مشمولات

Friday, 24 February 2017

مدارس میں اردو زبان وادب کی تعلیم

مدارس میں اردو زبان وادب کی تعلیم
چند زاویئے

        زبان یعنی گویائی اللہ کا عطیہ اور انسان کا اعزاز ہے۔ زبان( علاماتِ اصوات واشکال اور اشارات کا وہ نظام جومخصوص لسانی سماج کے اظہار خیال کا عام ذریعہ ہیں) سماج کی ضرورت ہے ۔ ہر سماج کی کوئی نہ کوئی زبان ہے اور سماج ہی سے کسی زبان کی بقا ہے۔ کسی زبان کا ادب خواہ کتنا ہی توانا کیوں نہ ہو اگر اس زبان کا رشتہ سماج سے کٹ جائے یا سماج اس زبان سے رشتہ توڑنے لگے تو ادب لاکھ سر مارے اس زبان کو باقی نہیں رکھ سکتا ہے۔ جب کوئی زبان زندگی کی ترقی کی رفتار کے ساتھ نہیں چلتی ہے تو ایسا ہوتا ہے کہ سماج کا رشتہ اس سے کمزور ہوتا جاتا ہے۔ البتہ ادب زبان کو ترقی دیتا ہے ، اسے علوم وفنون کے بیان پر قادر کرتا ہے۔سماج اور زبان کا رشتہ استوار ہے تووہ اس کی بقا اور فروغ کا ذریعہ ہے۔ہاں اگر کسی زبان میں ادب وجود میں نہ آئے یا ادبی سرگرمیاں سرد پڑجائیں تووہ زبان قوت ترسیل کی کمی کی وجہ سے زوال کا شکار ہوجائے گی حتی کہ ایک دن اس کا وجود بھی مٹ جائے گا۔
         اردو ہندوستانی سماج کی زبان ہے۔ اتنا تو ہر شخص ، جو اردو کی تاریخ کا ذرا بھی علم رکھتا ہے ، جانتا ہے کہ اردو کی پیدائش ، فروغ اور سماج سے اس کا رشتہ استوار کرنے میں مبلغین اسلام کی غیر معمولی اور ناقابل فراموش خدمات رہی ہیں۔جب اردو میں لوگوں نے غوغا کرنا شروع کیا تھا اس وقت ان مبلغین نے اس زبان کو انگلی پکڑائی،لڑکھڑاتے قدم کو سہارا دیا اور اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے دلوں پر تو حکومت کی ہے زبان کے دھارے کو بھی نئی سمت میں موڑنے میں سہارا دیا۔ اسلام اور اخلاقی تعلیمات کے لیے انہوں نے ٹوٹی پھوٹی زبان میں ہی سہی جو رسالے ، کتابچے لکھے اور دوہے کہے وہی بعد میں ادب کا پیرایہ اختیار کرگئے۔ یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ زبان کے تئیں ان کی یہ کوشش شعوری نہیں تھی ۔ ان کا مقصد تو اسلام کی تبلیغ اور تعلیم تھا ، زبان تو بس ذریعہ اور واسطہ تھی۔ پھر زبان نے جب ترقی کی اور ادبی صورت اختیار کرلی اس وقت سے تا حال ان مبلغین نے اسی زبان کو ذریعہ بنایا اور اسی زبان کے واسطہ سے عوام سے ان کا رشتہ آج بھی مضبوط ہے اور حقیقت یہ ہے کہ ان مدارس میں مذہب کے حوالہ سے اردو زبان میں جو کام ہورہا ہے دوسری سطح پر وہ بات نہیںہے۔ آج بھی اردو میں لکھی اور شائع ہونے والی کتابوں میں مذہبی کتابوں ، اردو میں شائع ہونے والے رسالوںمیں مدارس سے نکلنے والے رسالوں کی تعدادقابل لحاظ ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ ان کتابوں اور رسالوں کو بڑی تعداد میں قارئین بھی دستیاب ہیں۔ جبکہ ادبی رسالے اور کتابیں قارئین کی کمی کا رونا رو رہے ہیں۔
        لیکن اس حقیقت کے اظہار میں بھی کوئی باک نہیں ہے کہ چند ابتدائی صوفیا سے قطع نظر ان مبلغین اسلام کی خدمات کو اردو زبان وادب کے جائزے اور تاریخ لکھتے وقت نظر انداز کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ ایک ہی ادیب جو مذہبی علوم میں بھی قدر اول کی تصنیفات کا خالق ہے اور جو تصنیفات ادب کی چاشنی سے بھی خالی نہیں ہیںاور ہو بھی نہیں سکتیں، اسی کی غیر مذہبی یا فکشن اور شاعری میں بھی تخلیقات ہیں ، تو فکشن اور شاعری کو تو تاریخ لسان اور جائزے کا موضوع بنایا جاتا ہے لیکن ان کی مذہبی تصنیفات کو قلم انداز کردیا جاتا ہے۔ حالانکہ ان مبلغین اسلام کا رشتہ آج بھی اس زبان سے اس سے زیادہ مضبوط ہے جتنا کہ ابتدا میں رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی وہ سلسلہ ہے جو ہندوستانی مسلمانوں کو اردو پڑھنے اور اردو سے اپنا رشتہ باقی رکھنے کا جواز فراہم کرتا ہے۔کیونکہ تہذیب کا رشتہ صرف ملک وقوم سے نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں گہرا مذہب اور عقائد سے ہے۔تہذیب کی تشکیل میں عقائد ومسلمات ہی اہم عناصر ہیں۔ اگر ہندوستانی مسلمان کسی دوسری زبان میں جس سے سماج کا مضبوط رشتہ ہوجائے، اسلامی تعلیمات اور تہذیب وتاریخ کے سرمائے کو اس طرح منتقل کرلیتے ہیں کہ موجودہ نسلوں کے ساتھ ساتھ آنے والی نسلیں بھی اس زبان کے توسط سے اپنے مذہب وتہذیب سے پوری طرح وابستہ رہ سکیں تواس کے بعد کوئی ضرورت نہیں رہ جاتی کہ وہ اردو پڑھیں اور اس کو باقی رکھیں ۔ظاہر ہے ان کی جو زبان ہوگی جو ان کی سماجی اور مذہبی ضرورتوں کو کماحقہ پوری کرے گی وہی ان کی تہذیب کی محافظ اور معلم بھی ہوگی۔ حالانکہ یہ کام بالکل آسان نہیں ہے ۔ ایسا ہوتا بھی ہے تو غیر شعوری طور پر اور کئی نسلوں اور صدیوں کے بعد فطری انداز میں۔
        ان مبلغین کا رشتہ خانقاہوں کے ساتھ ساتھ مدارس سے بھی بہت مضبوط رہا ہے۔ ابتدامیں جب باضابطہ مدارس نہیں تھے تو دراصل یہی خانقاہیں تعلیم وتدریس کا ذریعہ تھیں۔ بعد کے ادوار میں جب مسلمانوں کے تہذیبی زوال، علمی تنزل اور شناخت کی گمشدگی کا مسئلہ پیدا ہوا تو ملک بھر میں مدارس ومکاتب کا قیام عمل میں آیا تاکہ مسلمانوں کو اپنے مذہب سے جوڑے رکھا جائے۔ اس کے لیے کتابیں لکھی گئیں، عوام کے دلوں پر دستک دینے کے لیے وعظ ونصیحت کا کام شروع کیا گیا ۔ ان کاوشوں کے نتیجے میں مسلمانوں میں تہذیبی بیداری آئی اور اپنے مذہب سے ان کی وابستگی مضبوط ہوئی۔ آج بھی مسلم عوام کا ان مدارس سے رشتہ مضبوط ہے۔ اپنے شرعی مسائل کے حل کے لیے انہی کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ چنانچہ ان مدارس میں اردو زبان کا جائزہ لیتے ہوئے یہ محسوس ہوتا ہے کہ واقعتایہ لوگ اردو زبان کا رشتہ عوام سے اس طرح مضبوط رکھے ہوئے ہیں کہ شاید اگر یہ لوگ نہ ہوتے تو زبان سے ان کا رشتہ اتنا مضبوط نہیں ہوتا جتنا کہ ابھی ہے۔
         مدارس میں اردو کی صورت حال کا جائزہ درج ذیل حوالوں سے لیا جاسکتا ہے:
        ۱۔      مدارس میں اردوزبان وادب کی تعلیم
        ۲۔      مدارس میں اردو بحیثیت میڈیم
        ۳۔     علمی خدمات:      تصنیف وتالیف اور مضمون نویسی کے حوالہ سے
        ۴۔     وعظ ونصیحت حیثیت سے
۱۔ مدارس میں اردو زبان وادب کی تعلیم:      اس حقیقت کا اعتراف ضروری ہے کہ مدارس میں ابتدائی(مکاتب) سطح پرہی زبان کی تعلیم دی جاتی تاکہ طلبہ اردو لکھ پڑھ سکیں اور اپنے خیالات کی ترسیل کرسکیں۔ اعلی سطح پر اردو کی تعلیم زبان یا ادب کی حیثیت نہیں ہوتی ہے۔خاص طور پر وہ مدارس جو نظامیہ کہلاتے ہیں ان میں اردو زبان وادب کی تعلیم کا نظم نہیں ہے۔ اس کی تعلیم کے لیے جگہ نکالنا بھی خاصا مشکل ہے۔ البتہ بہار کے تناظر میں وفاقی مدارس میں ،جو بہار مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں ،اردو کی تعلیم تحتانیہ، وسطانیہ اور فوقانیہ کی سطح پر ایک زبان کی حیثیت سے،سینئر سکنڈری (مولوی) کی سطح پر 200 نمبرات کی اردو پڑھائی جاتی ہے ۔اوپر کی سطح پر مولانا مظہر الحق عربی وفارسی یونیورسٹی سے عالم اردو (ڈگری) اور فاضل اردو (پی جی) میں کورسز موجود ہیں۔لیکن یہاں بھی اب جبکہ پی جی میں سیمسٹر سسٹم آگیا ہے مولانا مظہر الحق یونیورسٹی نے پرانا دھرا باقی رکھا ہے۔ یہاں وائیوا ۔ووسی کا کوئی نظم نہیں کیا گیا جو تمام پی جی کے رسمی تعلیمی نظام میں موجود ہے۔ اسی طرح اسپیشل پرچوں کے انتخاب کو بھی جگہ نہیں دی گئے۔ پوری طرح سے مدرسہ بورڈ کے نصاب کو اپنا لیا گیا ہے جس میں وقت کے لحاظ سے کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ہے۔ ان کورسوں کے نصاب کو بہار کی دیگر یونیورسٹیوں کے بی اے (اردو) اور ایم اے (اردو) مماثل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ لیکن ان میں تعلیم کی صورت حال کا بیان ناگفتنی ہے۔مدرسہ بورڈ سے ملحقہ مدارس جو عالم اور فاضل کے لیے منظور ہیں وہاں بھی عالم اور فاضل کی تعلیم کا باضابطہ نظم عام طور پر نہیں ہے۔ خاص طور کی گنجائش بھی بدقت تمام ہی نکالی جاسکتی ہے۔ البتہ اعلی سطح کے نظامیہ مدارس میں کلاسیکل شعرا کے دواوین طلبہ کے عام مطالعہ میں رہتے ہیں۔ ان مدارس میں طلبہ کے اندر مافی الضمیر کی ادائیگی اور اظہار خیال کی صلاحیت پیدا کرنے کی باضابطہ تربیت دی جاتی ہے۔اس کا میڈیم اردو ہی ہے۔اس میں خالص زبان پر بہت زیادہ توجہ ہوتی ہے۔ الفاظ اور ان کی جنس کا صحیح استعمال، تلفظ اور حروف کے مخارج کی صحیح ادائیگی کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ گفتگو کو مؤثر بنانے کے لئے اچھے اور سلیقہ مند اظہار کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ اس سے طلبہ کی زبان میں ادبی چاشنی پیدا ہوجاتی ہے۔ وہ دوران گفتگو اشعار کا بر محل استعمال بھی کرتے ہیں۔
        یہاں یہ وضاحت کردی جائے کہ مدارس میں افسانوی ادب کے مطالعہ کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طلبہ میں ان کے مطالعہ کی زیادتی کی وجہ سے مطلوبہ علوم کے حصول میں بے توجہی اور غیر اخلاقی موضوعات کی طرف رغبت کا امکان رہتا ہے۔ البتہ ان میں ادبی مذاق پیدا کرنے کے لیے بیت بازی وغیرہ کا اہتمام ضرور کیا جاتا ہے جس میں طلبہ بڑی تعداد میں اردو، عربی اور فارسی اشعار یاد کرتے ہیں۔
        مدارس میں عربی ادب کی با ضابطہ تعلیم ہوتی ہے ۔ لیکن عربی ادب کے حوالہ سے بھی تنقید اور زبان کی تاریخ نہیں پڑھائی جاتی ہے۔ اس جگہ پر طلبہ میں تجزیاتی اور تنقیدی ذہن پیدا کرنے کے لیے اردو تنقید کو شامل کیا جاسکتا ہے۔
۲۔ اردو بحیثیت میڈیم:  مدارس میں تعلیم کا میڈیم اردو ہے ۔ خواہ جو علم پڑھایا جائے اس کا میڈیم اردو ہی ہوتا ہے۔ جبکہ اکثر کتابیں عربی یا فارسی میں ہوتی ہیں لیکن ان کی تدریس صرف اردو میں ہوتی ہے۔ اسی میڈیم کا فیضان ہے کہ مدارس کے فیض یافتہ کی زبان کوثر وتسنیم سے دھلی ہوئی ریشم کی طرح ملائم، نرم سیر دریاؤں کی طرح رواں، موسم بہارکی ہلکی ہلکی ہواؤں کی طرح مسام جاں کو تروتازہ کرنے والی اور خوشبودار ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مدارس کے متعلقین محض میڈیم کی سطح پر ہی اردو کی واقفیت رکھنے کے باوجود علم وادب کی سطح پر لازوال نقوش چھوڑتے ہیں۔
۳۔ علمی خدمات:   مدارس میں جس طرح کی کتابیں لکھی جاتی ہیں انہیں اسلامی علوم ، اسلامی تحقیقات، فتاوی نویسی،حاشیہ نویسی،شروح، مکتوب نگاری، تذکرة العلمائ، منظوم تراجم وتفاسیر، خطبات، تصوف، تعلیم ، درسیات، سیر وسوانح ،ترجمہ (عربی وفارسی سے)، ملفوظات اور تواریخ کے خانوں میں رکھا جاسکتا ہے۔ عام طور پر مدارس میں لکھی جانے والی کتابیں اسلامی علوم سے ہی تعلق رکھتی ہیں۔تاریخی کتابیں بھی مذہبی پس منظر رکھنے والے واقعات وعلاقوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان میں تاریخی بصیرت مذہبی پس منظر میں ہی قوم کی برتری وتنزلی کے اسباب وعوامل کا ادراک کرتی ہے۔یہ بات صحیح ہے کہ مدارس میں کتابوں کی اشاعت کی رفتار سست ہے۔ اس کی وجہ ان کے وسائل کی کمی ہے۔ کتابوں کی طباعت کے لیے انہیں کہیں سے کوئی تعاون نہیں ملتا ہے اور نہ ملازمت میں اس کو وزن دیا جاتا ہے نہ ہی ان کی اپنی مالی حیثیت مستحکم ہوتی ہے کہ وہ کتابیں شائع کراسکیں۔ اگر اس طرح کا انتظام ہوجائے تو گراں قدر اور معرکتہ الآرا کتابیں منظر عام پر آسکتی ہیں۔
        چونکہ مدارس میں ادبی اصناف اور ان کے اجزائے ترکیبی کی تعلیم نہیں ہوتی ہے اس لیے وہاں جو سیرت اور سوانحی خاکے جیسی ادبی اصناف میں کتابیں یا مضامیں لکھے جاتے ہیں ان میں فنون کے اصولوں کی پاسداری کا پورا پورا لحاظ نہیں رکھا جاتا ۔ لیکن اگر مدارس سے نکلنے والی دیگر سیرت کی کتابوں اور سوانحی خاکوں سے موازنہ کیا جائے تو ان میں اصولی طور پر قدرے یکسانیت ضرور ملتی ہے ۔ اس سے ایسا لگتا ہے ان کے ذہن میںکوئی مشترک اصول ضرور کام کرتا ہے۔ مدارس کے اساتذہ اور طلبہ میں مضامین لکھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔یہ مضامین ، اصلاحی ، صحافتی، تجزیاتی اور تعلیمی ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی نوعیت کے بھی ہوتے ہیں۔
        بہت سے مدارس سے اردو زبان میں اصلاحی وتربیتی اور علمی رسالے نکلتے ہیں۔ ان کی تعداد اردو میں کثیر ہے۔ مدارس سے نکلنے والے رسالوں میں لکھنے والے مدارس کے متعلقین ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ ان میں شائع ہونے والے مضامین میں ملک وملت کے مسائل ومشکلات کے ساتھ ساتھ عوام کی اصلاح وتربیت کو موضوع بنایا جاتا ہے۔ ساتھ ہی سماج کا وہ طبقہ جن کے حقوق سلب کرلیے گئے ہیں ان کی بازیافت کی کوشش کی جاتی ہے نیز تعمیری واصلاحی ادبیات بھی ان میں جگہ پاتے ہیں۔
        شاعری کاذوق ان پر مستزاد ہے ۔ اکثر مدارس میں ایک دو ایسے اشخاص ہوتے ہیں جو شاعری سے ذوق رکھتے ہیں۔ یہ حضرات غزل، نظم، حمد ونعت اور منقبت جیسی اصناف میں طبع آزمائی کرتے ہیں۔ لیکن یہ ذوق محض ذائقہ بدلنے کے لیے ہی ہوتا ہے ۔ اس میں زبان پر تجربہ کا مقصد کارفرما نہیں ہوتا ہے۔
        چونکہ مدارس کے متعلقین فارسی اور عربی زبان سے واقف ہوتے ہیں اس لیے ان کے ہاں الفاظ کی بچت نظر آتی ہے ، جہاں انہیں مستعمل لفظ میں ترسیل کی کمی کا احساس ہوتا ہے وہ بہ آسانی نئے الفاظ وضع کرلیتے ہیں۔ ان کے ہاں الفاظ کا استعمال بالکل صحیح ہوتا ہے اور چونکہ عربی زبان کے مصادر میں کئی طرح کے افعال کی خاصیتیں پائی جاتی ہیں اس لیے کئی لفظوں کی جگہ ایک اور مناسب لفظ کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس طرح اردو لفظیات میں اضافہ ہوتا ہے۔البتہ وضع اصطلاحات کے اصولوں سے عدم واقفیت کی وجہ سے نئے الفاظ واصطلاحات میں بسا اوقات قدرے مشکل پسندی نظر آتی ہے۔ جملوں میں عربی وفارسی کے الفاظ کے کثرت استعمال سے کبھی کبھی تصنع کا احساس ہوتا ہے ۔ اسی طرح عربی و فارسی سے زیادہ وابستگی کی وجہ سے زیادہ تر الفاظ کی عربی وفارسی جمع استعمال ہوجاتی ہیں جو ثقالت کا سبب ہوتی ہیں۔اس طرح زبان کا وہ ٹھیٹ لہجہ پیدا نہیں ہوپاتا ہے جو ٹکسالی زبان کی خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے ہاں روز مرہ اور محاروں کے صحیح استعمال کی کمی بھی کھٹکتی ہے۔ یہ غلطیاں اردو زبان کی قواعد سے ناوابستگی کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ادبیات سے عدم وابستگی کی وجہ سے مضامین نویسی کے جدید اسلوب کو بھی دیر سے اپنا یا جاتا ہے۔ یہ غالب رویہ کا بیان ہے ۔مستثنیات کے امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ علامہ شوق نیموی جیسے باکمال اور ماہر زبان کا تعلق بھی انہی مدارس دینیہ کے خرقہ پوشوں اور بوریہ نشینوں سے رہا ہے اور پھر آخری ادوار میں یہاں بھی معیار میں گراوٹ آئی ہے اس کے اثرات سے بھی انکار ناممکن ہے۔
۴۔ وعظ ونصیحت:   اہل مدارس اورعوام کے رابطے کا سب سے اہم اور بڑا ذریعہ یہی ہے۔ عوام اور معاشرہ کی اصلاح کے لیے وعظ ونصیحت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک مستقل ذریعہ خطبہ جمعہ ہے اور دوسراغیر مستقل ذریعہ وہ پروگرام ہیں جو وقتا فوقتا کبھی مدارس اور کبھی عوام کی جانب سے منعقد کئے جاتے ہیں۔ خطبہ جمعہ کا موضوع اصلاح وتربیت ہوتا ہے جبکہ غیر مستقل پروگراموںمیں تربیت اور اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ اسلامی علمی موضوعات کا احاطہ بھی کیا جاتا ہے۔ ایسے خطابات علمی موضوعات پر منعقد سیمیناروں کے مقالوں سےکم نہیں ہوتے۔ یہ قرآن واحادیث ، محدثین ، فقہا اور علمائے سلف کے چھوٹے چھوٹے اقوال سے مدلل ہوتے ہیں ۔اقوال اکثر اردو زبان ہی میں مقتبس ہوتے ہیں۔ ان کی زبان علمی اور عالمانہ ہوتی ہے۔یہ اردو ہی میں ہوتے ہیں گرچہ علمی موضوعات کے خطابوں کی زبان عربی وفارسی زدہ ہوتی ہے۔ان سب کے باوجود اگر ان بیان شدہ خطابوں کو تحریری شکل دے دی جائے تو یہ اردوزبان میں اضافے کی حیثیت رکھیں گے۔
         علمی موضوعات پر ہونے والے خطاب سنجیدہ ہوتے ہیں جبکہ اصلاحی وتربیتی خطاب سنجیدہ اور فکاہیہ دونوں طرح کے ہوتے ہیں۔اکثر فکاہیہ انداز بیان اختیار کرنے والے مبلغین کی وہی شناخت بھی ہوتی ہے۔ روز مرہ کے کھردرے واقعات میں طنز ومزاح کا رنگ پیدا کرنا اور اس میں اصلاح کا پہلو نکالنا بہر حال ایک فنی مہارت ہے۔ یہاں کے فکاہیہ خطابوں میں ابتذال و سوقیانہ پن بالکل نہیں ہوتا ہے۔
         غیر مستقل پروگراموں کے بعض اجلاس کے ساتھ اسلامی علمیوتحقیقی موضوعات پر سیمیناروں کا اہتمام بھی ہوتا ہے ۔ ان میں پڑھے جانے والے مضامین اردو میں ہوتے ہیں۔ یہ سنجیدہ، مدلل، پرمغز،تحقیقی اور عالمانہ ہوتے ہیں۔ ایسے کچھ بسا اوقات مقالے شائع ہوکر عوام تک پہنچتے بھی ہیں۔
        یہ امور بھی قابل ذکر ہیں کہ مدارس کے حساب وکتاب اور انتظامی ودفتری امور اردو ہی میں انجام پاتے ہیں جبکہ فروغ اردو کے لیے قائم یونیورسٹی، کونسل اور اکادمیوں میں بھی یہ بات نہیں ہے۔ اسی طرح یہاں رابطے کی زبان بھی دوسری زبانون کے اختلاط سے پوری طرح محفوظ ہے۔ ظروف ومکان، علامات واشارات اور روز مرہ کے بنیادی افعال کے نام بھی اردو ہی میں مستعمل ہیں۔ اس کو ان کی مجبوری کا نام دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ جہاں ہندی یا انگریزی میں لکھنا پڑھنا ضروری ہوجاتا ہے تو انہی کے افراد اس کام کو انجام دیتے ہیں۔ان کی ایک اور بڑی خدمت یہ ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ جو عصری علوم کی طرف رغبت رکھتے ہیں اکثر اردو ہی کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ رمضان، قربانی اور پروگراموں کے اشتہارات باضابطہ اردو ہی میں شائع ہوتے ہیں۔ یہ مجبوری نہیں بلکہ نیک نیتی، خلوص اورزبان کے تئیں والہانہ محبت ہے۔

٭٭٭

Wednesday, 15 February 2017

مسلکی تنازعے اور ان کی مذمت

مسلکی تنازعے اور ان کی مذمت
دنیا بھر میں مسلمان مختلف فرقوں اور جماعتوں میں بنٹے ہوئے ہیں اور اب بدقسمتی سے صورتحال فرقہ در فرقہ اور جماعت در جماعت کی  ہوچکی ہے۔ ہر فرقہ اور ہر جماعت اپنی مخصوص فکری بنیادیں رکھتی ہیں اور ان کے جواز کی  اپنی دلیلیں بھی ہیں۔ جماعتوں اور تنظیموں کے درمیان اختلافات کا پایا  جانا  غیر مستحسن تو ہے لیکن کوئی غیر فطری بات نہیں ہے۔ بری بات یہ ہے کہ اختلافات تنازعے کی شکل اختیار کرلیں ۔ بشمول ہندوستان دنیا بھر میں مسلمانوں کے ان فرقوں اور جماعتو ں کےدرمیان اختلافات کی بنیاد پر تنازعے کھڑے ہوتے رہتے ہیں جو کبھی کبھی تصادم کی صورت بھی اختیار کرلیتے ہیں اور پورے ملک؍ دنیا میں بجائے متصادم مسلک ؍ جماعت کے پوری قوم کے لیے  ننگ ورسوائی کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ جب کبھی اور جہاں کہیں مسالک و مکاتب کی بنیاد پر تنازعے کھڑے ہوتے ہیں ہر چہار جانب سے اس کی عمومی مذمت کی جاتی ہے۔ خواہ کسی مسلک سے مسلمان تعلق رکھتا ہو اس کی مذمت کرتا ہے۔یہ بہر حال احساس کی ایک رمق ہے جو ابھی تک ہمارے  دل میں باقی ہے۔  اختلافات تنازعے اورتصادم کی شکل اختیار کریں اس کی کسی بھی طرح حوصلہ افزائی نہیں کی جاسکتی ہے اور اور اختلافات کی بنیاد پر تشدد کو جگہ نہیں دی جاسکتی ہے۔ لیکن ہمیں اس عمومی مذمت سے اوپر اٹھنے کی ضرورت ہے۔
 حالات یہ ہیں کہ مسالک اور جماعتوں کی جو بنیادیں ہیں ان کو ختم تو نہیں کیا جاسکتا ہے البتہ تنازعوں کو روکنے کے کچھ ایسے اقدام کئے جاسکتے ہیں جن سے تنازعات کو ہوا دینے یا اس سے فائدہ حاصل کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو۔ جہاں کہیں تنازعے اور تصادم ہوتے ہیں اس میں متصادم فریق اور جماعتوں کے درمیان نزاع کی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔ ممکن ہے اس میں کوئی ایک فریق مکمل قصور وار ہو، ہوسکتا کوئی زیادہ قصور وار ہو کوئی کم، دونوں برابر کے قصور وار ہوسکتے ہیں۔ نزاع کو ہوا دینے میں کسی ایک فریق کا کوئی عمل سبب بن سکتا ہے۔ ممکن ہے غلط فہمی کی بنیاد پر نزاع کی صورت پیدا ہوئی ہو۔ صورتیں بہت سی ہوسکتی ہیں۔ نزاع کے سلسلے میں ہمیں مذمت کرنے کے ساتھ حقائق کی دریافت کرنی چاہئے اور جب حقائق سامنے آجائیں تو عمومی  مذمت کرنے کے ساتھ بجائے اس کے کہ تاویلات کے ذریعہ اپنی جماعت کی طرفداری کی جائے  یا دوسرے کو مورد الزام ٹھہرایا جائے یہ کہنا چاہئے کہ میں فلاں جماعت سے یا مسلک کا پیرو کار ہوں۔ اس معاملے میں میرے مسلک کے لوگوں کا  قصور یہ ہے یا ان سے یہ زیادتی ہوئی۔ یہاں ان سے یہ غلط فہمی ہوئی ہے۔
  اگر معاملہ معافی تلافی کا ہے تو معاملے میں ذمہ دار اپنی جماعت کےلوگوں سے معاملے معافی چاہنے کی اپیل کرنے چاہئے بلکہ اپنے مسلک کی جانب سے معافی کی خود بھی پیش قدمی کرنی چاہئے ۔ اور اگر معاملہ دست برداری یا لین دین کا ہو تو ہوسکے تو بیچ میں پڑ کر پریشر گروپ تیار کر کے یا اپیل کر کے اپنی جماعت یا مسلک کو معاملے سے دست بردار ہونے  یا حقدار کی چیز انہیں عطا کردینے کی تلقین کرنی چاہئے۔ جب تک اس کی جماعت؍ مسلک کا غاصب شخص حقدار کو  اس کی چیز واپس نہیں کرتا ہے مسلسل مذمت کرتے رہنا چاہئے۔
مسالک کے نام پر جو تنازعے کھڑے ہوتے ان میں بنیادی طور پر افکار و خیالات ہیں جو اعمال کے اختلاف کا سبب بھی بنتے  ہیں. یہ افکار و خیالات کبھی کبھی زبانی جنگ سے آگے بڑھ کر دست وگریباں اور قتل و خون تک پہنچ جاتے ہیں. مقامات کے نام پر بھی تنازعے  کھڑے ہوتے  رہتے ہیں جن میں بات  سے معاملہ بڑھ  صف آرائی اور اس کے آگے تک جاتا ہے. برسوں عدلیہ میں مقدمات چلتے ہیں اور اس میں صلاحیتوں اور پیسوں کا عمومی ضیاع ہوتا ہے.ان میں ایک اہم مقام مسجدیں بھی ہیں. تمام فرقوں کے نزدیک مسجدیں اللہ کا گھر ہیں. یہ کسی کی ملکیت اور جائیداد نہیں ہوسکتیں. تمام فرقوں کے نزدیک اس کو یکساں تقدس حاصل ہے.جماعتوں کے درمیان جو مشترک اقدار ہیں ان میں ایک مسجد بھی ہے۔ اس کے باوجود پورے ہندوستان میں مسالک کی بنیاد پر مسجدیں قائم ہیں جن کا انتظام اسی مسلک کے پیرو کار چلاتے ہیں. یہ صحیح ہے کہ چونکہ مسجد تمام مسالک کے یکساں تقدس رکھتی ہے اس لیے اس میں تفریق نہیں رکھنی چاہیے. لیکن حقیقت  یہ ہے کہ  موجوده صورتحال میں اس خوبصورت خیال کی صرف پیش  کش کی جاسکتی ہے زمین پر اتارا نہیں جاسکتا کیونکہ اس کے بعد معاملہ زور بازو کا ہوجائے گا. جس کی لاٹھی اس کی بھینس. ظاہر ہے کہ پنج وقتہ نمازیں باجماعت ہوں گی وہ کون پڑھائے گا. ایک محلے میں تین مسلک کے لوگ رہ رہے ہیں  تو کیا تین جماعتیں ہوں گی. یا جماعت کا کوئی تصور ہی نہ رکھا جائے. ایک کے پیچھے سب اپنے اپنے حساب سے ادا کریں۔ اگر ایسا ہوجائے تو بہت اچھی بات ہے ۔ مگر یہ تنازعہ کھڑا ہوگا کہ ایک کون ہوگا۔ظاہر ہے طاقت اور افراد میں زیادہ ہوگا بات اس کی چلے گی. پھر وقت کا بھی اختلاف ہے. یہاں بھی فیصلہ زور بازو سے ہوگا. ایسے میں نتیجہ صرف ایک نکلتا ہے کہ لوگ اپنے دائرے میں رہیں۔ ایک دوسرے کا ہر ممکن احترام کریں۔ اگر اختلاف کی نوبت آجائے تو  اختلافات کو تنازعے کی شکل نہ دی جائے.اس معاملے میں دوسروں کو باز رکھنے سے خود باز رہنا زیادہ آسان ہے۔



Monday, 13 February 2017

نقلی مال بیچنے کا طریقہ

لاابالی باتیں:
نقلی مال بیچنے کا طریقہ
ضروری نہیں کہ پیکنگ کوور کی طرح اندر کا مال بھی معیاری ہو.لیکن اندر کا  مال تو بعد میں دیکھا جاتا ہے کوور کا معیار دکھاکر ہی چیزیں بیچی جاتی ہیں اور جب قسمت ساتھ دے رہی ہو تو کچھ لوگ معیاری سامان کا پیکنگ کوور اتار کر اپنا کوور چڑھاکر یا معیاری برانڈ کا جعلی سامان بنواکر اسی کی پیکنگ میں سامان بیچ لیتے ہیں اور دونوں ہاتھ سے چاندی کاٹتے ہیں۔  جب تک دنیا کے سامنے ان کا بھید نہیں کھل جاتا خود کو دنیا کا تیزترین انسان سمجھتے ہیں. کچھ لوگ تو اتنے ڈھیٹ ہوتے ہیں کہ پکڑے جانے اور جیل تک ہوا کھانے کے بعد بھی اس کو دوسرے رنگ سے انجام دینے لگتے ہی

مہسول چوک سیتامڑھی جامع مسجد اہل حدیث

مہسول چوک سیتامڑھی جامع مسجد اہل حدیث
ہمدردوں سے ایک اپیل
سیتامڑھی مہسول چوک کی جامع مسجد اہل حدیث میں جو واقعہ پیش آیا وہ انتہائی افسوسناک ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسجد کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن ظاہر ہے کہ انسان کے ساتھ جو برائیاں پیش آتی ہیں وہ ان کی اپنی بد اعمالیوں کا نتیجہ بھی ہوتی ہیں۔ اس لیے جب انسان کو کوئی برائی پہنچے تو دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے اپنا بھی احتساب کرنا چاہئے۔ ممکن ہے اس میں اپنی بھی غلطی نظر آنے لگے۔ مسجد کے سلسلے میں بعض افراد اپنے اپنے طور پر درد مندی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان تمام لوگوں کے جذبات قابل قدر ہیں۔ لیکن ان میں بعض حضرات کی تحریروں میں جذبات اور اشتعال پایا جارہا ہے جو ناروا ہے۔ اس کو کسی طرح بھی درست نہیں کہا جاسکتا ہے۔ کسی کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا بالکل یہ دین اور انسانیت کے خلاف ہے۔
اب تقریبا تمام لوگوں کے سامنے یہ بات آشکار ہوچکی ہے کہ اس مسجد میں جو لوگ ملوث ہیں ان کا مسلک سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ اپنے ذاتی مفاد کے لیے مسلک کا سہارا لے رہے ہیں۔ انہوں نے ایک وقف (حاجی علی جان وقف اسٹیٹ) کی زمین پر قبضہ کر کے گھر بنالیا ہے اور اس کو بچانے کے لیے مسجد اہل حدیث کو اس وقف کی جائیداد بتانے کی سازش کر رہے ہیں تاکہ ان کا گھر بچ جائے۔ جبکہ اگر بفرض محال مان بھی لیا جائے کہ مسجد اہل حدیث حاجی علی جان وقف کی جائیداد ہے تو مسجد اہل حدیث بھی ایک وقف ہے اس کی جائیداد کہاں ہیں۔
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے لیے مذہب، دین، مسلک، ذات اور زبان کوئی چیز نہیں ہوتی ہے ۔ یہ دین ومذہب کے تاجر ہوتے ہیں جو مذہب اور مسلک کے نام پر پوری جماعت اور قوم کو رسوا و ذلیل کرتے ہیں۔ چونکہ مذہب اور مسلک وغیرہ ایسے تعصبات ہیں جن میں عوام کالانعام کا کیا کہنا اچھے اچھے لوگ پھسل جاتے ہیں۔ ذہن پر پردہ پڑجاتا ہے اور ناحق کو بھی حق بنانے کے لیے بہت سی تاویلیں پیش کرنے لگتے ہیں۔لیکن اس کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ ایسے ذاتی مفاد کے معاملے میں جس میں ایک شخص یا چند افراد ملوث ہیں پوری پوری جماعت کو مورد الزام ٹھہرایا جائے اور ان کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کئے جائیں۔ اس کی مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ مسلک۔ مسلک کا سہارا لینے کی وجہ سے بعض لوگوں کی ہمدردی بھی ایسے مفاد پرستوں کو ضرور حاصل ہوگئی ہے۔ اس بنیاد پر ایسی ہمدردی دینے والے لوگوں کو بھی سب وشتم کا نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔ یہ ایک مسلمان کی بھی صفت نہیں ہے کہ وہ غصے میں کچھ بھی بولنے لگے۔ عیش میں یاد خدا نہ رہی اور طیش میں خوف خدا نہ رہا۔
مسجد کے ہمدردوں کو دلبرداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمام جماعت اور مسالک میں اہل انصاف حضرات کی بھی کمی نہیں ہے۔ مسجد کے بہی خواہوں کو چاہیے کہ وہ مسجد کے حقائق سے لوگوں کو واقف کرائیں اور جو لوگ ذاتی طور پر اس میں ملوث ان کے ذاتی مفاد کو واضح کریں۔
وہ بھی ایسے الفاظ میں نہیں جس سے انتشار کو ہوا ملے۔ الفاظ ایسے نہ استعمال کئے جائیں جن سے ان قابضوں کو لوگوں کی ہمدردی مل سکے۔جب لوگ حقائق سے واقف ہوجائیں گے تو وہ بھی آپ کی مدد کے لیے کھڑے ہوں گے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو آپ کی مسلک سے تعلق نہیں رکھتے ہیں مگر وہ اس معاملے میں ذہنی طور پر آپ کے ساتھ ہیں۔ چونکہ جن لوگوں نے معاملہ کیا ہے شریف لوگ ان سے منہ نہیں لگانا چاہتے اس لیے کھل کر سامنے نہیں آرہے ہیں۔ آپ اپنی اشتعال انگیز باتوں سے ایسے لوگوں کو بھی برانگیختہ کردیں گے۔

اس معاملے میں جب جذباتی باتوں کا اظہار کیا جائے گا تو مفاد پرست لوگ اس کا بھی ناجائز فائدہ اٹھائیں گے اور پولیس انتظامیہ کی سرپرستی حاصل کریں گے۔ ایسے بھی ہمارے ملک میں جہاں اچھے اور انصاف پسند افسران ہیں وہیں بدعنوان افسران کی بھی کمی نہیں ہے۔ پیسے پر کچھ بھی کرجاتے ہیں۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ موقع سے مسلم افسران تعینات ہوتے ہیں ۔یہ لوگ بھی مذہب، مسلک اور ذات قسم کے تعصبات کی بنیاد پر پشت پناہی کرکے معاملے کو ہوا دے دیتے ہیں۔ ان سب کے باوجود ایسے حالات میں صبر وتحمل کا ثبوت پیش کرنا چاہئے اور جذبات کی رو میں نہیں بہنا چاہئے۔ نہ اس جماعت کے عوام اور پوری جماعت کے ساتھ غلط الفاظ استعمال کئے جائیں اور نہ دھمکی جیسی باتیں ہونی چاہئے۔ یوں بھی مذاہب اور مسالک کا تعصب دیر سے ختم ہوتا ہے۔تمام بہی خواہان قوت برداشت کا ثبوت دیں۔ اگر اللہ نے چاہا تو اس مسجد کی بازیافت ہو جائے گی۔ اور اللہ نہ کرے اللہ نہ کرے یہ مسجد نہ ملی تو بہت ممکن ہے اسی مقام پر اس سے بہتر مسجد آپ کی بن جائے اور غاصب اللہ اور بندے دونوں کے نزدیک تا حیات ذلیل ہوتا رہے۔ اس میں اہل انصاف دوسرے مسالک کے لوگ مدد کریں۔
خیال رہے کہ مولوی عبد اللہ دیورا بندھولی کے باشندے تھے۔ جب یہ اہل حدیث ہوگئے تو انہوں نے اپنے والد کو بعض خرافات سے منع کیا۔ ان کے دروازے پر تعزیے بنتے تھے۔ اس سے منع کیا۔ باپ بیٹے میں اختلافات بڑھتے چلے گئے۔ ان کے والد نے ایک دن غصے میں کہا کہ میں تمہیں عاق کردوں گا۔ انہوں نے اپنے والد سے شائستگی کے ساتھ کہا کہ آپ مجھے کیوں عاق کریں گے۔ میں خود ہی آپ کی وراثت سے دست بردار ہوتا ہوں۔مولوی عبد اللہ مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادی کے معتمد خاص تھے۔ ادھر  مولانا عبد العزیز محدث رحیم آبادی نے انہیں سیتامڑھی منتقل ہونے کا مشورہ دیا تاکہ ایک مرکز  قائم ہوجائے اور اس علاقے کے لوگوں کے درمیان تبلیغ کی جائے۔ مولوی عبد اللہ سیتا مڑھی منتقل ہوگئے۔ مولانا کے مشورے پر ہی انہوں نے چمڑے کا کاروبار شروع کردیا۔ اللہ نے اس تجارت میں بڑی برکت دی اور اس سے سیتا مڑھی میں بہت بڑی اراضی خریدی۔ آپ نے وہاں مہسول چوک میں مسجد بھی تعمیر کرائی جو آپ کی تولیت میں رہی۔ آپ کے بعد آپ بیٹے محمد جابر اس کے متولی ہوئے۔ ان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے ابو اللیث عرف کالو بابو اس کے متولی رہے۔مولوی عبد اللہ کے ذریعہ مسجد کے قیام سے لے کر ۳؍ دسمبر ۲۰۱۶ کی عشاء کی نماز کے وقت تک اس مسجد کے  امام و مؤذن اہل حدیث رہے اور اس میں اہل حدیث طریقے کے مطابق اذان و نماز کی ادائیگی ہوتی رہی تھی۔
 کالو بڑے بے نیاز قسم کے انسان تھے۔ مولوی عبد اللہ نے سخاوت کی جو بنیاد ڈالی تھی اس کو ان کے بیٹے اور پوتے نے بھی قائم رکھا۔ آپ کا دسترخوان بڑا وسیع تھا۔ ابو اللیث صاحب کے دستر خوان پر ہمیشہ لوگ رہتے تھے۔ وہ مہمانوں کی خوب ضیافت کرتے تھے۔ انہوں نے مہمانوں کی ضیافت میں نہ جانے کتنی اراضی بیچ دی۔ الغرض ابو اللیث صاحب کو اولاد نرینہ نہیں تھی۔ انہوں نے اپنی وفات سے قبل اس کا ذمہ دار عبد المنان رومی کو بنادیا۔ گذشتہ ۳؍ دسمبر ۲۰۱۶ کو مہسول چوک باشندگان دیوبندی جماعت کے لوگوں نے رات کو اس مسجد کے امام مولوی عظیم الدین رضوی اور نائب امام مولوی کمال عمری کو زد وکوب کرتے ہوئے مسجد سے بے دخل کردیا۔ واقعے کی خبر پاکر صوبائی جمعیۃ اہل حدیث کے صدر مولانا خورشید عالم مدنی، ناظم مولانا محمد علی مدنی، دربھنگہ سے الہدیٰ کے مدیراور کالو بابو کے قریبی رشتہ دار مولانا شکیل سلفی، دار العلوم احمدیہ سلفیہ کے جوائنٹ سکریٹری اسمعیل خرم، جامعہ ابن تیمیہ کے نائب رئیس مولانا ارشد فہیم الدین سلفی وغیرہ وہاں پہنچے اور مشتعل لوگوں سے صبر وتحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا اور ایک وفد امارت شرعیہ کے ناظم مولانا انیس الرحمن قاسمی سے ملنے کی بات طے ہوئی تاکہ وہ امارت اپنی جماعت کے لوگوں سے بات کر کے مسجد حوالے کردے اور کسی طرح کی کوئی ہنگامہ آرائی نہیں ہو۔ مشورے کے مطابق وفد مولانا انیس الرحمن قاسمی سے ملا ۔ ایک اطلاع کے مطابق مولانا نے اپنا نمائندہ وہاں بھیجا ۔ لیکن ۳ دسمبر کی شب مسجد پر قبضہ کرنے والوے دیوبندی مسلک کے لوگوں نے ان کی بات بھی نہیں مانی۔ مولانا انیس الرحمن نے اسے مقامی معاملہ کہتے ہوئے اہل حدیثوں کے وفد کو مقامی طور پر حل کرانے کی بات کہی۔ ادھر مسجد کی بازیابی میں تاخیر ہوتا دیکھ کر ذمہ داروں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور لوگوں نے علاقہ کے لوگوں کو مدد کرنے کو کہا۔۴؍ فروری کو ۲۰۱۷ لوگ وہاں جمع ہوئے اور مسجد کی بازیابی کی کوشش کی۔ لیکن مقامی لوگوں نے اسے مسلکی جنگ کا رخ دے دیا۔ اس موقع پر سیتامڑھی ڈی ڈی سی عبد الرحمن جو تبلیغی جماعت سے وابستہ ہیں انہوں نے بھی قابض لوگوں کی پشت پناہی کی۔
جانکاروں کا کہنا ہے کہ مسجد سے متصل سڑک کی دوسری جانب حاجی علی جان ایک وقف کی جائیداد ہے جس پر قبضہ ہوچکا ہے اور قابض لوگ اپنا گھر بنا چکے ہیں۔ قابض لوگوں نے اس زمین کو بچانے کے لیے اس مسجد کو حاجی علی جان وقف کی جائیداد بتاکر مسجد کی زمین کو متنازعہ بنادیا اور اس پر قبضہ کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔ بعد میں قابض لوگوں نے علاقہ میں جھوٹ پر مبنی پرچے بانٹ کر مسلکی بنیادوں پر لوگوں کو متحد کرتے رہے۔ تادم تحریر مسجد کی بازیابی کی کوشش جاری ہے اور قابض لوگ اس مسجد پر ناجائز قبضہ بنائے ہوئے ہیں۔ جو لوگ معاملے کو متنازعہ بنائے ہوئے وہ ایک ہی خاندان کے بتائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر لوگ وہ ہیں جو کالو بابو کے دستر خوان سے فیضیاب ہوتے رہے ہیں۔ انہوں نے ان کے زمانے تک یہ بات کہنے کی کوشش نہیں کی۔ لیکن ان کے انتقال کے بعد موقع دیکھ کر حملہ کردیا اور مسجد پر ناجائز قبضہ کرلیا۔
تادم تحریر مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔

۱۳؍ جنوری ۲۰۱۷
عاق کرنے کے واقعے کی بات مولوی عبد اللہ کی پوتی منور جہاں (بے بی) زوجہ پروفیسر منصور عمر نے راقم سے خود کہی تھی۔ 

اللہ کا خوف

لا ابالی باتیں:
اللہ کا خوف
جو لوگ ‘‘دین دار’’ نہیں ہوتے وہ کسی سے ڈریں یا نہ ڈریں اللہ سے ڈر جاتے ہیں
لیکن یہ دین دار لوگ اس خوف سے بھی بے خوف ہوتے ہیں۔

لا خوف علیہم ولاہم یحزنون

خط بخدمت پروفسیر احمد سجاد

از دربھنگہ:

                                عالی جناب پروفیسر احمد سجاد صاحب                                                                                       حفظہ اللہ
                                                                                                السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
                                                                امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا۔
                حسب حکم ایک مضمون "پروفیسر احمد سجاد کے ملی تعلیمی ایجنڈے"(اکیسویں صدی کے تناظر میں) حاضر خدمت ہے۔ میں سب سے پہلے معذرت خواہ ہوں کہ میں نے مضمون لکھنے میں انتہائی تاخیر کی۔ تاخیر کا باعث میری پیشہ وارانہ اور گھریلومصروفیات تھیں۔ اسی کے ساتھ ایک بڑی وجہ یہ بھی رہی کہ آپ جیسی علمی، ادبی اور تحریکی شخصیت پر لکھنے میں انگلیاں بھی ساتھ نہیں دے پارہی تھیں۔ میں بالکل صحیح کہہ رہا ہوں کہ میں نے کئی بار بہت حوصلہ جٹاکر تختۂ کلید سنبھالا مگر بہت آزادی اور فراٹے کے ساتھ گردش کرنے والی انگلیاں جامد ہوہوجاتی تھیں۔ بہت جرأت کر کے چند سطور خامہ فرسائی کی ہے۔ میں ایک بار پھر معذرت خواہ ہوں کہ یہاں مجھ سے ایک جھوٹ بھی سرزد ہوگیا. کیوں کہ اس مضمون کے تحریری عمل میں پروف ریڈنگ کے علاوہ کہیں بھی خامے کا استعمال نہیں کیا جاسکا اور وہ خامہ بھی میں نے نہیں پکڑا تھا۔ چونکہ کچھ پرانے محاورے ہیں جو زبان زد ہوجاتے ہیں، میں بھی اسی کا شکار ہوا۔ ٹیکنالوجی نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے تو کچھ چھینا بھی ہے۔ ٹیکنالوجی کا جوں جوں زندگی میں نفوذ ہوگا کئی محاورے ، روز مرہ اور استعارے اپنی حقیقت کھوتے چلے جائیں گے۔ اس کے لیے ہمیں کچھ نئے محاورے بھی تراشنے ہوں گے۔ ایک طرح سے میں اپنے لیے اس کو محرومی بھی سمجھتا ہوں کہ اللہ نے وہ قلم مجھ سے چھین لیا ہے جس کو علم سکھانے کا آلہ بتایا گیا ہے۔
                خیر یہ ایک الگ بات ہے۔ میں ان سطور میں کہاں تک کامیاب ہوسکا یہ تو نہیں کہہ سکتاالبتہ مجھے یہ اعتراف ہے کہ میں نے آپ کی تعلیمی اور تحریکی خدمات کے حوالے سے جس موضوع کو منتخب کیا تھااس مضمون میں آپ کی شخصیت کے شایان شان گفتگو نہیں ہوسکی۔ آپ کی خدمات کو اجاگر کرنے کے لیے جو مجموعی خاکہ مضمون میں ابھرنا چاہئے شاید میں اس کو بیان کرنے میں ناکام رہا۔ اس کو محض راقم کے عجز بیان پر محمول کیا جائے۔
                اسی کے ساتھ میں آپ کا انتہائی شکر گذار بھی ہوں کہ آپ نے ایک ایسے عزیز کو جس سے شناسائی بھی نہیں ہے لکھنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ میرے لیے سعادت کی بات ہے۔ میں نے حتی الامکان اللہ کی مدد سے آپ کے حکم کی تعمیل کی کوشش کی ہے۔
                اگر یہ مضمون تحریر میں آسکا اور چند باتیں کچھ کام کی ہوگئی ہوں تو اس کے شکریے کے حقدار بھی محبی ومحترمی ڈاکٹر مظفر مہدی صاحب ہیں جو میری تساہلی پر تازیانہ دیتے رہے اور مجھ جیسے لاابالی شخص سے قلم بند تو نہیں کہہ سکتا ضبط تحریر کروالیا۔
                                                                                                                                     دعاؤں کا طالب
                                                                                                                                         احتشام الحق
                                ۲۱ جنوری ۲۰۱۷

Educational Agenda of Prof. Ahmad Sajjad

پروفیسر احمد سجاد کے ملی تعلیمی ایجنڈے
(اکیسویں صدی کے تناظر میں)
                ہبوط آدم سے ہی دنیا میں تبدیلی وترقی کا سفر جاری ہے۔ تبدیلی وترقی ہی عین زندگی ہے۔ اس لیے ہر زمانہ اپنے گذشتہ زمانوں کی ترقیات سے آگے بڑھتا رہا ہے۔ جو قومیں زمانے کی تبدیلی کا ساتھ نہیں دے سکیں وہ ماضی میں خواہ کتنی ہی ترقی یافتہ رہی ہوں جیسے ہی ان کے قدم میں جمودآیا سیار قوموں نے انہیں خس وخاشاک کی طرح کنارے کردیا۔کیونکہ تغیر کو ہی زمانے میں ثبات حاصل رہا ہے اور سفر کے درمیان جو ٹھہرگئے پیچھے کے مسافر انہیں کچل کر آگے بڑھ گئے۔
                ترقی کی رفتار جو پچھلے زمانے سے تیز ہوتی جارہی تھی اکیسویں صدی میں سرپٹ دوڑنے لگی۔ علمی دھماکوں کے ساتھ سائنسی ایجادوں اور دریافتوں کا ایسا سلسلہ شروع ہواکہ پوری انسانی زندگی پر مشینوں کی حکومت راج کرنے لگی۔ اطلاعات کو نئی ٹیکنالوجی نے اتنا آسان کردیا کہ اطلاعات رسانی کے پچھلے تمام تر نظام مضحکہ خیز معلومات ہوتے ہیں۔ سائنسی تحقیقات اور علم کے فروغ نے ان تمام مہلک امراض کو چیلنج دیا جن سے انسانی زندگی نشانے پر رہا کرتی تھی۔ وہ وبائی امراض جو گاؤں کے گاؤں اور شہر کے شہر نگل جاتے تھے اب قصہ ماضی بن گئے۔
                اکیسویں صدی اپنے ساتھ جہاں بہت سی برکتیں لائی ہیں اسی کے ساتھ دنیا کئی طرح کی سائنسی اور سماجی تخریبات کا بھی شکار ہوئی ہے۔ گلوبلائزیشن جس کے نتیجے میں صارفیت کا فروغ ہوا اس نے دنیا کی مادی وروحانی ہر شے کو نفع ونقصان کی نظر سے دیکھنا شروع کردیا ۔ اس نظریے نے مفاد پرستی اور موقع پرستی کے جذبے کو فروغ دیا۔ ترقی کی دوڑ میں آگے نکل جانے کے احساس نے لوگوں کو عام انسانی اور جبلی نقصانات سے بے توجہ کردیا۔ انسانی ہمدردی کے جذبات کا فقدان پورے انسانی سماج پر عام ہوتا جارہا ہے۔ایک طرف ترقی کا یہ عالم ہے کہ انسان ایک رات میں کروڑوں روپے محض عیش پرستی میں اڑادیتا ہے۔ تقریبات میں سیکڑوں انسانوں کی بھوک مٹانے کی مقدار میںکھانے ضائع کردیئے جاتے ہیں۔ وہیں سماج کا ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو اب بھی کچڑوں کے ڈھیر پر سے روٹی چن کر بھوک مٹانے پر مجبور ہے۔ ہر روز نئے نئے تعلیمی ادارے کھل رہے ہیں جو نئی ٹیکنالوجی سے لیس ہیں تو آج بھی دنیا میں لاکھوں ایسے بچے جن کو تعلیم گاہوں کا منہ تک دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ ہندوستان کے سرکاری اسکولوں میں ایسے غریب بچوں کی بڑی تعداد ہے جو مڈ ڈے میل کے لالچ میں اسکول تک پہنچ تو جاتی ہے لیکن ایک وقت کے کھانے کی قیمت پر اپنا بیش قیمت وقت ضائع کردیتی ہے۔ نہ اسے تعلیم حاصل ہوتی ہے اور نہ وہ اپنے وقت کا صحیح استعمال کرپاتی ہے۔ پوری دنیا میں طاقتور کمزور کو زیر نگیں کرنے کے نئے نئے حربے اپنا رہے ہیں۔ خوف کا یہ عالم ہے کہ ہر ملک اپنے سالانہ بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاع پر خرچ کررہا ہے۔ اس کے باوجود دنیا میں تشدد اور دہشت نے شہر شہر اور قریہ قریہ کو سراسیمہ کر کے رکھا ہوا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ انسان تیوہار جیسی خوشیاں بھی پولیس کی چھاؤنی میں منانے پر مجبور ہے۔ وہ ممالک جو اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ دفاع اور اسلحہ جات کی خریداری پر خرچ کر رہے ہیں وہاں بھی لاکھوں بچے بھوک اور افلاس سے مر رہے ہیں۔ بیماروں کو مناسب علاج کی سہولت حاصل نہیں ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے ایسی پالیسی اختیار کرلی ہے کہ ترقی پذیر اور کمزور ممالک چاہ کر بھی اپنی آمدنی کو ملک کے عوام کی فلاح پر خرچ کرنے کے بجائے ان ممالک کے اسلحہ خرید کر اپنی گاڑھی کمائی اسلحہ کی قیمتوں کی شکل میں دینے پر مجبور ہیں۔ جنسی بے راہ روی، قتل، لوٹ، معاشی بحران اور اس جیسی سماجی خرابیاں اس پر مستزا د ہیں۔ اگر ہم ان تمام خرابیوں پر غور کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا میںترقی کی رفتار کے ساتھ تخریبات سامنے آئی ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ انسان کے سامنے مقصد حیات واضح نہیں ہے۔ انسانوں اسی زندگی کو سب کو کچھ سمجھ لیا ہے اور جب ذہن پر اس دنیا کا تصور آخری تصور ہوگا تو دنیا کی کوئی طاقت یا تصور استحصال کے راستے کو بند نہیں کرسکتا ہے۔
                الغرض دنیا میں جتنی بھی ترقیات آئی ہیں وہ صرف اور صرف علمی ترقی کے نتیجے ہیں جس کے لیے دنیا کی ترقی یافتہ قوموں نے محنت کی اور لگن سے کام لیا ہے ۔ اس صورتحال میں یہ سوال پید ا ہوتا ہے کہ مسلمان علم کی اس جنگ میں کہاں کھڑے ہیں۔ کیا وہ دنیا کے اس علمی دھماکے کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا انہوں نے خود کو حالات کے حوالے کردیا ہے۔ بے پناہ ترقی کے باوجود دنیا جس بے راہ روی کی شکار ہے اس میں ایک مسلمان کا جو مذہبی فریضہ ہے کیا وہ اس کو ادا کرنے کی حیثیت میں ہے۔
                عالمی سطح پر جاری اس علمی وسیاسی جنگ سے نبرد آزما ہونے کے لیے بشمول ہندوستان دنیا بھر کے مفکرین اسلام غور وفکر کرتے رہے ہیں۔ علمی برتری حاصل کرنے اور دنیا کی ترقیات میں مسلمانوں کے شامل ہونے اور دنیا کو ایک سچی اور ابدی راہ دکھانے کے لیے اپنی تجاویز پیش کرتے رہے ہیں۔ ہندوستان کے ایسے مفکرین میں ایک اہم نام پروفیسر احمد سجاد کا بھی ہے۔
                احمد سجاد کی حیثیت ادبی اور علمی شخصیت کے علاوہ ایک دانشور کی ہے۔ وہ ادبی و علمی کام کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کی علمی، معاشی، سماجی ترقی اور سیاسی بیداری کے لیے بھی غور کرتے رہیں۔ مرکز علم وادب کی صورت میں انہوں نے اپنی مخصوص فکر کو عملی صورت دینے کی مخلصانہ کوششیں بھی کی ہیں۔ ا ن علمی کوششوں میں یہ امر بہت اہم رہا ہے کہ انہوں نے دین ودنیا کی دوئی کو مٹاکر اسلامی سانچے میں تمام تر علوم کو ڈھالنے اور مسلمان کی زندگی کو ان سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے۔
                پروفسیر احمد سجاد اردوکے ایک مایہ ناز استاد، نامور ادیب، منفرد نقاد ، ممتاز دانشوراور ماہر تعلیم کی حیثیت سے بر صغیر میں معروف ہیں۔ ادب کا وہ ایک مخصوص اور مربوط نظریہ رکھتے ہیں۔ ادب کا یہ مربوط نظریہ بھی انہوں نے اسلامی تعلیمات سے کشید کیا ہے۔ انہوں نے ان نظریات کی روشنی میں اردو زبان وادب کے علمی سرمایوں اور اصناف کا جائزہ بھی لیا ہے اور نہ صرف خود ان نظریات کو اپنے علمی سرگرمیوں میں بروئے کار لائے ہیں بلکہ اس کو ایک تحریک کی صورت دے کر ایک نسل کی آبیاری بھی کی ہے۔ ان کے یہ نظریات اردو ادب میں ایک سنگ میل اور تنقیدی دبستان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ادب میں انہوں نے جن نظریات کو فروغ دینے کی کوشش کی ہے اس پر مستقل اور ایماندارانہ طریقے سے کام نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن جب کبھی ان کے نظریات کو فروغ دے کر ادب کا جائزہ لیا جائے گا اور اس پر ادب کی تعمیر کی بنیاد رکھی جائے گی تو اردو ادب میں ایک نئی اور توانا فکر اور ادب کا ایک لازوال سرمایہ سامنے آئے گا جو انسان کی دنیاوی زندگی کی اصلاح کے ساتھ اخروی زندگی کی اصلاح کا ذریعہ بھی بنے گا اور وہ ادب جو انسان کی اصلی رہنمائی کا فریضہ انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے تخلیق ہوگا۔
                انہوں نے جہاں ادب وتنقید میں شاہکار تصنیفات پیش کی ہیں وہیں ہندوستانی مسلمانوں کے علمی، معاشی، سماجی اور سیاسی مسائل کو بھی اپنی تحریروں میں ترجیحی بنیادوں پر شامل کیا ہے اور منصوبہ بند طریقے سے ان کے حل پر سنجیدگی سے غور کیا ہے۔ ایسے مسائل پر انہوں نے ”ہندوستانی مسلمانوں کے بنیادی مسائل اور ان کا حل، ہندوستان کا جدید تعلیمی انقلاب اور اقلیت، اکیسویں صدی کا چیلنج اور ملی تعلیمی ایجنڈا، جدید نظریات کی کھلی ناکامی اور اسلام کا روشن مستقبل، پندرہویں صدی ہجری کے تقاضے اور مطالبات(اردو اور انگریزی بنام Islamic Revival and 15th Century Hijri)، ملک میں بڑھتی ہوئی تہذیبی جارحیت کی لہر، اسباب وعلاج، کیا بر صغیر کی اردو آبادی عذاب مسلسل کا شکار ہے، بھارت میں نئے منووادی انقلاب کی تیاری اور مسلمان، ہندوستان میں مسلم جماعتوں کا سیاسی طریق کار، Points to Ponder، مسلم سیاسی نمائندگی کا مسئلہ پنچایت سے پارلیمنٹ تک جیسی کتابیں تحریر کی ہیں جن میں بیشتر منظر عام پر آچکی ہیں۔
                ان کتابوں کے مطالعے سے ملت کے تئیں ان کی فکر مندی اور قلب میں موجزن ملت کی سرفرازی کے جذبات صادق کا احساس ہوتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تمام کتابوں کو سامنے رکھ کر مجموعی مطالعہ پیش کیا جائے تا کہ ان کی روشنی میں ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جاسکے۔
                اس مختصر مضمون میں ان تمام کتابوں کا سرسری مطالعہ بھی پیش کرنا ناممکن ہے۔ یہاں اس حوالے سے احمد سجاد کی ایک معتبر کتاب ”اکیسویں صدی کا چیلنج اور ملی تعلیمی ایجنڈا“ میں پیش کردہ خیالات کے چند زایوں کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
                بنیادی طور پر یہ کتاب اکیسویں صدی کا چیلنج اور ملی تعلیمی ایجنڈا، جدید اسلامی یونیورسٹی کا قیام (فکری پس منظر)، علی گڑھ تحریک کی نشأة ثانیہ- چند قابل عمل نکات، عصری اور علوم اسلامیہ کو ایک نئے تعلیمی انقلاب سے ہمکنار کرنے کی فوری ضرورت، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ- اہمیت وافادیت، حق تعلیم، سرکاری منصوبے اور ملی تعلیمی صورتحال، اقداری تعلیم، کیوں او رکیسے؟ جدید تعلیمی مسائل اور ہمارے کرنے کے کام (جھارکھنڈ کے حوالے سے)، مرکز ادب وسائنس تعلیمی وفلاحی رجسٹرڈ ٹرسٹ رانچی- ایک مختصر تعارف جیسے بنیادی مضامین میں تقسیم ہے۔
                حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک مضمون وسیع مطالعے کا متقاضی ہے اور تعلیم کے جدا گانہ اور منفرد زاویوں کو سامنے لاتے ہوئے ہندوستانی مسلمانوں کے مستقبل کے لائحہ عمل کو طے کرتا ہے۔
                اس سے پہلے کہ ان مضامین پر بات شروع کی جائے پہلے مضمون کے ذیلی عناوین پر ایک نظر ڈال لی جائے۔ انقلاب انگیز صورتحال، ملکی تناظر، دانشوروں کی رائے، عذاب دانش حاضر، فکری گمراہی، نام نہاد مصلحین، ادب کی بے ادبی، کھوکھلے دعوے، مادہ پرستی کا عمل، اسلامی عالمی ثقافت، اسلامی سائنس، نئے خانے کی ہلتی ہوئی بنیادیں، حق کی تلاش، قرآنی سائنس، چھ چیلنج، مہلک چرکے اور تاریخی معجزے، اسلامی حل،۵۷، مسلم ممالک، ملی تعلیمی ایجنڈا، انفارمیشن ٹیکنالوجی جدید ترین ایجنڈا، غلامی یا آزادی، روزگار، ماس میڈیا پاپولر کلچر کا نیا چیلنج یہ اس کے ذیل عناوین ہیں۔
                عذاب دانش حاضر کے تحت انہوں نے جہاں تیرہویں چودہویں صدی سے تاحال سائنسی تحقیقات کے نام پر فکری بے راہ روی کو وا کیا ہے وہیں فکری گمرہی کے تحت انہوں نے فلسفے کی ان کارستانیوں کو پیش کیا ہے جنہوں نے انسان کو الحاد وزندقہ کی دلدل میں پھنساکر ا س سے اعتماد ویقین کی دولت بھی چھین لی ۔ اس کے بعد مصلحین نے اصلاحی نعروں کے ساتھ انسان کو در در کی ٹھوکریں کھانے کے لیے جس طرح مجبور کیااحمد سجاد نے نام نہاد مصلحین میں اس کا انکشاف کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کوپر نیکس، ڈیکارٹ، سر اسحاق نیوٹن، لوائے زر، ٹائٹ، ڈارون، ژول، فرائڈ، ڈرکائ، واٹسن، میکیاویلی، تھامس ہابز، جان لاک، روسو، کانٹ، مالتھس، ہیگل، آدم اسمتھ، جین آسٹن، فری میسن لاج، فیور باخ، اسٹوارٹ مل، فریڈ رخ اسٹراس، برونو بور، ہولیاک، کارل مارکس، ولیم جمیس، نطشہ، جان ڈیوی، پال سارتر، کارنپ، صلح نامہ فیلیا، فکٹے، گوسپ مازنی، تھامس مین، بریڈلا، اینٹی گاڈ سوسائٹی، جیکسن بلیک، صلح نامہ وارسائی، لینن، فرانسس بیکن، والٹیر، سائمن لاپلاس، ارنسٹ ہیکل، بشپ برکلے، ڈیوڈ ہیوم، ارنسٹ رینان، امام غزالی، اقبال وغیرہ جیسے سائنس دانوں، فلاسفہ، مصلحین ومفکرین ، ادبا اور ان کے رد عمل کے طور پر ابھرنے والے فلاسفہ اور مفکرین کی آرا، ان کے نظریات، انسانی زندگی پر ان نظریات کے دیرپا اثرات، ان کے نتیجے میں مذاہب عالم کی آفاقی سچائیوں کی تکذیب، سائنس اور فلسفوں کے ذریعہ ایک دوسرے کی تردید، انسان کو حیوانیت اور شہوانیت کے درجے تک پہنچانے والی فکروں اور ذہنی تنگی سے نکلنے کے رد عمل جیسے افکار ونظریات کو انہوں ے جزو اول کے طور پر پیش کیا ہے۔
                یہ تمام حوالے ان کے وسعت مطالعہ، آزاد فکر ونظر اور شرح صدر کی عکاسی کرتے ہیں۔ جس طرح سے اس میں احمد سجاد نے سائنس کے نام پر انسانیت کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی کوشش کو سامنے لانے کی کوشش کی ہے ایسا مطالعہ ایسا شخص کرسکتا ہے جس کے سامنے مخصوص نظریہ حیات ہو او وہ اس نظریہ حیات کے تئیں اخلاص وایقان عمل کی دولت سے مالا مال ہو۔ مذکورہ بالا سائنس دانوں، مفکرین، مصلحین کے کوکھلے دعووں اور ان کے برے نتائج کو سامنے لانے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں :
”میرے خیال میں اکیسویں صدی میں اس زمین یا کرہ ارض کو بھی مرنے سے بچانے اور یا خدا اور انسان کو دوبارہ زندہ ومتحرک کرنے کا نسخہ شفا امت محمدیہ کے پاس موجود ہے۔ بشرطیکہ امت مسلمہ اقراء باسم ربک الذی، طلب العلم فریضہ علی کل مسلم اور سنریھم آیاتنا فی الآفاق وفی انفسھم کی اسپرٹ کے تحت علم حاضر کے معلومات کے خزانوں کو اپنے تصرف میں لاکر انہیں اسلامیانے کی کوشش کرے“
                                                (اکیسویں صدی کا چیلنج ۔۔۔۔۔ ص۱۲-۱۳)
پھر اسلامی عالمی ثقافت کے خط وخال کو ابھارتے ہوئے اسلامی سائنس کی ضرورتوں کا احساس کچھ اس طرح دلایا ہے:
”ملی تعلیمی ایجنڈے میں مذکورہ بالا پہلوؤں کے علاوہ اسلامی سائنس کی نظری وعملی بنیادوں اور کارناموں پر مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم محققوں اور دانشوروں نے جو قیمتی کام کیا ہے وہ امت مسلمہ کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں۔ اس پہلو سے دریا کے مقابلے میں صرف قطرہ بھر کام ہوا ہے۔“
                                                                                                (ایضا،ص ۱۵)
                ابتدا سے سائنس دانوں، فلاسفہ اور مفکرین زندگی کے مختلف امور پر غور کرتے رہے ہیں۔ احمد سجاد کی اس کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے ان کی دریافتیں، تحقیقات، انکشافات اور افکار ونظریات کس طرح ایک دوسرے سے متصادم ہیں اورزندگی کی رہنمائی کرنے کی بجائے انہیں تاریک راہوں سے گذار کر بھول بھلیوںمیں گم گشتہ راہ بنا دینا چاہتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے انہوں نے زندگی کو بے سمت رخ پر چلانے کی کوشش کی۔ انہوں نے اپنے اس مطالعے میں مئے خانے کی ہلتی ہوئی بنیاد کے عنوان سے فکر کی اس بے راہ روی اور سائنسی تضادات کو پیش کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب تک زندگی کا ایک مقصد واضح نہیں ہوگا اور زندگی کو اس رخ پر چلایا نہیں جائے گا زندگی اپنے افکار کے درمیان متصادم رہے گی۔ کتاب کے ان ابواب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ فکر ونظر کا ایک ہجوم ہے جو مصنف کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ سائنس دانوں، فلاسفہ اور مفکرین کی زندگی کے بے سمت سفر کے درمیان پیاسی روح کے لیے حق کی تلاش ، اس میں قرآنی سائنس کے نسخے کو پیش کرتے ہوئے بھٹکتی ہوئی اس دنیا کو فضائی آلودگی، منشیات کے پھیلاؤ، افراط زر اور جان لیوا گرانی، ناخواندگی کا سیلاب، نئی نسل کی بے راہ روی اور جدید امریکی سامراجیت کی شکل میں درپیش چھ چیلنجز، بیسوی صدی میں امت مسلمہ کو لگائے گئے تین مہلک چرکوں اور تین معجزوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے بڑی قطعیت کے ساتھ اسلامی حل پیش کیا ہے:
اکیسویں صدی میں اگر مغرب کی مادہ پرستی اور بہیمیت نیز مشرق کی مریضانہ مذہبیت اور علمی زوال کی دلدل سے انسانیت کو نکالنا ہے تو عالم انسانی کو آج اکیسویں صدی میں جن تین چیزوں کی ضرورت ہے وہ اسلام اور صرف اسلام ہی پیش کرسکتا ہے۔ جن کی روشنی میں امت مسلمہ کو اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرنی ہے:
اولا کائنات کی روحانی تعبیر، دوم: فرد کا روحانی استخلاص، سوم: وہ بنیادی اصول (قرآن کے محکمات) جن کی نوعیت عالم گیر ہے اور جن سے انسانی معاشرے کا ارتقا روحانی اساس پر ہوتا ہے۔
                                                                                                                (ایضا، ص ۲۴)
”معرفت نفس، احتساب نفس، تربیت نفس، عزت نفس وغیرہ غرض آدم کی خلافت اور رسول کریم کی وسیع تر معنوں میں معلمی،علم نافع کی چاہت، سمع، بصر اور فواد کی ذمہ دارانہ جوابدہی، دینی ودنیوی علوم کی دوئی کا خاتمہ، خشیت الٰہی سے گہرا رشتہ اور توحیدی ودعوتی اقدار کی بالا دستی پر مشتمل کسی جامع ملی تعلیمی ایجنڈے پر کامیاب عمل آوری تو کسی مکمل اسلامی ملک ہی میں ممکن ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تب تقریبا نصف صدی سے زاید ایسی مسلم آبادی جو مسلم سیکولر ملکوں اور دیگر ملکوں میں اقلیتی حیثیت سے رہ بس رہے ہیں ، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں۔ ہر حال میں ان کی دینی ودنیوی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے اپنے حالات کے پیش نظر غور وفکر کے بعد اپنے ملی تعلیمی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنائیں اور اپنی یونیورسیٹیاں اور ادارے قائم کریں۔ ان کے بغیر ان کی اخلاقی وروحانی اورمعاشی وسیاسی بہتری وخوشحالی بھی ممکن نہیں ہے۔ “                                                                                                                    (ایضا، ص۲۶)
                اس طویل پس منظر کو پیش کرنے کے بعد احمد سجادنے ملی تعلیمی ایجنڈے اور اس کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی صراحت کی ہے۔ ایک سیکولر ملک کی حیثیت سے ہندوستان میں مسلمانوں کو تعلیمی اداروں کے قیام اور ان کو چلانے کا جو حق ہے اس پر قائم تعلیمی اداروں کے حوالے سے انہوں نے از سر نو حالات حاضرہ کی روشنی میں نظر ثانی کی فوری ضرورت کا احساس کیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے تقریبا ۱۳ امور پر بحث کی ہے جن میں دینی وعام تعلیمی اداروں کی بہتر کار کردگی کے لیے الگ الگ مرکزی واساسی ادارے کا قیام جو پورے ہندوستان میں مشترکہ لائحہ عمل کو پورا کرسکے۔ مسلم مالیاتی رابطہ کمیٹی کا قیام جو زکوة ، اوقاف اور نجی وسرکاری گرانٹس کی تنظیم کر کے عمومی مفاد کو یقینی بناسکے۔ اسی ضمن میں کل ہند انفارمیشن سینٹر یا مشاورتی بورڈ کے قیام کی ضرورت بھی انہوں نے محسوس کی ہے۔ مرکزی قانونی صلاح کار تنظیم بھی ان کے ملی تعلیمی ایجنڈے کا اہم حصہ ہے جس کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔
                احمد سجاد نے اپنے ملی تعلیمی ایجنڈے میں اسلامی نظریات کی روشنی میں جملہ علوم کے نصاب کی تدوین کو بڑی اہمیت دی ہے۔ انہوں نے ۷ ذیلی حصوں پر اپنی توجہ مرکوز کی ہے جن سے ان کی دور رس فکر کا بھی احساس ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان امور پر اگر ملی جماعتیں غور کریں اور اس کو عملی جامہ پہنائیں تو یقینا ہندوستانی مسلمانوں کی تعلیم ایک نئی صورت میں ابھر کر سامنے آئے گی۔ یہ وہ امورہیں جو ہندوستان میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مستقبل کو بھی طے کرتے ہیں۔
                ہمارے ہندوستانی تعلیمی نظام نے دین ودین کو الگ الگ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس کا نتیجہ ہے کہ دینی تعلیم حاصل کرنے والے دنیا کی سرگرمیوں سے نا آشنا ہے تو عمومی تعلیم حاصل کرنے والے دین احکامات اور فرائض اور دینی شعور واحساس بیگانہ ہیں۔ اس دوئی کا احساس کرتے ہوئے بجائے اس کے تعلیمی نصاب میں سردست اس دوئی کے فرق کو مٹانے کی کوشش کرنے کی بجائے دسویں جماعت تک دینی وعصری علوم کا امتزاجی نصاب تیار کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ جبکہ خالص دینی مدارس میں دو گھنٹے عصری مضامین مختص کرنے کا بھی مشورہ دیا ہے۔ اسی طرح عصری دانش گاہوں میں دو گھنٹے قرآن ودینیات کی تعلیم وتربیت کا نظم ہو۔ مدارس کے فارغ طلبہ پری طب(میڈیکل) پری سائنس اور پری انجینئرنگ اور سول سروسیز کے لیے دو سالہ کورس مرتب کر کے ضلع وار رحمانی ۳۰ کے طرز پر ادارے اور کوچنگ سینٹرس کا قیام عمل میں لایا جائے۔ چھوٹے چھوٹے مکاتب کا ہر مسجد اور ٹولہ، محلہ میں نیٹ ورک قائم ہو جس کی مالی کفالت کی ذمہ داری اس علاقہ کے باشندوں پر ہو۔ہر بڑا مدرسہ اور اسکول اپنے اطراف میں امکانی حد تک ابتدائی مکاتب کے قیام کی کوشش کرے۔
                اس ضمن میں احمد سجاد نے مسلمانوں کی تعلیم کو عہد جدید کے تقاضوں سے جوڑنے کے لیے دو فاصلاتی اور دو آن لائن یونیورسیٹیوں کے قیام کا مشورہ دیا ہے۔ جن میں ایک ایک عمومی وتکنیکی تعلیم کے لیے ہو اور ایک دینی تعلیم کے لیے۔
                دور جدید میں حصول تعلیم کے ان دونوں ذرائع نے کلیدی رول ادا کیا ہے۔ آج ہندوستان میں ایک طرف تو عام یونیورسیٹیوں نے رسمی تعلیم کے ساتھ ایک اپنا ایک شعبہ فاصلاتی تعلیم کا قائم کیا ہے تو ملک کی کئی یونیورسیٹیوں نے فاصلاتی یونیورسیٹیوں کی حیثیت سے اپنی جگہ بنائی ہے جن میں لاکھوں طلبہ اپنی اپنی ضرورت کے مطابق کورس کر رہے ہیں۔
                راقم الحروف نے بھی اپنے ایک مضمون یہ بات کہی تھی کہ طلبہ مدارس کی ایک بڑی تعداد مختلف وجوہات سے نصاب کی تکمیل سے قبل ہی تعلیم سے منقطع کردیتی ہے۔ مدارس کے ڈراپ آؤٹ طلبہ کو ان کی دینی تعلیم کی تکمیل کے لیے اگر فاصلاتی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا جائے تو بہت ممکن ہے کہ بطور خاص معاشی مجبوریوں سے تعلیم چھوڑنے والے طلبہ اپنی تعلیم کو مکمل کرسکیں گے۔ جبکہ عمومی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ بھی اپنی ملازمت کے درمیان دینی تعلیم حاصل کرسکیں گے۔
                آن لائن تعلیم کے اس زمانے میں ہندوستانی مسلمانوں کو اپنی تعلیم کے لیے ان ذرائع کا استعمال کرنا ایک محرومی ہوگی۔
                احمد سجاد نے تعلیمی بیداری مہم جاری رکھنے کے ساتھ این آئی او ایس کے اقلیتی سیل کو با اختیار بناتے ہوئے جملہ مسلم پرائمری اسکولوں میں اس کا اسٹڈی سینٹر قائم کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
                ان کے اس ایجنڈے میں بڑی تعداد میں مسلم یونیورسیٹیوں کا قیام بھی شامل ہے:
       ”اکیسویں صدی کی تعلیمی ضروریات کے لیے اگلے دس برسوں کے اندر اگر حکومت ہند مزید ایک ہزار یونیورسٹیاں قائم کرنے کا آغاز کرچکی ہے تو بیسیوں کروڑ کی مسلم آبادی کے لیے مختلف ریاستوں میں ۲۰-۲۵ یونیورسیٹیوں کا قیام بھی ملی تعلیمی ایجنڈے کا ایک لازمی جز و ہونا چاہئے“
                جدید دور میں علمی ترقی اور برتری کا سب سے بڑا ذریعہ انفارمیشن ٹیکنالوجی ہے۔ اس وقت جو قوم اس ٹیکنالوجی میں پچھڑ جائے گی اس کے مستقبل کو تاریک ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا ہے۔
اب یہ ٹیکنالوجی چونکہ جملہ علوم وفنون اور مختلف النوع پیشوں کی رگ و ریشے میں نفوذ کرچکی ہے۔ اس لیے ذخیرہ معلومات اور تعلیم وتعلم کے ساتھ روزگار کے بے شمار مواقع مہیا کردیئے ہیں۔ مگر اردو والوں کی عدم واقفیت، بے توجہی اور بے رواجی کے سبب اردو سائبر اسپیس میں تمام تر دستیاب سہولیات کے باوجود فوائد حاصل نہیں ہو پارہے ہیں جو واقعی ہونے چاہئے تھے۔“
                                                                (ایضا، ص ۳۳)
                قومی ترقی میں ان کی معاشی حیثیت کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستانی مسلمان جن مسائل سے دوچار ہیں ان میں ان کی معاشی صورتحال بھی ہے۔ آزادی کے بعد سے مسلسل ان اقتصادی بنیادوں کو کمزور کھوکھلا کیا جاتا رہا ہے۔ دور حاضر میں جہاں بہت سی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اقتصادیات کی بنیادوں میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ احمد سجاد نے اپنے اس ملی تعلیمی ایجنڈے میں اس کی تشخیص ان الفاظ میں کی ہے:
”لہٰذا اکیسویں صدی میں غلامی سے وہی اقوام بچ سکتی ہیں جو نالج اکونامی پر حاوی ہوں گی۔ کیونکہ نالج سے دولت کمانا بہت منافع بخش ہوگا کہ اس میں توانائی کا استعمال بہت کم ہوگا۔ اس میں صرف انسانی ذہن استعمال ہوگا۔ مستقبل میں جس کی اچھی نالج اکونامی کی ورک فورس ہوگی وہ دنیا کی قیادت کرے گا۔ “
جو عالم ایجاد میں ہے صاحب ایجاد
ہر دور میں کرتا ہے طواف اس کا زمانہ

                مختصر یہ کہ احمد سجاد اپنی اس کتاب میں مذکورہ حالات کو نظر میں میں رکھتے ہوئے ایک مجموعی حل پر پہنچے ہیں۔ یہ وہ آخری حل جو انسان کو بے سمتی ، استحصال اور غلامی سے نکال کر زندگی کا ایک سمت متعین کرتا ہے۔ حقدار کو اس کا حق دیتا ہے اور آزاد فضا میں جینے کا موقع فراہم کرتا ہے:                
‘‘اکیسویں صدی کے علمی دھماکے، برق رفتار ابلاغ اور عالم گیری کو گن کلچر، قتل وغارت گری، عصمتوں کی تباہی، خواتین کی توہین کی جگہ عزت وتوقیر امن وشانتی اور انسانی واخلاقی اقدار کو جاری وساری کرنا چاہتے ہیں تو اس کائنات کے خالق ومالک نے جو آخری صراط مستقیم دکھائی ہے اسی راستے پر ملی تعلیمی وتربیتی ایجنڈے کو ڈالنے اور ڈھالنے کی ضرورت ہے۔’’
٭٭٭
۱۲ جنوری ۲۰۱۷
نوٹ:  یہ مضمون پروفیسر احمد سجاد کی شخصیت اور خدمات پر آنے والی کتاب کے لیے لکھا گیا ہے اور ابھی غیر مطبوعہ ہے۔ مجوزہ کتاب کی اشاعت سے قبل بلا اجازت اس مضمون یا اس کے کسی جزو کا استعمال نہیں کیا جاسکتا ہے۔ (مضمون نگار)،۔