مشمولات

Saturday, 24 October 2015

انتخابی عمل میں مصروف لاکھوں ڈرائیور حق رائے دہی سے محروم

احتشام الحق
 ایک جمہوری ملک ہونے کی حیثیت سے آئین ہند کے حصہ 15کے آرٹیکل  326کے تحت بھارت کے ہر شہری کو جو ۸۱ سال سے کم عمر کا نہ ہو اور اس آئین یا متعلقہ مجلس قانون ساز کے بنائے ہوئے کسی قانون کے تحت عدم سکونت، فتور عقل، جرم، یا رشوت ستانی یا بدعنوانی کے بنا پر نا اہل نہ ہو ، بلا امتیاز یہ آئینی حق حاصل ہے کہ وہ انتخاب میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرے۔ لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ آزادی کے بعد سے اب تک سرکاری ملازمین کو بیشتر مواقع پر انتخاب میں مصروف کرائے جانے کے سبب اس حق سے محروم ہوجانا پڑا ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس سے قبل بھی کئی بار ایسی کوششیں کی ہیں کہ ملازمین حق رائے دہی کا پورا پورا استعمال کریں تاہم ابھی تک اس کو صد فیصد یقینی نہیں بنایا جاسکا ہے۔ رواں اسمبلی انتخاب میں ہر ضلع میں اس کو یقینی بنانے کے لیے جنگی پیمانہ پر کام کیا جارہا ہے اور حتی الامکان کوشش ہورہی ہے کہ ہر ملازم کو بیلٹ پیپر کے ذریعہ حق رائے دہی کا موقع ملے۔ اس کے لیے انتخاب میں مصروف کئے جانے والے ملازمین سے فارم ۲۱ حاصل کئے گئے ہیں تاکہ انہیں بیلٹ ووٹ فراہم کرایا جاسکے۔ جس طرح کی کوششیں ہورہی ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس بار اگرملازم رائے دہندہ خود دست کش نہ رہا یا اس نے فارم ۲۱ بالکل صحیح پر کرکے دیا ہے تو اسے بیلٹ ووٹ کے ذریعہ حق رائے دہی کے استعمال کا موقع ضرور مل جائے گا اور اپنا ایک ووٹ دے کر جمہوری عمل کو مستحکم اور مضبوط بنانے میں اپنی شہری ذمہ داری کو ادا کرے گا۔اگر ایسا یقینی ہوجاتا ہے تو الیکشن کمیشن کے اس اقدام کو قابل تعریف کہا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے ہر ضلع میں سیل کی تشکیل دی گئی ہے اور اس میں درجنوں عملہ کو لگایا گیا جو پوری تندہی سے اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ دربھنگہ ضلع کو سامنے رکھیں تو اس بار یہاں تقریبا ۲۱ ہزار فارم ۲۱ جمع کئے گئے ہیں جنہیں بیلٹ ووٹ فراہم کرنے کی تیاری تقریبا مکمل بھی کرلی گئی ہے۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ ضلع بھر میں ہزاروں ایسے لوگ ہیں جو سرکاری ملازم نہ ہوتے ہوئے بھی انتخابی میکانز م کا حصہ بننے کی وجہ سے حق رائے دہی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ انتخاب کو مکمل کرانے کے لیے ہر ضلع میں ہزاروں پرائیویٹ گاڑیوں کوبھی کرایہ پر لیا جاتا ہے اور گاڑیوں کو ڈرائیور کے ساتھ انتخاب کے دن استعمال میں لایا جاتا ہے۔ انتخابی کاموں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ضلع بھر میں ہزاروں اور ریاست بھر میں لاکھوں ڈرائیور حق رائے دہی سے محروم ہوجاتے ہیں۔ جبکہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں ، حق رائے دہی کا استعمال جن کے ہاتھوں میں ہوتا ہے، اگر وہ انتخاب کے دن انتخابی امور میں مصروف نہ کئے جائیں تو اپنے بوتھ پر جاکر اپنے اپنے ووٹوں کا استعمال بھی کرتے۔ اس طرح ریاست سے لاکھوں لوگ موقع ملنے اور ریاست بلکہ اسمبلی اور ضلع میں موجود رہنے کے باوجود حق رائے دہی سے محروم ہوجاتے ہیں۔چونکہ جمہوریت میں تمام ووٹ یکساں قیمت کے ہوتے ہیں اس لیے اتنی بڑی تعداد کا موقع ملنے کے باوجود موقع کا چھن جھانا اور حق رائے دہی سے محروم ہوجانا جمہوری عمل کو کمزور بناتا ہے اور اختیار سلبی کا معاملہ بن جاتا ہے۔حالانکہ یہ بھی ڈرائیوروں کا ایک مخصوص طبقہ ہے، اپنے پیشہ سے متعلق جن کے کچھ عمومی مسائل ہوسکتے ہیں اور حق رائے دہی میں ان مسائل کو وہ سامنے رکھ بھی سکتے ہیں۔ حالانکہ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اب تک ہر الیکشن میں حق رائے دہی سے محروم ہونے کے باوجود اس طبقہ کو اپنی اس محرومی پر کوئی پریشانی نہیں رہی اور انہوں نے کبھی الیکشن کمیشن کے سامنے اپنی بات رکھنے کی کوشش بھی نہیں کی ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن کی نظر کے سامنے یہ مسئلہ اہمیت کا حامل بن سکا ہے۔
اس سلسلہ میں نمائندہ نے چیف الیکشن آفیسر بہار سے بھی بذریعہ ای میل اس بابت جاننا چاہا کہ کیا الیکشن کمیشن نے ایسے لوگوں کے حق رائے دہی کو یقینی بنانے کے لیے کوئی حل نکالا ہے لیکن تادم تحریر ان کا جواب حاصل نہیں ہوسکا۔ وہیں آٹو رکشا یونین کے صدر اور بس مالک نوین کھٹک سے پوچھے جانے پر کہا کہ ہمیں بہت دکھ ہے ہر انتخاب میں آٹو،میجک، کار، جیپ، بس، ٹرک اور ٹریکٹر وغیرہ کو انتخاب میں لینے کی وجہ سے ان کے ڈرائیور ووٹ دینے محروم ہوجاتے ہیں حالانکہ سرکاری ملازم کی طرح ان ڈرائیوروں پر کوئی پابندی بھی نہیں ہے ۔اور نہ وہ سرکاری فائدہ حاصل کرتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر جمہوریت کے عظیم تہوار میں ہم سے کوئی کام لیا جاتا ہے تو ہماری خوش نصیبی ہے لیکن اس کے ساتھ ووٹ کا حق چھین لیا جانا ایک بد نصیبی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انتخاب میں کام لئے جارہے ڈرائیوروں کو ووٹ دینے کا کوئی مکمل انتظام کیا جائے۔ 

Thursday, 27 August 2015

تبصرہ ’’ٹھہری ہوئی صبح‘‘ (افسانوی مجموعہ)۔

تبصرہ

نام کتاب: ٹھہری ہوئی صبح (افسانے)                                                   
تصنیف: ڈاکٹر مجیر احمد آزاد
سن اشاعت: ۲۰۱۵
قیمت: ۲ سو روپے
صفحات: ۲۱۱
ملنے کا پتہ: ناولٹی بکس، قلعہ گھاٹ، دربھنگہ
مبصر: احتشام الحق
کہانی کہنا اور کہانی سننا یہ انسانی زندگی کا شاید لازمہ ہے۔ انسان تب بھی کہانیاں سنتا اور کہتا تھا جب زندگی محدود تھی۔ محدود زندگی کو گذارنے کے لیے وسائل بھی محدود اور تفریحات کے ذرائع بھی مفقود تھے۔ ایسی محدود زندگی کو بسر کرنے کے لیے لا محدود تگ ودو کے بعد اس وقت کا انسان رات کو جب بستر پر جاتا تھا یا تگ ودو کی زندگی میں جب کبھی فرصت کے لمحات میسر ہوتے چھوٹی بڑی کہانیاں سنتا تھا۔ ظاہر ہے سننے والے تھے تو کہنے والا بھی تھا۔ آج جب لامحدود زندگی کے لامحدود مشاغل ہیں اور اس لا محدود زندگی میں گذر اوقات کے لیے مشکل اور آسان ہر طرح کے پیشے میسر ہیں اور تفریح کے ذرائع بھی لا محدود تب بھی کہانیاں سنی اور پڑھی جاتی ہیں اور کہانیاں کہی بھی جاتی ہیں۔ کہانی وہ بھی ہے جو اردو زبان کی کتابوں میں سود وزیاں کی پروا کیے بغیر لکھی جاتی ہے اور کہانی وہ بھی ہے جو فلموں کے پردے پر پیش کی جاتی ہے اور باکس آفس پر گذشتہ فلموں کو پیچھے چھوڑتی ہوئی کامیابی کی تاریخ رقم کرتی ہے۔ کہانی وہ بھی ہے جس کو قسط وار ہماری خواتینِ خانہ یا ملازمت پیشہ خواتین امور خانہ داری کو ملتوی کرکے روزانہ ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر سیریل کے نام پر دیکھتی ہیں۔
                کہانیاں وہ بھی تھیں جنہیں ہماری نانی ، دادیاں یا محلہ کی خواتین سناتی تھیں اور محلہ کے بچے رات کی پڑھائی ختم کر کے سونے جاتے ہوئے بستر پر سنتے تھے اور کہانیاں وہ بھی تھیں جن کو ہم کتابوں میں الف لیلہ، طلسم ہوش ربا کے نام سے جانتے ہیں اور کہانی ہیری پوٹر کی بھی ہے جو لڑکوں کو اپنا دیوانہ بناتی ہے۔
                جب ہم کہانی پڑھتے ہیں ہمارے گرد تصورات کا ہالہ بننا شروع ہوجاتا ہے اور ہم کہانی کے درمیان کھوجاتے ہیں۔ کہانی میں جو کچھ بیان ہوتا ہے وہ شاید اس مقام پر موجود نہ لیکن ہم اس کو یقین کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ یہ کہانی کار کے زبان کا جادو ہوتا ہے کہ وہ اپنے بیان سے ہمیں خیالی دنیا سے حقیقت کی دنیا میں پہنچادیتا ہے۔ ہمارے سامنے ابھی مجیر احمد آزاد کی کہانیوں کا مجموعہ” ٹھہری ہوئی صبح“ ہے جو ہمیں ہماری زندگیوں کے ایسے حقائق سے واقف کراتا ہے جس سے ہم روزانہ واقف ہوتے ہیں۔ ہم ان حقائق میں پنہاں کرب کو محسوس بھی کرتے ہیں لیکن انہیں اپنے مستقل احساس کا حصہ نہیں بناپاتے جو ہمیں سوچنے پر مجبور کرے اور ہمارے رویہ میں تبدیلی لادے۔
                ”ٹھہری ہوئی صبح “میں کل سولہ افسانے شامل ہیں جن کے موضوعات ہماری آس پاس کی زندگی ہے۔ بیشتر کا تعلق دیہی یا نیم شہری زندگی کے متوسط طبقہ سے ہے۔ کہانیوں کے موضوعات ومسائل گرچہ الگ لگ ہیں لیکن ان تمام میں قدر مشترک کے طور پر تعمیر پسند فکر کا غلبہ نظر آتا۔افسانہ نگار نے جن مسائل کو ان کہانیوں میں بیان کیا ہے اس طرح کے واقعات کا مشاہدہ ہم اپنی روز مرہ کی زندگی میں اکثر کرتے رہتے ہیں۔ عام طور پر جب ایسے مسائل، سماج کے ایسے انتشار اور قدروں کا ایسا زوال ہمارے مشاہدے میں آتے ہیں تو ہم بڑی حد تک یک رخے ہوکر سوچنے لگتے ہیں اور اس کے سلبی پہلوؤں کو اہمیت دیتے ہیں۔ لیکن افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اپنی فنکاری کا ثبوت دیتے ہوئے ان کے ایجابی پہلوؤں بھی نظر رکھی ہے اور ہر کہانی میں امید کا دامن تھاما ہوا نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ فنکار سماج میں لاکھ خرابیوں کو دیکھنے کے باوجود اس میں بدلاؤ اور بہتری کے توقعات سے ناامید نہیں ہوا ہے۔
                کتاب میں شامل کہانیاں بیانیہ کی تکنیک میں لکھی گئی ہیں اور زندگی کے پیچیدہ مسائل کی ترجمان ہیں لیکن فنکار نے ان پیچیدہ مسائل کو بیان کرنے کے لیے پیچیدہ اسلوب کو اختیار کرنے کے بجائے سادہ اور سپاٹ اظہار کو اختیار کر کے بیان پر اپنی قدرت کا ثبوت پیش کیا ہے۔ ورنہ ہمارے یہاں اس ناکامی کی پردہ داری یہ کہہ کر کی جاتی ہے کہ زندگی کے مسائل اتنے پیچیدہ ہیں ان کو بیان کرنے کے لیے پیچیدہ اسلوب اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد کا بیان کا یہ سادہ اور سپاٹ لہجہ قاری کو اپنی گرفت میں رکھنے میں کامیاب نظر آتا ہے۔
                کتاب میں شامل سولہ کہانیاں اپنی اپنی جگہ پر اپنا مقام رکھتی ہیں لیکن انہی کے درمیان و”یران آبادی“ ایک اہم مسئلے کو بیان کرتی ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ ترقیوں کا خواب ، دیہی زندگی کے محدود اقتصادی وسائل اور قناعت پسندی کے فقدان نے شہری زندگی کو اس قدر فروغ دیا ہے کہ اب گاؤں کے گھر اولڈ ایج ہوم بنتے جارہے ہیں۔ وہیں ”عورت ہوں نا!“ میں سماج میں رائج عورت کی ملازمت کے سلسلہ میں رد واختیار کے دونوں پہلوؤں کی عکاسی کرتے ہوئے ایجابی سوچ کو اجالا گیا ہے۔” سیاست“ میں موجودہ ہندوستانی سیاست اور ہندواور مسلمانوں کے درمیان ہونے والی کشیدگیوں کے پیچھے پنہاں سیاست کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ افسانہ” ٹھہری ہوئی صبح“ جس کے عنوان سے کتاب کا نام بھی معنون ہے اچھا تناظر رکھتی ہے یاد ماضی کی کیفیت اور آبائی ورثے سے وابستہ یادوں کو ظاہر کرنے والی نمائندہ کہانیوں میں شمار ہونے کے لائق ہے۔جدید اور اعلی تعلیم کے نام پر بے مہار آزادی، روشن خیالی کے نام پر عصر حاضر میں اعلی اقدار کی پامالی کا جو منظر نامہ ہمارے سامنے ہے اس کی ایک جھلک ”ہم سائیگی“ میں دیکھی جاسکتی ہے۔ دوسری شادی اورسوتیلی ماں کا تصور ہمیشہ سلبی پہلوؤں کے ساتھ ہمارے ذہن میں جالابنتے ہیں لیکن افسانہ نگار نے ”میری ماں“ میں اس کے ایجابی پہلوؤں کو اس طرح روشن کیا ہے کہ اس خیال کا ہم نوا ہونا پڑتا ہے۔” کلر پیج“ موجودہ صحافتی بدعنوانیوںکا بہترین اشاریہ ہے۔”دل لگی“،” صبح کا بھولا “ اور ”روشنی“وغیرہ کہانیاں بھی قاری کو سوچنے پرمجبور کرتی ہیں۔ اس طرح ہر کہانی اپنے تناظر میں منفرد معنویت رکھتی ہے اور زندگی کے ہر لمحہ میں تعمیر کے امکان کو روشن کرتی ہے۔
                کتاب میں جو افسانے شامل ہیں وہ ۲۰۰۹ سے ۲۰۱۱ کے درمیان ملک وبیرون ملک کے معیاری ادبوں رسالوں کی زینت بن چکے ہیں۔ افسانہ نگار نے منتشر افسانوں کو اس کتاب میں یکجا کرکے اردو داں طبقہ کو ایک تحفہ دیا ہے۔
                محکمہ راج بھاشا کے مالی تعاون سے شائع ہونے والی اس کتاب کو افسانہ نگار ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے اپنے بڑے بھائی ڈاکٹر محمد ضمیر الدین ضیاءکے نام معنون کیا ہے۔ کتاب کے بطن میں تحریر ظہری کے عنوان سے افسانوں میں آنے والے مقامات اور کردا وغیرہ کی وضاحت کی گئی ہے۔ افسانہ نگار نے اپنے مختصر سے پیش لفظ میں اس کتاب میں شامل افسانوں کو جذبات و احساسات کی تیز رو سے مغلوب اور کسی فنی ضابطے کی تلاش کے بغیر پیشکش کا دعوی کرتے ہوئے خود اعتمادی کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کردیا ہے اور اپنی افسانہ نگاری پر کسی سے بلند وبانگ دعوے کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ کتاب کا ٹائٹل عنوان کے لحاظ اور افسانہ کے موضوع سے قدرے مناسبت رکھتا ہے۔ کاغذ عمدہ اور طباعت بھی بہترین ہے جس سے افسانہ نگار کے ذوق جمال کی عکاسی ہوتی ہے۔
                امید کی جاتی ہے کہ افسانہ نگار کا یہ تیسرا افسانوی مجموعہ فن افسانہ نگاری کے میدان میں اپنی منفرد پہچان بنائے گا اور سماج کے لیے آئینہ داری کا کام بھی کرے گا۔
٭٭٭
نوٹ: یہ تبصرہ دربھنگہ ٹائمز دربھنگہ کے شمارہ اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۵ تا جنوری تا مارچ ۲۰۱۶ کے شمارے میں شائع ہوا

Sunday, 23 August 2015

خط

از دربھنگہ                                                                                                                                                                  
بتاریخ ۲۲؍ اگست ۲۰۱۵
ڈیئر ہما
                امید ہے صحت و سلامتی کے ساتھ گزر رہی ہوگی۔
کئی دن ہوئے  ہمارے درمیان ڈھنگ کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ نہ کچھ کہا نہ کچھ سنا۔ آج صبح سے ہی موسم بڑا سہانا ہے۔ آسمان پر بادل منڈلا رہے ہیں۔ بس اب تب میں بارش ہونے ہی کو ہے۔ تیز بارش کے امکان کی وجہ سے آج اسکول میں بھی چھٹی ہے۔ خالی بیٹھا کیا کروں؟ تم پاس ہو نہیں۔ جی میں  آیا خط  کے  ذریعہ ہی  دو چار باتیں کر لوں۔ کچھ سننے کے لیے کچھ بات کہہ  دوں۔
یہ  دیکھو ابھی قلم لے کر بیٹھا ہی تھا کہ نہ جانے کہاں سے ذہن میں یہ لا ابالی باتیں گردش کرنے لگیں۔ سارا مزہ کڑکڑا ہو گیا۔ بہت چاہا کہ ذہن سے جھٹک دوں اور یکسو ہو کر باتیں کروں مگر یہ باتیں ہیں کہ مستقل ذہن پر اپنی گرفت سخت کرتی جا رہی ہیں۔ اب ایک ہی چارہ ہے کہ کچھ بد مزگی برداشت کر کے تم بھی  یہ باتیں سن ہی لو۔ اس طرح میرا ذہن بھی ہلکا ہو جائے گا اور پھر شاید کچھ باتیں  بھی کرسکوں۔
لو سنو!
رشتے مختلف طریقے سے بنتے ہیں۔ کچھ رشتے خون کے نہیں بول کے ہوتے ہیں۔ ایسے  دو ساتھی  جب تک ایک دوسرے سے نزدیک رہتے ہیں انہیں شاید اپنی قربت اور نزدیکی کا وہ احساس نہیں ہوتا جو ان  دونوں کے درمیان ہوتی ہے۔ لیکن وہ ایک دوسرے سے دور ہوتے ہیں تو انہیں اپنی نزدیکی،  قربت اور ایک دوسرے کی ضرورت کا احساس ہوتا ہے۔ شدید احساس۔ جیسے  جیسے کھچاؤ اور دوری بڑھتی ہے احساس کی شدت اور قربت کی ضرورت میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔جیسے ربڑ کہ  اگر اس کے کسی مضبوط ٹکڑے کے دونوں سروں  کو کھینچے تو دونوں ایک دوسرے سے قریب آنا چاہتے ہیں۔ کھچاؤ کے ساتھ ان میں قربت کی ضرورت کی کشش بھی شدید ہوتی جاتی ہے۔
لیکن ربڑ تو ربڑ ہے۔ کھینچنے کی بھی ایک حد ہوگی۔ اتنی ہی دور کھنچ سکتا ہے جنتی اس کی حد اور صلاحیت ہے۔ اس سے زیادہ کھینچنے پر ربڑ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر اس ٹوٹے ہوئے ربڑ کو جوڑ بھی دیا جائے تو اس میں گانٹھ پڑہی  جاتی ہے۔
یا پھر  کھینچا تو اس کی حد ہی میں جائے لیکن اس کو کھنچی ہوئی حالت میں غیر معین وقت تک چھوڑ دیا جائے ۔ ایسی صورت میں بھی وقت کی تیز دھوپ اور بارش اس کو جگہ جگہ سے سنڑانا شروع کر دیتی ہے اور اسی کھنچی ہوئی حالت میں وہ  ہوا کے جھونکوں سے  بھی  ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی گانٹھ اور بھی کمزور ہوتی ہے۔ گانٹھ لگاتے ہی ٹوٹ جاتا ہے یا  ذرا برابر بھی کسی مزید کھچاؤ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔
بول کے رشتوں کی حالت بھی کچھ ایسی ہے۔ اگر ان کے درمیان کے کھچاؤ کو بہت بڑھا دیا جائے  یا اسے کھنچی ہوئی حالت میں لمبی مدت تک چھوڑ دیا جائے تو ٹوٹنا اس کا مقدر ہے۔
پھر ربڑ تو بے جان شے  ہے۔ اس کی کشش ہمیشہ اپنے ہی حصہ کی طرف ہوگی۔ رشتے جو جاندار کا حصہ ہیں اس میں اگر کھچاؤ بنا رہے تو انسان کی اپنی فطرت ہے کہ وہ کشش کے بغیر جی بھی نہیں سکتا۔ ایسے میں یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک کھچاؤ کی دوری مستقل بنے رہنے کے بعد دوسری کشش اسے اپنی طرف لے لیتی ہے۔یا فولاد کا کوئی دوسرا ٹکڑا اس کی مقناطیسی شخصیت کی پناہ میں جاں گزیں ہو جاتا ہے۔ اس طرح بھی پہلے کھچاؤ کا رشتہ خود بخود کمزور ہو کر ٹوٹ جاتا ہے۔
یہ کھچاؤ تعلقات اور زمان و مکان کا بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ تعلقات  کی کشیدگی اور  زمانی و مکانی  بعد کی کشش کے درمیان قدرے فرق ہوتا ہے۔ تعلقات کی کشیدگی میں زیادہ تر کچھ وقفے یا لمحے کے لیے بالکل کشش نہیں ہوتی جبکہ  زمانی و مکانی  بعد کے درمیان کشش کا فقدان کم ہوتا ہے یا ہوتا بھی ہے تو دونوں کی کیفیت میں واضح فرق ہوتا ہے۔ لیکن ہر حال میں کھچاؤ کے بعد کشش ضرور ہوتی اور نظر انداز نہ کیا جائے  تو شد ت میں اضافہ کے ساتھ کشش برقرار رہتی ۔
                دیکھو بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور میں کہاں سے اچاؤ کھچاؤ کو پھیر میں پڑ گیا۔ چلو اس بات کو یہیں رہنے دو۔ لیکن ہاں اب تم یہ نہ سمجھنا کہ یہ ساری باتیں میں نے تم سے ہی کہیں ہیں۔ کیونکہ  میرے اور تمہارے درمیان میں بھی تو بول ہی کا رشتہ ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ہمارا رشتہ بول کا ہے لیکن ہمارے بول کے رشتے کے درمیان اب دو خون کے رشتے بھی تو آگئے ہیں جو ہمارے بول کے رشتہ کو کچے دھاگے سے بندھا نہیں رہنے دیتے۔
‘‘ملے دل سے دل زندگی مسکرادی’’
                                                                                                                                فقط
                                                                                                                                        بس تمہارا
احتشام الحق

Monday, 3 August 2015

ما بعد پھانسی

ما بعد پھانسی
احتشام الحق
یعقوب میمن کو پھانسی دی جانی تھی سو پھانسی کے ضابطوں اور قانونی کارروائیوں کو پورا کرتے ہوئے بالآخر اسے پھانسی دے دی گئی۔ عدلیہ یعقوب کو مجرم تسلیم کرتی ہے تو ایک شہری کی حیثیت سے ہمیں عدلیہ کا فیصلہ بسر وچشم قبول ہے۔ لیکن آخری ایام میں جس طرح سے ملک دانشوران اور قانونی ماہرین کے درمیان اس پر گرما گرم بحث ہوئی اور  یعقوب کی  خود سپردگی سے قبل  ایجنسیوں کے ذریعہ کئے گئے معاہدوں کے خلاف سزا کی کارروائی انجام دی گئی  اس کے بعد یہ کہنا بے شاید بے جا نہ ہوگا کہ جب کبھی ہندوستانی پولیس یا تفتیشی ایجنسیاں کسی واقعہ کی تہہ تک پہنچنے اور اصل مجرموں کی گردن تک قانون کا ہاتھ پہنچانے کے لیے کسی ملزم کو اعتماد میں لینے کی کوشش کریں گی تو ایسے ملزم کو یعقوب میمن یاد آئے گا۔
 یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ اس طرح تفتیش کا دروازہ بند ہوجائے گا اور مجرموں تک پولیس یا تفتیشی ایجنسیوں کی رسائی نا ممکن ہوجائے گی یا مجرم بے نقاب نہیں ہوں گے۔ کیونکہ ہیمنت کرکرے جیسے غیر جانب دار افسران کے ہونے کی امید ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ ساتھ ہی اس  خوش فہمی کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ  ہماری ایجنسی ہماری ایجنسی ہے۔ وہ جانتی ہے کسی کو گناہ گار کیسے ثابت کیا جاسکتا ہے۔ گناہ گار ثابت کرنے کے لیے حقائق تک پہنچے یا نہیں پہنچے حقائق بنانا جانتی ہے۔ جرم ثابت کرنے کے لیے شواہد تلاش کرسکے یا نہ کرسکے شواہد تراش سکتی ہے۔ ملزم سے سچائی اگلوانے کا ہنر اسے آئے یا نہیں اپنی بات منوانے کے ہنر سے وہ ضرور واقف ہے۔
جب کبھی کسی واقعہ کے بعد کسی پولیس یا ایجنسی کے افسر کو اپنے شانہ پر تارے ٹنکوانا ہو یا تارے بڑھانا ہو وہ  کہیں نہ کہیں سے مجرم تلاش سکتی  اور مجرم تراش سکتی ہے۔ یہ اور بات کہ یہ مجرم ملے گا کہاں؟ سرکاری رپورٹ کے مطابق چونکہ جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد  اس کی آبادی کے تناسب سے زیادہ ہے تو ایک بلی کا بکر اور سہی۔  اس کا صحیح اندازہ تب ہوتا ہے جب دہشت گردی کے الزام میں جیلوں میں بند مسلمان اپنی ۸ سے ۱۰ سالہ زندگی کے خوبصورت ایام بے گناہی اور جرم ضعیفی کی سزا کاٹ کر بے قصور رہا ہوتے ہیں۔
اب ہمارے قانون میں اس کی گنجائش تو ہے نہیں کہ جن افسر ان نے ان بے گناہوں سے اس کی زندگی کے بہترین دن چھین لیے، اس کے گھر والوں کو سماجی ذلت اور اقتصادی اذیت سے دوچار کیا اس کے تارے چھین لیے جائیں ۔ اس مدت میں اس نے جو تنخواہ وصول کی اس کو واپس لیا جائے ، اس کو جو ترقی ملی اس کو واپس کرتے ہوئے اپنی پہلی جگہ سے نیچے یا برخاست کردیا جائے اور اس پر قانون کا شکنجہ کستے ہوئے بے قصوروں کو انصاف دلایا جائے۔ اس لیے کہ قومی سلامتی کے نام پر سارے دروازے کھلے ہیں۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ جن کے اچھے دن بیت گئے ، جن کے بچے تعلیم سے محروم ہوگئے ، جن کے گھرانے دہشت گردی کے جھوٹے الزام میں سماج میں آنکھ اٹھاکر جینے کے لائق نہیں رہے جیل سے بے قصور رہا ہونے کے بعد بھی ان کی بھرپائی ناممکن ہے۔

Thursday, 11 December 2014

دیدہ وران بہار

دیدہ وران بہار
تذکرہ نگاری کا ایک نایاب تجربہ
                 جو قوم اپنے بڑوں کے کار ناموں سے نہ صرف واقف رہتی ہے بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے لیے انہیں محفوظ رکھتی ہے ،ان کی خوبیوں کو اجاگر کرتی ہے اور کمزوریوں سے سبق لیتی ہے، اپنے حال کا ادارک کرتی ہے اور مستقبل کی تعمیر کے منصوبہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے نئی نسل کے لیے زمین ہموار کر کے ان کو ان کا مقام دینے کے لیے تیار رہتی ہے ،اس قوم کے لیے ترقی کی راہیں خود بخود وا ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ایسی ہی ماضی کی یادگار ، حال کا ادراک اور مستقبل کے اشاریوں کا ایک حسین مرقع ”دیدہ وران بہار “ کی شکل میں ہمارے سامنے آیا ہے۔
                ”دیدہ وران بہار“ اس دیدہ ور کی کتاب کا سرنامہ ہے جس کے دیدۂ تیز بیں نے بہار کے افق پر مزین علم وادب کی کہکشاں میں تیز ومدھم ضو فشاں تاروں کی شناخت کی ہے ، ادب کے اس پارکھ کو دنیائے ادب میں پروفیسر عبد المنان طرزی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جناب طرزی نے اصناف ادب میں ایسا طرز بیان اپنایا ہے جو بالکل اچھوتا نہ ہوتے ہوئے بھی افتادہ رہا ہے ۔ یہ طرز بیان طرزیکے منظوم تذکروں ، تنقید اور خاکوں کی شکل میں سامنے آیا ہے اور ان تمام میں موصوف نے خود ہی اتنے نمونے پیش کردیئے ہیں کہ ان کے درمیان منظوم تاثرات، تذکروں ، تنقید اور خاکوں کے قواعد وضوابط بھی متعین کئے جاسکتے ہیں۔
                دیدہ وران بہار بنیادی طور پر فن تذکرہ نگاری سے تعلق رکھتی ہے اور چونکہ پوری کتاب منظوم ہے اس لیے اسے منظوم                 دیدہ وران بہار بنیادی طور پر فن تذکرہ نگاری سے تعلق رکھتی ہے اور چونکہ پوری کتاب منظوم ہے اس لیے اسے منظوم تذکرہ نگاری کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اردو ادب میں تذکرہ کی تاریخ بہت قدیم ہے بلکہ اردو تنقید کے ابتدائی خط وخال انہی تذکروں میں ملتے ہیں۔
 تذکرہ عربی زبان کے لفظ ذَکَرَ یَذکُرُ کا مصدر ہے جو یاد دہانی اور یاد آوری کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور عام طور پر سرسری ذکر کو تذکرہ کہتے ہیں۔ اسی لیے اردو زبان میں یاد کرنے کے معنی میں ایک فقرہ ”برسبیل تذکرہ“ بولا جاتا ہے جس کا مطلب دوران گفتگو کسی شخص یا واقعہ کا یونہی ذکر کرنا یا ذکر آجانا ہے۔ اصطلاح میں یہ لفظ عمومی طور پر عربی ، فارسی اور اردو زبان میں ایسی کتاب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس میں مشہور اشخاص کی زندگی اور ان کی خدمات یا فنکاری پر روشنی ڈالی جائے۔ جیسے تذکرة العلمائ، تذکرہ علمائے ہند، تذکرة الامراءوغیرہ۔البتہ فارسی اور زبان وادب میں خصوصی طور پر تذکرہ ایسی کتاب کو کہتے ہیں جن میں شعرا کے احوال اور ان کے کلام کے نمونے پیش کئے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کے کلام پر سرسری طور پر تنقیدی تبصرہ بھی کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر فرمان فتح پوری اپنی کتاب اردو نثر کا فنی ارتقا میں لکھتے ہیں:
”اردو میں تذکرہ نگاری کا آغاز فارسی کے زیر اثر ہوا ہے اور اس فن کو بنیادی طور پر بیاض نگاری کے شوق نے جنم دیا ہے۔ رفتہ رفتہ اس بیاض میں اشعار کے ساتھ صاحبان اشعار کے نام اور تخلص بھی شامل ہوگئے۔ بعد ازاں، نام وتخلص میں خاص ترتیب پیدا کی گئی۔ کہیں حروف ابجد کے لحاظ سے اور کہیں ادوار شاعری کے لحاظ سے۔ پھر ان ناموں کے ساتھ شعر کے مختصر حالات وکلام پر سرسری تبصرے اضافہ ہوا اور اس کا نام تذکرہ ہوگیا۔“
                 فارسی زبان وادب میں مستعمل خاص معنی سے الگ عام معنی میں تذکرہ کا استعمال کیا جائے تو اس حوالہ سے تذکرہ نگاری کو سوانح نگاری ، تاریخ اور خاکہ نگاری کا جزو کہا جاسکتا ہے۔ دیدہ وران بہار بھی در اصل اسی زمرہ کی کتاب ہے۔ سوانح نگاری یا تاریخ اور تذکرہ میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سوانح یا تاریخ میں شخصیت کے مکمل ارتقا کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے جبکہ تذکرہ میں اس کی گنجائش کم ہے۔ اگر تذکرہ میں کسی شخصیت کی پیدائش، اس کے خاندان، زندگی کے مختلف واقعات کا بیان اس طرح کیا جائے اس کی تصویر میں جان آجائے اورتصویر بولنے لگے تو کہنے دیا جائے کہ وہ تذکرہ ”تذکرہ“ نہیں کچھ اور ہوگا اور اگر یہ سب کچھ تذکرہ میں ہی مل جائے تو پھر فن سوانح نگاری کی حاجت بھی نہیں رہ جائے گی۔ اسی طرح سوانح نگاری اور تذکرہ نگاری کے درمیان فرق کرنا بھی دشوار ہوگا کہ کس کو تذکرہ نگاری کا نام دیا جائے اور کس کو سوانح نگاری کا۔ تذکرہ نگار ایجاز واختصار سے کام لیتا ہے اور مشمولہ شخصیت کے بارے میں معروضی انداز سے بنیادی معلومات بیان کرکے اس کے علم وفن پر سرسری انداز میں مگر نپا تلا تبصرہ کردینا چاہتا ہے۔ اگر ایجاز واختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے تذکرہ کا جائزہ لیا جائے تو اسے خاکہ نگاری کے قریب دیکھا جاسکتا ہے جیسا کہ آب حیات، جو ایک تذکرہ ہے اور بقول ماہرین کے تذکرہ نگاری نکات الشعرا سے شروع ہوکر آب حیات پر ختم ہوجاتی ہے، اس میں خاکہ نگاری کی بھی اچھی مثالیں ملتی ہیں۔ یہاں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ خاکہ نگاری میں وحدت تاثر کا پایا جانا ضروری ہے۔ جبکہ تذکرہ میں ایسی تحدیدلازم کرنے سے تذکرہ نگار سے اس کی آزادی چھین لینے کے مترادف ہوگا اور یہاں بھی وہی بات کہی جاسکتی ہے کہ تب خاکہ نگاری کے صنف کی علاحدہ ضرورت کیوں آن پڑے گی۔ان سب کے باوجود دیدہ وران بہار کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض نظموں میں خاکہ نگاری کا تاثر ضرور پایا جاتا ہے اور وہ لطف جو خاکہ نگاری کا خاصہ ہے ہمیں چند نظموںمیں ضرور ملتا ہے۔ اس حوالہ سے اس امر پر بھی غور کیا جاسکتا ہے کہ ادب وتنقید کی جن کتابوں میں تذکرہ نگاری کے تئیں منفی رجحانات پائے جاتے ہیں اس کا سبب یہ ہے کہ تذکرہ کو تنقید یا سوانح کا متبادل سمجھ لیا گیا ہے۔ان سے بھی وہیں تقاضے کئے گئے ہیں جو تنقید یا سوانح سے کئے جاتے ہیں۔ یا پھر اس لیے کہ اس میں اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ اردو تنقید کی بنیاد تذکروں پر رکھی گئی ہے یا تذکروں کی تنقیدی اہمیت کے دعوے کو باطل کرنے کی وجہ سے تردیدی بیان میں شدت آگئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تنقید کی باضابطہ بنیاد رکھی جانے کے بعد ان تذکروںکی اہمیت بالکل ختم یا کم کردی گئی ہے اور اس کے بعد تذکرہ نویسی بھی اس طرح سے نہیں کی گئی جس طرح ابتدا میں اس سے کام لیا گیا۔ لیکن اگر تذکرہ کو سوانح اور تاریخ کا ذیلی جزو مان کر تذکرہ لکھا جائے تو آج بھی اس کی تاریخی اہمیت اور اس کی ضرورت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے جس کو دور حاضر میں بہار کے حوالہ سے ”دیدہ وران بہار“ نے پورا کرنے کوشش کی ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ آج بھی علما ئے کرام کے ایسے تذکرے لکھے جارہے ہیں جو سوانح حیات ہے ، نہ خاکے اور نہ ہی تنقید۔
                 ”دیدہ وران بہار“ تین جلدوں کو شامل پانچ سو صفحات پر مشتمل ایک ضخیم کتاب ہے جس میں مختلف شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والے ماضی وحال اور استقبال کے ایسے تین سو اکیاون ادبا، شعرا، اطبا، وکلا، دانشوران، علماء، صحافیوں،انجینئروں اور ماہرین علوم وفنون کا منظوم تذکرہ ہے جن کا علم وادب سے تعلق قائم ہے۔ ان میں مشمولہ شخصیات کی حیات اور ان کی خدمات کو اجالا گیا ہے۔ جلد اول میں ایک سو چھیاسی شخصیتیں شامل ہیں۔ ان میں اکیس بہارکی ایسی شخصیتیں ہیں جو امریکہ، پاکستان، قطر، کناڈا اور کویت میں مستقل یا وقتی طور پر رہ کر علم وادب کا چراغ روشن کئے ہوئی ہیں ۔ ایسی شخصیتوں کو” روشن دیار غیر ہے اپنے چراغ سے“ کے عنوان سے ممیز کیا گیا ہے۔دوسری جلد میں ایک سو سولہ شخصیتیں ہیں اور تیسری جلد میں انچاس شخصیتیں ہیں۔ شخصیتوں کا بیان حروف ابجدی اعتبار سے کیا گیا ہے۔ جناب طرزی نے تیسری جلد کی اشاعت کے ساتھ پہلی دونوں جلدوں کو بھی شامل کردیا ہے ۔
                 طرزی کی تذکرہ نگاری اور خاکہ نگاری کا طریقہ یہ ہے کہ عنوان کے طور پر مشمولہ شخص کا نام دیتے ہیں اور کسی کسی میں ذیلی عنوان دے کر کوئی مصرعہ یا تصریح کرتے ہیں۔ پھر اس کے بعد اس کے سلسلہ میں مختلف معلومات دیتے ہیں۔ بیشتر کے پہلے شعر میں نام، قلمی نام اور تخلص وغیرہ بتاتے ہیں۔ پھر اس کی تاریخ پیدائش ، جائے پیدائش وسکونت،ولدیت، پیشہ سے وابستگی اور اس کی خدمات کی نوعیت اور اس کے دائرہ وغیرہ کا ذکر کرتے ہیں۔ اگر مشمولہ شخص مصنف یا شاعر ہے تو اس کے مجموعہ کلام یا کتاب کا نام ، شاعری یا نثر کی نوعیت اور اس کے رنگ پر اشارہ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھے جاسکتے ہیں:
نجم الحق ہے نام اصلی                             اور صبا اکرام ہے قلمی
٭
نام ان کا جودھیا پرشاد تھا                       تو بہار اپنا تخلص رکھ لیا
 تاریخ پیدائش میں اگر اختلاف ہے تو اس کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں:
وہ ہے انیس سو چالیس کا پیدا
کوئی انیس سو اڑتیس بھی کہتا
(ولی عالم شاہین ، ج ۱)
اسلاف سے وابستہ علمی وادبی ، اخلاقی کارنامہ اگر منسوب ہے تو اس کی طرف بھی اشارے کرتے ہیں۔ اس کے فنکارانہ کمال کو واضح کرتے ہیں۔ وہ نظم میں تنقیدی مراحل سے بڑی خوبصورتی سے گزرتے ہیں۔ جہاں فن کی تحسین اور گرہ کشائی کرتے ہیں وہیں فن کار کے فر وگزاشت کی گرفت بھی کرتے ہوئے اس سلسلہ میں شاعری اور دیگر اصناف کے اصول اور نظریے بھی بیان کرجاتے ہیں۔
                مختلف نظموں سے اس کی مثالیں دیکھی جاسکتی ہیں:
چار کم اٹھارہ سو جو عیسوی کا سال تھا
جنوری کی سات کو بیشک یہ پیدا بھی ہوا

دادیہال اور نانیہال ان کی تھی دونوں معتبر
قیمتی گنجینۂ سادات کے ہی تھے گہر
(شاد عظیم آبادی)
پرانی وضع کے فنکار ٹھہرے
کلاسیکی روش کے شعر کہتے

اثر تھا داغ ہی کا شاعری پر
وہی لہجہ، وہ شوخی اور تیور
(مبارک عظیم آبادی)
ڈھائی سو غزلیں اگر ہیں فکر وفن کی پاسباں
نظمیں کل دو سو پچیس ان کی ہیں اعجاز بیاں

دونوں ہی صنفوں میں دکھلایا تپش نے ہے کمال
انتخابِ الفاظ کا کرتا ہے وا، باب جمال
(عبد الصمد تپش)
شاعری ہو آئینہ، علم وادب تہذیب کا
وہ نہ بن جائے جواز اقدار کی تکذیب کا

دوراں سے پاتے ہیں ایسی شاعری کی ہم مثال
یعنی اک ارضی حقیقت، اس کے فن کا ہے کمال
اویس احمد دوراں
”بازناں گفتن سخن“ غزلوں سے اب جاتا رہا
زندگی کے مسئلوں سے اس کا رشتہ بندھ گیا
شاعری اظہار ٹھہرے واردات عشق کا
مقصد فن اب کسی صورت نہیں یہ رہ گیا
ان کی غزلوں سے نتیجہ ہوتا ہے ظاہر یہی
عشقیہ باتوں سے ہے اس کی فضا بندی ہوئی
علم سے ہوتی ہے فکر میں گہرائی بھی
آپ کے فن میں کھٹکتی ہے کچھ ایسی بھی کمی
منصور خوشتر
بعض شخصیتوں پر کہی گئی نظموں میں ان کی مادر علمی اور اساتذہ کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔
                 کتاب کے مطالعہ سے یہ خصوصیت بھی واضح ہوتی ہے کہ شاعر کی نگاہ مشمولہ شخص کی عام یا معمولی سرگرمیوں میں منفرد خاصیت کو پہچان لیتی ہے ۔ لیکن بعض نظموں میں ان کا خاص التزام نہیں ملتا ہے۔
                مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر یہ اشعار بھی دیکھے جاسکتے ہیں:
ہے اگر انسان کوئی صالحیت آشنا
وہ محافظ ہے یقینا غایتِ تخلیق کا
بگزارد زندگی اکرام با طورِ چنیں
بر کفے دنیا بدارد، برکفے اعمالِ دیں
سر، فروغ علم کا سہرا بندھا اکرام کے
زندگی کی کامرانی کے ہیں در اُن پر کھلے
مستند شد خواجگیش ہم ز خدمات عظیم
گونہ دارد خرقہ و دستار بردوشے گلیم
(ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین)
                طرزی ایک وسیع القلب زبا ن داں اور فنکار ہیں ۔اپنی شاعری میں دیگر زبانوں کے الفاظ کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ ہندی کے الفاظ بھی انہوں نے بڑی خوبصورتی سے استعمال کیے ہیں۔ ایک شعر ملاحظہ ہو:
غزلوں میں ہے ان کا لہجہ                       سندر، تیکھا اور انوکھا
                 تذکرہ کے سلسلہ ماہرین نے جن خامیوں کا ذکر کیا ہے دیدہ وران بہار ان تمام خامیوں سے بالکل مبرا تو نہیں ہے تاہم جو تقاضے تذکرے سے کئے گئے ہیں ان میں سے بہت سے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ یہ کتاب شاعروں کا تذکرہ نہیں بلکہ جملہ علوم وفنون کے ماہرین کا تذکرہ ہے اس لیے اس کتاب سے شاعروں کے تذکروں کے تمام تقاضے پورے بھی نہیں کئے جاسکتے ہیں۔
                 حالانکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعرجناب طرزی نے ان تین جلدوں کے ساتھ اس کتاب پر فل اسٹاپ لگادیا ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس کا انکار تو نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ان کے علاوہ بہار میں دیدہ ورنہیں ہیں یاآئندہ پیدا نہیں ہوں گے۔ کیونکہ بہار کی سر زمین ابھی دیدوروں کی تحمیل سے مایوس ہوئی ہے اور نہ ہی اس کی کوکھ نے دیدہ وروںکی تولید سے عاجزی کا انکار کیاہے اور نہ ایسا ہے کہ جناب طرزی کے قلم کی روشنائی ابھی سوکھی ہے۔ علم معاشیات کی زبان میں جناب طرزی کے شاعرانہ کمالات پر اظہار خیال کیا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ ان کی شرح پیداوار اتنی تیز ہے کہ ادھر طلب ہوئی اور ادھر رسد حاضر ہے۔ بس ذہن میں سودا سمانے کی بات ہے اور پھر ہوسکتا ہے کہ چوتھی جلد حاضر۔ پراڈکشن کا سانچہ بھی اتنا پختہ ہوچکا ہے وہاں رجیکٹ ہونے والے پراڈکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہیں اشعار کی تخلیق پر غضب کی قدرت ہے۔ شعر کہنے کے لیے نہ کسی موزوں مقام کی حاجت ہے نہ موزوں وقت اور موڈ کی ضرورت۔ نہ ہی ایسا ہے کہ اگر شعر ہونے لگے تو لکھنے پر مجبور ۔ اپنی خواہش سے جب چاہا شعر لکھ لیں اور حسب خواہش جہاں پر چاہیں علامت اختتامیہ ڈال دیں جو گوکہ شاعری میں استعمال نہیں ہوتی ہے۔
                نوٹ: دسمبر ۲۰۱۵ میں دیدہ وران بہار کی چوتھی جلد بھی انہوں نے لکھ دی ہے اور وہ زیور طباعت سے آراستہ ہوکر منظر عام پر بھی آچکی ہے۔ اس میں کل ۵۰؍ شخصیات کو شامل کیا گیا ہے۔ اس جلد میں جو شخصیتیں شامل کی گئی ہیں ان پر گذشتہ تینوں جلدوں کے برعکس قدرے تفصیل سے نظمیں کہی گئی ہیں۔
                الفاظ وتراکیب اور بندش پر بھی انہیں کمال قدرت حاصل ہے۔ یوں تو جوش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وہ شعر کہتے تھے تو الفاظ دست بستہ کھڑے رہتے تھے۔ یہ بات جناب طرزی کے ساتھ بھی صادق آتی ہے جس کی تصدیق کئی صاحبان نظر بھی کرچکے ہیں۔ روانی سے شعر کہتے ہیں اور جب چاہیں اور جیسے چاہیں الفاظ وتراکیب اور بندش میں ردو وبدل پیدا کریں۔بڑی خوبصورتی سے نظم کے درمیان ایک نہیں کئی کئی اشعار فارسی کے نظم کردیتے ہیں تو عربی کی خوبصورت ترکیبیں بھی جا بجا نظر آجاتی ہیں۔ تو کبھی دیگر اردو اور فارسی شعرا کے اشعار بطور تضمین یا دلیل نظم میں کھپا دیتے ہیں۔ یہ اشعار وتراکیب بھی ایسے ماہر جوہری کی طرح مثل نگینہ فٹ کردیتے ہیںکہ قاری کو اس کے ابھار یا دباؤکا احساس بھی نہیں ہوتا اور اہل نظراس کی لطافت سے لطف اندوز ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ ان کی فارسی دانی اور اس پر ملکہ کے قائل اہل ہند ہی نہیںاب اہل فارس بھی ہوچکے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ انہوں نے شاعری کو تفنن طبع کی بجائے ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا ہے۔
                ان سب کے باوجود چونکہ کلام پر اتمام وکمال صرف وصف ربانی ہے ۔ اس لیے شاعر ی اپنے خالق کو مجبور کر کے اس کی عبدیت کا احساس دلاتی رہتی ہے۔ بعض مواقع پر ایسی مجبوریوں کا شکار طرزی کو بھی ہونا پڑا ہے جس کا اظہار دوسری جلد کے پیش لفظ میں وہ خود یوں کرتے ہیں:
”معذرت خواہ ہوں کہ مجبوری بیان کے سبب بعض نقائص بھی پیدا ہوگئے ہیں مثلا عیسوی ، عسوی، چالیس ۔ چالس، پورنیہ ، پرنیہ وغیرہ۔ “
                کتاب کی پہلی جلد کو پروفیسر وہاب اشرفی، دوسری جلد کو پروفیسر منصور عمر اور تیسری جلد کو ایس ایم اشرف فرید اور ایس ایم اجمل فرید کے نام معنون کیا گیاہے۔ کتاب کے ٹائٹل پربہار کے جغرافیائی نقشہ کے ساتھ غالب کا فارسی شعر
گفتمش، چہ بود عظیم آباد؟                    گفت، رنگیں تر از فضائے چمن
 درج کیا گیا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ کتاب دبستان عظیم آباد کی تاریخ سے تعلق رکھتی ہے اوراگر اسے اس کی توسیع بھی قرار دیا جائے تو غلط نہیں ہوگا۔ کتاب کے آخر میں شاعر کے تعلق سے ناقدین ادب کی آرا دی گئی ہیں جن میں شاعر کے فکر وفن کا مختصر مگر جامع انداز میں جائزہ لیا گیا ہے۔
                کتاب کے مطالعہ سے یہ احساس ہوتا ہے کہ شخصیتوں کے انتخاب میں ذرابھی تعصب سے کام نہیں لیا گیا ہے نہ ہی کسی کو کمتر یا حد سے زیادہ برتر بتانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی واضح کردینا نامناسب نہیں ہوگا کہ ان جلدوں میں کچھ ایسے نام بھی شامل ہیں جو علم وادب کے میدان میں نجوم و ماہتاب کی طرح ابھی درخشاں تونہیں ہیں لیکن شاعر کی تیزو خردبیں نگاہ ان کے روشن مستقبل کے آثار دیکھ رہی ہے اور ایسا ان کا اندازہ ہے کہ مستقبل میںان سے کوئی بڑا علمی وادبی کارنامہ سرزد ہوگا۔ جناب طرزی ان کی شمولیات کا جواز خودکچھ اس طرح فراہم کرتے ہیں:
                ”نئی نسل کے کچھ ایسے افراد اس میں شامل ہیں جن کے اطوار وشعار خوش آیند نظر آتے ہیں۔ اللہ نے چاہا تو ان کو دیدہ وری میسر ہوگی۔ یہ عقب نشیں شہ نشیں بھی ہوسکتے ہیں۔“
                آخر میں اتنی بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ کتاب نہ صرف مطالعہ کی چیز ہے بلکہ اساتذہ اور طلبہ کے لیے حوالہ جات کے کام آنے والے والا سرمایہ بھی ہے۔باوجودیکہ یہ کتاب تذکرہ سے تعلق رکھتی ہے اور شعرا کے تذکرہ میں ان کے کلام کے نمونہ سے صرف نظر کیا گیا ہے لیکن پوری کتاب منظوم ہونے کے سبب کام ودہن کو لذت بخشتی ہے۔ بہت سے اشعار مختلف نظموں میں ایسے ملتے ہیں جو اردو شاعری کے اعلی انتخاب میں شامل ہونے اور زبان زد خاص وعام ہونے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں۔ باتیں طویل ہوچکی ہیں ورنہ اس طرح کی بھی کچھ مثالیں بطور نمونہ پیش کی جاتیں۔ امید کی جاتی ہے کہ دیدہ وران بہارسوانحی تذکرہ نگاری کے فن میں ایک نایاب تجربہ اور اضافہ ہوگا۔

٭٭٭

Sunday, 30 November 2014

مشاعرہ اور اردو زبان کی ترویج

از دربھنگہ
بتاریخ ۱۴؍ نومبر ۲۰۱۴ءبوقت ۱۱ بجے دن

برادرم منصور خوشتر صاحب!                                                                                            السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
                چند لمحے قبل  کی ٹیلی فونی گفتگو کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ مزاج گرامی تو بخیر ہی ہوگا۔ دوران گفتگو پتہ چلا کہ آپ کو مشاعروں کے تئیں میرے اعتراضات  کے ایک حصہ کا جواب حاصل ہوگیا۔ آپ کے شناسا ایک صاحب کا بچہ جو اردو سے ناواقف تھا آپ کے ذریعہ منعقد مشاعرہ کو سننے کے بعد اردو زبان سے اس کی رغبت ہوئی ۔ اس نے کئی اردو اشعار یاد کرلئے اور توقع ہے کہ وہ اردو زبان پڑھے گا بھی۔ جس سے آپ کو لگا کہ معاشرہ پر مشاعروں کا اثر ہوتا ہے اورمشاعروں سے اردو زبان کے بہت سے فائدے ہیں۔ آپ کو یہ جواب حاصل ہوا۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ آپ کو اس سے خوشی ہوئی ! اللہ کرے آپ کو ایسی خوشیاں ہمیشہ نصیب ہوتی رہیں۔
                بھائی! اس امر کو دل سے نہیں دماغ سے سوچئے۔ محض جواب سوجھ جانا ہی اہم نہیں بلکہ جواب ایسا ہو کہ اس میں جواب الجواب کی صورت پیدا نہ ہو۔ صرف یہ کہہ دینا کہ یہ آپ کی بات کا جواب ہوا اس سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا سائل اور معترض کو اس سے اطمینا ن ہوجائے گا۔ دیکھنا یہ چاہیے کہ ذہن میں آنے والا جواب معترض کے اعتراض کے سارے ابعاد کو شامل ہے یا نہیں ہے۔ جواب منطقی ہونا چاہیے جذباتی نہیں۔
                خیر اس بات کو جانے دیجئے آمدم بر سر مطلب کہ مذکورہ عزیز کی اردو زبان سے رغبت کی بنیاد تفریح ہے۔ جسے آپ Entertainment کہتے ہیں۔ یہ ایک جذباتی فیصلہ ہے اور جذباتی فیصلہ کتنی دیر ٹھہر سکتا ہے اس کے بارے میں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ایسے یہ کوئی اسی لڑکے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اب بیشتر مشاعروں کی بنیاد تفریحات پر ہی ہے۔سامعین ذوق سماعت سے زیادہ ذوق بصارت کی تسکین کے لیے مشاعرہ میں جاتے ہیں۔وہاں اب جمال سے زیادہ جمیل بلکہ جمیلہ پر نظر رہتی ہے۔  سامعین بصیرت حاصل کرنے نہیں چند لمحے خوش ہونے کے لیے آتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ بصیرت کے حصول سے یک گونہ خوشی ہوتی ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ اب مشاعروں میں بصیرت افروز اشعار سننے سے پہلے ہی رد کردئے جاتے ہیں۔ مشاعروں میں فوری اپیل کی شاعری کی سنی جاتی ہے ۔ عام طور پر فوری اپیل کی شاعری میں گہرائی کا امکان کم ہے۔ اس فوری اپیل میں بھی کچھ پتہ کی بات کہی جاسکتی ہے اور بسا اوقات کہی بھی جاتی ہے جو بیشتر سامعین کے ذہنوں کے اوپر سے گزر جاتی ہے۔سامعین اب ایسے اشعار سننا چاہتے ہیں جو رومانی جذبات سے مملو ہوں۔وہ شعر خوب سمجھ میں آتا ہے جس میں اخلاقی قدر کی حد مٹ رہی ہو۔اس کے باوجود بیشتر شعرا کو داد وتحسین کی بھیک مانگنی پڑتی ہے۔اس پر بھی یہ حاصل نہ ہو تو دوبارہ شعر پڑھ کر داد مانگی جاتی ہے۔ بعض کو داد کے حصول کی خارش نظر آتی ہے۔
                 ہم سب جانتے ہیں کہ زندگی کے لیے تفریحات کی بھی ضرورت ہے۔ ادب تفریح بھی ہے اور دانشوری بھی ۔ لیکن آپ صحافی ہیں اور ادبی صحافت میں بھی دربھنگہ ٹائمس کی ادارت کے حوالہ سے شناوری کرلی ہے۔ آپ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ اب مشاعروں میں دانشوری کا کوئی مقام نہیں رہ گیا ہے۔ یہاں اب صرف تفریحات کا ہی سکہ چلتا ہے۔ ایک زبان کا انحصار اگر صرف تفریحات پر ہو تو وہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ہمارا ساتھ نہیں دے سکے گی۔ آپ جانتے ہیں کہ پہلے فلموں کی زبان خالص اردو تھی اب جبکہ رابطہ کی زبان ہی مخلوط ہوتی جارہی ہے فلموں کی زبان بھی مخلوط ہوتی جارہی ہے ۔ اس کے باوجود اردو کا نشہ فلموں پر اب بھی ہے لیکن بتائیے کہ اس سے زبان کا کیا فائدہ ہوا۔
                زبان کی ترقی اس وقت ہوتی ہے جب وہ علم ، سائنس اور تحقیق وایجادات کا ذریعہ بنتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ آج پہلے زمانے سے کہیں زیادہ شاعری کی جارہی ہے۔ شاعری میں نئے مسائل بھی آرہے ہیں۔ فکشن کی رفتار بھی پہلے سے کم نہیں ہے۔ آج کے فکشن میں آج کے مسائل خوب پیش کئے جارہے ہیں۔ لیکن یہ دیکھئے کہ الماریوں کی زینت بننے کے سوا ان کتابوں کامقدر کیا ہے۔
                ادب اس وقت ہمارے لیے کار آمد ہوتا ہے جب وہ علوم کے مسائل کے اظہار میں آسانی کی راہ ہموار کرے۔ یہ ادب تجرباتی ہوتا ہے۔آپ کو بتادوں کہ اچھی شاعری سننے کی نہیں پڑھنے کی ہوتی ہے۔ جس سے صرف دل کی دھڑکنیں ہی بڑھتی گھٹتی نہیں بلکہ دماغ کے ساتوں طبق بھی روشن ہوتے ہیں۔ شاعری ایسی ہوتی ہے خواہ وہ غزل کی صورت میں ہو یا نظم کی یا شعری اصناف کی کسی مروجہ ہئیت میں یا تجرباتی ہئیت میں اگر اس میں شعریت موجود ہے، تو اس کے متن کی قرأت کے دوران قاری کے ذہن میں نور کا وفور ہوتا رہتا ہے ۔ اس منور دماغ سے مسلسل شعاعیں پھوٹتی رہتی ہیں  جیسے بجلی کے بلب سے شعاعیں پھوٹتی ہیں۔ یہ شعاعیں ایسے چراغ یا بجلی کے اس بلب کی طرح نہیں ہوتیں جس کے عقبی حصہ تک روشنی نہیں پہنچتی۔ یہ وہ نقطہ نور ہوتا ہے جس سے شش جہات روشن ہوجاتے ہیں۔ کسی مقام پر انعطاف نور کی صورت پیدا نہیں ہوتی۔ آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک آجاتی ہے اور چہرے پر بھی حسن وجمال کی لہریں چلتی رہتی ہیں۔ اگر ایسا کوئی آلہ ایجاد کرلیا جائے جو اس  کیفیت کو محسوس کرسکے تو اس کو ثابت بھی کیا جاسکتا ہے۔ طبیعت میں بھی ایک سرور کی کیفیت رہتی ہے۔ کبھی کبھی تو  قاری کے بدن میں جھرجھری بھی طاری ہوجاتی۔ اس کے اثرات جسم کے روئیں پر بھی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کیفیات اس وقت تک طاری رہتی ہیں جب تک قاری ایسی شاعری کا مطالعہ کرتا رہتا ہے۔ اس درمیان قاری ‘وہ’ نہیں رہتا جو ‘وہ’ تھا بلکہ ایک نئی دنیا میں رہتا ہے۔ نظم ؍ شاعری کی قرأت ختم کرنے کے بعد بھی اس پر اس کے کچھ اثرات باقی رہتے ہیں اور دھیرے دھیرے وہ اس کیفیت سے نکلتا ہے اور پوری طرح نکل جانے کے بعد بھی وہ وہاں نہیں پہنچتا ہے جہاں سے اس نے اس شاعری؍ نظم کی قرأت کا مطالعہ  شروع کیا تھا بلکہ ایک قدم آگے ہی رہ جاتا ہے۔
                میں آپ کو بتاؤں کو تنقیدی موشگافیوں سے نابلد اہل عرب نے محمد عربی ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن مجید سن کر جب ‘شاعر مجنون’ کہا تھا تو یوں ہی نہیں کہا تھا۔ ان کے کہنے کا مقصد مجنوں کی بڑ نہیں تھی۔ بلکہ وہ کلام کی تاثیر سے واقف تھے۔ میں جملہ معترضہ کے طور پر کہوں کہ احساس جمال کی بالیدگی کے باوجود آج بھی ہم  قرآن کی اس جمالیات سے محظوظ نہیں ہوسکے ہیں جس کی لذت ان بدوؤں نے محسوس کی تھی اور اسی کا اثر تھا جب انہیں کسی موقع پر قرآن کی تلاوت سن کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ وہ اب کلام کی تاثیر سے بچ نہیں پائیں گے تو اپنے کانوں میں انگلی ڈال کر نکل جاتے تھے۔ وہ عرب جانتے تھے کہ عمدہ کلام کس طرح زندگی پر اثر ڈالتا ہے۔  آپ اس دھوکہ میں نہ پڑیں گے کہ میں  معاذ اللہ قرآن کو شاعری سمجھتا ہوں یا اہل عرب اپنی باتوں میں درست تھے۔ میرا ایمان ہے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے جو نثر میں ہے البتہ اس میں موجود شعریت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے۔ میں یہ بھی خوب  سمجھتا ہو ں کہ اہل عرب نے یہ بات کہہ کر قرآن کے کلام اللہ ہونے کی تردید کی تھی۔بھائی!  مجھے صرف کلام کی تاثیر بتانے کے لیے یہ مثال لانی پڑی ہے اور بس۔
               بہر حال چھوٹی سی بات کے لیے اتنی  طویل گفتگو  ہوگئی۔ میں نے آپ کا اتنا قیمتی وقت صرف کیا۔ میں معذرت کرلیتا لیکن آپ کی زندگی میں دوستوں کا اتنا وقت تو بنتا ہے نا۔ چلئے اتنی بات ہوئی تو تھوڑی بات اور سہی ۔ چلتے چلتے اتنی بات اور گوارا کرلیجئے  ۔ معاف کیجئے تو آپ کا بڑپن، نہ  معاف کیجئے تو  دوستی میں  میرا حق۔ آپ کے جی میں بھی آئے  تو کچھ کھری کھوٹی سنا لیجئے۔ بدلہ برابر۔
لیجئے سنئے !مشاعرے کسی زمانے میں تہذیب سکھانے کا ذریعہ ہوتے تھے۔ لوگ اپنے بچوں کو مشاعرہ گاہ لے جاتے تھے تاکہ بچہ کو  نشست وبرخاست کے طور طریقے سکھانے کے ساتھ گفتگو اور طرز کلام پر قدرت دلائی جاسکے۔ زبان وبیان میں شگفتگی آئے اور مذاق عمدہ ہوسکے۔  اب مشاعروں میں اتنی گراوٹ آگئی ہے کہ نشست وبرخاست اور طرز کلام تو کجا ایک مشاعرہ میں مہذب گھرانے کی دو نسلوں کو ایک ساتھ بیٹھنا زیب نہیں دیتا۔
                                                فی الحال اتنا ہی۔ آپ کے جواب کا منتظر۔
                                                                                                                                          آپ کا مخلص
                                                                                                                                          احتشام الحق