مشمولات

Friday, 5 September 2025

سرکاری اسکول اور ہمارے کرنے کے کچھ کام

 

احتشام الحق

سرکاری اسکول اور ہمارے کرنے کے کچھ کام

 

نیا تعلیمی سال شروع ہوچکا ہے۔ داخلوں کا عمل بھی تقریبا ختم ہوچکا ہے۔ البتہ سرکاری اسکولوں میں داخلہ کی کارروائی جاری ہے۔ گاؤں سے لے کر شہر تک سماج کے پریشان کن مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ان کے علاقہ میں ایک بہتر تعلیمی ادارہ کی کمی  ہے۔ ہر شخص اس بات کا خواہاں ہے کہ اس کے بچے کو معیاری تعلیم مل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر سے گاؤں تک میں پرائیویٹ اسکولوں کا بول بالا ہے۔ادھر آئے دن پرائیویٹ اسکولوں کی تعلیم مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیمی فیس سے زیادہ اس کے لوازمات مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ چونکہ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ تعلیم کی اہمیت سے ذرا بھی واقف کوئی شخص اس سے چشم پوشی نہیں کرسکتا ہے۔ اس لیے وہ  اپنی بساط سے اوپر اٹھ کر بچوں  کی تعلیم کا انتظام کر رہا ہے۔ تعلیم کے تئیں لوگوں کی یہ سنجیدگی بہر حال قابل تعریف ہے۔ حالانکہ قدم قدم پر جو پرائیویٹ اسکول کھلے ہوئے ہیں ،ان میں سے بڑی تعداد معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ کتابوں، پوشاک کی چمک دمک اور تام جھام سے دھوکہ دیا جا رہا ہےلیکن جو لوگ تعلیم اور اس کے تقاضوں سے واقف ہیں وہ خوب سمجھ رہے ہیں کہ پرائیویٹ اسکولوں کا یہ کھیل سرپرستوں کی جیب ڈھیلی ہونے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ ادارے اسکول کم اسٹیشنری ، کپڑوں اور چپل جوتوں کی دکان زیادہ  بن گئے ہیں۔

تعلیم کے نام پر لوگوں  کا یہ مسئلہ اس لیے ہے کہ ان کے خیال میں ان کے آس پاس ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جہاں وہ بچے کو معیاری تعلیم دلاسکیں۔ سرکاری اسکولوں کے تیئں لوگوں میں بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے۔ لوگوں کا احساس ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کا وقت ضائع ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ تربیت کے حوالے سے بھی منفی تاثر  ہے۔لوگوں کا یہ احساس بے جا بھی نہیں ہے۔ تلخ سچائی یہی ہے کہ سرکاری اسکولوں میں ورک کلچر نہیں ہے۔ لیکن  یہ ناقابل تبدیل مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  سرکاری اسکولوں کی یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ تعلیم یافتہ اور بیدار لوگوں نے سرکاری اسکولوں سے اپنے بچوں کو دور  کر دیا ہے اور اچھے لوگ سرکاری اسکول کی  انتظامیہ سے باز پرس اور ان کی مناسب مدد  نہیں کر رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی  کہ ماضی قریب میں سرکاری اسکولوں میں وسائل کا بہت فقدان تھا۔ اساتذہ کی بے حد کمی تھی۔ دیگر وسائل بھی نہیں تھے۔ماضی میں کچھ بحالی کے طریقہ کار کے سبب چند اساتذہ کی وجہ سے لوگوں کا اعتبار بھی کم ہوا۔ لیکن  یہ کہنا  غلط نہیں ہوگا  اس کو ایک مستقل اور ناقابل درست مسئلہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔

حکومت نے ۲۰۱۳ اور اس کے بعد سے  تقرری کا جو طریقہ اپنایا ہے وہ یقینا عمدہ ہے۔ گزشتہ  دو تین برسوں میں بہتر انتخاب کے ساتھ ہونے والی تقرری کے بعد اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ بڑی حد تک دور ہوگیا ہے۔ اچھے اساتذہ کی ٹیم موجود ہے۔ محکمہ نے سرکاری اسکولوں کو دیگر لازمی وسائل سے بھی لیس کرنے کی کوشش کی ہے۔کتابیں بھی وقت پر دستیاب کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  گرچہ اب بھی کئی اسکول  ایسے ہیں جہاں عمارت کی کمی ہے لیکن بیشتر اسکولوں میں اتنے کمرے موجود  ہیں جس میں ہر درجہ الگ الگ  چل سکے۔ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ جاتی کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔ اس کے باوجود اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اب بھی سرکاری اسکولوں میں وہ ورک کلچر پیدا نہیں ہوسکا ہے جو معیاری تعلیم کے لیے ضروری ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ سماج خود بیدار نہ ہو۔  محکمہ جاتی سطح پر عام لوگوں اور سرپرستوں کو جوڑنے کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ملازمین کی اپنی فطرت ہوتی ہے اور لوگوں کی یہ کوشش  ہوتی ہے کہ جتنی کم محنت سے اس کا کام چل سکے وہ  چلا چلے۔ چنانچہ اسکول انتظامیہ بھی سماج  کو اسکول کے ساتھ فعال کرنے میں رو گردانی کر رہا ہے۔ ایسے میں ہمارا جو تعلیم یافتہ اور بیدار طبقہ ہے وہ اگر چاہے تو کچھ ضروری اقدام کر کے اپنے علاقہ میں بہتر تعلیمی نظام والا ادارہ بناسکتا ہے۔ کئی جگہوں پر مقامی سطح پر لوگ اس طرح  کی کوششیں کرتے  بھی رہتے  ہیں کہ ان کے علاقہ میں تعلیم کا ایسا نظم ہوجائے  جس سے   کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ سکے۔ ایسے لوگوں کو اس جانب ضرور پیش رفت کرنی چاہیے۔

ہمارے کرنے کے کچھ  کام:

مڈل سطح تک کے ہر اسکول میں ایک شکشا سمیتی ہوتی ہے جس کا کام تعلیم اور اسکول کے مجموعی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ جس وارڈ میں اسکول واقع ہے اس کا وارڈ ممبر اس کا صدر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سکریٹری ، ہیڈ ماسٹر، سینئر ٹیچر اور دیگر اراکین پر مشتمل تقریبا گیارہ رکنی کمیٹی ہوتی ہے۔ ممبران کا اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ ہر ماہ میں کم از کم ایک میٹنگ ہونی چاہیے جو خانہ پری کی نذر ہو جاتی ہے۔ اسکول انتظامیہ اپنی سہولت اور آرام کے مد نظر کمیٹی میں ایسے افراد کا انتخاب کرلیتے ہیں جن سے ان کے کام میں رخنہ پیدا نہ ہو۔ یہ بھی صحیح ہے کہ ہر سماج میں ایسے کچھ افراد ہیں جو سنجیدگی کے ساتھ  حالات کو سازگار اور بہتر بنانے کی بجائے تخریبی امور پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور وقتی ہنگامہ آرائی کر کے اپنا چہرہ چمکانے کا کام کرتے ہیں۔

 سوسائٹی کے سرکردہ افراد یہ کرسکتے ہیں اس شکشا سمیتی کو فعال بنائیں اور ایسے افراد کو شامل کریں جو تعلیم کو بہتر بنانے میں اسکول انتظامیہ کی مدد کرسکیں۔تخریبی مزاج والے افراد کو رخنہ پیدا کرنے سے روک سکیں۔  ہوتا یہ ہے کہ کمیٹی میں بعض افراد اپنا وقتی مفاد تلاش کرلیتے ہیں اور تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتے ہیں۔ اگر اچھے ممبران ہوں گے تو ہر ماہ  میٹنگ کو یقینی بنائیں گے اور تعلیم کے مسائل پر غور کرتے ہوئے ان  خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے جس سے تعلیم بہتر ہوسکے۔جہاں اسکول یا  دفتر کی سطح پر کمی یا خامی ہے تو اس کو دور کرنے میں اسکول انتظامیہ کی مدد کریں گے۔  

پڑھے لکھے ممبران ہوں گے تو یومیہ روٹین پر عمل کراسکیں گے جو تدریس کے لیے سب سے لازمی چیز ہے۔ روٹین پر عمل نہ کرنے والے اساتذہ سے بھی باز پرس کرسکیں گے۔ اچھا روٹین اور اس پر سختی سے عمل در آمد بہتر تدریس کے لیے سب سے لازمی امر ہے۔ اس کو یقینی بنا کر تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

محکمہ جاتی ہدایت کے مطابق ہر ماہ کے آخری سنیچر کو سرپرستوں کی میٹنگ ہونی ہے۔ سرپرستوں کی  عدم توجہی کی وجہ سے اکثر اسکولوں میں اس پر بھی عمل نہیں ہوتا ہے۔ ۔ والدین عام طور پر  بچوں کی تعلیمی پیش رفت جاننے کی بجائے  وہ اسکول یہ معلوم کرنے جاتے ہیں کہ ان کو پوشاک اور وظیفہ کی رقم نہیں ملی ہے۔ظاہر ہے سرپرستوں کو جس چیز  کی تلاش ہے اسکول انتظامیہ وہ اس کو دینے کی کوشش کرے گا ۔

سرپرستوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کی روزانہ کی تعلیمی سرگرمی پر نظر رکھیں۔ ہوم ورک چیک کریں۔ اگر انہیں لگاتار ہوم ورک نہیں مل رہا ہے تو اسکول انتظامیہ سے ملاقات کریں اور سنجیدگی کے ساتھ ان سے شکایت کریں اور پھر اگلے دنوں میں بھی اس پر  مسلسل نظر رکھیں۔  بار بار اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور گارجین سے مل کر بچے کی کمی کو جاننے کی کوشش کریں  تاکہ اساتذہ میں جوابدہی کا احساس پیدا ہوسکے۔ شام میں پڑھتے وقت بچوں کو مائیں بطور خاص وقت دیں۔ اگر سرپرستوں کے لیے  تعلیم اہم ہوجائے گی تو اسکول انتظامیہ تعلیم دینے کے لیے مجبور ہوگا۔ لیکن ایسا  انفرادی عمل سے ممکن نہیں ہے۔ہر ایک سرپرست  کو اس کے لیے بیدار ہونا ہوگا۔ اگر سرپرستوں کی سطح سے مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو شکشا سمیتی اس پر غور کرے گی اور اساتذہ کو مجبور کرے گی کہ وہ اسکول میں تعلیمی کلچر بنائیں۔ کئی جگہوں پر مقامی اساتذہ کی وجہ سے بھی اسکول میں ورک کلچر نہیں بن پاتا ہے۔ ایماندار اور فعال شکشا سمیتی اس مسئلہ کو حل کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔

عام طور پر کمیٹیاں مڈ ڈے میل  اور اساتذہ کی بروقت حاضری کے مسائل میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔یہ چیزیں بھی ضروری ہیں لیکن ہماری ترجیح میں اول مقام نہیں رکھتی ہیں۔  پہلا مرحلہ ہر کمیٹی کا درس و تدریس ہونا چاہیے۔ اگر درس و تدریس کا عمل یقینی بن گیا  تو مڈ ڈے میل اور اساتذہ کے بروقت اسکول پہنچنے  کا مسئلہ بھی از خود  حل ہوجائے گا۔ کوتاہ اور بے ایمان ہیڈ ماسٹر بھی راہ راست پر آجائیں گے۔

 کئی  اسکول کے  ہیڈ ماسٹر چاہتے ہیں کہ تعلیمی ماحول پیدا ہو لیکن اساتذہ کی جانب سے مناسب تعاون نہیں ہوپاتا ہے۔ ایسے میں سرپرستوں اور کمیٹی کے اراکین کی بیداری اساتذہ کو پڑھانے پر مجبور کرے گی۔

کئی اسکولوں میں جہاں عمارت اور دیگر انفرا اسٹرکچر کی کمی ہے، وہاں کے لوگ اگر چاہتے ہیں کہ ان کے یہاں اچھا تعلیمی ادارہ ہو تو وہ مقامی سطح پر مستقل عمارت نہ سہی تو ایسی عمارت کا انتظام کرسکتے ہیں جس میں بچے دھوپ، ٹھنڈی اور بارش سے بچ کر تعلیم حاصل کرسکیں۔

اسی طرح پوشاک کا مسئلہ بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں سرپرست اس بات کا اہتمام نہیں کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صاف ستھرا اسکول ڈریس پہنا کر، نہلا دھلا کر صفائی کے ساتھ اسکول بھیجیں۔ سرکردہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرپرست – ٹیچر میٹنگ میں شرکت  کرتے ہوئے والدین کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کو روزانہ  نہلا دھلا کر اسکول بھیجیں، صاف ستھرا اسکول ڈریس پہنائیں۔ ممکن ہو تو جوتا موزہ اور ٹائی وغیرہ بھی پہنائیں۔ ان چیزوں میں بہت خرچ بھی نہیں ہے۔ اگر اس طرح کے کچھ ضروری کام کر لئے جائیں تو ہر گاؤں اور علاقہ میں ایک بہتر تعلیمی ادارہ ہوسکتا ہے۔ لیکن لوگوں کا مقصد وقتی ہنگامہ آرائی نہ ہو  بلکہ اس کو مسلسل عمل سمجھیں۔

***


احتشام الحق

سرکاری اسکول اور ہمارے کرنے کے کچھ کام

 

نئے تعلیمی سیشن میں اسکولوں میں  داخلوں کا عمل جاری ہے۔ گاؤں سے لے کر شہر تک سماج کے پریشان کن مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ان کے علاقہ میں ایک بہتر تعلیمی ادارہ کی کمی  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر سے گاؤں تک میں پرائیویٹ اسکولوں کا بول بالا ہے۔ادھر آئے دن پرائیویٹ اسکولوں کی تعلیم مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیمی فیس سے زیادہ اس کے لوازمات مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔چونکہ یہ ایسی ضرورت ہے جس کو ٹالا نہیں جاسکتا ہے اس لیے ہر شخص اپنی بساط سے بڑھ کر بچوں کی تعلیم کا انتظام کر رہا ہے۔ حالانکہ قدم قدم پر جو پرائیویٹ اسکول ہیں ان میں بیشتر معیاری تعلیم دینے میں ناکام ہیں۔ لیکن کوئی دوسرا چارہ نظر نہیں آتا اس لیے اسکول والے اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سرکاری اسکولوں کے تیئں لوگوں میں بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے۔ تربیت کے حوالے سے بھی منفی تاثر  ہے۔لوگوں کا یہ احساس بے جا بھی نہیں ہے۔ لیکن  یہ ناقابل تبدیل مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  سرکاری اسکولوں کی یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ تعلیم یافتہ اور بیدار لوگوں نے سرکاری اسکولوں سے اپنے بچوں کو دور  کر دیا ہے اور اچھے لوگ سرکاری اسکول کی  انتظامیہ سے باز پرس اور ان کی مناسب مدد  نہیں کر رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی  کہ ماضی قریب میں سرکاری اسکولوں میں وسائل کا بہت فقدان تھا۔ اساتذہ کی بے حد کمی تھی۔ دیگر وسائل بھی نہیں تھے۔ماضی میں کچھ بحالی کے طریقہ کار کے سبب چند اساتذہ کی وجہ سے لوگوں کا اعتبار بھی کم ہوا۔ لیکن  یہ کہنا  غلط نہیں ہوگا  اس کو ایک مستقل اور ناقابل درست مسئلہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔

حکومت نے ۲۰۱۳ اور اس کے بعد سے  تقرری کا جو طریقہ اپنایا ہے وہ یقینا عمدہ ہے۔ گزشتہ  دو تین برسوں میں بہتر انتخاب کے ساتھ ہونے والی تقرری کے بعد اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ بڑی حد تک دور ہوگیا ہے۔ محکمہ نے سرکاری اسکولوں کو دیگر لازمی وسائل سے بھی لیس کرنے کی کوشش کی ہے۔کتابیں بھی وقت پر دستیاب کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  گرچہ اب بھی کئی اسکول  ایسے ہیں جہاں عمارت کی کمی ہے لیکن بیشتر اسکولوں میں اتنے کمرے موجود  ہیں جس میں ہر درجہ الگ الگ  چل سکے۔ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ جاتی کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔ اس کے باوجود اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اب بھی سرکاری اسکولوں میں وہ ورک کلچر پیدا نہیں ہوسکا ہے جو معیاری تعلیم کے لیے ضروری ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ سماج خود بیدار نہ ہو۔  محکمہ جاتی سطح پر عام لوگوں اور سرپرستوں کو جوڑنے کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ملازمین کی اپنی فطرت ہوتی ہے اور لوگوں کی یہ کوشش  ہوتی ہے کہ جتنی کم محنت سے اس کا کام چل سکے وہ  چلا چلے۔ چنانچہ اسکول انتظامیہ بھی سماج  کو اسکول کے ساتھ فعال کرنے میں رو گردانی کر رہا ہے۔ ایسے میں ہمارا جو تعلیم یافتہ اور بیدار طبقہ ہے وہ اگر چاہے تو کچھ ضروری اقدام کر کے اپنے علاقہ میں بہتر تعلیمی نظام والا ادارہ بناسکتا ہے۔

ہمارے کرنے کے کچھ  کام:

مڈل سطح تک کے ہر اسکول میں ایک شکشا سمیتی ہوتی ہے جس کا کام تعلیم اور اسکول کے مجموعی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ ہر ماہ اس کی  کم از کم ایک میٹنگ ہونی چاہیے جو خانہ پری کی نذر ہو جاتی ہے۔ اسکول انتظامیہ اپنی سہولت اور آرام کے مد نظر کمیٹی میں ایسے افراد کا انتخاب کرلیتے ہیں جن سے ان کے کام میں رخنہ پیدا نہ ہو۔سماج کے بعض تخریبی مزاج افراد رخنہ پیدا بھی کرتے ہیں۔  سوسائٹی کے سرکردہ افراد یہ کرسکتے ہیں اس شکشا سمیتی کو فعال بنائیں اور ایسے افراد کو شامل کریں جو تعلیم کو بہتر بنانے میں اسکول انتظامیہ کی مدد کرسکیں۔تخریبی مزاج والے افراد کو رخنہ پیدا کرنے سے روک سکیں۔  ہوتا یہ ہے کہ کمیٹی میں بعض افراد اپنا وقتی مفاد تلاش کرلیتے ہیں اور تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتے ہیں۔ اگر اچھے ممبران ہوں گے تو ہر ماہ  میٹنگ کو یقینی بنائیں گے اور تعلیم کے مسائل پر غور کرتے ہوئے ان  خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے جس سے تعلیم بہتر ہوسکے۔جہاں اسکول یا  دفتر کی سطح پر کمی یا خامی ہے تو اس کو دور کرنے میں اسکول انتظامیہ کی مدد کریں گے۔ 

پڑھے لکھے ممبران ہوں گے تو یومیہ روٹین پر عمل کراسکیں گے جو تدریس کے لیے سب سے لازمی چیز ہے۔ روٹین پر عمل نہ کرنے والے اساتذہ سے بھی باز پرس کرسکیں گے۔ اچھا روٹین اور اس پر سختی سے عمل در آمد بہتر تدریس کے لیے سب سے لازمی امر ہے۔ اس کو یقینی بنا کر تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

محکمہ جاتی ہدایت کے مطابق ہر ماہ کے آخری سنیچر کو سرپرستوں کی میٹنگ ہونی ہے۔ سرپرستوں کی  عدم توجہی کی وجہ سے اکثر اسکولوں میں اس پر بھی عمل نہیں ہوتا ہے۔ والدین عام طور پر  بچوں کی تعلیمی پیش رفت جاننے کی بجائے  وہ اسکول یہ معلوم کرنے جاتے ہیں کہ ان کو پوشاک اور وظیفہ کی رقم نہیں ملی ہے۔

سرپرستوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کی روزانہ کی تعلیمی سرگرمی پر نظر رکھیں۔ ہوم ورک چیک کریں۔ اگر انہیں لگاتار ہوم ورک نہیں مل رہا ہے تو اسکول انتظامیہ سے ملاقات کریں اور سنجیدگی کے ساتھ ان سے شکایت کریں اور پھر اگلے دنوں میں بھی اس پر  مسلسل نظر رکھیں۔  بار بار اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور گارجین سے مل کر بچے کی کمی کو جاننے کی کوشش کریں  تاکہ اساتذہ میں جوابدہی کا احساس پیدا ہوسکے۔ شام میں پڑھتے وقت بچوں کو مائیں بطور خاص وقت دیں۔ اگر سرپرستوں کے لیے  تعلیم اہم ہوجائے گی تو اسکول انتظامیہ تعلیم دینے کے لیے مجبور ہوگا۔ لیکن ایسا  انفرادی عمل سے ممکن نہیں ہے۔ہر ایک سرپرست  کو اس کے لیے بیدار ہونا ہوگا۔ اگر سرپرستوں کی سطح سے مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو شکشا سمیتی اس پر غور کرے گی اور اساتذہ کو مجبور کرے گی کہ وہ اسکول میں تعلیمی کلچر بنائیں۔ کئی جگہوں پر مقامی اساتذہ کی وجہ سے بھی اسکول میں ورک کلچر نہیں بن پاتا ہے۔ ایماندار اور فعال شکشا سمیتی اس مسئلہ کو حل کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔

عام طور پر کمیٹیاں مڈ ڈے میل  اور اساتذہ کی بروقت حاضری کے مسائل میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔یہ چیزیں بھی ضروری ہیں لیکن ہماری ترجیح میں اول مقام نہیں رکھتی ہیں۔  پہلا مرحلہ ہر کمیٹی کا درس و تدریس ہونا چاہیے۔ اگر درس و تدریس کا عمل یقینی بن گیا  تو مڈ ڈے میل اور اساتذہ کے بروقت اسکول پہنچنے  کا مسئلہ بھی از خود  حل ہوجائے گا۔ کوتاہ اور بے ایمان ہیڈ ماسٹر بھی راہ راست پر آجائیں گے۔

 کئی  اسکول کے  ہیڈ ماسٹر چاہتے ہیں کہ تعلیمی ماحول پیدا ہو لیکن اساتذہ کی جانب سے مناسب تعاون نہیں ہوپاتا ہے۔ ایسے میں سرپرستوں اور کمیٹی کے اراکین کی بیداری اساتذہ کو پڑھانے پر مجبور کرے گی۔

کئی اسکولوں میں جہاں عمارت اور دیگر انفرا اسٹرکچر کی کمی ہے، وہاں کے لوگ اگر چاہتے ہیں کہ ان کے یہاں اچھا تعلیمی ادارہ ہو تو وہ مقامی سطح پر مستقل عمارت نہ سہی تو ایسی عمارت کا انتظام کرسکتے ہیں جس میں بچے دھوپ، ٹھنڈی اور بارش سے بچ کر تعلیم حاصل کرسکیں۔

اسی طرح پوشاک کا مسئلہ بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں سرپرست اس بات کا اہتمام نہیں کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صاف ستھرا اسکول ڈریس پہنا کر، نہلا دھلا کر صفائی کے ساتھ اسکول بھیجیں۔ سرکردہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرپرست – ٹیچر میٹنگ میں شرکت  کرتے ہوئے والدین کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کو روزانہ  نہلا دھلا کر اسکول بھیجیں، صاف ستھرا اسکول ڈریس پہنائیں۔ ممکن ہو تو جوتا موزہ اور ٹائی وغیرہ بھی پہنائیں۔ ان چیزوں میں بہت خرچ بھی نہیں ہے۔ اگر اس طرح کے کچھ ضروری کام کر لئے جائیں تو ہر گاؤں اور علاقہ میں ایک بہتر تعلیمی ادارہ ہوسکتا ہے۔ لیکن لوگوں کا مقصد وقتی ہنگامہ آرائی نہ ہو  بلکہ اس کو مسلسل عمل سمجھیں۔

***

No comments: