یوم سرسید
اور قوم سرسید
آج دنیا بھر میں یوم سرسید منایا جا رہا ہے۔
یہ اچھی بات ہے کہ ہم اپنے اسلاف اور ان کی خدمات کو یاد کر رہے ہیں۔ اس سے ہماری
نئی نسل کو بھی اپنے اسلاف سے واقف ہونے کا موقع ملے گا۔ وہ بھی ایسے وقت میں جب
نئی ٹیکنالوجی کے بے جا استعمال سے ہماری نئی نسل ہی نہیں وہ نسل بھی جو کتابوں کے
درمیان اور کتابوں کے ذریعہ بڑی ہوئی ہے کتابوں سے بےگانہ ہوئی جا رہی ہے۔ ان حالات میں
ایسے پروگرام یقیناً غنیمت ہیں جن کے ذریعہ ہم اسے بٹھا کر کچھ بھولی بسری کہانیاں
سنائیں اور اسے بتاسکیں کہ ہم آج جو کچھ ہیں اس کا ماضی کیسا تھا اور کن حالات سے
گزر کر ہم کو یہ منزل ملی ہے۔ وہ قومیں جو اپنی تاریخ کو انمٹ نقش اور ناقابل
فراموش یاد گار بنانے کا ہنر اور اس کی صلاحیت نہیں رکھتی ہیں دنیائے ہستی سے تو نابود ہو ہی جاتی ہیں تاریخ میں بھی ان کے لیے کوئی
مقام نہیں رہتا ۔ سرسید احمد خاں ہندوستانی مسلمانوں کی تاریخ کا ایسا سنگ میل ہے
جو اگر گرد و غبار کے نیچے دب گیا تو سمجھ لیجئے کہ ہماری تاریخ بھی گرد و غبار
میں لپٹ چکی ہے۔
اپنے محسنین اور اسلاف کو یاد کرنا قابل
تحسین عمل ہے۔ اگر ہم اس کو تذکرہ برائے تذکرہ تک محدود رکھنا اور محض تفاخر کا
ذریعہ بنانا چاہتے ہیں تو اس کی حیثیت صرف ’’رفت گیا اور بود تھا‘‘ یا ’’پدرم
سلطان بود‘‘ کی ہوگی۔ یہ ایک سیاست، ایک تفریح ایک رسم تو ہوسکتی ہے اپنے محسن کو
یاد رکھنے کا سچا جذبہ نہیں ہوسکتا ہے۔سچا جذبہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہم ان اقدام اور
ایسے عملوں کو اپنے مسائل کے حل کا ذریعہ بنائیں جن کے ذریعہ ان محسنان اور خادمان
قوم نے اپنے وقت کے مسائل کا حل تلاش کیا۔ اس وقت اس کی ضرورت اور بڑھ جاتی ہے جب
مسائل اور حالات ویسے ہی ہوں جیسے حالات اس محسن اور خادم کے وقت میں تھے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی جو محض ایک تاجر کی حیثیت
سے یہاں آئی تھی اور پیر پھیلاتے ہوئے حاکم بن رہی تھی اس کے خلاف ۱۸۵۷ میں میرٹھ
کی چھاؤنی سے اٹھنے والی مزاحمت نے ملک گیر سطح پر انگریزوں کے خلاف نفرت و عداوت کا نہ صرف احساس کرایا بلکہ بہت مختصر
مدت کے لیے ہی صحیح انگریزوں کے ہوش اڑا دئیے تھے۔ جب انگریزوں نے ان حالات کو
انگیز کرنے کے بعد مضبوط حیثیت بنا لی اور
ان کی حکومت ملک پر ثابت و سالم ہو گئی تو
اس کو بغاوت کا نام دیتے ہوئے اس کا بدلہ سب سے زیادہ مسلمانوں سے لینے کی کوشش کی
۔ جبکہ تاریخ داں حضرات جانتے ہیں کہ آزاد
فضا میں سانس لینے کی اس مزاحمت میں ہندو اور مسلمان دونوں شریک تھے۔ جب انگریزوں کے قدم ملک میں جم گئے
تو کہہ لینے دیجئے کہ برادران وطن کے ایک بڑے طبقے نے مصالحت کا رویہ اختیار کر
لیا۔ انگریزوں کی لائی ہوئی نئی روشنی اور جدید تعلیم کو حاصل کرتے ہوئے خود کو
وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا اور جس رخ پر ہوا بہہ رہی تھی اس پر خود کو ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے حکومت میں منصب اور قدر
و منزلت کی جگہیں حاصل کرلیں۔ نشان خاطر رہے کہ اس سے قبل بھی جب مغلیہ سلطنت اور مسلم حکومتیں برسر اقتدار
رہیں برادران وطن جدید اور متقاضی تعلیم کے ذریعہ حکومت کے اعلی عہدوں پر
جگہ بناتے رہے تھے۔ اس کے برعکس مسلمانوں کا بڑا طبقہ انگریزوں کا مخالف رہا۔ مخالفت
اور دشمنی کا یہ حال تھا کہ انگریز اپنے
ساتھ جو نئی روشنی، نیا علم اور جدید ترین
تحقیقات و ایجادات کی برکت لائے تھے ان کے حصول اور ان کی تعلیم سے نہ صرف خود کو الگ رکھا بلکہ ان کو کفر و شرک سے بھی تعبیر کیا گیا۔
سرسید جو اپنے کیریئر کے اعتبار سے کامیاب
زندگی گزار رہے تھے اور کہئے کہ ’’بابو اور حاکم ‘‘ تھے، ایسے حالات میں ان کے دل
کی دنیا بدل گئی اور گوشۂ عافیت میں پناہ گزیں ہونے کی بجائے مشکل پسند زندگی کو
ترجیح دی اور اپنی قوم کو جو انگریزی عتاب کا نشانہ بن رہی تھی بھنور سے نکالنے کا
بیڑا اٹھایا۔ انہوں نے بیماری کی تشخیص کی اور اس کا علاج بھی تلاش کیا اور جو
علاج اور دوائیں انہوں نے تلاش کیں ایک سچے ہم درد کی طرح اس کو مریض کو دینے اور بوقت ضرورت زبردستی پلانے کی خود کوشش کی
تاکہ مریض بیماری کی گرفت سے نکل سکے۔ حالانکہ جہاں وہ تھے اس میں زندگی بڑی شان
کی گزر سکتی تھی۔
موجودہ حالات کا اگر ہم مشاہدہ کریں تو بہت
سے امور میں یکسانیت اور مشابہت نظر آئے گی۔ سرسید نے جو خواب دیکھا تو اور جس کی
تعبیر کے لیے انہوں نے اقدام کیا تھا اس کی مکمل تعبیر اب بھی ہمارے سامنے نہیں
آسکی ہے۔ آج اگر ہم یوم سرسید منا رہے
ہیں تو موجودہ تناظر میں ہمیں ان ماڈل اور نمونوں کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے جن پر
چل کر سرسید نے بیماری کا علاج تلاش کیا تھا اور اپنی قوم کو ترقی کی راہ پر
گامزن کرنے کی مخلصانہ کوشش کی تھی۔
سرسید کا وہ عہد ایک طرح کی بے عملی اور یاسیت کا دور تھا۔ ایک طبقہ گوشہ
نشینی میں عافیت سمجھتا تھا تو دوسرا طبقہ جو صاحب ثروت تھا اپنے مستقبل سے بے
نیاز عیش پرست ذہنیت میں مبتلا اور خوش تھا۔
یہ دونوں طرز عمل زندگی کی جد و جہد
سے فرار کی راہیں تھیں۔ سرسید نے بنیادی طور پر فکر و عمل کے اس جمود کو توڑنے کے
لیے اقدام کیا ۔ فکر و عمل کا یہ جمود امت
مسلمہ میں دینی اور دنیاوی دونوں امور میں موجود تھا۔ ایک طرف لوگ نئی روشنی کو کفر اور گمراہی
سمجھ رہے تھے تو مذہب بھی محض ایک
رسم بن کر رہ گیا تھا۔ ان حالات کو موافق
بنانے کے لیے سرسید نے اولا تو اہل اقتدار
سے مصالحت کا رویہ اپنایا۔ کیونکہ ان سے مزاحم
ہو کر اپنی صلاحیتوں کی کسی ایک امر کی طرف مرکوز کرنا ممکن نہیں تھا۔ ساری
طاقتیں دفع ضرر میں ہی صرف ہوتیں۔ دوسرے انہوں نے اپنی قوم کو سماجی ،سیاسی اور
دیگر شعبوں میں بہتر بنانے کے لیے اپنی تمام تر توجہ حصول تعلیم کی طرف مبذول کر
دی۔ پھر جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم کو تمام تر ترقی کی کلید سمجھتے ہوئے
اس کو حاصل کرنے کے لیے علمی و عملی طور پر اپنی انتھک کوششیں صرف کردیں۔
جب انگریزی عتاب کا سامنا تھا تو سرسید نے انگریزوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اس
مخالفت میں جس کو آپ بغاوت سمجھ رہے ہیں صرف مسلمان نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی
تمام قومیں یکساں طور پر شامل تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ مخالفت بھی بغاوت نہیں تھی بلکہ
جب انسان کے لیے عدم و بقا کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے تو کشمکش حیات میں ایسی مزاحمت کا پیدا ہونا
فطری ہے۔ یہ بغاوت در اصل وہی فطری عمل تھا جس کے ذمہ دار خود انگریز ہیں۔ اس طرح
انہوں نے انگریزوں کی جانب سے جاری جارحیت کو کم کر کے اپنی قوم کی توجہ کو تعلیم
کی طرف مبذول کرنے کا موقع فراہم کیا۔ انہوں نے ایسی جدید تعلیم کو قوم کی ترقی کا
نسخہ تجویز کیا جو جدید ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی نقطہ نظر سے بھی ہم آہنگ ہو اور
اعلی عہدوں پر فائز ہونے کی ترغیب دی۔ اس وقت بھلے ہی اعلی عہدوں پر فائز ہونے اور
حکومت میں جگہ پانے کے فائدے لوگوں کو نہ نظر آئے ہوں لیکن آج اس کی اہمیت بخوبی
سمجھی جارہی ہے۔ اس کو سول سروسیز کے نتائج اور دیگر محکموں میں مسلمانوں کے تناسب
سے بھی سمجھا جاسکتا ہے۔
موجودہ حالات میں اہل اقتدار کا غیظ و غضب
انگریزوں جیسا نہیں تو اس سے کچھ کم بھی نہیں ہے۔انگریزی اقتدار میں مسلمانوں کے
لیے زندگی کی بقا کا مسئلہ تھا جبکہ موجودہ وقت میں زندگی کی بقا کے ساتھ مذہبی، تہذیبی اور
لسانی تشخص اور بقا کا بھی مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ گئو رکشا کے نام پر ہجومی تشدد نے
اخلاق اور پہلو خان وغیرہ سے مسلمانوں کے
خون کو حلال کرنے کی جو کوشش شروع کی ہے وہ اب تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
پاکستان کی قومی زبان اردو بننے کے بعد سے ہندوستان میں اردو زبان حکومت اور عوامی
دونوں سطح پر تعصب کا شکار ہوتی چلی گئی۔ مسلمانوں کی مذہبی اور تہذیبی شناخت کو
ختم کرنے کے لیے مسلسل تحریکیں اور سازشیں چل رہی ہیں۔ایسے تمام امور میں خود
مسلمان بھی جذباتیت کا اظہار کر کے ملک
میں مخالفین کی سیاست اور سازش کو کامیاب بنانے کا موقع دیتے رہتے ہیں۔ ان حالات میں بھی ہمیں
سرسید کے فکر و عمل کو ماڈل اور نمونہ بنانا
چاہیے۔ یہ تو نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں
صاحبان اقتدار سے مصالحت کرلینی چاہیے لیکن اس نکتے پر ضرور سوچنا چاہیے کہ ہم کس
طرح ان کی سازشوں کو ناکام بنا دیں اور ہمارا طرز عمل کیا ہو کہ ہم اپنی توجہ دفع
ضرر کی بجائے ترقی کے ذرائع کے اختیار پر مرکوز رکھ سکیں۔
یہاں مسلمانوں کی جذباتیت کا ذکر ہوا تو اس
سلسلے میں سرسید کا یہ عمل بھی قابل تقلید ہے کہ جب ولیم میور نے لائف آف محمد لکھ
کر نبی ﷺ کی کردار کشی کی اور اسلام کا مذاق اڑایا تو وہ اس
کے دفاع کے لیے اپنے حامیوں اور سرفروشان
نبی کے ساتھ سڑکوں پر نہیں اترے۔ ولیم میور کا پتلا نذر آتش نہیں کیا بلکہ نامساعد
حالات ہونے کے باوجود انڈیا آفس کے کتب خانےا ور
برٹش میوزیم لائبریری سے مواد حاصل کرنے کے لیے لندن کا سفر کیا اور ’’خطبات
احمدیہ ‘‘لکھ کر اس کا مدلل اور مسکت جواب دیا۔ جبکہ موجودہ وقت میں کسی فلم ، کسی
رسالے ، کسی اخبار میں جب نبی ﷺ کی کردار کشی کی جاتی ہے تو ہم سڑکوں پر اتر کر
احتجاج درج کراتے ہیں اوریہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے نبی سے محبت کا ثبوت دے دیا اور
اپنے کردار و عمل میں بھی کسی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
سرسید مشرقی علوم کے پروردہ تھے اور دینی
علوم پر بھی ان کی گہری نظر تھی۔ مذہبی اور دینی امور میں بھی انہوں نے عام ڈگر اور سوچ سے ہٹ کر کچھ رائے قائم
کرلی۔دین میں عقلیت پسندی اور معتزلہ کی فکر کو جگہ دی۔ مذہبی امور میں سرسید نے جن
اجتہادات کو دخل دیا ان میں سے بیشتر اسلامی امور سے اتنے مختلف تھے کہ اس پر کسی
بھی جہت اور نہج سے اتفاق ممکن نہیں ہوسکا اور انہیں بطور خاص علمائے دین کے عتاب
اور کفر کے فتووں کا شکار ہونا پڑا۔ تاہم
اس بات کا چنداں انکار نہیں کیا جاسکتا کہ سرسید مذہبی امور میں جس فکری و عملی جمود کو توڑنے کے
لیے اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتے تھے اس کی ضرورت اب بھی ہے اور آئندہ بھی
رہے گی۔ ہمیں سرسید کی فکر سے اس معاملے میں بھی سبق لینا چاہیے۔ لیکن سچی بات یہ
ہے کہ اجتہاد کا دروازہ کھولنے کے نام پر ہی نہ جانے کیوں ہماری تیوریوں پر بل پڑنے لگتے ہیں اور وہ
لوگ بھی جو بڑی فراخدلی سے یوم سرسید
منانے میں مصروف ہیں ان کی سماعت سے اس
فکر کے ٹکڑا تے ہی ان پر انقباض کی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے۔ بلاشبہ ہر کس و ناکس کو دینی
امور میں اجتہاد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے لیکن اس کا دروازہ اس طرح بند
کرنا جیسا کہ گزشتہ کچھ صدیوں سے جاری ہے ہمارے لیے سم قاتل ہے۔
سرسید نے ۱۸۶۳ میں سائنٹفک سوسائٹی قائم کی جس کے مقاصد میں ایک اہم مقصد دنیا کے بیش قیمت اور حیات بخش علوم کو اردو
میں منتقل کرنا تھا۔وہ جدید اور سائنسی علوم جو دیگر قوموں کی ترقی کا ذریعہ ہیں
اہل اردو کے لیے بھی موجود ہوں۔ اس کے لیے انہوں نے ایک ٹیم تیار کر دی اور ایک
بڑا کام بھی ہوا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ
دار الترجمہ عثمانیہ یونیورسٹی کے بعد اس نہج پر کوئی منظم کام نہیں ہوسکا ہے اور
اب یہ کام تھم سا گیا ہے۔ علوم کی ترقی ہو رہی ہے، نئے افکار اور نئی تحقیقات و ایجادات
جس پیمانے پر دیگر زبانوں میں جگہ بنا رہی ہیں ان کو اردو میں منتقل کرنے کی رفتاراس
کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ ہمارے اس رویہ
سے ہماری زبان کا سوتا خشک ہو رہا ہے ۔ زبان کی ترقی بھی رک گئی ہے اور اہل اردو
بھی ان علوم سے اس سطح پر مستفید نہیں ہوپارہے ہیں جیسا کہ ہونا چاہیے۔ ایسی کوتاہ
دستی کا ثبوت ایسے اہل حضرات بھی پیش کر رہے ہیں جن کو
یوم سرسید کے جشن میں بالا دستی
حاصل رہتی ہے۔ اہل نظر برداشت کریں تو اس رویے کو خود فریبی اور خود غرضی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
سرسید کا نام آتے ہی سب سے پہلے ان کے جس
احسان سے ہماری گردن خم ہوتی ہے وہ ان کی تعلیمی خدمات ہیں۔ بلاشبہ ہندوستانی مسلمانوں
میں تعلیم کے تئیں پہلے کے مقابلے میں بیداری ہر سطح پر آئی ہے۔ لیکن اس میں بھی شبہ
نہیں کہ مسلمانوں کے درمیان تعلیم اب بھی تحریک کی صورت نہیں اختیار کر سکی ہے۔ آج
بھی مسلمانوں میں خواندگی کی شرح ملک کی
شرح خواندگی سے بہت پیچھے ہے۔ دیہی علاقوں میں تو دور شہری حلقوں میں بھی مسلمانوں
کے ایسے ’’سلم‘‘ علاقے مل جائیں گے جہاں کے بچے کچڑا چننے، عبث کاموں، آوارہ گردی، تاش اور لہو و لعب
میں مصروف نظر آتے ہیں۔ اگر صرف شہر ی حلقے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہوئے بات کی جائے تو
ہمیں نظر آتا ہے کہ ہر وہ شہر جہاں مسلمانوں کی قابل لحاظ آبادی ہے درجنوں
پرائیویٹ اسکول مسلمانوں کے زیر انتظام ہیں۔ حکومت نے قانون حق تعلیم کے تحت ۲۵
فیصد بچوں کا داخلہ پرائیویٹ اسکولوں میں مفت کرنے کی ہدایت جاری کر رکھی ہے جس کا
خرچہ حکومت کو برداشت کرنا ہے۔ لیکن ہماری ملی تنظیموں کی جانب سے یا کسی سماجی گروپ کی جانب سے ایسی کوئی کوشش
نہیں ہوسکی کہ تعلیم سے دور ایسے بچوں کو اسکول سے جوڑا جاسکے۔ چلئے پرائیویٹ
اسکولوں کو نظر انداز کیجئے۔ ہماری کوئی تنظیم یا کوئی سماجی گروپ سروے کر کے یہ
پتہ لگاتا کہ ان بچوں کے لیے کم از کم وہ کون سی چیز لازمی ہے جس کا انتظام ہو
جائے تو وہ سرکاری اسکولوں تک پہنچ کر تعلیم کی شد بد حاصل کرسکیں۔ شہروں میں ایک
بڑی تعداد سبکدوش تعلیم یافتہ حضرات کی ہوتی ہے۔ کیا یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ ہر
محلےمیں ایسے لوگوں کی تنظیم یا گروپ ہو جو تعلیم سے دور بچوں کو ان بچوں کے لیے
مناسب وقت کے اعتبار سے تعلیم دے سکے۔ یا جو بچے تعلیم سے تو وابستہ ہیں لیکن مالی
پسماندگی کے سبب ان کو معیاری تعلیم نہیں مل
پا رہی ہے تو ان کو کوچنگ دے سکیں۔
تعلیم کے نقطہ نظر سے یہ امر بھی محل نظر ہے
کہ تعلیمی بیداری آنے کے باوجود معیاری تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی تعداد آبادی کے تناسب
سے بہت پیچھے ہے۔ ایک بڑا طبقہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہے۔ ملک میں ہمارے
غیر دانستہ تعاون سے اردو کو مٹانے کی جوسازش چل رہی ہے وہ معلوم ہے۔ سرکاری
اسکولوں میں پرائمری اور مڈل سطح سے تیزی سے اردو غائب ہو رہی ہے۔ کم از کم بہار میں تو یہی صورتحال
ہے۔ سرکاری پرائمری اور مڈل اسکولوں میں جو بچے زیر تعلیم ہیں ان کے سرپرستوں میں
بہت کم تعداد ایسی ہے جو ان کی مذہبی تعلیم کا مناسب انتظام کر رہی ہو۔ اس طرح ایسے اسکولوں میں بچے دین سے نابلد ہوتے جا رہے
ہیں۔ کانونٹ اسکولوں میں بچوں کو تعلیم دلانے والوں میں کچھ لوگ تو اپنی تہذیب اور
مذہب کے تئیں بیدار ہیں لیکن ایک ماڈرن طبقہ بھی ہے جس کے لیے مذہبی تعلیم اور تہذیب
وثقافت کا تحفظ بے معنی بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر ان امور پر توجہ نہیں دی گئی تو ایسے بچے جب جوان ہوں گے
تو ان میں مذہبی اور تہذیبی شعور بالکل نہیں ہوگا۔ اس کے نتیجے میں الحاد و لادینیت بہت تیزی سے پھیلے گی جس کا مداوا
نہیں کیا جاسکے گا۔ اس کے سد باب کے لیے ہمیں جلد کوئی لائحہ عمل طے کرنا ہو گا تاکہ وقت رہتے اس پر قابو پایا جاسکے۔ یاد رہے کہ سرسید مسلمان طلبہ کے ایک ہاتھ میں قرآن، ایک
میں سائنس اور سرپر کلمہ طیبہ کا تاج دیکھنا چاہتے تھے۔ یوم سرسید کے موقع پر ہمیں
اس سمت میں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔
یوم سرسید کے موقع پر نہ صرف علی گڑھ بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں
علیگ برادری موجود ہے جشن کا اہتمام کرتی ہے اور اپنے محسن کو یاد کرتے ہوئے اپنے احساسات کو ساجھا کرتی
ہے۔ پر تکلف دعوت کا اہتمام یوم سرسید کا ایک نمایاں وصف ہے۔ مل بیٹھنے اور ساتھ کھانے پینے کی یہ تقریب
یقینی طور پر علیگ برادری کے لیے ایک پر مسرت احساس ہے۔ لیکن اس دعوت کے نام پر اے
ایم یو کے ساتھ دنیا بھر میں لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ ہم اگر اسے ضیاع کا نام نہ
بھی دیں تو اتنا تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ یہ عمل سرسید کے جذبہ و عمل کے منافی ہے۔
سرسید اگر زندہ ہوتے تو شاید ان کے لیے علیگ برادری کا یہ عمل سوہان روح ہوتا۔ یوم
سرسید کے موقع پر دنیا بھر میں دعوت میں خرچ ہونے والی لاکھوں کی رقم کو قوم کی
تعلیم پر خرچ کرنے کی کوئی منظم کوشش ہونی چاہیے تاکہ سرسید کی تحریک کو آگے
بڑھانے میں تیزی لائی جاسکے۔
سرسید کے فکر و عمل میں اس امر کا بھی اندازہ
ہوتا ہے کہ انہوں نے حالات کے رخ کو بدلنے کے لیے ایک طرف موجود وسائل کو استعمال
میں لانے کی کوشش کی تو دوسری جانب نئے وسائل پیدا کرنے کی بھی عملی کوششیں کیں
اور اس راہ میں انہیں جن ذلتوں اور مصائب کا سامنا ہوا بہت کم
لوگ اس کو برداشت کرسکتے تھے۔ لیکن سرسید نے ان سب کو برداشت کیا اور اسی قوت
برداشت نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی راہ ہموار کی۔ ہم جب اپنے مسائل کا تجزیہ
کرتے ہیں تو وسائل کی کمی کا رونا رو کر اپنے جذبہ کو ٹھنڈا کرلیتے ہیں۔ ہم اگر
سرسید کو یاد رکھنا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے
کہ ہمیں بھی ایک طرف موجود وسائل سے کام لینے کا ہنر سیکھنا ہوگا تو نئے وسائل بھی
پیدا کرنے ہوں گے۔ جو لوگ عام سوچ اور عام ڈگر سے ہٹ کر حالات کے رخ دیکھتے ہوئے
قدم بڑھاتے ہیں انہیں پھولوں کی سیج کبھی نہیں ملتی ہے۔ ہمیشہ سنگ راہ اور
مزاحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہماری جانب سے جب ایسی کوششیں ہوتی ہیں تو ہم
پہلے طے کرلیتے ہیں کہ ہمیں لیڈر اور قائد
تسلیم کیا جائے لیکن یہ جان لینا چاہیے کہ سرسید کو جو عزت اور قیادت ملی اس کی
وجہ ان کا کردار اور مخلصانہ عمل تھا۔ اس کے باوجود انہیں تا دم حیات زبردست
مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔
غرض یہ کہ موجودہ تناظر میں سرسید کی زندگی، فکر اور طرز
عمل میں ہمارے لیے سیکھنے اور کرنے کے بہت
سے کام ہیں۔ یوم سرسید کے موقع پر اگر ہم اپنے فکر وعمل کا تجزیہ کریں تو ہمیں
اپنے اندر بہت سے تضادات ملیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یوم سرسید تو منائیں
مگر ایک ذریعہ تحریک وترغیب کے طور پر۔ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں
تبھی ہم سرسید کے سچے بہی خواہ ہوسکتے ہیں۔ ***
1 comment:
Worth reading
Post a Comment