مشمولات

Tuesday, 5 January 2016

Tareekh-e-Kuroodih (Vol2) by Dr. Arshad Jamil

تاریخ کوروڈیہہ : تہذیبی وثقافتی اثاثوں کا ایک عمدہ محافظ

            ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربا نی ر وزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ پہلی جنگ آزادی ۱۸۵۷ءکی ناکامی کے بعد مسلمانوں کو انگریزوں کے عتاب کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑا۔ بغاوت کے الزام میں ہزاروں علمائے کرام کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔ دہلی کے چاندنی چوک سے لاہور کی جامع مسجد تک جتنے درخت تھے ان پر مسلم علمائے کرام کی لاشیں لٹک رہی تھیں۔اس تاریخی حقیقت پر کسی تامل کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ سارے کے سارے سرفروشان وطن کون تھے،کن بستیوں کے رہنے والے تھے، کیسی شخصیت کے مالک تھے، اس کے علاوہ ان کی کیا کیا خدمات ہیںاور ایک ساتھ ان کے اٹھ جانے سے ان کے سماج کو فکر وعمل کے کس زوال کا سامنا کرنا پڑا، اس سلسلے میں استناد کے ساتھ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہم اسے دانشورانہ شعور اورفکر و احساس کے فقدان کا نام بھی نہیں دے سکتے کیونکہ قیامت صغری اور بلا خیزی کے اس عالم نے کس کو اتنا سنبھل کر بیٹھنے کا موقع دیا کہ دامان خیال یار کے چھوٹنے کا غم کرے۔انگلیوں پر شمار کئے جانے والے اردو اخبارات نے اپنے محدود وسائل وذرائع کے باوجود انگریزوں کی مشکلیں ضرور بڑھادی تھیں لیکن تھے تو محدود ہی جن سے ان کا اشاریہ تیار کرنا ممکن نہیں ہوسکا۔ تاہم اگر اس کے کچھ اشارے موجود ہوتے تو شاید آج اس کی کڑیاں جوڑی جاسکتی تھیں۔ یہ تو خیر بلا خیزی کا عالم تھا۔ ہم نے بعدمیں بھی اس طرح سے اپنے تاریخی شعور کی بیداری کا ثبوت نہیں دیا کہ ہماری جو ثقافتی، تہذیبی ، دانشمندانہ علامتیں اور تسلسل کی چھوٹی چھوٹی کڑیاں ہیں انہیں فضاؤں میں گم ہوجانے کے لیے چھوڑنے کی بجائے دستاویز کا حصہ بنائیں۔ اگرہم نے اس تاریخی شعور کا ثبوت دیا ہوتا تو آج ہمارے تشخص کو مٹانے کی جو کوششیں ہورہی ہیں ان کو کامیاب بنانا اور بھی مشکل ہوتا۔ تاریخی شعور کی بیداری کا یہ احساس ہمیں ”تاریخ کوروڈیہہ“مصنفہ ڈاکٹر ارشد جمیل میں ملتا ہے۔
            ”کورو ڈیہہ“ ضلع بھاگلپور کی ایک ایسی مردم خیر بستی ہے جو تاریخی اور علمی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بستی اور اس کے اہالیان کے اجتہادی، علمی اور تحریکی کارنامے تاریخ میں تو جگہ پانے کے لائق ہیں ہی ساتھ ہی ایسی عظیم ہستیاں بھی یہاں ہر دور میں موجود رہی ہیں جنہوں نے نسل انسانی کی تہذیبی وراثت کو اپنے اسلاف سے حاصل کرکے اسے نئے اور مزید بالیدہ شعور کے ساتھ آنے والی نسلوں کے سپرد کیا ہے۔ یوں تو یہ بستی بھی بظاہر ایک بستی ہی ہے لیکن اس بستی میں سنہری روایتوں کا وہ رابطہ اور تسلسل موجود ہے جو ضلع بھاگلپور کی مختلف بستیوں کی سنہری کڑیوں کو جوڑ کر ایک زنجیر بناتاہے۔ وضاحت طلب امر یہ ہے کہ ایسی بہت سی بستیاں ہیں جہاں اس طرح کے رابطے اور تسلسل کم وبیش ضرور رہے ہیں لیکن چند مثالوں کو چھوڑ کرہمارے شعورمیں یہ بالیدگی نہیں آسکی کہ اس تسلسل کو تاریخ کا حصہ بنا دیا جائے۔ تاریخ کوروڈیہہ جلد دوم اسی دانشورانہ شعور ، احساس اور ادراک کی علامت ہے۔ اس سے قبل مصنف ڈاکٹر ارشد جمیل نے ۲۰۱۲ء میں ”تاریخ کوروڈیہہ “(جلد اول) لکھ کر کوروڈیہہ کی تاریخی اہمیت اور اعلی انسانی روایات کے تسلسل کو تاریخی ادراک کا حصہ بنایا تھا انہوں نے ۲۰۱۵ میں اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے جلد دوم کی تصنیف کی ہے جو کوروڈیہہ کی تاریخ کے ساتھ بھاگلپور کے گرد ونواح کی تعلیمی اور معاشرتی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے۔
            ڈاکٹر ارشد جمیل کوروڈیہہ کے باشندے ہیں اور اس وقت للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ وہ ایک اچھے اور کامیاب استاد ہونے کے ساتھ علم وفضل کے اعتبار سے بھی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ دانشورانہ فکر وشعور ، علمی بصیرت اورآگہی ان کا طرہ امتیاز ہے۔ ان کی ذات اور شخصیت شرافت اور اعلی قدروں کا مرقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ، رفقا کے ساتھ ساتھ اہل علم ونظر میں اعتبار اور عزت ووقار کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ تاریخ کوروڈیہہ جلد اول و جلد دوم ، غبار سفر (جمو وکشمیر کا سفرنامہ) کے علاوہ متعدد گراں قدر علمی وادبی مضامین ومقالات ان کے علمی کارنامے ہیں۔ کچھ کتابیں اب بھی زیر طبع ہیں جو جلد ہی منظر عام پر آئیں گی۔
            تاریخ کوروڈیہہ جلد دوم کو کل سات ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا سب سے اہم حصہ باب اول ہے جس میں بھاگلپور اور گرد ونواح کی پندرہ اہم بستیوں ؛پورینی، جمگاؤں، کنڈی، سمریا، بزرگ ہرنا، ڈھالی ہرنا، کمال پور ہرنا، چک عابدہ، بدلو چک، سنہولی، ڈہر پور، چکدریا، پتھنہ، گرہوتیہ اور استو کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ ان بستیوں کے حوالے سے ایک سو انتالیس افرادو شخصیات کا قدرے تفصیلی تو کچھ کا اجمالی ذکرسرخیوں کے ساتھ موجود ہے۔ باب دوم اس کتاب کے سرنامے سے متعلق ہے جس میں ماضی اور حال کے آئینے میں کوروڈیہہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس باب کے تحت تقریبا بائیس صفحات میں کوروڈیہہ کی تفصیلی تاریخ ہے۔ تاریخی پس منظر سے لے کر گاؤں کے نشیب وفراز اور تعلیمی وسماجی سرگرمیوں کو شامل کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔ تیسرا، چوتھا، پانچواں، چھٹا اور ساتواں باب راست طور پر اسی گاؤں سے متعلق ہے۔ تیسرے باب میں یادوں کے چراغ کے عنوان سے کوروڈیہہ کے بارہ مرحومین افراد وشخصیات کا بشمول مصنف کے والدتذکرہ ہے جبکہ چوتھے باب میں تذکرہ معاصرین میں کوروڈیہہ کے ہی تیئس حی القائم افراد وشخصیات کا تذکرہ کیا گیا۔ باب پنجم میں گاؤں کے حفاظ کرام اور باب ششم میں گاؤں کے حجاج کی لسٹ دی گئی ہے جو جلد اول میں شامل نہیں ہوسکے تھے۔ اس کتاب کا ساتواں باب بھاگلپور اور گرد ونواح کی تاریخ کی حیثیت سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مغلیہ حکومت کے آخری دور میں اس گاؤں کی کئی شخصیتیں عہدہ قضاة پر مامور تھیں تو مرزا عبد اللہ بیگ نامی ایک شخص خاندان مغلیہ کے کسی عہد میں صوبہ دار بھی رہ چکے ہیں۔ ساتویں باب میں نوادرات کو شامل کیا گیا جن میں قاضی نعیم اللہ کے نائب قاضی عبد الفتاح۱۸۴ھ کی مہر کا عکس دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک محضر نامے کا بھی عکس ہے جو محمد شاہ بادشاہ۱۱۵۳ھ مطابق ۱۱۸۴ء سال جلوس کے عہدسے متعلق ہے اس پر اس عہد کے مشاہیر علما اور قاضی القضاة کے دستخط ثبت کئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ اس علاقے سے وابستہ کئی اہم شخصیات کی تعلیمی اسناد کی عکسی کاپیاں بھی دی گئی ہیں۔
            مصنف کا تعلق اردو اور فارسی زبان وادب سے ہے۔ لیکن ان کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ بڑا گہرا ہے۔ انہوں نے مواضع کا ذکر کیا ہے تو گاؤں کی وجہ تسمیہ، اس کے قیام آباد ہونے کا پس منظر، جغرافیائی پس منظر، رقبہ اور حدود اربعہ، محل جائے وقوع،طول البلد اور عرض البلد، آب وہوا، تاریخی اور ثقافتی علامتیں، زبان اور بولیاں، تعلیمی وتہذیبی اور ثقافتی ادارے،گاؤں کے لوگوں کا بنیادی پیشہ اور وہاں کے تمدن ومعاشرت پر بھی بڑی باریکی اور وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ جبکہ افراد وشخصیات کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے کہ اس میں بیک وقت تذکرے، خاکے اور تاریخ تینوں کے اوصاف مجتمع ہوگئے ہیں۔ کئی لوگوں کا تذکرہ پڑھئے تو اس میں عمدہ خاکے کا مزہ ملتا ہے۔ اشخاص سے متعلق یاد داشتوں اور واقعات کے بیان کو پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف پیکر تراشی اور منظر کشی پر بھی خوب قدرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مشمولہ شخصیات کی زندگی کے نشیب وفراز کا بھی احاطہ کرنے کی پوری کی کوشش کی ہے۔ قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ بڑی بڑی شخصیات کی زندگی کے واقعات اور ان کی یاد داشتیں قلم بند کرنا قدرے آسان کام ہے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی علمی کاوشوں اور دیگر ذرائع میں اس کا اہتمام ہوجاتا ہے۔ لیکن عام اور معمولی زندگی گذارنے والے لوگوں کے بارے میں معلومات اکٹھاکرنا، ان کی پیدائش اور موت اور دیگر یاد داشتوں کو تلاش کرنا محنت شاقہ کا متقاضی ہوتا ہے۔ مصنف نے اس جوکھم کو برداشت کیا ہے اور بڑے لوگوں کے ساتھ عام لوگوں کے بارے میں بھی بہت سی چھپی ہوئی معلومات کو تلاش کیا ہے اور اس کے اندر کی خوبیوں کا اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ جن کی زندگی اخلاقی اعتبار سے اچھی نہیں گذری ہو ان میں اعلی قدروں کی شناخت اور ان کا برملا اعتراف کرنا دیدہ دل کا کام ہے اور یہ کام وہی کرسکتا ہے جو خود متوازن طبیعت کا مالک ہو، جس کی سوچ اکہری نہ ہو اور خوبیوںمیں خرابی اور خرابیوں کے درمیان خوبی کو پہچان سکتا ہو۔ ورنہ عام طور پر جو لوگ غلط راہ پر چل پڑتے ہیں ا ن کے ساتھ لوگوں کا سلوک ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی برائی میں اور بھی پختہ تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کی خوبیوں کو بھی ان کو چالاکی اور مطلب پرستی کے نظریے سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ارشد جمیل نے ایسے لوگوں میں بھی خوبیاں تلاش کی ہیں اور اس کا برملا اعتراف بھی کیا ہے۔ کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف ڈاکٹر ارشد جمیل اظہار بیان پر غضب کی قدرت رکھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے جملے لکھتے ہیں جو انشا پردازی اور تخلیقیت سے پر ہوتے ہیں۔
            یہ کتاب اپنے علاقہ کی تاریخ کا بلا واسطہ طور پر احاطہ تو کرتی ہی ہے لیکن بالواسطہ طوپر بہار کے دیگر اضلاع کے سینکڑوں علما، دانشوران اور سرکردہ شخصیات کا بھی اشاریہ ہے ۔جن علما اور دانشوران کا ذکر ضمنا یا حوالے میں ہوا ہے، ان میں سے بعض تو اب بھی تاریخ میں زندہ ہیں لیکن ان میں بہت سے علما ودانشوران ایسے ہیں جن کی یادیں سینوں کے ساتھ دفن ہوتی چلی گئیں ہیں ۔ چونکہ اس کتاب میں بہت سے دینی اداروں مدرسوں کا ذکر ہوا ہے اس لیے مختلف مراحل میں ان مدارس کے نصاب میں شامل کتابوں کے بارے میں بھی معلومات ہوتی ہے۔
            ماضی میں یاد داشتوں کو باقی رکھنے کے ذرائع محدود تھے۔ بہت سی باتیں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی تھیں جس میں کچھ کڑیاں چھوٹ جاتی تھیں تو کچھ الحاقی کڑیاں جڑ جاتی تھیں اس کے باوجود بہت سی یادیں آج تک موجود ہیں۔ آج جبکہ یاد داشتوں کو باقی رکھنے کے بے شمار ذرائع پیدا ہوگئے ہیں ہماری تہذیبی قدروں کے حصے مٹتے جارہے ہیں اور کڑیاں ٹوٹتی جارہی ہیں اور اس طرح نئی نسلیں اپنے علمی سرمائے اور ثقافتی اثاثے سے بے خبر ہوتی جارہی ہیں۔ یہ کتاب اسی ثقافتی سرمائے کو آنے والی نسلوں کو تک پہچانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلم مواضع کی تاریخ اور ترتیب کا یہ نہج انتہائی منفرد ہے۔ دوجلدوں کو شامل یہ صرف ایک کتاب ہی نہیں بلکہ ایک مخصوص خطے کے تناظر میں اپنے عہد کی آثار الصنادید ہے۔ ایسے کاموں کی بلاشبہ بڑی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اس کی ضرورت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ہم ماضی کے تاریخی اثاثوں کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کا کوئی تاریخی استناد ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ اگر اس نہج پر مسلم مواضع کی تاریخ مرتب کی جائے تو ہم آنے والی نسلوں کو بتاسکیں گے وہ اعلی قدریں جن سے ہمارا تشخص قائم ہے کس طرح فروغ پائیں اور کیسے کیسے ہم تک پہنچیں جن پر ہم آج فخر کرتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں اس بات کی تحریک بھی دیتی ہے کہ تمام مسلم مواضع میں دست برد زمانہ سے جو یادیں بچ گئی ہیں انہیں ہم محفوظ کریں۔
             چونکہ مصنف کی سخت بیماری کے دوران یہ کتاب طباعت کے مرحلے سے گذری ،اس لیے بعض جگہوںپر پروف کی غلطیاں راہ پاگئیں ہیں۔ مجموعی طور پر کتاب میں بڑی نفاست اور عمدہ گٹ اپ ہے۔ قیمت بھی بڑی معقول ہے۔ یہ کتاب طلبہ، اساتذہ ، دانشوران کے ساتھ عام لوگوں کے بھی مطالعے کی چیز ہے۔
٭٭٭
نوٹ: یہ مضمون قومی تنظیم پٹنہ میں 10 جنوری 2016 بروز اتوار صفحہ بعنوان ادب نامہ (10) شائع ہوا۔

2 comments:

Anonymous said...

Bahut Khoob Ehteshamul Haque Sahab. Aapne waqai kitab ke saath Insaaf kiya. Aapne jis khubsurat aur dilchasp andaz me Milli tarikh nawisi ki ehmiyato ifadiyat per raushni dali hai, wo waqai aapki baligh nazri ka suboot hai. Allah mazeed isme jile bakhshe. Aameen. Arshad Jameel Sahab ke yaqeenan ye aham karnama hai, warna ajkal urdu ke Asatzah to apne Mazmoon se kam hi bahar jhankne ki koshish karte hain. Khair. Beech ka ek paragraph jisme Fehrist ki tafseelat hain, main darguzar kar gaya hu. Kitab milege to padh lunga. Wassalam, Shukria.
Md Abdurrahman Arshad

Mojeerazad said...

یہ تبصرہ بہت پسند آیا مبارکباد