مشمولات

Saturday, 22 December 2012

Training of Journalism in Madaris


مدارس میں صحافت کی تربیت -ضرورت واہمیت

مدارس کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہم صحافت کاجائزہ لیتے ہیں تو مایوسی کا سامنا نہیں ہوتا ہے۔ اہل مدارس نے ابتدا ہی سے اس فن کو اپنے مشن اور مقصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ چونکہ مدارس کا بنیادی مقصد ہی دین اسلام کی حفاظت ، بقا اور اس کا فروغ رہا ہے۔ اس لیے دینی تعلیمات کی اشاعت کے لیے اہل مدارس نے جہاں درس وتدریس سے کام لیا وہیں اپنی بساط بھر کتابچے اور رسالے بھی لکھے اور شائع کیے۔ ظاہر ہے کہ جب فن طباعت کو فروغ حاصل نہیں ہوا تھا اور عام لوگوں کی رسائی وہاں تک بہ آسانی نہیں تھی تو مدارس بھی اس پریشانی کے شکار تھے۔ ایسے وقت میں دین کے فروغ کے لیے اہل مدارس نے خطابت کی صلاحیت پیدا کی ۔ لوگوں کو انفرادی طور پر دین کی تعلیم دی تو عوام کے بڑے طبقے کو خطاب کرنے کے لیے جلسوں کا انعقاد کر کے تبلیغ کا کام جاری رکھا۔ آج بھی اہل مدارس کے لیے پیغام رسانی کا بڑا ذریعہ یہی ہے۔ یہ بات بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ مدارس میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ابتدا ہی سے خوشخطی کی تعلیم کا نظم بھی رہا ہے ۔ یہ ایک ایسا فن تھا جس میں اہل مدارس کے احساس جمال کا اظہار بھی ہوتا تھا اور یہ ان کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی تھا۔ مدارس میں اس فن کے عام ہونے کی وجہ سے اہل مدارس کو یہ سہولت تھی کہ ان کے پاس اچھے خاصے کاتبین موجود تھے جن کی مدد سے کتابچوں اور رسالوں کے قلمی نسخے بہ آسانی نکالے جاسکتے تھے۔ اہل مدارس نے اس سہولت کا فائدہ اٹھایا اور لوگوں کی اصلاح کے لیے کتابچے اور رسالے شائع کرتے رہے۔ ان رسالوں میں دین کی تعلیمات تو ہوتی ہی تھیں ساتھ ہی زمانے کی کروٹوں ، بطور خاص مسلمانوں کے تناظر میں شہری ، ملکی حالات وکوائف کا بیان بھی رہا کرتا تھا۔
        موجودہ وقت میں ہم مدارس پر نظر ڈالیں تو ہر بڑے مدرسے سے کوئی نہ کوئی مجلہ نکلتا دکھائی دیتا ہے۔ اردوکو نظر میں رکھیں تو شاید اردو میں نکلنے والے جملہ مجلات میں مدارس سے نکلنے والے رسائل کی تعداد زیادہ ہوگی۔ ان میں ایک طرف دین کے مسائل وموضوعات کا احاطہ ہوتا ہے تو ساتھ ہی موجودہ ملکی اور بین الاقوامی مسائل وموضوعات کے عوامل ومحرکات اور عواقب ونتائج کی تشریح وتعبیر بھی ہوتی ہے۔
        مدارس سے شائع ہونے والے رسائل میں زیادہ تر مضمون نگار کا تعلق مدارس ہی سے ہوتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مدارس سے باہر کے اسکالر اور دینی حمیت رکھنے والے دانشوران کے مضامین بھی اچھی خاصی تعداد میں شائع ہوتے ہیں بلکہ بعض مجلات تو ایسے ہیں جن میں اکثر مضمون نگار مدارس سے باہر ہی کے ہوتے ہیں۔ بعض اہل مدارس کے مضامین پر نظر ڈالنے پران میں تربیت کی کمی کھٹکتی ہے۔ صحافت کے جو امکانات ہیں اور اس سے جو کام لیے جارہے ہیں یا لیے جاسکتے ہیں اس سے بھر پور واقفیت کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ دوسری طرف مدارس میں ملک وقوم کے لیے بہترین افکار ونظریات رکھنے والے افراد بھی موجود ہیں ۔ لیکن عدم تربیت یا تربیت کی کمی کی وجہ وہ اپنے خیالات کا اظہار بہترین ڈھنگ سے نہیں کرپاتے ہیں۔ اسی طرح مدارس سے نکلنے والے بعض رسائل میں صحافت کے جو عناصر ہیں ان کی پابندی نہیں پائی جاتی ہے۔ مثلا فیڈ بیک وغیرہ کی کمی ہوتی ہے اور اسی طرح جدید تکنیک کا استعمال نہیں ہوتا ہے اور یہ رسائل ماضی سے جس نہج پر کام کرتے چلے آرہے ہیں اسی پر گامزن ہیں ۔ جبکہ اب صحافت کی تکنیک میں بہت سی جدت آگئی ہے لیکن یہاں اس کا استعمال دکھائی نہیں دیتا ہے۔
        ہر چند کہ یہ دور ٹکنالوجی کا ہے ۔ ہر ملک اپنی اپنی دفاعی قوتوں کو ہر ممکن مضبوط بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کے باوجود آج کی جنگ فکر کی جنگ ہے۔ اور اس کا ذریعہ صرف اور صرف میڈیا ہے۔ خواہ وہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا پرنٹ میڈیا ۔ چنانچہ آج کی میڈیا پر مضبوط اور سرمایہ دار طاقتوں کا تسلط ہے۔ ان کا وطیرہ یہ ہے کہ جھوٹ کو اتنی مرتبہ دہراؤکہ سچ ہوجائے۔ چنانچہ یہ طاقتیں اس طرح غالب آچکی ہیں کہ میڈیا خواہ کسی قوم یا کسی ملک کو ہو، چھوٹی اور عام خبروں کے بین السطور بھی ان کی فکریں کام کرتی رہتی ہےں۔ آج اس کے ذریعہ سپر پاور ملکوں نے ہر شخص کے ذہن ودل میں وہ بات ڈال دی ہے کہ وہ وہی سوچے جو یہ مضبوط قومیں چاہتی ہیں۔
        اس فکری یلغار میں سب سے زیادہ کسی قوم پر نشانہ ہے تو وہ مسلم قوم ہی ہے۔ بلکہ بیشتر قومیں متحد ہوکر مسلمانوں کو اپنا نشانہ بنائے ہوئی ہیں۔ ایسے وقت میں اہل مدارس کے لیے صحافت کی تعلیم وتربیت کا حصول نہایت اہم اور ضروری ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ مدارس پر دین کی حفاظت اور اسلام پر پڑنے والے الزامات و اعتراضات اور فکری یلغار کے دفاع کی ذمہ داری خاص طور پر عائد ہوتی ہے۔ اس لیے اہل مدارس کو اس جانب توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔ دوسری خاص بات یہ ہے کہ مدارس نے پیغام رسانی کا بڑا ذریعہ صرف اردو زبان کو بنارکھا ہے۔ جبکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر قوموں تک اپنے پیغام پہچانے کے لیے دوسری زبانوں کو بھی ذریعہ بنایا جائے۔ کیونکہ اسلام سے متعلق جو شبہات پیدا کئے جارہے ہیں اس کے لیے دوسری زبانوں ہی کا استعمال ہورہا ہے۔
        اس وقت قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ورکنگ جرنلسٹ کی تربیت کا منصوبہ بنارہی ہے۔ اس منصوبہ میں مدارس کو شامل کیا جائے تو جہاں اردو کے فروغ کے روشن پہلو سامنے آئیں گے وہیں مدارس کے لیے بھی ایک اہم کام ہوگا اور اس طرح مدارس کے طلبہ بھی جدید معلومات کے قریب ہوں گے۔ جس طرح قومی اردو کونسل عربی کے ڈپلوما اور سرٹیفیکیٹ سطح کے کورس چلارہی ہے،یہ کورس مدارس کے طلبہ کو ذہن میں رکھ کر تیار کئے گئے ہیں ۔ ان کے بہت سے سنٹر دینی مدارس میں ہیں اور اور مدارس کے طلبہ بڑی تعداد میں مستفید ہورہے ہیں ، اسی طرح اس کورس کو بھی متعارف کیا جاسکتا ہے۔ اس سے مدارس سے نکلنے والے طلبہ کے معاش کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور ظاہر ہے کہ اس حوالہ سے ان کا میدان اردو ہوگا تو اردو کے لیے نیک فال ہوگا۔ مدارس کے طلبہ کے لیے قومی اردو کونسل کی جانب سے اس طرح کا انتظام کرنے کی ایک تجویز کونسل کی جانب سے ملت کالج دربھنگہ میں منعقد سیمینار ” فروغ اردو -نئی حکمت عملی“ میں شکیل احمد سلفی ایڈیٹر الہدی دربھنگہ نے رکھی تھی۔
        اس کے علاوہ ملک کی بہت سی یونیورسیٹیوں میں فاصلاتی طرز پر صحافت کے کورس موجود ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اس طرح کا ایک کورس مولاناآزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں بھی ہے جس کا میڈیم اردو ہے اور جس میں داخلہ کی اہلیت بھی امیدوار کے لیے صرف بارہویں درجہ پاس ہونا ہے۔ ایک کورس یونیورسیٹی آف حیدرآباد میںبھی پی جی ڈپلوما سطح کا موجود ہے۔ اس میں ترجمہ کی تکنیک بھی شامل ہے۔
        البتہ ایک بات جو خاص طور پر نظر میں رکھنے کی ہے ، یہ ہے کہ ان کورسوں سے مدارس میں صحافتی تربیت کا جو مقصد ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ یعنی ان کورسوں کے کرنے کے بعد مدارس کے طلبہ میں جو فکر ونظر مطلوب ہے ، وہ پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ اور شاید ان کورسوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس مقصد کو پورا کرسکیں۔ الا یہ کہ مدارس کی سطح سے ایسا کورس تشکیل دیا جائے۔ اگر مدارس والے چاہیں تو یہ ناممکن بھی نہیں ہے۔ لیکن موجودہ کورسوں کو اختیار کرتے ہوئے اہل مدارس کو ایسی کتابیں کرانی ہوںگی جو طلبہ پر اسلام کا صحافتی نقطہ نظر واضح کرسکیں۔ یہ کتابیں اس کے ساتھ لازمی طور پر شامل ہوں۔ اس کے لیے مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے شائع سید عبدالسلام زینی کی کتاب”اسلامی صحافت“ سے بھی کام لیا جاسکتا ہے۔
        اس طرح کی بات کرتے ہوئے مدارس والوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اس سے مدارس کا مقصد فوت ہوجائے گا اور اس کی روح نکل جائے گی۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر مدارس ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اس سے مدارس کا مقصد بالکل فوت نہیں ہوگا بلکہ اس کے مشن اور مقصد کو پر لگ جائیں گے۔
ززز
یہ مضمون اردو دنیا دہلی کے نومبر 2010 کے شمارے میں شائع ہوا۔ 

Islamic Education System in respect of Islamic Life System


اسلامی نظام حیات اور اسلامی نظام تعلیم
چند معروضات

        اسلام ایک مکمل، ہمہ گیر، عالمگیر اور ابدی نظام حیات ہے۔ یعنی دیگر مذاہب کی طرح محض اسطور نہیں ہے کہ چند ما بعد الطیعات ہستیوں پر مبہم یقین رکھتے ہوئے چند رسوم عبادت انجام دے دئے جائیں بلکہ اس کی تعلیمات انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو ان تمام تصورات و اعمال کے ساتھ شامل ہیں جو ابتدا سے پیدا ہوتے رہے ہیں اور انسانی تاریخ کی انتہا تک پیدا ہوتے رہیں گے۔ زندگی کا کوئی واقعہ خواہ وہ زندگی کے کسی شعبہ سے متعلق ہو مثبت یا منفی انداز میں اسلامی دائرہ تصور سے باہر نہیں ہے۔
        انسانی زندگی ازل سے مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ ترقی کے ساتھ انسانی زندگی کے سامنے نت نئے مسائل و تصورات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اب انسانی زندگی بے حد متنوع ہونے کے باعث اعمال و تصورات کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف شعبوں میں منقسم ہو چکی ہے۔ ہر شعبہ کے اپنے جداگانہ تصورات ہیں ۔ ان تصورات کے اپنے مسائل اور حل ہیں۔ نسل انسانی کے مختلف گروہ اپنے عقائد و تصورات، تہذیب و ثقافت،جغرافیائی حالات و ماحول ،عصری تقاضوں اور طلب کے اعتبار کے ہر شعبہ میں اپنا منفرد تصور رکھتے ہیں اور اس کے مطابق اس شعبہ کے مسائل سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ زندگی کے یہ شعبے مختلف انسانی طبقات وگر وہ کے لیے مختلف حیثیت رکھتے ہیں۔ بعض شعبے بعض کے لیے ناگزیر ہیں تو بعض کے لیے متبادل کی حیثیت رکھتے ہیں اور بعض سب کے لیے یکساں اہمیت کے حامل ہیں۔ شاید باید کسی شعبہ کو چھوڑ کر یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ یہ شعبہ زندگی کے لیے عبث اور بے کار ہے۔ ان کی عدم موجودگی میں کسی بھی طبقہ کی زندگی پر کوئی خاص اثر مرتب نہیں ہوگا۔ بعض شعبے ایسے ہیں جو موجودہ استعمال کی صورت میں اسلام کی نظر میں عبث اور بے کار ٹھہرتے ہیں لیکن ان کی تکنیک اور طریقہ کو بھی استعمال کرکے اسلام کی تبلیغ اور اشاعت کا کام لیا جاسکتا ہے۔
        چونکہ اسلام ایک نظام حیات ہے اس لیے وہ کسی بھی شعبہ حیات سے بے تعلق نہیں رہ سکتا ہے۔ اسلام کی تکمیل تقریباً 633 ء میں ہو گئی۔ اس وقت انسانی زندگی محدود اور بڑی حد تک سادہ تھی۔ زندگی کے جو محدود شعبے موجود تھے ان کے مسائل بھی محدود تھے۔ خود انسانی آبادی بہت محدود تھی۔ لیکن اس وقت بھی جو محدود شعبے اور محدود مسائل تھے، وہ اپنے وقت میں پیچیدہ ، نئے اور ترقی یافتہ تھے، اسلام نے نہ صرف ان کا ایک واضح، قطعی اور تشفی بخش حل پیش کیا بلکہ انہیں عمل میں لاکر ان کی جامعیت بھی واضح کردی۔ لیکن وہ تعلیمات جو اس وقت کے مخصوص مسائل کے حل میں کامیاب ہوئیں ان میں ایسے اصول بھی موجود تھے جو آج کے اور آنے والے دنوں کے لا محدود مسائل کو حل کرسکیں۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے ترقی کی تواسلامی تعلیمات نے ان تمام مسائل کو حل کیا جو زمانے کے ساتھ وجود پذیر ہوئے۔ حالانکہ مسلمانوں کی ترقی کے ساتھ انسانی زندگی کی رفتار نہایت تیز ہو گئی۔ نئی بستیاں آباد ہوئیں، نئی نئی دریافتیں اور نئی نئی ایجادیں ہوئیں۔ نئی ضرورتوں نے نئے نئے مسائل کو جنم دیا۔ ان تمام مسائل کے حل کے لیے اسلامی تعلیمات سے اصول اخذ کئے جاتے رہے ۔تمام پیش آمدہ مسائل پران اصولوں کا اطلاق کر کے کار آمد حل نکالے گئے۔یہ عمل مسلمانوں کی ترقی تک جاری رہا۔ اس طرح جب تک مسلمان ترقی پر رہے ہر دور کو ان کے تمام مسائل کا حل اسلام نے بحسن و خوبی پیش کیا۔ نئے مسائل پر اسلامی اصولوں کے انطباق سے جہاں مزید ترقی کی راہیں استوار ہوئیں وہیں ایک صالح معاشرہ اور صالح ریاست کی تشکیل ہوئی اور امن و شانتی کو فروغ واستحکام حاصل ہوا۔ اسلامی اصولوں کا انطباق انسانیت کے لیے خیر و برکت اور سکون و راحت کا ذریعہ بنا۔
        ان ادوار میں تعلیمی اداروں میں علم علم مطلق سمجھاجاتا تھا۔ علم کی تقسیم مذہبی اور عصری خانے میں نہیں ہوئی تھی۔بلکہ زندگی اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ مذہب کے سانچے ہی میں ڈھلتی تھی، اس لیے مذہبی اور عصری خانہ کی تقسیم ہی بے معنی تھی۔ بعد کے ادوار میں جب ترقی و ایجادات اور نئی دریافتوں کے ساتھ علم کی شاخیں بڑھتی چلی گئیں تو اسپشلائزیشن کی بنیاد پڑ گئی۔ساتھ ہی مسلم سلاطین نئے علاقے فتح کرتے چلے گئے جن میں مختلف قومیں اپنے مذہب پر عمل پیرا رہیں ، ان کے ذہین اور تیز افراد کا حکومت میں عہدے حاصل کرنے کے علاوہ اسلامی تعلیم میں ان کی دلچسپی پیدا نہیں ہوئی اور نہ ہی اسلام لائے بغیر اس کا جواز پیدا ہوتا ہے، نیز مروجہ علوم روز بروز کی تحقیق سے اتنی وسعت اختیار کرتے چلے گئے کہ بیک وقت کسی طالب علم کے لیے ان سب کا احاطہ کر لینا ممکن بھی نہیں تھا ۔ اس وقت بھی جن مسلمانوں کی وابستگی صرف مذہبی علوم سے رہی وہ نئے علوم سے ایسے بیگانہ نہیں رہے کہ عصری مسائل و موضوعات ان کی سمجھ سے بالا تر ہوں یا مخصوص شعبہ سے وابستگی کی وجہ سے انہوں نے دوسرے موضوعات کو ایسا غیر ضروری سمجھا کہ اس کے مبادیات کی طرف التفات ہی نہ کریں۔جب مسلمانوں کی ترقی رک گئی تو دوسری قومیں اپنی علمی ترقی ، جستجو، نئی تحقیقات اورعسکری صلاحیتوں کی بنیاد پرمسلمانوں پر غالب آتی چلی گئیں اور مسلمان ہر طرف سے پسپا ہونے لگے ۔ انہوں نے نئی تحقیق سے رشتہ توڑ لیا تو ان کی علمی ترقی بھی رک گئی اور وہ ہر طرح سے مغلوب ہوتے چلے گئے۔ اس مغلوبیت کے بعد انہوں نے تصوف کو اپنا لیا۔ اس کی وجہ سے زندگی کی جد و جہد سے بیزاری بھی آنے لگی۔ رفتہ رفتہ نئے مسائل سے احتراز کے باعث اسلامی تعلیمات عقائد و عبادات کی معلومات تک محدود ہونے لگیں۔ جو اصول اس وقت کے مسائل کے لیے مستخرج ہوئے تھے انہی اصولوں پر نئے مسائل محصور ہوتے چلے گئے۔نئے نئے مسائل کے لیے نئے اصول فرع نہیں ہوئے۔ اس طرح اسلامی تعلیمات کا رشتہ نئے موضوعات سے کٹتا چلا گیا۔ پھرایسے تعلیمی ادارے جو مذہبی تعلیم کے لیے قائم کئے گئے ان میں جو کتابیں شامل کی گئیں وہ انہی گزشتہ اصولوں اور مسائل پر مشتمل تھیں۔دوسری طرف مسلمانوں میں ایسا تصور بھی چلا آیا کہ اب اجتہاد کی راہیں مسدود ہیں۔ علمائے سلف کے بعد کسی زیادتی کا امکان نہیں ہے اور نہ ہی آنے والی نسلوں کے علما میں یہ علمی لیاقت ہے کہ وہ اجتہاد کو راہ دیں۔ ان سب کا بہت برا اثر اسلامی نظام تعلیم پر بھی پڑا۔اسلامی نظام تعلیم محدود ہو کر رہ گیا۔ اس کے نصاب میں وہ تنوع نہیں آسکا جو عہد بہ عہد خود زندگی کے اندر پیدا ہوتا رہا۔
        اس وقت ہندوستان میں اسلامی تعلیمات کی تدریس کے لیے مدارس کا جو نظام رائج ہے اس کے نصاب میں بنیادی طور پر قرآن و حدیث، تفسیر، فقہ اور عربی ادب شامل ہیں۔ قرآن و حدیث ہی شریعت کی اساس اور بنیادی ماخذات ہیں جن میں وہ تمام اصول اور حل مضمر ہیں جو اب تک پیدا ہوئے ہیں یا ہوتے رہیں گے۔
        نصاب میں سب سے اہم موضوع فقہ ہے ۔کیوں کہ تمام تر مسائل کے حل کی تلاش ،قرآن اورر احادیث و آثار سے نئے اصولوں کا استنباط واستخراج کا عمل اسی میں انجام پاتا ہے اور اسی کے ذریعہ نئے مسائل پر اسلامی اصولوں کا انطباق ہوتا ہے۔ ہندوستان کے پس منظر میں مدارس اسلامیہ کے نصاب میں شامل فقہوں کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں جو کتابیں شامل ہیں ان کی تدوین تقریباساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کے درمیان ہوئی ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ کتابیں بڑی حد تک جامع ہیں۔ ان میں ایسے اصول موجود ہیں جن کو نئے مسائل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان پانچ چھ صدیوں کے دوران دنیا میں عظیم تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ یہ تبدیلیاں نوعیت کے اعتبار سے بھی ہیں اور کمیت و کیفیت کے اعتبار سے بھی۔ ظاہر ہے کہ ان کتابوں میں جو مسائل اور اصول ہیں وہ ان مسائل کے لیے جن کی نوعیت میں فرق نہیں ، کار آ مد ہوں گے۔ لیکن جو مسائل نوعیت کے اعتبار سے جدا گانہ ہیں ان کو گزشتہ اصولوں سے کیسے دیکھا جاسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اس وقت نصاب میں جو فقہیں رائج ہیں ان کے ابواب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ زندگی کی وسعتوں کا احاطہ نہیں کرتے ہیں۔
        یہاں چند ایسے مسائل کا ذکر کیا جاتا ہے جو اگر مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کے سامنے رکھ دئے جائیں تو بیشتر طلبہ ان کے سمجھنے سے بھی عاری نظر آئیں گے ۔ ان کا حل تو کجا؟ مثلاً:
        اقتصادیات کے نوع بہ نوع مسائل :اسلام کی نظر میں معاشیات کا بنیادی نظریہ، معاشیات کے بنیادی مسائل، دولت کی تقسیم، دولت کا بنیادی نظریہ، ملازمین کے مسائل، بینکنگ کے مسائل، وغیرہ
       سیاست کے مسائل:اسلام کی نظر میں ریاست کی تشکیل کے عناصر، ریاست کے حکمراں کا انتخاب اس کے فرائض، ریاست کے عوام کے مسائل اور ریاست کی ذمہ داریاں، ریاست کا بنیادی نظریہ، غیر اسلامی ریاست میں مسلمانوں کے مسائل ، جمہوری ممالک میں مسلمانوں کے مسائل، زکوة اور Tax کے مسائل ،حکمراں کے فرائض و اختیارات، کیا مسلمان حکمراں (یا اسلامی ریاست کی قانون ساز کمیٹی )کو احکام میں جزوی ترمیم کا اختیار حاصل ہے یا نہیں؟ اور وہ ترمیم کب تک اور کہاں تک قابل عمل ہوگی؟
        سماجی اور عائلی نظام کے مسائل:سماج کی بنیاد، سماج کی تشکیل، سماج میں یگانگت اور امن و شانتی کا قیام، سماجی فلاح و بہبود،تہذیب و ثقافت کے مختلف مسائل اور خواتین کی ملازمت کا مسئلہ ۔
        سائنس کی ترقی سے طب کے میدان میں عظیم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ سے ڈھیر سارے ایسے مسائل ہیں جن سے ایک زندہ شریعت بیگانہ نہیں رہ سکتی ہے۔ مثلاً:عضویاتی تبدیلی کا مسئلہ ،DNA Testسے پیدا ہونے والے مسائلUltrasonographyکے ذریعہ پیدا ہونے والے مسائل، Colon کا مسئلہ ، ٹسٹ ٹیوب بے بی کا مسئلہ اور بہت سے مسائل جو طب سے غیر معمولی شغف کے بعد معلوم ہوسکتے ہیں۔
        یہ چند مسائل مشتے از نمونہ خروارے کے طور پر ہیں ۔ ورنہ ایسے لا تعداد جدید مسائل ہیں جو اسلامی درسیات میں شامل نہیں ہیں۔
        دوسری بات یہ ہے کہ دنیا میں جو تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں تو اصطلاحوں میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ ان کتابوں میں جو اصطلاحیں استعمال کی گئیں ہیں موجودہ اصطلاحات سے ان میں مطابقت موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ بہت سے مسائل کو سمجھ کر بھی زندگی کے متعلقہ شعبوں پر ان کا انطباق نہیں کرسکتے۔
        اس نظام تعلیم کا ایک المیاتی پہلو یہ ہے کہ نصاب میں عقائد و عبادات کے علاوہ مخصوص ابواب مثلا سماجی مسائل کے لیے کتاب النکاح اور معاشی مسائل کے لیے کتاب البیوع جیسے چند ابواب ہی شامل کیے گئے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ خود تدریس میں ان ابواب پر وہ Stress نہیں ہوتا ہے جو عقائد وعبادات کے باب میں ہے۔ اس باعث طلبہ کی توجہ ان قدیم و جدید اہم موضوعات کی طرف نہیں ہو پاتی ہے جن کا تعلق سماجی و معاشی مسائل ہے اورنہ ہی طلبہ اس زاویہ سے سوچ پاتے ہیں۔ تدریس کا طریقہ یہ ہے کہ بجائے فن کی تعلیم اور طلبہ میں فن کی مہارت اور دسترس پیدا کرنے کے محض عبارت فہمی پر زور ہوتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ طلبہ ان مسائل کے علاوہ ،جن کا تعلق مدرَّسہ عبارت سے نہیں ہے ،سمجھنے سے بھی قاصر نظر آتے ہیں۔ چہ جائیکہ وہ ان کے حل پر قادر ہوں۔ خود کتابوں کا نقص یہ ہے کہ ان کی عبارتیں انتہائی گنجلک اور پیچیدہ ہیں ۔کیوںکہ اس زمانے میں زبان دانی میں مہارت دکھانے کے لیے ایسی عبارتیں لکھی جاتی تھیں جن میں وضاحت اور قطعیت کی بجائے ابہام اور معنوی تہ داری ہو۔ یہ زمانہ منطق اور علم کلام کا تھا، اس لیے ان کتابوں میں انہی علوم کی اصطلاحات بھی استعمال کی گئیں ہیں اور اب زیادہ تر مدارس نے ان علوم کو نصاب سے خارج کردیا ہے۔ اب ان علوم سے لاعلمی کا نتیجہ مطلوبہ علوم پر پڑتا ہے اور طلبہ عبارت کو بخوبی سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ جب کہ جدید نظام تعلیم میں ایسی کتابیں پسند کی جاتی ہیں اور تدریس کے لیے بہتر سمجھی جاتی ہیں جن میں وضاحت اور قطعیت ہو اور طلبہ کے لیے سریع الفہم ہوں۔
        اسلامی تعلیمات کا بنیادی ماخذ علم قرآن اور علم حدیث ہے۔ مدارس میں قران کی تعلیم دینے کا جو طریقہ رائج ہے اس سے بھی قرآن فہمی کی صلاحیت پیدا نہیں ہوسکتی ہے۔ نصاب میں ایک یا دو پارے ترجمہ کے لیے شامل ہیں اور چند منتخب سورتوں کی تفسیر پڑھائی جاتی ہے۔ اس میں ایسی کوشش نہیں ہوتی ہے کہ طلبہ ترجمہ اور تفسیر پر قادر ہوسکیں اور قرآنی علوم کی تحقیق کرسکیں۔ اصول تفسیر بھی نصاب میں برائے نام ہی شامل ہے ۔ اس کی تدریس اس طور پر نہیں ہوتی کہ طلبہ میں علم قرآن کا فہم پیدا ہو۔ ادھر حدیثوں پر توجہ ضرور دی گئی ہے۔ حدیث کی امہات کتابوں کی تشکیل بجا طور پر اس طرح کی گئی ہے کہ وہ زندگی کے اکثر شعبوں کا احاطہ کریں۔ لیکن ایک تو یہ کہ نصاب میں حدیث کی اتنی کتابیں شامل کی گئیں ہیں کہ موجودہ تعلیمی مراحل میں ان کا حق ادا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مدارس میں حدیث کی دوسرے درجوں کی کتابیں کسی طرح ترجمہ کرادی جاتی ہیں اور اول درجے کی کتابوں کا محض دور ہ ہوتا ہے ۔ پھر جہاں ان کتابوں کا ترجمہ کرایا بھی جاتا وہاں کا طریقہ تدریس ایسا نہیں ہے کہ طلبہ جزئیات سے واقف ہوسکیں۔ اگر جزئیات پر نظر رکھیں گے تو یہ ممکن نہیں ہے کہ ان کا مکمل احاطہ کیا جاسکے۔ زیادہ ترمدارس میں حدیث کی کتابیں محض برکت کے لیے پڑھائی جاتی ہیں۔
        ان طویل معروضات کا مقصد یہ ہے کہ اگراسلام صرف عقائد وعبادات اور اخلاقیات کا نام نہیں بلکہ ایک نظام حیات ہے اور بجا طور پر ہے ، اس میں شک الحاد اور انکار کفر ہے ، تو ہندوستان میں اس نظام حیات کی تعلیم کے لیے جو درس گاہیں ہیں ،یعنی مدارس اسلامیہ ان کے نصاب سے ہر گز یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ اسلام ایک نظام حیات ہے۔
        لیکن یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان کا سد باب ممکن ہے ؟
        موجودہ وقت میں ہندوستان میں جو نظام تعلیم رائج ہے اس میں ان حل ڈھونڈنا اور اس نصاب کو بالکل Uptodateکرلینا تاکہ وقت کے ساتھ ساتھ چلا جاسکے بہت مشکل نظرآتا ہے۔ کیوں کہ اس کے لیے مرکزیت اور اپنا نظام تعلیم چاہیے جو مسلمانوں کے نصب العین سے ہم آہنگ ہو ۔ مدارس کے ساتھ مشکل یہ ہے کہ بہت سے علوم جو ابتدائی سطح پر ایک مسلمان طالب علم کو پڑھ لینا چاہیے وہ بھی مدارس میں ثانوی سطح تک پڑھانا پڑتا ہے۔ جہاں تک مرکزیت کا تعلق ہے تو یہ ہندوستانی مسلمانوں کا بڑا المیہ ہے کہ اب تک تعلیم کے سلسلہ میں بھی دیگر امور کی طرح ان میں مرکزیت قائم نہیں ہوسکی ہے۔ اس کی کئی وجہیں ہیں ۔ ایک بڑی وجہ مسلکی اختلاف ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے ان کا تعلیمی نصب العین اور طریقہ کار بھی الگ ہوگیا ہے۔ پھر بھی اس کا امکان تھا۔ مگر مسلکی بنیاد پر بھی یہ مرکزیت قائم نہیں کرسکے ۔ ہر درس گاہ اپنے طور پر اپنا نصاب تیار کرتی ہے ۔ اس کا اپنا مستقل نظام ہوتا ہے۔ تعلیمی مرحلہ، تعلیمی سال اور طریقہ تدریس میں بھی فرق پایا جاتا ہے۔ عام طور پر انہیں ماہرین تعلیم کی سرپرستی بھی حاصل نہیں ہوتی ہے۔ تعلیم کے سلسلہ میں وہ کوئی نظریہ قائم نہیں کرپاتے ہیں۔ حتی کہ ان کے سامنے اسلام کا تعلیمی نصب العین بھی بالکل واضح نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے نکلنے والے طلبہ کی علمی لیاقت بس واجبی سی ہوتی ہے۔وہ عوام کی عادات واطوار کی اصلاح کے لیے اخلاقیات کی سطحی تعلیم، عقائد وعبادات کے لیے موٹے موٹے احکام کی معلومات اور اگر انہیں کسی مدرسہ میں پڑھانا پڑے تو شامل نصاب کتابوں کی عبارت فہمی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
        ابھی کچھ دنوں قبل حکومت کی جانب سے مرکزی مدرسہ بورڈ کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ چونکہ اس کے پیچھے جو مقصد کار فرما تھا اس سے ہندوستان میں مدارس کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔ حکومت ان مدارس سے بھی کلرک، چپراسی اور حکومت چلانے کے لیے کارندے چاہتے تھے۔ اس لیے پورے ہندوستان کے علما نے بیک زبان اس تجویز کو مسترد کردیا۔ یہ استرداد بالکل بجا۔ لیکن تعلیم میں مرکزیت کی اہمیت وافادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
         مسلمان حکومت سے اس تجویز کے بالمقابل اپنی یہ تجویز رکھ سکتے تھے کہ ان کو ایسے خود مختار مرکزی ادارے کے قیام کی اجازت ہو ،جیسا کہ آئین میں اقلیات کو یہ حق حاصل بھی ہے، جس کے تحت ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلی علوم تک کے مختلف شعبے قائم کیے جاسکیں اور متعلقہ کونسلوں سے ان کی منظور ی میں حکومت پورا تعاون کرے۔ ان کا نصاب تعلیم مسلمان خود تشکیل دیں جو ان کونسلوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور تعلیم کی تمام سطح پر دینیات کا پرچہ بحیثیت لازمی پرچہ شامل ہو۔ ان میں عقائد وعبادات، اخلاقیات، زندگی گزارنے کے لیے اسلامی احکامات ، عائلی اور خانگی زندگی کے مسائل، سماجی اور سیاسی مسائل کے سلسلے کی مرحلہ وار تعلیم دی جائے۔ ان میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہ کی جائے اور نہ ہی ان اداروں میں کسی قسم کی سیاسی مداخلت ہو۔
        ابتدائی درجہ سے ہی نصاب اس طرح تشکیل دیا جائے کہ طلبہ مڈل سطح یا سکنڈری سطح کے بعد جس میدان کا انتخاب کرنا چاہیں ادھر جاسکیں۔ مثلا مدارس کا انتخاب کریں تو مدارس میں جانے کے بعد مدرسہ کی تعلیم کے لیے انہیں پھر سے تیار نہ کرنا پڑے جیسا کہ ابھی ہوتا ہے۔
        ان مدارس میں نصاب کی تشکیل اس طرح کی جائے کہ عہد بہ عہد پیدا ہونے والے نئے مسائل وموضوعات کا اسلامی منہج طلبہ کے سامنے واضح ہوسکے۔ عام طور پر طلبہ پیش آمدہ مسائل کو قرآن وحدیث کی روشنی میں حل کرسکیں۔ نصاب میں اسلامی تاریخ وفلسفہ ، تحریکات وتعبیرات کو بھی اس طرح شامل کیا جائے کہ طلبہ کو مسلمانوں کے عروج وزوال کے اسباب کا ادراک ہوسکے ، طلبہ میں تفکر وتدبر کی صلاحیت پیدا ہو اوران سے قوم اور قوموں کی امامت کا کام لیا جاسکے۔
        موجودہ نظام میں جدید عصری علوم کے مسائل کو طلبہ کے سامنے لانے کے لیے ایسے ورک شاپ منعقد کئے جاسکتے ہیں۔ جن میں عصر ی علوم کے کسی ایک موضوع پر اس علم کے عصری اور اسلامی نظریات کے ماہر ین کے ذریعہ توسیعی خطبات کا انتظام کیا جائے ۔ منتخبہ موضوع پر اس علم کے غیر اسلامی افکارو نظریات،اس علم کے بنیادی نظریات ومسائل کو بیان کرکے اسلام کا سچا اور صحیح نظریہ پیش کیا جائے۔اس کے بعد طلبہ کے سامنے اس علم کے جدید مسائل رکھے جائیں اور اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات اور اس کا صحیح حل طلبہ پیش کریں اور اس ورک کی Monitoring اس کے ماہرین کے ذریعہ کی جائے۔ مختلف مدارس الگ الگ موضوعات پرایسے ورک شاپ منعقد کرسکتے ہیں۔ ان کی بہترین ویڈیو رکارڈنگ کرلی جائے ۔ باہمی رابطہ کے ذریعہ بلا اختلاف مسالک مدارس کے درمیان ایسے ورک شاپوں کی تشہیر کی جائے تاکہ کسی ایک موضوع پر ہونے والا ورک شاپ دوسرا مدرسہ منعقد نہ کرے اور انہی ویڈیو سی ڈی سے کام چلائے ۔ اس طرح وقت اور پیسے کی بچت بھی ہوگی اور زیادہ سے زیادہ موضوعات کا احاطہ بھی ہوسکے گا۔
        اگر مسلمان مدارس کے نصاب کو داخلی طور پر Uptodate کرلیتے ہیں تو مدارس پر فرسودگی کے جو الزامات عائد کئے جاتے ہیں وہ خود فرو ہو جائیں گے، مدارس کے طلبہ میں گہری علمی صلاحیت، تحقیقی ملکہ، وسعت ذہنی، کشادہ قلبی، اور فکر و نظر پیدا ہو جائیں گے ۔ یہ طلبہ مختلف عصری علوم و موضوعات کے سلسلہ میں اسلام کا صحیح اور مسائل سے نجات دینے والا نظریہ پیش کرسکیں۔ اس طرح دنیا کے سامنے اسلام کی صحیح نمائندگی ہوگی اور مدارس کے فارغ ہونے والے یہ طلبہ اپنے لیے، قوم اور ملت کے لیے اور ملک کے لیے کار آمد ہو جائیں گے۔
یہ مضمون مجلہ الہدی دربھنگہ، کے علاوہ نیپال میں شائع ہوچکا ہے

Rights of Children


(۴)
اولاد کے حقوق
                                                                                                                                                                       
        اولاد اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ انسان اس دنیا میں چاہتا ہے کہ اس کی نسل باقی رہے ، بڑھے اور پھلے پھولے۔ اسلام نسلوں کو بڑھانے اور اسے فروغ دینے کا حکم دیتا ہے۔ اسلامی تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ ایسی عورت سے شادی کی جائے جو زیادہ بچہ دینے والی اور محبت کرنے والی ہو۔ اسلام نے بچوں کی پیدائش کا ایک ضابطہ پیش کیا ہے اور ان سے رابطہ اور تعلق کی برقراری کے لیے حقوق متعین کیے ہیں۔ اسلام کے نزدیک بچوں کی پیدائش کا ذریعہ شادی ہے۔ شادی کے بغیر بچوں کی پیدائش کی نہ اجازت دیتا ہے اور نہ اس عمل کو جائز قرار دیتا ہے جو بچوں کی پیدائش کا ذریعہ ہے۔
        اسلام نے بچوں کے درج ذیل حقوق متعین کئے ہیں:
        (۱)          پیدائش کا حق:          اسلامی تعلیمات اولاد کے قتل سے منع کرتی ہے۔ خواہ یہ قتل قبل پیدائش ہو یا بعد۔ اس سلسلے میں دو تعلیمات ہیں۔ پہلی یہ کہ اپنی اولاد کو افلاس کی وجہ سے قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تمہیں بھی رزق دیتا ہے اور انہیں بھی۔ دوسرے رسول نے فرمایا کہ جس جان کا دنیا میں آنا لکھ دیا گیا ہے وہ آکے رہے گی۔اب جس کو نہیں پیدا ہونا ہے یا باقی نہیں رہنا ہے وہ کسی بھی صور ت میں باقی نہیں رہے گا اور جس کو پیدا ہونا وہ پیدا ہوکے رہے گا ۔ اس میں کوئی طاقت حارج نہیں ہوسکتی ہے تب اسقاط وغیرہ کراکے اپنے نام قتل کا جرم ثابت کرانا کیسی عقل مندی ہے؟
        (۲)         رضاعت وحضانت:     پیدائش کے بعد والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کی ہر طرح سے نگہداشت کی جائے۔ اس کی رضاعت کی جائے۔ ایام طفولیت کی ہر وہ ذمہ داری بچہ جسے ادا کرنے سے عاجز ہے والدین اس کو ادا کریں۔ آج آزادہ روی کی ذہنیت اتنی بار پاچکی ہے کہ اب بچوں کی پرورش وپرداخت کی پریشانی کوئی مول لینا نہیں چاہتا ہے تو دوسری طرف مادی حرص نے مردوعورت دونوں کو دولت کمانے پر آمادہ کردیا ہے ۔ اس کا نتیجہ ہے کہ بچوں کی پیدائش سے اجتناب کیا جاتا ہے اور اگر شوق پورا کرنے کی غرض سے ایک دو بچے پیدا کر بھی لیں تو ان کی پرورش وپرداخت کو بوجھ سمجھاجاتا ہے۔ ملازمت اور فیشن کی وجہ سے ان کی پرورش External Feederکے ذریعہ کی جاتی ہے اور جیسے ہی وہ ذرا بڑے ہوئے کہ انہیں Kinder Garten اور Pre Primaryاسکولوں کے حوالہ کردیا جاتا ہے جہاں نہ انہیں ماں کی ممتا ملتی ہے نہ پدرانہ شفقت ۔ ممتا اور شفقت سے محروم یہی بچے جب بڑے ہوں گے تو انہیں ماں وباپ کی قدروقیمت کا اندازہ بھی کیوں کر ہوگا؟
        (۳)         تربیت اور تعلیم:اسلام اولاد کی تربیت کے لیے ان تمام وسائل کے اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے جو اولاد کی اچھی تربیت کے لیے لازمی ہیں۔ مثلا بہترین ماں کا انتخاب اور اولاد کی صالحیت کے لیے دعائیں۔ بچہ جیسے جیسے بڑا ہو والدین کو اس کی تربیت کرنی چاہئے ۔ بچوں کو ایسی عادتیں سکھائی جائیں جن سے وہ ایک اچھے مسلمان ،سماج اور ریاست کے اچھے شہری اوراعلی اخلاق و کردار کے حامل انسان بن سکیں ۔ والدین کوچاہیے کہ انہیں بساط بھر تعلیم دلائیں تاکہ ان کی فطری صلاحتیں ابھر سکیں اور ترقی وارتقا کی وہ روایات جو انہیں ان کی پچھلی نسلوں سے ملتی آرہی ہیں ، انہیں ترقی وارتقا کی اگلی منزل پر پہنچا کر وہ اپنی آنے والی نسلوں کو دے سکیں۔ ایک والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کو دین کی پوری پوری تعلیم دلائیں ۔کم از کم بنیادی تعلیم سے لازمی طور پر آشنا کرائیں تاکہ دین سے ان کا رشتہ قائم اور مضبوط رہے۔انہیں اوامر ونواہی، فرائض و واجبات سے آگاہی ہو اورحلال وحرام کی تمیز ہوسکے۔
        حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کے سلسلہ میں موجودہ مسلمان لا نظریت کے شکار ہیں۔حتی کہ تعلیم یافتہ طبقوں میں بھی تعلیم کا غیر واضح اور مبہم تصور پایا جاتا ہے۔ موجودہ مسلم سماج میں مختلف طرح کے تعلیمی رجحانات پائے جاتے ہیں۔ ایک طبقہ میں تعلیم کا حصول دیوانگی کی حد تک پہنچا ہوا ہے تو وہیں دین وایمان سے بیزاری اور اخلاقی اقدار سے بے پروائی بھی موجود ہے۔ ان کے ہاں تعلیم کا مقصد صرف اور صرف دولت کا حصول ہے۔ خواہ اس کے لیے جو بھی اقدامات کرنے پڑیں۔ تو دوسرا طبقہ اسی دولت کے حصول کے لیے تعلیم میں وقت صرف نہیں کرنا چاہتاہے ۔ ایسے لوگ تعلیم سے سرد مہری اختیار کیے ہوئے ہیں۔ بعض طبقوں کو اب بھی معاشی تنگی کی وجہ سے تعلیم کے حصول کی آسانی دستیاب نہیں ہے۔ بعض لوگ دینی تعلیم کو فرسودہ ، غیر مفید اور عبث سمجھتے ہیں تو اس کے بالمقابل ایک طبقہ دینی تعلیم کے علاوہ دیگر تعلیم کو تعلیم کے خانہ میں شمار ہی نہیں کرتا ہے۔ بعض لوگ بس ایک رو میں اپنے بچوں کو تعلیم حاصل کرا رہے ہیں۔ نہ انہیں یہ پتا ہے کہ کیا کیا پڑھانا ہے۔ کس بچے کے لیے کون سی تعلیم موزوں ہے۔ بچے کی اچھی تعلیم کے لیے کس طرح کے تعلیمی ادارے بہتر ہیں ۔ باضابطہ تعلیم کی شروعات کس عمر سے ہونی چاہیے وغیرہ۔
        لڑکیوں کی تعلیم کے تئیں بھی موجودہ مسلم سماج میں عجیب متضاد رویہ پایا جاتا ہے۔ بعض لوگ اب بھی لڑکیوں کی تعلیم کے قائل نہیں ہیں تو بعض لوگوں کے لیے مخلوط تعلیمی نظام لڑکیوں کی تعلیم کے لیے مسئلہ پیدا کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مخلوط تعلیمی نظام دینی حمیت رکھنے والے مسلمانوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اس جانب اگر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا تومسائل اور بھی زیادہ پر پیچ ہوتے جائیں گے۔ لیکن یہ مسئلہ صرف لڑکیوں ہی کا نہیں لڑکوں کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔ بعض لوگ اپنے لڑکوں کے لیے تو مدارس کی تعلیم کو غیر مفید سمجھتے ہیں یا انہیں اس میں وہ Charmingنظر نہیں آتی ہے جو عصری تعلیم میں ہے لیکن لڑکیوں کے لیے مدارس کے علاوہ تعلیم کی ضرورت کا چنداں احساس نہیں کرتے ۔ان میں سے بعض لوگ شاید مخلوط تعلیم میں اپنے لڑکوں کی پاکدامنی پر بزعم خود پورا یقین رکھتے ہیں یا انہیں لڑکوں کی پاکدامنی اس طرح عزیز نہیں جس طرح لڑکیوں کی پاکدامنی۔حالانکہ لڑکوں کی عصمت بھی اسلام کی نظر میں اتنی ہی محترم ہے جتنی کسی لڑکی کی عزت محترم ہے۔ زنا کی حرکت سرزد ہونے پر دونوں کے لیے ایک ہی سزا مقرر کی گئی ہے۔تاہم اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں ہے کہ جرم زنا عورت اور اس کے خاندان کے لیے مرد کے مقابلہ میں زیادہ باعث ننگ وعار ہے۔ اسی لیے حد زنا کی آیت میں الزانیہ کا ذکر الزانی سے پہلے آیا ہے۔ ایک طبقہ کو تعلیمی بیداری نے تعلیم کی اہمیت سے آشنا کیا تو ساتھ ہی اس میں منفی ذہنیت بھی پیدا کردی ہے۔ اب نہ اسے اپنی اولاد کے دین و ایمان کے جانے کا احساس ہے نہ ہی عزت و عصمت کی پامالی کا خوف۔ دیوثی کا یہ حال ہے کہ اسکول کے کلچرل پروگراموں میں ڈرامہ کے اسٹیج پر اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کے ذریعہ پیش کردہ حیا سوز کرداروں کا نظارہ کرتے ہیں اور اپنی جدیدیت اور ترقی پر جی بھر کے خوش ہوتے ہیں۔
        ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے تعلیمی نظام کی تشکیل خود کریںجس میں بنیادی سطح پر عصری ومذہبی تعلیم کا افتراق نہ ہو۔ ذہنی ہم آہنگی اور ذاتی دلچسپی کے اعتبار سے ثانوی سطح سے طلبہ وطالبات کے مخصوص میدان کا انتخاب کیا جائے۔ اسی میں ایک طبقہ ایسا بھی ہوگا جس کا رجحان دینی تعلیم کی طرف ہوگا۔ وہ اس میں مہارت پیدا کرے گا ۔ اسی طرح عصری تعلیم کے مختلف میدانوں میں بھی افراد پیدا ہوں گے۔
        عمر کی اس سطح سے جہاں سے جنسی شعور بیدار ہونے لگتا ہے لڑکے اور لڑکیوں کے لیے علاحدہ تعلیمی نظام ہو۔ لڑکیوں کے لیے عصری تعلیم کے ایسے گوشے جن میں ان کی فطرت سے متصادم عمل نہ ہو تعلیم کے حصول کا پورا پورا موقع موجود ہو۔
        (۵)         روزگار کے لائق بنانا: اسلام معاشی استحکام کی نہ صرف حمایت کرتا ہے بلکہ ان راستوں بھی بند کرتا ہے جو مفلسی اور معاشی تنگی کا باعث ہیں۔پھر یہ کہ حقوق کے مسائل بھی اس بات کے متقاضی ہیں کہ انسان بساط بھر معاشی استحکام حاصل کرے۔ بیشتر حقوق معاشی تنگی کی وجہ سے پامالی کی زد میں آجاتے ہیں۔ تعلیم کا حصول بڑی حد تک معاشی استحکام پر منحصرہے۔انتہائی مفلسی کی حالت میں تربیت پر توجہ مرکوز رہنا سخت مشکل ہے۔ سیاسی استحکام کا خیال بھی تعلیمی ترقی اور معاشی استحکام کے بغیر نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اسلام والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ اپنی اولاد کو اس لائق بنائیں کہ وہ معاشی تگ ودو میں کامیابی کے ساتھ حصہ لے سکیں۔ اپنی جائیداد کا کم از کم دو تہائی حصہ چھوڑ رکھیں تاکہ اولاد کو معاشی استحکام حاصل ہو۔ موجودہ دور میں ایسی تعلیم دلائی جائے جو بہتر روزگار کی ضامن ہے۔ اگر تجارت کرنا چاہتے ہوں تو انہیں ایسی سہولتیں فراہم کی جائے جن سے وہ کامیاب ہوسکیں۔
        یہ امر مسلمہ ہے کہ اسلام نے عورت کے معاشی استحکام کی ذمہ دار مردوں پر رکھی ہے۔ لیکن جہاں انسان کی دین وعصمت کو خطرہ نہ ہو تو ہر شخص کو یہ آزادی ہے کہ وہ معاشی استحکام کے وسائل کو اختیار کرے۔ موجودہ وقت میں زندگی کے شعبوں میں جس طرح وسعت پیدا ہوئی ہے کئی گوشے خواتین کے لیے مختص ہو گئے ہیں۔ ان میں بلا اختلاط مرد وزن ان کے لیے روزگار کے مواقع موجود ہیں۔ یہ شعبے نہ صرف یہ کہ عورت کے لیے مناسب روز گار فراہم کرتے ہیں بلکہ ان میں اس میدان کی تربیت یافتہ خواتین درکار ہیں۔ بعض ایسے سیکٹرہیں جن میں اس میدان کی تربیت یافتہ عورت کی کمی کی وجہ سے مردوں سے کام لیے جاتے ہیں۔خاص طور پر تعلیم نسواں کے لیے تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ خواتین اور امراض نسواں کے ماہر کی حیثیت سے خواتین ڈاکٹروں کی ضرورت سے تو انکار کیا ہی نہیں جاسکتا ہے۔ اسی طرح کے بہت سے میدان ہیں جو صرف اس میدان میں مہارت رکھنے والی خواتین ہی کے متقاضی ہیں۔
         بعض اوقات عورتیں معاشی تنگی کی شکار ہو جاتی ہیں۔ اس صورت میں انہیں خود ہی معاشی تگ ودو میں حصہ لینا پڑتا ہے ۔چنانچہ جہاں لڑکوں کو روزگار ضامن تعلیم دی جائے وہیں لڑکیوں کو بھی ایسی روزگار ضامن تعلیم دلائی جائے جو ان کی نسوانی فطرت سے متصادم بھی نہ ہواور ایسی صورت حال پیش آنے پر ان کے لیے بہتر روزگار کا حصول ممکن ہوسکے۔ یہ نہ صرف ان کی ذاتی ضرورت کے لیے لازمی ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس کی حیثیت مذہبی بھی ہوجاتی ہے۔
         (۶)         مساوات :اسلام اولاد کے درمیان تفریق اور امتیازی سلوک سے منع کرتا ہے۔ والدین کا یہ فرض ہے کہ بچوں کے درمیان مساوات قائم رکھیں۔ تعلیم وتربیت ، کھانے پینے ، لباس وپوشاک گویا زندگی کی ہر ضرورت میں ان کے درمیان شریعت کے حکم کے مطابق عدل ومساوات کے ساتھ برتاؤ کریں۔ اسلام جنس کی بنیاد پر کسی تفریق کا قائل نہیں ہے ۔ جس طرح لڑکوں کے حقوق ہیں اسی طرح لڑکیوں کے بھی حقوق ہیں۔ ان کی پیدائش ، رضاعت وحضانت، تربیت اور تعلیم ، روزگار اور معاشی استحکام ، شادی اور مالی حقوق کی ادائیگی میں اسلام اسی جذبہ سے کام لینے کا حکم دیتا ہے جس کا اظہار کسی لڑکے کے ساتھ کیا جاتا ہے۔چنانچہ ان کے نفقات، تعلیم وتربیت اور دیگر حقوق کی ادائیگی اسی طرح ہوگی جس طرح ایک لڑکے کی ہوگی۔ والدین کی وفات کے بعد لڑکیاں بھی ان کی جائیداد میں شریعت کے متعین کردہ حصہ کی حقدار ہوں گی۔
        بیٹوں کی بیویوں اور بیٹیوں کے شوہروں کے درمیان بھی مساوی سلوک ہونا چاہیے۔ بعض گھروں میں اسی امتیازکی وجہ سے رنجش پیدا ہوتی ہے اور اکثر گھر کا ماحول کشیدہ رہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ والدین کو جب عمر درازی کی وجہ سے گھر کی ذمہ داریوں سے دست بردار ہونا پڑتا ہے تو انہیں بہوؤں کی ہمدردی حاصل نہیں ہوتی ہے بلکہ ناروا سلوک سے بھی دوچار ہونا پڑتا ہے اور ان کی بے مہری کی شکایت بھی بے سود ہوتی ہے۔
        (۷)         شادی:اسلام اولاد کو یہ اختیار دیتا ہے کہ شادی ان کی پسند کے مطابق کی جائے۔ وہ اپنا گھر بسائیں اور اس کو فروغ دیں۔ اسلام اولاد کی شادی کی نہ صرف ترغیب دیتا ہے بلکہ ولیوں کو حکم دیتا ہے کہ ان کی شادی کرادی جائے۔ یعنی جب وہ شادی کی خواہش کریں تو ان کی شادی کردی جائے۔ یا وہ شادی کے لائق ہوجائیں تو ولیوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ان کی شادی کردیں۔ لیکن یہ مطلق اختیار نہیں ہے بلکہ شادی کے سلسلہ میں اسلامی ضابطے کا پابند ہے۔ اسلام بے ہنگم زندگی کا قائل نہیں ہے۔ چنانچہ ہر وہ ذریعہ جو انتشار وبدامنی کا باعث ہے اس کا دروازہ بند رکھنا چاہتا ہے۔اسلام مفاسد کے سد باب کو مصالح کے حصول پر ترجیح دیتا ہے۔ اس کا اصول ہے درءالمفاسد اولی من جلب المصالح۔
        اسلام کے بارے میں یہ سمجھاجاتا ہے کہ وہ عورت کو شادی میں پسندیدگی کا حق نہیں دیتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں جس طرح مردوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق شادی کریں اسی طرح عورتوں کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ ان کی شادی ان کی پسند کے مطابق کی جائے۔ البتہ باکرہ لڑکی کے لیے ولی کی اجازت شرط ہے۔ ولی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ جس لڑکے سے چاہیں اس کی شادی کرادیں بلکہ لڑکی سے اجازت لینا لازمی ہے۔ اگر اس کی اجازت کے بغیر شادی کی جاتی ہے اور لڑکی اس کو پسند نہیں کرتی ہے تو یہ شادی فسخ کی جاسکتی ہے۔ اگر لڑکی کسی جگہ شادی کرنا چاہتی ہے اور ولی کو اس کے دین وایمان سے یا معاشی صورت حال سے اطمینان نہیں ہے تو ولی کو اختیار ہے کہ وہ اس سے روک دے۔ البتہ کسی خاص جگہ پر شادی کرنے کے لیے کسی بالغ لڑکی کو مجبور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے۔
        البتہ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ بعض مسلم گھرانوں میں اس کی پاسداری نہیں ہوپاتی ہے اور بچے والدین کی خواہش کے مطابق شادی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں ۔ ان سے ایسے وقت میں اجازت لی جاتی ہے جب وہ انکار کرنے سے عاجز ہوں۔ حالاں کہ والدین کی اس پسندیدگی کی وجہ دین و ایمان بھی نہیں ہوتا ہے۔
        اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک عورت ایک وقت میں ایک ہی شخص کی بیوی رہ سکتی ہے۔ ایک شخص کی بیوی رہتے ہوئے اس سے کسی کو یا کسی سے اس کو بالجبر یا بالرضا یا بالمبادلہ کسی صورت میں جنسی تمتع کا حق حاصل نہیں ہے۔ ایک وقت میں ایک مرد چار عورتوں تک سے شادی تو کرسکتا ہے لیکن بلا شادی جنسی تمتع کا حق اسے بھی حاصل نہیں ہوگا۔اسی طرح اسلام میں جز وقتی یعنی Contract یا Bound Marriage کا تصور کیا نہیں جاسکتا ہے۔ نہ ہی کسی مرد یا عورت کو یہ حق ہے کہ وہ جب جب چاہیں ازدواجی رشتے میں منسلک ہوجائیں اور جب جب چاہیں اس سے الگ ہوجائیں۔ اسلام اس جبر کا قائل بھی نہیں کہ ایک مرتبہ شادی کے بندھن میں بندھ جانے کے بعد ذہنی ہم آہنگی یا نباہ کی صورت باقی نہیں رہنے کے باوجود دونوں اس رشتے سے الگ نہیں ہوسکتے۔ اس ذہنی اذیت سے گلوخلاصی کے لیے اسلام میں طلاق کا راستہ بھی موجود ہے۔ ایک مرتبہ طلاق مغلظہ ہوجانے کے بعد اس عورت سے اس وقت تک شادی نہیں کی جاسکتی جب تک کہ کسی دوسرے مردسے اس کی شادی نہ ہوجائے اور اتفاق سے وہاں بھی کسی وجہ سے طلاق ہوگئی ہو یا اس کا شوہر انتقال کرجائے۔
شادی کا ضابطہ:
        (الف) دونوں کا مخالف جنس کا ہونا:یعنی اسلام ایک مرد کی شادی کسی عورت سے اور کسی عورت کی شادی ایک مرد ہی سے جائز قرار دیتا ہے۔ یہاں شادی کا مقصد محض جنسی تسکین ہی نہیں بلکہ افزائش نسل اور بقائے نسل بھی ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِی خَلَقَکُم مِّن  نَّفسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ خَلَقَ مِنھَا زَو±جَھَا (اے لوگو ! ڈرو اپنے رب سے جس نے تمہیں اکیلی جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑ پیدا کیا) اسی کے ساتھ یہ وضاحت بھی کرتا ہے : وَبَثَّ مِنھُمَا رِجَالًا کَثِیرًا وَّنِسَآء (اور ان دونوں سے پھیلادیا بہت سے مرد اور عورتوں کو)یعنی شادی ایسے جوڑے میں ہو جو بچوں کی پیدائش کا ذریعہ ہے ، یعنی ایک مرد اور ایک عورت۔
        (ب) دونوں کا مسلمان ہونا:اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کوئی شخص جس کو چاہے پسند کرلے اور اس سے شادی رچالے بلکہ شادی کے لیے ضروری ہے کہ دونوں مسلمان ہوں۔قرآن اس کی وضاحت کرتا ہے:” وَلَاتَنکِحُواال مُشرِکٰتِ حَتّٰی یُومِنَّ وَلَاَمَة’‘ مُّومِنَة’‘ خَیر’‘ مِّن مُّشرِکَةٍ وَّلَو اَعجَبَتکُم وَ لَا تُنکِحُوا المُشرِکِینَ حَتّٰی یُومِنُوا وَ لَعَبد’‘ مُّومِن’‘ خَیر’‘ مِّن مُّشرِکٍ وَّلَو اَعجَبَ“ خواہ وہ پہلے سے مسلمان ہوں یا محض شادی کے لیے اسلام قبول کیا ہو۔ اسلام اہل کتاب کی عورتوں سے شادی کی اجازت دیتا ہے لیکن موجودہ صورت حال میں اس سے بھی اجتناب کیا جانا چاہیے۔
        (ج) محرمات یا ان رشتوں سے ان کا تعلق نہ ہو جن سے شادی اسلام نے حرام قرار دی ہے: اسلام حرمت نسب کا خاص خیال رکھتا ہے۔ چند رشتوں کی وضاحت کرتا ہے جن کی حرمت کو پامال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کسی شخص کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان رشتوں میں سے کسی کو شادی کے لیے پسند کرے۔ یا ایک وقت میں دو سگی بہنوں کو نکاح میں رکھے(ان کی وضاحت سورہ نساءکی آیت ۲۲ اور ۳۲میں کی گئی ہے)
        (د) نکاح:اسلامی نظام میں شادی کا ذریعہ نکاح ہے۔ یعنی زوجین کا ایجاب وقبول ۔ نکاح کا بھی ایک مکمل ضابطہ ہے۔ ضروری ہے کہ نکاح کا اعلان کیا جائے۔ اسلام چوری چھپے شادی کی اجازت نہیں دیتا ہے اس لیے دونوں جس سماج میں رہتے ہوں اس میں شادی کا اعلان ہونا چاہیے۔ دو عادل گواہ مقرر کیے جائیں۔ مہر مقرر کی جائے۔ ولی کی اجازت ہونی چاہئے البتہ ولی کو بھی یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اپنی بچی کی شادی اس کی پسند کے خلاف کریں ۔
        موجودہ وقت میں بچوں کی شادی کے سلسلہ میں ایک عجیب رویہ پا یا جاتا ہے۔ معاشی استحکام اور تعلیم کے نام پر شادی میں خاصی تاخیر کی جاتی ہے۔ بلاشبہ اسلام بھی شادی کے لیے معاشی استحکام کا مخالف نہیں ہے اور اگر کوئی شخص بیوی کا نفقہ اور لازمی ضروریات پورا کرنے کا اہل نہیں ہے تو اس پر کوئی زبردستی نہیں ہے۔ لیکن جہاں ان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں وہاں بھی شادی میں تاخیر کی جاتی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالی کہتا ہے کہ تم اپنے بے جوڑ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادی کرادو۔ اگر وہ نادار ہیں تو اللہ تعالی اپنے فضل سے انہیں غنی کردے گا۔
شادی کے سلسلہ میں ایک بات اور لائق توجہ ہے کہ ہندوستان میں جو مشترکہ خاندانی نظام ہے اور اسلام میں جس طرح کے مشترکہ خاندانی نظام کا تصور ملتا ہے اس میں ایک فرق یہ ہے کہ اسلام شادی کےبعد بچوں رہائش کی ایسی آزاد اکائی دینا چاہتا ہے جس میں زوجین کو جائز طریقے سے مسرت تمام ممکنہ مواقع مل سکیں۔ یہ آزاد اکائی خواہ اس کے والدین کی جانب سے پیش کی جائیں یا اولاد خود حاصل کریں۔ 
        (۸)         مالی حقوق:اسلام اولاد کو بھی کئی جہتوں سے مالی حق عطا کرتا ہے۔ والدین پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ اس کی لازمی ضروریات پوری کی جائیں، اس کی تعلیم وتربیت کا انتظام کیا جائے اور اسے معاشی استحکام کا ماحول فراہم کرایا جائے ساتھ ہی والدین میں سے ہر ایک کی جائیداد اور ملکیت سے دوسرے حصہ داروں کی ادائیگی کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان کل مال تقسیم کردیا جائے۔ البتہ لڑکے لڑکیوں کے حصوں سے دوگنا پائیں گے۔
        (۹)          بہو اور داماد کے ساتھ حسن سلوک: والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ لڑکے کی بیوی اور لڑکی کے شوہر کے ساتھ حسن سلوک کے ساتھ پیش آئیں۔ ان کی عزت کریں۔ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ نہیں ہونا چاہئے جس سے احترام انسانیت پامال ہوتا ہو۔بعض گھروں میں بیٹے اور داماد ، بیٹی اور بہو کے درمیان ایسا امتیاز برتا جاتا ہے جس سے بیٹے اور بہو میں احساس کم تری کا احساس پیدا ہوتا ہے۔
        (۱۰) بچوں کی اولاد کے ساتھ سلوک:اپنے بچوں سے محبت کی علامت ہے کہ ان کے بچوں کے ساتھ پیار و محبت اور شفقت کا برتاؤ رکھا جائے۔ خاص طور پر جب کسی لڑکے یا لڑکی کا انتقال ہو جائے اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہوں تو جہاں ان کی خبر گیری اور تربیت و تعلیم کا انتظام کیا جائے وہیں اگر وہ اپنے بچوں کے لیے کچھ مال چھوڑ کر نہ گیا ہو اور والدین صاحب مال ہو ں تو ایسی صورت میں ان بچوں کو قدرے معاشی استحکام پہنچانا چاہیے۔ اسلام میں نہ صرف اس کی اجازت ہے بلکہ عین مطلوب و مقصود بھی ہے۔ اگر چاہیں تو ایک تہائی مال سے ان کے لیے وصیت کی جاسکتی ہے۔ عام طور پر اس فوت شدہ  بیٹے کے بچوں کو محجوب سمجھ کر بے یار مدد گار چھوڑ دیا جاتا ہے با وجودیکہ والدین صاحب ثروت ہوتے ہیں اور اس کی دیگر اولاد پر بھی اس کے دینے کا اثر مرتب نہیں ہوتا ہے۔
        برصغیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہاں جو معاشرت رائج ہے اس میں عام طور پر بچے اپنی کمائی اپنے والدین کو دیتے ہیں اس سے جو دولت اور جائیداد جمع ہوتی ہے اس پر والدین یا والد کا تصرف ہوتا ہے۔ بسا اوقات کوئی شخص، جس کی کمائی سے مشترکہ دولت جمع ہوتی ہے، انتقال کر جاتا ہے اور اس مال پر جو اس کی کمائی سے جمع ہوا ہے، والدین کا تصرف ہونے کی وجہ سے اس کی اولاد محجوب سمجھی جاتی ہے۔ ایسے مسائل پر اہل علم کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ایسی صورت میں بیٹے کی اولاد بقدر اولی مستحق ہے کہ اس مشترکہ مال میں اس کا بھی مناسب حصہ مقرر کیا جائے۔
        اسی طرح بیٹے اور بیٹیوں کی اولاد میں بھی کسی طرح کا امتیاز نہیں ہونا چاہیے۔ دونوں برابر کی شفقت و محبت اور ہمدردی کے حق دار ہیں۔
٭٭٭
یہ مضمون دارا لعلوم احمد یہ سلفیہ دربھنگہ بہار میں منعقد دو روزہ قومی سیمینار اسلام اور حقوق کے لئے لکھا گیا اور سیمینار میں پیش کیا گیا
مضمون کا یہ چوتھا حصہ ہے