مشمولات

Thursday, 28 November 2024

دارجلنگ کی سیر کی سیر

 


’دارجلنگ کی سیر‘  کی سیر

نظام زندگی کو سمجھنے کے لیے زمین کی سیر کرنا اور تدبیر کائنات کا مشاہدہ کرنا ذی نظر انسان کی تقریبا جبلت میں شامل رہا ہے۔  یہ انسانوں کے لیے اتنا اہم  ہے کہ  قرآن نے بھی کئی مقامات پر  ’’سیروا فی الارض فانظروا‘‘  کا درس دیا ہے۔ تسخیر کائنات کی کاوش اسی مشاہدہ و معائنہ  کا نتیجہ رہا ہے۔ اپنی زمین سے نکل کر دوسرے خطہ ارض میں جانے کے بعد انسان کو  نہ صرف فطرت کی صناعی اور قدرت کی کاریگری کا معائنہ کرنے کا موقع ملتا ہے بلکہ قدرتی وسائل کو انسانی ہاتھوں نے  جس خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے اس کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ اس سے دیکھنے والوں کی فکر مہمیز ہوتی ہے۔ دیگر  خطہ ارض کے باشندوں کی بود و باش، بول چال، رہن سہن، اشیائے خورد ونوش  اور ان کا طریقہ استعمال، پہننا اوڑھنا گویا جملہ اطوار زندگی سے متعارف ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اس سے دیکھنے والوں کی طرز حیات میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔ معیشت میں بہتری آتی ہے۔روزگار اور  اقتصادیات کے بھی نئے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ قوموں کے ساتھ میل جول کے باعث خوب و زشت کی پرکھ ہوتی ہے اور انسان کی  فکر میں لچک اور توسع پیدا ہوتا ہے۔ الغرض ان سب سے انسان اعلی طرز زندگی کی طرف پیش رفت کرتا ہے۔

                لیکن یہ دنیا اتنی کشادہ ہے کہ راہ نوری اور جادہ پیمائی کے جدید ترین جملہ وسائل کی دستیابی کے باوجود اس عالم رنگ و بو کی دشت پیمائی کے لیے انسان کی حیثیت  اب بھی پا پیادہ کی ہے۔ لہذا اب تک کی تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے جنہوں نے  پوری دنیا تو دور دنیا کے قابل ذکر حصوں کی زمین کو ہی اپنے پاؤ ں سے  آلودہ   کیا ہو۔ اہل نظر نے  اس کی تلافی سفرناموں اور سیر و سیاحت کی روداد سے کی ہے۔ سفر اور اس کی روداد اتنی دلچسپ ہوتی ہے کہ گمان غالب یہ ہے کہ جب تحریر کا وجود نہیں رہا  تھا  تب بھی سفر کرنے والے لوگ واپسی پر اپنی قوم اور اپنے لوگوں کے درمیان چٹخارے لے لے کر  روداد سفر بیان کرتے رہے ہوں گے اور لوگ بھی انہماک سے سنتے رہے ہوں گے۔  یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں سفرناموں کو اہمیت حاصل رہی ہے۔  دنیا تیزی سے بدلتی رہی ہے ۔ آج سے ہزاروں سال قبل کوئی خطہ جیسا رہا ہوگا اس میں اب بڑی تبدیلی آچکی ہوگی ، اس کے باوجود ہزاروں سال قبل کے سفرناموں کا آج بھی   لوگ شوق  سے مطالعہ کر کے تصور کی آنکھوں سے  سیر فی الارض کا لطف لیتے ہیں۔ ابن بطوطہ  اور البیرونی وغیرہ کا مطالعہ آج بھی بڑے شوق سے کیا جاتا ہے۔ اس وقت لوگ کس طرح سوچتے تھے، کس طرح رہتے تھے، علم و معرفت کی سطح کیا تھی، معیشت کے  کیا ذرائع تھے، خواتین کے ساتھ کیا برتاؤ ہوتا تھا، غلاموں اور باندیوں کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے، یہ سب چیزیں پڑھ کر لوگ بصیرت و آگہی حاصل کرتے ہیں۔

زیر نظر کتاب دارجلنگ کی سیر ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کی نئی تصنیف ہے  جس کو انہوں نے سفرنامہ کا نام دیا ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ انہوں نے دار جلنگ کی سیر کے بعد یہ سفر نامہ تحریر کیا ہے۔ جس طرح ان کا یہ سفر مختصر رہا ہے اسی طرح محض  اڑتالیس صفحات پر مشتمل  یہ سفر نامہ  مختصر ہے۔

زیر نظر سفرنامہ گرچہ مختصر ہے لیکن کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے بڑی گہرائی سے چیزوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ مقام مذکور میں کون کون سی جگہیں سیر کرنے کی ہیں اور کس جگہ کی کیا خصوصیات ہیں اس کو بڑی باریکی سے پیش کیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے جزویات  کو بیان کرنے  سے  کسی حد تک گریز کیا ہے لیکن جہاں بھی انہوں نے جزویات کو شامل کیا ہے بڑی خوبصورت منظر کشی کی ہے۔چنانچہ  ٹائیگر ہل کے بیان میں انہوں  نے نمود صبح کے شاعرانہ منظر کی جو خوبصورت عکاسی کی ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے گرچہ موسم کی خرابی کی وجہ سے وہ اس منظر کو دیکھنے سے محروم رہے۔

ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے ایک مقام سے دوسرے مقام کی دوری، گھومنے والی جگہوں پر کھانے پینے کی چیزوں کی دستیابی، ٹکٹ، گاڑیوں کی دستیابی، ان کا کرایہ، گھومنے کا  مناسب اور موزوں وقت وغیرہ کی طرف بہت اچھی رہنمائی کی ہے۔  سیر و سیاحت میں ایک خطیر رقم خرچ ہوتی ہے۔ مصنف نے کفایتی سفر کیا ہےا ور پڑھنے والے اس کے ذریعہ کفایتی سفر کا منصوبہ بناسکتے ہیں۔ انہوں نے مختلف جگہوں کی تاریخی حیثیت کو بھی بتانے کی کوشش کی ہے۔ یہ ان کا دوسرا سفر تھا۔ پہلے سفر اور دوسرے سفر کے درمیان جو تبدیلیاں نظر آئی ہیں ان کی طرف بھی انہوں نے اشارہ کیا ہے۔ چائے باغان کے سلسلے میں بھی ان کے جو تجربات ہیں وہ بھی اس کتاب میں موجود ہیں۔

کتاب میں زبان تکلف اور تصنع سے پاک اور بیان میں بے ساختگی اور روانی ہے۔ حالانکہ چند ایک مقامات پر وہ تکلف کی زحمت گوارا کرلیتے تو بے جا نہیں تھا۔ بالکل بول چال کی زبان میں انہوں نے یہ کتاب تحریر کی ہے۔ شاید اسی وجہ سے کتاب قاری کو ابتدا سے انتہا تک جوڑے رہتی ہے۔ انہوں نے کتاب میں کئی جگہوں کی تصویریں بھی شامل کی ہیں۔ تصویریں رنگین ہوجاتی تو شاید لطف اور بھی بڑھ جاتا۔  بہر کتاب لطف سے خالی نہیں ہے۔ مختصر ہونے کی وجہ سے ایک نشست میں پڑھی جاسکتی ہے اور دارجلنگ کی سیر کا تصور کی آنکھوں سے لطف لیا جاسکتا ہے۔  طباعت عمدہ ہے اور قیمت فی صفحہ  فوٹو اسٹیٹ سے زیادہ نہیں ہے۔

Sunday, 10 March 2024

تعلیم میں میڈیا کا رول The Role of Media in Education

تعلیم میں میڈیا کا کردار

تعلیم و تعلم انسانی زندگی کو اپنے عہد سے ہم آہنگ کرنے کا عمل ہے۔ تعلیم سے انسان دنیا کی ترقی اور دنیا میں جینے کے طریقے سے نہ صرف واقف ہوتا ہے بلکہ خود کو سوسائٹی اور ماحول کے مطابق ڈھالنے کے لائق بناتا ہے۔ وہ معاشرہ کی سطح زندگی کو فکری، عملی ، تکنیکی اور سائنسی بنیادوں پر آگے بڑھانے اور بہتر بنانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرتا ہے ۔اس کے ذریعہ انسان اس کائنات کو زیادہ سے زیادہ اپنے لیے مسخر کرنے کا اہل بنتا ہے۔ دنیا کی یہ ساری ترقیاں جو ہماری نظروں کے سامنے ہیں؛ جن سے ہم انفرادی یا اجتماعی سطح پر فائدہ اٹھا رہے ہیں ؛ یہ سب زندگی کو سہل بنانے کی کوششیں ہیں۔ بلاشبہ یہ سبھی ہمیں آگاہی اور تسخیر کائنات کی کوششوں کے نتیجے میں ہی حاصل ہوئی ہیں۔

اس کے بالمقابل میڈیا بھی انسان کو اپنے عہد سے ہم آہنگ کرنے کا ہی میڈیم یا ذریعہ ہے۔ میڈیا سے نہ صرف اپنے آس پاس بلکہ دنیا میں (حالانکہ انٹرنیٹ اور گلوبلائزیشن نے پوری دنیا کو آس پاس ہی کر دیا ہے) کہیں بھی ہونے والی چھوٹی موٹی واردات سے لے کر بڑے بڑے واقعات، حادثات، سانحات ، ایجادات، دریافتوں اور آنے والے دور میں انسانی زندگی پر مرتب ہونے والے ان کے فوری اور دور رس اثرات سے فوری طور سے آگاہی ہوتی ہے۔ ان کو ہم کلاس روم میں بیٹھ کر یا نصاب کی کتابیں کھول کر اسی لمحے نہیں جان سکتے ہیں۔جبکہ میڈیا اسی لمحے ہمیں یہ جانکاری دیتا ہے۔ یہ چیزیں کتابوں میں اس وقت آتی ہیں جب ان کو اپڈیٹ کر کے نئے ایڈیشن میں شامل کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اتنی دیر میں دنیا آگے بڑھ چکی ہوتی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر ہم ان معلومات کو حاصل کرنے کے لیے نصابی کتابوں کے بھروسے رہیں گے تو ہماری زندگی اپنے عہد سے ہم آہنگ نہیں ہوسکتی ہے۔ کتابیں ہمیں ‘ماضی بعید ’سے ‘ماضی قریب ’ تک ؛جو ‘حال ’ کے آس پاس ہوتا ہے ، لے کر آتی ہیں، جبکہ میڈیا ہمیں ‘حال’ سے لے کر ‘مستقبل’ تک لے جاتا ہے اور یہی ‘حال’ آگے چل کر ‘ماضی’ بن جاتا ہے۔ ماضی’ کیا ہے؟ یہی تو تاریخ (History) ہے جس میں واقعات ترتیب اور تسلسل کے ساتھ درج کئے جاتے ہیں جن کو کتابوں میں پڑھا جاتا ہے۔ گویا تعلیم اور میڈیا کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ چند مثالوں سے اس کو مزید واضح کر کے سمجھا جاسکتا ہے۔

مثلا: آزادی ہند کی تاریخ ہمارے نصاب کا حصہ ہے۔اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ اس تاریخ کی تشکیل کے پرائمری سورس میں میڈیا بھی شامل ہے۔میڈیا عمومی طور پر بھی تاریخ کے پرائمری سورس میں شامل ہے۔ البتہ دور حاضر کے میڈیا کے اعتبار اور صداقت کے حوالے سے سوالات قائم کئے جاسکتے ہیں۔  میڈیا ہر دن کی تاریخ مرتب کرتا ہے اور ایک عرصہ کے بعد ایک تسلسل میں اس کو پرو دیا جائے تو مربوط تاریخ بن جاتی ہے۔یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ دنیا کی ہر تاریخ - قدیم یا جدید - اگر وہ اخبارات کی اجرائی سے قبل کی نہیں ہے، تاریخ  بننے سے قبل وہ میڈیا کا حصہ بنی ہے۔ تاریخ کے حوالے سے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ تاریخ محض واقعات کا تسلسل و ترتیب میں اعادہ نہیں بلکہ اس سےقوموں کے عروج و زوال اور کشمکش کا ادراک ہوتا ہے۔ اس سے انسان کو یہ شعور حاصل ہوتا ہے کہ وہ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں کن اصولوں اور ضابطوں  کی بنیاد پر زندگی کی بنیاد رکھے جو اس کو داخلی اور خارجی خطرات سے بچاتے ہوئے سماج اور معاشرہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے اور سماج کے ہر فرد کو اس کی زندگی میں وقار بخشتے ہوئے مساوی مواقع فراہم کرے۔  بلا شبہ تعلیم کے جملہ مقاصد میں یہ ایک اہم اور مقدس مقصد ہے۔ ماضی یا تاریخ سے سبق لیتے ہوئے پیشگی طور پر کسی اقدام وعمل کے نتائج کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ میڈیا جہاں روز مرہ کے واقعات، حادثات اور سانحات سے واقف کراتا ہے وہیں اس میں ایک جزو ایسا بھی ہوتا ہےجس میں واقعات کے پیچھے یا خبروں کے بین السطور کار فرما عوامل کی نشاندہی ہوتی ہے۔اس میں مستقبل کی طرف رہنمائی یا پیشین گوئی بھی ہوتی ہے جو کسی واقعہ یا سرگرمی کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوسکتے ہیں۔ تجزیے اور اداریے اس کی مثالیں ہیں۔ تاریخ کی تدریس کے عمل میں طالب علم کو اپنے عہد سے جوڑنے کے لیے میڈیا کا یہ حصہ بہت کار آمد ثابت ہوسکتا ہے۔

اسی طرح موجودہ وقت میں سائنسی دریافتیں یا ایجادیں جو بعد میں نصاب کا حصہ بنتی ہیں پہلی مرتبہ میڈیا ہی ان کو عوام کے سامنے لاتا ہے۔ ۲۳ ؍اگست ۲۰۲۳ کو ہندوستان نے ایک بڑی تاریخ رقم کی۔ چندر یان ۳ کو چاند پر کامیابی کے ساتھ لینڈ کرایا گیا۔ اس پورے عمل کو لائیو ٹیلی کاسٹ کیا گیا جس کو نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کے لوگوں، سائنس دانوں اور اہل علم نے دیکھا۔ یہ لائیو ٹیلی کاسٹ طلبہ کے لیے بھی دلچسپی کا مرکز تھا۔ ایک ایک چیز جس تفصیل اور باریکی سے بیان کی گئی وہ بچوں کی تعلیم کا حصہ بننے کے ساتھ عوام کی جانکاری کا ذریعہ بھی بنی۔ ظاہر ہے کہ ان کی معلومات اس تفصیل اور جزئیات کے ساتھ اسی لمحے کلاس روم اور کتابوں کے ذریعہ حاصل نہیں کی جاسکتی تھی۔ دوسرے یہ کہ تعلیمی مراحل کی تکمیل کے بعد انسان کو سیکھنے اور سکھانے کے عمل سے جوڑے رکھنے میں بھی میڈیا مؤثر ذریعہ ہے۔

تعلیم کو فروغ دینے اور کلاس روم کے عمل کو سہل بنانے میں رسائل و جرائد کا بھی بڑا اہم رول ہے۔ ہر زبان میں ایسے درجنوں رسائل و جرائد شائع ہوتے ہیں جو بچوں کی سطح معلومات اور عمر کو سامنے رکھ کر شائع کئے جاتے ہیں۔ ان میں معلومات عامہ کے ساتھ سائنس، ریاضی اور عمرانیات وغیرہ جیسے موضوعات پر مبنی کہانیاں اور مضامین شائع کئے جاتے ہیں۔ زبان کو سیکھنے اور زبان پر عبور حاصل کرنے میں بھی ان رسائل و جرائد کی اہمیت رہی ہے۔ ہندی اور انگریزی زبان میں چمپک اور انگریزی میں وزڈم جیسے رسائل سے تو اکثر طالب علم واقف ہیں۔اردو میں بھی قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی سے نکلنے والا رسالہ‘ بچوں کی دنیا’ کے علاوہ ‘امنگ’،‘پیام تعلیم’، ‘نور’، ‘بتول’ اور غنچہ جیسے کئی رسالے ہیں جنہوں نے بچوں کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور معروف سائنس داں ڈاکٹر اسلم پرویز کی ادارت میں ماہنامہ سائنس تواتر کے ساتھ شائع ہو رہا ہے جس کا مقصد طلبہ میں سائنسی سوچ کو فروغ دینا ہے۔ اس رسالے میں بھی ایسے مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں جن کے مطالعہ سے طالب علم اپنے سائنسی مضمون کے مختلف اسباق کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔  

کئی اچھے اخبارات بھی ہفتہ میں ایک دن ایسا ضمیمہ شائع کرتے ہیں جس میں بچوں کی دلچسپی کا سامان موجود ہوتا ہے اور جو تدریسی اور تعلیمی اہمیت کے بھی حامل ہوتے ہیں۔ روزنامہ انقلاب میں سنیچر کو ایسا ضمیمہ شائع ہوتا ہے جو بچوں کی کشش اور دلچسپی کا سامان رکھتا ہے۔ کئی اخبارات امتحانات کے وقت نمونہ سوالات شائع کرکے بچوں کی تعلیم کو اور امتحان کو سہل بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میڈیا کے ضمن میں ان کہانیوں کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے جو بچوں کی تعلیم و تدریس کے مد نظر تحریر کئے جاتے ہیں۔ گرچہ موجودہ دور میں بچوں میں بھی بڑوں ہی کی طرح کتاب سے دلچسپی کا رجحان تیزی سے کم ہوا  ہے جو انتہائی تشویشناک  بات ہے۔ ایسے دور میں جبکہ کتاب سے بچوں کی دلچسپی ختم ہو رہی ہے، ایسے کئی ادارے سامنے آئے ہیں جو آن لائن ڈجیٹل کتابیں دستیاب کرا رہے ہیں تاکہ  بچے آن اسکرین کتابوں سے جڑ سکیں۔اس کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں بچوں کے لیے وقت اور جگہ کا مسئلہ نہیں رہتا۔ وہ کہیں بھی ہوں  اگر ان کے ہاتھ میں آن لائن مطالعہ کے لیے ڈیوائس موجود ہے تووہ اپنا مطالعہ جا ری رکھ سکتے ہیں۔

 اسی تناظر میں تعلیم کے میدان میں کام کرنے والی رضاکار تنظیم پرتھم بکس کا ذکر بطور خاص کیا جاسکتا ہے جس نے اپنی اور مختلف پبلشروں کی تقریبا ۶۰ ہزار کتابیں اپنے پلیٹ فارم پر شائع کی ہیں اور جو تین سو اکیاون (۳۵۱) زبانوں میں موجود ہیں۔ آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ گیارہ ہزار کتابیں سائنس اور نیچر کے موضوع پر ہیں۔ دو ہزار تیرہ کتابیں ریاضی کے موضوع پر ہیں۔ بتیس سو ترپن (۳۵۵۳) کتابیں سرگرمیوں پر مبنی ہیں۔ اس طرح کل اڑتیس (۳۸) زمروں میں کتابیں موجود ہیں جو درسیات کو مد نظر رکھ کر تخلیق کی گئی ہیں اور یہ ساری کتابیں آن اسکرین مطالعہ کی جاسکتی ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد میں مطبوعہ کتابیں بھی ہیں۔ ۔ حالانکہ اس سے مطبوعہ کتابوں کی اہمیت کم نہیں ہوتی ۔ ان  کی اہمیت ہر حال میں برقرار ہے اور آئندہ بھی برقرار رہے گی۔

تعلیم اور میڈیا کے حوالے سے ریڈیو کا ذکر بھی ناگزیر ہے۔ ریڈیو کی ایجاد انسانی ترقی کو تیز کرنے میں بڑی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ گرچہ دور حاضر میں ٹیلی ویژن اور میڈیا کے دیگر تیز اور آسان ذرائع کے فروغ کے بعد ریڈیو کا استعمال کم ہوگیا ہے لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ لوگوں کو دنیا کے حالات و واقعات سے باخبر کرنے اور سامان تفریح فراہم کرنے میں ریڈیو نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے اور آج بھی دیہی علاقوں اور کم پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان یہ میڈیم بہت کار گر ہے اور اس کا استعمال بھی ہورہا ہے۔اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ دیگر کام کو انجام دیتے ہوئے بھی اس میڈیم کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔  ریڈیو کے ذریعہ جہاں عوامی بیداری میں بھی اضافہ ہوا وہیں تعلیم کو فروغ دینے میں اس کا رول ناقابل فراموش ہے۔ ریڈیو پر کئی طرح کے تعلیمی پروگرام نشر  اور پسند کئے جاتے رہے ہیں۔ ریڈیو کو اچھی زبان سیکھنے میں بھی معاون سمجھاجاتا رہا ہے۔ پرانے طلبہ اس سے بخوبی واقف ہیں کہ ماہرین انگریزی زبان تلفظ کی درست ادائیگی سیکھنے کے لیے طلبہ کو ریڈیو کی انگریزی خبروں کو سننے کا مشورہ دیتے تھے۔

زبان کے حوالے سے یہ ذکر کرنا بے جا نہیں ہوگا کہ موجودہ وقت میں اساتذہ میں زبان کی خامیاں بہت زیادہ ہیں۔ نہ صرف تلفظ کی ادائیگی کی سطح پر بلکہ قواعد کی سطح پر بھی بڑے پیمانے پر کمزوری پائی جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ اساتذہ کی اپنی زبان درست نہیں ہوگی تو طلبہ پر اس کے برے اثرات پڑنے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ 

بچوں کے لیے ریڈیو اور ٹیلی ویزن کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ۱۹۹۱ میں یونسیف کی جانب سے نشریات اطفال کا بین الاقوامی دن(International Children's Day of Broadcasting) منانے کا اعلان کیا گیا۔ ۲۰۰۸ میں یہ دن مئی کے پہلے اتوار کو منایا گیا اور ۲۰۰۹ سے مارچ کے پہلے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ براڈ کاسٹروں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس دن بچے کے لیے زیادہ سے زیادہ نشریہ پیش کریں۔ اس دن کے موقع پر براڈ کاسٹنگ میں بچوں کی بھی شرکت ہوتی ہے ۔

براڈ کاسٹر بچوں کو اس کی اجازت دیتے رہے ہیں کہ وہ پروگرامنگ کے عمل میں شامل ہوں اور اپنے ساتھیوں اور ہمجولیوں سے اپنی امیدیں اور اپنے خواب سے متعلق معلومات شیئر کریں۔

          1994میں یونیسیف نے انٹرنیشنل چلڈرنس ڈے آف براڈ کاسٹنگ ایوارڈ دینے کے لیے انٹرنیشنل اکیڈمی آف ٹیلی ویزن اینڈ سائنس میں شرکت کی۔ یہ انعام ایسے ٹیلی ویزن ناشر کو دیا جاتا تھا جنہوں نے نشریات اطفال کے بین الاقوامی دن کی مناسبت سے بہترین پیشکش نشر کرتے ہوئے مشن کو آگے بڑھایاہو۔ 2008کے بعد یونیسیف نے خود ہی ٹیلی ویزن اور ریڈیو کی خدمات کے اعتراف میں آئی سی ڈی بی ایوارڈ دینا شروع کردیا ۔

          ٹیلی ویژن اور ریڈیو نے عالمی مسائل کو اجا گر کرنے اور ان کا حل کی طرف رہنمائی کرنے  میں ہمیشہ اہم رول ادا کیا ہے اور بچوں کی شخصیت کی تعمیر میں ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ یونیسیف براڈ کاسٹروں سے یہ اپیل بھی کرتا ہے کہ وہ تمام بچوں کی ترقی میں اہم رول ادا کریں۔ ایسے دستاویزی پروگرام پیش کریں جن سے بچوں کے حالات اور ان کے امنگوں کی عکاسی ہوسکے۔ جنسی تعصب اور امتیازات کا خاتمہ ہوسکے اور ایسے پروگرام پیش کئے جائیں جو ان کے لیے سبق آموز ہونے کے ساتھ تفریح سے پر ہوں۔ ٹیلی ویزن اور ریڈیو بچوں اور نوجوانوں کے لیے ایک بامقصد اور مثبت ذریعہ ہیں۔

 فی الوقت ٹیلی ویژن پر ایسے بہیترے ٹیلی ویزن پروگرام موجود ہیں جن سے بچوں کی تعلیم وتدریس کا کام لیا جا رہا ہے۔

یہ بات بھی سب جانتے ہیں کہ ہندوستان زراعت پر مبنی نظام کا حامل ملک ہے۔ ٹیلی ویژن، ریڈیو اور پرنٹ میڈیا نے ملک کے کسانوں کو نئی ٹیکنالوجی سے واقف کرانے میں بھی بہت اہم کر دار ادا کیا ہے۔

 تعلیم میں میڈیا کے رول کے حوالے سے کرونا کے عہد کا ذکر بھی ناگزیر ہوجاتا ہے ۔ جب تعلیم گاہوں میں تالے پڑے تھے یہ میڈیا ہی تھا جس نے بچوں سے لے کر اعلی تعلیم حاصل کرنے والوں کے لیے تعلیم کا دروازہ کھول دیا۔ اسی طرح چھوٹے بچوں سے لے کر اعلی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے ایسے کئی ایپ موجود ہیں جو کلاس روم کا متبادل بن چکے ہیں۔ یوٹیوب پر ہزاروں تعلیمی ویڈیو موجود ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر طلبہ اپنی لیاقت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

یہ حقیقت بھی کسی سے مخفی نہیں ہے کہ آزادی کے ۷۵ برس گزر جانے کے باوجود آج بھی ہمارے ملک میں صد فیصد خواندگی کی شرح نہیں آ پائی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک کی مجموعی شرح خواندگی ۲۰۲۲ء تک ۷۷ ؍ اعشاریہ ۷۰ فیصد ہے جبکہ بہار کی شرح خواندگی ۶۱؍ اعشاریہ ۸۰ فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار بلاشبہ مایوس کن ہیں۔ ایسے حالات میں میڈیا کی ذمہ داری دوہری ہو جاتی ہے۔ ایک طرف ان لوگوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے میں میڈیا اپنا کردار ادا کرسکتا ہے جو تعلیم کی اہمیت سے نا واقف ہیں۔ دوسری طرف میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسے علاقوں اور ایسے گھرانوں کا سروے کر کے حکومت کو باخبر کرائے جہاں کے بچے تمام سرکاری سہولیات کے باوجود اسکول نہیں جا رہے ہیں یا پھر ایسے بچوں کی نشاندہی بھی میڈیا کے ذریعہ کی جاسکتی ہے کہ جن کے لیے حکومت کی یہ سرکاری سہولیات ناکافی ہیں۔ آج بھی ایسے Slum Areas موجود ہیں جہاں کے بچے کوڑے چننے، گلیوں میں آوارہ پھرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے لوگوں  کے مسائل کو سامنے لانے میں میڈیا نے رول ادا کیا ہے تاہم مزید پیش رفت کی ضرورت ہے۔

میڈیا کی حیثیت تعلیم کے لیے ایک محتسب کی بھی ہے۔ چھوٹی یا مقامی سطح پر یہ کام میڈیا کے ذریعہ کیا بھی جاتا ہے۔لیکن اس کا ایک سیاہ پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو اس نام پر تعلیمی عمل کا احتساب کرنے کی بجائے کچھ اور چیزوں کی تلاش کرنے لگتے ہیں۔ اگر میڈیا ایمانداری سے احتساب کا عمل انجام دے اور اپنے کام میں مخلص ہو تو اس میں کوئی شک نہیں کہ تعلیمی عمل پر اس کا مثبت اثر پڑے گا اور معیاری تعلیم کے فروغ میں میڈیا کا کردار قابل تحسین ہوگا۔

تعلیم کو بہتر، آسان اور تمام لوگوں تک اس کی رسائی کے لیے حکومت کی جانب سے تعلیمی پالیسی بنائی جاتی ہے۔ آزادی کے بعد ۱۹۶۸، ۱۹۸۶ اور ۲۰۲۰ میں نئی تعلیمی پالیسیاں بنائی گئی ہیں۔ بلاشبہ ان پالیسیوں کے مثبت اثرات ہندوستان کی تعلیم پر مرتب ہوئے ہیں ۔اس کے باوجود یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ ان پالیسیوں کے اہداف کی صد فیصد تکمیل نہیں ہوپائی ہے۔ ساتھ ہی ان پالیسیوں کے نتیجے میں نصاب تعلیم کی تشکیل میں کئی بار تہذیب اور تاریخ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ میڈیا کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسے وقت میں منصفانہ جائزہ لیتے ہوئے ان پالیسیوں میں شامل ایسی کوششوں کی نفی کرے اور حکومت کو باور کرائے کہ یہ عمل ہندوستان کے لیے کتنا نقصاندہ ہے۔

 میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پالیسیوں کا زمینی حقائق سے موازنہ بھی کرے اور پالیسی سازوں،محکمہ تعلیم اور حکومت کے ساتھ عوام کو یہ بتائے کہ پالیسی کا کون سا جزو کتنا مؤثر یا غیر مؤثر ہے۔میڈیا میں ماہرین اس کا جائزہ لیتے بھی ہیں لیکن اسکولوں میں جا کر اور ان کا نزدیک سے مشاہدہ کر کے جائزہ لینے کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ تعلیم گاہوں میں جا کر ان کا محاسبہ کرے اور ایک سچا تجزیہ پیش کرے جو ہندوستان کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوسکے۔

الغرض میڈیا کا دائرہ کار بڑا وسیع ہے اور زمرہ کے اعتبار سے بھی اس میں بڑا تنوع ہے ۔ ان تمام قسموں اور تعلیم پر ان کے اثرات بھی کثیر الجہات ہیں۔ ایک طرف ان میں کئی ذرائع ایسے ہیں جن کو درس و تدریس کے لیے راست طور پر کام میں پر لایا جاسکتا ہے تو دوسری طرف تعلیم کے تئیں  عوامی بیداری لانے کی حیثیت سے بھی ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے اور ہوتا بھی رہا ہے۔ لیکن ان سب کا یہاں احاطہ ممکن نہیں ہے۔ تاہم میڈیا اور تعلیم کے مابین انسلاکات کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا جاسکتا ہے کہ تعلیمی عمل میڈیا کے بغیر ناقص اور ادھورا ہے۔

***

 

 یہ مضمون اورینٹل کالج آف ایجوکیشن (شیشو)، دربھنگہ میں منعقد دو روزہ سیمینار بعنوان اکیسویں صدی کے لیے تعلیم کی تشکیل نو  بتاریخ  ۹؍ ۱۰ مارچ ۲۰۲۴  کے لیے کالج کی دعوت اور مطالبہ پر  لکھا گیا اور لیکن وقت کی کمی کی وجہ سے سیمینار میں پیش نہیں کیا جاسکا۔ 

 

 

 

 

 

 


Monday, 5 September 2022

क्या शिक्षक अपने कार्य से संतुश्ट हैं?

क्या शिक्षक अपने कार्य से संतुष्ट हैं?

 

आज 5 सितम्बर है। शिक्षक दिवस। शिक्षकों के प्रति सम्मान का दिन। इस अवसर पर सभी शिक्षकों को बधाई! इस विशेष अवसर पर छात्रों ने हमें सम्मान दिया। राष्ट्रपति, राज्यों के राज्यपालों और जिलों के जिला मजिस्ट्रेटों ने भी शिक्षण के क्षेत्र में हमारी मूल्यवान सेवाओं को स्वीकार किया।  हम आज ही नहीं हर दिन और हर पल अपने छात्रों द्वारा सम्मान के पात्र हैं। सरकार और समाज की ओर से सम्मान के पात्र हैं। आज के दिन सम्मान को स्वीकार करते हुए हमें अपनी समीक्षा करने की आवश्यकता है कि हम अपने कार्य से कितने संतुष्ट हैं? क्या हमें संतुष्टि है कि हम पूरी निष्ठा से अपने कर्तव्यों का निर्वहन कर रहे हैं? सादा दिल छात्रों ने आज जिस प्रकार से हमें सम्मानित किया, वही छात्र जब इस लायक हो जाएगा कि वह अपने भले-बुरे को समझ सके और अपने पिछले दिनों की समीक्षा करे तब भी वह हमें इसी सम्मान के साथ याद करे और कहे कि वह जो कुछ है हमारे ही एहसान और प्रयासों का परिणाम है? यदि हमे यह संतुष्टि है और हमारा दिल अपने कार्यशैली पर संतुष्ट है तो इस दिवस की बधाई! बारंबार बधाई।

परंतु अगर हम आज स्वयं अपने कार्यशैली से संतुष्ट नहीं हैं और अगर अभी हमारे सीने में दिल हम से यह कह रहा है कि हमने उस गीली मिट्टी को बिगाड़ दिया है जिसमें कुछ बनने की क्षमता थी, उस के अंदर मौजूद बल-शक्ति को हम बर्बाद कर रहे हैं और जो हम उनके साथ कर रहे हैं वही अगर हमारे साथ होता तो हम उस पर क्या करते, तो हम अपने कार्यशैली में बदलाव ले आएं क्योंकि यह भोले-भाले छात्र आज हमारा चाहे जितना सम्मान करें, जब यह बड़े होजाएंगे और इनका भविष्य तबाह हो चुका होगा तो वे हमें मुआफ नहीं करेंगे। वे हमारे सामने से गुजरेंगे हैं और उनकी नजर हमारे एहसान से झुकेगी नहीं बल्कि उनका सीना अकड़ा हुआ होगा और हमारी ओर घृणा की दृष्टि से देखेंगे। सोचिए उस समय हमारे दिल पर क्या बीतेगी। हमें यह भी बताने की आवश्यक्ता नहीं कि चीजों को बेकार छोड़देने का नुकसान केवल यह नहीं है कि वह काम में नहीं लाई गई बल्कि इसके अंदर जो बल-शक्ति मौजूद थी वह नष्ट हो गई और उस बल शक्ति से स्वयं उसके साथ मानव जीवन को जो लाभ होता एवं विश्व के विकास की गति को तेज करने में जो मदद मिलती वह भी नष्ट हो गई।

क्षमा चाहते हैं, अगर हम इस लायक नहीं है कि गीली मिट्टी को सुंदर रूप दे सकें तो अपने पेशे को छोड़ दें। कोई और काम ढूंढ लें मगर दुनिया में खराब उत्पाद कर देश और समाज के सौंदर्यबोध को नष्ट न करें।

हमारी स्थिति एक कुम्हार की है। हमारे सामने मिट्टी है। हमेंइस मिट्टी से बर्तन बनाना है तो खराब बर्तन तैयार होने से बेहतर है कि न बने। यदि हम खराब बर्तन बनाकर बाजार में उतारेंगे तो यह न बिकेंगे। यदि हमें बनाना ही है तो खराब बनाने  से बेहतर है कि अच्छा बनाएं। इससे हमारे दिल को संतोष होगा। हम अपने हाथ से बनाई हुई चीजों को देखकर खुश होंगे और हमारा दिल हमें संतुष्टि देगा। लेकिन बेहतर तब होगा जब हम चाहेंगे और जब हम में बेहतर बनाने का कौशल होगा। कौशल या हुनर कोई माँ के पेट से लेकर नहीं आता है। वह सीखता है अपने अंथक प्रयासों से। हम प्रयास करेंगे तो हुनरमन्द हो जाएंगे। और जब हुनरमन्द नहीं होंगे तो हम बेहतर नहीं बना सकते हैं।

मिट्टी भी अलग अलग प्रकार की होती है। कौन मिट्टी कितनी गीली होगी और कितनी गोदी जाएगी तो बर्तन अच्छे होंगे यह तभी पता चलेगा जब हम हुनरमन्द होंगे। बच्चे भी कच्ची मिट्टी के समान हैं जो कुछ बन्ने की क्षमता रखते हैं। उन्हें हम चाहें तो संवार दें और चाहें तो बिगाड़ दें। अगर संवार देंगे तो हमारे दिल को संतोष होगा और अपने उत्पाद पर प्रसन्न होंगे और अच्छे उत्पाद के लिए हमको ग्राहकों से अच्छा मुल्य प्राप्त होगा वहीं समाज की ओर से पुरस्कृत भी होगें।

                छात्र भी सभी प्रकार के होते हैं। अलग-अलग प्रकार के छात्र के लिए अलग-अलग प्रकार की कौशल की आवश्यक्ता है। हमें उनकी खूबियों और खामियों और उनकी क्षमताओं को पहचानना होगा तभी हम उन्हें उनकी क्षमता के अनुसार ढाल सकते हैं।

मुझे एक कहानी याद आ रही है। एक शिक्षक थे। बड़े ज्ञानी और दार्शनिक। वह अपने छात्रों का बहुत सम्मान करते थे। एक बार उनके मित्रों ने कहा कि भाई तुम बच्चों को इतना सम्मान क्यों देते हो? उस ने एक ठंडी सांस भरी और कहा कि तुम नहीं जानते कि मेरे सामने अपने समय के अपने विषयों के विशेषज्ञ बैठे हैं। उनमें कोई विज्ञानिक होगा। कोई बड़ा फलास्फर होगा। कोई दक्ष शिक्षक होगा और कोई बड़ा चिकत्सक तो कोई बड़ा इंजीनियर। कोई किसी चीज का आविष्कारक होगा। जिस से मानव जीवन को लाभ होगा। उस समय शायद मैं जीवित न रहूं कि उनका सम्मान कर सकूं। इसलिये मैं आज ही उनका सम्मान कर लेता हूँ।

इस कहानी में सामने की बात यह है कि अपने विद्यार्थियों का सम्मान किया जाए ताकि हम उन्हें दूसरों का सम्मान करना सिखाएं। जब वे दूसरों का सम्मान करेंगे तो हमारा भी सम्मान करेंगे और स्वयं अपना सम्मान करना भी सीख जाएंगे। क्योंकि कोई व्यक्ति अपना सम्मान किये बिना समाज में सम्मानित व्यक्ति के रूप में अपनी जगह नहीं बना सकता। यह हमारे लिए भी गर्व की बात होगी कि हमारा विद्यार्थी समाज और देश का प्रतिष्ठित नागरिक है। लेकिन सबसे महत्वपूर्ण बिंदु यह है कि शिक्षक के सामने लक्ष्य क्या था? वह अपने बच्चों को बनाना क्या चाहता था? और वास्तव में वह जो चाहता था और जिस का वह प्रयास भी करता था वही अपने बच्चों में समय से पूर्व देखता भी था। वह अपने जिस बच्चे में जो गुण देखता था उसको वह मर्तबा भी देता था। ऐसा इसलिये था कि वे अपने प्रयासों से संतुष्ट था, उसने अपनी गलतियों पर काबू पालिया था और निरंतर प्रयासों से अपने काम में दक्ष हो चुका था। अब वह हर छात्र की छिपी क्षमताओं का सही आकलन कर लेता था और उसी के अनुसार उस पर मेहनत करता था। उसे विश्वास था कि वह जो बनाना चाहता है वह बनेगा ही।

जब तक हम अपने बच्चों के प्रति उच्च लक्ष्य निर्धारित नहीं करेंगे तब तक बड़े या अच्छे परिणाम की आशा कैसे की जासकती है? अगर हम अभी से अपने बच्चों से निराश होंगे तो कैसे उम्मीद कर सकते हैं कि हमारे छात्र अपने विषय के विशेषज्ञ होंगे। जब हम किसी वृक्ष से निराश हो जाते हैं तो उसमें पानी देना छोड़ देते हैं। जब जड़ ही सूख जाएगी तो उसकी शाखाएं कहाँ हरी होंगी। हम अपने बच्चों से कभी निराश न हों। हम निराश हो जाएंगे तो उसका दिल पराजित हो जाएगा और फिर वह कहाँ से सफल हो पाएगा।

प्रायः देखा जाता है कि बच्चों के अंदर उबलती हुई बल-शक्ति उसकी रचनात्मकता से मिलकर जब कोई सकारात्मक रूप धारण नहीं करती है तो नित-नई शरारतों में तब्दील हो जाती है। शिक्षक उससे झिल्ला जाता है और भविष्य में इसकी विफलता का अंतिम फैसला दे देता है। कभी हमने सोचा कि इससे क्या हो सकता है? इस से छात्र के भीतर अपनी कमी के संदेह का आधार पड़ जाता है। उसका हौसला पस्त हो जाता है। उसमें आत्मविश्वास की कमी आजाती है और वह पौधा जो घना एवं मजबूत और तनावर  होने की क्षमता रखता था शुरुआत में ही सूख जाता है। हम उन्हें शरारत से जरूर बचाएं लेकिन हम उसको प्रोत्साहित करें कि वह अपनी बल-शक्ति और रचनात्मकता के सकारात्मक उपयोग से कोई नया काम करे। यह सकारात्मक उपयोग उच्च उद्देश्य को पाने के लक्ष्य के साथ सामने लाया जा सकता है।

हमने देखा होगा कि कुम्हार की चाक पर कभी कभी कुछ मिट्टी बेकाबू होती रहती है। कुम्हार उन्हें उठाकर फेंक नहीं देता बल्कि वह निरंतर उसे काबू मे लाकर प्रस्तावित रूप देने का प्रयास करता रहता है। इसके बाद भी अगर वह मिट्टी वह नहीं बन पाती जो कुम्हार चाहता था तब भी कुछ न कुछ बन ही जाती है। छात्रों में भी हमें यह अनुभव होगा और कुम्हार से अधिक होगा। क्योंकि कुम्हार के सामने बेजान वस्तु है जिसमें कोई इच्छा नहीं हैं जबकि हमारे सामने जावित और अपने अनूठे लक्षण एवं इच्छा शक्ति रखने वाली हस्ती मौजूद है जिसे हम से कोई सीख लेने से अधिक अपनी स्वतंत्रता और स्वायत्तता प्रिय है। ऐसी स्थिति के बावजूद हमें उन्हें कुछ बनाने का लक्ष्य रखने का लगातार प्रयास करते रहना है। ताकि वे वह न बन सकें जिसका प्रयास किया गया है तब भी कुछ तो बन ही जाएं।

इसलिये जरूरी है कि हम अपने बच्चों के लिए उच्च लक्ष्य निर्धारित करें। लक्ष्य तब निर्धारित होगा जब हमारे मन में यह विचार हो कि अपने पेशे से केवल रोटी नहीं कमानी है बल्कि हमारे हाथ में जो कच्चा या खाम माल है उस से कोई नई और अनोखी चीज बनानी है जो मेरे मरने के बाद मेरी निशानी होगी। लेकिन इसकी प्राप्ति तभी होगी जब हम खुद को इन्हीं बच्चों में गुम करदें। हम समझें कि बेहतर परिणाम हमारी महनतों का फल है। लेकिन इस के साथ हमें माहिर बनना होगा और माहिर बनने के लिए आवश्यक है कि हमें अपनी कमियों का एहसास हो। जब तक हम अपनी कमियों का एहसास नहीं करेंगे तब तक हम अपनी गलतियों में सुधार नहीं ला सकते हैं और जब तक गलतियों में सुधार नहीं होगा हम माहिर नहीं हो सकते।

अपनी कमियों को दूर करने के लिए हमको अपने काम की समीक्षा करनी होगी। जब एक वर्ग से निकल कर दूसरे वर्ग में प्रवेश कर रहे हों इस समय को मानसिक आराम में बिताने के बजाय अपनी समीक्षा करें कि हमने वर्ग में कहां चूक की। या यदि हमारी याददाश्त कमजोर न हो तो हम ऐसा भी कर सकते हैं कि जब स्कूल से घर चले जाएं या जब स्कूल के काम से फुर्सत मिल गई हो तो उस समय हम पूरे दिन के कार्य की समीक्षा करें। हम महसूस करेंगे कि कौन सा काम कैसे करते तो ज्यादा बेहतर परिणाम सामने आता। जब हम समीक्षा करेंगे तो हमें अपनी कमियों का एहसास होगा। कमियों का एहसास खामियों को दूर करेगा और खामियों की दूरी हमें माहिर बनादेगी तो देर मत करें और माहिर बन जाएं। अच्छा उत्पाद तैयार करें और अपने मन को संतुष्ट करें और जब दुनिया से जाएं तो इस संतोष के साथ कि हमारे ज़िम्मे जो काम दिया गया था उसे हम ने पूरा किया।

शिक्षक बंधूओ! समीक्षा के लिए समय, दिन और तारीख़ कोई मायने नहीं रखते जब एहसास होजाए रुख बदलने के लिए वही समय शुभ है। इसके बावजूद आज जब हमारा सम्मान हो रहा है अपनी जिम्मेदारियों के प्रति समीक्षा का अच्छा अवसर है। इसलिये हमें समीक्षा करना चाहिए और जब हमें एहसास हो जाएगा तो व्यवहार में परिवर्तन बहुत आसान होगा तो समीक्षा करें और अपने व्यवहार में परिवर्तन ले आएं।

***

रा0. बनियादी विद्यालय मझौलिया, दरभंगा

 

Sunday, 17 January 2021

تاکہ سند رہے

 

تاکہ سند رہے

                                                                                                                                                                                احتشام الحق

۱۷؍ جنوری ۲۰۲۱ کے روزنامہ  پندار کے شمارے میں گوشۂ ادب کے صفحے پر عارف حسن وسطوی کا ایک مضمون ‘‘منصور خوشتر : نئی صبح کا استعارہ – ایک مطالعہ ’’ نظر نواز ہوا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے جواں سال ادیب و شاعر ڈاکٹر کامران غنی صبا کی مرتبہ کتاب ‘‘منصور خوشتر : نئی صبح کا استعارہ’’ کے حوالے سے  مبسوط تبصرہ پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے  ان میں بیشتر سے قطع کلام کرتے ہوئے  میرا خیال ہے کہ ایک جگہ  پر شدید اختلاف کی گنجائش موجود ہے اور جس کی وضاحت بھی ضروری ہے تاکہ سند رہے۔ عارف حسن  نے مضمون میں لکھا ہے :

‘‘مجھے لکھنے میں کوئی قباحت نہیں کہ منصور خوشتر جیسے نوجوان کے دم خم سے دربھنگہ شہر بھی ایک دبستان کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ ’’

اس جملے میں عارف حسن وسطوی نے ‘‘کوئی قباحت نہیں ’’ کا  فقرہ  استعمال نہیں کیا ہوتا تو  کہا جاسکتا تھا کہ مضمون نگار نے غیر ارادی طور پر لکھ دیا ہے۔ لیکن کوئی قباحت نہیں کا فقرہ یہ بتاتا ہے انہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ یہ دعوی کیا ہے۔ حالانکہ مجھے اب بھی یقین ہے کہ عارف حسن وسطوی نے سنجیدگی کے ساتھ یہ جملہ نہیں لکھا ہے۔

اس   جملے میں دو باتیں  یا دو دعوے کیے گئے ہیں۔ ایک ‘‘منصور خوشتر کے دم خم سے ’’اور دوسرا  ‘‘دربھنگہ شہر بھی دبستان کی شکل اختیار کر چکا ہے’’۔ یہ دونوں دعوے قابل گرفت ہیں۔ جہاں تک دربھنگہ کے دبستان ہونے کی بات ہے تو یہ واضح رہنا چاہیے کہ دربھنگہ کو بہت عرصے سے ماہرین کے ذریعہ  ایک دبستان کی شکل کے طور پر تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ فی الحال میرے ذہن میں اس کا  حوالہ مستحضر نہیں ہے جس میں اس کا ذکر ہے۔ لیکن جہاں تک میرا حافظہ کام کرتا ہے میں نے کئی جگہوں پر ماہرین کی ایسی رائے دیکھی ہے اور  یہ حقیقت بھی ہے۔ کیونکہ  دربھنگہ میں ہر عہد  میں ایسے ادبا اور شعرا موجود  رہے ہیں جن کی ادبی حیثیت قومی سطح پر مسلم رہی ہے۔یہ اور بات کہ دربھنگہ کو ایک دبستان کا نام تو دے دیا گیا لیکن اس کے ادبی خط و خال پر بحث نہیں کی گئی جو اس کو دبستان کی حیثیت سے ممتاز کرتے ہیں۔ اس طور پر  یہ کہا جاسکتا ہے کہ دربھنگہ کی دبستانی حیثیت دبستان عظیم آباد کی ذیلی شاخ کے طور پر  قائم رہی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ دبستان کو ایک مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔

دربھنگہ سے اٹھنے والے  ادیب وشعرا اور دربھنگہ میں شعر وادب کی آبیاری کرنے والوں میں کئی نام بڑے اہم اور معتبر ہیں۔ ان میں  زیب النساء مخفی بنت اورنگزیب کے استاد ملا ابو الحسن  ہیں۔ اگر آپ دیکھیں تو مظہر امام کا تعلق دربھنگہ ہی سے تھا جن کو آزاد غزل کا بانی قرار دیا گیا ہے۔ خاندان مغلیہ کے ایک شہزادہ مہاراجا لکشمیشور سنگھ کے مصاحب  تھےجو مرزا زبیر بخش عرف زبیر گورگانی  کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔  ان کے دیوان کا نام چمنستان سخن ہے۔  دربھنگہ میں بھیکا شاہ سالانی کے احاطہ میں ان کا مقبرہ ہے۔ شیخ احمد بن شیخ ابو سعید معروف بہ ملا جیون صاحب نور الانور (  گورنر کی حیثیت دربھنگہ میں مامور تھے۔ )، ابو الخیر مظہر عالم خیر رحمانی کا تعلق دربھنگہ سے تھا جو صاحب دیوان شاعر ہیں اور ان کے تین دیوان موجود ہیں۔ یہ ماہنامہ الپنچ کے مدیر بھی تھے۔ شاد عظیم آبادی جیسے شاعر سے ان کی ادبی معرکہ آرائی رہی۔

ان کے علاوہ بھی  آپ نظر ڈالیں کہ الگ الگ وقتوں میں کیسی کیسی ادبی ہستیاں یہاں موجود رہی ہیں تو آپ کو اندازہ ہوجائے گا کہ دربھنگہ کی دبستانی حیثیت کا ماضی میں بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

طہٰ الہی فکر، محسن دربھنگوی، شاداں فاروقی، عاقل رحمانی، صوفی عبد الرحمن، حافظ عبد الخالق جوہر،  ڈاکٹر سید عبد الحفیظ سلفی، شبنم کمالی، اویس احمد دوراں، احسان دربھنگوی، مجاز نوری، حسن امام درد، پروفیسر منصور عمر ، پروفیسر لطف الرحمن،  مولانا عبد العلیم آسی، نور الہدی نور اصلاحی، مولانا قمر اصلاحی (مدیر پروانہ) ، منظر شہاب، نواب سید سعادت علی خاں، ظہیر ناشاد وغیرہ چند ایسے نام ہیں جو ذہن میں آگئے ہیں۔ یہ چند نمایاں نام ہیں اور یہ عہد وار بھی نہیں ہیں۔ جیسے جیسے ذہن میں نام آتے گئے ہیں  لکھ دئے گئے  ہیں۔ انہی حضرات کے دور میں دیگر شعرا و ادبا بھی موجود تھے اور استادانہ حیثیت کے مالک تھے۔  اس کا تفصیلی مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔

موجود ہ  دور میں بھی اگر آپ دیکھیں جہاں پروفیسر عبد المنان طرزی جیسی شخصیت موجود ہے جو نہ صرف اردو زبان بلکہ فارسی شاعری پر بھی دسترس رکھتے ہیں  اور اس کے لیے انہیں صدر ایوارڈ بھی ملا ہوا ہے۔ جدید شعرا میں جمال اویسی بھی قومی سطح پر شناخت رکھتے ہیں اور ان کی شاعری اعلیٰ ادبی معیار پر کھری اترتی ہے۔ موجودہ عہد میں عطا عابدی کی شاعری  بھی  منفرد شناخت رکھتی ہے۔ استاد الشعرا رہبر چندن پٹوی، ڈاکٹر امام اعظم، ڈاکٹر مشتاق احمد، خالد عبادی کے علاوہ ایسے کئی اہم شعر ا ہیں جن کی ادبی حیثیت کا چنداں انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ موجودہ عہد میں جو شعرا موجود ہیں ان میں کئی استادانہ حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کے علاوہ کچھ اور بھی ایسی شخصیتیں موجود ہیں  جو دربھنگہ سے تعلق رکھتی ہیں۔ ا گرچہ ان کا دائرہ عمل اس وقت دربھنگہ یا بہار نہیں ہے۔

شاعری کے علاوہ فکشن، ڈراما نگاری، حالیہ ،  تنقید، تحقیق، صحافت اور دیگر اصناف کے حوالے سے بھی ماضی سے تا ہنوز کئی معتبر نام ہیں جن کا تعلق دربھنگہ سے رہا ہے اور دربھنگہ دبستانی حیثیت کو سازگار بنانے میں ان کی خدمات بڑی اہم اور ناقابل فراموش ہیں۔

Sunday, 26 May 2019

کیا تعلیم ریاست کی ترجیح میں سر فہرست نہیں ہے



کیا تعلیم ریاست کی ترجیح میں سر فہرست نہیں ہے؟؟؟
گزشتہ دن معزز سپریم کورٹ نے بہار کے کانٹریکٹ ٹیچروں  کو مساوی کام کے بدلے مساوی تنخواہ کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے پٹنہ ہائی کورٹ کے ذریعہ جاری فیصلہ کو مسترد  کردیا جس میں کہا گیا تھا  کہ بہار کے ساڑھے چار لاکھ کانٹریکٹ اساتذہ کو مساوی کام کے بدلے مساوی تنخواہ  حکومت کو دینا ہوگا۔ معزز سپریم کورٹ نے یہ  فیصلہ سنایا کہ بہار کے پرائمری سے لے کر ہائر سکینڈری اسکولوں میں کام کر رہے کانٹریکٹ پر بحال اور اب مستقل اساتذہ کے مقابلہ  میں کم شرح تنخواہ پا رہے اساتذہ کو مساوی کام کے بدلے میں مساوی تنخواہ نہیں دی جاسکتی ہے۔ اس کی جو وجہ بتائی گئی ہے بنیادی طور پر  وہ حکومت بہار کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے۔ ممکن ہے ایسا ہو۔ مجھے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ  ان اسکولوں میں پہلے سے کام کر رہے جو مستقل اساتذہ  ہیں انہیں ڈائنگ کیڈر میں ڈال دیا جائے گا اور اب پہلے سے دی جا رہی شرح تنخواہ پر اساتذہ کی بحالی نہیں ہوگی۔ ظاہر ہے کہ حکومت کے پاس  کچھ ایسے اختیارات ہیں کہ وہ کسی طرح کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ اس طرح کے فیصلے جمہوری ملک میں بڑے اٹ پٹے سے لگتے ہیں لیکن ہمیں زمینی حقیقت کے طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ گرچہ حکومت کی تشکیل یہاں جمہوری طریقہ سے ہوتی ہے لیکن حکومت چلانے والے لوگ ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ سے کام لیتے ہیں۔ زیر نظر فیصلہ میں حکومت کے ڈکٹیٹر شپ کے رویہ کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
مالی وسائل کی کمی اپنی جگہ لیکن اس فیصلہ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کی طرف حکومت، اپوزیشن پارٹیوں ، ماہرین تعلیم اور ملک کے دانشور طبقات کا  توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ مالی وسائل کی کمی کے مسائل کے ساتھ ساتھ اگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی تو ریاست کو ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ  دوسرا پہلو یہ ہے کہ  حکومت کی ترجیح میں بنیادی تعلیم  کی حیثیت کیا ہے؟ کیا تعلیم حکومت کی ترجیح میں سرفہرست نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے اور کیا اس کا کوئی اثر سماج اور ریاست پر مرتب نہیں ہوگا؟ ملک کے غریب بچے کیا معیاری تعلیم کے حق سے محروم کر دئیے جائیں گے۔
 ایک بات بہت واضح طور پر سمجھی جاسکتی ہے کہ جب حکومت اچھی شرح تنخواہ پر اساتذہ کی تقرری بند کر دے گی تو اچھے اور قابل لوگوں کی ترجیح بھی تعلیم کے شعبہ میں ملازمت کے لیے نہیں رہ جائے گی۔ کیونکہ ہر آدمی اپنی صلاحیت کے مطابق اس شعبہ کا انتخاب کرتا ہے جہاں اس کی امیدیں اور ضروریات پوری ہوسکیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس زمانہ میں  اور ہر زمانہ میں ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق بہتر سے روز گار حاصل کرنا چاہتا ہے جہاں اسے اچھی تنخواہ اور اچھی سہولیات میسر ہوسکیں تاکہ اس کے معیار زندگی میں بہتری آسکے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں سول سروسیز میں لوگوں کو اس کی صلاحیت کے مطابق اچھی تنخواہ اور اچھی سہولیات اور اچھی عزت ملتی ہے تو جو سب سے کریم بچے ہوتے ہیں وہ اس شعبہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اگر مان لیا جائے کہ سول سروسیز میں موجودہ تنخواہ اور وہ عمدہ سہولیات ختم ہوجائیں جو موجودہ وقت میں دی جا رہی ہیں تو لوگ اپنی لیاقت اور کام کی  صلاحیت کے مطابق کسی اور شعبہ کی تلاش کریں گے۔
تعلیم کے شعبہ کی طرف بھی لوگوں کا رجحان اسی لیے رہا ہے کہ یہاں اس کی صلاحیت کے مطابق مناسب شرح تنخواہ، دیگر سہولیات اور عزت مل سکے۔ لیکن جب حکومت نے یہ چیزیں ختم کردی ہیں تو اس کا سیدھا اثر یہ ہوگا کہ با صلاحیت افراد کا رجحان  شعبہ تعلیم کی طرف ختم ہوجائے گا۔ کیونکہ اس میں  ان کی  علمی لیاقت  اور کام کی صلاحیت کے مطابق ان کی امیدیں اور ضروریات پوری نہیں ہوسکتی ہیں۔ جب لوگوں کا رجحان اور بہاؤ اس شعبہ کی طرف ختم ہوجائے گا تو مجبورا حکومت کو افراد کی قلت کو کم کرنے کے لیے انہی افراد کا انتخاب  کرنا ہوگا جو دیگر شعبوں میں ہارے ہوئے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ ایسے افراد کے انتخاب سے عوامی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس طرح ریاست سے تعلیم چوپٹ ہوجائے گی اور سرکاری اسکول حکومت کا محض ایک غیر مفید شعبہ بن کر رہ جائے گا اور حکومت اس پر جو پیسے بھی خرچ کرے گی وہ ضائع ہوں گے۔ ریاست کے غریب بچے جن کی تعلیم کا ایک واحد ذریعہ سرکاری اسکول ہے معیاری تعلیم سے محروم ہوجائیں گے۔ آج بہار جو ملک بھرمیں اپنی فطری صلاحیتوں کی وجہ سے شناخت رکھتا ہے اس میں کمی آجائے گی۔ معیاری تعلیم چند امیر گھرانوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ساتھ ہی غریب بچوں کے درمیان جو اعلی ذہانت  موجود ہے وہ مناسب موقع نہیں ملنے کی وجہ سے کند ہوجائے گی اور ریاست معاشی وسائل کے ساتھ  ذہنی وسائل کے بحران کا بھی شکار ہوجائے گی۔
اب حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تعلیم اس کی ترجیح کس حد تک شامل رہے گی  اور وہ ریاست میں کس طرح کی تعلیم دینا چاہتی ہے۔ حکومت بار بار جس کوالیٹی ایجوکیشن کی بات کرتی ہے کیا وہ ہارے ہوئے لوگوں اور ہارے جی کام کرنے والوں لوگوں سے حاصل کرسکے گی؟؟؟

Sunday, 28 October 2018

تاثرات

محکمہ راج بھاشا کی جانب سے منعقد ضلع فروغ اردو سمینار میں پیش کئے گئے میرے تاثرات
مسند صدارت پر فائز صدر ایوارڈ یافتہ شاعر پروفیسر عبد المنان طرزی صاحب
وقار مجلس اس ضلع کے ڈائنیمک اور فعال ڈی ایم ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ صاحب
زینت مجلس ایڈیشنل کلکٹر محمد مبین علی انصاری، ضلع ایجوکیشن افسر ڈاکٹر مہیش پرساد سنگھ، اس سمینار کے کنوینر ضلع اقلیتی فلاح افسر محمد وسیم احمد صاحبان ،استاذ گرامی پروفیسر انیس صدری صاحب ، یہاں موجود اردو زبان و ادب کے ماہ و نجوم، اس کے سپاہی اور حاضرین کرام!
محکمہ راج بھاشا کی ہدایت پر ضلع انتظامیہ کی سرپرستی اور محکمہ اقلیتی فلاح کی جانب سے منعقد اس سمینار میں آج اردو زبان کے فروغ میں حائل دشواریوں اور ان کے حل سے متعلق تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ اس خوبصورت سیمینار کے انعقاد کے لیے میں ضلع انتظامیہ اور منتظمین سیمینار کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس سمینار میں اس خاکسار کو بھی اپنے تاثرات رکھنے کا موقع دیا اس کے لیے میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔
حضرات!
ہم جانتے ہیں کوئی زبان حکومت کے سہارے ہرگز زندہ نہیں رہتی ہے لیکن اگر اسے سرکار کی سرپرستی حاصل ہو جائے تو اس کے پر لگ جاتے ہیں۔ اردو ہمارے ملک کی سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔ یہ ہمارے سماج کی سب سے زیادہ رائج زبان ہے۔ وہ اردو زبان جو ہندوستانی اور ہندوی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے کہہ لیجئے کہ اس ملک کی قومی زبان ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ میں اس وقت اردو میں بول رہا ہوں اور یہاں موجود ہندی بھاشی حضرات اس کو ٹرانسلیٹ کئے بغیر ہندی میں سمجھ رہے ہیں۔ یہ زبان بڑے پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی ہے اس کے باوجود لکھنے اور پڑھنے کی سطح پر محدود ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے گھرانے جہاں اکا دکا اردو لکھنے پڑھنے والے موجود ہوتے تھے اب وہ بھی اردو لکھنے پڑھنے والوں سے خالی ہو چکے ہیں۔ کچھ نئے گھرانوں میں اردو ضرور پہنچی ہے لیکن خالی ہونے کی شرح پہنچ کی شرح سے تیز ہے۔
اردو جن کی مادری زبان ہے ان گھرانوں میں بھی لکھنے پڑھنے والے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ نئی نسل کے بچے اردو رسم الخط سے نابلد ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض تقریبات میں ایسے بچے دیوناگری یا رومن رسم الخط میں لکھ کر اپنی تقریر یا پروگرام پیش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو داں طلبہ و طالبات مادری زبان ہونے کے باوجود تدریس میں اردو زبان کے ساتھ Second Language کا سلوک روا رکھتے ہیں۔ یہ سکینڈ لینگویج بھی ان کے مضامین کی ترجیحات میں سکینڈری ہوجاتی ہے۔ جو چیز سکینڈری ہوجاتی ہے اس کا نتیجہ کیا ہوگا اس کو یہاں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
عمومی سطح پر بھی اردو زبان میں لکھنے پڑھنے کا عمل اب صرف زبان یا ادب کے موضوعات میں محصور ہوتا جا رہا ہے۔ دیگر موضوعات کا علمی کام اب ختم ہو تا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے اس کا ذمہ دار ہم حکومت کو تو نہیں ٹھہراسکتے ہیں۔    

کسی زبان کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے جنتی مراعات ملنی چاہیے ہوسکتا ہے اردو کو وہ حاصل نہ ہوں۔ لیکن ہمیں دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ ہمیں جو مراعات حاصل ہیں ہم ان کا استعمال کس حد تک کر رہے ہیں۔ اکنامکس کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر بات کی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ بازار میں ڈیمانڈ کے مطابق ہی کسی چیز کی سپلائی ہوتی ہے۔ کسی چیز کی سپلائی اگر ڈیمانڈ سے زیادہ ہوجائے تو وہ بے وقعت ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے سپلائی روک دی جاتی ہے یا کم کردی جاتی ہے۔ ہمیں اگر حکومت سے مزید مراعات چاہئیں تو ہمیں اپنی یوٹیلائیزیشن کے ذریعہ ڈیمانڈ اتنی بڑھانی ہوگی کہ حکومت کے سامنے کرائسس دکھائی دینے لگے۔اور کرائسس کو بہت دنوں تک چھوڑا نہیں جاسکتا ہے کیونکہ ا س سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ حکومت ڈانوا ڈول ہوجاتی ہے۔  
میں یہاں ایک بات اور کہتا چلوں کہ روز مرہ کے بہت سے کام ہیں جہاں اردو موجود ہے۔ کیا ہم وہاں اردو کا استعمال کرتے ہیں۔ایس بی آئی نے کئی اے ٹی ایم میں اردو میں فنکشن فراہم کردیا ہے جس کا پہلا اسٹپ پورا کرنے پر انسٹرکشن بنگلہ میں آتا ہے۔ اگر اس اسٹپ کو کسی طرح پورا کرلیں تو پھر اردو آجاتی ہے۔ ایچ پی گیس نے اپنے سائٹ پر اردو میں سہولت فراہم کرائی ہے۔ اس طرح کی روز مرہ کے بہت سے استعمال ہیں جہاں اردو موجود ہے۔ ہم اپنی ذاتی زندگی میں جہاں تیزی سے لکھنا ہو تو دیوناگری میں لکھنے لگتے ہیں۔ کیا اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہے؟
انتظامیہ کی سطح پر اردو مترجم موجود ہیں ہم اردو الے ان سے کام نہیں لیتے ۔ ایسا نہیں ہے کہ سرکاری دفاتر میں اردو میں کام نہیں ہوتا ہے۔ میں نے چند برسوں قبل اردو میں آر ٹی آئی کی اس کا جواب ملا۔ ڈی ایم کمار روی صاحب کو میں نے اردو میں درخواست دی اور انہوں نے اسی وقت اس پر کارروائی کی۔ در اصل ہم حکومت کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنے لیے فرار کی راہ تلاش کرتے ہیں۔  
باتیں بہت سی ہیں لیکن وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے میں مختصر طور پر صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ضلع میں سیکڑوں کی تعداد میں اردو میڈیم اسکول موجود ہیں۔ ایسے بہت سے اسکول جہاں اب ایک بھی اردو استاد نہیں ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں میں اردو داں اساتذہ موجود نہیں ہونے کے سبب ایسے اسکولوں کا میڈیم ہندی ہوگیا ہے۔ ایسے اسکولوں میں اردو اساتذہ یقینی طور پر بحال کئے جائیں۔ ایسی ہدایت دی جائے کہ جو اسکول اردو میڈیم ہیں ان میں درس وتدریس کا کام اردو میڈیم میں ہو۔  
اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے۔ اس حیثیت سے ہونا تو یہ چاہیے کہ ریاست کے تمام اسکولوں میں کم از کم اسکول کا نام اردومیں بھی لکھا جائے لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ ایسے درجنوں اردو میڈیم اسکول ہیں جن پر اس کا نام اردو میں لکھا ہوا نہیں ہے۔ ڈی ایم صاحب سے گزارش یہ ہے کہ وہ اسکولوں کو یہ ہدایت جاری کر دیں کہ تمام اسکولوں پر عمومی طور پر اور اردو اسکولوں پر خصوصی طور پر اردو زبان میں بھی نام لکھا جائے۔
اس کے علاوہ ضلع کے تمام سرکاری دفاتر پر اردو میں نام لازمی طور سے ہو۔ سڑکوں کے نام بھی دیوناگری کے ساتھ اردو میں بھی لکھے جائیں۔اس بات کی اگر گنجائش ہو تو محکمہ اقلیتی فلاح کی جانب سے اقلیتی اداروں کو جو لیٹر بھیجے جاتے ہیں وہ اردو زبان میں بھیجے جائیں۔ اقلیتی اداروں سے اقلیتی فلاح دفتر کو موصول ہونے والے مکتوبات اردو میں ہی حاصل کئے جائیں۔ 
محکمہ راج بھاشا نے جس طرح اپنے ملازمین کا ورکشاپ کرایا ہے ضرورت ہے کہ اردو اساتذہ کا بھی ورکشاپ منعقد کرایا جائے اور اس کو یہ بھروسہ دلایا جائے کہ آپ اردو کے فروغ کے لیے کام کریں جہاں دشواری ہوگی انتظامیہ ضابطے کے مطابق ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ 
انہی چند باتوں کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں اور ایک بار پر انتظامیہ کو اس سمینار کے انعقاد کے لیے مبارکباد دیتا ہوں ۔ 
شکریہ
احتشام الحق


Sunday, 21 October 2018

شاہد جمیل کی شاعری میں رنگوں کا آہنگ



شاہد جمیل کی شاعری میں رنگوں کا آہنگ
                شاہد جمیل ایسے کہنہ مشق اور قادر الکلام شاعر ہیں جنہوں نے اردو شاعری کی مختلف اصناف میں نہ صرف طبع آزمائی کی ہے بلکہ استادانہ مہارت اور کمال ہنر کا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔ انہوں نے غزل، نظم، ماہیے، کہہ مکرنی اور دوہے بھی کہے ہیں اور بارہ ماسے کی طرز پر مہینوں کو عنوان بنا کر نظمیں کہی ہیں۔ان سب میں الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس کا ناقدین نے اعتراف کیا ہے۔
                شاہد جمیل کے کلام میں کئی چیزیں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں ان میں سے ایک رنگوں کا استعمال بھی ہے۔ رنگ در اصل پینٹنگ یا مصوری کا ذریعہ ہے لیکن شاعری میں بھی رنگ کی اپنی اہمیت رہی ہے۔شعرا منظر کشی اور تصویر کشی کے لیے رنگوں کا استعمال کرتے رہے ہیں جسے پیکر تراشی اور محاکات وغیرہ کہا جاتا ہے۔ جو شعر پیکر تراشی کے عمل سے گزر تا ہے وہ قاری میں وجدان کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ شاعر کے لیے پیکر تراشی کے عمل کو رنگوں کاصحیح استعمال نہ صرف سہل بناتا ہے بلکہ پینٹ اور برش کے مقابلہ میں لفظوں سے بنائی جانے والی تصویر میں ابھار اور جان پید ا کردیتا ہے۔ رنگوں کے درست Combination سے جو Shadeبنتا ہے اور اس سے شاعر جو منظر کشی کرنا چاہتا ہے اس کی زندہ و سلامت تصویر قاری کے سامنے پھرنے لگتی ہے اور ذہن پر اس کا دیرپر اثر مرتسم ہوتا ہے۔
                شاہد جمیل نے بھی اپنے کلام میں رنگوں کے استعمال سے خیال کی منظر کشی اور تصویر کشی کے رنگ بھرنے کی جوکوشش کی ہے وہ کامیاب ہوتی نظر آتی ہے۔ اس کا اعتراف ماہرین نے بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر مناظر عاشق لکھتے ہیں :
                ‘‘شاہد جمیل نئی اور منفرد آواز کے مالک ہیں۔ ہلکے اور گہرے رنگوں کی شاعری کی بنت کاری کا تانا بانا تیار کرنے کا فن انہیں آتا ہے۔
چند اشعار ملاحظہ ہوں:
سرمئی جسم، جاں سرمئی
درد کے سب جہاں سرمئی
....
بھنور میں قوسِ قزح
ہر ایک ساحل سیاہ
....

غم کو دونوں معتبر!
سرخ دل کہ داغ سرخ
....
گل پہ خزاں تھی تو کیا؟
باغ، شجر، آب سبز
دل کا کھنڈر زرد زرد
یاد کی محراب سبز
فلک سے پوچھئے آداب مقتل
شفق کی شام کا مطلب گلابی
تماشے دیکھنا پھر آسماں کے
سفیدی ہو رہی ہو جب گلابی
....
میں دل کی دھند پہ الحاد لکھ دوں
گلابی شب کا ہر مذہب گلابی
میں اک رات ہر رات بے خواب
تو اک خواب ہر دم سنہرا
....
تو ازل ہے یا ابد کچھ نہیں
آسماں! سب تیرے منظر نیلگوں
                مذکورہ اشعار جو یونہی جہاں تہاں سے اٹھا لئے گئے ہیں ان میں بھڑکیلے رنگ کے ساتھ اودے اور پھیکے رنگوں کا یہ امتزاج شاہد جمیل کی شاعری میں معنوی تہ داری پیدا کرتے ہیں اور ایک فکر اور بیان کے ظاہری سطح کے پیچھے احساس کا ایک سلسلہ اور در وبست ہے جو قاری کو دور تک لے جاتا نظر آتا ہے۔   
لہو کا سبز پرندہ! گماں کا سرخ آکاش
یقیں کے پاؤں میں زنجیرِ درد، جھوٹ کہ سچ؟
....
یاد سی چیز کوئی لا کے شفق پر رکھ دی
شام کو شام سے اس طرح جدا ہم نے کیا
....
سفید تو، میں سفید
ترے مرے دل سفید
....
                شاہدجمیل رنگوں کو علت اور معلول کے ساتھ اس طرح الٹ پھیر کرتے ہیں کہ قاری ایک نتیجہ تک ضرور پہنچتا ہے لیکن کسی ایک مقام پر ٹھہر کر نہیں رہ جاتا ہے بلکہ دیرتک سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ شاعر ہم سے آخر کیا کہنا چاہتا ہے ؟ خود قاری زندگی کے کئی تجربات میں کھوجاتا ہے اور اس سے قبل اس کو اپنے تجربہ سے جو بصیرت ملی ہوتی ہے اس سے پرے بھی اس کی نظر جاتی ہے اور اس کی نظروں میں ایک نئی روشنی پھیل جاتی ہے۔ صبح سفید دھند لکی روشنی اس کے ذہن کو روشن ومنور کئے دیتی ہے۔
سفید خواب، خواب کی سحر سفید
دھنک ہوئی سیاہ، بحر و بر سفید
....
سرخ شب، چراغ سرخ
گل سیہ تھا، باغ سرغ
....
یوں نہیں لوٹی دعا
لب سیہ، فریاد زرد
دھار دار فکروں کا ایسے نمونے شاہد جمیل کی شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں۔
                شاہد جمیل نے مہینوں اور ان کے مخصوص اوصاف اور تاثیر سے ابھرنے والے احساسات کو بھی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ ایسے کلام میں بھی انہوں نے رنگوں کے امتزاج سے منفرد آہنگ پیدا کیا ہے جو محسوس کرنے کے قابل ہے۔
                شاہد جمیل کی شاعری میں رنگ کے آہنگ کے ساتھ ساتھ فکرکا آہنگ بھی بدرجہ اتم موجود ہے اور قاری کی توجہ مبذول کراتی ہے۔ عام طور پر غزلوں کے مقابلہ میں نظموں میں اس کی زیادہ گنجائش رہتی ہے ۔ شاہد جمیل کے یہاں بھی نظموں میں بڑی فکر انگیزی ہے اور وہ فکر کو فن کی سطح پر برتنے میں بھی مکمل کامیاب نظر آتے ہیں۔ ہر قوم اور ہر ملک میں نئے سال کو ایک نئے انداز میں دیکھنے اور خوشی کے پیام کے طور پر دیکھنے کی روایت رہی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا ہر پل اور ہر لمحہ نیا ہے۔ اگر اس کی آنکھیں کھلی ہوں اور حوصلہ ہو تو ہر صبح نئی مسرت کا پیغام لاتا ہے۔ لیکن نیا سال یا نیا دن اسی کے لیے نئی امیدووں کا پیغام بنتا ہے جو خود کو حالات کے دھارے کو موڑنے کا ہنر اور حوصلہ رکھتا ہو۔ شاہد جمیل نے بھی اپنی طویل نظم نیا سال میں ان تمام امیدوں کو پیش کیا جاتا ہے جو نئے سال سے وابستہ کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بڑی خوبصورتی سے نئے سال پر امیدوں کی ابتدا کا آغاز کیا ہے اور انسان کے دل میں جس طرح کے جذبات پیدا ہوتے ہوں ان سب کو شاعری کے رنگ میں پیش کرتے ہوئے جو نتیجہ پیش کیا ہے وہ قاری کو چونکاتا اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
ہم جس دن خود بدلیں گے
اس روز نیا سال آئے گا
                مجموعی طور پر شاہد جمیل کی شاعری میں عصری حسیت فنی ہنر مندی کے ساتھ جگہ بناتی ہے اور روایتوں کی امین ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ایک منفرد آواز اور منفرد شناخت بنانے میں کامیاب نظر آتی ہے۔
٭٭٭