علمائے سلفیہ کی فہرست سازی ۲۰۲۴ اور جھوٹا دعوی
دار
العلوم احمدیہ سلفیہ ، دربھنگہ بہار شمالی
بہار کا عظیم ادارہ ہے جس نے نہ صرف شمالی بہار بلکہ بہار، بنگال ، نیپال سے لے کر
ریاست دوسرے صوبہ جات میں بھی تعلیم کی
شمع کو روشن کیا ہے۔ ملک کے مختلف خطوں سے دار العلوم کے قیام کے بعد سے طلبہ آتے
رہے اور یہاں سے کسب فیض کیا۔ مدارس کے نظام کی کچھ کمزوریاں ہیں جس کی وجہ سے ہر
سال ملک کے بھر کے مدارس میں جتنے بچوں کا
داخلہ ہوتا ہے انتہائی درجوں تک پہنچنے
والے طلبہ کی تعداد بہت کم ہوجاتی ہے۔ ا س کا اثر دار العلوم میں بھی رہا ہے۔ جس تعداد
بچوں نے یہاں داخلہ لیا ہے فارغین کی تعداد اس کے مقابلہ میں بہت کم ہے۔ اس کے
باوجود یہ تعداد فراغت سال اول سے لے کر اب تک ہزار کو پہنچ رہی ہے۔
۱۹۵۵ء
میں پہلی مرتبہ دار العلوم سے شائع ہونے
والے رسالے مجلہ سلفیہ نے دار العلوم نمبر کی اشاعت کی تو اس میں فارغین دار
العلوم کی ایک فہرست بھی شائع کی جو ایک دستاویزی حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے بعد ایک
طویل عرصہ تک یہ فہرست کتابی شکل میں شائع نہیں ہوئی۔ البتہ دار العلوم کے زیر
اہتمام جو جلسہ مذاکرہ علمیہ کا انعقاد کیا جاتا ہے اس میں طلبہ کی جانب سے نمائش کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس نمائش میں
فارغین کے نام کو دیوار پر چسپاں کرنے کی روایت رہی ہے۔ اس طرح یہ تسلسل برقرار رہا۔ ۱۹۹۷ میں جمعیت ابنائے سلفیہ کا اجلاس ہوا
تو جمعیت نے اس کی کوشش کی مستند طور پر تمام ناموں کی فہرست سازی کی جائے اور اس
کو کتابی شکل میں شائع کیا جائے اور اس میں وہ کامیاب رہے۔
۲۰۱۶
میں جب جلسہ مذاکرہ علمیہ کا انعقاد ہو رہا تھا تو دار العلوم کے ناظم ڈاکٹر سید
عبد العزیز سلفی نے راقم الحروف (احتشام الحق) کو ذمہ داری دی کہ دار العلوم کی
تاریخی جھلکیوں میں کتابی شکل میں لایا جائے۔ ہر چند کہ میں اس کا متحمل نہیں تھا
لیکن میں نے طفلانہ کوشش کی اور اس میں مجھے
کسی حد تک کامیابی ملی اور بہت سی چیزیں جو مختلف کاغذات میں بکھرے تھے ان کو یکجا
کر دیا گیا اور جلسہ میں اس کا اجرا بھی عمل میں آیا۔ بڑی تعداد میں سلفی علما اور
دار العلوم سے محبت رکھنے والے لوگوں نے اس کے نسخے حاصل کئے اور کہا جاسکتا ہے کہ
اللہ کے فضل سے یہ کتاب مقبول عام رہی ۔
گزشتہ
دن ۱۱؍ اکتوبر ۲۰۲۶ کو میری نظر علمائے سلفیہ کی ایک فہرست پر پڑی جو ۲۰۲۴ تک کے
فارغین علما پر مشتمل ہے۔ مجھے خوشی ہوئی۔ میں نے ایک نظر اس
کے تمہید پر ڈالی تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ اس میں ایک دعوی کیا گیا تھا کہ ۱۹۵۵ کے بعد
سے دوبارہ کوئی فہرست شائع نہیں کی گئی۔ تمہید میں درج ہے:
’’علمائے
سلفیہ کی ایک فہرست دار العلوم کے آرگن ’’ہفت روزہ جریدہ الہدی‘‘ اپریل و مئی
۱۹۵۵ میں شائع کی گئی تھی۔ اس میں (۱۳۴۵ھ)
فراغت کا پہلا اور مبارک سال سے لے کر ۱۳۷۴ تک کے فارغین کا ذکر مع مختصر تعارف درج تھا۔ اس کے بعد سے اب تک فہرست دوبارہ شائع نہ کی
جاسکی۔ ضرورت شدید متقاضی تھی کہ جملہ فارغین
کی فہرست شائع کی جائے۔ چونکہ دار العلوم
نمبر مطبوعہ ۱۹۵۵ء کے نسخے شاید ہی
کچھ احباب و اخوان کے پاس اچھی شکل میں
موجود ہوں اس لیے زیر نظر فہرست میں از ابتدا تا حال جملہ فارغین کی اجمالی فہرست سن فراغت کی ترتیب کے لحاظ سے جمعیت ابنائے سلفیہ کی یک روزہ دعوتی و اصلاحی عظیم کانفرنس منعقدہ ۱۷
نومبر ۲۰۲۴ کے موقع پر شائع کی جا رہی ہے۔ ‘‘
حیرت
ہے کہ جس نے یہ فہرست ترتیب دی ان کی نظر سے یہ باتیں نہ گزریں کہ ابھی ۲۰۱۶ میں جو کتاب شائع ہوئی ہے ۔ اس میں ۱۹۹۷ کی فہرست کو شامل کرتے ہوئے ۲۰۱۶
تک کی فہرست سازی کی گئی ہے۔
اچھا
یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ان تک یہ کتاب نہیں گزری کیونکہ اس تمہید کی تحریر میں دار العلوم احمدیہ سلفیہ : صد سالہ
مد و جزر سے استفادہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ فہرست میں ایک پیرایہ میں صاحب تمہید رقم
کرتے ہیں:
’’تحدیث نعمت کے
طور پر یہ بات کہنے میں کوئی باک نہیں کہ دار العلوم نے بفضلہ تعالی ایسے ایسے لعل
وگہر پیدا کئے ہیں جن پر جماعت اہل حدیث اور مسلمانان ہند کو ناز ہے۔ ہندوستان اور
نیپال کی بیشتر درس گاہوں، علمی وتحقیقی اور دعوتی مراکز کے علاوہ بیرون ہند بھی
اس کے فارغین پھیلے ہوئے ہیں اور کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کی
علمی تابندگی سے شرک وبدعت اور کفر وضلالت کی تاریکیاں چھٹیں، قال اللہ وقال
الرسول کے ترنم سے فضا گونجی،، تحریک اہل حدیث کو نئی زندگی ملی اور سلفی منہج
وفکر کو فروغ حاصل ہوا۔ فللہ الحمد۔ ‘‘
یہی
پیرا گراف دار العلوم احمدیہ سلفیہ میں بھی درج ہے ۔ صرف ایک جگہ حرج کو باک سے
تبدیل کیا گیا ہے۔
میں اس کو دیکھنے کے بعد اس نتیجے
پر پہنچا کہ یہ ذاتی پرخاش کا نتیجہ ہے۔ اولا تو اس فہرست میں ۱۹۹۷ کی فہرست کو
نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ دار العلوم احمدیہ سلفیہ : صد سالہ مد و جزر
میں جمعیت کے شکریہ کے ساتھ اس کو شامل
کیا گیا۔ لیکن ایسا خیال ہے کہ ۱۹۹۷ کی جو فہرست ہے معلوم اطلاع کے مطابق اس کو
دار العلوم کے اس وقت کے استاذ مولانا اشفاق سلفی نے ترتیب دی تھی اور بڑی محنت سے
ترتیب دی تھی ۔ چونکہ اس فہرست کی تیاری جس شخصیت کے زیر نگرانی ہوئی
ہے ان کا تعلق اسی گاؤں سے جس سے مولانا اشفاق سلفی صاحب کا ہے تو ممکن ہے کہ میں
اس میں کوئی ذاتی عناد کار فرما ہو۔
اختلاف
انسانی فطرت کا حصہ ہے۔ ہزارہا علمی کاموں کے اپنے اصول ہیں۔ جو لوگ علمی کام کرتے
ہیں وہ اس بات خیال رکھتے ہیں کہ اگر کسی سے استفادہ کیا جائے تو ان کا حوالہ پیش
کیا جائے جو اس فہرست کی تیاری میں سامنے
نہیں رہ سکی۔ افسوس صد افسوس۔
No comments:
Post a Comment