مشمولات

Sunday, 30 November 2014

مشاعرہ اور اردو زبان کی ترویج

از دربھنگہ
بتاریخ ۱۴؍ نومبر ۲۰۱۴ءبوقت ۱۱ بجے دن

برادرم منصور خوشتر صاحب!                                                                                            السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
                چند لمحے قبل  کی ٹیلی فونی گفتگو کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ مزاج گرامی تو بخیر ہی ہوگا۔ دوران گفتگو پتہ چلا کہ آپ کو مشاعروں کے تئیں میرے اعتراضات  کے ایک حصہ کا جواب حاصل ہوگیا۔ آپ کے شناسا ایک صاحب کا بچہ جو اردو سے ناواقف تھا آپ کے ذریعہ منعقد مشاعرہ کو سننے کے بعد اردو زبان سے اس کی رغبت ہوئی ۔ اس نے کئی اردو اشعار یاد کرلئے اور توقع ہے کہ وہ اردو زبان پڑھے گا بھی۔ جس سے آپ کو لگا کہ معاشرہ پر مشاعروں کا اثر ہوتا ہے اورمشاعروں سے اردو زبان کے بہت سے فائدے ہیں۔ آپ کو یہ جواب حاصل ہوا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ کو اس سے خوشی ہوئی ! اللہ کرے آپ کو ایسی خوشیاں ہمیشہ نصیب ہوتی رہیں۔
                بھائی! اس امر کو دل سے نہیں دماغ سے سوچئے۔ محض جواب سوجھ جانا ہی اہم نہیں بلکہ جواب ایسا ہو کہ اس میں جواب الجواب کی صورت پیدا نہ ہو۔ صرف یہ کہہ دینا کہ یہ آپ کی بات کا جواب ہوا اس سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا سائل اور معترض کو اس سے اطمینا ن ہوجائے گا۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ ذہن میں آنے والا جواب معترض کے اعتراض کے سارے ابعاد کو شامل ہے یا نہیں ہے۔ جواب منطقی ہونا چاہیے جذباتی نہیں۔
                خیر اس بات کو جانے دیجئے آمدم بر سر مطلب کہ مذکورہ عزیز کی اردو زبان سے رغبت کی بنیاد تفریح ہے۔ جسے آپ Entertainment کہتے ہیں۔ یہ ایک جذباتی فیصلہ ہے اور جذباتی فیصلہ کتنی دیر ٹھہر سکتا ہے اس کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے یہ کوئی اسی لڑکے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اب بیشتر مشاعروں کی بنیاد تفریحات پر ہی ہے۔سامعین ذوق سماعت سے زیادہ ذوق بصارت کی تسکین کے لیے مشاعرہ میں جاتے ہیں۔وہاں اب جمال سے زیادہ جمیل بلکہ جمیلہ پر نظر رہتی ہے۔  سامعین بصیرت حاصل کرنے نہیں چند لمحے خوش ہونے کے لیے آتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ بصیرت کے حصول سے یک گونہ خوشی ہوتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اب مشاعروں میں بصیرت افروز اشعار سننے سے پہلے ہی رد کردئے جاتے ہیں۔ مشاعروں میں فوری اپیل کی شاعری کی سنی جاتی ہے ۔ عام طور پر فوری اپیل کی شاعری میں گہرائی کا امکان کم ہے۔ اس فوری اپیل میں بھی کچھ پتہ کی بات کہی جاسکتی ہے اور بسا اوقات کہی بھی جاتی ہے جو بیشتر سامعین کے ذہنوں کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔سامعین اب ایسے اشعار سننا چاہتے ہیں جو رومانی جذبات سے مملو ہوں۔وہ شعر خوب سمجھ میں آتا ہے جس میں اخلاقی قدر کی حد مٹ رہی ہو۔اس کے باوجود بیشتر شعرا کو داد وتحسین کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔اس پر بھی یہ حاصل نہ ہو تو دوبارہ شعر پڑھ کر داد مانگی جاتی ہے۔ بعض کو داد کے حصول کی خارش نظر آتی ہے۔
                 ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی کے لیے تفریحات کی بھی ضرورت ہے۔ ادب تفریح بھی ہے اور دانشوری بھی ۔ لیکن آپ صحافی ہیں اور ادبی صحافت میں بھی دربھنگہ ٹائمس کی ادارت کے حوالہ سے شناوری کرلی ہے۔ آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اب مشاعروں میں دانشوری کا کوئی مقام نہیں رہ گیا ہے۔ یہاں اب صرف تفریحات کا ہی سکہ چلتا ہے۔ ایک زبان کا انحصار اگر صرف تفریحات پر ہو تو وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ہمارا ساتھ نہیں دے سکے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ پہلے فلموں کی زبان خالص اردو تھی اب جبکہ رابطہ کی زبان ہی مخلوط ہوتی جارہی ہے فلموں کی زبان بھی مخلوط ہوتی جارہی ہے ۔ اس کے باوجود اردو کا نشہ فلموں پر اب بھی ہے لیکن بتائیے کہ اس سے زبان کا کیا فائدہ ہوا۔
                زبان کی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب وہ علم ، سائنس اور تحقیق وایجادات کا ذریعہ بنتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آج پہلے زمانے سے کہیں زیادہ شاعری کی جارہی ہے۔ شاعری میں نئے مسائل بھی آرہے ہیں۔ فکشن کی رفتار بھی پہلے سے کم نہیں ہے۔ آج کے فکشن میں آج کے مسائل خوب پیش کئے جارہے ہیں۔ لیکن یہ دیکھئے کہ الماریوں کی زینت بننے کے سوا ان کتابوں کامقدر کیا ہے۔
                ادب اس وقت ہمارے لیے کار آمد ہوتا ہے جب وہ علوم کے مسائل کے اظہار میں آسانی کی راہ ہموار کرے۔ یہ ادب تجرباتی ہوتا ہے۔آپ کو بتادوں کہ اچھی شاعری سننے کی نہیں پڑھنے کی ہوتی ہے۔ جس سے صرف دل کی دھڑکنیں ہی بڑھتی گھٹتی نہیں بلکہ دماغ کے ساتوں طبق بھی روشن ہوتے ہیں۔ شاعری ایسی ہوتی ہے خواہ وہ غزل کی صورت میں ہو یا نظم کی یا شعری اصناف کی کسی مروجہ ہئیت میں یا تجرباتی ہئیت میں اگر اس میں شعریت موجود ہے، تو اس کے متن کی قرأت کے دوران قاری کے ذہن میں نور کا وفور ہوتا رہتا ہے ۔ اس منور دماغ سے مسلسل شعاعیں پھوٹتی رہتی ہیں  جیسے بجلی کے بلب سے شعاعیں پھوٹتی ہیں۔ یہ شعاعیں ایسے چراغ یا بجلی کے اس بلب کی طرح نہیں ہوتیں جس کے عقبی حصہ تک روشنی نہیں پہنچتی۔ یہ وہ نقطہ نور ہوتا ہے جس سے شش جہات روشن ہوجاتے ہیں۔ کسی مقام پر انعطاف نور کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک آجاتی ہے اور چہرے پر بھی حسن وجمال کی لہریں چلتی رہتی ہیں۔ اگر ایسا کوئی آلہ ایجاد کرلیا جائے جو اس  کیفیت کو محسوس کرسکے تو اس کو ثابت بھی کیا جاسکتا ہے۔ طبیعت میں بھی ایک سرور کی کیفیت رہتی ہے۔ کبھی کبھی تو  قاری کے بدن میں جھرجھری بھی طاری ہوجاتی۔ اس کے اثرات جسم کے روئیں پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کیفیات اس وقت تک طاری رہتی ہیں جب تک قاری ایسی شاعری کا مطالعہ کرتا رہتا ہے۔ اس درمیان قاری ‘وہ’ نہیں رہتا جو ‘وہ’ تھا بلکہ ایک نئی دنیا میں رہتا ہے۔ نظم ؍ شاعری کی قرأت ختم کرنے کے بعد بھی اس پر اس کے کچھ اثرات باقی رہتے ہیں اور دھیرے دھیرے وہ اس کیفیت سے نکلتا ہے اور پوری طرح نکل جانے کے بعد بھی وہ وہاں نہیں پہنچتا ہے جہاں سے اس نے اس شاعری؍ نظم کی قرأت کا مطالعہ  شروع کیا تھا بلکہ ایک قدم آگے ہی رہ جاتا ہے۔
                میں آپ کو بتاؤں کو تنقیدی موشگافیوں سے نابلد اہل عرب نے محمد عربی ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن مجید سن کر جب ‘شاعر مجنون’ کہا تھا تو یوں ہی نہیں کہا تھا۔ ان کے کہنے کا مقصد مجنوں کی بڑ نہیں تھی۔ بلکہ وہ کلام کی تاثیر سے واقف تھے۔ میں جملہ معترضہ کے طور پر کہوں کہ احساس جمال کی بالیدگی کے باوجود آج بھی ہم  قرآن کی اس جمالیات سے محظوظ نہیں ہوسکے ہیں جس کی لذت ان بدوؤں نے محسوس کی تھی اور اسی کا اثر تھا جب انہیں کسی موقع پر قرآن کی تلاوت سن کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ اب کلام کی تاثیر سے بچ نہیں پائیں گے تو اپنے کانوں میں انگلی ڈال کر نکل جاتے تھے۔ وہ عرب جانتے تھے کہ عمدہ کلام کس طرح زندگی پر اثر ڈالتا ہے۔  آپ اس دھوکہ میں نہ پڑیں گے کہ میں  معاذ اللہ قرآن کو شاعری سمجھتا ہوں یا اہل عرب اپنی باتوں میں درست تھے۔ میرا ایمان ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو نثر میں ہے البتہ اس میں موجود شعریت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے۔ میں یہ بھی خوب  سمجھتا ہو ں کہ اہل عرب نے یہ بات کہہ کر قرآن کے کلام اللہ ہونے کی تردید کی تھی۔بھائی!  مجھے صرف کلام کی تاثیر بتانے کے لیے یہ مثال لانی پڑی ہے اور بس۔
               بہر حال چھوٹی سی بات کے لیے اتنی  طویل گفتگو  ہوگئی۔ میں نے آپ کا اتنا قیمتی وقت صرف کیا۔ میں معذرت کرلیتا لیکن آپ کی زندگی میں دوستوں کا اتنا وقت تو بنتا ہے نا۔ چلئے اتنی بات ہوئی تو تھوڑی بات اور سہی ۔ چلتے چلتے اتنی بات اور گوارا کرلیجئے  ۔ معاف کیجئے تو آپ کا بڑپن، نہ  معاف کیجئے تو  دوستی میں  میرا حق۔ آپ کے جی میں بھی آئے  تو کچھ کھری کھوٹی سنا لیجئے۔ بدلہ برابر۔
لیجئے سنئے !مشاعرے کسی زمانے میں تہذیب سکھانے کا ذریعہ ہوتے تھے۔ لوگ اپنے بچوں کو مشاعرہ گاہ لے جاتے تھے تاکہ بچہ کو  نشست وبرخاست کے طور طریقے سکھانے کے ساتھ گفتگو اور طرز کلام پر قدرت دلائی جاسکے۔ زبان وبیان میں شگفتگی آئے اور مذاق عمدہ ہوسکے۔  اب مشاعروں میں اتنی گراوٹ آگئی ہے کہ نشست وبرخاست اور طرز کلام تو کجا ایک مشاعرہ میں مہذب گھرانے کی دو نسلوں کو ایک ساتھ بیٹھنا زیب نہیں دیتا۔
                                                فی الحال اتنا ہی۔ آپ کے جواب کا منتظر۔
                                                                                                                                          آپ کا مخلص
                                                                                                                                          احتشام الحق


واقعہ کربلا

باسمہ تعالی
از دربھنگہ
بتاریخ ۱۲ نومبر ۲۰۱۴؁ ۱۰:۳۰ بجے شب

ہمدم دیرینہ!                                                                                                                          السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
                مختصر پیغام رساں کے ذریعہ محمد علی جوہر کے بہت مشہور شعر کے دوسرے مصرعہ کے حوالہ سے آپ کی علامتی بات دیکھی۔ لیکن میں اس کی تہہ میں نہ پہنچ سکا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟
                بھائی!اس سلسلہ میں اپنی جو کچھ ناقص سوچ ہے وہ یہی ہے کہ سن ۶۱ ہجری میں عراق کے طف کے نزدیک وادی فرات یا کربلا میں جو عظیم سانحہ پیش آیا وہ دنیائے انسانیت کی تاریخ میں بہت کم مواقع پر پیش آیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی کیا کسی بھی شخص کے ساتھ خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم روا اور درست قرار نہیں دئیے جاسکتے ہیں۔فریب دے کو کسی کو موت کے گھاٹ اتار دینے کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ بے قصو ر بچوں اور خواتین پر ہاتھ اٹھانے سے بھی اسلام روکتا ہے اور ہم سب جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ حضرت حسین اور ان کے کنبہ کے ساتھ روا رکھا گیا۔ اسلام نے جنگ کے بھی طریقے بتادئیے ہیں۔ مخالفین کے ساتھ اپنائے جانے والے رویہ کی وضاحت قولی اور عملی دونوں طریقوں سے کردی گئی ہے۔ لیکن ان سے قطع نظرجب کبھی میں خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اگر حضرت حسین ؓ نے اکابر صحابہ کے مشورہ کو تسلیم کرتے ہوئے کوفہ کا سفر نہ کیا ہوتا اور اس راہ میں جان نہ دی ہوتی کیا اسلام نست ونابود ہوجاتا یا اس کی شکل ایسی بھی نہیں ہوتی جیسی آج ہے؟ دوسرا سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس واقعہ کے بعد کون سا تاریخی انقلاب برپا ہوگیا؟تو مجھے کچھ تشفی بخش جواب نہیں مل پاتا ہے جو میری کم نگہی کی دلیل بھی ہوسکتی ہے اور تاریخ سے ناواقفیت کا ثبوت بھی۔ معاف کیجئے گا یہاں میرا مقصد فریقین میں سے کسی کو حق و ناحق پر قرار دینا نہیں ہے ۔ پھر یہ کہ یہ تسلیم نہ کرنا تو ظلم ہوگا کہ حضرت حسین ؓ کے ساتھ بد عہدی ہوئی اور انہیں فریب دے کر شہید کیا گیا۔
                مجھے تو اس سلسلہ میں ایسا بھی لگتا ہے کہ کربلا کے سلسلہ میں جو واقعات بیان کئے جاتے ہیں ان میں کچھ تو حقیقی ہیں اور کچھ حزم واحتیاط کے ساتھ کہئے تو تخلیقی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سلسلہ میں جنگ کے جو مناظر بیان کئے جاتے ہیں اس سے عربی نہیں عجمی فضا قائم ہوتی ہے بلکہ آپ اسے ہند ایرانی کا بھی نام دے سکتے ہیں۔جبکہ دونوں کے درمیان بنیادی تفاوت ہے۔ حالانکہ یہ جنگ نہیں تھی بلکہ ایک طرفہ وار تھا۔
                یہاں یہ بات بھی محل نظر ہے کہ ان واقعات میں بیان کیا جاتا ہے کہ کوفہ پہنچ کر حضرت حسین نے دیکھا کہ بد عہدی ہورہی ہے تو انہوں نے واپسی کی اجازت چاہی لیکن ظالموں نے انہیں جانے نہیں دیا بلکہ راستہ روک لیا۔ معاملہ اگر اسلام کی بقا اور عدم بقا کا ہوتا تو کسی صحابی کے بارے میں یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنی جان کی امان کو ترجیح دے اور واپسی کی اجازت چاہے۔ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ حضرت حسین ؓ جب کوفہ کے لیے کوچ کر رہے تھے تو اکابر صحابہ نے ا نہیں منع کیا تھا ۔ معاملہ اسلام کی بقا کا ہوتا صحابہ کے ذریعہ منع کرنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے۔
                جناب من! یہ جنگ سیاسی نہ صحیح لیکن سیادت کے جذبہ سے بالکلیہ انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ حضرت حسین بجا طور پر اس کے حقدار تھے۔ اس لیے نہیں کہ وہ نواسہ رسول تھے بلکہ تقوی وپرہیز گاری کے اعتبار سے وہ اس مرتبہ پر فائز تھے۔ کیونکہ اسلام میں خاندان اور رشتوں کی بنیاد پر سرفرازی کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی عہدہ ومناصب دئیے جاتے ہیں۔ یہ تو جاہلیت کی باتیں تھیں جس کو اسلام مٹانا چاہتا ہے۔
                بھئی! ایک بات اور کہہ دوں یہ میری اپنی بات تھی یا یہ کہئے کہ میری ذاتی رائے ہے جس کی صداقت میں مجھے گرچہ کوئی تردد نہیں ہے لیکن اس کی صداقت کی حتمیت پر مجھے اتنا اصرار بھی نہیں ہے کہ دوسروں کی باتیں غلط ٹھہرانے لگوں۔ کیونکہ اس کے بعد رواداری کی صفت مجروح ہونے لگتی ہے جو آزادی اظہار رائے کے منافی ہے۔ فی الحال اتنا ہی۔
آپ کا مخلص

احتشام الحق

Wednesday, 1 October 2014

ایک خط

(آفتاب عالم کے نام)
ہمدم دیرینہ!                 سلام ونیاز
مختصر پیغام رساں (ایس ایم ایس) کے ذریعہ آپ کا غیر تحریری پیغام موصول ہوا۔ اب میں اس کو آپ کی خموشی سمجھوں یا سادہ لوحی اس کا قطعی فیصلہ نہیں کرسکا۔ البتہ نیچے کا توضیحی بیانیہ پڑھ کر غالب کا ایک مشہور مصرعہ ذہن میں کوند کرگیا:‘‘اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا’’۔ معا یہ خیال بھی آیا کہ اس دور پیچاں میں اس سادگی کا اظہار! اللہ اللہ!!
میں عجب تذبذب میں ہوں کہ اگر اس سادگی پر اعتبار نہ کروں تو ننگ دوستی کا مرتکب کہلاؤں اور اگر کروں تو جمیل مظہری کی زبان میں خود سے ہی گلہ کا موقع ہاتھ آئے کہ میں ‘‘شہید ہوں اپنی سادگی کا’’۔
آپ نے لکھا تھا کہ آج کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے جو سمجھ میں آئے اوپر لکھ لیں ۔ سو میں ایک لاابالی ذہن یہی لا ابالی باتیں لکھ سکا۔ آپ نے کورا کاغذ بھیجا تھا۔ میں اگر رنگ وآہنگ کے آرٹ سے واقف ہوتا تو اس کاغذ میں پنہاں لازوال تصویر کو صیقل کردیتا اور اپنی جاودانی کا سامان پیدا کرلیتا۔ لفظوں سے کھیلنے کا ہنر جانتا تو قوت اظہار کے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاکر اپنی قادر الکلامی کے ثبوت فراہم کرتا اور امر ہو جاتا اور اگر  فکر وفلسفہ کے در وبست مجھ پر واشگاف ہوتے تو اس پر سنہری باتیں لکھنے کے بھی ہزار موقعے تھے ۔ اس سادے ٹکڑے پر فلسفیانہ موشگافیوں کے ذریعہ ناقابل تفہیم نکتے پیش کر کر کے آپ کو  تو  اپنا ہم نوا اور قائل کر  تا ہی آنے والوں کے لیے بھی اس نکتہ کی تفہیم پر سر دھنتے رہنے  اور کبھی حل نہ ہونے والے مسائل دے جاتا لیکن ظاہر ہے کہ جو دماغ منور ہوگا روشنی اسی سے پھوٹے گی۔ ایسے بھی یہ دور وسائل کے مثبت استعمال کی بجائے منفی استعمال کا ہے اور اس خاکسار کو بندہ عہد ہی سمجھیں۔
امید ہے مزاج گرامی بخیر ہوگا۔
                                                                                                                                         آپ کا مخلص
                                                                                                                                           احتشام الحق

Tuesday, 30 September 2014

پروفیسر منصور عمر بحیثیت مرتب و مدون

پروفیسر منصور عمر بحیثیت مرتب و مدون
             دبستان بہار کی ادبی روایات کو آگے بڑھانے میں جن شعرا وادبا نے گراں قدر علی خدمات انجام دی ہیں ان میں پروفیسر منصور عمر کا نام انتہائی ادب واحترام سے لیا جاتا ہے۔ پروفسیر منصور عمر کا اشہب قلم ابھی دوڑ ہی رہا تھا کہ تقریبا ۵۹ سال کی عمر میں ۲۳ اپریل۲۰۱۴ کو وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ اس غیر طبیعی عمر میں پروفیسر منصور عمر نے بھر پور زندگی گزاری اور اپنی زندگی کے سارے انسلاکات میں ایک معتدل انسان کی روش اختیار کی۔ وہ پیشہ سے استاد تھے تو صرف استاد ہی ہوکر نہیں رہ گئے تھے؛ باوجودیکہ انہوں نے اپنے منصبی فریضہ میں کبھی کوتاہی نہیں برتی اور ایک اچھے استاد بھی ثابت ہوئے؛ لیکن ساتھ ہی علمی وادبی کام بھی اعتدال کے ساتھ اور متعدل فکر کے تحت جاری رہا۔ ادب کی ساری روایتیں، سارے رجحانات قابل قدر مگر ادب کی توانا قدروں اور فکر کی صالحیت کو برتری۔یہ تھا ان کا نظریہ فکر وفن۔ ان کی علمی وادبی خدمات کے کئی پہلو ہیں ۔ پروفیسر منصور عمر کا ادبی میدان شاعری اور تنقید رہا ہے۔ وہ جیسے شاعر تھے ویسے ہی اچھے تنقید نگار بھی تھے۔ انہوں نے اپنی مختصر عمر میں ۲۰ کتابیں تصنیف وتالیف کیں، ۵۰ سے زائد تحقیقی مقالات لکھے ، کم وبیش اتنے ہی علمی تبصرے کئے اور ۱۰سے زائدکتابوں کی مقدمے اورپیش لفظ بھی تحریر کئے ۔شاعری کی تقریبا تمام اصناف میں طبع آزمائی کی ۔ کئی طویل ترین نظمیں بہت مقبول ہوئیں۔ان کی شاعری یا تنقید نگاری کا بنیادی وصف یقین واعتماد تھا جس کی بنا اردو زبان وادب کی جملہ روایتوں پر مستحکم تھی۔ الغرض ان کی خدمات کی کئی جہتیں ہیں جن پر علاحدہ گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن اس مختصر مضمون میں پروفیسر منصور عمر کی تالیفی خدمات کی ہلکی سی جھلک پیش کی جارہی ہے۔ ان کے تالیفی کام کی ابتدا ”اختر اورینوی- فنکار وناقد“۱۹۸۵ سے ہوتی ہے۔ اس کے بعد۱۹۸۸ میں ”بہار کے چند نامور شعرا‘ ‘ جلد اول کی اشاعت عمل میں آئی جس کی دو سری جلد ان کی زندگی میں شائع ہوچکی ہے اور تیسری طباعت کے مرحلہ میں تھی کہ وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے علاوہ” مملکت نیپال“ ، ”طرزی اور طرزی بیان“ ،” کلیات طالب“ اور ”بیاض فکر رعنا“ ان کی تالیفی پیشکش ہیں۔
            ترتیب کاتعلق تدوین سے ہے اور بحوالہ ڈاکٹر گیان چند جین:
  اردو میں تدوین متن سے زیادہ مقبول اصطلاح ترتیب متن ہے۔ دونوں قریب المعنی ہیں۔ ترتیب کے معنی کسی شے کے اجزا کو مناسب تقویم وتاخیر سے رکھنا ہے۔ تدوین کے معنی متفرق اجزا کو اکھٹا کر کے ان کی شیرازہ بندی کرنا ہے چونکہ مجتمع کرنے میں ایک ترتیب سے کام لیا جاتا ہے اس لیے ترتیب اور تدوین میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ترتیب ایک عام لفظ ہے اور تدوین کا تعلق کتابوں سے ہے۔
                                                                        (تحقیق کا فن ۔ ڈاکٹر گیان چند جین ص ۳۹۸)
            مرتب جو ایک مدون ہوتا ہے اور اسے تحقیقی صلاحتیں بروئے کار لانی پڑتی ہیں کیونکہ ”تدوین تحقیق سے جدا فن نہیں ، یہ تحقیق ہی کی ایک شاخ ہے۔ اس کے لیے انہی صلاحیتوں اور ذہنی رجحان کی ضرورت ہوتی ہے جو تحقیق کے لیے در کار ہیں“۔ (تحقیق کا فن ۔ ڈاکٹر گیان چند جین ص ۹۹۳)
            پروفیسر منصور عمر اچھے تنقید نگار ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے محقق بھی تھے اور اچھے مدون یا مرتب بھی۔ انہوں نے کل۸ کتابیں ترتیب دیں جن کے نام اوپر مذکور ہوئے۔ ان میں سے ایک اہم کام طالب دربھنگوی کے کلیات کی ترتیب وتدوین ہے جسے انہوں نے ۷۰۰۲ میں ترتیب دے کر شائع کیا تھا۔ گیان چند جین اپنی کتاب ”تحقیق کا فن“ میں لکھتے ہیں :
     ”منظومات کے مدون کو مجموعے کے مختلف اصناف کی ہیئتی خصوصیات اور معنوی روایات سے واقفیت ہونی چاہیے ۔ اس کے علاوہ عروض کی واقفیت بھی ناگزیر ہے ۔ عروضی حس کے ذریعہ وہ مصرعہ کے غیر موزوں متن کی گرفت کر کے اس کی تصحیح کرسکے گا۔ علم قافیہ، علم بدیع اور علم تاریخ گوئی کی واقفیت بھی مفید ثابت ہوگی ۔ تاریخ نکالنے کے مختلف طریقوں کی معلومات ہو تو اس سے قطعات تاریخ کا متن صحیح تر لکھا جائے گا“۔
                                                                        (تحقیق کا فن ۔ ڈاکٹر گیان چند جین ص۴۰۲)
            طالب دربھنگوی قادر الکلام شاعر تھے اور مختلف اصناف پر قدرت رکھتے تھے۔ بنیادی طور پروہ نعت گو شاعر تھے لیکن انہوں نے حمد، غزلیں، نظمیں، قطعات تاریخ اور فارسی میں بھی طبع آزمائی کی جن میں سے ۴۸ صفحات پر مشتمل نعتیہ مجموعہ ۰۹۳۱ھ میں ”نغمہ زار وفا“ کے نام سے شائع ہوا تھا۔
            پروفیسر منصور عمر خود اچھے شاعر تھے اور فن شاعری پر بڑی گرفت رکھتے تھے، قطعات تاریخ اور علم العروض کے چند گنے چنے لوگوںمیں ان کا نام آتا تھا۔ فارسی پر بھی قدرت رکھتے تھے۔ان کے علاوہ مشرقی شعریات اور اس کی تاریخ سے کما حقہ واقف تھے۔ اس اعتبار سے بھی اس کتاب کی تدوین کا کام ان کی صلاحیتوں اور ذہن کے عین موافق تھا جس کو بڑی حد تک انہوں نے پورا بھی کیا۔
            کلیات طالب میں ایک حمد، ایک ہدیہ سلام، ۳۶ نعتیں، ۱۱۱ غزلیں ۱۹ نظمیں، ۵ تاریخی قطعات، ۶ سہرے، ۱۰ غیر مطبوعہ نعتیں۴ مطبوعہ اور ۶ غیر مطبوعہ فارسی کلام شامل ہیں۔ جیسا کہ مقدمہ سے ظاہر ہے کہ ۱۳۹۰ھ میں طالب دربھنگوی کا نعتیہ مجموعہ شائع ہوا تھا جو صرف ۴۸ صفحات پر مبنی تھا ۔ کلیات کی فہرست سے مقابلہ کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس مجموعہ میں ۳۶ نعتیہ کلام اور ۴ فارسی کلام شامل تھے کیونکہ ۱۰ غیر مطبوعہ نعتوں کو بھی اس کلیات میں جگہ دی گئی ہے اسی طرح فارسی کلام کے ساتھ مطبوعہ ”نغمہ زار وفا“ کی صراحت موجود ہے۔
            انہوں نے اپنے مقدمہ میں نعت گوئی کی فن کی نزاکت کے حوالہ سے بڑی قیمتی گفتگو کی ہے اور کسی حد تک حمد ونعت کے باریک فرق کے درمیان خط امتیاز رکھنے کی طرف اشارہ بھی کیا ہے اور طالب دربھنگوی نے اس کو ملحوظ رکھنے کی کوشش کی ہے اس کی بھی وضاحت کی گئی ہے۔ ساتھ ہی طالب دربھنگوی کی شاعری میں جن مذہبی تلمیحات کا استعمال کیا گیا ہے ان کی طرف بھی اشارے موجود ہیں۔
            چونکہ اس کا تعلق تدوین متن سے ہے اس لیے کئی سوالات قائم کئے جاسکتے ہیں جن کی تشفی مقدمہ کے مطالعہ سے نہیں ہوتی ہے۔اتنا تو قرین قیاس ہے کہ طالب دربھنگوی کا کلام پروفیسر منصور عمر کو طالب دربھنگوی کے فرزند ارجمند پروفیسر عبد المنان طرزی کے یہاں سے حاصل ہوا ہوگا اور انہی کی ایما پر پروفیسر منصور عمر نے اسے ترتیب بھی دیا ہوگا ۔ تاہم مقدمہ سے اس بات کا انکشاف نہیں ہوتا ہے کہ بقیہ کلام کس صورت میں انہیں حاصل ہوا ۔ یہ مطبوعہ تھا یا غیر مطبوعہ اور ہر دو صورت میں انہیں شاعر کا قلمی نسخہ (آٹو گراف) یا بیاض حاصل ہوسکا یا نہیں ۔ نغمہ زار وفا ۰۹۳۱ھ میں جس کی اشاعت عمل میں آچکی تھی، اس کا قلمی نسخہ بھی انہیں حاصل ہوا یا نہیں تاکہ اصل نسخہ اور مطبوعہ کلام میں موازنہ کر کے تصدیق کی جاسکے کہ مطبوعہ کلام مسودہ سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے ۔ عام طور پر مطبوعہ کلام میں کاتب سے بھی بعض غلطیاں ہوجاتی ہیں جن کا اثر منظوم کلام میں بحر پر پڑسکتا ہے ، زبان کی فاش غلطی ہوسکتی ہے جس کا تصور شاعر کے مزاج اور پختگی کے اعتبار سے ممکن یا نا ممکن ہے ۔مدون کی ذمہ داری ہے کہ کلام کی تدوین کے وقت اصل نسخہ سے اس کی تصدیق کرے ۔ کتاب کے مقدمہ سے ایسا کچھ ظاہر نہیں ہوتا ہے کہ اس طرح کی کوئی غلطی نظر آئی یا نہیں اور اگر آئی تو اصل کلام تک کیسے رسائی ہوئی ۔ نغمہ زار وفا میں شامل نعت کے علاوہ غیر مطبوعہ نعت اور غیر مطبوعہ فارسی کلام کی صراحت کی گئی ہے جبکہ غزلوں کے بارے میں ایسی کوئی صراحت موجود نہیں ہے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ غزلیں غیر مطبوعہ تھیں تو کئی سوالات اور بھی قائم کئے جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ ڈاکٹر عبد المنان طرزی کے ذریعہ بیان کردہ اپنے والد ماجد کے سوانحی کوائف سے واضح ہوتا ہے کہ طالب دربھنگوی کی پیدائش ۱۹۱۵ میں ہوئی اور ۱۹۴۹-۵۰ میں انہوں نے اپنا تخلص شاطر سے بدل کر طالب کرلیا ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ طالب دربھنگوی نے کم از کم۲۵ سے۲۸ سال کی عمر سے شاعری شروع کردی تھی اور تقریبا ۳۵ سال کی عمر میں انہوں نے اپنا تخلص بدلا تھا ۔ اس طرح اس مدت میں انہوں اپنی شاعری میں کوئی مخصوص رنگ اختیار کر لیا تھا اور کلیات کی اشاعت ۲۰۰۷ میں عمل میں آئی جبکہ ”نغمہ زار وفا“ کی طباعت ۱۳۹۰ھ میں ہوئی جس کی کتابت ۱۹۷۰  میں مکمل ہوچکی تھی ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس مدت میں حضرت طالب دربھنگوی نے کیا صرف نعتیں ہی کہیں اور غزلوں سے لا تعلق رہے۔ پھر یہ کہ انہوں نے  ۱۹۴۹-۵۰میں شاطر سے طالب تخلص بدلا لیکن کلیات میں ان کی تمام غزلوں حتی کہ نعتیہ کلام میں بھی طالب ہی تخلص ملتا ہے ۔ مرتب نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ شاعر نے اس کلیات میں تخلص بدلنے سے قبل کا کلام شامل کیا ہے یا نہیں یا شاعر نے اپنی سابقہ غزلوں اور نعتوں سے بھی تخلص بدل دیا تھا جس کا امکان اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاطر اور طالب دونوں ہم وزن الفاظ ہیں اس لیے ایسا کرنے میں کوئی پریشانی بھی نہیں ہوئی ہوگی۔ بالفرض مرتب نے تخلص بدلے ہوئے مسودہ سے کلام کی تدوین کی توکیا انہیں کلام میں دیگر تبدیلیاں بھی دکھائی دیں یا نہیں۔
            تخلیقات کے ساتھ تاریخ دینے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قاری کو ادیب کے ذہنی وفکری ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ بہ استثنائے سہرا اور تاریخی قطعات یہ واضح نہیں ہوتا ہے کون سے کلام شاعر کی کس عمر کا ہے۔ مرتب نے بھی اس بات کی صراحت نہیں کی ہے کہ شاعر کے مسودہ میں انہوں نے اس کو تلاش کرنے کی کوشش کی یا نہیں ۔
            مرتب ایک اچھے تنقید نگار تھے اور زبان وادب پر ان کی پوری گرفت تھی ۔ مرتب نے طالب دربھنگوی کی زبان دانی،کہاوت اور مہاوروں کے حوالہ سے مقدمہ میں گفتگو بھی کی ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ شاعر کی زبان دانی اور فن پر ان کی گرفت کا تنقیدی جائزہ لے کر اس کی قیاس آرائی کی جاسکتی تھی کہ ان کا کون سا کلام کس زمانہ کے آس پاس کا ہوسکتا ہے۔ اگر شاطر کے تخلص سے کلام موجود ہوتا تو ابتدائی کلام اور بعد کے کلام میں کچھ فرق واضح ہوسکتا تھا۔
            پروفیسر منصور عمر نے ۱۹۸۵ میں پروفیسر مظفر مہدی کے اشتراک سے” اختر اورینوی - فنکاروناقد“ کے نام سے۱۳۶صفحات پر مشتمل اپنی پہلی کتاب ترتیب دی تھی ۔ یہ کتاب تحقیق اور تدوین کے زمرہ میں شمار ہونے کے بجائے سراپا ترتیب ہے ۔لیکن جس پراجکٹ اور جس منصوبہ بندی کی تحت یہ کتاب شائع کی گئی تھی وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور جو کام کسی اکیڈمی یا کمیٹی کی جانب سے کیا جانا چاہیے تھا اس کو انہوں نے محض ۲افراد کے اشتراک سے شروع کیا۔ اس کتاب کا مقصد بہار کے فنکاروںکی خدمات کو سامنے لانا ہے ۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
        ”کہا جاتا ہے کہ تنقید کو بلا تفریق مذہب وملت ، علاقہ واریت ، گروہ بندی اور نظریاتی عصبیت سے دامن بچاکر اپنے فرائض انجام دینا چاہیے ۔ لیکن کہنے دیجئے کہ اردو تنقید ان چیزوں سے اپنے چہروں کو بے داغ نہ رکھ سکی اور نظریاتی گروہ بندی اور علاقائیت کی بری طرح شکار رہی ہے۔ چنانچہ ہمارے ناقدین دبستان بہار کے ادیب وفنکار کی خدمات کے اعتراف سے مسلسل صرف نظر کرتے رہے ہیں۔ حالانکہ یہ مسلم حقیقت کہ جن دنوں دہلی ولکھنؤ کے ادیب وفن کار اردو شعروادب کے گیسو سنوارنے میں منہمک ومشغول تھے انہی دنوں بہار میں اردو زبان وادب کی تزئین و آرائش ہورہی تھی’’۔
                                                                                    (پیش لفظ : اختر اورینوی - فنکار وناقد)
            اس کے بعدانہوں نے مختلف مثالوں سے ثابت کیا ہے کس طرح ملک کے دیگر خطوں کے مساوی بہار میں اردو ادب کی گراں قدر خدمات انجام دی جاتی رہی ہیں۔ اس میں جو مضامین شامل کیے گئے ہیں وہ متنوع ہیں اور اختر اورینوی کی ادبی خدمات کے تمام گوشوں کا احاطہ کرتے ہیں۔ اس طرح اس ایک کتاب میں ان کی خدمات کو مجموعی طور پیش کر کے دبستان بہار کی خدمات کے ایک جزو کو سامنے لایا گیا ہے ۔
            پروفیسر منصور عمر کی دوسری کتاب ۱۹۸۸ میں پروفیسر مظفر مہدی کے اشتراک سے ہی ”بہار کے چند نامور شعرا “ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کو آخر الذکر کتاب کی توسیع کہا جاسکتا ہے۔لکھتے ہیں:
        ”امر واقعہ یہ ہے کہ بہار میں اردو شعر وادب کی تاریخ بڑی شاندار رہی ہے ۔ اردو کے دوسرے معروف دبستانوں کی طرح سرزمین بہار نے بھی اردو شعر وادب کی جملہ اصناف کی زلف پیچاں کو سنوارنے اور سجانے میں گراں بہا خدمات انجام دی ہے۔ بالخصوص جب ہم یہاں کے شعری سرمایہ پر نظر ڈالتے ہیں تو بلاتکلف یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ بہار میں اردو شاعری کے مرغزارہر دور میں بڑے ہی سر سبز وشاداب رہے ہیں خواہ اردو شاعری کا قدیم دور ہو یا ترقی پسندانہ دور یا دور جدید ۔ لیکن ہمیں کہنے دیجئے کہ ان شعرا وادبا کے شاعرانہ کمالات ، فنکارانہ جوہر اور بیش قیمت خدمات کے باوجود ان کی قدر شناسی میں مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے۔
                                                                                    (پیش لفظ : بہار کے چند نامور شعرا ۔ ج اول)
             انہوں نے آخر الذکر کتاب میں بہار کی ایک انتہائی محترم علمی وادبی شخصیت کی خدمات کا تفصیلی احاطہ کیا ہے تو اس کتاب میں بہار کی ۱۵ منتخب ادبی شخصیات کا احاطہ کیا گیا ہے ۔ ایک یا دو آدمی کے لیے یہ ممکن بھی نہیں ہے کہ کسی علاقہ کی تمام ادبی شخصیات کا الگ الگ طور پر تفصیلی احاطہ کرے ۔ اس کتاب میں انہوں نے جن شخصیتوں کو شامل کیا ہے ان پر ایسے مضامین پیش کئے گئے ہیں جن میں کسی ایک پہلو پر روشنی ڈالنے کی بجائے ان کی کل شعری خدمات کا مجموعی احاطہ کیا گیا ہے ۔ چونکہ اس کتاب کے نام میں ہی شعرا کی تخصیص کردی گئی ہے اس لیے اس میں منتخب شخصیات کی دیگر خدمات سے صرف نظر کیا گیا ہے۔
            اس کتاب کی اشاعت کے پچیس سال بعد۲۰۱۴ میں انہوں نے اس کی توسیع کی اور ۱۹۵۰ سے قبل کے ۳۰ شعرا کو شامل کرتے ہوئے دوسری جلد شائع کی اور اس کے فورا بعد تیسری جلد کا کام کیا جو ابھی زیر طباعت ہے ۔ دوسری جلد کے مقدمہ کی صراحت کے مطابق اس کتاب میں ۱۹۵۰ کے بعد کے شعرا کو جگہ دی گئی ہے۔ یہ کام پروفیسر منصور عمر اپنی زندگی میں مکمل کرچکے تھے لیکن افسوس کہ شائع شدہ کتاب نہ دیکھ سکے اور دنیا سے چل بسے۔
            ان تینوں کتابوں میں انہوں کچھ ایسے مضامین شامل کئے ہیں جو پہلے سے لکھے ہوئے تھے تو بعض ایسے شعرا پر کوئی مبسوط اور مکمل مقالہ لکھا ہوا انہیں حاصل نہیں ہوسکا جن کو شامل کیا جاتا، نتیجتاً مرتبین نے ان شعرا پر ماہرین سے مضامین تحریر کرا کر شامل کئے ۔ حالانکہ یہ وہ شعرا ہیں جن کی خدمات لائق تحسین وتعریف ہیں اور کسی طرح بھی ان کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔ یقینی طور پر یہ ایک نیا کام اور بڑا کام تھا جس کے لیے ان کو بہت تگ ودو کرنی پڑی اور کئی مواقع پر مایوسی کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ ان مضامین سے بہار اسکول کی خدمات کے سرمایہ میں یقینی طور پر اضافہ ہوا اور بہت سے شعرا کو فراموشی سے بچالیا گیا ہے جو یقینا ان کا بڑا کارنامہ ہے۔
            ضرورت اس بات کی تھی کہ جس طرح شعرا کی خدمات کا احاطہ کیا گیا اسی طرح نثر میں داستان، ناول، افسانہ، تذکرہ ، تحقیق، تنقید ، سوانح کی خدمات کو بھی پیش کیا جاتا ۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی اکاڈمی یا کمیٹی ہی کرسکتی ہے ۔ لیکن اکیڈمیوں سے اس کی توقع تحصیل لاحاصل ہے آج۔ خود اس کتاب کی اشاعت سے قبل مرتبین کا ارادہ تھا کہ جن شعرا کو شامل کیا جائے ان کا سوانحی خاکہ، تنقیدی مقالہ اور نمونہ کلام پیش کیا جائے جس کی اشاعت کے لیے بہار اردو اکیڈمی سے مالی امداد کی درخواست بھی کی گئی تھی لیکن ناکامی کے بعد صرف تنقیدی مقالے کو شامل کرتے ہوئے انہوں نے بالآخر کتاب شائع کرنے کی کوشش کی اور اس زمانہ میں کام شروع کیا جب کتابوں کی طباعت بڑے حوصلہ اور جرأت کی بات تھی ۔ گرچہ یہ کام آج بھی حوصلہ کا ہی ہے تاہم پہلے کے مقابلہ میں اب بہت سی آسانیاں ضرور میسر ہیں۔
            پروفیسر منصورعمر کی ترتیبات میں ایک اہم کتاب ”طرزی اور طرز بیان“ بھی ہے جو ۲۰۰۶ میں زیور طباعت سے آراستہ ہوئی ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کتاب کا موضوع پروفیسر عبد المنان طرزی اور ان کے فکر وفن ہیں۔ اس کتاب کا تعارف کراتے ہوئے وہ خود لکھتے ہیں:
      ”زیر نظر کتاب ”طرزی اور طرز بیان“ ان مقالات کا مجموعہ ہے جو طرزی کے فکر وفن پر اردو کے ناقدوں اور دانشوروں نے قلم بند کئے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے طرزی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ بے حد مدلل بھی ہیں اور متوازن بھی ۔ چنانچہ ان مقالات سے طرزی کا جو فنکارانہ نقش ابھرتا ہے ان کے متوازن ہونے میں بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی “۔
                                                                                    (عرض مرتب: طرزی اور طرز بیان ۔ ص۴ ۱)
            پھر ایک جملہ سے بڑی خوبصورتی سے اپنی ناقدانہ بصیرت کا ثبوت دیا ہے جس سے ان کی ظرافت کا بھی اندازہ ہوتا ہے ۔ لکھتے ہیں:
              لیکن کیا ضروری کہ آپ میری ذاتی رائے سے اتفاق کریں ہی۔ لہٰذا میں اپنی بات فارسی کے اس مقولہ کے ساتھ ختم کرتا ہوں کہ ”مشک آنست کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید“۔ (ایضا)
            اس کتاب میں انہوں نے۴۷ تنقیدی، تاثراتی، تجزیاتی مضامین اور منظوم تاثرات شامل کئے ہیں اور ”ایسا کہاں سے لاؤں “ کے عنوان سے عرض مرتب لکھا ہے جس میں مختصر طور پر طرزی کی شخصیت، سرگرمی، عادات واطوار، نفسیات، فکر اور فن پر روشنی ڈالی ہے۔ اس کے مطالعہ سے پروفیسر منصور عمر کے گہرے مشاہدہ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس مقدمہ میں جا بجاپروفیسر منصور عمر کی ظریفانہ طبیعت کا بھی اندازہ ہوتا ہے جو ان کی گفتگو کا خاصہ تھا ۔ بعد میں اس کتاب کے مضامین سے تراش نکال کر اور چند ایک مضامین کا اضافہ کر کے لمعات طرزی کے نام سے ایک ڈاکٹر منصور خوشتر نے ترتیب دے کر شائع کیا۔
            پروفیسر منصور عمر کی ترتیبی پیشکش میں ایک اہم نام” بیاض فکر رعنا “ہے جو عبد المنان طرزی کے تاریخی قطعات کا مجموعہ ہے۔ شعری اصناف میں تاریخی قطعات منفردوصف رکھتے ہیں اور اردو شاعری اس کی اپنی روایت اور اہمیت رہی ہے ۔ ماضی میں اس پر بڑی توجہ دی جاتی تھی لیکن اب اس فن سے توجہ بھی کم ہوگئی ہے اور اس کے جاننے والے بھی عنقا ہوتے جارہے ہیں۔ جیساکہ پروفیسر منصور عمر نے لکھا ہے کہ” اردو میں تاریخ فن گوئی کا فن رفتہ رفتہ معدوم ہوتا جارہا ہے “ ۔ ان کا خیال ہے کہ ”بہار میں تاریخ گوئی کی روایت بہت ہی مستحکم اور پائدار رہی ہے “۔ لیکن ”فی زمانہ جو فنکار تاریخ گوئی میں طبع آزمائی کر رہے ہیں اور اس میں اعتبار حاصل کرچکے ہیں ان کے نام بھی انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں“۔ (پیش لفظ: بیاض فکر رعنا)
                        فن تاریخ گوئی کے ماہرین میں خود مرتب منصور عمر کا نام بھی شامل تھا۔ اس حیثیت سے اس کتاب کی ترتیب کا کام بھی ان کے ذہن کے موافق تھا جس کا واجب حق بھی وہی ادا کرسکتے تھے۔ عرض مرتب کی شروعات اپنے تاریخی کلام سے شروع کی ہے اور کتاب کے نام سے سن اشاعت ۱۴۳۴ھ نکالا ہے ۔
اک ”بیاض فکر رعنا
۱۴۳۴ھ
اک ”تلاش افتخار
۲۰۱۳ئ
            پہلے مصرعہ سے ہجری سال اشاعت ۱۴۳۴ھ اور دوسرے مصرعہ سے ۲۰۱۳ءعیسوی سن نکالا گیا ہے۔
            ایسا لگتا ہے کہ اس تاریخ کی تخریج سے ہی شاید اس کے نام” بیاض فکر رعنا “کا انتخاب کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس کتاب کو ۱۴۳۴ھ مطابق ۲۰۱۳ میں شائع ہونا تھا لیکن بعض وجوہات کے سبب ۲۰۱۳ میں نہ شائع ہوکر ۲۰۱۴ میں شائع ہوسکی۔
            جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ یہ کتاب ان کے ذہن کے موافق ہے ، انہوں نے عرض مرتب میں فن تاریخ گوئی کی تاریخ ، اس کے حروف یا اصطلاحی الفاظ کے بیان کردہ معانی اوراس کی تاریخ، ہندوستان میں اس فن کی آمد اور یہاں اس فن پر لکھی جانے والی اہم کتابوں اور بہار میں اس فن کے ماہرین پر بھر پور روشنی ڈالی ہے جس سے بہت کم ہی لوگ واقف ہوں گے۔ اس کے بعد انہوں نے تاریخ کی تخریج کے استعمال شدہ طریقوں اور عبد المنان طرزی کی اس فن میں مہارت اور تاریخ کی تخریج کے وہ تمام طریقے جن سے طرزی نے فائدہ اٹھایا ہے ان سب کا بڑی باریک بینی سے مثالوں کے ساتھ جائزہ لیا ہے اور واقعی ترتیب کا حق ادا کردیا ہے۔
            پوری کتاب کو تاریخ وفیات، تاریخ مطبوعات، تاریخ شخصیات، تاریخ متفرقات اور تاریخ شادیات کے تحت ابواب میں منقسم کرکے کل پانچ ابواب بناکر ۱۷۹ تاریخی قطعات کو شامل کرتے ہوئے تاریخ شادیات کے علاوہ تمام قطعات کو حروف تہجی کے اعتبار سے پیش کیا ہے جبکہ تاریخ شادیات کو تاریخ کے لحاظ سے ترتیب دیا ہے اور آخر میں بجا طور پر یہ حکم لگاتے ہوئے عرض مرتب کو ختم کیا ہے کہ ’ ’بیاض فکر رعنا“نہ صرف طرزی کی بلکہ فن تاریخ گوئی میں ایک اضافے کی حیثیت رکھتی ہے۔
            ۲۰۰۸ میں پروفیسر منصور عمر نے” مملکت نیپال“ کے نام سے بھی ایک کتاب ترتیب دی تھی جو پروفیسر مطیع الرحمن (۱) کی کتاب ہے ۔ اس میں مملکت نیپال کے سماجی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی حالات بیان کئے گئے ہیں۔پروفیسر منصور عمر نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے کہ یہ کتاب اردو زبان میں اپنی نوعیت کی واحد کتاب ہے۔
            ان کے علاوہ” اختر اورینوی- فنکار وناقد “کی پشت پر دیئے گئے اشتہار میں مؤلفین کی دیگر کتابوں میں ”بہار کے چند نامور تنقید نگار“ اور ”بہار کے چندنامور افسانہ نگار“ زیر ترتیب دکھائے گئے ہیں ۔ لیکن پروفیسر منصور عمر نے اپنے سوانحی کوائف میں ان کتابوں کا ذکر نہیں کیا ہے اس سے ایسا لگتا ہے کہ بعد میں ان کتابوں سے انہوں نے توجہ ہٹالی ۔
            اس طرح پروفیسر منصور عمر نے ”بہار کے چند نامور شعرا“ کی ۳ جلدوں سمیت ۸ کتابیں ترتیب دے کر اپنی مہارت، ذوق اور حسن انتخاب کا ثبوت پیش کیا ہے ۔ یہ کتابیں نہ صرف منصور عمر کی علمی خدمات کو پیش کرتی ہیں بلکہ اردو ادب کے گراں قدر سرمائے میں بیش بہا اضافہ بھی ہیں جن کی وجہ سے اردو زبان وادب کی تاریخ میں ان کام نام احترام سے لیا جاتا رہے گا۔ یہاں اس بات کا اظہار ضروری ہے کہ انہوں نے” بہار کے چند نامور شعرا “کے عنوان سے جو کام شروع کیا تھا وہ بہت وسیع ہے اور دبستان بہار کی تاریخ کو باوزن اور وقیع بنانے کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ گرچہ یہ کام انہوں نے پروفیسر مظفر مہدی کے اشتراک سے شروع کیا تھا جو امید ہے کہ آئندہ بھی اس کو آگے بڑھاتے رہیں گے ۔ لیکن یہ اپنی نوعیت کے کام کی ایک جہت تھی۔ بہار کی علمی وادبی خدمات کی دیگر جہات کو شامل کرنے کے لیے ،جن کی طرف بھی منصور عمر کی توجہ رکھتے تھے، ضروری ہے کہ شبلی کی طرح انہیں بھی کوئی سلیمان ملے جو اس کام کو جاری رکھ سکے۔
٭٭٭
(۱) پروفیسر مطیع الرحمن ایل این ایم یو دربھنگہ کے صدر شعبہ اردو تھے۔ انہوں نے اردو زبان میں مختلف علاقوں کے جغرافیائی پس منظر کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہاں کی زبان وادب اور اردو زبان کے اثرات کا بڑی سطح پر جائزہ پیش کیا ہے۔