مشمولات

Thursday, 20 March 2014

عام انتخاب اور مسلم ووٹروں کی ذمہ داریاں

عام انتخاب اور مسلم ووٹروں کی ذمہ داریاں

عام انتخاب ۲۰۱۴ دربھنگہ اور مدھوبنی اضلاع کے اقلیتی عوام کے لیے کٹھن گھڑی اور سخت امتحان کا وقت ہے۔ واضح رہے کہ دربھنگہ اور مدھوبنی مسلم غلبہ والے اضلاع ہیں۔ پارلیمانی حلقہ کی تقسیم کے اعتبار سے دونوں اضلاع کے کچھ بلاک ایک دوسرے سے ملے جلے ہیں۔ پارلیمانی انتخاب میں یہاں کے مسلم ووٹوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور کسی امیدوار کی جیت کو یقینی بناتی ہے۔ لیکن عام طور پر مسلم ووٹوں میں اتحاد نہیں ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے خوش آئند نتیجہ نہیں ہوتا ہے۔ اس بار بھی ان دونوں اضلاع کے حساس اور با شعور عوام مسلم ووٹوںکے تئیں بڑی الجھن محسوس کر رہے ہیں۔ کیونکہ ایک طرف ایوان میں مسلمانوں کی نمائندگی آزادی کے بعد سے مسلسل گھٹتی جارہی ہے جو ان کی آبادی کی شرح سے بہت پیچھے ہے۔ قیادت کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کے بنیادی مسائل بھی ایوان میں پیش نہیں ہو پارہے ہیں جبکہ یہ بھی صحیح ہے کہ عام طور پر ایوان تک پہنچنے والے مسلم لیڈران کی ایوان میں مسلم مسائل کو پیش کرنے سے بڑی دلچسپی نہیں ہوتی ہے ۔ شاید تعداد کی کمی بھی جرأت اظہار کو روکتی ہو لیکن ان میں کچھ مسلمان نمائندے واقعی ایسے ہیں جنہوں مسلم مسائل کے تئیں ایوان کو متوجہ کیا ہے اور کچھ نے خاموشی سے بھی مسلمانوں کے مسائل کا مناسب حل نکالنے کی کوشش کی ہے۔اس گھٹی ہوئی نمائندگی کو پارٹیاں بھی محسوس کرتی ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتی رہی ہیں لیکن جب الیکشن کا وقت آتا ہے تب یا تو مسلمانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دیتیں اور دیتیں بھی ہیں تو ایسی جگہ سے جس سے مسلم ووٹ تقسیم ہوجاتے ہیں اور کوئی مسلم امیدوار جیت کا سہرا نہیں لے پاتا ہے۔ اس وقت دربھنگہ سے مسلم لیڈر کے طور محمد علی اشرف فاطمی ہیں جو دربھنگہ سے ۳؍ مرتبہ جیت کر ایوان میں جاچکے ہیں اور وزیر مملکت کے عہدہ پر بھی فائز ہوچکے ہیں جبکہ جدیو سے سنجے جھا اور عآپ سے سماجی کار کن ڈاکٹر پربھات داس میدان میں ہیں اور بی جے پی کے موجودہ ایم پی کرتی جھا آزاد بھی ایک بار پھر قسمت آزمائی کریں گے۔ ان میں محمد علی اشرف فاطمی کے علاوہ ۲ ؍چہرے اور سیکولر ہیں جن میں ایک طرف بہار کی بر سر اقتدار حکومت جد یو کے سنجے جھا ہیں تو عآپ کے پربھات داس ہیں جو سیاسی طور پر گوکہ اپنی پہچان نہیں رکھتے ہیں لیکن اپنی سماجی خدمت اور عآپ کی بد عنوان مخالف پالیسی کی وجہ سے مسلم ووٹروں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ وہیں مدھوبنی سے جہاں اتحاد کی وجہ سے ڈاکٹر شکیل احمد میدان میں تو نہیں ہیں البتہ گذشتہ انتخاب میں دوسرے نمبر پر رہنے والے راجد کانگریس اتحاد کے عبد الباری صدیقی ہیں جبکہ راجد کے ہی باغی لیڈر غلام غوث ریاستی حکومت کی بر سر اقتدار پارٹی جد یو کے امیدوار کے طور پرتو عآپ کے ارشاد احمد مسلمان لیڈر میدان میں آمنے سامنے ہیں وہیں موجودہ ایم پی حکم دیو نارائن یادو بھی بی جے پی امیدوار کے طور پر قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ مدھوبنی میں بھی ۳؍ چہرے سیکولر ہیں اور تینوں مسلمان ہیں۔ اس لیے یہاں دربھنگہ کے مقابلہ میں مسلم ووٹروں کا کچھ زیاد ہ ہی سخت امتحان ہے کہ وہ اپنے ووٹوں کی بندر بانٹ کرتے ہیں یا سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
 عوام کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی سیٹیں عام طور پر ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے ہی ضائع ہوجاتی ہیں۔ یقینی طو رسیاسی پارٹیوں کی اپنی اہمیت ہے لیکن ہندوستانی سیاست کا موجودہ منظر نامہ یہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے بیساکھی کے سہارے کھڑی ہونے والی حکومتیں زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ریاستی حکومت کے کاموں سے بھی یکسر انحراف کی گنجائش نہیں ہے وہیں موجودہ مرکزی حکومت کے با لمقابل جو خیمہ ہے وہ مسلمانوں کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔ ایسے میں دونوں اضلاع کے مسلمانوں کے لیے سخت مشکل کی گھڑی ہے اور انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کسی پارٹی کی حمایت کے لیے آگے آئیں یا جماعتی سیاست سے بلند ہوکر مسلم نمائندوں کو ایوان تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
با شعور عوام کا خیال ہے کہ دربھنگہ میں اگر مسلمان ذرا سا سیاسی شعور کا مظاہرہ کریں تو یہاں کی سیٹ بچائی جاسکتی ہے۔ جبکہ مدھوبنی میں مسلم عوام کو سخت محنت اور بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت پڑے گی۔ جہاں تک عام آدمی پارٹی کے امیدوار کا مسئلہ ہے تو وہ پہلی مرتبہ میدان میں ہیں اور ان کا سیاسی کیئر یر بالکل مضبوط نہیں ہے۔ اس سے قبل ان کے پختہ سیاسی شعور کا بھی مظاہرہ بھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ جبکہ غلام غوث جد یو کے اچھے امیدوار ہیں اور موجودہ حکومت کے قانون ساز کونسل میں حزب مخالف جماعت کے لیڈر کے طور پرمسلم نوجوانوں کی بے قصور گرفتاری اور ٹی ای ٹی وغیرہ کے مسائل کو بلند کرنے کی وجہ سے ان کی الگ سے کچھ پہچان بن سکی ہے۔ان کے لیے بھی یہ حلقہ نیا ہی ہے اور وہ خود راجد سے بغاوت کرنے کے بعد بتیا سے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ جبکہ عبد الباری صدیقی بہار کے مسلمانوں کے قد آور لیڈر ہیں اور اپنی سیاسی پہچان اور بالیدہ سیاسی شعوررکھنے کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دربھنگہ اور مدھوبنی حلقہ کے مسلم ووٹروں کو احتیاط سے کام لینے اور سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں سیکولرزم اور فرقہ پرستی کے نام پر عوام کو ہمیشہ گمراہ کیا جاتا رہا ہے ۔عام انتخاب ۲۰۱۴ میں اس خیمہ سے اس خیمہ اور اس خیمہ سے اس خیمہ میں کودنے پھادنے کا جو کھیل کھیلا گیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے سیکولرزم اور فرقہ پرستی کی سیاست کرنے والے تمام لیڈران جھوٹے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اس طرح کی سیاست کرتے پھر رہے ہیں۔ اصل میں ہندوستانی سیاست میں سب کے سب مفاد پرست ہیں ۔ سیکولرزم اور فرقہ پرستی کا یہ کھیل اس لیے کھیل رہے ہیں کہ اسی کے ذریعہ وہ عوام کو گمراہ کرسکتے ہیں اور اسی ان کا مفاد پنہاں ہے۔ ایسے میں ووٹروں کے لیے بھی یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ وہ سیکولر رہے یا فرقہ پرست یا ان کو بھی مفاد پرست ہوجانا چاہیے۔ مسلم ووٹر کم از کم اتنے مفاد کا ضرور خیال رکھ سکتے ہیں کہ جس حلقہ میں جو مسلم امیدوار جیت کی پوزیشن میں ہو اسے حتی الامکان جیت دلانے کی کوشش کریں اور ووٹ کی بندر بانٹ سے بچیں۔ جبکہ مقامی لیڈران جو ووٹ کاسٹ کرانے میں خصوصی دخل رکھتے ہیں انہیں ذاتی اور وقتی مفاد کی جگہ دائمی اور بڑے مفاد کو ترجیح دینی ہوگی۔ اسی طرح ذات پات اور الزام تراشیوں کی سیاست بھی پرہیز کرنا ہوگا۔ اس وقت ملک میںمسلم ووٹوں کا اتحاد ہی کسی پارٹی کو مسلمانوں کے طرف متوجہ کرسکتی ہے۔

Saturday, 15 March 2014

کیا اب بھی یہ وقت نہیں آیا کہ دوسرے شہر میں رہتے ہوئے بھی ہم ووٹ دے سکیں


کیا اب بھی یہ وقت نہیں آیا
کہ دوسرے شہر میں رہتے ہوئے بھی ہم ووٹ دے سکیں
                                                                                                                                   
            انتخاب کو جمہوریت کا تہوار کہا جاتا ہے اور تہوار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس تہوار کے ماننے والی کمیونٹی کا ہر شخص اس میں اپنے طور پر شامل ہو۔ انتخاب ایسا تہوار ہے جس میں بڑے چھوٹے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا ہے اور ہر شخص کو تہوار منانے کا مساوی حق حاصل ہے۔ ہر شخص کے ووٹ کی قدر یکساں ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارے ملک میں آج بھی ایک بہت بڑی تعداد اس جمہوری تہوار میں شریک نہیں ہو پارہی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کو اس محرومی کا احساس بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان پر اس تہوار میں شمولیت کے لیے کوئی پابندی ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ایسا نظام تیار نہیں کیا جاسکا ہے کہ ہر شخص اس میں شامل ہوسکے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان ان ممالک میں سے ہے جس کی ۷۰؍ فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں بستی ہے۔ ہندوستان کی دیہی علاقوں کی خامی یہ ہے کہ وہاں زراعت کے علاوہ روزگار کے مواقع بہت کم ہیں اور زراعت سے ملنے والی روزگار ناکافی ہے۔ اس لیے دیہات کے لوگ شہر جاکر روزی روٹی کمانے پر مجبور ہیں ۔موجودہ انتخابی نظام کے مطابق جس شخص کا نام جس انتخابی حلقہ میں موجود ہے اس کو انتخاب کے دن وہاں حاضر ہوکر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوتاہے۔ سوائے اس کے کہ جو لوگ کام کی غرض سے گذشتہ چھ ماہ سے ملک سے باہر رہ رہے ہیں انہیں پارلیامنٹ نے ۲۰۱۰ میں ایک بل کے ذریعہ این آر آئی ووٹ دینے کا بھی حق دیا ہے۔اس کا پورا نظام ہے جس کے مطابق بیرون ممالک رہنے والا شخص ووٹ دے سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ این آر آئی ووٹنگ حق(غیر حاضر ووٹنگ سہولت) پر بات کی جائے ہم یہاں ان لوگوں کی بات کرنا چاہ رہے جو ملک میں رہتے ہوئے بھی ووٹ کے حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس وقت ہماری دیہی آبادی کا تقریبا ۳۰؍ فیصد سے زائد بڑا طبقہ علاقے سے دور کے شہروں میں روزی روٹی کماتا ہے۔جس کی مسافت پورے ایک دن سے تین اور چار دن تک ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے الیکشن کے وقت اپنے حلقہ میں آسکتے ہیں جبکہ قابل لحاظ آبادی ایسی ہے جوکسی بھی صورت میں نہیں آسکتی ہے۔ کیونکہ وہ اتنا روزگار نہیں کماتے ہیں کہ کرایہ سمیت آنے جانے کے دیگر اخراچات کو برداشت کرسکیں۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ حکومت ان لوگوں کو ریل یا دیگر کسی بھی ذریعہ سے مفت سفر کی اجازت دے دیتی ہے تب بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ جتنی بڑی تعداد میں دیہی علاقوں کے لوگ شہروں میں رہتے ہیں وہ سفر کرسکیں۔ عام طور پر چھٹیوںیا تہوار کے موقع پر کئی ماہ قبل سے ٹرینوں کی ساری سیٹیں ریزرو ہوتی ہیں جبکہ شہر میں رہنے والے دیہی لوگوں کا ۱۰؍ فیصد حصہ ہے ان مواقع پر ایک ساتھ گاؤں کا سفر کرتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر مفت سہولت بھی ہوگی تو وہ مزدور طبقہ جو ایک دن کماکر ایک دن کی خوراک مہیا کرتا ہے بھلا انتخاب کے لیے کئی دنوں کا اور کئی دنوں کے لیے کیونکر سفر کرے گا۔شہروں میں کمانے والے لوگوں میں سے بہت سے لوگ چھوٹی موٹی ملازمت سے وابستہ ہوتے ہیں جنہیں انتخاب کے لیے ہفتہ عشرہ کی چھٹی ملنی ہی مشکل امر ہے۔ اگر مل گئی تو ان کی اجرت کاٹ لی جائے گی۔دوسری جانب اگر تمام لوگ سفر کرکے اس تہوار میں شامل ہونا چاہیں تو ہمارے یہاں اب بھی سفر کی ایسی سہولت موجود نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک ساتھ اپنے گاؤں کا سفر کرسکیں۔ اسی طرح تجارت کرنے والے بھی اگر گھر اس حق کے لیے گھر آنا چاہیں تو کم از کم ہفتہ عشرہ تک ان کی تجارت میں خلل پیدا ہوگا جس سے بڑے نقصان ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی اتنا بڑا نقصان کا سودابھی کیونکر کرے گا۔
            این آر آئی ووٹ کا اختیار دیتے ہوئے جن امور پر غور کیا گیا تھا اس میں سے ایک یہ تھا کہ ہمارے ملک کے تقریبا ۲۵؍ ملین لوگ ملک سے باہر رہ کر روزگار کماتے ہیں اور۴۵ ؍ دن قبل سے ساری سیٹیں ریزرو کی جائیں جیسا کہ ایئر ٹکٹ ریزرو ہوتی ہے تو صرف ۵؍ ملین لوگ ہی سفر کرسکیں گے۔ چونکہ اس سے کہیں بڑی تعداد خود ملک کے اندر اپنے حلقہ سے بہت دور رہتی ہے اور وہ چاہ کر بھی سفر نہیں کرسکتی۔ لیکن صرف اس وجہ سے کہ وہ انتخاب کے وقت اپنے گاؤں آنے سے مجبورہیں ملک کی اتنی بڑی آبادی کو اس تہوار میں شامل ہونے کا مناسب موقع فراہم نہ کیا جانا ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں جمہوریت کی محرومی کہلائے گی اور ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جب تک ایسی آبادی ووٹ کے حق سے محروم رہے گی ہماری جمہوریت غیر مستحکم ہی رہے گی۔ اب جبکہ مختلف شعبہ حیات میں آن لائن خدمات موجود ہیں ،یہ نہ تو ناممکن ہے اور نہ ہی بہت مشکل ترین امر ہے کہ ایسی آبادی کو اپنے روزگار کے مقامات پر رہتے ہوئے ووٹ کا حق دیا جائے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر جو لوگ ۶؍ مہینہ یا اس سے زائد مدت سے کسی خاص مقام پر رہ رہے ہیں تو ان کا نام وہاں کے ووٹر لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔لیکن زمینی حالات ایسے ہیں کہ عوام میں اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی اور کسی طرح بھی عوام دلچسپی نہیں لیں گے۔ اسی طرح عوام کو دوسرے حلقہ سے ویسی دلچسپی نہیں ہوگی جیسا کہ اپنے حلقہ سے ہوا کرتی ہے۔ پھر یہ کہ ملک میں نام کا داخل کرانا اور کٹوانا اور پھراپنے حلقہ میں نام داخل کروانے کا عمل اتنا پیچیدہ اور دشوار کن ہے کہ ایک شخص بھی اپنے حلقہ سے اپنا نام کسی بھی قیمت پر کٹوانا نہیں چاہے گا ۔ پھر یہ کہ ان کے گھرانے کے سارے لوگ اپنے حلقہ میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں علاقائی تعصب بھی اتنا ہے کہ وہ ہمیشہ باہری کہلاتے رہیں گے۔ جہاں تک دوہریت کی بات ہے کہ اب الیکٹرانک اور انٹرنیٹ عہد میں اس پر قابوپانا بہت آسان ہے جس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ Eye Impression, Electronic thumb Impressionاور Magnetic Cardوغیرہ  تو بالکل عام سی چیزیں ہیں۔واضح رہے کہ الیکٹرول لسٹ بھی اب بھی الیکشن کمیشن کی سائٹ پر ڈال دی گئی ہے جسے Epic Code ڈال کر بھی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
            دوسری جانب یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ این آر آئی (غیر مقیم ہندوستانی) ووٹ کا حق بھی کتنے لوگ حاصل کرپارہے ہیں اور اس کی ۱۰۰؍ فیصد تعمیل کے لیے الیکشن کمیشن یا حکومت کی جانب سے کیا حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حق کا استعمال صرف ہائی پروفائل ملازمت سے وابستہ افراد ہی کرپاتے ہیں۔ خصوصا بیرون ممالک ملازمت کرنے والا اقلیت طبقہ اس سے بالکل ناواقف ہے اور اگر کچھ لوگ واقف بھی ہیں تو اس کے تئیں حساس نہیں ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ہر شخص کو اس سے واقف کرایا جائے تاکہ ہر فرد اس حق کو حاصل کر کے جمہوریت کے استحکام میں اپنی حصہ داری نبھائے۔
            غیر مقیم ہندوستانیوں کو ووٹ دینے کے لیے کم از کم ۳۰؍ دن قبل اپنے پاسپورٹ اور بیرون ملک رہائش کی سند کے ساتھ درخواست دینی پڑتی ہے ۔ الیکشن کمیشن اسے اپنی طرف سے یااس ملک میں موجود ملک کے قونصلیٹ کے تعاون سے بیلٹ پہنچاتا ہے۔ ووٹر کو اپنے انتخاب پر نشان لگاکر دوبارہ دیئے گئے پتہ پر بھیجنا پڑتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ رجسٹرڈ ووٹر انٹرنیٹ سے بیلٹ پرنٹ کر کے آن لائن بھیج سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں http://www.nrivotingrights.info/index.php?option=com_content&view=article&id=62&Itemid=68 پر مزید معلومات کا مشاہدہ کر کے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا چاہیے۔
            مسلمانوں کی کمزوری یہ ہے کہ جب انہیں کوئی حق نہیں ملتا ہے تو ہنگامہ برپا کرتے ہیں لیکن جب حق حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کا استعمال نہیں کرتے حتی کہ بسا اوقات عدم دلچسپی کی وجہ سے کئی مراعات ختم کردی گئے ہیں۔ این آر آئی ووٹ بھی ایک اہم اختیار ہے۔ بیرون ممالک مقیم ہندوستانیوں اور بطور خاص مسلمانوں کو چاہیے کہ نہ صرف اس کا استعمال کریں بلکہ ملنے جلنے والوں کو بھی اس کے استعمال پر راغب کریں ۔ ایسے لوگ جو کم پڑھے لکھے ہیں اور بیرون ممالک ملازمت کرتے ہیں ان کی رہنمائی بھی کریں تاکہ ملک کے ایک اچھے شہری کی حیثیت سے آپ کی پہچان بن سکے۔
 ٭٭٭

Wednesday, 12 March 2014

اچھی یا بری رائے قائم کرنے کی آزادی

کچھ لا ابالی باتیں:
اچھی یا بری رائے قائم کرنے کی آزادی
اظہار رائے کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس حق کی رو سے  ہر شخص آزاد ہے کہ وہ کسی بھی شخص کے بارے میں اپنی اچھی یا بری رائے قائم کرسکے ۔ اس کا جواز کوئی خوشی فہمی یا غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے (جو بذات خود ایک قسم کی آزادی  اور جواز ہے) یا کوئی دیگر  سبب بھی ۔ اسباب کا انحصار   فریقین کی ترجیحات  کی نوعیتوں کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ ترجیحات کا اختیار بھی حق آزادی کا ایک حصہ  ہے۔ جس طرح کسی شخص کو کسی کے بارے اچھی یا بری رائے قائم کرنے سے روکنا اس کے حق آزادی کو سلب کرنا ہو گا اسی طرح  کسی کے بارے میں اپنی  رائے بدلنے کے لیےاس کی ترجیحات کو بدلنے کی شرط قائم کرنا آزادی کے منافی ہے۔
            بعینہ یہ بات بھی محل نظر ہے کہ جس طرح کوئی شخص کسی شخص کے بارے میں اپنی اچھی یا بری رائے قائم  کرنے میں آزاد ہے اسی طرح وہ شخص جس کے بارے میں کوئی اچھی یا بری رائے قائم کی گئی ہے اپنے بارے میں  یا کوئی تیسرا شخص اس کے بارے میں آزادانہ طور پر اپنی رائے قائم کرنے میں آزاد ہے اور  اس شخص کو یا کسی بھی شخص کو اپنی رائے منوانے کے لیے جائز جواز کے حوالہ سے بھی مجبور نہیں کیا جانا چاہیے اور جب بھی ایسا کیا جائے تو یہ سمجھا جائے گا کہ یہ  کسی شخص کی آزادی میں دخل اندازی کی کوشش ہے۔


Saturday, 1 March 2014

गोधरा की सच्ची कहानी, एक पत्रकार की ज़ुबानी


Published by Rashtriya Ulma Council
गोधरा की सच्ची कहानी, एक पत्रकार की ज़ुबानी

पाठकों और ब्लोगर बन्धुवों ! मैं आज एक ऐसे पत्र को आप तक पहुँचाने जा रहा हूँ जो कि एक पत्रकार ने लिखा था. उसने अपने पत्र में गोधरा में हुए काण्ड का सच बयान किया है. मैं उस पत्र में लिखित अंश और विश्लेषण को आप तक पहुँचाना चाहता हूँ.
साबरमती एक्सप्रेस में जो दु:खदायक काण्ड हुआ वह क्या था? और उस दिन क्या क्या घटित हुआ? कितनी सच्चाई हमारी मिडिया ने दिखाई, कितना सच छान कर झूठ का लबेदा ओढे हम तक पहुंचा? आईये एक पत्रकार की ज़ुबानी सुनते हैं..... (Mr. Anil Soni and Neelam Soni (reporter of Gujarat Samachar) Soni's mobile number: 0-9825038152. Resident number 02672 (code) 43153)
गोधरा
साबरमती एक्सप्रेस का दुखदाई कांड सुबह ७:३० पर गोधरा स्टेशन के एक किलोमीटर दूर हुआ, की सच्चाई मैं आप तक पहुँचाना चाहता हूँ. साबरमती एक्सप्रेस की बोगी नंबर S-6 और दो दूसरी बोगियों में विश्व हिन्दू परिषद् (VHP) के कार-सेवक यात्रा कर रहे थे. दुखदाई कांड की असल वजह ये कार-सेवक ही थे, जो उन बोगियों में सफ़र कर रहे थे. जो कहानी आप तक पहुंचाई गयी है वह सच्चाई से कोसों दूर हैं, असल कहानी जो कि सच है वह अलग ही है.

यह वास्तविकता शुरू होती है गोधरा से ७०-७५ किलोमीटर दूर दाहोद नामक स्टेशन से. समय था ५:३०-६:०० ऍएम्, ट्रेन दाहोद स्टेशन पहुंचती है. ये कार-सेवक उस स्टेशन पर चाय-नाश्ता करने के उद्देश्य से टी-स्टाल पर जाते हैं. किसी बात पर कार-सेवकों और टी-स्टाल के बीच विवाद हो गया और उन कार-सेवकों ने दूकान में तोड़-फोड़ कर दी. फिर वे अपने बोगी में वापस चले गए... इस वाकिये की एक एन-सी.आर. दूकान मालिक ने स्थानीय पुलिस में भी की थी.

अब ट्रेन गोधरा स्टेशन पर पहुंचती है और समय हो रहा होता है ७:००-७:१५ AM. वहां सभी के सभी कार-सेवक ट्रेन से उतर कर स्टेशन पर एक छोटे से चाय की स्टाल पर जा कर स्नैक्स आदि लेते हैं; उस स्टाल को एक बुढा मुसलमान व्यक्ति चला रहा होता है. उस दूकान में एक छोटा लड़का भी हेल्पर बतौर काम कर रहा था. कार-सेवकों ने जानबूझ कर मुसलमान दूकानदार से बहसबाजी शुरू कर दी और बहस करते करते ही उसे पीट डाला. उन कार-सेवकों ने उस बूढे मुसलमान की दाढ़ी भी पकड़ कर खींची और उसे मारा. वे कार-सेवक जोर जोर से एक नारा भी दे रहे थे

"मंदिर का निर्माण करो, बाबर की औलाद को बाहर करो"
बाबर की औलाद से उनका मुराद मुसलमान ही थे.

शोर-शराबा सुन कर उस बूढे की सोलह साल की एक लड़की वहां पर आ गयी और अपने बाप को बचाने की नाकाम कोशिश करने लगी. वह उन ज़ालिम कार-सेवकों से दया की भीख मांग रही थी और कह रही थी कि उसके बाप को छोड़ दीजिये, जिसको वे कार-सेवक अभी भी मार रहे.

उन ज़ालिमों ने उस बूढे को तो छोड़ दिया लेकिन उस लड़की को पकड़ लिया और अपने बोगी (S-6) में ले गए और अन्दर से दरवाज़ा बंद कर लिया. उस लड़की को अपने साथ ज़बरदस्ती क्यूँ ले गए थे; यह बताने की आवश्यकता नहीं है.

उधर बुढा उनसे अपनी बेटी को छोड़ देने की गुहार लगा रहा था. लेकिन उसकी एक न चली. अब ट्रेन धीमे धीमे आगे बढ़ना शुरू हो गयी लेकिन ट्रेन के रफ़्तार पकड़ने से पहले ही वह बुढा मुसलमान दूकानदार ट्रेन की आखिरी बोगी (गार्ड के पहले वाली) में चढ़ जाता है और ट्रेन की चेन को पुल कर देता है. अब ट्रेन पूरी तरह से रुक जाती है और यह सब करते करते गोधरा स्टेशन लगभग एक १ किलोमीटर पीछे हो चुका होता है.

तभी २ नव-युवक वहां आ जाते हैं माज़रा समझ कर खिड़की के बाहर से उन कार-सेवकों से उस लड़की को छोड़ देने के लिए कहते हैं. शोर-शराबा काफी बढ़ चुका होता है बोगी के आस-पास लोग इक्कट्ठे हो जाते हैं; उस भीड़ में कुछ लड़के और औरतें भी होती हैं जो बाहर से ही उन कार-सेवकों से उस लड़की को छोड़ने का दबाव बनाने लगते हैं. भीड़ काफी गुस्से में होती जा रही थी और लड़की को वापस कर देने की मांग अब गुस्से में तब्दील होती जा रही थी.

लेकिन बजाये लड़की को वापस देने के, वे ज़ालिम (VHP) के कार-सेवक लोगों ने बोगी की खिड़कियाँ ही बंद कर दीं. यह क्रिया भीड़ के गुस्से में आग में घी का सा काम किया और उस भीड में से कुछ लोगों ने बोगी पर पत्थर फेंकना शुरू कर दिया.

बोगी संख्या एस छह (S-6) के दोनों तरफ की बोगियों में भी कार सेवक थे. उन कार-सेवकों के पास भी बैनर थे जिसमें लम्बे लम्बे डंडे लगे थे. वे कार-सेवक अपने बैनर्स और डंडों के साथ लड़की को बचाने आई भीड़ पर ही पिल पड़े और बैनर के डंडों से भीड़ पर हमला बोल दिया. अब भीड़ का गुस्सा पूरी तरह से अनियंत्रित हो चुका था. भीड़ में से ही कुछ लोगों ने पास के ही एक गैराज से (garages Signal Fadia) से डीज़ल और पेट्रोल आदि ले आये और बोगी को जलाने लगे.

जैसा कि कथित रिपोर्ट में यह कहा गया कि पेट्रोल आदि को प्री-प्लांड पेट्रोल पम्प से लाया गया; बिलकुल ही बे-बुनियाद है. यह प्रतिक्रिया अचानक भीड़ ने की न कि पहले से प्लान करके. भीड़ लड़की को छुडाने की कोशिश कर रही थी लेकिन कार-सेवक उग्र से उग्रतर होते जा रहे थे. वे (स्वभावत: वैसा ही करने लगे जैसा कि वे अयोध्या में कर चुके थे) जानते थे कि यह हिन्दुस्तान है यहाँ केवल जय श्री राम कह कर जो आतंक फैलाया जा सकता है वह गोली बंदूक से भी ज़्यादा भयानक होता है.

यह घटना सुनकर वहां के स्थानीय वीएचपी (VHP) कार्यकर्ताओं ने उस गैराज में (Signal Fadia) में आग लगा दी और पास के ही एक इलाके 'शेहरा भगाड़' (गोधरा का ही एक स्थान) में स्थित एक मस्जिद को भी जला डाला.

देर से पहुंची पुलिस को सच कहानी का पता तो नहीं चल सका लेकिन भीड़ द्वारा जलाई गयी सरकारी बोगी को साक्षात् देख पुलिस का गुस्सा स्थानीय लोगों पर उतारा और पुलिस ने स्थानीय लोगों को गिरफ़्तार कर लिया.
पुलिस अपना पल्ला झाड़ने के तहत गोधरा के मेयर श्री अहमद हुसैन कलोता को इस घटना का ज़िम्मेदार ठहरा दिया. श्री अहमद हुसैन भारतीय कांग्रेस के मेंबर भी है उर एक वकील भी.

यह पूरी जानकारी वहीँ के स्थानीय लोगों और विश्वसनीय लोगों से बातचीत पर आधारित भी है. मैं इस स्रोत के मुख्य पात्र श्री अनिल सोनी जी (मोबाइल # 0-9825038152. घर का नंबर 02672 'कोड' 43153, ऑफिस नंबर : 43152,) का शुक्गुज़ार हूँ जिन्होंने इस पूरी घटना का सच्चा वृतांत पहुँचाया.

वी एच पी (विश्व हिन्दू परिषद्) ने फिर ऐसा चक्र रचा कि देश को १०० साल से भी ज़्यादा पीछे धकेल दिया. मैं यह कहने से कोई गुरेज़ नहीं करता हूँ कि भारत में वी एच पी (विश्व हिन्दू परिषद्) या संघ या बजरंज दल या भाजपा आदि धुर-कट्टरपंथी ताक़तों ने एक बार नहीं कई बार देश को साम्प्रदायिकता की आग में धकेला है और उसकी रोटी सेंकी है. ऐस नहीं है कि जिसकी रोटी इन्होने सेंकी उन्हें कोई फायेदा पहुंचा हो, वे केवल देश की उन भोली भाली जनता का ब्रेन वश कर देते हैं जो अंध-विश्वास और आस्था के लिए कुछ भी कर देती है. क्या इन शैतानों के इस कृत्य को कोई रोक सकता है और इनके इस कृत्य की सज़ा तो केवल उन मासूम लोगों को ही भुगतनी पड़ती है जिनका उससे कोई लेना देना भी नहीं है.

क्या ऐसा ही होता रहेगा कभी अयोध्या, कभी गोधरा कभी गुजरात........आखिर कब तक !!!???