طرح ایک ضرورت ہے کہ ان
کے بچوں کی تعلیم کے لیے بھرپور اساتذہ بھی فراہم کرائے جائیں اور ان سے تدریسی
کام لئے جائیں۔ حکومت اساتذہ کی ضروریات کا خیال رکھے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ درس
و تدریس میں منہمک ہوسکیں۔
اگر
حکومت کو اسکولوں میں بہتر نظام تعلیم کا ماحول فروغ دینا ہے تو اولا تو ضرورت کے
مطابق اساتذہ بحال کرنے ہوں گے۔ اساتذہ کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ان
کو غیر تدریسی کاموں سے فارغ رکھنا ہوگا۔ اس بات کو یقنیی بنانا ہوگا کہ نگرانی
اتھارٹی مالیات کی فراہمی کی بجائے تدریس کو یقینی بنائے۔ ورنہ یوں شاخوں پر پانی
چھڑکے جاتے رہیں اور جڑیں سوکھی کی سوکھی ہی رہیں گی۔
***