مشمولات

Tuesday, 24 July 2012

نام نہاد دہشت گردی مخالف آپریشن اصلی دہشت گردوں کا جنم دے سکتا ہے


نام نہاد دہشت گردی مخالف آپریشن اصلی دہشت گردوں کو جنم دے سکتا ہے

                                                                                                           
دربھنگہ اور مدھوبنی سے پے در پے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے ملک کے مختلف صوبوں کی خفیہ ایجنسیاں برادران وطن تو برادران وطن خود اس سماج کے ذہنوں میں، جہاں سے یہ گرفتار کئے گئے ہیں،یہ نقش بٹھانے میں کامیاب ہوگئی ہیں کہ یہ علاقے دہشت گردی کا اڈہ بن رہے تھے اور ان علاقوں میں نہ جانے کتنے امن وامان اور انسانیت کے دشمن پل رہے تھے۔ صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ان نوجوانوں کے ان متعلقین کو بھی ان کے سایہ سے خوف محسوس ہونے لگا ہے جن کی صبح وشام ان کے ساتھ گزرتی تھی اوروہ اس کی حرکات وسکنات سے پوری طرح واقف ہیں۔ جنہیں ان کی صحبت میں کبھی خوف تو کیا کسی طرح کا شبہ بھی نہیں ہوا تھا۔یہ وہ نوجوان تھے جو گولیاں اور بم کیا جانیں کبھی پٹاخے بھی نہیں پھوڑے ہوں گے۔ حتی کہ خود مسلمانوں کی ایک جماعت بھی محسوس کرنے لگی ہے کہ اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ صداقت ضرور ہے۔ حالانکہ یہ ایجنسیاں جو کھیل کھیل رہی ہیں اس میںوہ خود بھی ایسی غلطاں وپیچاں ہیں کہ انہیں نہ چپ رہتے بنتا ہے نہ کچھ کرتے بنتا ہے۔ڈیڑھ درجن سے زائد گرفتاری اور آٹھ سے نو ماہ کے گزرجانے کے بعد بھی اب تک یہ کسی ملزم کے خلاف کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کرسکی اور اسی جھوٹی سچی گواہیوں کے پیش کرنے کے چکر میں ملزم قتیل صدیقی کو حراست کے دوران موت کی بھینٹ چڑھادیا گیااور اگر اب کسی کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوسکا تو خفیہ ایجنسیاں مقتول صدیقی کو اذیت دے کر اتنے سادہ کاغذات پر دستخط لے چکی ہوںگی کہ سارے معاملات کے سلسلہ میں انہی کاغذات پراقبال جرم کا ثبوت پیش کردیں گی۔ گواہیوں کے جمع کرنے میں یہ ایجنسیاں اتنی باولا ہوگئی ہیں کہ پکڑے گئے نوجوانوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ شریف شہریوں کو ہراساں کررہی ہیں۔ ہر وہ شخص جو ان پکڑے گئے لوگوں سے سماج میں رہنے کی وجہ سے ؛رشتہ داریوں کی وجہ سے ؛ایک جگہ کام کاج کرنے کی وجہ سے یا کسی کے ہاں ملازمت کرنے کی وجہ سے؛ کوئی تعلق رکھتا ہے اس سے تفتیش کے نام پر الٹے سیدھے سوال کررہی ہیں کہ کسی طرح پکڑے گئے بے قصور ناکردہ گناہوں کے دام میں آجائیں اور ان ایجنسیوں کا کام بن جائے۔ کیونکہ عدالت نے انہیں اس سے قبل بھی ان کے ایسے اوچھے کرتوتوں پر کھڑی کھوٹی سنائی ہے۔ جب اسی طرح سے ملک کے دوسرے علاقوں سے کبھی بم دھماکوں کے الزام میں کبھی کسی سازش کے الزام میں صرف ایک کمیونٹی کے لوگ پکڑے گئے۔ انہیں طرح طرح سے اذیت دے کر اقبال جرم کرایا گیا اور عدالت میںنہ صرف ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا جاسکا بلکہ کچھ انجانے چہرے ،جو دیش بھکت ہونے کی شہادتیں لیے ہوئے تھے ،سامنے آئے اور ان کا جرم واضح طور پر عدالت کے سامنے آیا۔لیکن یہ اتنی بے حیا ہوچکی ہیں اور جو مقاصد ان کے پیش نظر ہیں کہ ان پرملک کی عدالت عظمی تک کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ ان کی نظر میں مقاصد کے بالمقابل اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں رہ گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے آئین کی وہ جس طرح چاہیں دھجیاں اڑا سکتے ہیں کیونکہ ان پر ملک ایک ایسی تنظیم کا دست شفقت ہے جو دہشت گردانہ پس منظر رکھنے کے باوجود حکومت میں اپنا وزن رکھتی ہے اور سیکولر کہلانے والی کانگریس جیسی پارٹی بھی کہیں نہ کہیں ان سے خوف کھاتی ہے اس لیے ایسے فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے افسران پر لگام کسنے کی جرأت نہیں رکھتی ۔ یہ افسران سوامی اسیمانند، پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت اور یوگی آدتیہ ناتھ جیسے دہشت گردوںکے منظور نظر ہی نہیں بلکہ ان کی معنوی اولادیں ہیں اور جب ہندوستانی وزارت خارجہ کے ملہم اسرائیل اور امریکہ کی خاموش نظریں ان کی حمایت میں ہوں تو پھر کسی خوف کا کیا سوال ہے اور ان کے سامنے ہندوستانی آئین اور عدالت کی اہمیت کیا ہے؟
صورت حال یہ ہے کہ پکڑے گئے لوگوں کو بار بار ریمانڈ پر رکھنے کے باوجود یہ ایجنسیاں کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پاتی ہیں اور کوئی صریح الزام بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا ہے تو تھک کر دوسری ایجنسی کو مستعار دے دیتی ہے اور پھر وہ ایجنسی وہ ساری کارروائیاں کرتی ہیں جو اس سے پہلے والی ایجنسی کرچکی ہوتی ہے۔ نئے سرے سے اس پر اذیت کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور اس کے گھر والوں کو نئے سرے سے عدالتی کارروائیاں کرنی پڑتی ہیں ۔ بہت سے لوگ تو اقتصادی طور پر اتنے مستحکم بھی نہیں ہوتے کہ ہر صوبہ میں جاجاکر عدالتی کارروائیاں کرسکیں اور لاکھوں روپے اس کی صفائی پیش کرنے پر خرچ کرسکیں۔ افسوس اور تعجب کی بات یہ ہے کہ نو ماہ گزرجانے کے باوجود اب تک بیشتر پر چارج شیٹ بھی نہیں داخل کی جاسکی ہے اور کچھ پر الٹے سیدھے اور بغیر کسی ثبوت کے ملک کے تمام بلائنڈ کیسوں میں ان کو ملوث بتا کر چار چار پانچ پانچ ہزار صفحات میں چارج شیٹ داخل کردی گئی ہے اور اب بے چارے ان کے سرپرست حضرات کیس کھلنے کے انتظار میں تاریخوں کا انتظار کررہے ہیں اور جب کیس کھلے گا تو گواہیوں کی پیشی کا سلسلہ شروع ہوگا۔ کئی کئی تاریخوں پر کوئی گواہی پیش نہیں ہوسکے گی ۔ پھر اگلی تاریخیں ملتی رہیں گی اور بے قصوروں کا مستقبل تاریک ہوتا رہے گا۔ کچھ کو ابھی تک تفتیش کے نام پر طرح طرح سے مشق ستم بنایا جارہا اور ثبوت نہیں ملنے پر اس ایجنسی سے اس ایجنسی تبادلہ کا سلسلہ جاری ہے۔
چنانچہ ۶ مئی کودربھنگہ کے باڑھ سمیلا سے صبح کے وقت نیند کی حالت میں اپنے گھر سے اٹھائے گئے نوجوان کفیل اختر کو کرناٹک پولیس گرفتار کرکے دربھنگہ میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بجائے رانچی لے گئی اور وہاں کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیااور وہاں سے کرناٹک لے گئی۔ وہاں تقریبا ۲ ماہ تک تفتیشی کارروائی کرنے کے بعد جب کوئی ثبوت ہاتھ نہ لگا تو دہلی کے کرائم برانچ کے ہاتھ بیچ دیا اور پھر دہلی پولیس نے شروع کیا ہے اذیت کا نیا سلسلہ اور تفتیشی کارروائیاں۔ اسے دربھنگہ اور دوسری جگہوں پر جہاں سے اس کا کسی وجہ سے بھی تعلق رہا ہے لے لے جاکر اس جگہ کے لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے جس سے پورے علاقے میں خوف کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ چنانچہ ۶۱ جولائی کو اسے پھر دربھنگہ لائی اور اسے ان جگہوں پر لے گئی جہاں سے اس کا ملازمت کا تعلق رہا ہے یا جہاں وہ رہتا تھا۔ اس کے بعد ان جگہوں کے لوگوں سے الٹے سیدھے سوال کرکے ذہنی اذیت تو دیا ہی انہیں مستقل تذبذب میں رکھنے کا سامان بھی پیدا کیا۔ چنانچہ ان لوگوں کو چند تصویریں دکھائیں ،جن میں کچھ ان لوگوں کی تھیں جو اسی علاقے سے پکڑے گئے ہیں اور اسی علاقے میں رہتے تھے اور انہیں پہنچاننے کو کہا گیا ۔ظاہر ہے جو اس علاقے کے ہیں انہیں تو کوئی بھی پہچانے گا۔ اس پہچان کی ان سے تصدیق کرائی گئی ۔ آخر اس تصدیق کا کیا مطلب ہے؟ کیا کوئی اپنے آس پاس کے لوگوں کو پہچاننے سے بھی انکار کردے؟ کیا صرف کسی کو پہچاننا دہشت گردوں سے ربط ضبط رکھنے کی علامت ہے؟ کیا سوامی اسیمانند ، پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت کو ان کے علاقے کے لوگ نہیں جانتے تھے؟ کیا ان کے جاننے والوں سے تفتیش کی گئی کہ کیا تم ان کو جانتے ہو اور اگر جانتے ہو تم اس کی تصدیق کرو؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایجنسیاں ایسے مسلمانوں کو تذبذب کا شکار بناکر انہیں ذہنی اذیت میں رکھنا چاہتی ہیں۔ ساتھ ہی ان کے ارد گرد پھنسانے کے لیے جال بن رہی ہیں۔ مختلف جگہوں پر پکڑے گئے لوگوں کی گردش در اصل عوام کے درمیان ان کے خلاف منفی سوچ پیدا کرنے اور برادران وطن کو مسلمانوں کے خلاف برگشتہ کرنے اور ان کے خلاف ذہن سازی کرنے کی کھلی سازش ہے۔ نیز عوام میں یہ تاثر دیا جارہا کہ معاملات کو عدالت کے سامنے پیش کرنے میں تاخیر کی وجہ تفتیشی کارروائی ہے۔ حالانکہ یہ اپنے کئے ہوئے اعمال کو سچ کرنے کاپھیر ہے۔
جب کسی ملزم کو کسی جگہ لے جایا جاتا ہے تو ہندی میڈیا جلے پر تیل ڈالنے کا کام کرتی ہیں اور جو چاہتی ہیں بیان دیتی ہیں۔ ان سے برادران وطن میں نفرت کا ماحول تو پیدا ہوتا ہی ہے مسلم سماج بھی انہی بیانوں پر یقین رکھتا چلا جاتا ہے ۔ جب بھی کوئی مسلمان پکڑا جاتا ہے ہندی میڈیا عجیب رائے قائم کرتی ہیں اور طر ح طرح کی قیاس آرائیوں سے کام لے کر ماحول کو کشیدہ بناتی ہیں۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہونے کی اتنی مدت گزرجانے کے باوجود اب تک وہ خفیہ ایجنسیوں سے یہ سوال قائم نہیں کرسکیںکہ آخر ایک علاقے میں اتنا بڑا نیٹ ورک کیسے تیار ہوا اور جب تیار ہورہا تھا تو خفیہ ایجنسیاں کہاں تھیں؟ ایک نام یعنی یٰسین بھٹکل جو اصل ملزم کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسی نے یہ پورا نیٹ ورک تیار کیا ہے،وہ ان کی گرفت سے ابھی تک کیوں باہر ہے؟ اس کے بارے ایجنسیوں کا دعوی ہے کہ وہ مہینوں اور سالوں تک ان علاقوں میں رہا ہے ،اس مدت تک یہ ایجنسیاں کہاں تھیں؟ انہیں دہشت گردانہ تانے بانے بنے جانے اور یٰسین بھٹکل، جس پر اس سے قبل اعظم گڑھ میںبھی ایسی کاررائیوں کا الزام رہا ہے ، کی موجودگی کا علم آخر کیوں نہیں ہوسکا؟ ایجنسیوں کی مجرمانہ خاموشی کے پیچھے کوئی خاص راز تو نہیں ہے؟ ایسی خبریں بھی ملی ہیں کہ ان معاملوں میں کچھ غیر مسلم بھی گرفتار ہوئے ہیں۔ اگر یہ خبر صحیح ہے تو شبہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ بھی دیش بھکت کہلانے والی تنظیموں کی سازش تو نہیں جس طرح مالیگاؤں، مکہ مسجد وغیرہ دھماکوں میں سازش رچی گئی اور برق بے چارے مسلمانوں پر گرتی رہی۔ ہندی میڈیا نے ایسی خبروں کو اہمیت کیوں نہیں دی؟ اسی لیے نا کہ اس سے ان کی پالیسی فاش ہوتی ہے۔ ہندی میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ بیانوں پر یقین رکھنے کا نتیجہ ہے کہ پوری مسلمان قوم میں احساس جرم پیدا ہورہا ہے۔
اگر اس رویہ پر لگا م نہیں لگائی گئی تو پوری قوم جس طرح سے احساس جرم میں جی رہی ہے اس میں اضافہ ہوگا۔ ملک کی فرقہ پرست ذہنیت اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گی۔ در اصل ان کا مقصد ہی یہ ہے کہ مسلمان اپنے اسلامی تشخص کھوکر رفتہ رفتہ ہندو تہذیب میں ڈھل جائے۔ کسی پوری قوم کا احساس جرم اس کی آنے والی نسلوں کے قدم لڑ کھڑانے میں معاون ہوگا۔ اس کے سد باب کے لیے پوری قوم کو تیاری کرنی ہوگی اور حکومتی سرپرستی میں خفیہ ایجنسیوں کے اس رویہ کو لگام لگانے کے لیے آگے آنا ہوگا۔
قتیل صدیقی کے قتل اور بڑھتی ہوئی گرفتاری کے درمیان اچانک دیکھا گیا کہ دانشوران کی کئی جماعتوںکی مختلف جگہوں پر نشست وبرخواست ہوئی اور طرح طرح کے ارادے بنائے گئے۔ اخبارات کے پردوں پر ان کے نام کی تختیاں لگیں اورپھر لگا کہ ان کا بھی کام بن گیا اور ان کے سارے ارادے خاموش بستے میں رکھ دئے گئے۔ دربھنگہ شہر میں ایک تحریک بھی مسلم بیداری کارواں کے نام سے اٹھی۔ پھر اس تحریک کے ہی چند افراد پر حکومت کا نظر کرم ہوا اور انہوں نے تحریک میں پھوٹ ڈال کر پہلے تو اس کو غصب کیا اورپھر چند سطحی باتوں کی طرف اس کا رخ پھیر کر خواب خرگوش کی نیند سوگئے۔ ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے ان تنظیموں کا جو مذہب اور فرقہ سے اوپر اٹھ کر انسانی حقوق کی بازیافت اور ظلم کے خلاف لڑائی لڑرہی ہیں۔ ایسی تنظیموں میں مسلمانوں سے زیادہ انصاف پسند برادران وطن ہیں۔ موت وحیات کے معین وقت اور تکلیف وآرا م کے مقدر ہونے پر یقین رکھنے والی مسلمان قوم خود نہیں اٹھ سکتی تو ان جیالوں کے ساتھ ہی تو چلیں۔ ان ہی کے شانے کو مضبوط بنائیں۔
اس بے کسی کے وقت میں چپی سادھنے والوں اور حکومت کے الطاف وعنایات کی طمع رکھنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام وہ مذہب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لیا ہے۔ اسلام تو نہیں مٹے گا لیکن ہم اور ہماری نسلیں معدوم ہوجائیں گی اوراللہ تعالی اپنے لیے دوسری قوم پیدا کرلے گا جو اس کی قوم کی حفاظت کرے گی۔ اگر آپ کو واقعی لگتا ہے کہ پکڑے گئے لوگ مجرم ہیں تو اٹھئے اور ان کے خلاف تحریک چلائیے اور اسلام کے تصور کو عام کرتے ہوئے کہیے کہ یہ ان کا اپنا عمل تھا ۔ اسلام کی سوچ اور اسلام کا تصور یہ نہیں ہے لیکن پوری قوم کو بھنور میںپھنسا دیکھنا کسی طرح بھی دانشمندی نہیں ہے۔ یہ خاموشی احساس جرم کو فروغ دے گی جس سے آنے والی نسلوں کے قدم لڑکھڑا جائیں گے اور وہ اپنا تشخص کھونے میں ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں کریں گی اور اگر یہ پکڑے گئے لوگ مجرم نہیں ہیں اور ہم نے ان کی بروقت مدد نہیں کی، حکومتی سرپرستی میں خفیہ ایجنسیوں کی دہشت گردی کو نہیں روکا، بے قصور پکڑے گئے لوگوں کی رہائی جان توڑ جد وجہد نہیں کی تو اس کا انجام ملک وقوم کو دونوں کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ ان کی اولادیں قوم ، ملک اور حکومتوں کے خلاف دشمنانہ ذہنیت کے ساتھ پرورش پائیں گی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان میں بڑی تعداد میں دہشت گرد پیدا ہوں گے جن کو روکنے میں بہت دیر لگے گی۔ کیا یہ بات کسی سے پوشیدہ ہے کہ ملک کی دوسری تشدد پسند تنظیمیں مستقل استحصال اور ظلم کے نتیجہ میں ہی وجود پذیر ہوئی ہیں اور ترقی کی ہےں۔ یہ کوئی بہتر راہ نہیں ہوگی لیکن انقلابات تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ مستقل ظلم کا رد عمل تشدد کی شکل میں راہ پاتا ہے۔اگ اس رویہ پر روک نہیں لگی تو نام نہاد دہشت گردی پر قابو پایا جائے یا نہیں لیکن مستقل دہشت گردی ضرور جنم لے گی جس کا علاج ناممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہوگا۔ اس لیے حالات اور اسباب پر غور کرتے ہوئے مناسب قدم اٹھایا جاناانتہائی ضروری ہے۔

Friday, 22 June 2012

قتیل سے اکفل تک : یہ چوہے بلی کا کھیل کیوں ہے؟

قتیل سے اکفل تک : یہ چوہے بلی کا کھیل کیوں ہے؟

تقریباً ۸ ماہ سے ملک کے مختلف صوبوں کی خفیہ ایجنسیاں دربھنگہ اور مدھو بنی پر اس طرح ٹوٹ پڑی ہیں جیسے خوان نعمت بچھی ہو اور جہاں سے چاہیں وہ اپنی مرغوب غذائیں چن لیں۔ اس مدت میں درجن بھر سے زائد مسلمان پکڑے گئے ہیں۔ خفیہ ایجنسیوں نے گرفتاری کا جو طریقہ اختیار کیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اپنے دعووں میں خود مشتبہ ہیں یا سرے سے جھوٹے ہیں۔ کیونکہ واضح اور سچے دعووں کے لیے اس چوہے بلی کا کھیل کھیلنے کی ضرورت نہیں ہے جو وہ کھیل رہے ہیں۔ چنانچہ گرفتاریوں کے لیے آئینی طریقہ کار کی دھجی اڑا دی گئی اور کوئی ان سے یہ پوچھنے والا نہیں رہا کہ آخر وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ یا پھروہ اس کا اشارہ دے رہے کہ مسلمانوں کو پکڑنے کے لیے وہ کسی بھی قانون، ضابطہ اور اخلاق کو با لائے طاق رکھ سکتے ہیں۔ انہیں اس کے لیے پوری آزادی ہے۔ حالانکہ انہوں نے اس مدت میں جو بھی گرفتاریاں کی ہیں ان میں قانونی طریقہ کار کو اختیار کرتے ہوئے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ کیونکہ تقریباً سارے کے سارے گرفتار شدگان ایک عام اور ملک کے مہذب شہری کی طرح سماج میں گھل مل کر اور ایک دوسرے کے ساتھ دکھ درد میں شریک رہنے والے تھے نہ ہی ان میں سے کوئی مجرمانہ پس منظر رکھتا تھا بلکہ ان کے گھرانوں میں بھی اس طرح کی کوئی خبر اب تک نہیں ملی ہے۔اب تک اس طرح کی کوئی خبر نہیں ملی ہے کہ ان میں سے کسی کے پڑوسی اور ساتھ میں رہنے والے لوگ ان کے وجود سے دہشت زدہ ہوئے ہوں یا خوف کھاتے رہے ہوں۔ تقریباً کسی کے خلاف بھی مقامی تھانوں یا مقامی عدلیہ میں کسی طرح کا کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ سارے کے سارے اپنے اپنے جائے عمل یا اپنے گھروں میں عام لوگوں کے طرح کھلے عام رہتے تھے۔لیکن گرفتاری کے طریقہ سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے یہ انتہائی خطرناک اور پرانے مجرم ہیں۔ 

اس سلسلہ میں سب سے پہلی گرفتاری مقتول قتیل احمد صدیقی کی تھی۔ قتیل دربھنگہ کے باڑھ سمیلہ گاؤں کے غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والا ایک چھوٹی سی کنسٹرکشن کمپنی کا ادنی ملازم تھا۔ اسے دلی کے اسپیشل بر انچ کے تین چار افراد نے جب وہ اپنے بچے کو اسپتال لے جا رہا تھا رکشا سے اتار لیا اور چار دن بعد ایف آئی آر کے ذریعہ معلوم ہوسکا کہ اغوا نہیں دہشت گردی کے الزام میں اس کی گرفتاری ہوئی ہے۔ اس سے قبل اس پر کوئی وارنٹ بھی جاری نہیں تھا۔نہ ہی اس کے خلاف مقامی طور پر کبھی کا کوئی مقدمہ تھا۔ اس کے بعد اسی گاؤں کا گوہر عزیز خمینی گرفتار ہوا۔ یہ ایک انجنیئر ہے جو چھوٹی سی کنسٹرکشن کمپنی کا مالک ہے۔ اس کے خلاف بھی ماضی میں کسی مجرمانہ کام کی کوئی شہادت موجود نہیں ہے اور سماج میں ہمیشہ صاف ستھری شبیہ کا مالک سمجھا جاتا رہا ہے۔ پھر مدھو بنی کے سکری گاؤں کا باشندہ غیور جمالی اپنے گھر سے دلی کے اسپیشل برانچ کے ذریعہ گرفتار ہوا۔ غیور ایک مدرسہ کا طالب علم تھا۔ اس کے والد اپنے گاؤں میں ایک ہومیوپیتھی ڈسپنسری چلا کر اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں۔ اس کے خلاف بھی ماضی میں کوئی مجرمانہ واقعہ کا کوئی مقدمہ نہیں رہا ہے۔ جس وقت اس کو گرفتار کیا گیا وہ اپنے گھر میں تھا۔ گرفتاری سے تھوڑی دیر قبل کسی طرح یہ معلوم ہو گیا تھا کہ پولس اسے ڈھونڈ رہی ہے اس کے باوجود وہ اپنے گھر میں تھا اور آواز دینے پر وہ بلا جھجک سامنے آگیا۔ ان تینوں کی گرفتاری کے کچھ دنوں بعد پولس انہیں ان کے گھر لائی اور کچھ دیر کے لیے انہیں ان کے گھروں پر چھوڑ دیا۔ دوسرے دن واپسی کے وقت انہیں سمستی پور شہر سے قریب دھرم پور سے گزرنے والی ندی کے کنارے لے گئی اور ہتھکڑی ڈال کر ان کی تصویر یں لی۔ اس موقع پر وہیں پر واقع ایک مسجد کے امام نے دیکھا تو اعتراض کیا کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم ایک پراجیکٹ پر نکلے ہوئے ہیں۔ اتفاق سے امام صاحب کو ایک فائل پر آئی بی لکھا نظر آیا تو انہوں نے پوچھ دیا۔ اس کے بعد فورا وہ گرفتاروں کے لے کربھاگ نکلے۔ اس کے بعد دربھنگہ کے چک زہرہ کے عبد الرحمن کو چنئی سے اسی معاملہ میں گرفتار کیا گیا۔ عبد الرحمن بھی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور چنئی میں رہ کر ڈپلوما کر رہا تھا۔ اس کا اور اس کے گھرانے کا بھی کوئی مجرمانہ پس منظر نہیں رہا ہے۔ اس کے بعد دربھنگہ کے دیورا بندھولی کے نقی احمد کو دلی پولس کسی کی پہچان کرانے کے بہانے ممبئی لائی اور اسے ہوشیار کردیا کہ تم کو اے ٹی ایس ڈھونڈ رہی ہے اور پھر اے ٹی ایس کے ذریعہ پکڑ وا دیا گیا۔ اس کو پکڑنے کے بعد اے ٹی ایس اسے ساگر ہوٹل لے گئی اور اس کے گاؤں کے ندیم اختر کو فون کروایا کہ وہ ساتھ میں چائے پینے کے لیے ساگر ہوٹل آئے۔ اس طرح جب وہ وہاں پہنچا تو اسے گرفتار کرلیا۔ پہلے ان پر فرضی سیم کارڈ کا معاملہ درج کرکے اس کے گھر والوں سے اے ٹی ایس والے کہتے رہے کہ جلد ہی اس کا بیل ہوجائے گا۔ ٹھیک اس وقت جب یہ لوگ ضمانت کے لیے عدالت پہنچے تو راکیش ماریا نے ایک پریس کانفرنس بلا کر ۱۳ جولائی کو ہوئے دو ممبئی بم دھماکے کا ملزم قرار دے دیا۔ حالانکہ اس سے قبل دونوں کے خلاف کبھی کوئی مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔گرفتاری کے بعد ہفتہ بھر آئی بی، وزارت داخلہ اور اے ٹی ایس کے درمیان آنکھ مچولی کا کھیل کھیلا گیا۔سب ایک دوسرے پر الزام دھرتے رہے اور پھر خاموش ہوگئے۔ نقی اپنے والد کا چوتھا لڑ کا ہے اور دلی میں اپنے بھائی ساتھ تجارت میں ہاتھ بٹا تا تھا۔ اس کے والد بچپن سے ممبئی میں اپنے کاروبار کرتے رہے ہیں اور ندیم ایک طالب علم تھا۔ اس کے والد ممبئی میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں ملازم تھے۔ بیوی کے انتقال کے بعد گاؤں میں رہنے لگے اور ندیم اپنے رشتہ دار کے یہاں رہ کر پڑھتا تھا۔ نقی اور ندیم کی گرفتاری کے بعد نقی کے دو بھائیوں کو بھی پکڑ کر اے ٹی ایس کے ذریعہ بے بنیاد طور پر ا تنی زبردست پٹائی کی گئی کہ اسے اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ ادھر اس کے تیسرے بھائی نے جب میڈیا میں اس کو اچھالا اور پریس کانفرنس وغیرہ کیا تو اس پر بھی ایک مقدمہ رکھتے ہوئے اے ٹی ایس والے اسے گرفتار کرنے کے لیے دلی اس کے ورک شاپ پہنچ گئے۔ اس وقت تقی نے احتجاج کیا۔ اس دوران علاقہ کے لوگ آ پہنچے۔ معاملہ اتنا طول پکڑا کہ حالات سنگین ہوسکتے تھے۔ اس اثنا میں دلی پولس آئی اور اے ٹی ایس والوں کو تھانے لے گئی اور پتلی گلی سے انہیں نکال دیا۔ اس کے بعد اس کے گھر والوں نے معاملہ سپریم کورٹ میں دائر کیا۔ سپریم کورٹ نے ویڈیو کلپ کے ساتھ تفتیشی کارروائی کا حکم صادر کیا اور اس طرح وہ تقریبا آٹھ گھنٹے کی پوچھ تاچھ کے بعد نجات پاسکا۔ اس کے بعد دربھنگہ کے شیو دھارا سے ۵۵ سالہ سائیکل مستری محمد کفیل کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کیا گیا۔ آس پاس کے لوگ بتاتے ہیں کہ گرفتاری سے ایک روز قبل اس کے پاس اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہوئے ایک نامعلوم شخص کا فون آیا جس پر اسے شیو دھارا بازار میں کسی شخص کی دکان کے پاس آنے کو کہا گیا۔ اس نے کہا کہ ابھی عصر کا وقت ہو رہا ہے۔ آپ مسجد آ جائیں وہیں ملاقات ہوجائے گی۔ لیکن مسجد میں کوئی نہیں آیا۔ اگلے روز جب وہ محلہ میں واقع اپنی سائیکل کی دکان سے اٹھ کر بازار میں کسی ڈاکٹر کے پاس اپنے بچے کو لے جا رہا تھا تو پیچھے سے آواز دی گئی اور اشارے سے قریب بلایا گیا۔ قریب جانے پر اسے آگے کھڑی گاڑی تک چلنے کو کہا گیا۔ گاڑی کے پاس پہنچتے ہی اسے زبردستی گاڑی میں بیٹھا کر چند لوگ لے اڑے۔ اس کے بیٹے نے جب یہ دیکھا تو گاڑی کا پیچھا کیا اور مبی تھانے پر اطلاع دی۔ جب پولس کی گاڑی نے اس گاڑی کا پیچھا کیا تو پولس کو فون آیا کہ اسے گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتاری کے بعد مقامی پولس انچارج اور مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بجائے اسے سیدھے دلی لے جایا گیا۔اگلے دن اخباروں میں خبر آئی کہ آئی ایم کے سرغنہ کا قریبی گرفتار اورمیڈیا میں اس پر یہ الزام بھر عائد کیا گیا کہ وہ موٹی ویٹر کا کام انجام دیتا تھا۔ کفیل ایک غریب آدمی ہے جو سائیکل ٹھیک کر کے اپنے بچوں کی حلال طریقے سے پرورش کرتا تھا اور محلے کی مسجد کا مؤذن تھا۔ اس کے خلاف بھی کوئی مجرمانہ وارنٹ نہیں تھا۔اس کے بعد دربھنگہ کے رجوڑا گاؤں کے اسد اللہ رحمن کو ممبئی سے گرفتار کیا گیا اورگرفتار کرنے والی اتھارٹی کے ذریعہ دلی سے گرفتاری دعوی کا کیا گیا۔ ظاہر ہے گرفتاری کے بعد جو بنیادی کارروائی ہونی چاہیے وہ اس کے ساتھ بھی نہیں کی گئی ہوگی۔ اسد اللہ بھی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور ایک طالب علم ہے۔اسی درمیان میں مدھو بنی کے بلہا گاؤں کے کمال کو سیتا مڑھی کے پوپری سے گرفتار کیا گیا اور کولکاتا سے گرفتاری کا دعوی کیا گیا۔ کمال بھی غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور کولکاتا میں تجارت کرتا ہے۔اس دعوی کا مطلب ہے کہ اس کے ساتھ بھی بنیادی کارروائی نہیں کی گئی ہوگی۔ ان دونوں کے خلاف بھی پہلے سے کوئی مقدمہ درج نہیں تھا۔ اس کے بعد اغوا کے انداز میں باڑھ سمیلہ سے کفیل اختر کو علی الصباح نیند کی حالت میں اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔شبہ ہے کہ اس گرفتاری میں اس کی خواب گاہ کی شناخت کے لیے گاؤں کی کسی لڑکی کی مدد بھی لی گئی ہے۔ گرفتاری کے بعد اسے دربھنگہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بجائے رانچی میں پیش کیا گیا اور بنگلور لے جایا گیا جہاں اس پر دباؤ بنا یا جا رہا تھا کہ وہ چنا سوامی اسٹیڈیم دھماکہ کی ذمہ داری قبول کرے۔ جبکہ کفیل کبھی دربھنگہ سے باہر نہیں گیا۔ بہت پہلے بچپن میں دلی رہتا تھا۔ اس کے بعد سے دربھنگہ رہ رہا تھا۔ حیرت یہ ہے کہ اسی معاملہ میں مقتول قتیل صدیقی اور غیور جمالی وغیرہ کو بھی ملزم بتایا جا رہا ہے۔ کفیل اپنے والدین کا سب سے چھوٹا لڑکا ہے جو دربھنگہ میں ایک پرائیویٹ اسکول میں استاد تھا اور چونکہ اس کے اور بھائی دوسرے شہروں میں رہتے ہیں اس لیے والدین کی خدمت کے لیے قریب رہتا تھا۔ وہ سماج میں اچھی شبیہ رکھتا تھا اور آپس میں بھی کبھی کسی جھگڑے لڑائی کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ ماضی میں کبھی کوئی مجرمانہ واقعہ اس سے سرزد نہیں ہوا تھا۔جب اس کے گھر کے لوگ بنگلور پہنچ کر عدالت میں معاملہ کی سنوائی کے لیے تگ ودو کرنے گئے تو انہیں یہ کہہ کر گھر واپس کردیا گیا کہ ۱۵ جون کو ضمانت پر رہا کردیا جائے گا اور پندرہ تاریخ کو یہ کہا گیا کہ ۲۳ تاریخ کے بارے میں کہا گیا تھا۔ اب دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ ادھر اسی گاؤں کے فصیح محمود کو سعودی عرب سے گرفتار کرلیا گیا اور حکومت اس سلسلہ میں اپنی عدم معلومات کا اظہار کرنے کے باوجود اپنے شہری کو تلاش کرنے کے لیے سعودی حکومت سے کوئی مطالبہ نہیں کررہی ہے۔جبکہ گرفتاری میں دو سعودی پولس بھی شامل تھی۔ تازہ خبر اخباروں میں پڑھنے کو یہ ملی کہ اسی گاؤں کے باشندہ ابوالبرکات کے چھوٹے بیٹے ابوالمشکوۃ اکفل کو ممبئی میں کاروبار کر رہے اس کے بہنوئی نور عالم کے ذریعہ بنگلور سے جہاں وہ طالب علم ہے ممبئی بلوایا گیا اور اکفل کو لے لے جاکر اذیت کے ساتھ اس پر یہ دباؤ بنایا جارہا تھا کہ وہ ممبئی میں ہوئے چار دھماکوں میں کسی ایک کی ذمہ داری قبول کر لے ورنہ برا انجام بھگتنا پڑیگا۔لیکن اتفاق سے وہ جان بچا کر گاؤں بھاگ نکلے۔ لیکن اب اے ٹی ایس کا فون آرہا ہے کہ وہ آجائے ورنہ وہ گاؤں سے بھی اٹھا لیا جائے گا۔ جب اس واقعہ کی خبر ان لوگوں میں مقامی تنظیموں اور میڈیا کو دی جنہوں نے اے ٹی ایس کے دفتر سے اس کی تحقیق کی تو انہوں اس واقعہ سے سرے سے انکار کیا بلکہ اس نام کے افراد کو جاننے بھی انکار کیا۔ 
ان ساری گرفتاریوں میں علاقائی تھانہ کی مدد نہیں لی گئی نہ ہی انہیں اطلاع دی گئی۔ گرفتاری کے بعد انہیں ضلعی مجسٹریٹ کے سامنے بھی پیش نہیں کیا گیا اور گرفتاری کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ خطرناک سے خطرناک مجرم کے لیے بھی شاید ہی کیا جاتا ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان میں بیشتر تو بڑے لوگوں کے آنکھ نہیں ملا سکتے ہیں نہ ہی ان کے سامنے زور سے بول بھی سکتے ہیں۔جبکہ اس طرح کی گرفتاری کے لیے کوئی وارنٹ ہونا چاہیے تھا۔ گرفتاری کے وقت مقامی پولس کے ساتھ گاؤں یا محلہ کے دو ذمہ دار شخص ہونے چاہئیں تھے۔ گرفتار کرنے والے افراد اگر سادہ لباس میں ہوں تو ان کے سینے پر نام کا ٹیک لگا ہونا چاہیے تھا۔ گرفتاری کی رسید دی جاتی اور پھر اسے اس علاقہ کے جوڈیشیل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بعد کہیں لے جانا چاہیے تھا۔لیکن کسی گرفتاری میں یہ سب کچھ نہیں ہوا ہے بلکہ تقریبا ہر گرفتاری چوری چھپے انداز میں یا اغوا کے انداز میں کی گئی ہے۔ یہ طریقہ اختیار کرنے کا مطلب ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے اور وہ صرف سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے یہ طریقہ اختیار کر رہے کہ یہ لوگ اتنے خطرناک مجرم ہیں کہ انہیں اگر وقت مل گیا تو کچھ بھی کرسکتے ہیں۔ حالانکہ اگر وہ خطرناک مجرم بھی ہوتے تو خفیہ ایجنسیوں کو ایسے ڈراموں کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ چاہیں تو اس چوہے بلی کا کھیل کھیلنے کے بجائے آئینی ضابطہ کی پابندی کرتے ہوئے بھی انہیں گرفتار کرسکتے ہیں۔ آئینی ضابطے کی پابندی کرتے ہوئے انہیں عوام کی جانب سے بھی نہ صرف کسی دقت کا سامنا کرنا نہیں پڑے گابلکہ امن پسند شہریوں کا انہیں تعاون بھی حاصل ہوجائے گا۔ البتہ اس طریقہ سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ آئینی طریقہ مجرمین کو پکڑنے اور سزا دینے کے لیے ناکافی ہے یا خفیہ ایجنسیاں قانون سے بالا تر ہیں یا ان کے سامنے کوئی خاص مقصد ہے جس کو بروئے کار لانے میں سیکولر آئینی طریقہ اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ اس لیے ان کی نظر میں آئینی طریقہ کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ 
اب تک جو لوگ پکڑے گئے ہیں ان میں بیشتر پر کوئی چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے۔ سب کو تفتیشی کارروائی میں الجھادیا گیا۔ ایسی صورت حال میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمعیہ علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کے اس مطالبہ پر زور دیں کہ خفیہ ایجنسیاں جلد از جلد چارچ شیٹ داخل کریں عدالت اس کا زیادہ سے زیادہ دو سال وقت متعین کرتے ہوئے خفیہ ایجنسیوں کو اس مدت میں شواہد پیش کرنے کا حکم دے اور اس مدت کوئی ثبوت پیش نہیں ہوتا ہے تو وہ با عزت بری کردئے جائیں اور خاطی افسران پر مقدمہ درج کرتے ہوئے ان ملزمین کو دو سالوں کو معاوضہ دیا جائے۔ 

Saturday, 26 May 2012

تاریخ کوروڈیہ پر ایک نظر (تبصرہ)

 تاریخ کوروڈیہ   
مصنفہ ڈاکٹر ارشد جمیل پر ایک نظر
                                                                                                                                               
                ہر عہد کی اپنی مخصوص شناخت ہوتی ہے۔اکثر تویہ اپنی روایت کے حصہ اور تسلسل کے طور پر ہی پہچانی جاتی ہے لیکن جب کسی عہد میں اعلی اقدار وروایات کے سنہرے سلسلے سابقہ عہدوں کی اقدار وروایات سے متمیز ہونے لگتے ہیں تویہ اس عہدکی انفرادیت بن جاتی ہے اورکبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض علاقوں میں کسی عہد میں یہ تسلسل بھی باقی نہیں رہ پاتا ہے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ کسی عہد کی اہمیت اسی وقت تسلیم کی جائے جب اس کی باقیات زمانے اور صدیوں بعد بھی آنے والی نسلوں کو نظر آتے رہیں یا تاریخ میں اس عہد کے اجتہادی یا تحریکی کارنامے نظر آئیں۔ اکثر باقیات کا تعلق تو کسی عہد کے شخص یا اشخاص معین ہی سے ہوا کرتا ہے لیکن ہر عہد میں ایسے بہترے اشخاص ہوتے رہے ہیں جو ایسے تہذیبی آثار چھوڑجاتے ہیں جن کا احساس وادراک ان کی موجودہ نسلوں کے شعور کی بالیدگی سے ہوتا ہے۔ در حقیقت تاریخ میں ایسے ہی افراد اصل اہمیت کے حامل ہیں۔ کیوں کہ یہ وہ برگزیدہ ہستیاں ہیں جو انسانیت کی اس عظیم روایت کو آگے بڑھاتے رہے ہیں جن سے حضرت انسان اشرف المخلوقات کے رتبہ پر فائز ہوئے ہیں۔ لیکن اس تلخ حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایسے افراد ہمیشہ پائیدار یادداشتوں سے نظر انداز کئے جاتے رہے ہیں اور اگر ایسے کاموں کی طرف کبھی توجہ دی گئی ہے تو ایسے ہی افراد کی طرف سے جن کی نگاہوں میں تہذیب واقدار کی تعمیر وتشکیل ، بقا اور حفاظت مہتم بالشان کام ہو اور جنہوں نے سماج کے ارتقا کے لیے اسے لازمی خیال کیا ہو۔
’’کورو ڈیہ ‘‘ ضلع بھاگلپور کی ایک ایسی ہی مردم خیر بستی ہے جو تاریخی اور علمی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بستی اور اس کے اہالیان کے اجتہادی، علمی اور تحریکی کارنامے تاریخ میں تو جگہ پانے کے لائق ہیں ہی ساتھ ہی ایسی عظیم ہستیاں بھی یہاں ہر دور میں موجود رہی ہیں جنہوں نے نسل انسانی کی وراثت کو اپنے اسلاف سے حاصل کرکے اسے نئے اور مزید بالیدہ شعور کے ساتھ آنے والی نسلوں کے سپرد کیا ہے۔
’’تاریخ کوردو ڈیہ‘‘ جلد اول ڈاکٹر ارشد جمیل کی تازہ ضخیم کتاب ہے جس میں کوروڈیہ کے ۳۴۸ اشخاص کو ان کے ناموں کی سرخی کے ساتھ مختلف عناوین کے تحت جگہ دی گئی ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جن کے نقوش پا تاریخ میں اجتماعی جدو جہد کے لیے نظر آتے ہیں اور ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے انسانیت کی اعلی قدروں کی حفاظت کی ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کا ان کا امین ومحافظ بنایا ہے۔
  کتاب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ موضع کوروڈیہ ایک قدیم بستی ہے جو عہد اسلامیہ میں عصمت اللہ پور کے نام سے جانی جاتی تھی اور جس کے آثار وباقیات اب بھی اس مقام پر پائے جاتے ہیں جو ”ڈیہ“ کے نام سے موسوم موجودہ آبادی سے متصل تقریبا سو بیگھ کی غیر آبادیا ویران اراضی پر مشتمل ہے جس”کی باقیات میں عہد مغلیہ کے سکے، پختہ مکان کی بنیادیں، ایک عدد پختہ کنواں، تالاب پر پختہ گھاٹ بطور آثار قدیمہ دریافت ہوئے ہیں۔ ایک پختہ عمارت کی شکستہ دیواریں اب بھی اس کی عظمت رفتہ کی گواہ ہیں۔ مختلف قسم کے آلات، ظروف اور دیگر آثار بھی وقتا فوقتا دستیاب ہوئے ہیں۔ “ شاہ عالم بادشاہ ثانی کے عہد کے سکہ کو خود مصنف نے بھی دیکھا ہے۔ اس بستی کی عظمت ، قدامت اور تاریخی حیثیت اس سے بھی عیاں ہوتی ہے کہ اس بستی کی ایک معزز شخصیت قاضی نعیم اللہ شاہ عالم بادشاہ ثانی (۱۸۰۶ء ۔ ۱۷۵۹ء) کے عہدمیں عہدہ قضاءپر مامور تھے اور ان کے خاندان کے کئی افرادمثلا قاضی صبیح اللہ، قاضی فتح اللہ اور قاضی حبیب اللہ وغیرہ اس عہدہ پر مامور ہوتے رہے تھے۔ اسی خاندان کی ایک اہم شخصیت مولانا محمد یونس کی تھی جنہوں نے ابھی حال ہی ۳۰ جون۲۰۱۰ء؁ میں وفات پائی ہے ۔ مولانا موصوف کے پاس اس زمانے کی مہریں بھی موجود تھیں۔ دوسری شخصیت مرزا عبد اللہ بیگ کی تھی جو عہد مغلیہ کے آخری دور میں کہیں صوبہ دار تھے، ان کو سبک دوشی پر جاگیر میں تین سو بیگھ زمین عطا ہوئی جس میں۱۴۴ بیگھ زمین کورد ڈیہ میں تھی۔
 اس کے علاوہ اس بستی کی تاریخی اہمیت کا سب سے سنہرا باب اس کا قومی وملی اور تعلیمی تحریکو ں میں حصہ ہے۔ یہ علاقہ معاشی طور پر کسی طورسے ہمیشہ خوش حال رہا ہے ۔ اس لیے ابتدا سے ہی تعلیم کی طرف توجہ رہی ہے۔ اس گاؤں کے بیشتر افراد تعلیم یافتہ ہیں۔ ابتدا سے تعلیمی رجحان مذہبی رہا ہے۔ لہذا اہالیان بستی کا دارالعلوم دیوبند سے تعلیم کے تعلق سے ایک قدیم رشتہ ملتا ہے۔ اسی رشتہ کی وجہ سے جہد آزادی میں بھی ان کی شرکت رہی ہے۔ چنانچہ مصنف علماءدیوبند خصوصا شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی کے ضمنا ذکر کے بعد لکھتے ہیں ”آپ کی ذات سے بھاگلپور کا یہ مشرقی علاقہ جمعیة العلما ءاور کانگریس کا ایک گڑھ بن گیا او ریہ علاقہ متحدہ قومیت اور وطنی وحدت کا حامی رہا۔ اس علاقے نے دو قومی نظریہ کی کبھی حمایت نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ تقسیم ہند کے موقع پر اس علاقے سے ہجرت کے نام پر کوئی آبادی منتقل نہیں ہوئی ۔“ جد وجہد آزادی کے ساتھ ساتھ دارالعلوم دیوبند سے اس علاقہ کے فیضیاب طلبہ نے تعلیمی سرگرمیوں کو بھی اتنا تیز رکھا کہ علاقہ کی ہر بستی میں اچھے اچھے اداروں کو قیام عمل میں آیا جنہوں نے اپنے عمدہ نظام تعلیم وتربیت کی وجہ سے اپنی منفرد پہچان بنائی ۔ اور ان میں پڑھنے والے طلبہ نے اپنے اپنے وقتوں میں قوم وملت کی عظیم خدمات انجام دیں۔ انہی خدمات کا صلہ ہے کہ حضرت مولانا محمد علی مونگیری، مولانا محمد سہول عثمانی، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، شیخ الادب مولانا اعزاز علی امروہوی، حکیم الاسلام مولانا قاری محمد طیب قاسمی،مولانا سید منت اللہ رحمانی، مولانا سید اسعد مدنیؒ ، مولانا خلیل احمدرحمھم اللہ اور مولانا اشفاق احمد جیسی ہندوستان کی متبرک شخصیتوںنے اپنے قدوم میمنت لزوم سے اس بستی کو زینت ووقار بخشا ہے۔ ان اداروں میں اعلی تعلیم کا انتظام تھا۔ جن میں اپنے فن کے ماہر اور طاق علماءمسند درس پر فائز تھے ۔ خود مصنف نے عالم تک کی تعلیم ان ہی مقامی اداروں میں حاصل کی ہے۔
 بہر کیف یہ کتاب کورو ڈیہ کے ساتھ ساتھ اس علاقہ کے دوسری بستیوں کے بارے میں تاریخی معلومات فراہم کرتی ہے ۔ جیساکہ مصنف نے خود لکھا ہے ”تاریخ کورو ڈیہہ“ محض ایک علامت ہے ورنہ علاقے کی ہر ایک بستی مستقل اپنی تاریخ رکھتی ہے۔“
مصنف کا آبائی مکان کورو ڈیہ ہے ۔اور انہوں نے فاضل سے یونیورسٹی تک کی تعلیم پٹنہ ہی میں حاصل کی اور اس کے دو تین سالوں کی ملازمت کے بعدتقریبا۳۰ سالوں سے بحیثیت ریڈریونیورسٹی شعبہ اردو للت نارائن متھلا یونیورسٹی دربھنگہ میں ملازمت کررہے ہیں۔گو کہ یہ کتاب کورو ڈیہ کی تاریخ بیان کرنے کے لیے لکھی گئی ہے لیکن اس کتاب کا سب سے اہم اور دلچسپ باب ”داستاں میری“ ہے ۔ اس باب میں مصنف نے اپنے احوال وکوائف کے ساتھ ان اداروں کے تذکرے جہاں انہوں نے تعلیم حاصل کی، اساتذہ کے حالات اور اپنی ملازمت کے عہد کے دربھنگہ کے حالات کا ذکر تفصیل سے کیا ہے۔ یہ کتاب اس حیثیت سے بھی بہت دلچسپ ہے کہ ان کے دور طالب علمی کے پٹنہ اور اس وقت کی علمی شخصیات کے بارے میں وافر معلومات حاصل کرنے باوثوق ذریعہ ہے۔ خاص طور پر وہاں کے ادارے مثلا بہار مدرسہ بورڈ کے حالات تشکیل کے وقت سے تاحال تاریخی حیثیت سے جاننے کا اس کے علاوہ کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدرسہ بورڈ سے مصنف کانہ صرف بہت قدیم تعلق ہے بلکہ آج کا بہار مدرسہ بورڈ مصنف اور ان کے رفقاءکی جدو جہد کاہی ثمرہ ہے۔ خود مصنف اظہار عالم (آئی پی ایس) رضوان الحق ندوی کے بعد اولڈ بوائز ایسو سیئشن کا سکریڑی رہے ہیں۔ ساتھ ہی مدرسہ شمس الہدی پٹنہ، عربک اورپرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، اور پٹنہ یونیورسٹی کے بارے میں جو معلومات فراہم کی گئی ہے وہ بھی استنادی حیثیت رکھتی ہیں۔یہ کتاب مصنف کے رفقا کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرتی ہے جو اعلی عہدوں پر فائز ہوئے ہیں اور روشن علمی وادبی کارنامے بھی ان سے منسوب ہیں ۔
پٹنہ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اساتذہ کے بارے میں معلومات اور تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ گرچہ یہ شخصیتیں انتہائی معروف اور مستند ہیں اور ان کے بارے میں دوسری کتابوں میں معلومات ملتی ہیں لیکن اس کتاب میں بیان شدہ معلومات کا تعلق مصنف سے ذاتی ہے اور اس میں دوسرے شریک نہیں ہیں اس لیے بہت سی باتیںدوسری تحریروں میں نہیں آسکی ہیں ۔ اس باعث ان شخصیتوں کے افکار وخیالات کو جاننے کا یہ ایک اہم ذریعہ ہے۔
اسی باب میں انہوں اپنے عہد ملازمت کے دربھنگہ کا ذکر کیا ہے ۔ اس میں دربھنگہ اور دربھنگہ میں قیام پذیر پچاس سے زائد شخصیتوں کے حالات ، دربھنگہ کے اقلیتی ادارے ، دربھنگہ سے نکلنے والے رسائل وجرائد کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔افراد واشخاص کے ذکر میں مصنف نے کسی تعصب سے کام نہیں لیا اور جس سے جس طرح متاثر ہوئے ہیں بالکل اسی طرح بیان کردیا ہے۔ دربھنگہ سے مصنف کا لگاؤانتہائی گہرا ہے اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے دربھنگہ علم وادب دوست شاعر شاداں فاروقی کے سانحہ ارتحال پر اظہار تاسف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”آپ کی موت نے اس شہر نگاراں کو ایسا کم مایہ کردیا کہ کہیں نظر نہیں ٹھہرتی“۔ دربھنگہ ہی کے ذکر کے ساتھ انہوں نے ایسی علمی وادبی شخصیات کا ذکر بھی کیا ہے جن کا تعلق دربھنگہ سے نہیں رہا ہے لیکن چونکہ ان کے عہد ملازمت میں ان سے مصنف کے تعلقات استوار ہوئے یا ملاقات ہوئی یا ان کا انتقال ہو اجن سے مصنف متاثر ہوئے ۔ ایسا لگتا ہے کہ بعض واقعات اور شخصیات سے متعلق انہوں نے اپنی یاد داشتیں شامل کی ہیں جنہوں نے انہیں متاثر کیا ہے۔ یہ حصہ بھی بہر حال معلومات کے اعتبار سے انتہائی اہم ہیں۔
 انہوں نے دربھنگہ کا ذکر کرتے ہوئے ۱۹۸۷ اور ۲۰۰۴ کے سیلاب بلاخیز اور ان کی تباہیوں کا ذکر بھی تفصیل سے کیا ہے۔ ایسے واقعات اپنے وقت میں اخبارات میں نمایاں ہو کر شائع ہوتے ہیں لیکن جلد ہی بھلادیئے جاتے ہیں۔ کتاب میں اس کا ذکر آنے والوں وقتوں میں ان حالات کے جاننے کے لیے یقینا اہم ہوگا۔
 جب اس کتاب پر ایک نظر ڈالی جاتی ہے تو سب سے پہلے کوروڈیہ کی سوسالہ قدیم تاریخی مسجد کے اندر اور باہر کا منظر پیش کرتی ہوئی تصویریں ہیں۔ یہ تصویریں بتاتی ہیں کہ مسجد فن تعمیر کے اعتبار سے بڑی خوبصورت اور قدیم فن کا نمونہ ہے۔اس کے بعد مصنف کے استاد پروفیسر مطیع الرحمن کے ہاتھوں سے تیار شدہ اس کا علاقہ نقشہ دیا گیا ہے۔اس کے بعد مصنف کا پیش لفظ ہے ۔ مقدمہ پروفیسر لطف الرحمن نے لکھا ہے اور ”یادوں کی جستجو کا سلسلہ “کے عنوان سے جناب حقانی القاسمی کی لکھی ہوئی تقریظ ہے۔ پھر ”یادوں کے چراغ “کے عنوان سے گاؤں کی ۴۱ اہم رفتگاں شخصیات کے بارے میں تاثرات ہیں ۔ ”ذکر ہم نفساں“ کے تحت گاؤں کے موجودہ۷۰علما کے احوال وآثار دیئے گئے ہیں ۔ اس کے بعد کا باب” داستاں میری “ ہے جس میں مصنف اور ان سے متعلق مقامات، حالات واقعات اور شخصیات کا تذکرہ ہے۔ ”کاروان شوق “کے تحت ابجدی ترتیب میں گاؤں کے ۱۱۷حفاظ کے نام مع ولدیت گنائے گئے ہیں۔’’گ حجاج کرام ‘‘ کے تحت گاؤں کے ۱۲۰ مرد وخواتین حجاج کے نام مع ولدیت یا شوہر کے نام کے ساتھ پہلے ، دوسرے اور تیسرے حج کے سنین اور سنہ وفات کے ساتھ گنائے گئے ہیں۔ پھر” سرچشمۂ  ہدایت “کے تحت بشمول بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ ، مولانا مظہرالحق عربی وفارسی یونیورسٹی اور عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پٹنہ کے علاوہ ہ بہار اور بہار سے باہر دارالعلوم دیوبند اور ندوة العلماءلکھنؤ جیسے گیارہ مدارس کے بارے میں واقفیت فراہم کی گئی جن سے اس گاؤں کے لوگوں نے اکتساب فیض کیا ہے۔ بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ اور مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی کو مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے تحت رکھا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بہار مدرسہ بورڈ اور MMAPUکی حیثیت مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے ذکر کے بغیر نہیں ہوسکتی ہے۔ دراصل ان کا قیام شمس الہدی کی تعلیمی سرگرمیوں کا ہی حصہ ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کتاب میں علاقے کے جن مدارس کا ذکر ہوا ہے انہیں دارالعلوم دیوبند اور مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی پٹنہ سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا ہے۔ بہار مدرسہ بورڈ کے حالات کے ذکر میں بورڈ کی تشکیل کے وقت بہار گزٹ کے جاری کردہ نوٹیفیکیشنوں کے عکس بھی دیئے گئے ہیں۔ اسی میں مدرسہ اسلامیہ شمس الہدی کے ۵اور عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے۱۰ نامور اساتذہ کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد” کورد ڈیہ ۔ جلوہ گاہ عارفاں“ کے تحت ۹ علماءربانیین کا تذکرہ ہے جنہوں نے اس گاؤں کا مختلف اوقات میں معائنہ مشاہدہ کیا ہے۔ ”نقشہائے دگر“ کے تحت بعض علمی وادبی اور سیاسی شخصیتوں کے خطوط اور دوسری تحریروں کے عکس ہیں جن میں ایک استقبالیہ نظم بھی شامل ہے۔ ان خطوط میں سے بعض خود مصنف کے نام ہیں تو بعض دوسری شخصیتوں کے۔ بعض خطوط مدرسہ بورڈ کی سرگرمیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اسی باب کے آخر میں ڈاکٹر رضوان الحق ندوی کی تحریر ہے جو مصنف کی دختر کی شادی کے موقع سے اس گاؤں کا سفر نامہ ہے۔یہ تحریر اس گاؤں کے تہذیبی رکھ رکھاؤاور آپسی لگاؤ کو سمجھنے کے لیے بڑی اہم ہے۔ اس کتاب کا ایک اہم ”باب رشتوں کی تلاش“ ہے۔ اس وقت جب کہ انساب کی اہمیت ختم ہوتی جارہی مصنف نے اپنے گاؤں کے شجرے جو آٹھ خاندانوں پر مشتمل ہیں ،بڑی محنت سے ترتیب دیئے ہیں بعض خاندان کے شجرے ۷ حصوں میں بیان ہوئے ہیں۔ وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو عالمی اخوت پیدا کرنے کے لیے علم الانساب کی افادیت مسلم ہے۔ اور اخیر میں ڈاکٹر عبد المنان طرزی اور ڈاکٹر منصور عمر کے تاریخی قطعات ہیں۔
جیساکہ اوپر ذکر ہوا یہ کتاب موضع کوروڈیہ کی تاریخ ہے اور بقول مصنف تاریخ کوروڈیہ تو ایک علامت ہے ورنہ یہ کورو ڈیہ کے پورے مضافات کے بارے میں معلومات کا خزانہ ہے۔ اسی طرح داستاں میری میں انہوں نے اپنے حالات بیان کرنے کا التزام کیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے اس میں مصنف کا تذکرہ واقعات کے تاروں کو ملانے کے لیے ہی کیا گیا ہے۔ اگر ان کی شخصیت کو نکال دیا جائے تب بھی یہ کتاب یاد داشتوں یا ایک تذکرہ کی شکل میں مکمل ہوسکتی ہے۔ کہیں بھی مصنف نے اپنی ذات کو فوکس نہیں کیا ہے۔
جہاں تک اس کتاب کے تاریخی ہونے کی بات ہے تو اس کی حیثیت اس طرح تاریخی ہے کہ اس میں بیان ہونے والے واقعات وحقائق بڑی حد تک تاریخی اور مستند ہیں۔ حالانکہ اختلاف کی گنجائش سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن ان کی نوعیت سہو کی ہے اور اس سے حقائق مسخ نہیں ہوتے ہیں۔  ورنہ یہ کتاب تذکرہ ہے جس میں ان کے دور طالب علمی کا پٹنہ اور دور ملازمت کے دربھنگہ کے اہم اداروں اور شخصیتوں کا ذکر کہیں تفصیل سے تو کہیں اختصار کے ساتھ کیا گیا ہے۔ خاص طور پر اس میں مدرسہ شمس الہدی ، بہار مدرسہ بورڈ ، مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی اور عربک اینڈ پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ، پٹنہ کے بارے میں دی گئی معلومات انتہائی مستند دستاویز کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر قومی وملی تحریک میں ضلع بھاگلپور کے حصہ کا جائزہ لیا جائے تو جنوبی مشرقی بھاگلپور کے علاقہ کی سرگرمی جاننے کے لیے یہی کتاب ایک واحد ذریعہ ہوگی۔
                واقعی مصنف نے یہ کتاب لکھ کر اپنے اسلاف کی خدمات کو محفوظ کردیا ہے۔ مصنف نے یہ کتاب اسی لیے لکھی ہے کہ ”موجودہ نسل اپنے ماضی اور اپنے بزرگوں کی خدمات سے دور ہوتی جارہی ہے۔“ مصنف کا خیال ہے کہ ”قومیں اپنے ماضی سے زندہ رہتی ہیں جن کا کوئی ماضی نہیں تاریخ اس کو فراموش کردیتی ہے۔ ”تاریخ کوروڈیہ“ کھوئے ہؤوں کی جستجو اور یادوں کی بازیافت کا ایک سلسلہ ہے۔“
ززز
نوٹ:  یہ مضمون ۱۴ مارچ ۲۰۱۲ کو قومی تنظیم پٹنہ کے صفحہ ۱۰ پر شائع ہوچکا ہے

Friday, 25 May 2012

ہندوستان کی تاریخی فلمیں Historical Film of India


اردو کے حوالہ سے
ہندوستان کی تاریخی فلمیں

                                                                                                                               
 ہندوستانی فلموں کی اپنی شاندار روایت رہی ہے۔ یہ روایت ہماری زبان اردو کا قیمتی اثاثہ ہے۔ کیونکہ یہ فلمیں اپنی عوامی مقبولیت کے باعث جہاں ہماری زبان کے فروغ کا ذریعہ بنتی رہی ہیں وہیں ہمارے بڑے ادبی سرمائے کی تخلیق کا ذریعہ بھی بنی ہیں۔
فلموں میں شامل بیشتر اردو کلام فلموں کے لیے ہی لکھے گئے ہیں۔ ان کا بڑا حصہ اردو شاعری کے عمدہ انتخابات میں شامل کئے جانے کے لائق ہے۔ فلموں کے لیے کلام لکھنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ نغمے فلم کی کہانی کو سامنے رکھ کر ضرورت کے مطابق تخلیق کیے جاتے ہیں۔ گویا یہ فلمیں نہ ہوتیں تو شاید ان عمدہ کلاموں کی تخلیق عمل میں نہ آتی۔
 گرچہ ادیبوں کے ایک طبقہ کو اس کی ادبیت تسلیم کرنے پر تردد ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ فلموں کے لیے تخلیق کیے گئے ادب کی جمالیات کا تقابل غیر فلمی ادب سے کیا جائے تو یہ بلاشبہ اپنی اہمیت تسلیم کرا لیں گے۔ فلموں کی کہانی کا ذریعہ اظہار تصویریں ہیں اس لیے کہانی کا بیانیہ حصہ سامنے نہیں آتا ہے لیکن کہانی کو آگے بڑھانے کے لیے جو مکالمے ادا کیے جاتے ہیں ان میں اس کی ادبیت اپنے پورے نکھار اوررچاؤکے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے او رسننے والوں کے احساس جمال کی تسکین کرتی ہے۔ دوسری طرف فلموں کا لازمی جز نغمے ہیں ۔ ابتدا سے فلموں کے جو رکارڈ س ہمارے پاس موجود ہیں ان میں ان کی ادبیت کا برملا اظہار ہوتا ہے۔ بلکہ بہت سی فلمیں ایسی ہیں جو ان نغموں کی وجہ سے جو ہماری کلاسیکی شاعری کی طرز پر ہیں یا ایسے مکالمو ں کی وجہ سے جو فارسی زدہ ہیں مقبول ومشہور ہوئیں۔
فلمیں انتہائی زود خلق آرٹ ہیں۔ ہندوستان میں فلموں کی تقریبا سو سالہ تاریخ ہے۔ اس مدت میں اس فن میں بے شمار لا زوال شہ پارے تخلیق پائے ہیں۔ جہاں تک اردو کا تعلق ہے تو ہندوستانی فلموں اور اردو کا رشتہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا خود فلموں کا ہندوستان سے۔ غیر معمولی مقبولیت اور تاریخی اہمیت کی حامل فلمیں اپنی منفرد خوبیوں کی وجہ سے اپنا خا ص مقام رکھتی ہیں۔ یہ سیکڑوں سے زائد کی تعداد میں ہیں ۔ظاہر ہے ان کااستقصا اور ان پر بحث اس مختصر مقالے میں ممکن نہیں ہے ۔ بلکہ یہ خالص تحقیقی موضوع ہے جو اس مختصر مدت میں ممکن نہیں ہے۔
     عنوان کے لحاظ سے اس کے تین پہلوہیں۔
۱۔            ایسی فلمیں جن کی شہرت ومقبولیت کا مدار صرف اردو زبان وادب ہے۔
۲۔            ایسی فلمیں جنہوں نے فلموں کی دنیا میں اپنی تاریخ رقم کی اس میں اردو کی حصہ داری۔
۳۔          تاریخ پر مبنی فلموں میں اردو کی حصہ داری۔
ان تینوں پہلؤوں کو ذہن میں رکھ کر اس مقالے میں نمائندہ فلموں کے حوالہ سے گفتگو کی جائے گی۔
ہندوستان میں فلموں کی روایت پارسی تھیٹر اور اس سے قبل سنسکرت ڈراموں سے رہی ہے ۔ لیکن فلموں کی دنیا میں جو انقلاب آیا وہ فلم’ عالم آرا‘ کی آمد ہے۔ کیونکہ اس کے بعد فلموں کو قوت گویائی حاصل ہوگئی۔ اب چہروں کی لکیروں سے خوشیوں اور غم کے تاثرات پڑھنے کی بجائے زبان سے ان کا اظہار ہونے لگا۔ زمین پر چلتی پھرتی زندگی فلم کے پردے پر نظر آنے لگی۔ چنانچہ ۱۴ مارچ ۱۹۳۱ کو جب یہ فلم میجسٹک تھیٹر میں پیش کی گئی تو ہندوستانی فلموں نے ایک نیا رخ لیا۔ ”اس وقت بھارت میں اردو زبان کا بول بالا تھااور فلم کے پوسٹر پر چونکانے والے جملے لکھے گئے تھے۔ مثلا: ”اٹھتر مردہ انسان زندہ ہوگئے ہیں انہیں بولتے دیکھو“۔ اس انداز نے لوگوں کی بھیڑ اکٹھا کردی،پولیس کے لیے اس بھیڑ پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔اس فلم کے ٹکٹ بھی بلیک ہوئے۔“ (دیکی پیڈیا ’اردو‘ )

اس فلم کے ہدایت کار ارد شیر ایرانی تھے ۔ جب کہ اداکار کے طور پر مراٹھی تھیٹر کے اداکار ماسٹر وٹھل اور ادا کارہ کے طور پر زبیدہ نے کام کیا۔ اس فلم میں بائیس نغمے تھے جس کو ڈبلیو ایم خان اور ہیروئن زبیدہ نے گا یا تھا۔ اس وقت پلے بیک کی تکنیک ایجاد نہیں ہوئی تھی گانے ادا کار خود گاتے تھے چونکہ ابتدائی فلموں کے رکارڈس دستیاب نہیں ہیں اس لیے ان کے مکالموں کے سلسلہ میں کوئی واضح بات تو نہیںکی جاسکتی ہے۔البتہ اس کے پوسٹر پر اردو میں اشتہاری جملہ دیا گیا تھا جس کا اوپر ذکر ہوچکا ہے اس کے علاوہ اس فلم کے دو گانوں کے بول یہ تھے جسے زبیدہ اوروزیر محمد خان نے گایا تھا۔
(پہلا گانا)
دے دے خدا کے نام پر پیارے ، طاقت ہو گر دینے کی                          کچھ چاہے اگر تو مانگ لے مجھ سے ، ہمت ہو گر لینے کی
                                                                                                                                                                                           وزیر محمد خان
بدلا دلوائے گا یارب تو ستمگروں سے                                                   تو مددگار ہے تو خوف کیا جفا کاروں سے
کاٹھ کی تیغ تو جو چاہے تو وہ کام کرے                                            جو کہ ممکن ہے نہیں لوہے کی تلواروں سے
 ہندوستانی فلموں کا جیسے ہی یہ جدید دور شروع ہوا ،اردو کے نامور ادیبوں اور شعرا نے فلمی دنیا میں اپنی قسمت آزمائی شروع کردی اور اپنے اظہار خیال کا وسیلہ بنایا۔ اس میڈیم سے جہاں انہیں بے پناہ شہرت ومقبولیت اور دولت حاصل ہوئی وہیں انہوں نے اردو زبان کو عوام میں مقبول اور عام کیا ۔
اس فہرست میں اردو ادب کے بڑے نام شامل ہیں۔ جیسے: سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، عصمت چغتائی، شاہد لطیف، راجندر سنگھ بیدی، خواجہ احمد عباس، تنویر نقوی، سردار جعفری، جوش ملیح آبادی، ساغر نظامی، خمار بارہ بنکوی، ساحر لدھیانوی، شکیل بدایونی، قمر جلال آبای، راجہ مہدی علی خاں، اسرارالحق مجاز، حسرت جے پوری، مجروح سلطان پوری، کیف بھوپالی، کیف عرفانی، اسعد بھوپالی اور قتیل شفائی وغیرہ۔
قمر جلال آبادی بیک وقت کسی فلم کے لیے کہانی ، مکالمے اور نغمے خود لکھتے تھے جس کی وجہ سے ان کی فلموں میں مکالموں اور گیتوں کا تعلق کہانی سے مربوط ہوتا تھا۔انہوں نے شاہ جہاں اور ممتاز محل پر مبنی ایک تاریخی فلم تاج محل بنائی جس کے ہدایت کار ایم صادق تھے۔ نغمے ساحر اور روشن نے دئیے تھے۔ رحمان نے جہانگیر ، پردیپ کمار شہزادہ خرم ، مینا راج ملکہ عالم ممتاز اور بینا نے نورجہاں کا کردار ادا کیا تھا۔ اس فلم کو بہترین نغموں کے لیے ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔ اس کے مشہور نغمے تھے:
”جو بات تجھ میں ہے تیری تصویر میں نہیں “     اور          
’’پاؤں چھولینے دو پھولوں کو تو عنایت ہوگی   ورنہ ہم ہی کو نہیں ان کو بھی شکایت ہوگی‘‘
اسی میں یہ مشہور نغمہ بھی تھا:
 ” جرم الفت پر ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں            کتنے ناداں ہیں شعلوں کو ہوا دیتے ہیں‘‘
۱۹۳۴ میں کے۔ سردار نے ایک تاریخی فلم عدل جہانگیر بنائی تھی۔۱۹۵۵ میں جی پی سپی نے بھی یہی فلم بنائی۔ اس فلم میں میں قمر جلال آبادی نے نغمہ لکھا تھا۔ ایک نغمہ تھا :”چاند تارے کرتے اشارے“ جسے طلعت محمود نے گایا تھا۔ اسی میں ایک گانا یہ بھی تھا : ”زندگی ایک سفر ہے سہانا“ ۔قدیم اردو طرز پر ایک گانایہ تھا:
نظر لاگے پیاری سانوریا تمہاری             اس پر تورے رسیلے نینا دوجے ماری کٹاری
 راجندر کرشن جو داد شملوی کے نام سے شاعری کرتے تھے ۰۵۲ روپے ماہانہ مستقل آمدنی والی پوسٹ آفس کی ملازمت چھوڑ کر فلمی دنیاسے وابستہ ہوگئے اور شہرت ودولت کمائی اور اپنی کہانیوں ، نغموں اور مکالموں سے فلمی دنیا کو مالا مال کیا۔ عصمت چغتائی علی گڑھ سے فارغ ہوکر شاہد لطیف کے ساتھ بمبئی گئیں۔ یہاں عصمت کی کہانی اور شاہد کی ہدایت کاری میں کئی یادگار فلمیں بنیں۔ جیسے بزدل، ضدی، آرزو وغیرہ۔
آرزو میں دلیپ کمار اور کامنی کوشل نے کام کیا تھا۔ اس فلم میں غالب کی ایک غزل کی طرح پر ایک گانا تھا جو بہت مشہور ہوا۔
اود ل مجھے ایسی جگہ لے چل جہاں کوئی نہ ہو                                اپنا پرایا، مہرباں نامہرباں کوئی نہ ہو
چل کہیں کھو جاؤں، نیند میں سو جاؤں                                           دنیا مجھے ڈھونڈے مگر میرا نشاں کوئی نہ ہو
سعادت حسن منٹو فلمستان اسٹوڈیو کے مستقل ملازم تھے۔ ریڈیو کے علاوہ فلم کے لیے کہانی اور مکالمے بھی لکھتے تھے۔ فلمستان کی ایک فلم ”آٹھ دن “ میں انہوں نے ادا کاری بھی کی تھی اور ایک پاگل جرنیل کا کردار ادا کیا تھا۔
کرشن چندر نے پہلی فلم” سرائے کے باہر “لکھی ۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلموں کی کہانیاں اور مکالمے بھی لکھے۔ راجندر سنگھ بیدی کی کہانیاں” گرم کوٹ “اور ”ایک چادر میلی سی “پر بھی فلمیں بنائی گئیں۔ بیدی نے خود بھی کئی فلمیں بنائیں ۔جیسے :”دستک “اور ”آنکھن دیکھی“وغیرہ۔ دستک بہت کامیاب رہی اور اسے ادبی حلقوں میں بھی کافی سراہا گیا ۔ یہ فلم آزادی کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کو مشکوک نظروں سے دیکھے جانے اور ان کے ساتھ تعصابانہ برتاؤ پر مبنی تھی۔ اس میں مجروح کی یہ مشہور غزل بھی شامل تھی:
ہم ہیں متاع کوچہ بازار کی طرح                  اٹھتی ہے ہر نگاہ خریدار کی طرح
 بمل رائے کی فلم ”دیوداس “ جو سرت چندر چٹرجی کے ناول ”دیوداس “پر مبنی تھی ، ساحر لدھیانوی کے نغموں ، دلیپ کمار کی ادا کاری اور بیدی کے دلوں کو چھو لینے والے مکالموں کی وجہ سے بہت کامیاب ہوئی۔
 پریم چند بھی بمبئی بلائے گئے۔ اس وقت فلم ساز بڑے پڑھے لکھے ، اعلی تعلیم یافتہ اور ادبی ذوق رکھنے والے ہوا کرتے تھے باصلاحیت ادیب او رشاعر کی تلاش میں رہا کرتے تھے۔ کسی رسالے میں کوئی تخلیق پڑھ کر یا کسی مشاعرے میں کسی شاعر کو سن کر اسے فلم کے لیے لکھنے کا موقع دیا کرتے تھے۔ چنانچہ شکیل بدایونی، مجروح سلطان پوری اور خمار بارہ بنکوی کو مشاعروں میں کلام پڑھتے دیکھ کر مشہور موسیقار نوشاد نے فلموں میں موقع دلوایا۔
 حسرت جے پوری جو ایک بس کنڈکٹر تھے پرتھوی راج نے ایک مشاعرے میں سنا اور اپنی فلم کے لیے منتخب کرلیا ۔ اس کے بعد راجکپور کی ہر فلم میں حسرت جے پوری تا حیات کام کرتے رہے۔
 پریم چند نے ایک فلم ’مزدور “لکھی۔ لیکن اس وقت ہندوستان غلام تھا۔ اس میں ایک وطن پرست مل مالک کو پیش کیا گیا تھا۔ گرچہ یہ فلم خوب چلی لیکن حکومت برطانیہ کو یہ بات پسند نہ آئی اور اس کی نمائش روک دی گئی۔ پریم چند کے ناول گؤ دان، غبن اور نرملا اور ان کی کہانیوں دوبیل دو بگہہ زمین ، شطرنج کے کھلاڑی ، پنچایت (پنچ پرمیشور) پر بھی فلمیں بنیں۔
تقسیم وطن سے قبل شوکت حسین رضوی نے ایک مسلم سوشل فلم ”زنیت “بنائی ۔( اس وقت عام طور پر مسلم سوشل فلمیں ہی بنا کرتی تھیں) یہ پہلی فلم تھی جس میں کسی خاتون قوالہ کو پردہ پر گاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ یہ قوالی نخشب کی لکھی ہوئی تھی جو آج تک مشہور ہے اور اکثر پرانی فلموں کے فرمائشی پروگرام میں سنی جاتی ہے:
آہیں نہ بھرے، شکوے نہ کئے کچھ بھی نہ زباں سے کام لیا             اس پر بھی محبت چھپ نہ سکی جب تیرا کسی نے نام لیا
خود نخشب نے اپنی فلم” نغمہ“ بنائی جس کے گیت ”کاہے جادو کیا ، مجھ کو اتنا بتا ، جادو گر بالما“اور یہ غزل” بڑی مشکل سے دل کی بے قراری کو قرار آیا “بڑے مشہور ہوئے۔ لیکن اس کے بعد شوکت حسین رضوی ، نورجہاں اور نخشب پاکستان چلے گئے ۔ ان کی ایک اور فلم تھی ”نیک پروین “ اس کا ایک گانا بہت مشہور ہوا اور آج بھی شادی بیاہ کے موقع پر سہرے کے طور پر سنا جاتا ہے۔
مبارک ہو دولہا دولہن کو یہ شادی                     ملے دل سے دل زندگی مسکرادی
 بی آر چوپڑہ خود بھی اعلی تعلیم یافتہ تھے اور اچھا ادبی ذوق رکھتے تھے۔ انہوں نے بہت سی صاف ستھری اور سبق آموز فلمیں بنائیں۔ انہوں نے بی آر چوپڑہ فلمز کے بینر تلے ”چاندنی چوک“،” ایک ہی راستہ “،” افسانہ“،” اتفاق“،” دھند“، ”دھول کا پھول“،” گمراہ“،” نیادور“،” قانون“، ”وقت “،”داستان“ اور بہت سی کامیاب فلمیں بنائیں۔ قومی یکجہتی پر ان کی فلم” دھرم پتر “جس میں تقسیم ہند کا المیہ اور اس کے بعد کے حالات بڑی چابکدستی سے فلمائے گئے ہیں۔ اس فلم کو حکومت ہند کی طرف سے بھی بہت سراہا گیا۔ اشوک کمار، مالا سنہا، رحمان، منموہن کرشن اس کے اداکار تھے۔ اس میں شنکر شمبھو اور ساتھیوں کو ایک قوالی گاتے ہوئے دکھایا گیا ہے:
                           یہ مسجد ہے وہ بت خانہ ،     مطلب تو ہے دل کو بہلانا            چاہے یہ مانو چاہے وہ مانو
ایک اور گانایہ تھا :                                 اے رہبر ملک وقوم بتا ؟       یہ کس کا لہو ہے کون مرا؟
 اس فلم کے سارے نغمے ساحر لدھیانوی نے لکھے تھے اوران کی بیشتر فلموں کے نغمے ساحر لدھیانوی اور اختر الایمان ہی لکھتے تھے۔
 ’دھرم پتر ‘ کا ایک سیکولر کردار یہ جملہ کہتا ہے :”بھائی صاحب! یہاں دلی میں اب دلی والے نہیں بستے بلکہ ہندو اور مسلمان بستے ہیں۔ “اس فلم میں ایک غیر مسلم کردار دوسرے غیر مسلم کردا سے یو ں بحث کرتا ہے:
ایک کردار: مسلمان ظالم ہیں، ان کا مذہب اسلام تلوار کے زور پر پھیلا۔
دوسرا کردار: یہ بالکل غلط ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں نے تیرہ سو سال حکومت کی ۔ اگر اسلام تلوار کے زور پر پھیلتا تو ہندستان میں ایک بھی ہندو باقی نہیں بچتا۔
 یہ مکالمے اختر الایمان نے لکھے اور یہ بی آر چوپڑہ کی جرأت تھی کہ انہوں نے اس مکالمہ کو فلم میں برقرار رکھا۔
ان کی فلم وقت کو فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا ۔ اس فلم کے سارے مکالمے بہت ہی پر اثر تھے ۔ لیکن راجکمار کے ذریعہ بولا گیا یہ جملے : (ویلن سے چاقو چھینتے ہوئے)بچوں کا کھیل نہیں ، کٹ جائے تو خون آجاتا ہے۔ اور ”چنائے سیٹھ جس کے مکان شیشے کے ہوتے ہیں وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکتے“۔ بہت مشہور ہوئے
فلم ”وقت “کے ایک منظر میں تھوڑی دیر کے لیے اخترالایمان صاحب خود تشریف لاتے ہیں اور طالب علموں کو اردو شاعری کے متعلق بتاتے ہوئے اپنی ہی آزاد نظم پڑھتے ہیں:
‘‘نقرئی گھنٹیاں بجتی ہیں /دھیمی آواز میرے کانوں /دور سے آرہی ہے تو شاید/بھولے بسرے ، ہوئے زمانوں /
                                                میرے ، اپنے، شرارتیں ، شکوے/یاد کرتو نہیں رہی ہو کہیں“
یہ وہ زمانہ تھا جب اردو کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ اس فلم میں ایک خون کے معاملہ میں سرکاری وکیل اور وکیل صفائی کے درمیان عدالت میں طویل بحث ومباحثہ بھی تھا۔
چوپڑہ کی فلم ’دھول کاپھول“ میں ایک ناجائز اور بے سہارا معصوم بچہ کی پرورش ایک مولوی صاحب کرتے ہیں اور اسے ہندو یا مسلمان نہیں بلکہ ایک انسان بننے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اس فلم میں بھی ساحر کا یہ نغمہ :
تو ہندو بنے گا نہ مسلمان بنے گا                     انسان کی اولاد ہے انسان بنے گا
مالک نے ہر انسان کو انسان بنایا                                   ہم نے اسے ہندو یا مسلمان بنایا
قدرت نے تو بخشی تھی ہمیں ایک ہی دھرتی                               ہم نے کہیں بھارت کہیں ایران بنایا
 بی آر چوپڑہ نے ایک ناول ”بند دروازہ“ پر فلم طوائف بنائی۔ اس سے قبل وہ طوائف کی زندگی پر فلم’ سادھنا‘ بناچکے تھے جس کے ہیرو سنیل دت اور ہیروئن وجینتی مالا تھے۔ اس فلم کے لیے ساحر لدھیانوی نے اپنی مشہور نظم
عورت نے جنم دیا مردوں کو مردوں نے اسے بازار دیا                 جب جی چاہا مسلا کچلا جب جی چاہا دھتکار دیا
اور   ”یہاں ہر چیز بکتی ہے ۔ کہو جی تم کیا کیا خریدوگے؟ “  استعمال کیے۔
چوپڑہ ہی کی ایک اور کامیاب فلم ”قانون“ ایک نیا تجربہ تھا۔ اس میں کوئی گانا نہیں تھا۔ قتل کے معاملہ میں ایک معصوم اور بے گناہ ملزم کو سزائے موت ہوجاتی ہے۔ سرکاری وکیل ایک معزز جج کو قاتل سمجھ بیٹھتا او راسے سزا دلانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کشمکش اورجد وجہد میں تین گھنٹے عدالت میں بحث ہوتی ہے اور آخر میں اصل مجرم بے نقاب ہوتا ہے۔ اس طویل بحث ومباحثہ میں ناظرین ذرا بھی نہیں اکتاتے اور کہیں بھی ناچ گانوں کی کمی نہیں کھٹکتی ہے۔ یہ اخترالایمان کی کہانی اور مکالمے اور چوپڑہ کی ہدایت کاری کا کمال تھا۔ سارے مکالمے فصیح وبلیغ اردو اور فارسی زبان میں تھے ۔ یہ فلم بہت کامیاب رہی۔ منصفوں ، وکیلوں اور قانون دانوں نے اس فلم کو باربار دیکھا اور اسے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
چوپڑہ ہی کی حالیہ فلم نکاح کا نام پہلے ”طلاق ، طلاق، طلاق“ تھا۔ اس کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے ملک گیر احتجاج ہوا ، حکومت کی توجہ بھی مبذول کرائی گئی کہ اگر کوئی مسلمان فلم دیکھ کر گھر آئے اور اس کی بیوی اس سے پوچھے کہ کون سی فلم دیکھ کر آئے ہو تو وہ آدمی تین بار” طلا ق طلاق طلاق“ کہے گا۔ ایسی حالت میں اس کی بیوی اس پر حرام ہوجائے گی۔ بی آر چوپڑہ خود سنجیدہ انسان تھے ، اسے بڑی سنجیدگی سے لیا اور فلم کا نام نکاح تجویز کیا۔ یہ فلم بھی خوب چلی اور حسن کمال کے لکھے ہوئے نغمے اور خصوصا یہ قوالی بہت مقبول ہوئے: ”جی چاہتا ہے آگ لگادوں نقاب میں“
دل کے ارماں آنسؤوں میں بہہ گئے                              ہم وفا کر کے بھی تنہا رہ گئے
فلمساز اور ہدایت کار محبوب خان نے بہت سی کامیاب فلمیں بنائیں ۔ ان کی فلموں کا نام عموما Aیعنی الف سے شروع ہوتا تھا۔ جیسے الہلال، آن، انداز اور امر وغیرہ۔ انہوں نے ایک فلم ”اعلان “بنائی ۔ اس کی نمائش کے دوران ملک آزاد ہوا اور اس کی تقسیم بھی ہوگئی۔ اعلان کا ایک ولولہ انگیز نغمہ جب پردہ پر آتا تو تو مسلم فلم بینوں کے نعرہ تکبیر سے سنیما ہال گونج اٹھتا تھا۔ وہ نغمہ یہ تھا:
انسان کی تہذیب پہ احسان ہمارا                   گرجا ہے ہر ایک ملک میں قرآن ہمارا
محبوب اپنی فلم ”آن “کو رنگین بنانے کے لیے انگلینڈ گئے اس فلم میں انہوں نے ایک یہودی لڑکی نادرہ کو پہلی بار ہیروئن کے طور پر پیش کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ملٹی اسٹار فلم ”انداز “بنائی جو اپنے زمانہ کی کامیاب ترین فلم ثابت ہوئی ۔ اس فلم میں دلیپ کمار اور راج کپور کے مقابل نرگس ہیروئن تھی اور پرتھوی راج کپور بھی تھے۔ اس کے نغمہ نگار شکیل بدایونی اور موسیقار نوشادتھے۔ اس کا یہ نغمہ بہت مقبول ہوا:
چمن میں رہ کے ویرانہ میرا دل ہوتا جاتا ہے                           خوشی میں آجکل کچھ غم بھی شامل ہوتا جاتا ہے
 محبوب خان کی ہر فلم شروعات کمیونسٹ کے نشان ہنسوا اور ہتھوڑے کے بعد بیل گاڑی کے ایک گھومتے ہوئے پہیہ سے ہوتی تھی اور بیک گراؤنڈ سے یہ شعر مشہور ادا کار مراد کی پاٹ دار آواز میں سنائی دیتا ہے۔ یہ ان کا ٹریڈ مارک تھا:۔ اس کا یہ نغمہ بہت مقبول ہوا:
مدعی لاکھ برا چاہے تو کیا ہوتا ہے                       وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
انہوں نے اپنی پرانی کامیاب فلم ”عورت “کو دوبارہ” مدر انڈیا“ کے نام سے بنایا جس کے فنکاروں میں راج کمار ، راجندر کمار، سنیل دت، کنہیا لال تھے ۔ لیکن فلم کی کہانی ہیروئن نرگس کے گرد گھومتی ہے۔ اسی کا کردار سب سے اہم ہے ۔ اس میں دیہات کی زندگی ، ایک کسان کی مفلوک الحالی ، سود خواروں کی اجارہ داری اور اس کے ظلم وستم، قدرتی آفات خشک سالی اور سیلاب کی تباہ کاریاں اور ایسی حالت میں ایک تنہا عورت کی بے بسی اور لاچاری بڑے ہی دل دہلادینے والے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ اس میں نوشادکی موسیقی اور شکیل کے آسان ہندوستانی زبان میں تقریبا بارہ گانے شامل تھے۔ اس فلم میں ایک انوکھاواقعہ بھی پیش آتا ہے۔ شوٹنگ کے دوران سوکھے فصلوں کے ڈھیر میں آگ لگ جاتی ہے اور اس میں نرگس گھر جاتی ہے ۔ قریب تھا کہ وہ اس آگ میں زندہ جل جاتی لیکن سنیل دت نے اپنی جان پر کھیل کر اسے آگ سے بچایا ۔ اس حادثہ میں دونوں بری طرح جھلس بھی گئے۔ محبوب نے ماہرانہ چابک دستی سے اس منظر کو فلمایا اور یہ منظر واقعی فلم کی جان ہے ۔ مدر انڈیا پہلی ہندستانی فلم تھی جسے آسکر ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔
 عبد الرشید کاردار(اے آر کاردار) نے فلمی دنیا میں اپنی بہت اچھی چھاپ چھوڑی ہے ۔بہت ہی غنائیہ فلمیں بناتے تھے۔ اکثر اپنی فلموں کا نام ’دال‘ سے شروع کرتے۔ جیسے: ”درد“، ”داستان“،” دل لگی“ اور” دلاری“ وغیرہ۔
 فلم” درد“ یتم خانہ کے بچوں کے ایک کورس سے شروع ہوتی ہے:
ہم درد کا افسانہ دنیا کو سنادیں گے                 ہر دل محبت کی ایک آگ لگادیں گے
سرکار دوعالم کی امت پہ ستم کیوں ہو                           اللہ کے بندوں کو منجدھار کا غم کیوں ہو
اسلام کی کشتی کو ہم پار لگادیں گے                               ہوجائے گی پھر دنیا آباد یتیموں کی
گونجے گی زمانے میں فریاد یتیموں کی                           ہم پر بھی کرم کرنا ہم تم کو دعا دیں گے
اسی فلم میں ثریا کی آوا ز میں ایک نعت بھی تھی :                 بیچ بھنور میں آن پھنسا ہے ، دل کا سفینہ                    شاہ مدینہ
 اور مشہور مزاحیہ خاتون ٹن ٹن کا بحیثیت گلو کارہ اوما دیوی کے نام سے پہلا گا نا تھا:
افسانہ لکھ رہی ہوں دل بے قرار کا                              آنکھوں میں رنگ بھر کے ترے انتظار کا
اور                           ” بے تاب ہے دل درد محبت کے اثر سے“
یہ شکیل بدایونی کی پہلی فلم تھی او رسارے نغمے انہی کے زور قلم کا نتیجہ تھے۔
کارداد نے ایک تاریخی فلم ”شاہ جہاں “بنائی۔مجروح سلطان پوری کو اسی میں پہلی مرتبہ موقع ملا تھا۔ موسیقی نوشاد کی تھی۔ کے۔ایل ۔ سہگل کی وجہ سے یہ ایک میوزیکل فلم تھی کیونکہ سہگل ہیرو ہونے کے ساتھ اپنے گانے خود گاتے تھے۔ اس فلم کے مشہور نغمے تھے:
اے دل بے قرار جھوم اے دل بے قرار جھوم                           پی کے خوشی میں بار بار پیرمغاں کے ہاتھ چوم
اور
غم دیئے مستقل کتنا نازک ہے دل یہ نا جانا                   ہائے ہائے یہ ظالم زمانہ
                                جب دل ہی ٹوٹ گیا ہم جی کر کیا کریں گے
 موجودہ دور کے مشہور اسکرین پلے کہانی اور مکالمہ نگار جوڑی سلیم ۔ جاوید فلمی دنیا میں اپنا لوہا منوالیا۔ یہ اردو زبان کی مقبولیت کا نتیجہ ہے کہ اس جوڑ ی نے نئی تاریخ رقم کی کہ فلم ساز ، ہدایت کار، یا ہیرو ہیروئن سے پہلے فلم کے رائٹر کا نام فلم کی پبلسٹی میں ہونے لگا۔ جیسے’ سلیم ۔جاوید کی’ دیوار‘۔ اس مشہور جوڑی نے ’شعلے‘ ،’ دیوار‘،’ ترشول‘،’ سلسلہ‘ اور بے شمارہ مشہور اور کامیاب فلمیں لکھیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ان تمام فلموں کی شہرت اور کامیابی سلیم اور جاوید کے زور قلم ہی کا مرہون منت تھی۔
 ان کی فلم شعلے اب تک کی سب سے زیادہ چلنے والی اور مشہور فلم ہوئی۔
جاوید اختر کے والد جاں نثار اختر بھی اپنی ملازمت سے مستعفی ہوکر فلم نگری بمبئی آگئے اور بہت سی کامیاب فلموں کے نغمے لکھ کر خوب پذیرائی حاصل کی۔ انہوں نے ایک فلم ساز کمپنی بھی بنائی جس کا نام ’صنم کدہ ‘رکھا۔ ۰۶۔۰۴۹۱ کی دہائی میں ان کی ایک فلم ”بہو بیگم “ آئی جس کے پوسٹر پر لکھا تھا ”صنم کدہ “ کی تخلیق ”بہو بیگم“ ۔ یہ فلم بہت کامیاب رہی۔ اس میں لکھنؤکی تہذیب وتمدن کی عکاسی تھی۔ درگاہ، مزارات کی قوالیوں کے علاوہ یہ نغمے بھی تھے جو بہت مقبول ہوئے:
ہم انتظار کریں گے ترا قیامت تک                              خدا کرے کہ قیامت ہو اور تو آئے
اور                           دنیا کرے سوال تو ہم کیا جواب دیں؟
دیوانند کے فلم سازادارہ’ نوکیتن‘ کی پہلی فلم ’بازی‘ ساحر لدھیانوی کی بھی بحیثیت فلمی شاعری پہلی فلم تھی۔ گرودت نے اسی سے اپنے فلم کیرئیر کا آغاز کیا۔بعد میں گرودت ہدایت کار اور ہیر و بن گئے انہوں نے ’پیاسا‘،’ کاغذ کے پھول‘ اور’ چوندھویں کا چاند ‘جیسی فلمیں بنائی۔ پیاسا ایک اردو شاعر کی زندگی پر مبنی تھی ساتھ ہی پیشہ ور طوائفوں کی خستہ حالی اور درد کو بھی اجاگر کرتی تھی۔ ساحر نے اس میں اپنی مشہور نظم چکلہ ”ثنا خوان تقدیس مشرق کہاں ہیں“ تھوڑی لفظی ہیر پھیر کے ساتھ پوری کی پوری پیش کی ہے اور اس مصرعہ کو فلم میں یو ں رکھا ہے:’ جنہیں ناز ہے ہند پر وہ کہاں ہیں‘۔ اسی فلم پبلشر کے ڈرائنگ روم میں مختصر شعری نشست میں جگر مرادآبادی کو بھی اپنا کلام سناتے دکھا یا گیا ہے۔ انہوں نے ”چوندھویں کا چاند “میں لکھنؤکی تہذیب کو پیش کیا ہے ۔ اس میں تین دوستوں کی ایثار اور قربانی ہے جن کے درمیان یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ کون زیادہ وفادار ہے۔ کاسٹنگ کے ساتھ بیگ گراؤنڈ سے یہ گا نا اس فلم کی جان ہے:”یہ لکھنؤ کی سرزمیں ، یہ لکھنؤ کی سرزمیں“ ساتھ ہی ٹائٹل سانگ ”چوندھویں کا چاند ہو یا آفتاب ہو“ اور” ملی خاک میں محبت جلا دل کا آشیانہ“ اور یہ گیت : ”شرماکے یونہی سب پردہ نشیں آنچل کو سنوارا کرتے ہیں “ بہت ہی مقبول ہوئے۔ اس فلم میں حج بدل کا مسئلہ بھی دکھایا گیا ہے ۔
سید امیر حیدر کمال امروہی کی ہر فلم نفاست اور شائستگی کا نمونہ ہوتی تھی۔ اپنی پہلی فلم ”دائرہ “ آخری تاریخی فلم”رضیہ سلطان “ تک انہوں نے ماحول سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ اپنے مخصوص انداز میں فلمیں بناتے اور اس کی نوک وپلک کو سنوارتے ۔ ایک فلم میں کئی کئی شعرا کے کلام شامل کرتے ۔ ’بمبئی ٹاکیز ‘کے بینر تلے بنی ان کی فلم ”محل“ ہندستان کی پہلی تجسسی (سسپنس) فلم تھی۔ یہ ہندو عقیدہ پنر جنم پر تھی۔ اس کے یہ گانے :”آئے گا آے گا آنے والا“ لتا منگیشکر کی آواز میں اور امیر باقی کرناٹکی کی آواز میں” گھبرا کہ جو ہم سر کو ٹکرائیں تو اچھا ہو“ وغیرہ بہت مشہور ہوئے۔
اس فلم کے ایک سین میں عزت مآب جج کو ایک مقدمہ کا فیصلہ اردو میں لکھتے ہوئے اور آخری جملہ جس میں سزائے موت دی جاتی ہے قلم توڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
سہراب مودی کی تاریخی فلم ”پکار“ کے مکالمے انہوں نے ہی لکھے تھے ۔یہ ہندوستان کی پہلی تاریخی فلم تھی جس میں” با ادب !باملاحظہ ! ہوشیار!“ جیسے مکالمے کی اختراع ہوئی۔ انہوں نے طوائف کی زندگی پر ایک کامیاب فلم ”پاکیزہ“ بنائی جس کے مکالمے ”تعجب ہے لوگ دودھ سے بھی جل جاتے ہیں“ اور ”چلو پاکیزہ یہ دلدل پر کہرے سے بنی عمارت ہے جس میں ہر سانس کے لینے سے پہلے اجازت لینا پڑتی ہے“ کافی مقبول ہوئے ۔ اس فلم میں کمال امروہی کی اہلیہ میناکماری پاکیزہ کے رول میں تھی۔ فلم کے آغاز میں ایک کردار کو لفافہ پر اردو میں پتہ لکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔ جو یوں ہے۔ ”شہاب الدین ، گلی قاسم جان، دہلی“
اپنی آخری تاریخی فلم ”رضیہ سلطان“ میں مکالموں کی صحیح ادائیگی اور تلفظ درست کرانے کی غرض سے فلم کی ہیروئن ہیما مالنی کو چھ ماہ تک اردو استاد رکھ کر باقاعدہ اردو کی تعلیم دلوائی۔ فلم میں رضیہ سلطان کو گھوڑ سواری اور فن سپہ گری سکھانے والے اتالیق کا کردار دھرمیندر نے ایک حبشی غلام کے رول میں ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ مشہور اداکار سہراب مودی نے بھی نظام الملک کا کردار ادا کیا ہے۔ فلمکی شروعات فانی بدایونی کے اس شعر سے ہوتی ہے:
حسن ہے ذات میری ، عشق صفت ہے میری                      ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا
یہ فلم غلام خاندان کی حکومت التمش اور اس کی بہادر لڑکی رضیہ سلطان کی تاج پوشی اور الطونیہ کی بغاوت پر مشتمل تھی۔
سہراب مودی نے اپنی فلم کمپنی منروا مووی ٹون کے بینر تلے کئی مشہور سماجی اور تاریخی فلمیں بنائیں جن میں جھانسی کی رانی ، سکندر اعظم وغیرہ۔
  سہراب مودی مکالموں کی ادائیگی کے لیے مشہور تھے۔ بڑے کرخت لہجہ میں پارسی تھیٹر کے اندر قافیہ اور ردیف ملاکر زوردار آواز میں ادا کرتے ۔ برجستہ اشعار بھی ہوتے تھے۔
 فلم جھانسی کی رانی ایک تاریخی فلم تھی اور اس فلم کی تاریخی حیثیت یہ بھی ہے کہ یہ پہلی رنگین فلم تھی۔لیکن اس فلم کو مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی۔
آغا حشر کاشمیری کا ڈرامہ یہودی کی لڑکی پر بعد میں بمل رائے نے یہودی نام سے فلم بنائی۔اس میں دلیپ کمار نے ایک رومن شہزادے کا اور مینا کماری نے یہودی کی لڑکی کا کردار ادا کیا تھا۔وجاہت مرزا کے لکھے ہوئے ڈائیلاگ کو سہراب مودی کی ماہرانہ ادائیگی نے چار چاند لگادیا جو کافی مقبول ہوئے ۔ جیسے :          
”نکل جانے کی یہ حسرت بڑی مشکل سے نکلے گی                 کلیجہ چیر دے گی آہ جو اس دل سے نکلے گی“
اور           ”تمہارا خون خون اور ہمارا پانی ہے “۔
سہراب مودی نے غالب کی زندگی پر مبنی ایک فلم’ مرزا غالب‘ بھی بنائی ۔ اس کی ساری غزلیں مرزا ہی کی تھیں۔ اس میں غالب کے بعض لطیفے جیسے” گدھے آم نہیں کھاتے“ شامل ہیں۔ فلم مرزا غالب کو صدر ایوارڈسے بھی نوازا گیا ۔ اس سے خوش ہوکر سہراب مودی نے غالب کے مزار کی مرمت کرائی اور اس پر گنبد بھی بنوایا ۔ غالب کے رول میں بھارت بھوشن تھے جب کہ ڈومنی کے کردار میں ثریا تھی۔
فلموں کی تاریخ میں کے آصف نے بڑی اونچی جگہ پائی ہے۔ وہ بڑے ہی فیاض اوردلیر آدمی تھے۔ انہوں نے ہلچل اور مغل اعظم بنائی۔ اس وقت جب کہ پچیس تیس لاکھ میں ایک عمدہ فلم مکمل ہوجاتی تھی مگر کے انہوں نے ایک کروڑ کی لاگت سے مغل اعظم بنائی ۔ اس فلم کا ہر کردار انگوٹھی کے نگینہ کی طرح فٹ تھا۔ مغل شہنشاہ اکبر کے رول میں پرتھوی راج کپور ، رعب ودبدبہ میں اصلی شہنشاہ معلوم پڑتے تھے۔ شہزادہ سلیم کے رول میں دلیپ کمار ، انار کلی کی رول میں مدھوبالا اور مہارانی کے رول میں درگا کھوٹے ، وزیر اعظم راجہ مان سنگھ کے رول میں مراددُرجن سنگھ ، سپہ سالار کے رول میں اجیت او رسنگ تراش کے رول میں کمارتھے۔ امتیاز علی تاج کے ڈرامہ پر مبنی اس فلم کی نوک وپلک کو سنوارنے کے لیے ادیبوں کی ایک ٹیم تھی جن میں امان اللہ خان، وجاہت مرزا، اخترالایمان، کمال امروہی اور احسن رضوی شامل تھے۔ جبکہ ان میں سے ہر ایک رائٹر اپنی فلم کی کامیابی کے لیے اکیلا ہی کافی تھا۔
ایک ہی سین کو ہر رائٹر اپنے اپنے ڈھنگ سے لکھتا اور جو سب سے اچھا او رمناسب ہوتا باتفاق رائے اسے منتخب کرکے فلم میں شامل کیا جاتا ۔ اس فلم کے سارے نغمے شکیل بدایونی نے لکھے تھے اور موسیقی نوشاد نے ترتیب دی تھی۔
اس میں شامل نعت شریف ’بے کس پہ کرم کیجئے سرکار مدینہ ‘اور قوالی کا مقابلہ ”تیری محفل میں قسمت آزماکر ہم بھی دیکھیں گے“ اس کے علاوہ سارے نغمے فلم ریلیزہونے سے قبل ہی مقبول ہوچکے تھے۔
مغل حکومت کے رواج کے مطابق اس فلم میں انارکلی کو لسان الغیب خواجہ حافظ شیرازی کے دیوان سے فال کھولتے بھی دکھایا گیا ہے۔ فال میں یہ شعر نکلتا ہے:
دل می رود زدستم صاحبدلاں خدارا                        دادا کہ راز پنہاں خواہد شد آشکارا
اس فلم کی تکمیل میں کے آصف نے سود خوار فنانسر شایورجی کے علاوہ اپنا مکان تک گروی رکھ دیا تھا۔ لیکن فلم کی کامیابی نے ان کے سارے قرضے چکادئے۔اس کے مکالمے اپنی فارسی زدگی کے باوجود جس طرح مقبول ہوئے وہ اردو کی چاشنی ہی کرامت تھی۔
مغل اعظم کی کامیابی کے بعد کیریکٹر ایکٹر اور ویلن شیخ مختار نے ایک تاریخی فلم ” نور جہاں “بنائی جس کے ہدایت کار ایم صادق تھے۔ اس میں اکبر اعظم کے رول میں رحمان اور نورجہاں کا کردار مینا کماری نے ادا کیا۔ یہ فلم خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کرسکی۔ مجبورا شیخ مختار اسے پاکستان لے کر گئے ۔ وہاں اس فلم کی نمائش ہوئی اور کافی مقبول ہوئی۔
مشہور مزاحیہ اداکار اوم پرکاش (اوم پرکاش بخشی) نے شاہ جہاں اور ان کی لڑکی جہاں آرا کی زندگی پر ایک تاریخی فلم ”جہاں آرا بنائی“۔ فلم شروع ہونے سے پہلے بیگ گراؤنڈ سے آواز آتی ہے اور جہاں آرا کی زندگی اوران کی پاک محبت پر نہایت احترام کے ساتھ شاعرانہ انداز میں مختصر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ فلم کے آخری منظر میں جہاں آرا کے مزار پر یہ شعر کندہ دکھائی دیتا ہے:
نے پر پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے                     بر مزار ما غریباں نے چراغے نے گلے
اس فلم سے وابستہ دلچسپ اور مزاحیہ پہلو یہ ہے کہ فلم کی ناکامی سے دل برداشتہ ہوکر اوم پرکاش نے اپنے دفتر کے دروازہ پر تختی لگوادی”مزار جہاں آرا“۔
مغل اعظم بننے میں کافی عرصہ لگا۔ اس دوران فلمستان نے اسی کہانی پر’ انار کلی‘ بنائی اور ریلیزی کردی جو حسرت جے پوری اور راجندر کرشن کے نغموں اور موسیقار سی رام چندر کی دھنوں کی وجہ سے خوب چلی۔ اس کے ہر نغمے بہت مشہور ہوئے۔ اس فلم میں شہزادہ سلیم کا رول پردیپ کمار نے اور انار کلی کا رول بینا رائے نے ادا کیا ہے۔
خواجہ احمد عباس بھی علی گڈھ سے فارغ التحصیل ہوکر بمبئی گئے اور صحافت کے میدان میں قدم رکھا ساتھ ہی انہوں نے راجکپور کے لیے ’انہونی ‘،’شری چار سو بیس‘ ،’ آوارہ‘،’ میرا نام جوکر‘ اور’ سنگم ‘وغیرہ فلمیں بھی لکھیں۔
”نیا سنسار“ کے نام سے انہوں نے اپنی فلم کمپنی بھی بنائی ۔ اس کے تحت شہر اور سپنا، دو بوند پانی، سات ہندوستانی بمبئی رات کی بانہوں میں، نکسلائٹ اور آسمان محل وغیرہ فلمیں بنائیں۔ اپنی اکثر فلموں میں مارکسی نظریہ پیش کیا۔ شہر اور سپنا سال کی بہترین فلم قرار دی گئی۔ اسے اس سال کا صدارتی ایوارڈ بھی حاصل ہوا۔ یہ ملک کے مختلف حصوں سے سات آزادی کے متوالوں کی کہانی ہے۔ مشہور اداکار امیتابھ بچن کو پہلی مرتبہ اسی فلم میں بہار کے ایک شاعر انور کے کردار کے طور پر موقع ملا تھا۔
آسمان محل حیدر آباد کے نوابوں کی ٹھاٹھ باٹ اور آزادی کے بعد تقسیم ہند اور زمینداروں کے خاتمہ کے ساتھ شرفا کی بتدریج زبوں حالی ،سماج کے بدلتے اقدار اور کمیونسٹ نقطہ نظر کی عکاس تھی۔
مظفر علی نے بھی علی گڈھ سے فراغت کے بعد ایک فلم گمن بنائی جو کافی مقبول ہوئی اس میں شہر یار کی اس غزل کو شامل کیا :
سینے میں جلن آنکھوں میں طوفان سا کیوں ہے                    اس شہر میں ہر شخص پریشان سا کیوں ہے
                اس کے بعد انہوں نے فلم ”امراؤ جان“ بنائی ۔ جو مرزا ہادی رسوا کے ناول امراؤ جان اداپر مبنی تھی۔اس میں لکھنؤ کی زوال آمادہ تہذیب کی عکاسی کی گئی ہے ۔ اس سے قبل اور اس کے بعد بھی اس پر فلمیں بنیں لیکن مظفر علی کی فلم امراؤ جان سے زیادہ مقبولیت حاصل نہ کرسکی ۔ بہترین فلم، بہترین ڈائرکٹراوربہترین ہیروئن کا ایوارڈ حاصل کیا ۔
۰۶۹۱ میں نانا بھائی بھٹ نے فلم ”لال قلعہ “ بنائی ۔ یہ فلم آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر پر مبنی تھی۔ اس کے سارے نغموں کے لیے بہادر شاہ ظفر کی غزلیں ہی منتخب کی گئیں۔
 کملیشورنے بھی ایک تاریخی فلم ’بھگت سنگھ “ بنائی تھی۔ اس فلم میں انگریز مخالف باغیانہ پمفلٹس ، اخبارات اور پرچے اردو میں لکھے ہوئے دکھائے گئے تھے۔ جیل کی دیواروں پر بھگت سنگھ کو ’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے“ جیسے کئی اشعار لکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔
گذشہ چند برسوں میں بھی تاریخ پر مبنی چند فلمیں مثلا جودھا اکبر، اشوکا اور بھگت سنگھ وغیرہ آئی ہیں۔ اپنے تاریخی پس منظر کی وجہ سے ان فلموںکا بھی اردو زبان کے اس لہجے سے جسے خالص ہندستانی زبان کہا جاتا ،گہرارشتہ ہے۔
 آپ نے دیکھا کہ ہر دوجہت سے ان فلموں کے رشتے اردو سے گہرے اور مضبوط ہیں۔ جب کہ یہ چند تصویریں اور جھلکیاں تھیں۔ حقیقت یہ ہے کہ فلموں کا رشتہ اردو زبان وادب سے اس سے بھی زیادہ گہرا اور گتھا ہوا ہے۔ اردو زبان وادب فلموں میں تازہ خون کی طرح سے دوڑتے ہیں ۔ یقینی طور اس تعلق سے اردو زبان وادب کو بھی عوامی مقبولیت کے حصول میں غیری معمولی کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔اردو زبان وادب کی تاریخ فلموں کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی لیکن یہ بھی اتنی ہی سچی حقیقت ہے کہ جب جب ہندوستانی فلموں کی تاریخ لکھی جائے گی اردو کے احسانات سے گراں بار رہے گی۔ جس دن فلموں کا یہ رشتہ اردو سے ختم ہوگیا ہندستانی فلمیں پیلیا کا شکار ہوجائیں گی۔
ززز
یہ مضمون قومی کونسل کی جانب سے منعقد دو روزہ سیمینار بعنوان ہندوستانی فلمیں اور اردو کے لیے لکھا گیا اور سیمینار میں پیش بھی کیا گیا۔ نیز امام اعظم کی کتاب ہندوستانی فلمیں اور اردو میں شامل کیا گیا ہے۔