مشمولات

Friday, 5 September 2025

تبصرہ : روش روش نشتر

 

نام کتاب                   : روش روش نشتر

شاعر                       : مفتی آفتاب غازی

سن اشاعت              : ۲۰۲۴

صفحات                    : ۱۸۴

قیمت                       : ۳۵۰ روپے

ملنے کا پتہ                  : معہد الطیبات، منحر روڈ، کرم گنج، دربھنگہ

مبصر                        : احتشام الحق

قدیم علماء کے تعارف میں دینی و شرعی علوم میں مہارت کے ساتھ حکمت اور شاعری پر ملکہ کے اوصاف بھی بکثرت ملا کرتے تھے۔ دور حاضر میں حکمت یعنی طب کے شعبے میں جو ترقی اور تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اس کے سبب ایسی مثالیں دیکھنے کو کم ملتی ہیں۔ اب ان دونوں کو ساتھ لے کر چلنے میں دونوں کے نقصان کا خطرہ بھی ہے۔ شعر و شاعری پر درک کے ضمن میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔ لیکن چونکہ شاعری کا تعلق موزونی طبع اور احساس کے ساتھ بیان پر قدرت سے ہے۔ اس لیے کسی بھی شعبے کے ماہرین میں اس کا پیدا ہو جانا فطری ہے۔ لہذا اب بھی کئی معتبر علماء کے یہاں شاعری کے عناصر اور اس کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ اور بات کہ دیگر مشغولیات انہیں اس جانب توجہ دینے اور کلام کو طباعت کے مرحلے سے گزارنے کی مہلت نہیں دیتی۔ لیکن ان سب کے بیچ زیر نظر کتاب "روش روش نشتر" جیسی چیزیں نظر آجاتی ہیں جو مفتی آفتاب غازی کا مجموعہ کلا ہے۔

مفتی آفتاب غازی ایک ابھرتے ہوئے معروف عالم دین ہیں۔ دربھنگہ ان کا وطن  مالوف ہے اور اسی کو انہوں نے اپنا میدان عمل بنایا ہے۔ ان کا خاص میدان درس و تدریس ہے لیکن انہوں نے لڑکیوں کی دینی تعلیم اور خاص طور پر اسکول کالجوں میں میں پڑھنے والی طالبات کو دینی علوم سے بہرہ وَر کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور ایک مہم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ کام وہ نہ صرف دربھنگہ بلکہ ضلع کی مختلف بستیوں میں بھی اس کی شاخیں پھیلا رکھی ہیں۔ علمی دنیا میں بھی انہوں نے اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ فقہی مسائل پر ان کی کئی کتابیں منظرعام پر آ چکی ہیں۔خطابت کا بھی اچھا ملکہ ہے۔ شائستہ لہجے میں علمی گفتگو کرتے ہیں ۔

زیر نظر کتاب مفتی آفتاب غازی کا پہلا اور تازہ مجموعہ کلام ہے جس میں ان کے دور طالب علمی سے لے کر حال تک کے مشق سخن کا نتیجہ ہے۔ کلام کا آغاز انہوں نے دعا اور نعت سے کیا  ہے۔ اس میں ان کی نظمیں، ترانے، نغمات تہنیت اور غزلوں کے علاوہ قطعات، تضمین اور متفرق اشعار کو جگہ دی ہے۔ مشمولات میں تنوع سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر میں شعر کہنے کی فطری صلاحیت اور قدرت موجود ہے۔ اس کتاب کی پہلی نظم  ’’بھارت --- ماضی، حال اور مستقبل‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات کے نام!، آنکھ، دنیا، تاج محل، روداد دل، امتحان، بچے کا حوصلہ اور شجر کاری جیسی موضوعاتی نظمیں ۔ پہلی اور دیگر کئی نظموں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پختہ شاعر کی طرح روانی موجود ہے۔ پہلی نظم واضح طور پر ارتقائی صورت اختیار کرتے ہوئے انجام تک پہنچتی ہے۔ حالانکہ ایک مصرعہ میں بھارت کی زمین کو بنجر قرار دینا فکری طور سے قابل گرفت ہے۔ بنیادی طور پر شاعر نے ہندوستان کی ترقی کی بنیاد یہاں مسلمانوں کی آمد سے رکھا ہے ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسلم سلاطین نے ہندوستان کے حسن کو دوبالا کیا ہے لیکن بہر حال بھارت کی زمین ہزاروں برس سے زرخیز رہی ہے اور علمی سرمایہ سے مالا مال رہی ہے۔ اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم نظم خوبصورت ہے اور حال اور مستقبل کے منظر نامے کو پیش کرنے میں کامیاب ہے۔ آنکھ بھی ان کی خوبصورت نظم ہے۔ رودادِ دل میں انہوں نے عربی ماہ کے ناموں کو شعر میں کامیابی کے ساتھ برتا ہے۔نیا تاج محل بھی ایک مختصر اور خوبصورت نظم ہے۔ اس کے یہ چند اشعار دیکھے جاسکتے ہیں

عشق کا نقص ہے ، پیمانہ چھلک اٹھتا ہے

شعلۂ دردِ محت کو دبایا ہم نے

اس نے رسوا کیا الفت کو سر عام، مگر

حسن کو سرپھری نظروں سے بچایا ہم نے

غم کی بستی میں بنا کر کے حسین تاج محل

پردۂ صبر و تبسم میں چھپایا ہم نے

 

 

 چند شخصیاتی نظمیں بھی ہیں جن سے ان کے واردات قلبی کا اندازہ ہوتا ہے۔ شخصیاتی نظموں میں مفتی ظفیر الدین مفتاحی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا ریاض احمد موتیہاری، شہنواز بھائی کے نام اور مرثیہ جو ان کے جواں سال ماموں کی ناگہانی موت پر ہے۔ اس کتاب میں شامل ہیں۔

کلام کے مطالعہ کے بعد شاعر و ناقد ڈاکٹر عطا عابدی کی یہ رائے بجا لگتی ہے کہ مفتی آفتاب غازی کی نظمیں پیامیہ اور نشاطیہ افکار و اظہار سے مملو ہیں۔

No comments: