ریڈیو
پروگرام رنگ سخن
(ریڈیو
اسکرپٹ)
اردو
کی کہانی اردو کی زبانی
(تمثیلی
کہانی)
براڈکاسٹ : ۰۸ اکتوبر ۲۰۲۶
زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں
ہوتی۔وہ
اپنے اندر صدیوں
کی تہذیب، تاریخ، محبت، دکھ، خواب، تجربے اور انسانوں کی آوازیں سمیٹے ہوتی
ہے۔ہندوستان کی سرزمین نے ایسی ہی ایک زبان کو جنم دیا...جس نے مختلف تہذیبوں، قوموں اور علاقوں سے مل کر ایک شناخت
قائم کی اور اردو کہلائی۔
میں اردو ہوں !
آپ میری کہانی
سننا چاہتے ہیں؟
بات ۵۰۰ ق م کی ہے۔
ہندوستان میں سنسکرت علم و ادب کی ایک توانا زبان تھی ۔ عوام مختلف پراکرتوں اور علاقائی
بولیوں میں گفتگو کر رہے تھے۔
وقت گزرتا گیا۔
پراکرتیں بدلتی رہیں۔ ان سے اپ بھرنش کی مختلف صورتیں پیدا ہوئیں... اور پھر ہندوستان
کے مختلف خطوں میں نئی نئی بولیاں جنم لینے لگیں ۔
میں ابھی دور تھی... مگر میری بنیادیں تیار ہو رہی تھیں۔
صدیاں گزریں۔
تاجر آئے، صوفی آئے، علما آئے، شاعر آئے۔اور اُن کے ساتھ
مختلف زبانیں بھی آئیں۔اُن سب سے میرا
لین دین جاری رہا۔
اس سفر میں میری
ملاقات عربی وفارسی سے ہوئی۔
میں نے اُن سے بہت کچھ سیکھالیکن میں نے اپنی شناخت نہیں
چھوڑی۔
میں نے اُن سے چیزوں کے نام لئے ، آوازیں لیں مگر انہیں
ہندوستانی لہجے اور ہندوستانی مزاج میں ڈھال دیا کہ یہی تو میری فطرت ہے۔
اس باہمی میل جول نے ایک ایسے لسانی ماحول کو جنم دیا جس
میں ہندوی، دہلوی، دکنی، ریختہ اور بالآخر اردو کی مختلف صورتیں سامنے آئیں۔ اس داستان میں ایک نام بار بار روشن
ہوتا ہے۔
امیر خسرو
ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب سے بے پناہ محبت
کرنے والے عظیم شاعر۔
امیر خسرو کا نام آتے ہی ان کا یہ مشہور کلام زبان پرچڑھ جاتا ہے۔
زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں
کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں
شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ
سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری
رتیاں
سنا آپ نے؟
ایک ہی کلام میں فارسی کی نزاکت بھی ہے... اور ہندوستانی بولی کی مٹھاس بھی۔ یہی وہ تہذیبی میل جول
تھا جس میں میری آنے والی شخصیت کے رنگ تیار ہو رہے تھے۔
صوفیا کی خانقاہوں، عوامی میل جول اور مختلف علاقوں کی
بولیوں نے اس لسانی روایت کو وسعت دی۔ خواجہ معین الدین چشتی کی صوفی روایت ہو یا
پنجاب میں بابا فرید اور نانک کی انسانی مساوات کی آواز... زبان عوام
کے قریب ہوتی گئی۔
میں دربار سے زیادہ دلوں میں جگہ بنانا چاہتی تھی اور
میں اس میں کامیاب رہی۔
وقت گزرا۔
میں شمال سے اب جنوب کی طرف سفر کرنے لگی اور ایک دن دکن
پہنچ گئی۔
دکن نے مجھے بہت محبت دی۔ یہاں میں نے نئی ادبی دنیا
دیکھی۔ فخر دین نظامی نے مجھے کدم راؤ پدم راؤ کا تحفہ دیا ۔
یہاں مجھے قلی قطب شاہ جیسے عوامی شاعر نے سنبھالا دیا۔
مقامی زبان اور مقامی تہذیب کو شاعری کا اٹوٹ حصہ بنایا اور میں پوری طرح مقامی
رنگ میں رنگ گئی۔
پیا
باج پیالا پیا جائے نا
پیا
باج یک تل جیا جائے نا
دکن نے مجھے ادبی زبان بنانے میں بڑا حصہ لیا۔ اور پھر
ایک شاعر دکن سے شمال کی طرف روانہ ہوا۔
ولی دکنی دلی پہنچے اور اپنے ساتھ اپنا دیوان بھی لیتے
آئے۔
مفلسی سب بہار کھوتی ہے
مرد کا اعتبار کھوتی ہے
جسے عشق کا تیر کاری لگے
اسے زندگی کیوں نہ بھاری لگے
دلی کے شعرا نے دیکھا کہ جس زبان کو وہ اپنے گرد و پیش
میں بولتے ہیں، اس میں بڑے شعری مضامین بھی بیان کیے جا سکتے ہیں۔
دلی میں میرا یہ
رنگ خوب چوکھا ہوا اور اردو شاعری نے غیر
معمولی عروج حاصل کیا۔
سودا آئے — انہوں نے اردو غزل کو وسعت دی اور قصیدہ و ہجو کو ایسی
قوت اور بلند آہنگی عطا کی کہ اردو شاعری کا دائرہ وسیع ہوگیا۔
میر آئے — انہوں نے اردو غزل کو دل کی دھڑکن، انسانی دکھ اور داخلی
کرب کی ایسی زبان دی کہ انہیں بجا طور پر خدائے سخن کہا گیا۔
ذوق آئے — انہوں نے زبان کی صفائی، محاورے کی برجستگی اور شعری
نزاکت سے اردو غزل کو دہلی کی شستہ زبان کا وقار بخشا۔
مومن آئے — انہوں نے عشق، جذبات اور نازک خیالی کو ایسی دلکش زبان
دی کہ اردو غزل میں رومان اور نزاکت کا ایک منفرد رنگ پیدا ہوا۔
غالب آئے — انہوں نے اردو شاعری کو فلسفیانہ فکر، تخیل کی بلندی اور
نئی معنوی جہتیں دیں۔ان کے خطوط نے اردو
نثر کو ایک نئی بے تکلفی عطا کی۔ میں ان کے خطوط میں کتاب سے نکل کر انسان کے
سامنے بیٹھ جاتی ہوں۔ ہنستی ہوں۔شکوہ کرتی
ہوں۔ طنز کرتی ہوں۔ ٹھہاکے لگاتی ہوں اور
بلا جھجک دل کی بات کہتی ہوں۔
پھر حالات بدلے . میں نے ایک نئے شہر کا رخ کیا۔ میں پہنچی لکھنؤ
لکھنو نے مجھے ایک نئی تہذیب دی۔ یہاں میرے لہجے میں
نزاکت آئی۔ محفلیں سجیں۔ مشاعرے ہوئے۔مرثیہ اپنی بلندی تک پہنچا۔
میر انیس اور مرزا دبیر نے مرثیے کو ایسی بلندی دی کہ وہ
اردو ادب کی ایک عظیم صنف بن گیا۔
آتش، ناسخ اور دوسرے شعرا نے غزل کے میدان میں اپنے رنگ
دکھائے۔ میں دلی کی اداسی سے نکل کر لکھنو کی تہذیبی شائستگی میں داخل ہوگئی۔
مگر
میرا سفر جاری رہا۔ اب میں رام پور کی طرف بڑھ گئی۔ یہاں مجھے ریاست کی سرپرستی ملی،
کتب خانوں ، شعرا اور ادبا نے مجھے بہت عزت دی۔ میری ادبی روایت
نے ایک اور ٹھکانہ حاصل کیا۔
میری زندگی کا ایک
نیا باب دہلی کالج بھی تھا۔
دہلی کالج میں مجھے ماسٹر رام چندر کی استاذی ملی اور اب
میں شعر و شاعری کے قید سے آزاد ہوچکی تھی۔
میں سائنس ، ریاضی، فلسفہ اور جدید علوم کو نثر میں ڈھالنے لگی۔میں صرف عشق
کی زبان نہیں رہی ۔ میں علم کی زبان بھی بن گئی۔
اسی بیچ سرسید نے میری انگلی تھام لی اور
سائنٹفک سوسائٹی میں میرا داخلہ کرا دیا۔
سرسید نے مجھے نئے موضوعات دئیے۔ سائنس... تاریخ... سماج... تعلیم...اور جدید فکر۔علمی کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ اسی دور میں حالی نے مجھے تنقید
کی ایک مضبوط بنیاد عطا کی۔
میں نے جان گلکرسٹ کی سرپرستی میں فورٹ ولیم کالج میں اپنا دامن مزید وسیع کیا ۔ میر امن دہلوی، نہال
چند لاہوری، للو لال جی، مرزا علی لطف اور رائے بینی نارائن جیسے مصنفین نے میرے رنگ کو مزید نکھارا۔
میرے
اندر ایک طاقت آچکی تھی اب میں نے ایک نئی دنیا میں
قدم رکھا۔ ۱۸۲۲ء میں ہری ہر دت نے منشی سدا سکھ لال کی ادارت میں
کلکتے سے پہلا اردو اخبار جام جہاں نما شائع کیا۔
۱۸۵۷ء میں ہندوستان میں سیاسی اور سماجی طوفان برپا تھا۔ میرے
اخبارات خاموش نہیں رہے۔ حالات کی خبریں
دیں۔ عوام کے جذبات کو آواز دی۔ اہل قلم کو مشکلات پیش آئیں مگر میری آواز کو مکمل
طور پر خاموش نہیں کیا جا سکا۔
ملک
میں آزادی کی امنگیں بڑھیں تو شعرا نے مجھے خوب گلے لگایا ۔ وطن کی محبت میں نغمے اور ترانے گائے ۔
میرے دامن میں چکبست،
فراق گورکھپوری، پریم چند ،کرشن
چندر، راجندر سنگھ بیدی اور دیا شنکر نسیم نے جگہ لی ۔
پریم چند نے میرے لفظوں کو کسان کی جھونپڑی تک پہنچایا۔ غریب
کی زندگی...عورت کا دکھ...جاگیرداری...استحصال...انسانی محرومی... سب میرے افسانوں اور ناولوں میں آنے لگے۔
اب میں صرف شاعر کی محبوبہ نہیں تھی۔میں ناول لکھ رہی
تھی۔ افسانے کہہ رہی تھی۔کہانی بُن رہی تھی اور ڈرامے کھیل رہی تھی۔
ڈپٹی
نظیر احمد، رتن ناتھ سرشار، مرزا ہادی رسوا، عبدالحلیم شرر، اُپندر ناتھ اشک،
سعادت حسن منٹو، خواجہ احمد عباس، سجاد ظہیر، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر اور بے شمار افسانہ نگاروں اور ناول نگاروں نے اردو
فکشن کو نئی دنیا عطا کی۔
’’امراؤ جان ادا‘‘ ... ’’آگ کا دریا‘‘ .... ’’ٹیڑھی
لکیر‘‘ .... ’’ادا نسلیں‘‘ ..... جیسی تخلیقات نے جگہ پائی۔
جامعہ
عثمانیہ حیدر آباد اور اس کے دار الترجمہ نے مجھے طب اور انجینئرنگ جیسی اعلی
تعلیم کے لیے تیار کیا۔
آج میں ہندوستان
سے نکل کر برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، خلیجی
ممالک، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور دنیا کے مختلف حصوں میں بولی، پڑھی اور لکھی
جاتی ہوں۔
میں صرف گھروں میں نہیں بولی جاتی بلکہ یونیورسٹیوں
میں پڑھائی جاتی ہوں۔ اخبارات اور کتابوں
میں پڑھی جاتی ہوں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر ہوتی ہوں۔ فلموں میں گانے گاتی ہوں
اور موسیقی میں تھرکتی ہوں۔
اب... انٹرنیٹ
اور سوشل میڈیا پر بھی میں کسی سے پیچھے
نہیں ہوں۔
میرے لفظ اب کاغذ پر ہی نہیں آتے۔ اسکرین پر بھی آتے
ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں اپنی جگہ بنا چکی ہوں۔
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
No comments:
Post a Comment