مشمولات

Wednesday, 1 October 2014

ایک خط

(آفتاب عالم کے نام)
ہمدم دیرینہ!                 سلام ونیاز
مختصر پیغام رساں (ایس ایم ایس) کے ذریعہ آپ کا غیر تحریری پیغام موصول ہوا۔ اب میں اس کو آپ کی خموشی سمجھوں یا سادہ لوحی اس کا قطعی فیصلہ نہیں کرسکا۔ البتہ نیچے کا توضیحی بیانیہ پڑھ کر غالب کا ایک مشہور مصرعہ ذہن میں کوند کرگیا:‘‘اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا’’۔ معا یہ خیال بھی آیا کہ اس دور پیچاں میں اس سادگی کا اظہار! اللہ اللہ!!
میں عجب تذبذب میں ہوں کہ اگر اس سادگی پر اعتبار نہ کروں تو ننگ دوستی کا مرتکب کہلاؤں اور اگر کروں تو جمیل مظہری کی زبان میں خود سے ہی گلہ کا موقع ہاتھ آئے کہ میں ‘‘شہید ہوں اپنی سادگی کا’’۔
آپ نے لکھا تھا کہ آج کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے جو سمجھ میں آئے اوپر لکھ لیں ۔ سو میں ایک لاابالی ذہن یہی لا ابالی باتیں لکھ سکا۔ آپ نے کورا کاغذ بھیجا تھا۔ میں اگر رنگ وآہنگ کے آرٹ سے واقف ہوتا تو اس کاغذ میں پنہاں لازوال تصویر کو صیقل کردیتا اور اپنی جاودانی کا سامان پیدا کرلیتا۔ لفظوں سے کھیلنے کا ہنر جانتا تو قوت اظہار کے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاکر اپنی قادر الکلامی کے ثبوت فراہم کرتا اور امر ہو جاتا اور اگر  فکر وفلسفہ کے در وبست مجھ پر واشگاف ہوتے تو اس پر سنہری باتیں لکھنے کے بھی ہزار موقعے تھے ۔ اس سادے ٹکڑے پر فلسفیانہ موشگافیوں کے ذریعہ ناقابل تفہیم نکتے پیش کر کر کے آپ کو  تو  اپنا ہم نوا اور قائل کر  تا ہی آنے والوں کے لیے بھی اس نکتہ کی تفہیم پر سر دھنتے رہنے  اور کبھی حل نہ ہونے والے مسائل دے جاتا لیکن ظاہر ہے کہ جو دماغ منور ہوگا روشنی اسی سے پھوٹے گی۔ ایسے بھی یہ دور وسائل کے مثبت استعمال کی بجائے منفی استعمال کا ہے اور اس خاکسار کو بندہ عہد ہی سمجھیں۔
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا۔
                                                                                                                                         آپ کا مخلص
                                                                                                                                           احتشام الحق

Tuesday, 30 September 2014

پروفیسر منصور عمر بحیثیت مرتب و مدون

پروفیسر منصور عمر بحیثیت مرتب و مدون
             دبستان بہار کی ادبی روایات کو آگے بڑھانے میں جن شعرا وادبا نے گراں قدر علی خدمات انجام دی ہیں ان میں پروفیسر منصور عمر کا نام انتہائی ادب واحترام سے لیا جاتا ہے۔ پروفسیر منصور عمر کا اشہب قلم ابھی دوڑ ہی رہا تھا کہ تقریبا ۵۹ سال کی عمر میں ۲۳ اپریل۲۰۱۴ کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اس غیر طبیعی عمر میں پروفیسر منصور عمر نے بھر پور زندگی گزاری اور اپنی زندگی کے سارے انسلاکات میں ایک معتدل انسان کی روش اختیار کی۔ وہ پیشہ سے استاد تھے تو صرف استاد ہی ہوکر نہیں رہ گئے تھے؛ باوجودیکہ انہوں نے اپنے منصبی فریضہ میں کبھی کوتاہی نہیں برتی اور ایک اچھے استاد بھی ثابت ہوئے؛ لیکن ساتھ ہی علمی وادبی کام بھی اعتدال کے ساتھ اور متعدل فکر کے تحت جاری رہا۔ ادب کی ساری روایتیں، سارے رجحانات قابل قدر مگر ادب کی توانا قدروں اور فکر کی صالحیت کو برتری۔یہ تھا ان کا نظریہ فکر وفن۔ ان کی علمی وادبی خدمات کے کئی پہلو ہیں ۔ پروفیسر منصور عمر کا ادبی میدان شاعری اور تنقید رہا ہے۔ وہ جیسے شاعر تھے ویسے ہی اچھے تنقید نگار بھی تھے۔ انہوں نے اپنی مختصر عمر میں ۲۰ کتابیں تصنیف وتالیف کیں، ۵۰ سے زائد تحقیقی مقالات لکھے ، کم وبیش اتنے ہی علمی تبصرے کئے اور ۱۰سے زائدکتابوں کی مقدمے اورپیش لفظ بھی تحریر کئے ۔شاعری کی تقریبا تمام اصناف میں طبع آزمائی کی ۔ کئی طویل ترین نظمیں بہت مقبول ہوئیں۔ان کی شاعری یا تنقید نگاری کا بنیادی وصف یقین واعتماد تھا جس کی بنا اردو زبان وادب کی جملہ روایتوں پر مستحکم تھی۔ الغرض ان کی خدمات کی کئی جہتیں ہیں جن پر علاحدہ گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن اس مختصر مضمون میں پروفیسر منصور عمر کی تالیفی خدمات کی ہلکی سی جھلک پیش کی جارہی ہے۔ ان کے تالیفی کام کی ابتدا ”اختر اورینوی- فنکار وناقد“۱۹۸۵ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد۱۹۸۸ میں ”بہار کے چند نامور شعرا‘ ‘ جلد اول کی اشاعت عمل میں آئی جس کی دو سری جلد ان کی زندگی میں شائع ہوچکی ہے اور تیسری طباعت کے مرحلہ میں تھی کہ وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے علاوہ” مملکت نیپال“ ، ”طرزی اور طرزی بیان“ ،” کلیات طالب“ اور ”بیاض فکر رعنا“ ان کی تالیفی پیشکش ہیں۔
            ترتیب کاتعلق تدوین سے ہے اور بحوالہ ڈاکٹر گیان چند جین:
  اردو میں تدوین متن سے زیادہ مقبول اصطلاح ترتیب متن ہے۔ دونوں قریب المعنی ہیں۔ ترتیب کے معنی کسی شے کے اجزا کو مناسب تقویم وتاخیر سے رکھنا ہے۔ تدوین کے معنی متفرق اجزا کو اکھٹا کر کے ان کی شیرازہ بندی کرنا ہے چونکہ مجتمع کرنے میں ایک ترتیب سے کام لیا جاتا ہے اس لیے ترتیب اور تدوین میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ترتیب ایک عام لفظ ہے اور تدوین کا تعلق کتابوں سے ہے۔
                                                                        (تحقیق کا فن ۔ ڈاکٹر گیان چند جین ص ۳۹۸)
            مرتب جو ایک مدون ہوتا ہے اور اسے تحقیقی صلاحتیں بروئے کار لانی پڑتی ہیں کیونکہ ”تدوین تحقیق سے جدا فن نہیں ، یہ تحقیق ہی کی ایک شاخ ہے۔ اس کے لیے انہی صلاحیتوں اور ذہنی رجحان کی ضرورت ہوتی ہے جو تحقیق کے لیے در کار ہیں“۔ (تحقیق کا فن ۔ ڈاکٹر گیان چند جین ص ۹۹۳)
            پروفیسر منصور عمر اچھے تنقید نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے محقق بھی تھے اور اچھے مدون یا مرتب بھی۔ انہوں نے کل۸ کتابیں ترتیب دیں جن کے نام اوپر مذکور ہوئے۔ ان میں سے ایک اہم کام طالب دربھنگوی کے کلیات کی ترتیب وتدوین ہے جسے انہوں نے ۷۰۰۲ میں ترتیب دے کر شائع کیا تھا۔ گیان چند جین اپنی کتاب ”تحقیق کا فن“ میں لکھتے ہیں :
     ”منظومات کے مدون کو مجموعے کے مختلف اصناف کی ہیئتی خصوصیات اور معنوی روایات سے واقفیت ہونی چاہیے ۔ اس کے علاوہ عروض کی واقفیت بھی ناگزیر ہے ۔ عروضی حس کے ذریعہ وہ مصرعہ کے غیر موزوں متن کی گرفت کر کے اس کی تصحیح کرسکے گا۔ علم قافیہ، علم بدیع اور علم تاریخ گوئی کی واقفیت بھی مفید ثابت ہوگی ۔ تاریخ نکالنے کے مختلف طریقوں کی معلومات ہو تو اس سے قطعات تاریخ کا متن صحیح تر لکھا جائے گا“۔
                                                                        (تحقیق کا فن ۔ ڈاکٹر گیان چند جین ص۴۰۲)
            طالب دربھنگوی قادر الکلام شاعر تھے اور مختلف اصناف پر قدرت رکھتے تھے۔ بنیادی طور پروہ نعت گو شاعر تھے لیکن انہوں نے حمد، غزلیں، نظمیں، قطعات تاریخ اور فارسی میں بھی طبع آزمائی کی جن میں سے ۴۸ صفحات پر مشتمل نعتیہ مجموعہ ۰۹۳۱ھ میں ”نغمہ زار وفا“ کے نام سے شائع ہوا تھا۔
            پروفیسر منصور عمر خود اچھے شاعر تھے اور فن شاعری پر بڑی گرفت رکھتے تھے، قطعات تاریخ اور علم العروض کے چند گنے چنے لوگوںمیں ان کا نام آتا تھا۔ فارسی پر بھی قدرت رکھتے تھے۔ان کے علاوہ مشرقی شعریات اور اس کی تاریخ سے کما حقہ واقف تھے۔ اس اعتبار سے بھی اس کتاب کی تدوین کا کام ان کی صلاحیتوں اور ذہن کے عین موافق تھا جس کو بڑی حد تک انہوں نے پورا بھی کیا۔
            کلیات طالب میں ایک حمد، ایک ہدیہ سلام، ۳۶ نعتیں، ۱۱۱ غزلیں ۱۹ نظمیں، ۵ تاریخی قطعات، ۶ سہرے، ۱۰ غیر مطبوعہ نعتیں۴ مطبوعہ اور ۶ غیر مطبوعہ فارسی کلام شامل ہیں۔ جیسا کہ مقدمہ سے ظاہر ہے کہ ۱۳۹۰ھ میں طالب دربھنگوی کا نعتیہ مجموعہ شائع ہوا تھا جو صرف ۴۸ صفحات پر مبنی تھا ۔ کلیات کی فہرست سے مقابلہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس مجموعہ میں ۳۶ نعتیہ کلام اور ۴ فارسی کلام شامل تھے کیونکہ ۱۰ غیر مطبوعہ نعتوں کو بھی اس کلیات میں جگہ دی گئی ہے اسی طرح فارسی کلام کے ساتھ مطبوعہ ”نغمہ زار وفا“ کی صراحت موجود ہے۔
            انہوں نے اپنے مقدمہ میں نعت گوئی کی فن کی نزاکت کے حوالہ سے بڑی قیمتی گفتگو کی ہے اور کسی حد تک حمد ونعت کے باریک فرق کے درمیان خط امتیاز رکھنے کی طرف اشارہ بھی کیا ہے اور طالب دربھنگوی نے اس کو ملحوظ رکھنے کی کوشش کی ہے اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ ساتھ ہی طالب دربھنگوی کی شاعری میں جن مذہبی تلمیحات کا استعمال کیا گیا ہے ان کی طرف بھی اشارے موجود ہیں۔
            چونکہ اس کا تعلق تدوین متن سے ہے اس لیے کئی سوالات قائم کئے جاسکتے ہیں جن کی تشفی مقدمہ کے مطالعہ سے نہیں ہوتی ہے۔اتنا تو قرین قیاس ہے کہ طالب دربھنگوی کا کلام پروفیسر منصور عمر کو طالب دربھنگوی کے فرزند ارجمند پروفیسر عبد المنان طرزی کے یہاں سے حاصل ہوا ہوگا اور انہی کی ایما پر پروفیسر منصور عمر نے اسے ترتیب بھی دیا ہوگا ۔ تاہم مقدمہ سے اس بات کا انکشاف نہیں ہوتا ہے کہ بقیہ کلام کس صورت میں انہیں حاصل ہوا ۔ یہ مطبوعہ تھا یا غیر مطبوعہ اور ہر دو صورت میں انہیں شاعر کا قلمی نسخہ (آٹو گراف) یا بیاض حاصل ہوسکا یا نہیں ۔ نغمہ زار وفا ۰۹۳۱ھ میں جس کی اشاعت عمل میں آچکی تھی، اس کا قلمی نسخہ بھی انہیں حاصل ہوا یا نہیں تاکہ اصل نسخہ اور مطبوعہ کلام میں موازنہ کر کے تصدیق کی جاسکے کہ مطبوعہ کلام مسودہ سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے ۔ عام طور پر مطبوعہ کلام میں کاتب سے بھی بعض غلطیاں ہوجاتی ہیں جن کا اثر منظوم کلام میں بحر پر پڑسکتا ہے ، زبان کی فاش غلطی ہوسکتی ہے جس کا تصور شاعر کے مزاج اور پختگی کے اعتبار سے ممکن یا نا ممکن ہے ۔مدون کی ذمہ داری ہے کہ کلام کی تدوین کے وقت اصل نسخہ سے اس کی تصدیق کرے ۔ کتاب کے مقدمہ سے ایسا کچھ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ اس طرح کی کوئی غلطی نظر آئی یا نہیں اور اگر آئی تو اصل کلام تک کیسے رسائی ہوئی ۔ نغمہ زار وفا میں شامل نعت کے علاوہ غیر مطبوعہ نعت اور غیر مطبوعہ فارسی کلام کی صراحت کی گئی ہے جبکہ غزلوں کے بارے میں ایسی کوئی صراحت موجود نہیں ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ غزلیں غیر مطبوعہ تھیں تو کئی سوالات اور بھی قائم کئے جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر عبد المنان طرزی کے ذریعہ بیان کردہ اپنے والد ماجد کے سوانحی کوائف سے واضح ہوتا ہے کہ طالب دربھنگوی کی پیدائش ۱۹۱۵ میں ہوئی اور ۱۹۴۹-۵۰ میں انہوں نے اپنا تخلص شاطر سے بدل کر طالب کرلیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالب دربھنگوی نے کم از کم۲۵ سے۲۸ سال کی عمر سے شاعری شروع کردی تھی اور تقریبا ۳۵ سال کی عمر میں انہوں نے اپنا تخلص بدلا تھا ۔ اس طرح اس مدت میں انہوں اپنی شاعری میں کوئی مخصوص رنگ اختیار کر لیا تھا اور کلیات کی اشاعت ۲۰۰۷ میں عمل میں آئی جبکہ ”نغمہ زار وفا“ کی طباعت ۱۳۹۰ھ میں ہوئی جس کی کتابت ۱۹۷۰  میں مکمل ہوچکی تھی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مدت میں حضرت طالب دربھنگوی نے کیا صرف نعتیں ہی کہیں اور غزلوں سے لا تعلق رہے۔ پھر یہ کہ انہوں نے  ۱۹۴۹-۵۰میں شاطر سے طالب تخلص بدلا لیکن کلیات میں ان کی تمام غزلوں حتی کہ نعتیہ کلام میں بھی طالب ہی تخلص ملتا ہے ۔ مرتب نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ شاعر نے اس کلیات میں تخلص بدلنے سے قبل کا کلام شامل کیا ہے یا نہیں یا شاعر نے اپنی سابقہ غزلوں اور نعتوں سے بھی تخلص بدل دیا تھا جس کا امکان اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاطر اور طالب دونوں ہم وزن الفاظ ہیں اس لیے ایسا کرنے میں کوئی پریشانی بھی نہیں ہوئی ہوگی۔ بالفرض مرتب نے تخلص بدلے ہوئے مسودہ سے کلام کی تدوین کی توکیا انہیں کلام میں دیگر تبدیلیاں بھی دکھائی دیں یا نہیں۔
            تخلیقات کے ساتھ تاریخ دینے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قاری کو ادیب کے ذہنی وفکری ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ بہ استثنائے سہرا اور تاریخی قطعات یہ واضح نہیں ہوتا ہے کون سے کلام شاعر کی کس عمر کا ہے۔ مرتب نے بھی اس بات کی صراحت نہیں کی ہے کہ شاعر کے مسودہ میں انہوں نے اس کو تلاش کرنے کی کوشش کی یا نہیں ۔
            مرتب ایک اچھے تنقید نگار تھے اور زبان وادب پر ان کی پوری گرفت تھی ۔ مرتب نے طالب دربھنگوی کی زبان دانی،کہاوت اور مہاوروں کے حوالہ سے مقدمہ میں گفتگو بھی کی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ شاعر کی زبان دانی اور فن پر ان کی گرفت کا تنقیدی جائزہ لے کر اس کی قیاس آرائی کی جاسکتی تھی کہ ان کا کون سا کلام کس زمانہ کے آس پاس کا ہوسکتا ہے۔ اگر شاطر کے تخلص سے کلام موجود ہوتا تو ابتدائی کلام اور بعد کے کلام میں کچھ فرق واضح ہوسکتا تھا۔
            پروفیسر منصور عمر نے ۱۹۸۵ میں پروفیسر مظفر مہدی کے اشتراک سے” اختر اورینوی - فنکاروناقد“ کے نام سے۱۳۶صفحات پر مشتمل اپنی پہلی کتاب ترتیب دی تھی ۔ یہ کتاب تحقیق اور تدوین کے زمرہ میں شمار ہونے کے بجائے سراپا ترتیب ہے ۔لیکن جس پراجکٹ اور جس منصوبہ بندی کی تحت یہ کتاب شائع کی گئی تھی وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور جو کام کسی اکیڈمی یا کمیٹی کی جانب سے کیا جانا چاہیے تھا اس کو انہوں نے محض ۲افراد کے اشتراک سے شروع کیا۔ اس کتاب کا مقصد بہار کے فنکاروںکی خدمات کو سامنے لانا ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
        ”کہا جاتا ہے کہ تنقید کو بلا تفریق مذہب وملت ، علاقہ واریت ، گروہ بندی اور نظریاتی عصبیت سے دامن بچاکر اپنے فرائض انجام دینا چاہیے ۔ لیکن کہنے دیجئے کہ اردو تنقید ان چیزوں سے اپنے چہروں کو بے داغ نہ رکھ سکی اور نظریاتی گروہ بندی اور علاقائیت کی بری طرح شکار رہی ہے۔ چنانچہ ہمارے ناقدین دبستان بہار کے ادیب وفنکار کی خدمات کے اعتراف سے مسلسل صرف نظر کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ مسلم حقیقت کہ جن دنوں دہلی ولکھنؤ کے ادیب وفن کار اردو شعروادب کے گیسو سنوارنے میں منہمک ومشغول تھے انہی دنوں بہار میں اردو زبان وادب کی تزئین و آرائش ہورہی تھی’’۔
                                                                                    (پیش لفظ : اختر اورینوی - فنکار وناقد)
            اس کے بعدانہوں نے مختلف مثالوں سے ثابت کیا ہے کس طرح ملک کے دیگر خطوں کے مساوی بہار میں اردو ادب کی گراں قدر خدمات انجام دی جاتی رہی ہیں۔ اس میں جو مضامین شامل کیے گئے ہیں وہ متنوع ہیں اور اختر اورینوی کی ادبی خدمات کے تمام گوشوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس طرح اس ایک کتاب میں ان کی خدمات کو مجموعی طور پیش کر کے دبستان بہار کی خدمات کے ایک جزو کو سامنے لایا گیا ہے ۔
            پروفیسر منصور عمر کی دوسری کتاب ۱۹۸۸ میں پروفیسر مظفر مہدی کے اشتراک سے ہی ”بہار کے چند نامور شعرا “ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کو آخر الذکر کتاب کی توسیع کہا جاسکتا ہے۔لکھتے ہیں:
        ”امر واقعہ یہ ہے کہ بہار میں اردو شعر وادب کی تاریخ بڑی شاندار رہی ہے ۔ اردو کے دوسرے معروف دبستانوں کی طرح سرزمین بہار نے بھی اردو شعر وادب کی جملہ اصناف کی زلف پیچاں کو سنوارنے اور سجانے میں گراں بہا خدمات انجام دی ہے۔ بالخصوص جب ہم یہاں کے شعری سرمایہ پر نظر ڈالتے ہیں تو بلاتکلف یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ بہار میں اردو شاعری کے مرغزارہر دور میں بڑے ہی سر سبز وشاداب رہے ہیں خواہ اردو شاعری کا قدیم دور ہو یا ترقی پسندانہ دور یا دور جدید ۔ لیکن ہمیں کہنے دیجئے کہ ان شعرا وادبا کے شاعرانہ کمالات ، فنکارانہ جوہر اور بیش قیمت خدمات کے باوجود ان کی قدر شناسی میں مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے۔
                                                                                    (پیش لفظ : بہار کے چند نامور شعرا ۔ ج اول)
             انہوں نے آخر الذکر کتاب میں بہار کی ایک انتہائی محترم علمی وادبی شخصیت کی خدمات کا تفصیلی احاطہ کیا ہے تو اس کتاب میں بہار کی ۱۵ منتخب ادبی شخصیات کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ ایک یا دو آدمی کے لیے یہ ممکن بھی نہیں ہے کہ کسی علاقہ کی تمام ادبی شخصیات کا الگ الگ طور پر تفصیلی احاطہ کرے ۔ اس کتاب میں انہوں نے جن شخصیتوں کو شامل کیا ہے ان پر ایسے مضامین پیش کئے گئے ہیں جن میں کسی ایک پہلو پر روشنی ڈالنے کی بجائے ان کی کل شعری خدمات کا مجموعی احاطہ کیا گیا ہے ۔ چونکہ اس کتاب کے نام میں ہی شعرا کی تخصیص کردی گئی ہے اس لیے اس میں منتخب شخصیات کی دیگر خدمات سے صرف نظر کیا گیا ہے۔
            اس کتاب کی اشاعت کے پچیس سال بعد۲۰۱۴ میں انہوں نے اس کی توسیع کی اور ۱۹۵۰ سے قبل کے ۳۰ شعرا کو شامل کرتے ہوئے دوسری جلد شائع کی اور اس کے فورا بعد تیسری جلد کا کام کیا جو ابھی زیر طباعت ہے ۔ دوسری جلد کے مقدمہ کی صراحت کے مطابق اس کتاب میں ۱۹۵۰ کے بعد کے شعرا کو جگہ دی گئی ہے۔ یہ کام پروفیسر منصور عمر اپنی زندگی میں مکمل کرچکے تھے لیکن افسوس کہ شائع شدہ کتاب نہ دیکھ سکے اور دنیا سے چل بسے۔
            ان تینوں کتابوں میں انہوں کچھ ایسے مضامین شامل کئے ہیں جو پہلے سے لکھے ہوئے تھے تو بعض ایسے شعرا پر کوئی مبسوط اور مکمل مقالہ لکھا ہوا انہیں حاصل نہیں ہوسکا جن کو شامل کیا جاتا، نتیجتاً مرتبین نے ان شعرا پر ماہرین سے مضامین تحریر کرا کر شامل کئے ۔ حالانکہ یہ وہ شعرا ہیں جن کی خدمات لائق تحسین وتعریف ہیں اور کسی طرح بھی ان کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ یقینی طور پر یہ ایک نیا کام اور بڑا کام تھا جس کے لیے ان کو بہت تگ ودو کرنی پڑی اور کئی مواقع پر مایوسی کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ ان مضامین سے بہار اسکول کی خدمات کے سرمایہ میں یقینی طور پر اضافہ ہوا اور بہت سے شعرا کو فراموشی سے بچالیا گیا ہے جو یقینا ان کا بڑا کارنامہ ہے۔
            ضرورت اس بات کی تھی کہ جس طرح شعرا کی خدمات کا احاطہ کیا گیا اسی طرح نثر میں داستان، ناول، افسانہ، تذکرہ ، تحقیق، تنقید ، سوانح کی خدمات کو بھی پیش کیا جاتا ۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی اکاڈمی یا کمیٹی ہی کرسکتی ہے ۔ لیکن اکیڈمیوں سے اس کی توقع تحصیل لاحاصل ہے آج۔ خود اس کتاب کی اشاعت سے قبل مرتبین کا ارادہ تھا کہ جن شعرا کو شامل کیا جائے ان کا سوانحی خاکہ، تنقیدی مقالہ اور نمونہ کلام پیش کیا جائے جس کی اشاعت کے لیے بہار اردو اکیڈمی سے مالی امداد کی درخواست بھی کی گئی تھی لیکن ناکامی کے بعد صرف تنقیدی مقالے کو شامل کرتے ہوئے انہوں نے بالآخر کتاب شائع کرنے کی کوشش کی اور اس زمانہ میں کام شروع کیا جب کتابوں کی طباعت بڑے حوصلہ اور جرأت کی بات تھی ۔ گرچہ یہ کام آج بھی حوصلہ کا ہی ہے تاہم پہلے کے مقابلہ میں اب بہت سی آسانیاں ضرور میسر ہیں۔
            پروفیسر منصورعمر کی ترتیبات میں ایک اہم کتاب ”طرزی اور طرز بیان“ بھی ہے جو ۲۰۰۶ میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کتاب کا موضوع پروفیسر عبد المنان طرزی اور ان کے فکر وفن ہیں۔ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے وہ خود لکھتے ہیں:
      ”زیر نظر کتاب ”طرزی اور طرز بیان“ ان مقالات کا مجموعہ ہے جو طرزی کے فکر وفن پر اردو کے ناقدوں اور دانشوروں نے قلم بند کئے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے طرزی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بے حد مدلل بھی ہیں اور متوازن بھی ۔ چنانچہ ان مقالات سے طرزی کا جو فنکارانہ نقش ابھرتا ہے ان کے متوازن ہونے میں بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی “۔
                                                                                    (عرض مرتب: طرزی اور طرز بیان ۔ ص۴ ۱)
            پھر ایک جملہ سے بڑی خوبصورتی سے اپنی ناقدانہ بصیرت کا ثبوت دیا ہے جس سے ان کی ظرافت کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔ لکھتے ہیں:
              لیکن کیا ضروری کہ آپ میری ذاتی رائے سے اتفاق کریں ہی۔ لہٰذا میں اپنی بات فارسی کے اس مقولہ کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ ”مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید“۔ (ایضا)
            اس کتاب میں انہوں نے۴۷ تنقیدی، تاثراتی، تجزیاتی مضامین اور منظوم تاثرات شامل کئے ہیں اور ”ایسا کہاں سے لاؤں “ کے عنوان سے عرض مرتب لکھا ہے جس میں مختصر طور پر طرزی کی شخصیت، سرگرمی، عادات واطوار، نفسیات، فکر اور فن پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے مطالعہ سے پروفیسر منصور عمر کے گہرے مشاہدہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس مقدمہ میں جا بجاپروفیسر منصور عمر کی ظریفانہ طبیعت کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو ان کی گفتگو کا خاصہ تھا ۔ بعد میں اس کتاب کے مضامین سے تراش نکال کر اور چند ایک مضامین کا اضافہ کر کے لمعات طرزی کے نام سے ایک ڈاکٹر منصور خوشتر نے ترتیب دے کر شائع کیا۔
            پروفیسر منصور عمر کی ترتیبی پیشکش میں ایک اہم نام” بیاض فکر رعنا “ہے جو عبد المنان طرزی کے تاریخی قطعات کا مجموعہ ہے۔ شعری اصناف میں تاریخی قطعات منفردوصف رکھتے ہیں اور اردو شاعری اس کی اپنی روایت اور اہمیت رہی ہے ۔ ماضی میں اس پر بڑی توجہ دی جاتی تھی لیکن اب اس فن سے توجہ بھی کم ہوگئی ہے اور اس کے جاننے والے بھی عنقا ہوتے جارہے ہیں۔ جیساکہ پروفیسر منصور عمر نے لکھا ہے کہ” اردو میں تاریخ فن گوئی کا فن رفتہ رفتہ معدوم ہوتا جارہا ہے “ ۔ ان کا خیال ہے کہ ”بہار میں تاریخ گوئی کی روایت بہت ہی مستحکم اور پائدار رہی ہے “۔ لیکن ”فی زمانہ جو فنکار تاریخ گوئی میں طبع آزمائی کر رہے ہیں اور اس میں اعتبار حاصل کرچکے ہیں ان کے نام بھی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں“۔ (پیش لفظ: بیاض فکر رعنا)
                        فن تاریخ گوئی کے ماہرین میں خود مرتب منصور عمر کا نام بھی شامل تھا۔ اس حیثیت سے اس کتاب کی ترتیب کا کام بھی ان کے ذہن کے موافق تھا جس کا واجب حق بھی وہی ادا کرسکتے تھے۔ عرض مرتب کی شروعات اپنے تاریخی کلام سے شروع کی ہے اور کتاب کے نام سے سن اشاعت ۱۴۳۴ھ نکالا ہے ۔
اک ”بیاض فکر رعنا
۱۴۳۴ھ
اک ”تلاش افتخار
۲۰۱۳ئ
            پہلے مصرعہ سے ہجری سال اشاعت ۱۴۳۴ھ اور دوسرے مصرعہ سے ۲۰۱۳ءعیسوی سن نکالا گیا ہے۔
            ایسا لگتا ہے کہ اس تاریخ کی تخریج سے ہی شاید اس کے نام” بیاض فکر رعنا “کا انتخاب کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کتاب کو ۱۴۳۴ھ مطابق ۲۰۱۳ میں شائع ہونا تھا لیکن بعض وجوہات کے سبب ۲۰۱۳ میں نہ شائع ہوکر ۲۰۱۴ میں شائع ہوسکی۔
            جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ یہ کتاب ان کے ذہن کے موافق ہے ، انہوں نے عرض مرتب میں فن تاریخ گوئی کی تاریخ ، اس کے حروف یا اصطلاحی الفاظ کے بیان کردہ معانی اوراس کی تاریخ، ہندوستان میں اس فن کی آمد اور یہاں اس فن پر لکھی جانے والی اہم کتابوں اور بہار میں اس فن کے ماہرین پر بھر پور روشنی ڈالی ہے جس سے بہت کم ہی لوگ واقف ہوں گے۔ اس کے بعد انہوں نے تاریخ کی تخریج کے استعمال شدہ طریقوں اور عبد المنان طرزی کی اس فن میں مہارت اور تاریخ کی تخریج کے وہ تمام طریقے جن سے طرزی نے فائدہ اٹھایا ہے ان سب کا بڑی باریک بینی سے مثالوں کے ساتھ جائزہ لیا ہے اور واقعی ترتیب کا حق ادا کردیا ہے۔
            پوری کتاب کو تاریخ وفیات، تاریخ مطبوعات، تاریخ شخصیات، تاریخ متفرقات اور تاریخ شادیات کے تحت ابواب میں منقسم کرکے کل پانچ ابواب بناکر ۱۷۹ تاریخی قطعات کو شامل کرتے ہوئے تاریخ شادیات کے علاوہ تمام قطعات کو حروف تہجی کے اعتبار سے پیش کیا ہے جبکہ تاریخ شادیات کو تاریخ کے لحاظ سے ترتیب دیا ہے اور آخر میں بجا طور پر یہ حکم لگاتے ہوئے عرض مرتب کو ختم کیا ہے کہ ’ ’بیاض فکر رعنا“نہ صرف طرزی کی بلکہ فن تاریخ گوئی میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔
            ۲۰۰۸ میں پروفیسر منصور عمر نے” مملکت نیپال“ کے نام سے بھی ایک کتاب ترتیب دی تھی جو پروفیسر مطیع الرحمن (۱) کی کتاب ہے ۔ اس میں مملکت نیپال کے سماجی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی حالات بیان کئے گئے ہیں۔پروفیسر منصور عمر نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ یہ کتاب اردو زبان میں اپنی نوعیت کی واحد کتاب ہے۔
            ان کے علاوہ” اختر اورینوی- فنکار وناقد “کی پشت پر دیئے گئے اشتہار میں مؤلفین کی دیگر کتابوں میں ”بہار کے چند نامور تنقید نگار“ اور ”بہار کے چندنامور افسانہ نگار“ زیر ترتیب دکھائے گئے ہیں ۔ لیکن پروفیسر منصور عمر نے اپنے سوانحی کوائف میں ان کتابوں کا ذکر نہیں کیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ بعد میں ان کتابوں سے انہوں نے توجہ ہٹالی ۔
            اس طرح پروفیسر منصور عمر نے ”بہار کے چند نامور شعرا“ کی ۳ جلدوں سمیت ۸ کتابیں ترتیب دے کر اپنی مہارت، ذوق اور حسن انتخاب کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ یہ کتابیں نہ صرف منصور عمر کی علمی خدمات کو پیش کرتی ہیں بلکہ اردو ادب کے گراں قدر سرمائے میں بیش بہا اضافہ بھی ہیں جن کی وجہ سے اردو زبان وادب کی تاریخ میں ان کام نام احترام سے لیا جاتا رہے گا۔ یہاں اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ انہوں نے” بہار کے چند نامور شعرا “کے عنوان سے جو کام شروع کیا تھا وہ بہت وسیع ہے اور دبستان بہار کی تاریخ کو باوزن اور وقیع بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ گرچہ یہ کام انہوں نے پروفیسر مظفر مہدی کے اشتراک سے شروع کیا تھا جو امید ہے کہ آئندہ بھی اس کو آگے بڑھاتے رہیں گے ۔ لیکن یہ اپنی نوعیت کے کام کی ایک جہت تھی۔ بہار کی علمی وادبی خدمات کی دیگر جہات کو شامل کرنے کے لیے ،جن کی طرف بھی منصور عمر کی توجہ رکھتے تھے، ضروری ہے کہ شبلی کی طرح انہیں بھی کوئی سلیمان ملے جو اس کام کو جاری رکھ سکے۔
٭٭٭
(۱) پروفیسر مطیع الرحمن ایل این ایم یو دربھنگہ کے صدر شعبہ اردو تھے۔ انہوں نے اردو زبان میں مختلف علاقوں کے جغرافیائی پس منظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہاں کی زبان وادب اور اردو زبان کے اثرات کا بڑی سطح پر جائزہ پیش کیا ہے۔

Wednesday, 28 May 2014

منصور خوشتر کے جمال نظر کا عکاس: لمعات طرزی

منصور خوشتر کے جمال نظر کا عکاس: لمعات طرزی

                ”عجم زندہ کردم بدیں پارسی“
 فردوسی کا یہ مصرعہ آج بھی اہل ایران کے لیے سرمایہ افتخار ہے اور جس طرح یہ مصرعہ سرمایہ افتخار ہے اسی طرح اس مصرعہ کا خالق فردوسی بھی؛ اہل ایران ہی نہیں بلکہ اہل ہند کے لیے بھی اور اہل ہند ہی کیا وہاں وہاں جہاں زندہ دلی ہے، احساس ہے ، شعور ہے ،ذوق ہے ؛ سرمایہ صد افتخار ہے۔ فردوسی نے شاہنامہ لکھ کر اس وقت کے ایران کو آج بھی زندہ وتابندہ رکھا ہے تو ہمارے عہد میں ہندوستان کی دور افتادہ مگر روشن زمین دربھنگہ کے بجھتے ہوئے تاروں کو بھی تابندگی دینے کے لیے خود دربھنگہ میں ایک فردوسی پیدا ہوا جسے لوگ حافظ عبد المنان طرزی کہتے ہیں۔ حافظ عبد المنان طرزی شاعر ہیں مگر شعرا میں امتیاز یہ ہے کہ انہوں نے اپنی لو تیز کرنے کی بجائے بہار اور بطور خاص دربھنگہ کی سرزمین کی ادبی شمعوں کی بجھتی ہوئی لووںکو روغن دے کر تیز وتند بنادیاہے جو بہت دنوں بعد تک بھی ٹمٹماتی رہیں گی۔ اگر اس کا مشاہدہ کرنا ہو تو اس کے لیے ان کی کل ادبی نگارشات کی بجائے صرف رفتگاں وقائماں، سو دیدوراں ،دیدہ وران بہار اور آہنگ غزل کا مطالعہ ومشاہدہ ہی کافی ہے۔
                حافظ عبد المنان طرزی کا ادبی سفر بہت طویل ہے۔ اس مدت میں انہوں نے بہت لکھا اور جو لکھا عمدہ ہی لکھا۔ عام طور پر زود گویوں کے یہاں فنی چابک دستی اور پختگی تو خوب محسوس ہوتی ہے مگر فکر کی زمین پر شادابی کی کمی آنے لگتی ہے۔ عبد المنان طرزی کا معاملہ یہ ہے کہ خوب لکھتے ہیں اور جو لکھتے ہیں سب میں فکری اعتبار سے سر سبزی وشادابی وافر طور پر موجود رہتی ہے۔ ان کی مہارتوں اور فنی وفکری خوبیوں کو ملک بھرکے مشاہیر اور اہل نظر نے سند واعتبار بخشا ہے جن کوزیر نظر کتاب ”لمعات طرزی“ میں دربھنگہ ٹائمس کے مدیر ، صحافی اور شاعر ڈاکٹر منصور خوشتر نے ترتیب دے کر شائع کردیاہے۔ مذکورہ کتاب میں ملک وبیرون ملک کے ۱۳۶ مشاہیر کی آرا شامل کی گئیں ہیں جن میں امریکہ سے ۴ کناڈا سے ۲ ، لندن سے ۴، پاکستان سے ۵ ، ایران سے ایک اور ہندوستان کے ۸۴ شہروں سے تعلق رکھنے والے۱۲۰ مشاہیر نے عبد المنان طرزی کے فکر وفن پر اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا ہے اوران کی شاعری کو قابل فخر کارنامہ قرار دیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبد المنان طرزی عالمی شہرت یافتہ ہیں اور ان کا فن سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ ان آرا میں ۲۱ منظوم تاثرات بھی شامل ہیں۔ عبد المنان طرزی کلاسیکل طرز کے مشہور شاعر ہیں جنہوں نے تقریبا ۰۴ ہزار اشعار کہہ دیئے ہیں۔ بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر ہیں اور غزل میں ان کی فکر کلاسیکی اندازبیان کا پیرایہ اختیار کرتے ہوئے اپنے عہد کے مسائل کو پیش کرنے میںبھی کامیاب ہے۔ لیکن انہوں نے غزل کے علاوہ اپنی پہچان منفرد انداز کی نظم گوئی میںبنائی ہے جس میں شعرا، ادبا اور دانشوران کی زندگی کا منظوم تعارف پیش کیا ہے۔ رفتگاں وقائماں ( اب تو قائماں میں بھی شامل کئی حضرات حی القائم نہیں رہے)،سو دیدوراں، دیدوران بہار، طلع البدر علینا (منظوم سیرت الرسول) اور آہنگ غزل اس قبیل کے ان کے مشہور منظوم کارنامے ہیں۔ طرزی نستعلیق اور نفیس طبیعت کے مالک ہیں جو ان کے لباس وپوشاک اور کھانے پینے پر بھی نظر آتی ہے۔ ان کی شاعری میں وہی نفاست اور تراش خراش موجود ہے جو ان کے پان کی گلوری کے تراش خراش میں ہے۔ الفاظ وتراکیب کے استعمال میں وہی انتخاب ہے جو ان کی شخصیت کا خاصہ ہے اور ان کی شاعری میں کسی شخصیت پر اظہار کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کے ساتھ خامیوں پر بھی اسی طرح اشارہ ہوتا ہے جو ایک مرد مومن کی پہچان ہوتی ہے۔
                مشاہیر نے ان کے فکر وفن پر اپنی جو گراں قدر رائے پیش کی تھی اور جو کتابوں کے دیباچوں ، خطوط اور غیر مطبوعہ مضامین میں بکھرے پڑے تھے ڈاکٹر منصور  عمر نے ان کو طرزی اور طرز بیان نام کی کتاب دیا تھا۔ یہ کتاب طویل تھی  جس کے اہم اجزا کا انتخاب کر کے ڈاکٹر منصور خوشتر  نے  اس کتاب میں  یکجا کرکے اپنی فکر ونظر کا بہترین ثبوت پیش کیا ہے۔ پیشکس کے انداز اور مشمولات کے انتخاب سے منصور خوشتر کے جمال نظر کی عکاسی ہوتی ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے واضح ہوتا ہے کہ ڈاکٹر منصور عمر نے یہ آرا ”طرزی ایک قادر الکلام شاعر“، ”ودیا کا منظوم ساگر“ ، ”مکتوبات بنام طرزی“،” قد آواراں“،” لکیر“، ”غیر مطبوعہ مقالوں“ ، ”سو دیدہ ور“، ”طرزی اور طرزی بیان“، ”آہنگ غزل“،” رفتگاں و قائماں“ اور قومی تنظیم وغیرہ کے مطالعہ سے جمع کر کے ترتیب دیا تھا ۔ ڈاکٹر منصور خوشتر جناب طرزی کے فکر وفن پر کچھ نئے لوگوں کی آرا شامل کی ہے وہیں ایران میں طرزی کے فن پر جو اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں انہیں بھی شامل کیا ہے  اور انہیں شخصیتوں کے ناموں کے ساتھ حروف تہجی کی ترتیب سے پیش کردیا ہے۔
                تجزیاتی گفتگو کے مقابلہ میں تاثرات میں پختہ رائے نہیں ہوتی ہے۔ مرتب ڈاکٹر منصور خوشتر صحافی ہیں اور خبروں کو سونگھ کر خبر کی تہ تک پہنچنے کا انہیں ہنر معلوم ہے۔ کتاب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان تاثرات کو جمع کرنے میں ان کا یہ صحافتی شعوربھی ان کے خوب کام آیا ہے۔ انہوں نے مختلف لوگوں کی آرا سے ایسی باتیں اٹھائی ہیں جن سے عبد المنان طرزی کے فکر وفن اور شاعری کا مجموعی خاکہ سامنے آتا ہے اور مختلف اصناف شاعری میں طرزی کی انفرادیت کی عکاسی ہوتی ہے۔گرچہ جملوں اور تراکیب کی تکمیل کا لحاظ رکھنے کی وجہ سے تکرار کی فضا بھی پیدا ہو گئی ہے۔ البتہ کچھ باتیں ایسی بھی کہی گئی ہیں جن سے اہل نقد ونظر کو اختلاف کا موقع مل سکتا ہے۔مثلا اردو میں ”منظوم تنقید“ کا بانی، ”منظوم مقالہ نگار“ اور” منظوم تبصرہ نگار“ وغیرہ کچھ ایسی باتیں ہیں جن پر بنیادی قسم کے سوالات کھڑے ہوسکتے ہیں۔
                ادب کے بنیادی نظریات مقدمات میں یہ بات شامل ہے کہ تنقید بخیہ گری کا نام ہے ۔ یہ احساس نہیں ادراک ہے ۔ وضاحت اور قطعیت اس کا جز و لاینفک ہے جبکہ اعلی اور عمدہ شاعری میں ابہام اس کا جوہر اصلی ہے جس کے بغیر معنوی تہ داری پیدا نہیں ہوسکتی ۔ شاعری میں وضاحت اور قطعیت موجود ہو تو قاری سے معنی خلق کرنے کا اختیار چھنتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب اگر طرزی کو منظوم تنقید نگار کہہ دیا جائے تو ایسی صورت میں ان سے اچھی شاعری کا وصف مسلوب ہوجائے گا ۔ اسی طرح تبصرہ میں بھی ایک واضح رائے کا آنا ضروری ہے۔ اس کے باوجود تبصرہ ہلکی پھلکی قسم کی چیز ہوتی ہے اس لیے منظوم تبصرہ کی بڑی حد تک گنجائش ہے۔ البتہ منظوم مقالہ میں اختلاف کی گنجائش بڑھ جاتی ہے۔ عام طور پر مقالہ کو نثر کی قسم سے سمجھا جاتا رہا ہے ۔ مضمون اور مقالہ میں فرق ہے۔مقالہ میں مقالہ نگار کواپنے دعوی یا تلاش کو ”مقال“ ”اقوال“ کے ذریعہ مستند بنانا پڑتاہے۔ ظاہر ہے کہ شاعری کی اپنی حدیں ہیں اور نثر کا اپنا نظام ہے۔ اب درج کیا جانے والا اقتباس یا قول اگر منظو م ہو تو ٹھیک ہے کہ اسی بحر میں اشعار کہہ کر منظوم مقالہ لکھ لینا آسان ہوسکتا ہے لیکن نثری قول کے لیے قول کو نظم کرنا ہوگا اور نظم کرنے کے لیے بعض تبدیلی وتحریف سے کام لینا ہوگا جس میں قول کے معانی میں تبدیلی کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ استدلال کے لیے کسی قول میں ہیر پھیر علمی دیانت داری کے خلاف ہے۔ پھر یہ کہ شعر میں قاری کو معنی پیدا کرنے کا اختیار ہوگا جو معنی اس معنی سے الگ ہوسکتا ہے جس سے شاعر کی مراد ہے ۔ اس طرح کسی مقالہ میں جو قطعیت ہونی چا ہیے وہ نہیں ہوسکتی ہے۔ اسی طرح خاکوں کی بھی اپنی کچھ شرطیں ہیں۔ اگر یہ شرطیں شاعری میں پوری ہوجاتی ہیں تو یہ اردو زبان کی ایک ایجاد ہوگی اور اس کا امکان بھی موجود ہے۔
                مرتب کو چاہیے کہ اس پر اپنی رائے پیش کرتے تاکہ اس سلسلہ میں ان کی رائے واضح ہوسکے۔ مشمولات کی پیشکش سے تو ایسا پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں اور اگر واقعہ یہ ہے کہ ان کی شاعری میں یہ خوبیاں موجود ہیں تو ان کو تحقیق کے ذریعہ سامنے لانے کی ضرورت ہے تاکہ اردو زبان کا شاعرانہ علمی وقار بلند ہو۔
                یوں تو اس کتاب کے جو بھی تاثراتی مشمولات ہیں وہ مختلف میدانوں کے ماہرین اور ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ جیسی شخصیتوں کے ہیں۔ تاہم طرزی کے فکر پرافتخار اجمل شاہین، تقی عابدی، انور سدید، ابوذر عثمانی، انیس صدری، جمال اویسی، رضوان الحق، گوپی چند نارنگ، پروفیسر لطف الرحمن، ڈاکٹر ہمایوں اشرف وغیرہ نے اچھی روشنی ڈالی ہے اور ان کی فنکارانہ مہارت کی توجیہ پیش کی ہے۔ رضوان الحق نے طرزی کی شاعری کے بارے میں لکھا ہے کہ نام اور تخلص سے معنویت پیدا کی گئی ہے ۔ ہم وزن الفاظ کے انتخاب سے کردار کی تعمیر کا کام لیا گیا ہے۔ مرتب اگر اس کی مثال پیش کردیتے تو مزہ دوبالا ہوجاتا ۔قابل ذکر بات ایک اور نظر آئی کہ اس علاقائی تعصب کے زمانہ میںرفتگاں قائماں کے حوالہ سے انور سدید کی یہ تحریر بڑا اعتراف ہے کہ ایسی کتاب پاکستان میں نہیں لکھی گئی ۔
                دوران مطالعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاثرات پیش کرتے ہوئے کچھ دانشوران وفور جذبات پر قابو نہیں رکھ سکے ہیں ایسا کچھ لکھ گئے ہیں جو طرزی کے لیے اچھی بات ہوسکتی ہے لیکن اس کا مفہوم مخالف کچھ اور معنی بھی پیدا کردیتا ہے۔ فخر الدین عارفی کے بارے میں ان کے محبان کے حلقہ میں دانشوری کا احساس قائم کیا جاتا ہے۔ اس لیے ان پر تملق کا الزام ظلم صریح تعبیر کیاجائے گا لیکن اب کا یہ کہہ دینا کہ” بہار میں ان (طرزی) کے جیسا دوسرا کوئی بڑاعالم اور دانشور موجود نہیں ہے“ یہ قول محال ہے۔ مگر اگر یہ واقعہ ہے تو اہل بہار کو اس پر سنجیدہ ہوجانا چاہیے کیونکہ اب علم اور دانشوری کا حلقہ بہت وسیع ہوچکا ہے اورایسا محسوس ہوتا ہے کہ طرزی اپنے تمام تر کارناموں کے باوجود اس ذمہ داری کو قبول نہیں کرسکیں گے۔
                لمعات طرزی کے صفحہ ۷۷ سے ۸۸ تک جناب طرزی کی کتاب قد آوراں کی رونمائی اور ان کے فکر وفن پر فارسی میں ایران کے مختلف شہروں کے حوالہ سے غالبا اخبار ات کی خبریں شامل کی گئی ہیں جن کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ ”زبان یار من ترکی ومن ترکی نمی دانم“۔ کتاب کے آخر میں طرزی کی چند یاد گار تصویریں ہیں جو مرتب کے ذوق کا پتہ دیتی ہیں۔
                اس کے علاوہ کتاب کا پیش لفظ اردو زبان میں تصنیف وتالیف کے قطب الاقطاب مناظر عاشق ہرگانوی نے لکھا ہے اور بڑا پیارا عنوان لگایا ہے کہ” تجھے کس تمنا سے ہم دیکھتے ہیں“۔اس میں انہوں نے بے لاگ ولگاؤ جناب طرزی کے فکرو فن کی عکاسی کی ہے۔ البتہ مرتب کے تعارف کے ساتھ پتہ نہیں کیوں انہوں نے صحافی اور شاعر سے پہلے رفتار شکن کا سابقہ لگادیا ہے۔ ڈاکٹر منصور خوشتر اچھے صحافی اور اچھے شاعر ہیں۔ وہ گذشتہ کئی برسوں سے دربھنگہ ٹائمس (جو انہی کی ایجاد ہے) کی ادارت کے ساتھ قومی تنظیم کے دربھنگہ زونل آفس کی ذمہ داری اٹھائے ہوئے ہیں اور انہوں نے صحافت اس زمانہ سے کی ہے جب لڑکے بالوں کے کھیل کھیلنے کی عمر ہوتی ہے مگر ان کی صحافت یا شاعری میں روایت یا رفتار سے علاحدہ کوئی راہ یا رفتار نظر نہیں آتی ہے۔
                ایک مشورہ جو مرتب کو اس کتاب کے مطالعہ کے بعد دیا جاسکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب میںطرزی کی کن کن کتابوں پر تاثرات پیش کئے گئے ہیں اور وہ کتابیں کب کب شائع ہوئیں ہیں اس کی تفصیل علاحدہ طور پر دی جانی چاہیے تھی اور دوسرا یہ کہ انہوں نے بڑی محنت سے کتاب ترتیب دی اور مختلف تاثرات کے ساتھ ضروری نوٹ بھی لگائے لیکن شاید شوق طباعت کی جلد بازی میں کتاب کا مقدمہ جو شامل اشاعت نہیں ہوسکا ہے اگر اس کتاب کی اگلی اشاعت کا موقع ہو (جو ضرور ہوگا) تو لازما شامل کریں تاکہ کتاب کی قدر وقیمت میں واقعی اضافہ ہو۔
٭٭٭

‘‘باتیں میر کارواں کی’’

‘‘باتیں میر کارواں کی’’
یعنی یادوں کی کہکشاں

                دنیا میں جتنی عظیم ہستیاں ہوئی ہیں ان کی عظمت اس لیے تسلیم کی گئی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالی کے ذریعہ ودیعت کی ہوئی صلاحیتوں سے خلق خدا کو فیضیاب کیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ انسان کی ایک محدود عمر ہے اور دنیا کے اسٹیج پر اسے اسی محدود وقت میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ لیکن کسی ڈرامہ کے کردار اور ایک زندہ انسان کے کردار میں یہ بنیادی فرق ہوتا ہے کہ زندہ انسان کا کردار اسٹیج سے اتر کر ختم نہیں ہوجاتا بلکہ اس کے دنیا سے ختم ہوجانے کے بعد بھی اس کا اثر چلتا رہتا ہے ۔ اس کی اثر پذیری کی سطح اتنی ہوتی ہے جتنی اس نے دنیا کو فیضیاب کیا اور بعد میں اس کی جتنی بازیافت کی گئی اور آنے والی نسلوں کے لیے اسے محفوظ کیا گیا۔ مابعد تحریر دور سے دنیا میں جتنے بڑے بڑے آدمی ہوئے ہیں ان کی بازیافت ان کی سوانح عمریوں سے کی گئی ہے۔ سوانح عمری ایک ایسا آئینہ ہے جس سے اس کی زندگی اس وقت تک چلتی پھرتی اور موثر ہوتی دکھائی دیتی جب تک اس کی قرأت کا عمل جاری رہتا ہے۔ عظمت کا اظہار کئی محاذوں پر ہوتا ہے اور یہ سارے محاذ انسانیت کی تعمیر اور ترقی کے لیے ہی ہوتے ہیں۔ خواہ وہ سیاست کا محاذ ہویا اخلاقیات کا۔ تعلیم کا محاذ ہو یا معاشیات کا۔ سماجیات کا میدان ہو یاسائنس وٹیکنالوجی کا ۔ وعلی ہذا القیاس۔
                تمدن اور تحریر کے علم سے آراستہ دنیا کی ہر قوم، ہر تہذیب، ہر ملک میں عظیم انسانوں کی زندگی کو محفوظ کیا گیا ہے۔ بلکہ وہ قومیں بھی جو تحریر کے علم سے نابلد تھیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو سینہ بہ سینہ منتقل کرتی رہی ہیں اور مختلف اوقات میں اپنے پرکھوں کی عظیم روایت کا حوالہ دے کر فخر ومباہات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ ان کے بوڑھے بوڑھیاں اپنے اسلاف کے کارناموں کو کہانیوں کی شکل دے کر اپنے بچوں کو سناتے رہے ہیں تاکہ ان کے بچے بھی اپنے اسلاف کی طرح جرأت مندانہ اقدام پر قادر اور عظیم انسان بن سکیں۔ گویا کسی انسان کی عظمت کو محفوظ کرنے کا مقصد ہی یہی ہے کہ ان کی آنے والی نسلیں اس روایت پر قائم رہیں اور انہیں آگے بڑھاتے رہیں۔
                اسلامی تاریخ میں محمد ﷺ سے لے کر اب تک جو بھی عظیم ہستیاں پیدا ہوئی ہیں ان کی زندگی کو بھی محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں اسماءالرجال کے نام سے مسلمانوں کا وہ عظیم کارنامہ ہے جو دنیا کی کسی تہذیب یا کسی قوم کے پاس نہیں ہے۔ اس کے باوجود ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ مسلمانوں میں جس قدر عظیم ہستیاں پیدا ہوئی ہیںاس تناسب سے ان کی زندگی کو محفوظ نہیں کیا جاسکا ہے اور وہ گوشہ گمنامی چلے گئے ہیں یا ان کو دوسری قوموں نے اپنا ہیرو بنانے کی کوشش کرلی ہے۔ چنانچہ مسلمانوں کی بہت سی عظیم ہستیاں جنہوں نے سائنس اور طب کے میدان میں تاریخی کارنامے انجام دیئے ہیں ان کے ناموں کو انگریزی املائی نظام سے اس طرح محرف کیا گیا کہ وہ ہمارے محسوس نہیں ہوتے۔ حالانکہ جو قومیں اپنے اسلاف کو یاد نہیں رکھتی ہیں ان کو مٹانابھی آسان ہوتا اور تاریخ سے تو حرف غلط کی طرح مٹادیاجاتا ہے۔
                ہندوستان میں مسلمانوں کی عظیم شخصیتیں مدارس اسلامیہ ، دینی تنظیمی اداروں، خانقاہوں اور مساجد سے بڑی تعداد میں وابستہ رہی ہیں۔ یہاں ایسی ہزارہا شخصیتیں پیدا ہوئیں جنہوں نے بڑے بڑے علاقوں کی تقدیر یںبدل ڈالیں اوراس کو خلیفة اللہ فی الارض کی ذمہ داری سمجھتے ہوئے رضائے الٰہی کی تکمیل کے خاطر بڑی بڑی خدمات کو کوتاہ وکم تر سمجھا گویا کچھ کیا نہیں۔ البتہ انہی کے رفقا یا معاصر شخصیت میں سے کسی کو توفیق ہوئی اور یہ تاڑ گئے کہ اگر ان کی خدمات کو کتابوں میں قید کرلیا جائے تو آنے والی نسلوں کے لیے یہ خدمات نشان راہ ثابت ہوں گی تو ان کی سوانح حیات یا ان کی خدمات کا جائزہ پیش کردیا۔ اس سلسلہ میں اہل مدارس کا معاشی بحران بھی اس ضمن میں اقدام کرنے میں حارج رہا جس کی وجہ سے وہ طباعت واشاعت کے مرحلہ کو بہ آسانی عبور نہیں کرسکے۔
                مدارس اور دینی اداروں سے تعلق رکھنے والی انہی شخصیتوں میں سے ایک عظیم شخصیت حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب حفظہ اللہ کی بھی ہے جن کی خدمات اور تحریکی وتعمیری زندگی کا دائرہ کم وبیش ۰۵ سالوں پر پھیلا ہواہے اور جن کا میدان کار پورا ہندوستان ہے۔ ان کی خدمات میں تدریس ، تبلیغ، تصنیف وتالیف اور تنظیم اور خدمت خلق شامل ہیں۔تحریکی وتعمیری زندگی کا اتنا طویل فاصلہ طے کرنے کے بعد وہ اب عمر کے آخری پڑاؤ پر ہیں لیکن اب تک مدارس یا دینی تنظیموں کی جانب سے ان کی خدمات کو حیطہ تحریر میں نہیں لایا گیا۔ اس کے لیے قابل مبارکباد ہیں نوجوان صحافی عارف اقبال جن کی نگاہیں تیز بیں نے اس کمی کو محسوس کیا اور نوآموزی کے احساس کے باوجود اس طرف اقدام کر کے بڑی شرح وبسط کے ساتھ ان کی زندگی کے ایک ایک پہلو کا احاطہ کر لیا۔ چنانچہ عارف اقبال نے” باتیںمیر کارواں کی “کے نام سے تقریبا ۰۰۸ صفحات پر ایک وثیقہ لکھ دیا ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے نشان راہ ثابت ہوگا۔ اس کام میں مصنف عارف اقبال کو کس طرح جوئے شیر لانا ہوا ہوگا اور کن کن دشوار گزار مراحل سے گزرنا ہوگا اس کا احساس اہل نظر کرسکتے ہیں۔ انہوں نے بجا طور پر اپنی دشواریوں کا ذکر کیا ہے اور موجودہ دور میں بعض علمائے کرام کی روش کی شکایت بھی بجا طور پر کی ہے جو اپنے علاوہ دوسروں کو اٹھتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں خواہ اس سے ملت کا کتنا بڑا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔
                عارف اقبال کا تعلق دربھنگہ شہر سے ہے اور ابتدائی دینی تعلیم، تکمیل حفظ قرآن اورصحافت کی اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد صحافت کے شعبہ میں قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ اس کتاب کی تصنیف سے ان کے دینی رجحان کا پتہ چلتا ہے ۔مصنف اس نوعمری میں جس خار دار وادی میں قدم رکھ کر بہ آسانی گزر گئے ہیں وہ ان کے تابناک مستقبل کا اشاریہ ہے۔
                سوانح نگاری تاریخ اور ادب کے درمیان کی ایک چیز ہے جس میں وہ تمام باتیں لائی جاتی ہیں جو دلچسپی کا باعث ہوں اور جن سے شخصیت کی تعمیر اور اس کی مکمل تصویر بنانے میں مدد ملے۔ اس میں سطحی واقعات اور ظاہری حالات بیان کردینے سے زیادہ باطنی کیفیت ، نفسیاتی حالت، ذہنی ارتقا ، رجحانات اور خوبیاں وکمزوریاں دکھانی پڑتی ہے جس سے اس کی فطری زندگی کا عکس ظاہر ہوسکے۔ اس اعتبار سے بھی یہ کتاب انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور انہوں نے اس منزل کو پانے کی ہر ممکن کوشش کی ہے جس میں بڑی حد تک وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں۔
                کتاب کی شروعات مختلف میدانوں سے تعلق رکھنے۸۳ افراد کے تاثرات سے ہوتی ہے جو مختلف عناوین کے تحت پیش کئے گئے ہیں جن سے مولانا کی مقبولیت اور ہر دلعزیزی کا اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب کے پہلے باب میں سوالات کا گوشہ ہے جس میں مصنف نے بعض چبھتے ہوئے بھی سوالات کئے ہیں۔ اس سے مصنف کی حوصلہ مندی کا ثبوت ملتا ہے۔ ان سوالات سے چند معاملات میں امارت کے تئیں عوام کے شبہات کا ازالہ ہوتا ہے۔اس سے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف کی نظر کتنی گہری ہے وہ امارات اور دینی تنظیموں کی سرگرمیوں پر کتنی باریک نظر رکھتے ہیں۔اس سلسلہ میں عوامی رائے کیا آرہی ہے اور عوامی حلقہ میں اس سلسلہ میں کیا ہلچل ہے اس کا بھی انہیں خوب احساس ہے۔ دوسرے باب میں سوانحی خاکہ پیش کیا گیا ہے لیکن اس کی پیشکش مربوط نہیں ہوسکی ہے جس سے ان کی مجموعی زندگی کے اظہار میں قدرے ربط کی کمی نظر آتی ہے۔ تیسرے باب میں مصنف نے ان کی تدریسی زندگی بحیثیت معلم کے نام سے پیش کی ہے جس میں ان کے تدریس کا انداز، زیر تدریس کتابیں، طلبہ کے ساتھ تعلقات نامور تلامذہ وغیرہ کی معلومات دی ہے۔ یہ بڑا دلچسپ اور مربوط باب ہے اور اس میدان میں مولانا سید نظام الدین کی اس میدان کی فنکاری پر اچھی نظر ڈالی گئی ہے جو پیشہ تدریس سے وابستہ افراد کے لیے بھی بڑے کام کی چیز ہے۔ چوتھے باب کی شروعات امارت شرعیہ کے تفصیلی تعارف سے کی گئی ہے اور اس کے بعدمولانا کی امارت سے وابستگی کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہاں پر امارت شرعیہ کی تاریخ اور اس کے میدان کار کی تفصیلات پیش کرنے کی وجہ سے مولانا کی شخصیت کی عکاسی کے تسلسل میں کمی واقع ہوتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بہتر ہوتا کہ امارت کا تعارف کسی علاحدہ مقام پر کردیا جاتا۔ اسی باب میںامارت میں مولانا کا بحیثیت ناظم انتخاب اور اس مدت میں مولانا کی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔خدمات کی تفصیل سے ملک میں رونما ہونے والے مختلف واقعات وحادثات اور ان میں مسلمانوں کی کسمپرسی کا اندازہ ہوتا ہے ۔اسی طرح پانچویں باب کی شروعات امیر اول کے انتخاب میں مولانا آزاد کی شرکت سے کیا گیا ہے اور پھر تمام امرا کے ادوار پر روشنی ڈالنے کے بعد امیر سادس کے انتخاب کا ذکر ہوتا ہے۔ یہاں بھی تسلسل ذرا کمزور ہوا ہے۔ اس کے بعد چھٹا باب خدمت خلق کے نام سے شروع ہوتا ہے۔ حالانکہ یہاں باب بدلنے کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ یہ مولانا کی امارتی زندگی کا حصہ ہے ۔ البتہ اس باب اس مدت میں ملک بھر کے فسادات اور دیگر ناخو شگوار واقعات کی تفصیل وتاریخ ہے ۔ اس باب کے مطالعہ سے ظاہرہوتا ہے کہ ملت اسلامیہ پرجب جب برے دن آئے ہیں تو امارت شرعیہ ان کے لیے کس طرح ڈھال بن کر کھڑی ہوئی ہے اور ان کے غم میں شریک ہوئی ہے۔ اس اعتبار سے یہ بہت ہی اہم باب ہے۔ آٹھویں باب میں مولانا کی سرپرستی میں چلنے والے تقریبا ۷۱ اداروں کی تفصیل ہے ۔ اس حوالہ سے مدارس اور دینی ادارے کی اچھی تاریخ مرتب ہوگئی ہے۔ نواں اور دسواں باب مولانا نظام الدین کے ذہن وفکر اور ان کے عہد بہ عہد ارتقا کو سمجھنے کا بہت اہم ذریعہ ہے۔ اس باب میں مولانا کے زمانہ طالب علمی سے لے کر حال تک مضامین اور خطوط اکٹھا کئے گئے ہیں۔ اسی میں مولانا کے نام آئے ہوئے خطوط بھی ہیں۔ مصنف نے بڑی جانفشانی کے ساتھ نہ صرف خطوط کے مضامین جمع کئے ہیں بلکہ خطوط کے عکس بھی دیئے ہیں اور دسویں باب میں مسلم پرسنل لاءبورڈ سے شائع ہونے والے خبر نامہ کے وہ اداریے بھی مصنف نے شامل کئے ہیں جو مولانا موصوف مختلف مواقع پر لکھتے رہے ہیں۔اس طرح بکھرے ہوئے تاروں کو جمع کرکے مصنف نے ایک کہکشاں ترتیب دے دی ہے۔ اس جمع وترتیب میں مصنف کو سخت محنت کرنی پڑی ہوگی ۔ گیارہویں باب میں مولانا کے ہشت پہلو زندگی کے ایک اور رنگ کو پیش کیا گیا ہے اور یہ عقدہ کھلا ہے کہ مولانا جس طرح اچھے عالم دین ہیں ویسے ہی اچھے شاعر وادیب بھی ہیں اور اردو شاعری کے کئی اصناف پر قادر ہیں۔ آپ کی شاعری اسلامی فکر کا عمدہ نمونہ معلوم ہوتی ہے۔ بارہویں باب میں کہتی ہے خلق خدا کے تحت ایک ذیلی باب میں” رجال کار کی تلاش اور افراد سازی “کے عنوان سے مولانا کی ایسی ہنر مندی اور ان کی نگاہ دور بیں کا تذکرہ کیا گیا ہے اوران ۴۱ شخصیتوں کا تفصیل سے ذکر ہے جو محترم شخصیات ہیں اور جن کی شخصیت کی تعمیر میں مولانا کی نگاہ دور بیں اور دست شفقت کا اہم رول رہا ہے۔ ان کے علاوہ ۲۶ افراد کے مزید نام شمار کرائے گئے ہیں جن کی تعمیر مولانا کی رہین منت رہی ہے۔ ان ۴۱ اشخاص کے ذریعہ مولانا کی خوبیوں کا ذکر کر اکے اس ذیلی مضمون کو باب سے جوڑ نے کی کوشش کی گئی ہے۔ حالانکہ یہ مضمون اس باب میں کھٹکتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کے علاوہ ۳ مضامین میں مولانا کے رفقائے امارت، اہل علم، شعرا وادبا کی نگاہ میں مولانا قدر ومنزلت کا بیان ہے۔ اس کے بعد مصنف چونکہ صحافی ہیں اس لیے اس کتاب میں اپنے پیشہ ورانہ ذوق کا ثبوت دیتے ہوئے مختلف اخباروں کے تراشے لگائے ہیں جن میں تصویروں اور خبروں کے ذریعہ مولانا کی سرگرمی ظاہر ہوتی ہے۔ حالانکہ جس طرح تصویروں عکس لگائے گئے ہیں وہ دینی ومذہبی اداروں میں غیر محمود سمجھتے جاتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ پیشہ ورانہ انہماک نے انہیں اس کا احساس نہیں ہونے دیا ہے۔
                اس طرح یہ کتاب مولانا کی شخصیت کے نقوش ابھارنے کے ساتھ ساتھ تقریبا نصف صدی سے زائد عرصہ پر محیط بہار، جھارکھنڈ اور اڑیسہ وغیرہ پر مشتمل مدارس، دینی اداروں، مذہبی تنظیموں کی مکمل تاریخ بن گئی ہے۔ جو لوگ ہندوستانی مسلمانوں کے حالات سے واقف ہونا چاہتے ہیں ان کے لیے بھی یہ کتاب اس مدت میں ہندوستانی مسلمانوں کے حالات کا مظہر بنے گی ۔ان مجموعی خصوصیات کے باعث خود مصنف کی زندگی کا یہ ناقابل فراموش کارنامہ ثابت ہوگا۔
                کتاب کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر بعض کمزوریوں کو چھوڑ دیا جائے، جو عارف اقبال کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے در آئی ہیں، تو کتاب بہت عمدہ ہے اور مولانا نظام الدین کی پوری زندگی کا احاطہ کرنے میں کامیاب ہے۔ کتاب کے مشمولات میں مولانا کے ذہن وفکراورشخصیت کی تعمیر اور عہد بہ عہد ارتقا کو سمیٹنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ کتاب بڑی حد تک دلچسپ ہے۔ بعض مشمولات کی جگہ مناسب نہیں ہونے کے وجہ سے ذوق کو گراں ضرور گزرتا ہے لیکن ایک تو مولانا کی شخصیت پر پہلی کتاب ہے اور خود مصنف نے بھی پہلی بار اس وادی میں قدم رکھا ہے اور پہلے مرحلہ میں اتنی ضخیم کتابیں لکھی ہے اس لیے توقع کی جاتی ہے بعض فر وگذاشت کو اہل ذوق نظر انداز کریں گے۔ دوسری بات یہ ہے خود امارت سے بڑی بڑی شخصیتوں کی وابستگی رہی ہے لیکن عجیب اتفاق ہے کہ ان میں مولانا پہلی شخصیت ہیں جن پر کوئی کام ہوسکا ہے اور اتنا اچھا کام ہواہے۔
                راقم نے محسوس کیا کہ مصنف نے کتاب کی تحریر میں بڑے حوصلہ سے کام لیا ہے اور مولانا کی زندگی میں پیش آنے والی بعض ایسی دشواریوں کابھی ذکر کیا ہے جو چند محترم شخصیتوں کے لیے سخت ناگواری کا باعث تو بن سکتا ہے لیکن اس کا اظہار اس لیے ضروری ہے کہ آنے والی نسلوں کو یہ باور ہوسکے کہ تنظیمی زندگی میں کن کن مراحل گزرنا اور انہیں انگیز کرنا پڑتا ہے اور کارواں کو ساتھ لے چلنے کے لیے کس کس طرح خوئے دلنوزای کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ منزل مقصود تک پہنچاجاسکے۔ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ ہوئے ہیں جو میر کارواں کی صلاحیت رکھنے کے باوجود خوئے دلنوازی کی کمی وجہ سے راہرو کو ساتھ لے کر نہیں چل سکے اور اس صورتحال کے مصداق بن گئے:
کوئی کارواں سے ٹوٹا کوئی بدگماں حرم سے
کہ میر کارواں میں نہیں خوئے دلنوازی

                البتہ ایک اور کمی جو اس کتاب میں محسوس کی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح عام طور پر مذہبی شخصیات پر لکھنے والوں کا قلم عقیدت مندی میں ممدوح کو انسان سے زیادہ فرشتہ بنادیا کرتا ہے اس میں عارف اقبال بھی ناکام ہوتے نظر آتے ہیں اور ممدوح کی کمزوریوں سے پردہ نہیں اٹھاسکے۔ چونکہ مولانا بھی انسان ہیں اور انسان خطا کا پتلا ہے اس لیے ان کا یکسر انکار ممکن نہیں ہے۔ مصنف اس خار دار وادی سے گزرنے کا حوصلہ بھی جٹالیتے تو یہ کتاب فنی اعتبار سے اور بھی اچھی سمجھی جاتی۔ لیکن یہ ایسا مرحلہ ہے جس پر سے گزرنے میںا چھے اچھوں کی پالکی رکھتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ مصنف نے ان کی کمزوریوں کا ذکر کر کے اس کی بے جا تعبیر نہیں کی ہے جو عام طور پر سوانحی کتابوں کی کمزوری ہوا کرتی ہے۔ اس طرح وہ ایک بڑے الزام سے بچ گئے ہیں جس کے لیے راقم کی بھی انہیں مبارکباد ہے۔
                امید کی جاتی ہے کہ اس کتاب سے مولانا کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ان کے لیے بھی، جو مولانا کو نزدیک سے جانتے ہوئے بھی وہ سب نہیں جانتے جن کا اس کتاب میں احاطہ کیا ہے ، مولانا کو جاننے کا ذریعہ بنے گی اور اس کے علاوہ ہندوستانی مسلمانوں کی عظیم شخصیتوں کی تاریخ مرتب کرنے میں ممد ومعاون ہوگی۔ کتاب پڑھنے کے بعد اقبال کا یہ شعر مولانا پر سراپا صادق ہوتا نظر آتا ہے۔
نگہ بلند ، سخن دلنواز، جاں پرسوز
یہی ہیں رخت سفر میر کارواں کے لیے

٭٭٭