مشمولات

Saturday, 22 December 2012

Rights of Husband and Wife


(۳)
زوجین کے حقوق
                                                                                                                                                                                       
        اسلامی خاندانی نظام میں والدین کے بعدانسان کا جو سب سے قریبی تعلق قائم ہوتا ہے وہ زوجین کا تعلق ہے۔ ایک مرد کا ایک عورت سے اور ایک عورت کا ایک مرد سے ازدواجی رشتے کی بنیاد پر محبت و الفت کا اٹوٹ رشتہ قائم ہوتا ہے۔ قران نے اس رشتہ کو قدرتی نشانیوں میں شمار کیا ہے: ومن آیاتہ ان خلق لکم من انفسکم ازواجا لتسکنوا الیھا وجعل بینکم مودة ورحمة ان فی ذلک لایات لقوم یتفکرون (ترجمہ):اللہ تعالی کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کئے۔ تاکہ تم ان کے ذریعے سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔
        اسلام میں اس رشتے کی بنیاد انتہائی پائیدار ہے۔ اس کے لئے مرد و عورت دونوں پر ذمہ داریاں اور دونوں کے جائز حقوق متعین کئے ہیں جن سے خاندان کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے اور معاشرہ میں امن وسکون کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ اسلام نے بیوی کو درج ذیل حقوق عطا کیے ہیں:
        (۱)          حسن معاشرت:اس میں ہر وہ برتاؤ شامل ہے جو ایک عورت کے لئے ذہنی سکون کا باعث ہے۔ اسلام شوہر کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کا برتاؤ کرے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: وعاشروھن بالمعروف فان کرھتموھن فعسی ان تکرھوا شیئا ویجعل اللہ فیہ خیرا کثیرا ۔ (ترجمہ) ان کے ساتھ معروف کے مطابق زندگی گزارو۔ اگر تم ان کو ناپسند کرتے ہو تو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرو اور اللہ نے اس میں بڑی بھلائی رکھی ہو۔
        حسن معاشرت کے لئے ضروری ہے کہ بیوی کے احترام انسانیت کو ملحوظ رکھا جائے، اس کے لیے لباس ، رہائش ،کھانے پینے ،علاج و معالجہ میں ، دوستوں اور رشتہ داروں سے تعلقات قائم رکھنے میں وہی پسند کیا جائے جو شوہر اپنے لیے پسند کرے۔ البتہ عورت اگر آزاد خیال ہے اور غیر محرم مردوں سے دوستانہ تعلقات قائم کرنا چاہتی ہے تو اسلام اس کی کسی بھی صورت اجازت نہیں دیتا ہے۔ حسن معاشرت کا مفہوم بڑ اوسیع ہے۔ جلال الدین عمری اپنی کتاب اسلام کا عائلی نظام میں لکھتے ہیں: ”۔۔۔۔بیوی کے ساتھ اس کی معاشرت ’معروف ‘ کے مطابق ہونی چاہیے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے حقوق ٹھیک ٹھیک ادا کیے جائیں اور اس کی جائز اور معقول ضروریات پوری کی جائیں۔ اس کے ساتھ ناروا سلوک نہ کیا جائے، بلکہ پیار اور محبت کا برتاؤ کیا جائے۔ ترش روئی اور سخت کلامی سے اجتناب کیا جائے۔ یہ سب باتیں معروف میں آتی ہیں۔ اس کے خلاف جو رویہ اختیار کیا جائے گا وہ غیر معروف اور منکر ہو گا’’۔اس کا آسان سا مفہوم یہ بھی ہے کہ ان کے ساتھ عرف و عادت یعنی سماج میں حسب استطاعت لوگوں کا اپنی بیوی کا ساتھ معاشرت کے رویہ کے مطابق معاشرت اختیار کی جائے۔
        حسن معاشرت میں یہ بھی داخل ہے کہ بیوی اپنے والدین کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھے۔ ان سے ملنا جلنا باقی رکھے ۔ اس کے لیے شوہر کی جانب سے اسے حق ہے کہ وہ ان فرائض کو بجا لائے جو اولاد پر واجب ہیں۔نیز اپنی ملکیت سے با اختیار طور پراور شوہر کی ملکیت سے اجازت لے کر والدین کی مالی امداد بھی کر سکتی ہے اور اگر والدین محتاج ہوں تو اس کی ہمدردی کے سب سے زیادہ حقدار خود اس کے والدین ہی ہیں۔
        (۲) تر بیت:اسلام ہر مرد پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ جس طرح وہ اپنی بیوی کے مصالح دنیوی کا خیال رکھے اسی طرح اس کے اخروی مصالح کا بھی پورا پورا انتظام کرے۔ اگر اس کی تربیت میں کسی طرح کی کمی رہ گئی ہے تو مرد اس کی تربیت کرے تاکہ وہ دنیا میں ایک اچھی زندگی گزار سکے اور جنت میں اس کی ساتھی اور رفیق بن سکے۔ ساتھ ہی بچوں کی اچھی تربیت کے لیے ضروری ہے کہ عورت مہذب اور تربیت یافتہ ہو تاکہ اپنے بچوں پر اچھے اثرات مرتب کرسکے اور انہیں اچھی زندگی گزارنے کے لیے اس کی بہترین تربیت کرسکے۔
        (۳)         عدل ومساوات:اسلام نے ایک مرد کو چار شادی تک کرنے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ بیویوں کے درمیان عدل ومساوات سے کام لے۔ ہر ایک کے حقوق برابر ادا کرے۔ نفقات اور دیگر ضروریات کی ادائیگی اور تعلق میں کسی قسم کے امتیازی سلوک سے کام نہ لے۔ اگر شوہر ان کے درمیان عدل سے کام نہیں لیتا ہے تو بیوی کو حق ہے کہ وہ اس حق کی پامالی کے خلاف دعوی دائر کرے۔
        (۴) مالی حقوق:   اسلام عورت کو بیوی کی حیثیت سے کئی ذرائع سے مالی حق عطا کرتا ہے۔ اس کا سب سے پہلا مالی حق مہر ہے ۔ جو شادی کے بعد اسے سب سے پہلے حاصل ہوتا ہے۔ مہر کی مقدار متعین نہیں ہے۔ یہ عورت اور اس کے ولی کا اختیار ہے کہ وہ شادی کے لیے جتنے پر رضامند ہو جائیں۔ البتہ اس کی ملکیت ولی کو حاصل نہیں ہوگی۔ نہ شوہر کو یہ حق ہے کہ اس کی اس ملکیت یا کسی اور ملکیت میں دست درازی کرکے اسے بے اختیار کر دے ۔
        اسلام نے عورت کو معاشی تگ و دو سے آزاد رکھا ہے۔ یہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ اس کا نان و نفقہ، رہائش اور دیگر لازمی ضروریات پوری کرے۔ بلکہ مرد کو عورت پر جو ایک درجہ فضیلت ہے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مرد اس جوکھم کو بر داشت کرتا ہے۔
        شوہر کی زندگی میں اسے جہاں مہر نفقہ اور رہائش کی شکل میں مالی حق حاصل ہے اسی طرح اسلام شوہر کی وفات کے بعد بھی اس کی زندگی کو غیر محفوظ صورت حال میں نہیں رکھتا ہے بلکہ شوہر کی چھوڑی ہوئی جائیداد سے اسے ترکہ کی شکل میں شوہر کے لا ولد ہونے کی صورت میں ایک چوتھائی اور اولاد ہونے کی صورت میں آٹھواں حصہ مالی حق عطا کرتا ہے ۔ان کے علاوہ اولاد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ والدین کے نفقہ کو واجبی طور پر ادا کریں۔  
        (۵)         خلع:        اسلام پر اکثر یہ اعتراض عائد ہوتا ہے کہ وہ مردوں کو تو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ جب تک چاہیں عورت کو اپنی زوجیت میں رکھیں اور جب چاہیں اسے طلاق دیدیں ۔ حالانکہ یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ مرد جب چاہے طلاق دیدے ۔ لیکن جس طرح اسلام مرد کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ عورت سے نباہ نہ ہونے کی صورت میں اسے طلاق دیدے ، اسی طرح عورت کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ اگر نباہ کی کوئی صورت نہیں بنتی ہے اور مرد اسے چھوڑنے کے لیے راضی بھی نہیں ہے ، تو وہ عدالت میں دعوی دائر کرکے قاضی کے ذریعہ نکاح کو فسخ کرالے۔
شوہر کے حقوق
        (۱)          اطاعت:اسلام نے عورت کو شوہر کا مطیع و فرمانبردار بننے کا حکم دیا ہے اور اس کی نافرمانی سے روکا ہے۔ نافرمان عورت کے لئے سخت وعید سنائی ہے۔ البتہ اگر شوہر کا حکم شریعت کے احکام سے متصادم ہو تو شریعت کا حکم شوہر کے حکم سے برترسمجھاجائے گا۔ شوہر کا حکم ٹھکرا دیا جائے گا اور شریعت کی پیروی کی جائے گی۔ شوہر کا حق ہے کہ بیوی اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرے۔
        (۲)         قلبی طمانیت اور ذہنی سکون:بیوی کو اللہ نے سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ اس لیے عورت کا یہ فرض ہے کہ وہ مرد کے لیے ایسا ماحول فراہم کرے جس میں اس کو ذہنی سکون اور قلبی طمانیت حاصل ہو۔ شوہر کو ذہنی سکون تب حاصل ہوگا جب بیوی اس کی پسندیدگی وناپسندیدگی کا لحاظ رکھے۔ اس کے غائبانہ میں گھر میں ایسے شخص کو نہ آنے دے جسے وہ ناپسند کرتا ہے ۔ گھر کو اس طرح سے منظم رکھے جیسی اس کی خواہش ہے اور جہاں تک شریعت کی طرف سے حکم امتناعی نہیں ہے لباس و پوشاک اور جسم و چال ڈھال میں زیبائش اختیار کرے تاکہ اس کا شوہر اس کو دیکھے تو خوش ہو جائے۔ اس کے گھر اور املاک کی حفاظت کرے اس میں کسی طرح کی خیانت سے کام نہ لے ۔ البتہ گھر کے نفقہ میں شوہر بخل سے کام لیتا ہو یا گھر کی لازمی اور بنیادی ضرورتیں پوری نہ ہوتی ہوں تو اسی قدر استعمال کرے جتنی ضرورت ہو۔ نیز شوہر کی قلبی طمانیت اور ذہنی سکون کے لیے اس کے والدین کی نگہداشت اور ان کی ضرورت کی تکمیل میں بیوی کو شوہر کا ہر ممکن تعاون کرنا چاہئے۔
        (۳)         بچوں کی پرورش و پرداخت:معاش کی ذمہ داری اسلام نے مردوں پر رکھی ہے۔ عورت کو گھر کی ملکہ اور ذمہ دار بنایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کی پرورش و پرداخت میں شوہر کا تعاون کرے۔ ایام شیر خوارگی میں ان کو دودھ پلا ئے۔ ان کی دیکھ ریکھ کرے۔ بڑے ہوں تو ان کی اچھی تربیت کرے۔ ان کو کھلائے پلائے، صاف صفائی کا خیال رکھے اور پڑھنے لکھنے میں ان کی توجہ مبذول کرائے۔
        (۴)         طلاق :اسلام ازدواجی رشتہ کو گھٹن کی حالت میں باقی نہیں رکھنا چاہتا ہے جس سے انسانی جان خطرے میں پڑ جائے۔ ایسی صورت کے پیدا ہونے اور بناؤ کی کوئی صورت نہ رہنے پر اسلام یہ اجازت دیتا ہے کہ رشتہ ختم کرکے سکون و اطمینان کی زندگی اختیار کر لی جائے اور نئے سرے سے دونوں افراد اپنی زندگی بسالیں۔ اس کے لیے اسلام نے شوہر کو طلاق کا حق عطا کیا ہے۔ لیکن اسے حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ شے شمار کیا ہے۔ اس کا استعمال اسی صورت میں جائز قرار دیا ہے جب بناؤ کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔لیکن اگر کوئی بلا سبب بھی طلاق دے دیتا ہے تو طلاق ہو ہی جائے گی۔ پھر اس کا جو طریقہ بتایا ہے اس میں اس کی گنجائش پیدا کی ہے کہ انسان اگر اس اقدام کے کرنے پر مجبور ہو تو اقدام کرنے کے بعد اور قطعی فیصلہ سے قبل دونوں کو اس ازدواجی زندگی کی قدر کا احساس ہوسکے۔ اس لیے اسلام نے اس گنجائش میں جو وسعت رکھی ہے اور اس کو محدود نہیں کیا جائے تاکہ اگر اس طرح کا ارتکاب کرتا ہے اورسے ازدواجی زندگی کا احساس ہو جائے تو حتی الامکان اس کو باقی رکھ سکے۔
        (۵)         ترکہ میں حصہ:        جس طرح ایک عورت کو شوہر کی وفات کے بعد شوہر کی جائیداد سے مالی حق حاصل ہوتا ہے اسی طرح ایک مرد کو اس کی بیوی کی جائیداد سے اس کی وفات کے بعد بیوی کے لا ولد ہونے کی صورت میں کل مال کا نصف حصہ اور اولاد والی ہونے کی صورت میں ایک چوتھائی مالی حق ملتا ہے۔
زوجین کے باہمی حقوق:  
        وظیفہ زوجیت:    ازدواجی تعلق انسان کی ایک لازمی خواہش ‘‘جنسی خواہش’’ کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ شادی کے بعد ایک عورت کا حق ہے کہ اس کی جنسی خواہش کی تکمیل کی جائے۔ مرد اگراس حق کو ادا کرنے کا اہل نہیں ہے تو اسلام عورت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ اس سے اپنا رشتہ ختم کرالے ۔ کیونکہ اسلام میں عصمت کی پامالی دین کی پامالی ہے۔ اسلام آزادانہ جنسی تسکین کا قائل نہیں ہے۔ کسی مرد کی زوجیت میں رہتے ہوئے کوئی عورت آزادانہ جنسی تعلق نہیں قائم کرسکتی ہے ۔ خواہ اس کا شوہر اس کی تکمیل سے عاجز ہو یا اس کی ادائیگی نہ کرتا ہو۔نہ ہی کوئی مرد کسی عورت سے شادی کیے بغیر جنسی تعلق قائم کرسکتا ہے۔ اسلام نے اس سلسلے میں سخت تاکید ہے۔نبی ﷺ نے فرمایا :” ان لربک علیک حقا، ولزوجک علیک حقا ولاھلک علیک حقا فاعط کل ذی حق حقہ“ (ترجمہ) بے شک تیرے رب کا تجھ پر حق ہے، تیرے زوج کا تجھ پر حق ہے اور تیرے اہل کا تجھ پر حق ہے پس ہر شخص کو اس کا حق ادا کرو۔
         جس طرح بیوی کا یہ حق ہے کہ شوہر اس کی جنسی خواہش کی تسکین کرے اسی طرح شوہر کا بھی یہ حق ہے کہ بیوی اس کی جنسی خواہش کی تسکین کے لئے تیار رہے۔شوہر کی اس خواہش کو ٹھکرا دینا یا اس سے انکار کرنا اسلام میں ممنوع ہے کیونکہ ایسی صورت میں ایک انسان فتنہ میں مبتلا ہوسکتا ہے اور اس کی عصمت پامال ہوسکتی ہے اور اسلام کے نزدیک عصمت کی اہمیت انسانی جان کے برابر ہے۔ شادی شدہ شخص کے ذریعہ اس کی پامالی کی سزا سنگساری یعنی موت ہے۔
        البتہ کسی وجہ سے بیوی اگر ذہنی طور پراس حق کی ادائیگی کے لیے آمادہ نہیں ہوتی ہو تو جبر و تشدد کے بجائے ان وجوہات کو ختم کیا جائے جن کی وجہ وہ آمادہ نہیں ہو رہی ہے۔ مثلاً اگر بیماری کی وجہ سے ایسا ہے تو اس کا علاج کرایا جائے یا اگر ذہنی الجھن یا کسی دباؤ کا شکار ہے تو ان کو ختم کیا جائے۔ اسی طرح بیوی اگر بوڑھی ہو چکی ہے اور درازی عمر کی وجہ سے یہ حق ادا نہیں کرسکتی ہے یا اس کی خواہشات سرد پڑ چکی ہیں تو اس پر تشدد اختیار کرنے کے بجائے اس کو زوجیت میں رکھتے ہوئے دوسری شادی کر لی جائے یا اس لائق ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرکے اس کا مناسب علاج کیا جائے۔ لیکن صرف اس وجہ سے کہ وہ اب اس لائق نہیں رہی اسے طلاق دے دینا بھی اسلامی روح کے منافی ہے۔
        بچے کی پیدائش :     جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ شادی جنسی تسکین اور افزائش نسل کا جائز ذریعہ ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے جنسی خواہش ودیعت ہی اس لیے کی ہے کہ دنیا میں انسانی نسل کی بقا اور ارتقا کا عمل جاری رہے۔ اس کا ایک ہی جائز ذریعہ شادی کو بنا یا گیا ہے۔ پھر یہ کہ انسان کے اندر اولاد کی فطری خواہش پائی جاتی ہے۔ اس لیے بچے کی پیدائش بیوی اور شوہر دونوں کا حق ہے۔ دونوں میں سے کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ اس خواہش کا انکار کرے۔ خواہ اولاد کی تعداد کتنی ہی کیوں نہ ہو۔ اولاد اللہ کی نعمتوں میں ایک ایسی نعمت ہے جو انسان کی نسل کو اس کے بعد باقی رکھتی ہے۔ اس طرح بچے کی پیدائش کی خواہش بھی زوجین کا باہمی حق ہے۔ جدید تعلیم ، سرکاری اشتہارات اور بنیادی وجوہات کو غلط رنگ دے کر بڑھتی ہوئی عالمی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل کی رپورٹوں کی وجہ سے مسلم گھرانوں میں بھی ایسے خیالات بار پا گئے ہیں کہ چھوٹا گھرانا سکھی اور خوشحال ہوتا ہے۔ ظاہر ی طور پر چھوٹے گھرانوں میں مسائل کم پیدا ہوتے ضرور نظر آتے ہیں۔ اس سے وقتی طور پر ایسے خیالات میں قدرے صداقت بھی نظر آنے لگتی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بھی اسلامی تعلیمات کے ساتھ زندگی گزارنے اور اس کے مسائل سے فرار کی ایک غلط راہ ہے۔
        لیکن بچوں کی پیدائش کے لیے کسی غیر فطری طریقہ کو بھی اختیار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ مثلا مرد اگر نا اہل ہو تو کسی دوسرے مرد کا مادہ منویہ مستعار لے کر بیوی کی رحم میں طبی طریقے سے ڈال کر بچے کی افزائش کرنا ، اسی طرح عورت اگر بانجھ ہو تو مرد کا اپنے مادہ منویہ کو کسی دوسری عورت کے رحم میں ڈال کر بچے کی افزائش کرنا،اسلام میں بالکل حرام ہے۔ اسلام حرمت نسب کا خاص خیال رکھتا ہے اور ایسے دروازوں کو بند رکھنا چاہتا ہے جو فساد کا باعث ہیں۔ اس طرح سے بچوں کی پیدائش سے جہاں نسب میں اختلاط پیدا ہوگا وہیں ترکہ کی تقسیم اور اولاد کی نسبت میں فساد کا باعث ہوگا۔ اور اس طرح سے پیدا ہونے والا بچہ ناجائز سمجھا جائے گا۔
٭٭٭
یہ مضمون دارا لعلوم احمد یہ سلفیہ دربھنگہ بہار میں منعقد دو روزہ قومی سیمینار اسلام اور حقوق کے لئے لکھا گیا اور سیمینار میں پیش کیا گیا
مضمون کا یہ تیسرا حصہ ہے 



Rights of Parents in Islam


(۲)
والدین کے حقوق
                                                                                                                                                                                       
        خاندانی رشتوں میں سب سے اہم رشتہ والدین کا ہے اور یہ اللہ کے بڑے احسانات میں سے ایک اہم احسان ہے ۔ کیونکہ یہ انسان کے دنیا میں وجود پذیر ہونے کا ذریعہ ہیں۔ قران اور احادیث میں مختلف پیرائے میں ان کے حقوق بیان کئے گئے ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کے حقوق کو اپنی عبادت کے ساتھ بڑی تفصیل اور تاکید کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے:: ”وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا اما یبلغن عند ک الکبر احدھما او کلاھما فلا تقل لھما اف ولا تنھر ھما وقل لھما قولا کریماواخفض لھما جناح الذل من الرحمة وقل رب الرحمھا کمار ربینی صغیرا“(ترجمہ): اور تیرے پروردگار نے حکم دے رکھا ہے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو اگر ان میں سے کوئی ایک یا دونوں تمہاری موجودگی میں بڑھاپے کو پہنچیں تو ان کو اف بھی نہ کہو اور نہ ان کو جھڑکو ، اور ان کو عزت سے مخاطب کیا کرو اور محبت سے ان کے آگے جھک جایا کرو اور ان کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کرو اے میرے پروردگار ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔
         اس آیت کی روشنی میں والدین کے کئی حقوق متعین ہوتے ہیں:
        (۱) حسن سلوک:
        ان میں سب سے پہلا حق یہ ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔حسن سلوک کابڑا وسیع مفہوم ہے ۔ اس میں ہر وہ بھلائی اور نفع داخل ہے جو انسان کی قلبی طمانیت ، ذہنی سکون اورآسودہ زندگی گزارنے کے لیے لازمی ہے۔مثلا:
                        (الف) محبت وموانست:محبت ایک ایسا جذبہ ہے جس کے بغیر کسی بھلائی کا امکان نہیں ہے۔ ایک انسان کا دوسرے انسان سے تعلق اسی وقت تک قائم رہ سکتا ہے جب تک ان میں باہم محبت کا جذبہ موجزن ہو۔ یہ جذبہ جتنا قوی ہوگا تعلقات اتنے ہی مضبوط ہوں گے اور انسان اسی قدر ایک دوسرے خیال کا رکھے گا۔ حسن سلوک میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ ان کے ساتھ حد درجہ محبت رکھی جائے۔اسی طرح انسان کی بنیادی خصوصیت موانست ہے۔ زندگی کے ہر دور میں والدین کے ساتھ موانست کا برتاؤ ہونا چاہیے تاکہ انہیں تنہائی ، بیزاری اور اکیلے پن کا احساس نہ ہو۔جبکہ دور حاضر میں بزرگوں کے ساتھ یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ان کے ساتھ بےزاری اور ان میں تنہائی اور اکیلے پن کا احساس عام مسئلہ بن گیا ہے۔ اب تو نوبت یہ آ پہنچی ہے کہ والدین کے لیے جائے قرار Old HomeیعنیAncestor's House ہے۔ جہاں خدمت اور ضرورت بر آری کے خواہ جتنے سامان موجود ہوں انسان کو ملنے والی گھر کی انسیت ، محبت اور ہمدردانہ جذبہ مفقود ہوتا ہے۔
        والدین کے ساتھ اس رویہ کے پیچھے شاید صارفی سوچ بھی ہو کہ وہ اب کسی مصرف کے نہیں رہے نہ ہی ان سے مستقبل میں کسی فائدے کا امکان ہے۔لیکن یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ انسان تما م جانداروں میں سب سے زیادہ باہمی امداد کا محتاج ہے۔ ایام طفولیت میں ایک خاص مدت تک والدین کی توجہ اور دیکھ بھال کے بغیر اس کا نشو و نما ناممکن ہے۔ اسی طرح ہر شخص عمر کی ایک خاص مدت طے کر لینے کے بعد دوسرے انسانوں کی توجہ اور دیکھ بھال کا محتاج ہو جاتا ہے۔باہمی یگانگت ، محبت وانسیت اور ہمدردی وغیرہ تو ایسے جذبات ہیں جن کی ہر وقت ہر انسان کو ضرورت ہے۔اگر کوئی شخص ان کو اپنی زندگی میں ناپید پائے تو اس پر جنون طاری ہو جائے۔ گرچہ ترقی کے اس دور میں غیر انسانی سلوک کے خاتمہ کا دعوی کیا جاتا ہے لیکن اس کو کیا کہا جاسکتا ہے کہ عمر کے اس مرحلہ میں جب انسان کو دوسرے کی خدمت کا محتاج ہو Old Homeمیں رکھا جائے۔ یہ رویہ بھی دور حاضر کے اعلی انسانی سلوک کے دعووں پر سوالیہ نشان ہے۔ اسلام والدین کی خبر گیری اور حد درجہ موانست کی تعلیم دے کر والدین کے ساتھ اس رویہ سے روکتا ہے۔
                        (ب) توقیر وتعظیم:دنیا میں انسان کی عزت وتکریم کی اہمیت ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ تعلقا ت کی نااستواری میں عزت وتکریم کا فقدان بنیادی عامل ہوتا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی علامت یہ ہے کہ ان کی عزت وتکریم کی جائے۔ ان سے نرم لہجہ میں بات کی جائے۔ انہیں جھڑکا اور ڈانٹا نہ جائے۔ان سے جھگڑا اور لڑائی نہ کیا جائے۔ انہیں گالی نہ دی جائے۔ والدین کوگالی دینے کو اسلام سنگین کبیرہ گناہوں میں شمار کرتا ہے۔ گالی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک شخص دوسرے کو والدین کو گالی دے اور اس رد عمل میں اس کے والدین کو گالی دی جائے ۔ عام طور پر جب والدین سن رسیدہ ہو جاتے ہیں تو ان میں فطرتا جھنجھلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے ۔ ایسے وقت میں اولادکو ضبط سے کام لینا چاہیے اور ان کی توقیر وتعظیم برقرار رہنی چاہیے۔
        والدین کی پسندیدگی وناپسندیدگی کو ملحوظ رکھنا بھی توقیر وتعظیم میں شامل ہے بلکہ عین مطلوب ہے۔ اس سے ان کو ذہنی سکون حاصل ہوتا ہے اور اس کا فقدان ان کے لیے جھنجھلاہٹ کا سبب بنتا ہے۔
        اگر ایسی صورت حال پیدا ہوجائے جس میں والدین سے اختلاف رائے کی گنجائش ہو تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنی رائے کو آہستہ روی کے ساتھ بڑے احسن طریقے سے ان کے گوش گزار کی جائے اور کسی طرح کی زبردستی کا رویہ نہ اپنا یا جائے۔ ان کے ساتھ عاجزی اور درماندگی کے ساتھ پیش آیا جائے۔
        (ج)حاجتوں کی تکمیل :والدین کے ساتھ حسن سلوک میں یہ بھی داخل ہے کہ ان کی ضروریات کی تکمیل کی جائے۔ انسان جب توانا اور تندرست ہوتا ہے تو اپنی ضروریات کی تکمیل اپنے دست وبازو سے کرلیتا ہے لیکن وہ جب بوڑھا یا کمانے سے عاجز ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں اسلام ایک انسان کی زندگی کو Unsecuredنہیں چھوڑتا ہے بلکہ یہ اس کے وارثین کا فرض ہے کہ اس کی تمام تر حاجتوں کی تکمیل کریں۔ والدین اس کے سب زیادہ حقدار ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: یسئلونک ماذا ینفقون قل ما انفقتم من خیر فللوالدین والاقربین الآیة ۔ اگر بچوں میں استطاعت ہوتو والدین کو ایسے مواقع بھی فراہم کئے جانے چاہئیں کہ وہ اگر مالی استطاعت نہیں رکھتے ہوں تب بھی صدقات وعطیات دے سکیں۔ والدین کے اخراجات کی تکمیل اپنے اصل مال سے ہونی چاہئے۔ والدین پر زکوة اور صدقات کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی ہے ۔اگر بچے یا ان کے دیگر وارثین اس کی استطاعت نہ رکھتے ہوں یا وارثین موجود نہ ہوں توایسی صورت میں اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی بنیادی ضروریات کی تکمیل کرے ۔ اگر ریاست کا وجود نہیں ہے تو یہ ذمہ داری اسلامی سماج کی ہے۔ اسلام اس کے لئے زکوة اور سماجی نظام کا نظریہ پیش کرتا ہے۔
        (د)والدین کے اعزہ واقارب کے ساتھ حسن سلوک:انسان جب تک اس دنیا میں رہتا ہے اس کے اپنے تعلقات ہوتے ہیں وہ اپنی زندگی میں ان کو باقی رکھنا چاہتا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک میں شامل ہے کہ اولاد انہیں ایسا ماحول فراہم کرے جس میں وہ اپنے دوستانہ تعلقات اور رشتہ داریوں کو قائم اور مضبوط رکھ سکیں۔ اس کے علاوہ جب وہ انتقال کر جائیں تو ان کے ان اعزہ کے ساتھ بساط بھر اچھے تعلقات رکھے، ان کی عزت کرے اور جہاں تک ممکن ہو حسن سلوک کا معاملہ کرے۔ کم از کم ان سے تعلقات اور رشتہ داریوں کو منقطع نہ کیا جائے۔
        اگر والدین کے والدین زندہ ہوں اور والدین کا انتقال ہوجائے تو ان کی خبر گیری بھی اسی طرح کی جانے چاہیے جس طرح والدین اپنے والدین کی خبر گیری کرتے اور ان کا خیال رکھتے ۔
        (۲) اطاعت و فرمانبرداری:
        والدین کا دوسرا حق یہ ہے کہ ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے: واخفض لھما جناح الذل من الرحمة اس ٹکڑے میں جہاں عاجزی وانکساری کی ترغیب ہے وہیں جذبہ اطاعت کے ساتھ پیش آنے کا اشارہ بھی ملتا ہے۔ احادیث میں والدین کی اطاعت کی تاکید آئی ہے اور اسے جہاد جیسی افضل ترین عبادت پر فوقیت حاصل ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعور ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا : ای العمل احب الی اللہ تو آپ نے فرمایا : الصلوة علی وقتھا قال ثم ای قال ثم برالوالدین قال ثم ای قال الجہاد فی سبیل اللہ۔  والدین کی اطاعت کرنے والوں کے لیے مستجاب الدعوة ہونے کی بشارت بھی دی گئی ہے۔ اس سلسلہ میں ایک طویل حدیث ہے جس میں ان تین اشخاص کے واقعات کا ذکر ہے جو ایک غار میں چھپے ہوئے تھے اور اس کے منہ پر ایک بھاری پتھر آ گرا ۔ ایسے وقت میں ان لوگوں نے اللہ کے سامنے اپنے اپنے اچھے اعمال پیش کرکے اس پتھر کے ہٹ جانے کی دعا ئیں کیں۔ اس میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو والدین کا فرمانبردار تھا۔اس نے والدین کے ساتھ اپنے جذبہ اطاعت کا واسطہ دے کر دعا کی۔ والدین کی نافرمانی کو کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا حرم علیکم عقوق الامھات بلکہ شرک کی سنگینی کے بعد والدین کی نافرمانی سنگین گناہ ہے۔ البتہ والدین کے ایسے حکم کی اطاعت نہیں کی جاسکتی جس میں کسی گناہ کا عمل ہو۔
        (۳) دعا:
        والدین کا یہ بھی حق ہے کہ ان کے حق میں دعا کی جائے۔ اگر وہ زندہ ہوں تو ان پر رحم کی دعا کی جائے جیسا کہ مذکورہ آیت میں اس کا ذکر ہے۔ اگر وہ غیر مسلم ہوں تو ان کے حق میں جہاں رحم کی دعا کی جائے وہیں ان کے رشد وہدایت کی دعا بھی کی جانی چاہیے۔ اگر وہ مر گئے ہوں تو ان کے حق میں دعائے مغفرت کرنا چاہیے جیساکہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مرنے کے بعد انسان کے تمام اعمال منقطع ہوجاتے ہیں سوائے تین عملوں کے ۔ ان میں ایک عمل نیک اولاد ہے جو والدین کے لیے دعائے مغفرت کرے۔ البتہ اگر وہ غیر مسلم یا مشرک مرے ہوں تو ان کے حق میں دعائے مغفرت درست نہیں ہے۔
        (۴)مالی حقوق:
        اسلام والدین کو مالی حقوق دو طرح سے عطا کرتا ہے۔ ایک یہ کہ اولاد کا فرض ہے کہ وہ ان کی تمام تر حاجتوں کی تکمیل کرے۔ دوسری صورت اولاد کے ترکہ میں ان کی حصہ داری ہے۔ اگر کسی شخص کا بچہ اس کی زندگی میں فوت ہوجاتا ہے اور وہ اگر صاحب مال ہوتو اسلام ان کو بچے کی ملکیت سے صاحب اولاد کی صورت میں چھٹا حصہ کا حق دار بناتا ہے اور بے اولاد ہونے کی صورت میں ماں کو ایک تہائی مال حاصل ہوتا ہے اور بقیہ سارے مال کا وارث باپ ہوتا ہے ۔ بعض صورتوں میں باپ ذی الفرض ہونے کے ساتھ عصبہ ہوکر بچے ہوئے مال کا بھی حق دار ہوجاتا ہے۔
        البتہ والدین کے درمیان ماں کو اسلام نے والد سے تین درجہ فضیلت دی ہے۔
٭٭٭
یہ مضمون دارا لعلوم احمد یہ سلفیہ دربھنگہ بہار میں منعقد دو روزہ قومی سیمینار اسلام اور حقوق کے لئے لکھا گیا اور سیمینار میں پیش کیا گیا
مضمون کا یہ دوسرا  حصہ ہے 

Concept of Right in Islam and Family System


(۱)
اسلام میں حقوق کا تصور اور خاندانی نظام
                                                                                                                                                                       
        اسلام ایک دین فطرت اور حقیقی نظام حیات ہے جس نے انسانی زندگی کے تمام تر انسلاکات کا حقیقی اور ارضی زندگی سے ربط باقی رکھنے اور مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ایسے حقوق متعین کیے ہیں جو معاشرہ کی اجتماعیت و یگانگت اور استحکام امن کی بنیاد ہیں اور جبر واستحصال کا خاتمہ کرنے کے لیے ہر شخص کے اختیارات کی حدیں مقرر کردی ہیں۔ دیگر مذاہب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے عقائد و عبادات کے باب میں تو بے شمار ہدایات دی اور ان کے طریقے ایجاد کیے ہیں ۔ لیکن زندگی کے دیگر مسائل کو بتایا ہی نہیں ہے یا انتہائی محدود اور مبہم طور پر۔ اس کے برعکس مذہب اسلام نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا تصور دیتے ہوئے عقائد و عبادات کے باب میں جتنی واضح تعلیمات پیش کی ہیں اسی طرح زندگی کے دیگر مسائل اور نظام کو بھی پوری وضاحت اور قطعیت کے ساتھ اور مصالح انسانیت کے مطابق بیان کیا ہے۔ خواہ وہ سماجی و اجتماعی نظام ہو یا سیاسی ودستوری یا آئینی ، اخلاقی نظام ہو کہ تعلیمی و معاشی نظام حتی کہ زرعی نظام تک کے بارے میں اس طرح کی واضح ہدایات دی ہیں جو دوسرے مذاہب یا انسانی طرز حکومت میں موجود نہیں ہیں۔ ان نظاموں کے بنیادی تصورات اور ان کے متعلقہ افراد کے اختیارات و فرائض اور حقوق کو بھی واضح طور پر متعین کردیا ہے اور ان کی ادائیگی پر ہر شخص کو مکلف کیا ہے۔ پھر یہ کہ یہ حقوق و فرائض ہر شخص کی حیثیت اور بساط کے مطابق ہیں۔اسلام کا کمال اور اس کی جامعیت یہ ہے کہ یہ سب ایسے وقت میں کر دکھایا جب چار دانگ عالم کا کوئی گوشہ حقوق اور نظام کے تصور سے بھی واقف نہیں تھا۔
        حقوق العباد کے بارے میں جو اسلامی تعلیمات ہیں اور جس طرح سے ان کی ادائیگی کی تلقین کی گئی ہے اس سے حقوق العباد کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ حقوق العباد کی ادائیگی کو بھی نہ صرف عبادت قرار دیا گیا ہے بلکہ ان میں بعض حقوق کی پامالی کو حقوق اللہ کی پامالی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرما یا: بروز قیامت اللہ تعالی بندے سے دریافت کرے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھلایا نہیں۔ میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہیں کی وغیرہ۔ ظاہر ہے بندہ حیرت کا اظہار کرے گا کہ تو اور بھوکا، تو اور بیمار ؟ اس پر اللہ تعالی کہے گا میرا فلاں بندہ بھوکا تھا ،فلاں بیمار تھا ، اگر تم اس کی عیادت کرتے تو تم مجھے وہاں پاتے۔ پھر حقوق کی پامالی کی تلافی اس شخص کی رضا پر منحصر ہے جس کا حق سلب ہوا ہے۔
        اسلامی تعلیمات میں حقوق کے تصور کو سمجھنے کے لیے اسلام نے عبادات ، معاشرت اور معیشت کے جو نظام پیش کیے ہیں انہیں ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اسلامی نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مکمل، باہم مربوط اور اسلام کے بنیادی تصور سے بالکل ہم آہنگ ہے جس میں آخرت کی جوابدہی کا تصور لازمی عنصر ہے۔
         تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں جو مختلف غیر اسلامی نظام رائج رہے ہیں انسانی ارتقا کے مختلف مراحل اور مدارج پر عدم تکمیلیت کی وجہ سے اپنی معنویت کھوتے جا رہے ہیں اور وقت کا ساتھ نہیں دینے کی وجہ سے ان کی فرسودگی ظاہر ہوتی جارہی ہے۔
        ان غیر اسلامی نظاموں کی ناکامی کے دو بنیادی اسباب ہیں:
        1             اگر وہ مذہبی نوعیت کے ہیں تو زندگی کا مجموعی طور پر احاطہ نہیں کرتے ہیں یا لوگوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس کی تعلیمات میں تحریفیں کرلیں ہیں۔یا وہ انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں جن کی تشکیل کے وقت کبھی ان کے سامنے جس قدر مصالح ہوتے ہیں مفاسد نہیں ہوتے، کبھی مفاسد کے بالمقابل مصالح نگاہ سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور کبھی مصالح اور مفاسد کی حقیقت کے فہم و ادراک میں التباس پیدا ہو جاتا ہے۔ ان وجوہ سے جن چیزوں کا تعلق مصالح سے ہے ان کو مفاسد میں شمار کرلیا جاتا ہے اور مفاسد کو مصالح میں ۔ قرآن نے کئی مقامات پر ایسی فکر کی تردید کی ہے۔ مثلاً: ”ولکم فی القصاص حیاة یا اولی الالباب “ ( ترجمہ): اے صاحبان فہم وفراست قصاص میں (جس کو تم موت سے تعبیر کرتے ہو)تمہارے لیے عین زندگی ہے۔اور کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم و عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیرلکم وعسی ان تحبوا شیئا وھو شر لکم(ترجمہ) تم پر جہاد فرض کیا گیا گرچہ وہ تمہیں  ناگوار گزرے۔ ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بھلی ہو اور کسی چیز کو پسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اسی طرح کی کج فہمیوں  کی وجہ سے حقوق کا مناسب تعین بھی نہیں ہو پاتا ہے اور نہ یہ انسان کے بس میں ہے کہ وہ تمام حقوق کی وضاحت کلی طور پر کر دے جن میں کسی فساد کا امکان باقی نہ رہے۔ مزید یہ کہ دعوی سے خارج حقوق یا اخلاقی حقوق تک ان کی رسائی نہیں ہو پاتی ہے اور اگر ہو بھی جائے تو اس لیے بے معنی ہیں کہ ان کا نفاذ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ پھر یہ کہ ان نظاموں کو بناتا کوئی اور ہے چلاتا کوئی اور۔ نگرانی کوئی اور کرتا ہے اور محاسبہ کوئی اور نیز عقوبت وسزا کی ذمہ داری کسی اور پر ہے۔ ان سے پورے نظام کا توازن بگڑ جاتا ہے اور ان کے مفاسد اس وقت سامنے آتے ہیں جب یہ نظام سماج میں رائج ہو چکے ہوتے ہیں۔ تب اس میں تبدیلی اگر نا ممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہوتی ہے۔ اس پر مستزاد خود ترمیم اور تبدیلی کی گنجائش ہے جو نئے فتنوں کو جگاتی ہے اور یہ سلسلہ دراز ہوتا جاتا ہے۔
        2.            ان نظاموں میں انسانوں کے فرائض اور اختیارات کی نگرانی اور محاسبہ کا نظم بھی انتہائی محدود ہے ۔ پس جہاں وہ نگراں یا محاسب کی نگاہوں سے بچ سکتے ہیں ، بچ نکلتے ہیں اور بعد الموت جوابدہی کا کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ ان کے محاسب یا نگراں ظاہر اور اعلانیہ جرائم یا کوتا ہی کا ہی پتہ لگا سکتے ہیں۔ باطن یا پس پردہ کوتاہی یا جرائم پر ان کو قابو نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب محاسب اتنی محدود قوت کا مالک ہو تو جب تک دعوی دائر نہیں کیا جائے کسی ٹھوس اقدام کا امکان نہیں ہے اور نہ بعد الموت جوابدہی کا تصور ہے جو لوگوں کو اپنے فرائض پر بالکلیہ آمادہ کرسکے۔ اب اگر کوئی شخص جبر واستحصال کا شکار ہو کر اپنے حقوق سے محروم ہو جائے تو ان کی ادائیگی کی صورت باقی نہیں رہتی ہے اور اخلاقی حقوق کی پامالی کے خلاف تو کوئی دعوی دائر ہو ہی نہیں ہو سکتا ہے۔
        جب کہ اسلامی تعلیمات کا یہ معجزہ ہی ہے کہ وقت کے ساتھ اس کے مختلف نظاموں کی معنویت نہ صرف برقرار ہے بلکہ ان کی اہمیت میں روز افزوں اضافہ ہی ہے اور ہمارا یقین ہے کہ موجودہ نظاموں کی ٹھوکریں کھانے کے بعد انسانوں کو اسلامی نظام زندگی کی آغوش راحت ہی میں حقیقی امن وسکون ملے گا۔ کیونکہ یہ نظام حاکم مطلق کا بنایا ہوا ہے جو انسانوں کے تمام مصالح ومفاسد سے آگاہ ہے اور اس نظام کا تصور یہ ہے کہ حاکم اعلی خود ہی نگران اعلی، محاسب اور نگہبان بھی ہے۔ چونکہ اس کا علم پورے کائنات کی وسعت کا احاطہ کرتا ہے اس لیے اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ بھی نہیں ہے۔ وہ انسانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر کئے گئے جرائم اور کوتاہیوں کا بھی علم رکھتا ہے اور وہ علیم بذات الصدور ہے اس لیے دلوں میں پوشیدہ حالات سے بھی آگاہ ہے۔ وہی قیامت کے دن ان کا محاسبہ کرکے جزا وسزا متعین کرے گا۔
        زندگی کے ان نظاموں میں اجتماعی یا سماجی نظام کی ایک بنیادی اکائی خاندانی نظام ہے۔ جس پر معاشرہ کی اجتماعیت کی بنیاد ہے۔ یہ نظام انسانیت اور حیوان کے درمیان بنیادی فرق قائم کرتا ہے۔ حیوان کا نہ کوئی خاندان ہوتا ہے اور نہ ان میں حقوق اور ذمہ داریوں کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کے بالمقابل انسانیت کا اپنا خاندانی تعلق ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر ان میں باہمی تعاون کا جذبہ اور حقوق و ذمہ داریوں کا تصور ابھرتا ہے۔ دنیائے انسانیت پر اسلام کے بے شمار احسانات میں ایک خاندانی نظام بھی ہے۔ اس نے” خاندان کا مفصل نظام پیش کیا۔ مردو زن کا رشتہ عدل و انصاف کی بنیاد پر استوار کیا، افراد خاندان کے حقوق و واجبات کا ٹھیک ٹھیک تعین کیا اور ان کے درمیان ہم دردی، محبت اور حسن سلوک کا ماحول پیدا کیا۔ “ (اسلام کا عائلی نظام) چنانچہ قرآن مجید اور احادیث میں کہیں قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی ، کہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اطاعت و فرمانبرداری، کہیں بال بچوں اور ماتحتوں کے سلسلے میں تاکید تو کہیں بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کے احکامات کے ذریعہ خاندان کے حقوق کی ادائیگی پر ہر مسلمان مرد و عورت کو مامور کیا گیا ہے اور یہ تاکید کی گئی ہے کلکم راع  و کلکم مسؤل عن رعیتہ تم میں کا ہر شخص نگہبان ہے اور اپنے ماتحت کے سلسلہ میں جوابدہ ہے۔
                        ” خاندان سے مراد ازدواجی رشتوں میں منسلک زن و شوہر اور ان کی اولاد کا ایک گروہ اور ان کے قریبی رشتہ دار ہیں جو ایک ساتھ رہتے ہیں اور ان کی زندگی کے امور میں آپسی مشاورت اور فیصلوں کے پابند ہوتے ہیں۔“(جامع اردو انسائیکلو پیڈیا)
حقوق:          یہ عربی زبان کے لفظ حق کی جمع ہے اور باطل کی ضد ہے جس کا معنی صحیح اور ثابت ہونا ہے اور اصطلاح میں وہ ثابت شدہ امر جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہےیعنی”الثابت الذی لا یسوغ انکارہ ‘(التعریفات للجرجانی)اس میں ایسے تمام واجبات اور استحقاقات داخل ہیں جو کسی انسان کو اپنے تعلق اور واسطہ کی بنیاد پرلازمی طور پر حاصل ہوتے ہیں۔یہ متمدن سماج کی بنیادی خصوصیت ہے۔ حقوق در اصل ان تمام منافع کا حصول ہے جو ایک انسان کے لیے مصالح دنیوی اور اخروی کی خاطر لازمی ہیں۔جب کسی انسان کو حقوق حاصل نہیں ہوتے ہیں تو اسے اپنی زندگی غیر محفوظ محسوس ہوتی ہے اور آزادی کے ساتھ جینے اور آگے بڑھنے کے لیے جو مواقع چاہئیں نہیں مل پاتے ہیں ۔ بعض اوقات جبرواستحصال کا شکار ہونا پڑتا ہے۔” لاسکی کے لفظوں میں :حقوق سماجی زندگی کی وہ لازمی شرائط ہیں جن کے بغیر کوئی فرد عام طور پر اپنی شخصیت کی تکمیل نہیں کرسکتا ہے۔“ (جامع اردو انسائیکلو پیڈیاج۳) یہ حقوق کبھی ریاست تو کبھی متعلقہ ادارہ یا افراد کی جانب سے حاصل ہوتے ہیں اور ریاست اس کی محافظت میں معاون ہوتی ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ حقوق وہ خارجی مراعات یا استحقاق ، سازگار ماحول اور مسرت آگیں داخلی احساس کا حصول ہے جو فرد کے ایمان کی بقا اور سلامتی ،زندگی کے تحفظ کا احساس، فطری نمو ، شخصیت کی تکمیل اور اظہار کے لیے لازمی ہیں۔
        موجودہ سیاسی نظام حکومت میں حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے ریاست کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ بلاشبہ اسلام نے جو حقوق متعین کئے ہیں انہیں یقینی بنانے کے لیے ریاست کی سرپرستی اور تعاون کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ صرف مالی اور چند اخلاقی حقوق کی حد تک ہی محدود ہے۔ بعض اخلاقی حقوق ایسے ہیں جو ریاست کی سرپرستی کے باوجود کوتاہی اور پامالی کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام اپنے متبعین کو آخرت کی جوابدہی کا تصور دے کر ایسے حقوق کا بھی پاسدار بناتا ہے ۔جب کہ انہی اخلاقی حقوق میں بعض ایسے ہیں جن کی پامالی کا سد باب صرف اسلامی ریاست ( اسلامی ریاست سے مراد ایسی ریاست ہے جو اسلامی قوانین کی پاسداری کرے اور اس کی بنیاد اسلامی سیاسی قانون پر استوار ہو اور جب تک ایسی کوئی حکومت شریعت کے اصولوں کا انکار یا اس کی مخالفت نہ کرے اسے غیر اسلامی حکومت نہیں کہا جاسکتا ہے) یا شرعی قوانین کے تحت ہی کیا جاسکتا ہے اور کوئی غیر اسلامی طرز حکومت اس ضمن میں ٹھوس اقدام کرنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسائل کے مقدمات سالوں غیر اسلامی عدالتوں میں چلتے ہیں اور ان کا کوئی حل نہیں نکلتا۔ فریقین تھک کر بیٹھ جاتے ہیں یا مصالحت کر لیتے ہیں یا ان میں کوئی ایک فیصلہ میں جانب داری کی شکایت کرتا ہے۔ جب کہ انہی مسائل کا نہایت واضح اور آسان حل اسلام میں موجود ہے۔
        اسلام میں خاندانی نظام کو سمجھنے کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ وہ حقوق جو غیر اسلامی نظام نے تشکیل دیئے ہیں انسانوں کے محدود تجربات اور ذہنی ارتقا پر مبنی ہیں جس کی مقبولیت میں سیا سی دبدبہ کو بھی دخل حاصل ہے۔ یہ ایسے انسانوں کے تشکیل کردہ ہیں جو اپنا مخصوص مذہبی یا لا دینی پس منظر رکھتے ہیں۔ ان میں بیشتر دنیا کو بے مقصد اور خود کار وجود تسلیم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسان کے افکار، تجربات اور ارتقا پر مبنی ہوتے ہیں اور دنیا کے سلسلہ میں ان کے جو بنیادی نظریے ہوتے ہیں ان سے متاثر ہوتے ہیں ۔ ایسی صورت میں حقوق کے تعین میں بھی یہ عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ بسا اوقات یہ اپنے بلند بانگ دعووں اور ظاہری چمک دمک یا سیاسی دبدبہ کی وجہ سے قبول عام کا درجہ پا لیتے ہیں ۔انسانی تجربات میں خام کاری اور مخصوص حد تک ارتقا کی وجہ سے ذہن کی رسائی محدود ہوتی ہے۔ جب انسانی ارتقا کی اگلی منزل آتی ہے، یا سیاسی دبدبہ کمزور پڑجاتا ہے اور تجربات سے اس کے مفاسد سامنے آتے رہتے ہیں تو رفتہ رفتہ وہ نظام فرسودہ ہوتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مخصوص عہد کے گزر جانے کے بعد بہت سے تصورات فرسودہ ہو گئے ہیں۔ آج بھی جو تصورات رائج ہیں اگلے وقتوں میں عدم تکمیل ، تجربات کی خام کاری اور مفاسد کے امکانات کی وجہ سے فرسودہ ہوجائیں گے۔ اس کے برخلاف اسلام نے جو حقوق دیئے ہیں وہ آفاقی ،مکمل ، جامع اور مفاسد سے پاک ہیں۔یہ اور بات ہے کہ انسان اپنے ذہن کی محدود پرواز کی وجہ سے ان کے مصالح سے آگاہ نہ ہوسکے ۔
        اسلامی خاندانی نظام میں حقوق کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اسلام موجودہ سماجی اصطلاح میں پدرسری نظریہ کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کی نوعیت وہ نہیں ہے جو غیر اسلامی نظاموں میں رہی ہے۔ اسلام میں مرد کی حیثیت گھر کے نگہبان اور رئیس کی سی ہے۔ اسے عورتوں پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔ معاش کی تمام تر ذمہ داری مرد وں ہی پر ہے۔ عورت اس فریضہ سے آزاد ہے۔ جب کہ عورت کی حیثیت ملازمہ یا نوکرانی کی نہیں بلکہ اپنے حدود میں رہتے ہوئے با اختیار ملکہ کی سی ہے۔ اپنی تمام تر حاجتوں (کھانا ، کپڑا، مکان ،علاج اور دیگر لازمی خواہشات )کی تکمیل لیے مرد پر اپنا حق رکھتی ہے۔اس کی پامالی کی صورت میں اس کے خلاف دعوی دائر کرسکتی ہے۔ اسے والدین ، شوہر اور اولاد کی جہتوں سے جائیداد کا حق حاصل ہے لیکن مرد کا نصف۔ عورت کو ذاتی ملکیت رکھنے کا پورا پورا اختیار ہے وہ اس کو فروغ دینے کے لیے ہر اس ذریعہ کا استعمال کرسکتی ہے جس سے اس کے ایمان اور عصمت کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ اس پر اس کو اختیار کلی حاصل ہے اور یہی شرط مردوں کے ساتھ بھی ہے۔ البتہ شریعت میں متعین شدہ حصہ داروں کی طرف اس کی منتقلی میں کسی امتیاز کا اختیار کسی مرد اور عورت کو حاصل نہیں ہے۔ بچوں کی نسبت باپ کی طرف ہوگی۔مرد ہی کو ولایت حاصل ہوگی۔ کوئی عورت ولی نہیں ہوسکتی ہے۔ دینی معاملات میں جس طرح مردوں کے فرائض ہیں عورتوں کے بھی ہیں ۔ مرد اس میں رکاوٹ بنتا ہے تو بعض صورتوں میں رشتہ تک قطع کیا جاسکتا ہے۔شوہر کی وفات کے بعد اس کی حیثیت خاندان کے ایک مستقل اور بڑی حد تک خود مختار فرد کی ہے۔ کسی وارث کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس پر قابض ہو جائے یا خاندان یا باہر کا کوئی مضبوط شخص اس کو زبردستی ہتھیالے اور اس سے تمتع حاصل کرے۔ ہاں اگر وہ خواہ عمر کی جس دہلیز پر ہو اپنی رضا سے گھر کے کسی ایسے فرد سے جو محارم کی ذیل سے نہیں ہیں یا کسی دوسرے شخص سے شادی کرنا چاہے اور وہ شخص راضی ہو تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ اسے نظر استحسان سے دیکھتا ہے۔ البتہ اس کے لیے اسے مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے ایسا کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔
        باہمی حقوق: اسلام نے جہاں ہر شخص کے لیے انفرادی حقوق متعین کیے ہیں وہیں ایسے حقوق کی وضاحت بھی کی ہے جو گھر کے تمام افراد کو مساوی طور پر حاصل ہیں اور ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ ان حقوق کو ادا کرے۔
        احترام انسانیت:    ان میں سب پہلی چیز ایک دوسرے کا احترام ہے یعنی ہر شخص کو احترام انسانیت کا حق حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مشہور حدیث ہے : ”من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقر کبیرنا فلیس منا“ یعنی چھوٹوں پر شفقت اور رحم اور بڑوں کی توقیر و تعظیم۔ یہ اسلامی سماج کی خاص پہچان ہے۔
        خیر کی رہنمائی ،شر کی نشاندہی اور باہمی تعاون:         اس کے علاوہ ہر شخص اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔ برائی سے بچایا جائے، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: یا ایھاالذین اٰمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۔ ( اے ایمان والوں بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو جہنم کی آگ سے) فرائض کی ادائیگی کی ترغیب دی جائے اور گھروں میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے اسلام پر عمل کرنا آسان ہو۔خیر کے کاموں میں تعاون اور ان کی طرف نشاندہی کی جائے۔ برے کاموں سے اجتناب اور ان سے منع کیا جائے۔ جیساکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: وتعاونواعلی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔ نیز گھر میں ہر شخص کے ساتھ مساوی سلوک ہو ۔ کسی پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اسی میں یہ بھی شامل ہے کہ خاندان کا کوئی فرد اگر غیر مسلم ہو تو اسے بساط بھر اسلام کی دعوت دی جانی چاہیے۔
        تحفظ کا احساس:       خاندان وہ ادارہ ہے جو انسان کو تحفظ ادا کرتا ہے۔ گھر کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسا تعلق نہ رکھیں جس میں کسی کی زندگی اجیرن ہوجائے ۔ ایک دوسرے کا رابطہ اور تعلق اس طرح ہو کہ کسی پر خارجی حملہ کا خوف نہ ہوا اور اگرایسی صورت پیدا ہو تو خاندان کے افراد اس کی حفاظت کریں۔ لیکن ایسا ظلما وعدوانا نہیں ہونا چاہیے۔ بیماری اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کی غمگساری اور مدد ہونی چاہیے۔ خوشی اور غم کے موقعوں پر ایک دوسرے کے ساتھ محبت وہمدردی کا پورا پورا ظہار کیا جائے۔
        زندگی میں انسان مختلف طرح کے معاملات کرتا ہے۔ جب کوئی مر جائے تو وارثین اور خاندان کے دیگر افراد کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ذمہ قرض کا پتہ لگائے۔ اگر وہ صاحب جائیداد مرا ہے تو اس کی جائیداد سے ورنہ اس کے وارثین اس کی ادائیگی کریں۔ اسی طرح اس کی موت پر بہتر ڈھنگ سے اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس کی تجہیز وتکفین کی جائے۔ انسان کے یہ اعمال ہر شخص میں تحفظ کا احساس جگاتے ہیں۔
        خاندان کے ساتھ ایک گھر یعنی مکان کا تصور بھی ذہن میں آتا ہے۔ اسلام اس مکان کا حق بھی متعین کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق گھر کو ظلم کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے۔ گھر میں کسی مجرم کو پناہ نہ دی جائے۔ایسا شخص جو اسلام کا مذاق اڑاتا ہو اور اسلامی شعار کو فرسودہ سمجھتا ہو وہ بھی مجرم ہی کے شمار میں ہے۔ گھر کو اللہ کے ذکر سے خالی نہ کیا جائے ، گھر میں آنے والے مہمانوں کی ضیافت کی جائے،مسافر،کمزور، مظلوم، یتیم اور بیواؤں کے ساتھ اچھا بر تاؤ کیا جائے۔
        اسلامی خاندانی نظام کی بنیاد جن حقوق پر استوار ہے وہ سب اسلام نے ایسے وقت میں کیا جب دنیا نظام اور حقوق کے تصور سے بھی نا واقف تھی۔ اس کے باوجود یہ حقوق ہر طرح سے مکمل اور عدل پر مبنی ہیں۔ باوجودیکہ موجودہ دور میں آزادہ  روی، مستقل اور ذمہ داری عائد ہونے والے تعلقات سے بےزاری کا رجحان بڑھ رہا اور خاندانی نظام انتشار کا شکار ہے، اسلامی خاندانی نظام میں ان حقوق کی پاسداری اور احساس جوابدہی کے تصور کی وجہ سے سالمیت برقرار ہے اور بڑی حد تک مضبوط بھی ہے ۔ آج جو غیر اسلامی نظام حکمرانی رائج ہیں اور بزعم خود انسانیت کے محافظ اور بہی خواہ ہیں یا دوسرے جو مذاہب ہیں انہوں نے کبھی انسان کے عائلی حقوق کو اس طرح بیان کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام نے انسانی زندگی کو جو دستور دیا ہے اور اس میں زندگی گزارنے کے جو نظام بیان ہوئے ہیں انہیں جدید اسلوب میں منضبط طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے ۔ ان میں وہ تمام مسائل یا حقوق جو اسلام نے عالم انسانیت کو بخشا ہے، بیان کیے جائیں۔آج مسلمانوں پر بہت سے جو اعتراضات عائد ہوتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے دنیا کے ساتھ زندگی کے ہر مسئلہ میں اسلامی تعلیمات کو پیش نہیں کیا،اگر پیش کیا تو وہ ذرائع استعمال نہیں کئے جن سے دیگر قوموں نے کام لے کر اپنے پیغام کو عام کیا۔ مسلمانوں میں بھی دانشوروں کا ایک ایسا طبقہ ہونا چاہیے جس کا تقابل غیر اسلامی رجحان ساز (Lobbyist)  طبقوں سے کیاجاسکے۔ یہ طبقہ دنیا کی صورت حال پر اس طرح نظر رکھے کہ آنے والے عہد کے مسائل کو پرکھ کر اسلامی نظام کے بیان کردہ حل کو تیار رکھا جاسکے اور اس کے لیے وہ تمام ذرائع استعمال کئے جائیں جن سے عالمی پردے پر اپنی آواز کو نمایاں جگہ دی جاسکے۔ مسلمانوں کا زوال اور ان کی محرومی یہ ہے کہ ان کا جو طبقہ دنیا کے حالات پر نظر رکھتا ہے دین کی بنیادوں سے نا واقف ہوتا ہے اور دین کا درک رکھنے والے دنیا کے حالات سے نا آشنا اور بے خبر ہوتے ہیں۔ حالانکہ دونوں کا مشن اسلام اور مسلمان کی ترقی اور فروغ ہے۔ اس کے باوجود ددنوں کے درمیان مربوط تعلقات پیدا ہونے کی راہیں بھی نہیں نکلتی ہیں۔ واللہ ولی التوفیق۔
٭٭٭
یہ مضمون دارا لعلوم احمد یہ سلفیہ دربھنگہ بہار میں منعقد دو روزہ قومی سیمینار اسلام اور حقوق کے لئے لکھا گیا اور سیمینار میں پیش کیا گیا
مضمون کا یہ پہلا حصہ ہے