مشمولات

Friday, 27 July 2018

بہتر تعلیم کیلئے صرف خصوصی تربیت مسئلہ کا حل نہیں



بہتر تعلیم کیلئے صرف خصوصی  تربیت مسئلہ کا حل نہیں
جڑوں کو سوکھا رکھ کر شاخوں پر پانی چھڑکنے سے درخت شاداب نہیں ہوں گے

میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ریاضی اور دیگر مضامین میں کمزور بچوں کو محکمہ کی جانب سے خصوصی تربیت دی جائے گی۔ اس کی ذمہ داری حکومت نے بہار ایجوکیشن پراجیکٹ کونسل کو دی ہے۔ حکومت کو یہ خیال اس لیے آیا ہے کہ وزیر اعلی کے مشیر اور چیف سکریٹری نے محکمہ تعلیم کے حکام کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں یہ معاملہ سامنے آیا کہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم درجہ اول تا درجہ پنجم کے طلبہ ریاضی کے عام سوالات بھی حل نہیں کرپاتے ہیں۔
                حکومت کی یہ سنجیدگی قابل ستائش ہے۔ اگر حکومت یہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقینا  سماج کے لیے بڑا کام ہوگا۔ لیکن ماضی میں کی  گئی اس طرح کی کوششوں کے مد نظر امکان یہ ہے کہ حکومت کی یہ کوشش  بھی ناکام ہوگی۔ کیونکہ یہ جڑوں میں پانی دینے کی بجائے شاخوں پر پانی دینے کا عمل ہوگا جس سے درخت شاداب نہیں ہوتے۔ اولا تو محکمہ کا یہ خیال کہ درجہ اول تا درجہ پنجم کے طلبہ ریاضی  کے عام سوالات حل نہیں کرپاتے گرچہ  صد فیصد درست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ درجہ ہشتم تک ایسے طلبہ ہیں جو ریاضی ہی نہیں قومی و مادری زبان ہندی میں بھی اتنے کمزور پائے جاتے ہیں کہ اس کا بیان انتہائی تکلیف دہ ہے۔ حکومت جو خصوصی تربیت کا انتظام کرے گی اندازہ یہ ہے کہ اس کے  لیے اساتذہ کو یہ ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ اسکول میں بچوں کی چھٹی ہوجانے کے بعد ایک گھنٹہ ایسے بچوں کو تربیت دیں۔ جو کاغذ پر تو ممکن ہے شاید عمل میں نہ آسکے۔ اگر یہ اساتذہ اتنے ذمہ اور ایماندار ہوتے کہ وہ بچوں کی تعلیمی ترقی اور پیش رفت کے لیے درجوں کے بعد انہیں ٹریننگ دینے کا اہتمام کریں تو خود کلاس میں ہی بچوں کو اتنی تعلیم ضرور دیتے کہ بیشتر بچوں کی تشفی درجہ میں ہوجائے اور کچھ بچے جو پیدائشی طور پر یا معاشی اور دیگر مسائل کے سبب کمزوریوں کے شکار ہیں محض ان کا مسئلہ رہ جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو خصوصی تربیت کے ذریعہ درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں درجوں میں بیشتر کمزور ہوتے ہیں اور چند ایک اچھے ہوتے ہیں۔ یہ  بھی سچائی ہے کہ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کلاس کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے اور اس کے چند اسباب بھی ہیں۔
                اسکولوں میں تعلیم کی بہتری کے لیے محکمہ کا پورا نظام موجود ہے لیکن جس طرح اساتذہ تعلیم کے تئیں غیر سنجیدہ ہیں اس سے کہیں زیادہ محکمہ کا نظام غیر سنجیدہ ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اساتذہ کو ذمہ دار ی سے راہ فرا ر اختیار کرنے میں محکمہ کی جانب سے حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ محکمہ کی جانب سے اکثر اسکولوں میں سی آر سی سی، بی آر پی ، بلاک ایجوکیشن افسر ، ضلع ایجوکیشن افسر اور ضلع پروگرام افسر کی جانب سے معائنہ ہوتا رہتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معائنہ میں ایسے افسران درجہ میں نہیں جاتے یا جاتے بھی ہیں تو محض بچوں کا سر گننے اور حاضری رجسٹر میں بنائی گئی حاضری سے گنے ہوئے سر کا مقابلہ کرنے تاکہ سر شماری اور رجسٹر میں درج تعداد میں بڑا فرق پائے جانے پر اسکول کے  ہیڈ ماسٹر سے پیسے کی وصولی کو جائز ٹھہرایا جاسکے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسکولوں کا معائنہ کرنے والے ہر سطح کے افسران درجہ میں پہنچ کر بچوں سے سوال کرتے۔ آج ان کو کون سا سبق پڑھایا گیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے جو کیلنڈر دستیاب کرایا گیا ہے اس کے مطابق پڑھائی ہوئی ہے یا نہیں؟جو سبق پڑھایا گیا ہے اس کا حق ادا ہو سکا  ہے یا نہیں؟  سبق اگر بہت پیچھے ہے تو اس کے اسباب کیا ہیں؟کون کون سے مضامین پڑھائے گئے اور روزانہ پڑھائے جا رہے ہیں اور جن مضامین کی پڑھائی نہیں ہو پارہی ہے اس کے اسباب کیا ہیں؟ کیا اساتذہ کی کمی سے ایسا  ہو رہا ہے یا پھر اساتذہ اپنی ذمہ داری کے تئیں لا پرواہ ہیںَ جن مضامین کی پڑھائی ہوچکی ہے اس میں بچوں کی معلومات کی سطح کیا ہے؟  جن مضامین کے اساتذہ کی کمی  ہے اس کا حل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ کو رپورٹ دی جانی چاہے کہ اساتذہ کی کمی کے سبب تعلیم کا کیا نقصان ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افسران کو ان سب سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
                اسکولوں میں ناقص تعلیمی نظام  کی ایک بڑی وجہ اساتذہ کی غیر معمولی کمی ہے۔ اکثر اسکولوں میں ضرورت کے مطابق اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ ایک ہی درجہ میں دو دو، تین تین سے پانچ پانچ کلاسوں کی تعلیم بھی دیکھنے کو مل جائے گی اور اسکولوں کی ایسی تعداد بھی ہر ضلع میں قابل لحاظ ہے۔  جہاں ایسا ہے وہاں بچوں کی تعلیمی پیش رفت کیا ہوگی اس  کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا ذمہ دار اساتذہ کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکولوں کو ضرورت کے مطابق اساتذہ فراہم کرائے۔ اگر ایسے اسکولوں میں بچوں کی تعلیمی  ترقی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کلاس کا اہتمام کر بھی دیا جائے تو اس کا نتیجہ صفر ہی ہوگا۔
                حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں جو تقرری کی ہے اس میں درجہ ششم تا درجہ ہشتم میں اساتذہ کی تقرری میں مضمون کی شرط رکھی گئی  ہے۔ یہ بڑی  حد تک اچھی بات ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر اسکول میں تمام مضامین کے اساتذہ  کی لازمی طور پر تقرری ہوتی۔ بلکہ نظام تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ ہر سال اسکولوں سے سکبدوش ہونے والے اساتذہ کے مقابلہ میں مضامین کے مطابق تقرری ہر سال ایک روٹین کے مطابق ہوتی رہنی چاہیے تھی تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ لیکن یہاں تقرری صرف ایک انتخابی ایجنڈہ ہے۔ تقرری کا اشتہار جتنا ہوتا ہے تقرری اتنی نہیں ہوتی۔ ریلیف کے فنڈ کی طرح تقرری نامہ تقسیم کیا جاتا ہے پھر برسوں حکومت اور عوام کسی جانب سے ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے۔ صرف ملازمت پانے والے امید کی نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں۔  بڑی تعداد اسکولوں کی ایسی ہے جہاں تمام مضامین میں اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ سماجی علوم کا استاذ ہے تو سائنس کا نہیں، ریاضی کا استاد ہے تو سماجی علوم کا نہیں۔ اسکولوں میں انگریزی، ہندی، اردو اور سنسکرت سمیت زبان کے اساتذہ کی بڑی کمی پائی جاتی ہے۔  حالت یہ ہوتی ہے کہ ایک استاذ کو بسا اوقات ایک ساتھ کئی درجوں پر نگرانی رکھنی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے تعلیم متاثر ہوتی ہے۔  ان سب کاذمہ  دار اساتذہ کو تو بالکل ٹھہرایا نہیں جاسکتا ہے۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر عوام میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے سلسلہ میں گمراہی پیدا  کر کے ان کے خلاف بد ظنی پید ا کردی ہے تاکہ عوام کی نظر اصل مسائل کی طرف نہیں جاسکے۔ عوام محکمہ کی جانب سے ملنے والے چند پیسوں کے مالی مفاد( پوشاک، اسکالر شپ ، کتابوں اور انڈوں) میں کھوجاتے ہیں اور اسکول انتظامیہ سے دست و گریباں رہتے ہیں۔ حالانکہ ان چیزوں کی دستیابی میں تاخیر یا کمی کا ذمہ دار بھی محکمہ ہی ہوتا ہے لیکن عوام کی نظروں میں قصور وار اساتذہ اور اسکول انتظامیہ ہوتی ہے۔اپنے کام کے تئیں اساتذہ کے والہانہ لگاؤ میں کمی کی ایک وجہ  وقت پر ماہانہ تنخواہ کی عدم ادائیگی بھی ہے۔ گرچہ اس کی ذمہ دار حکومت ہے اور اس کے لیے بچوں کے ساتھ نا انصافی کرنا  ناروا ہے۔ اساتذہ کو اس سے یقینا بچنا چاہیے۔ لیکن انسانی ضروریات کی تکمیل میں رکاوٹ پر یکسوئی پیدا ہونا محال بھی ہے۔ اساتذہ کی یکسوئی میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ اساتذہ سے غیر تدریسی کاموں کا لیا جانا ہے۔ درجہ اول تا درجہ ہشتم تک کے اسکولوں میں کوئی کلرک نہیں ہوتا ہے۔ یہ سارے کام اساتذہ کو کرنے ہوتے ہیں۔ مڈ ڈے میل کے علاوہ روزانہ کی مختلف طرح کی رپورٹوں کے علاوہ کھلے میں قضائے حاجت کرنے والوں کی تصویر کشی اور بیت الخلا کی گنتی جیسے گھناؤنے عمل اور وقفہ وقفہ پر ملنے والی غیر تدریسی ذمہ داریاں اس  پر مستزاد ہیں۔  
                اسکولوں میں بہتر تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی جانب سے بھی کچھ تعاون اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو ملے۔ الیکشن میں عوام کے جو مطالبات ہوتے ہیں یا حکومت عوام کے سامنے جو ایجنڈے پیش کرتی ہے اس میں بھی کبھی یہ شامل نہیں ہوتا کہ ہر اسکول میں ضرورت کے مطابق اساتذہ فراہم کرائے جائیں ۔ یہ صرف روزگار کی فراہمی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بجلی، پانی، صحت اور سڑک جیسی بنیادی ضرورتوں کی طرح ایک ضرورت ہے کہ ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے بھرپور اساتذہ بھی فراہم کرائے جائیں اور ان سے تدریسی کام لئے جائیں۔ حکومت اساتذہ کی ضروریات کا خیال رکھے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ درس و تدریس میں منہمک ہوسکیں۔
                اگر حکومت کو اسکولوں میں بہتر نظام تعلیم کا ماحول فروغ دینا ہے تو اولا تو ضرورت کے مطابق اساتذہ بحال کرنے ہوں گے۔ اساتذہ کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ان کو غیر تدریسی کاموں سے فارغ رکھنا ہوگا۔ اس بات کو یقنیی بنانا ہوگا کہ نگرانی اتھارٹی مالیات کی فراہمی کی بجائے تدریس کو یقینی بنائے۔ ورنہ یوں شاخوں پر پانی چھڑکے جاتے رہیں اور جڑیں سوکھی کی سوکھی ہی رہیں گی۔
***

بازار میں اردو کی تدریسی کتابوں کی دستیابی کے لیے اس کا ڈیمانڈ بڑھانا ضروری



بازار میں اردو  کی تدریسی کتابوں کی دستیابی کے لیے اس کا ڈیمانڈ بڑھانا ضروری
سرکاری اسکولوں کے درجہ اول تا درجہ ہشتم  کی کتابیں بازار میں دستیاب تو ہوگئی ہیں لیکن ایک بار پھر اردو کتابیں نظر انداز کردی گئی ہیں جس سے اردو پڑھنے والوں بچوں کا بڑا نقصان ہونا طے ہے۔ مجموعی طور پر یہ اردو زبان اور اردو داں آبادی کا بھی بڑا نقصان ہے۔ گزشتہ سال تک جب محکمہ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں کتابیں فراہم کرائی جاتی تھیں اردو کتابوں کے ساتھ سوتیلا رویہ صاف نظر آتا تھا۔ کتابیں اگر فراہم بھی کرائی جاتی تھیں تو آدھی ادھوری۔ اب جبکہ کھلے بازارمیں کتاب دستیاب کرانے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے تب بھی اردو کی کتابیں اب تک بازار میں نہیں آسکی ہیں جو انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ پتہ چلا ہے کہ ابھی اردو کی کتابیں شائع نہیں ہوئی ہیں جبکہ سنسکرت سمیت تمام مضامین کی کتابیں شائع ہو کر بازار میں دستیاب ہیں۔ یہ اردو کے ساتھ کھلا تعصب ہے۔ حالانکہ بعض جگہوں سے ایسی خبر بھی ہے کہ اردو کتابیں وہاں دستیاب ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ اچھی بات ہے لیکن بیشتر اضلاع میں کتابیں عام کتابوں کی طرح نہیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں اردو والوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت اور فروغ کے لیے آگے آئیں اور  ڈٹ کر ایسے حالات کا مقابلہ کریں۔
 سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ بچوں اور ان کے والدین میں اردو کے تئیں بیداری پیدا کی جائے اور انہیں کہا جائے کہ وہ بازار میں دکانوں پر جہاں سرکاری اسکولوں کی کتابیں فروخت ہو رہی ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اردو کتابیں ابھی بازار میں نہیں آئی ہیں خریدنے ضرور جائیں۔ اس سے ڈیمانڈ بڑھے گا  اور پبلشر اردو کتاب شائع کرنے اور دکاندار بیچنے پر مجبور ہوں گے۔ مزید اردو تنظیموں اور سرپرستوں کی یونین کی جانب سے محکمہ تعلیم اور حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ جس طرح دیگر کتابیں بازار میں آچکی ہیں اسی طرح اردو  کی کتابیں بھی فورا بازار میں دستیاب کرائی جائیں اور یہ سوال بھی کیا جائے کہ آخر اردو کے ساتھ ایسا رویہ کیوں برتا گیا ہے کہ ساری کتابیں آچکی ہیں اور اردو کو چھوڑ دیا گیا ہے؟
خیال رہے کہ یہ صرف اردو مضمون کی بات ہو رہی ہے۔ اردو میڈیم کی کتابوں کا تو بازار میں کوئی پتہ ہی نہیں ہے اور حکومت نے جو طریقہ اختیار کیا ہے اور خود  اردو والوں کا  اپنا  جو رویہ ہے کہنا چاہیے کہ اس سے بہار میں اردو میڈیم ختم ہی ہوگیا ہے۔اب اردو اسکول برائے نام رہ گئے ہیں۔ اس میں بھی ایک ہی ضلع میں ایسے سیکڑوں اردو اسکول مل جائیں گے جن کو اپنا نام بھی اردو میں لکھا ہوا نصیب نہیں ہے۔ افسوس تو وہاں کی اردو آبادی پر ہے جس کو اس زیاں کا احساس تک نہیں ہے۔ اب  شاید باید ہی کوئی اسکول ہو جہاں اردو میڈیم میں سارے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اب اگر اردو مضمون کی کتابیں بھی بازار میں نہیں ہوں گی تو  آنے والے دنوں میں سرکاری اسکولوں میں اردو کا کیا حال  ہوگا اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔
اردو اساتذہ سے بھی مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ خود بھی کتابوں کی دکانوں پر اردو کتابیں خریدنے جائیں اور دکانداروں سے بات کریں کہ وہ اردو کتابیں منگوائیں۔ ممکن ہو تو بچوں سے بات کر کے خود ہی اردو کتابیں لا کر دستیاب کرائیں۔ اس ضمن میں عام اردو آبادی میں دانشورں، حساس، سماج کے ذمہ دار افران اور ائمہ مساجد کہ وہ لوگوں میں اردو کے تئیں بیداری لانے کے لیے سرگرم ہوں۔ سرکاری اسکولوں میں پڑھ رہے بچوں کے والدین اور سرپرستوں کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اردو کتابیں خریدنے بازار جائیں اور جب اردو کتاب بازار میں دستیاب ہوجائے تو لازمی طور پر خریدیں۔ کیونکہ جب ڈیمانڈ بڑھے گا تو تجارتی منفعت کے مد نظر بھی پبلشر اردو کتابیں شائع کریں گے اور دکانوں میں فروخت بھی ہوگی۔کیونکہ تعصب خواہ کتنا بھی ہو تجارتی مفاد کے آگے وہ ماند پڑجاتا ہے۔ سماج کے ذمہ دار اور ہوش مند افراد جو شہر اور قصبات میں جاتے رہتے ہیں ایسے ماحول میں جب تک اردو کتابیں بازار میں نہیں آتی ہیں  ڈیمانڈ بڑھانے کے لیے بھی اردو کتابوں کے بارے میں بک اسٹالوں پر دریافت کریں یا خریدنے جائیں۔ ا س سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا اور ان شاء اللہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
سرکاری اسکولوں کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ وہاں تعلیم نہیں ہوتی ہے اور اسی ضمن میں اردو کی تعلیم کا بھی حال ہے۔ اس میں کسی حد تک سچائی بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے والدین اور سرپرستوں کو بیدار ہونا ہوگا اور انہیں بیدار ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہ ان کی مستقبل کی تعمیر کا مسئلہ ہے۔ جس طرح وظیفہ اور پوشاک کی رقم نہیں ملنے پر وہ اسکول انتظامیہ سے محاسبہ کرتے ہیں اسی طرح تعلیم اور تدریس کے لیے بھی اسکول انتظامیہ سے مہذب اور احسن  طریقہ پر محاسبہ کا ماحول بنائیں اور ان بچوں کی تعلیمی پیش رفت پر ثبوت کے ساتھ محاسبہ کریں کہ ان کے بچوں کی پڑھائی نہیں ہو رہی ہے۔ اتنے دنوں سے انہیں اسکول کی جانب سے کوئی سبق نہیں ملا ہے۔ اسی طرح اگر اردو کی پڑھائی نہیں ہو رہی ہے تو  اسکول انتظامیہ اور اردو استاذ سے مہذب انداز مین محاسبہ کریں کہ اسکول میں اردو استاذ موجود ہونے کے باوجود اس کی پڑھائی کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ اس کام کے لیے سماج کے ذمہ  دار افراد کی ذمہ داری زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس کام کے لیے تیار کریں اور انہیں بتائیں کہ وہ اردو پڑھانے کے لیے اسکول سے بات چیت کرتے رہیں۔ اس سے اسکول انتظامیہ پر دباؤ بنے گا تو اسکول انتظامیہ اور اردو اساتذہ کو بھی اردو پڑھانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔سرکاری اسکولوں میں ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو والدین - اساتذہ میٹنگ تعلیمی پروگرام کا حصہ ہے جو اکثر جگہوں پر عمل میں نہیں ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکول میں ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو اسکول سے کوئی اطلاع نہیں ملنے کے باوجود اسکول جائیں اور اسکول انتظامیہ سے اس میٹنگ کے بارے میں سوال کریں۔ اپنے بچوں کے اساتذہ سے مل کر ان کی تعلیمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کریں۔ اگر وہاں اردو کی تعلیم نہیں ہو رہی ہے تو اس کے بارے میں سوال کرنا ہرگز نہ بھولیں۔
کتابوں کے لیے گرچہ حکومت کی جانب سے کتابوں کی قیمت فراہم کرائی جا رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اسکولوں کو جو رقم ملتی ہے اس میں زیادہ امکان یہ رہتا ہے کہ سارے بچوں کو رقم نہیں مل سکے۔ اس کے لیے بھی لوگوں کو بیدار رہنا چاہیے اور حکومت سے محاسبہ اور مطالبہ جاری رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی خوشحال لوگوں کو چاہیے کہ اپنے معاشرہ میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے غریب بچوں کو جن کو حکومت کی جانب سے رقم نہیں مل سکی ہے کتابیں خرید کر عطیہ کرنے کا ماحول بنائیں۔ یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہوگا اور آپ کے سماج  میں تعلیم کی روشنی بھی پھیلے گی۔ ساتھ ہی جب کتابیں عطیہ کی جائیں گی تو ایسے بچوں سے ا س کی تعلیمی پیش رفت کے بارے میں پوچھ گچھ کا بھی ماحول پیدا ہوگا اور بچوں میں جواہدہی کا احساس پیدا ہوگا ۔ان شاء اللہ اس کے بھی کچھ نہ کچھ اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ عام طور پر لوگوں میں اپنے بچوں کی تعلیم اور ترقی پر ہی توجہ رہتی ہے۔ حالانکہ کوئی بھی سماج چند افراد اور گھروں  کے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ہونے سے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ نہیں کہلاتا ہے بلکہ جب مجموعی طور پر کسی سماج میں تعلیم اور ترقی عام  ہوتی ہے تب جا کر کسی گاؤں، محلہ اور سماج کو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ گاؤں، محلہ اور سماج کا نام دیا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے لوگ جن کی نظر میں تعلیم اور ترقی کی اہمیت واضح ہے اگر وہ خود کو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ سماج کا حصہ کہلانا چاہتے ہیں تو اپنے ساتھ ساتھ پورے سماج کی تعلیم اور ترقی کی کوشش کریں۔
***

Wednesday, 4 July 2018

پینٹ شرٹ ڈریس کوڈ تکثیری ثقافت کو مٹانے کی مذموم کوشش



پینٹ شرٹ ڈریس کوڈ  تکثیری ثقافت کو مٹانے کی مذموم کوشش

میڈیا میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ یوپی مدرسہ بورڈ سے ملحقہ مدارس میں یوپی حکومت نیا ڈریس کوڈ نافذ کرنے جا رہی ہے اور اب وہاں کرتا پاجامہ یونیفارم کے طور پر پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ابھی تک کی موصولہ خبر کے مطابق نیا ڈریس کوڈ پینٹ شرٹ یا پٹھانی سوٹ ہوسکتا ہے لیکن حکومت کے اب تک کے رویہ سے قیاس یہی کیا جارہا ہے کہ پینٹ شرٹ کا ہی زیادہ امکان ہے۔ خبروں کے مطابق حکومت  کے ذریعہ ایسا فیصلہ مدارس کے طلبہ کو قومی دھارے میں لانےاور احساس کمتری سے نکالنے کے لیے  کیا جارہا ہے۔
جہاں تک یونیفارم کی بات ہے تو چونکہ یہ فیصلہ بورڈ کے ملحقہ مدارس کے لیے  کیا جارہا ہے اس لیے یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ حکومت ڈریس کوڈ کے سلسلہ میں کوئی رائے دے سکے لیکن حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ مدارس اقلیتی اداروں کے زمرہ میں آتے ہیں اور اسی حیثیت سے مدارس کے نصاب اور اسکولوں کے نصاب میں قدرے فرق بھی ہے۔ آج حکومت مدرسوں میں اسکول کا ڈریس کوڈ نافذ کرنا چاہتی ہے تو کیا کل مدرسوں کے نصاب کو بھی اسکول کے نصاب کے مطابق مکمل ڈھال دے گی حالانکہ اس کی کوشش تو مسلسل پہلے سے ہی جاری ہے اور جب نصاب بھی پوری طرح اسکول کے نصاب کے مطابق ڈھال دیا جائے تو پھر مدارس کے الگ نظام کی ضرورت ہی کیا ہوگی۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آئین نے اقلیتوں کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ادارے قائم کریں اور اس کا نصاب تشکیل دیں۔ ڈریس کوڈ کا تعلق بھی تعلیمی نظام سے ہے۔ اس لیے اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح ان کو تعلیمی ادارے قائم کرنے، قومی تعلیمی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے تدریسی نصاب مرتب کرنے کی آزادی ہے اسی طرح اپنے تعلیمی نظام میں اپنی مرضی کا ڈریس کوڈ نافذ کرنے کی آزادی کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔  ہاں اگر ایسے اداروں میں کوئی ڈریس کوڈ نہ ہو یا اس سلسلہ میں بے ضابطگی پائی جاتی ہو تو حکومت یہ  زرو ڈال  سکتی ہے کہ مدارس میں بھی ڈریس کوڈ نافذ ہو اور تمام طلبہ یکساں یونیفارم اختیار کریں تاکہ طلبہ میں مساوات کا جذبہ ابھر سکے۔ لیکن حکومت کے ذریعہ اقلیتی اداروں میں ان کی مرضی کے خلاف ڈریس کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کرنا جمہوریت اور آئینی آزادی کے خلاف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
خیال رہے کہ مسلمانوں میں کرتا پاجامہ کے ساتھ ساتھ پینٹ شرٹ بھی بالکل عام ہے اور کسی بھی سطح پر پینٹ شرٹ کو ناجائز لباس کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے۔ اسکولوں میں جہاں مسلمان بچوں کی مدرسوں میں پڑھنے والوں سے بڑی تعداد پڑھتی ہے اسکول کا یونیفارم پینٹ شرٹ بلا چوں چرا زیب تن کرتی ہے اور کہیں سے بھی کوئی ایسی آواز اقلیتوں کی جانب سے نہیں اٹھائی گئی ہے کہ مسلم بچوں کو پینٹ شرٹ پہننے پر کیوں مجبور کیا گیا۔ یہ صحیح ہے کہ مدرسوں میں ہر جگہ کرتا پاجامہ ہی ڈریس کوڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ایسے میں پینٹ شرٹ کو مدرسوں میں جبرا نافذ کرنے کی کوشش کرنا اور اس کو مسئلہ بنانا کسی طرح بھی روا نہیں ہے۔ جس طرح مدرسوں  کو نصاب کی تشکیل میں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسکولوں میں رائج نصاب کی کتابوں  کے علاوہ دیگر کتابوں کو بھی شامل کریں اسی طرح یونیفارم کے معاملہ میں انہیں اب تک  جو اختیار حاصل رہا ہے اسے چھینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
مدارس میں ڈریس کوڈ کے نفاذ کے سلسلہ میں جو دلیل دی گئی ہے  کہ اس کا مقصد وہاں پڑھنے والے بچوں کو قومی دھارے میں لانا اور احساس کمتری سے نکالنا ہے، یہ بھی سراسر احمقانہ دلیل ہے۔ کرتا پاجامہ ہندوستان کا قدیم لباس رہا ہے۔ماضی میں برادران وطن کے درمیان کرتا اور دھوتی کا رواج رہا ہے جو اب کم ہوتا جا رہا ہے اور ان کے یہاں بھی ایک بڑی تعداد کرتا پاجامہ زیب تن کرتی ہے۔ مختلف تقریبات میں بڑے شوق اور ذوق سے وہ کرتا پاجامہ پہنتے ہیں۔ بلکہ ریشمی اور مٹکا کے کرتے تو ان کے یہاں ہی پہنے جاتے ہیں۔  ملک بھر میں خاص طور پر شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے تقریبا تمام بڑے لیڈران آج بھی اور ہر دور میں کرتا پاجامہ زیب تن کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ تمام لیڈران قومی دھارے سے الگ ہیں اور ان میں احساس کمتری پایا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں سب سے پہلے ایوانوں میں نفیس قسم کے کرتے پاجامے زیب تن کئے ہوئے ان لیڈران کو احساس کمتری سے نکالنے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خود یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ جو لباس پہنتے ہیں  وہ ایک مخصوص رنگ کا ہے  جس کی رنگت میں بظاہر  اتنی نفاست پائی  بھی نہیں جاتی ہے جیسا کہ مروجہ کرتا پاجاموں میں پائی جاتی ہے۔رنگ خواہ کوئی ہو وہ کرتا اور تہ بند ہی پہنتے ہیں۔ مدارس کے طلبہ کو پینٹ شرٹ پہنانے سے قبل وہ خود پینٹ شرٹ کیوں نہیں زیب تن کرلیتے۔ وہ  ہی  نہیں  ملک بھر میں سادھوؤں سنتوں کے درمیان پینٹ شرٹ رائج نہیں ہے۔ یوگی اور مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک بھر میں پھیلے سادھوؤں سنتوں کا ورکشاپ کراکر ان کی کونسلنگ کرائیں کہ وہ ان کپڑوں میں پسماندہ نظر آتے ہیں اور اس کے پیچھے ان کی پسماندہ ذہنیت کام کر رہی ہے۔ وہ اس احساس کمتری سے نکل کر قومی دھارے سے منسلک ہوں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو تب مدارس یا ملک کے کسی طبقہ  کو ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا حکم نامہ جاری کریں۔ اگر بفرض محال یہ ممکن بھی ہوجاتا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی ذہنیت رکھنے والے لوگ دشمنی میں ایسا کرنے بھی آمادہ ہوجائیں  اور اپنے مروجہ لباس کو چھوڑ کر پینٹ شرٹ پہن کر بابو بن جائیں تب بھی ہم اس بات کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے ہیں حکومت کی جانب سے آئینی اختیارات کو چھینا جائے اور اس کی جگہ ایک مخصوص قسم کا ڈریس کوڈ نافذ کیا جائے۔ کیونکہ اس سے ہمارے ملک کی روایت اور تکثیری ثقافت والی شناخت مجروح ہوگی وہیں شخصی آزادی بھی مجروح ہوگی اور ہم ان دونوں سے دست بردار ہونے کو کسی طرح تیار نہیں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لباس کے سلسلہ میں ہمارا قومی دھارا پینٹ شرٹ ہے؟ آخر اس ملک میں کیا صدیوں سے یہی پینٹ شرٹ رائج رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بھی شخص اس ملک میں پینٹ شرٹ کے رواج کو ڈیڑھ دو سو سال سے اوپر نہیں لے جائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں ہمارے بیشتر مجاہدین آزادی جو اس ملک کے تمام مذاہب اور ذات سے تعلق رکھنے والے تھے بیشتر کرتا پاجامہ اور شیروانی زیب تن کرتے تھے۔ اگر پینٹ شرٹ اس ملک کا قومی دھارا ہوتا تو ہمارے لیڈران اور مجاہدین آزادی بھلا کرتا پاجامہ اور شیروانی کیونکر زیب تن کرتے؟جنگ آزادی کے درمیان جس سودیشی کپڑے کی تحریک چلائی گئی تھی کیا اس سے مردوں کے لیے کرتے نہیں سلائے جاتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرکز اور یوپی میں برسر اقتدار حکومت جو آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے وہ ملک میں مسلمانوں کی دشمنی میں اتنی اندھی ہوگئی ہے کہ اس نے اس ملک کی روایتوں کو بھی مٹانے کی مہم چھیڑ دی ہے  جس کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کرتا جو ایک سودیشی لباس ہے وہ اس کو ختم کرکے  ملک ایک روایت کو مٹانا چاہتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے اس سلسلہ میں تمام مذاہب کے اور ذات کے لوگوں کو یوپی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہے۔ کیونکہ اس پر روک نہیں لگائی گئی تو اس ملک میں شخصی آزاد ی پوری طرح سے خطرہ میں پڑجائے گی اور پہننے کھانے، رہنے سہنے اور زندگی کے دیگر طریقے جن کا تعلق شخصی آزادی سے خطرہ میں پڑ جائے گی اور ہر چیز حکومت سے پوچھ کر کرنا ہوگا۔
ان سب سے اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی  جو ترقی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعروں کے ساتھ اقتدرا میں آئی تھی اب جبکہ اپنی پانچ سالہ میعاد کو پورا کرنے تک ملک میں ترقی لانے، سب کو ساتھ لے کر چلنے اور سب کا وکاس کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ۲۰۱۹ کے انتخاب کے لیے پولرائزیشن کے ایشوز عوام میں شدت سے اچھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہی ایجنڈوں میں سے ایک ایجنڈا مدرسوں کا یونیفارم کرتا پاجامہ نہیں پینٹ شرٹ ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس سیاسی ایشو کا مقابلہ ہم کس طرح کرتے ہیں۔
بی جے پی جس طرح نان ایشو کو ایشو بنارہی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ملک میں ترقی کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اب صرف طرز زندگی کے کچھ ایشوز باقی رہ گئے ہیں جن کے ختم ہوتے ہی ہمارا ملک ترقی یافتہ ہوجائے گا۔ حالانکہ دنیا کی ترقی جس رفتار سے جاری ہے اگر ہم اس کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا ملک ترقی میں مزید پیچھے ہوجائے گا۔
***

Wednesday, 18 April 2018

اسلام نہیں مسلمان خطرے میں ہیں۔


اسلام نہیں مسلمان خطرے میں ہیں
اسلام اس دنیا میں باقی رہنے اور پھلنے پھولنے کے لیے آیا ہے۔  یہ اپنی فنا کو مات دے کر آیا ہے۔ آب حیات سے اس کی پرورش ہوئی ہے۔ اسلام نہ  کبھی مٹے گا اور نہ ہی وہ مٹنے کے لیے آیا ہے۔ نبی اکرم محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد نبوت کا سلسلہ ہمیشہ لیے منقطع ہوگیا ہے۔ اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کسی شریعت کا نزول ہوگا۔ شریعت محمدیہ اسلام کا فائنل ایڈیشن ہے جو قیامت کی صبح تک کے لیے ہے۔
چانچہ جب اسلام کو  ہمیشہ باقی رہنا ہے تو اس پر کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کے ماننے والوں پر ان کی بد اعمالیوں کے نتیجے میں خطرات کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جب بھی خطرات کے بادل ان کے سروں پر چھائے ہیں اور اس کے بعد بھی انہوں نے اپنے اعمال کی اصلاح نہیں کی تو ان کا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا ۔
چونکہ اسلام کو ہمیشہ باقی رہنا ہے اس لیے اللہ نے اپنے رسول سے یہ وعدہ بھی کیا ہے جس طرح گزشتہ قومیں نیست و نابود ہوگئیں اس طرح یہ قوم  ایک سال پوری کی پوری  مٹائی نہیں جائے گی۔ ایسے میں اللہ تعالی نے جب بھی اس مذہب کے نام نہاد دعویداروں کو اس  کے کرتوت کی سزا دی ہے تو ان کی جگہ پر اپنے دین اور شریعت کی حفاظت کے لیے دوسری قوم  کو لے آیا ہے۔
اس وقت جو خطرات کے بادل ہیں یقین جانیے یہ اسلام اور شریعت پر نہیں بلکہ موجودہ مسلمان قوم پر ہیں۔ اس لیے ساری تگ و دو اسلام کو بچانے کی نہیں مسلمان کو بچانے کی ہونی چاہیے۔ 
جہاں تک اسلام کی بات ہے تو جب بھی ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں وہ اسلام کے لیے سنہرا دور ہوتا ہے کیونکہ اسی منافرت کے ماحول میں دوسری متنفر قوموں کے افراد کے لیے اسلامی تعلیمات  کے راست مطالعہ کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے کہ اب تک جو قوم مسلمانوں سے برسر پیکا ری وہ  اسلام کی حامی و ناصر ہوجائے۔ اس طرح
رفتہ رفتہ مسلمان قوم کے پرانے افراد اپنے کرتوت کے نتیجے میں ٹھکانے لگتے جاتے ہیں اور دوسری قوم کے افراد ان کی جگہ لیتے رہتے ہیں جو فکر و عمل کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ توانا ہوتے ہیں۔
موجودہ وقت میں بھی جب ہندوستان ہی نہیں ہر چہار جانب مسلمانوں پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اور مسلمانوں کی بد اعمالیاں اور سرکشی غالب ہوتی جا رہی ہے ۔ دین اور شریعت سے ان کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے، اسلام اپنے بہترین دور کی طرف بڑھ رہا ہے اور موجودہ مسلمان اپنے بدترین انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔لہذا دین کو نہیں خود کو بچائیے۔

Friday, 13 April 2018

کام آئے گا جنوں، سختیٔ زنجیر نہ دیکھ


کام آئے گا جنوں، سختیٔ زنجیر نہ دیکھ
                تعلیم ایک ایسا عمل ہے جس سے قوموں کا مستقبل طے ہوتا ہے۔ جس قوم کو جیسا مستقبل چاہیے وہ اپنا تعلیمی لائحہ عمل اسی کے مطابق طے کرتی ہے۔ ہر چند کہ تعلیم کا مقصد پیسہ کا کمانا نہیں ہے لیکن دور حاضر میں بنیادی طور پر ایسی تعلیم پر زور ہے جس سے زیادہ سے زیادہ پیسے کمائے جاسکیں۔ جب تعلیم کا مقصد پیسہ کمانا ہوگیا تو اس کے حصول کا طریقہ بھی مہنگا ہوگیاہے۔
                ایسے میں مسلمان جنہوں نے دنیا کو تعلیم کے حصول کا مقصد بھی سمجھایا عجیب صورتحال سے دو چار ہیں۔ ایک بڑا طبقہ ہوا کے رخ پر بہتا ہوا ایسی تعلیم حاصل کرنا چاہتا ہے جس سے زیادہ سے زیادہ پیسے کمائے جاسکیں۔ ان کے یہاں بھی ایسے ہی تعلیمی ادارے قائم ہوئے جو اپنے بچوں کو زیادہ سے زیادہ سے پیسے کمانے کے لائق بناسکیں اور خود بھی ان سے زیادہ سے زیادہ پیسے کماسکیں۔
                ہوا کے اس رخ پر بہنے کے سبب تعلیم کا اصل مقصد ان سے فوت ہوتا جا رہا ہے۔ ان کے یہاں بھی تعلیم میں انسانیت سازی کے عمل کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے۔ بچے کو پیسے کمانے کی مشین بنانے کا عمل جاری ہے۔ ا س سوچ کا منفی نتیجہ یہ بھی ہے کہ ایسے ادارے خود بھی والدین کا استحصال کرتے ہیں اور ان کے یہاں پڑھ کر نکلنے والے بچے بھی اخلاقی تعلیم سے عاری ہوجاتے ہیں اور بڑے ہوکر زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کی غرض سے اپنے حدود کے لوگوں کا استحصال کرنے سے نہیں چوکتے۔دیگر تعلیمی اداروں کی طرح ان کے یہاں بھی تعلیمی عمل میں مورلیٹی (اخلاقیات) کا دعوی تو ضرور کیا جاتا ہے لیکن بچے کی عملی زندگی میں یہ ناپید ہوتا ہے۔ وہ تمام خرابیاں جو دیگر تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے بچوں میں پائی جاتی ہیں ان کے یہاں سے پڑھنے اور پڑھ کر نکلنے والے بچوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اس کے باوجود کچھ ادارے ایسے ہیں جوکئی طرح کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اپنا تعلیمی لائحہ عمل ایسا رکھنا چاہتے ہیں کہ ایک طرف وہ انسان کو اشرف المخلوقات بھی بنائیں اور اس کو بھی ملحوظ خاطر رکھے ہوئے ہیں کہ زمانے کے جو تقاضے ہیں ان کے یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اس میں پیچھے نہ رہ جائیں۔
                ”درس گاہ اسلامی “ایسے ہی چند تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے جس کے سامنے تعلیم کا مقصد بھی واضح ہے اور دور حاضر کے تقاضوں پر بھی اس کی نظر ہے۔
                فی زماننا تعلیم کو تجارت بنانے کا نقصان یہ بھی ہوا ہے کہ امیر اور غریب میں امتیاز کی لکیریں اور بھی موٹی ہوگئیں۔ اچھی اور معیاری تعلیم غریب اور معاشی طور پر کمزور طبقات کی رسائی سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ درس گاہ اسلامی نے درمیانی اور ان کمزور طبقات کو اپنے ہدف میں شامل رکھا ہے جو معاشی کمزوری کے سبب معیاری تعلیمی اداروں سے دور ہوگئے ہیں۔
                 مبارکباد کے مستحق ہیں درس گاہ کے منتظمین کہ وہ محدود ترین وسائل کے باوجود ہوس پرستی کے اس دور میں مضبوط قوت ارادی کے ساتھ کھڑے ہیں اور متوسط و کمزور طبقات کے درمیان معیاری تعلیم کو عام کرنے کی حتی الامکان کوشش کر رہے ہیں۔
                ”درس گاہ اسلامی“ محض ایک تعلیمی ادارہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک تحریک ہے۔ تحریک انسان کو توانائی بخشتی ہے۔ مشکل سے مشکل ترین کام بھی تحریکی جوش و جذبے میں بہ خوبی انجام پاجاتے ہیں۔ اپنے اسی جوش وجذبے کے ساتھ درس گاہ نے اپنے سماج میں تعلیم کی روشنی کو جس طرح عام کیا ہے اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔لیکن یہ بھی ایک تلخؒ حقیقت ہے کہ بڑی سے بڑی تحریکیں فراموشی کی شکار ہوگئیں اس لیے کہ ان کی خدمات کو ضبط تحریر میں نہیں لایا گیااوراس طرح ان کی نسلیں اپنے اسلاف کی خدمات سے نا آشنا ہوگئیں۔
                درس گاہ کے منتظمین اور کتاب کے مرتبین اس بات کے لیے بھی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ وہ اس تحریکی ادارے کی خدمات کو فراموشی سے بچانے کے لیے کاغذی پیرہن عطا کر رہے ہیں۔ یہ صرف خدمات کو محفوظ کرنے کا وسیلہ نہیں ہوگا بلکہ امید کی جاتی ہے کہ اس سے سماج کے فکر مند اور حساس طبقہ کو ترغیب اور توانائی ملے گی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں اپنی کوششوں سے درمیانی اور متوسط طبقے کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا ایسا ادارہ فراہم کرسکیں جس میںانسان کو انسانیت کا سبق سکھانے کے ساتھ ساتھ عصری تقاضوں پر کھرا اترنے والے قابل افراد بھی تیار کئے جائیں۔
                دور حاضر کی چکا چوند روشنی نے جس طرح لوگوں کی نظروں کو خیرہ کردیا ہے اس سے ایسے تعلیمی اداروں کے تئیں سماج کا رویہ بڑا افسوسناک ہے۔ مگر اس سے ایسے تعلیمی اداروں کے منتظمین کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یقینا جس کے مقاصد عظیم ہوتے ہیں ان کی مشکلات زیادہ اور راہیں دشوار ہوتی ہیں۔ ایسے وقت میں ثبات قدمی اور صبر وسکون کامظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے کہ ایسی کوششوں کے اثرات حال میں نظر نہ آئیں لیکن مستقبل میں اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ منتظمین کے لیے میرا پیغام بس یہی ہے بقول شاعر:
کام آئے گا، جنوں سختیٔ زنجیر نہ دیکھ
خود کو گر دیکھنا ہے گردشِ تقدیر نہ دیکھ
گاہے کردیتی ہے کچھ دور بھی مقصد سے یہی
خواب سے پہلے کبھی خواب کی تعبیر نہ دیکھ
عقلِ عیّار کو شرمندئہ وحشت کردے
برسرِ دار مچل کاہشِ تعذیر نہ دیکھ
تیشہ برداروں سے ہر دَور کی تاریخ بنی
کاوشیں دیکھ، کبھی حاصلِ تدبیر نہ دیکھ
عصرِ حاضر کے تقاضوں کو پسِ پشت نہ ڈال
شاعرِ شعلہ صفت! شبنمی تحریر نہ دیکھ
قوّتِ بازو پہ، رکھ عزمِ مصمّم پہ نظر
سعیٔ پیہم کے سوا نسخۂ تسخیر نہ دیکھ
منتظر آج بھی کچھ تازہ افق ہیں طرزی
کوچۂ شوق میں آ، درد کی تفسیر نہ دیکھ
٭٭٭

Sunday, 14 January 2018

زبانِ خلق کو نقارۂ خدا کہیے



زبانِ خلق کو نقارۂ خدا کہیے

استاذ محترم مولانا محمد طاہر ندوی  سلفی ثم مدنی  کی موت کو اس حدیث کے بالکل مصداق  قرار دیا جاسکتا ہے:’’من سلك طريقاً يلتمس فيه علماً سهل الله له به طريقاً إلى الجنة‘‘ (جو علم کی راہ میں چلتا ہے اللہ تعالی اس کے لیے جنت کی راہ آسان کردیتا ہے)۔ وہ ۸ اکتوبر ۲۰۱۷ کی صبح تقریباساڑھے دس بجے دارا لعلوم احمدیہ سلفیہ میں معمول کے مطابق طلبہ کو درس دینے جارہے تھے کہ کلاس روم کے پاس غش کھا کر گرگئے اورراہی جنت  ہوئے۔ مولانا  جامعہ اسلامیہ مدینہ سے فراغت کے بعد ۱۹۸۳ میں دار العلوم احمدیہ سلفیہ دربھنگہ میں بحیثیت استاذ  اور مبلغ  و داعی آئے اور موت تک  اس سے وابستہ رہے۔ حالانکہ وہ۲۰۱۶ کی ابتدا میں  ہی ملازمت سے سبکدوش ہوگئے تھے لیکن انہوں نے رضاکارانہ طور پر دار العلوم سے خود کو وابستہ رکھا اور چند مضامین کی تعلیم دیتے رہے۔
ان کے جنازہ میں دور دور سے ان کے شاگردوں، احباب اور علاقہ کے افراد نے شرکت کی اور ملک و بیرن ملک میں  پھیلے ان کے شاگردوں اور احباب نے ان کی موت پر تعزیت اور اظہار افسوس کیا۔ اس موقع پر ہر شخص ان کی خوبیوں کا معترف تھا۔ وہ حضرات بھی ان کی خوبیوں اور اوصاف کا برملا اعتراف کر رہے تھے جن سے زندگی میں کبھی نا چاقی ہوئی ہو۔سب ان کے انتقال پر ایک بڑے نقصان کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کر رہے تھے۔ لوگوں کا یہ اعتراف ان شاء اللہ اللہ رب العزت کے بہتر فیصلے کا اشارہ ہے:
بجا کہے جسے عالَم اسے بجا کہئے
زبانِ خلق کو نقارۂ خدا کہئے
مولانامحمد طاہر سلفیؒ  ہمارے قرابت دار تھے۔ ان کی سسرال ہمارے خاندان میں تھی ۔وہ محمد اختر صاحب مرحوم کے داماد تھے جن سے شاید ہمارے دادا حافظ نور الحقؒ کی قربت رہی تھی۔مولانا  بتاتے تھے کہ  میرے دادا ؒ ان کو بہت عزیز رکھتے تھے اور مولانا بھی ان کی عزت کرتے تھے۔اس رشتہ اور تعلق کو انہوں نے راقم کے  ساتھ بھی ہمیشہ روا رکھا۔ وہ دوران تعلیم بہتر سے بہتر تعلیمی مظاہرہ کرنے کی ترغیب مجھے دیتے رہتے تھے۔ ان کا یہ عمل طلبہ کے لیے عام تھا۔ وہ اکثر طالب علم کو اس کے گاؤں، علاقہ اور رشتہ داروں کے کارناموں کا حوالہ دے کر بہتر سے بہتر  اور اعلی تعلیم حاصل  کرنے کی ترغیب دیتے رہتے تھے۔ وہ طلبہ کی وضع و قطع پر بھی خصوصی توجہ دیتے تھے۔
مولانا طاہر سلفیؒ بڑی  خوبیوں کے مالک تھے۔ وہ ایک مشفق اور با صلاحیت استاد تھے۔  راقم  نے ان سے جماعت ثانیہ میں بلوغ المرام، دو تین جماعتوں میں ترجمہ قرآن اور جماعت سادسہ میں تفسیر جلالین کا درس لیا  ہے۔ ان کا طرز تدریس بہت ہی نرالا تھا۔ وہ اپنے درس اور سبق کو مشکل نہیں بناتے تھے اور طلبہ کو آسان سے  مشکل کی طرف لے جاتے تھے۔ عام طور پر عربی کتابوں میں قواعد کی جو پیچیدگی ہوتی ہے وہ ان کے دروس میں نہیں پائی جاتی تھی۔ طلبہ کی ذہنی سطح اور علمی لیاقت کے مطابق درس میں کلام کرتے تھے۔ بلوغ المرام، ترجمہ قرآن کی تدریس ہو یا تفسیر جلالین کا درس وہ ان کا ترجمہ سادہ زبان  اور قابل فہم  ورواں اسلوب میں کرتے تھے۔ عام طور پر ان کے کلاس میں اگر طالب علم موجود ہو تو  اس کو یاد رکھنے کے لیے دوبارہ مطالعہ کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔ وہ تقریبا دو دہائی سے ان کتابوں کو پڑھاتے آ رہے تھے لیکن ہر روز کلاس میں آنے سے قبل سبق کا مطالعہ کر کے درس دیا کرتے تھے۔ وہ اپنے کام کے بڑے پابند تھے۔ آخری وقت میں سانس پھولتی تھی اس کے باوجود وہ مفوضہ دروس کو بلا ناغہ انجام دیتے تھے۔
مولانا رحمہ اللہ کبھی کبھی انچارج پرنسپل بھی ہوا کرتے تھے۔ جب وہ انچارج ہوا کرتے تھےتو طلبہ میں اس بات کی خوشی ہوتی تھی کہ اس جمعرات کو اسے چھٹی مل جائےگی۔ عام طور پر وہ بچوں کو چھٹی دینے میں بخل سے کام نہیں لیتے تھے البتہ یہ ہدایت کرتے تھے کہ جمعہ کی شام تک لوٹ آنا۔ یہ طلبہ کے ساتھ ان کی شفقت عامہ کا پہلو تھا تاکہ طلبہ اپنے والدین سے مل سکیں۔
مولانا طاہر صاحب طلبہ کے زبان و بیان کی درستگی  پر خاص توجہ دیتے تھے۔ تذکیر و تانیث،تلفظ یا پھر قواعد کی خامیوں کی برملا گرفت کر کے ان کی اصلاح کرتے تھے۔ راقم الحروف درجہ ثامنہ کا طالب علم تھا۔ طلبہ کی انجمن نادی الاصلاح کے اراکین کا انتخاب ہونا تھا۔ اس کی نظامت کی ذمہ داری ساتھیوں نے راقم کو دے دی۔ راقم نے تمہیدی بیان میں کہا کہ ’’انبیاؤں کی آمد سلسلہ بند ہوگیا‘‘انہوں نے اسی وقت اصلاح کی کہ انبیاء خود ہی  نبی کی جمع ہے۔اس طرح اکثر مواقع پر وہ طلبہ کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی اصلاح کرتے رہتے تھے۔مولانا بتاتے تھے کہ انہوں نے اپنی طالبعلمی کے دور میں مولاناآزاد کا خوب مطالعہ کیا ہےجس سے زبان وبیان کی اصلاح میں بڑا فائدہ ہوا۔وہ طلبہ کو بھی مولانا آزاد کی کتابیں مطالعہ کرنے کا مشورہ دیتے تھے۔ مولانا طاہر سلفی ؒ واقعتا اچھی زبان بولتے تھے۔ غالبا اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو کہ انہیں کچھ سال لکھنؤ میں بھی  بغرض تعلیم رہنے کا موقع ملا۔ حالانکہ ان کی زبان پر ثقالت ذرا بھی نہیں تھی۔ بڑی سادہ اور رواں گفتگو کرتے تھے۔ گفتگو کے ساتھ ساتھ زندگی میں بھی بڑی سادگی تھی۔ تکلف اور تصنع ان کو چھوکر بھی نہیں گز رے تھے۔ طبیعت میں ہلکا سا مزاح کا عنصر بھی تھا لیکن شخصیت میں ہلکا پن ذرا نہیں تھا۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  ان کی شخصیت میں مومنانہ شان اور عالمانہ رعب پایا جاتا تھا۔
                مولانا طاہر سلفیؒ بڑے مہمان نواز انسان تھے۔ دار العلوم احمدیہ سلفیہ میں کوئی بھی جانا انجانا آجائے تو وہ اس کو کھانے پر ضرور مدعو کرتے تھے۔ رمضان المبارک میں جب مدرسہ میں چھٹی ہوجاتی ہے وہ افطار کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ وہ پورے رمضان میں دس پندرہ افراد کے افطار کا انتظام دار العلوم کی جامع مسجد میں اپنی جانب سے کئے رہتے تھے  اور اس کو مسجد میں موجود تمام افراد میں تقسیم بھی کرتے تھے۔
مولانا طاہر سلفی کی علمی و دینی خدمات میں ایک بڑی خدمت دار العلوم کی جامع مسجد کی امامت بھی ہے۔ انہوں نے دار العلوم احمدیہ سلفیہ کے سابق پرنسپل مولانا حافظ عبد الخالق سلفیؒ کے بعدعمر کے آخری پڑاؤ تک پنج وقتہ نماز کی امامت بلا معاوضہ کی۔ موسم خواہ کیسا بھی ہو اگر وہ دربھنگہ میں موجود ہوتے تو نماز سے قبل وہ مسجد پہنچ جاتے۔ فجر میں سب سے پہلے وہی آتے تھے اور عموما فجر کی اذان بھی وہی دیتے تھے۔ اذان کے بعد ہاسٹل میں جاکر طلبہ کو بیدار کرنا ان کا مشغلہ تھا۔ اس کے لیے بھی وہ کوئی اجرت نہیں لیتے تھے۔ سخت ترین سردی اور موسلا دھار بارش میں بھی ان کے معمول میں کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ مجھے ایسا اندازہ ہے کہ دار العلوم کی جامع مسجد میں اپنی باری کے علاوہ دوسرے علما کی مشغولیت میں ان کی باری میں بھی خطبہ جمعہ دیا کرتے تھے۔ جمعہ کا خطبہ دینے میں ان کو کوئی تردد نہیں ہوتا تھا۔ وہ ہر وقت اس کے لیے تیار رہا کرتے تھے۔  اپنے خطبے میں وہ معاشرتی خرابیوں کو پوری حوصلہ مندی سے ابھارتے تھے اور لوگوں کو اس سے باز رہنے کی تلقین کرتے تھے۔ نما ز میں کوتاہی، رسم شادی، بارات، جہیز، ٹی وی اور موبائل کے لہو و لعب کے برے نتائج وغیرہ ان کے خطبوں کے اہم موضوع ہوا کرتے تھے۔ ’’رسم شادی عمل مشرکانہ اس میں باراتی ہو یا کھانا‘‘ اور ’’زندگی بے بندگی شرمندگی‘‘ کچھ ایسے جملے  ہیں جو بہت دنوں تک ان کا خطبہ سننے والوں کے ذہنوں میں محفوظ رہیں گے۔

مختصر یہ کہ مولانا طاہر سلفی (رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ)مختلف خوبیوں کے مالک تھے۔ ان کی موت سے نہ صرف دار العلوم بلکہ اس علاقے میں  ملت کا ایک بڑا نقصان ہوا ہے۔ اللہ تعالی غریق رحمت کرے۔ آمین! 

Tuesday, 21 November 2017

بچے کتابوں سے، اساتذہ تنخواہ سے اور اسکول اساتذہ سے محروم

بچے کتابوں سے+ اساتذہ تنخواہ سے + اسکول اساتذہ سے محروم
 =ریاست تعلیم سے محروم

ریاست بہار میں اس وقت سرکاری اسکولوں میں پرائمری اور مڈل سطح پر تعلیم کی جو صورتحال ہے اسے ان الفاظ  میں بیان کیا جاسکتا ہے:
’’بچے کتابوں سے محروم، اساتذہ تنخواہ سے محروم اور اسکول مناسب تعداد میں اساتذہ سے محروم ہیں۔ ‘‘
ان تین حصوں کا حاصل جمع یہی آتا ہے کہ ریاست تعلیم سے محروم ہے۔
محکمہ تعلیم پرائمری اور مڈل سطح تک کے بچوں کو نصابی کتابیں مفت فراہم کرتا ہے۔ تعلیمی سیشن 18-2017 کے آٹھ ماہ بیت جانے کے باوجود محکمہ اب تک بچوں کو کتاب دینے میں ناکام ہے۔محکمہ جو کتابیں مفت فراہم کرتا ہے وہ بازار میں دستیاب بھی نہیں ہیں۔ اس درمیان محکمہ کے ضابطہ کے مطابق بچوں کا ماہانہ احتساب بھی لیا گیا۔ ششماہی امتحان بھی اختتام پذیر ہو گیا۔ اس کے نتائج بھی آئے اور محکمہ اسکولوں سے امتحان کے نتائج ، پاس ہونے اور پاس ہونے والوں میں گریڈ، اے، بی، سی، ڈی اور ای کا فیصد اور اس کا تناسب بھی حاصل کر رہا ہے۔شاید محکمہ ان رپورٹوں کی بنیاد پر ریاست کی تعلیمی پیش رفت کا تجزیہ بھی کرے اور اسے ایسا کرنا بھی چاہیے۔ جس طرح کے فارمیٹ میں اس کے فیصد اور تناسب لیے جاتے ہیں ان کو بلاک ، ضلع اور ریاست کی سطح پر اکٹھا کرنے پر خود ہی بلاک گیر، ضلع گیر اور ریاست گیر تناسب اور پیش رفت سامنے آجائے گا۔  کتاب کے بغیر تعلیم کیسے ہوئی؟ امتحانات کیسے ہوئے اور کتاب کے بغیر جو امتحان لیے  گئے اس کے نتائج جو بھی آئے وہ کیسے آئے اور کیونکر آئے ان کو سمجھنے کے لیے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔
عوام کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ ان آٹھ ماہ کے اندر محکمہ کے ذریعہ بچوں کی تعلیم کے ساتھ کیے جا رہے کھلواڑ کے خلاف سرپرست یا عوام کی جو منظم اور منصوبہ بند آواز بلند ہونی چاہیے تھی وہ کہیں سے ممکن نہیں ہوسکی ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اسکولی بچوں کے والدین کی یونین  سڑکوں پر اتر کر مطالبات کی حمایت میں غیر معینہ ہڑتال کا مظاہرہ کرتی اور محکمہ سے اس لا پرواہی کا جواب طلب کرتی۔
اس کے برعکس عوامی رویہ کتنا مضحکہ خیز ہے ۔حکومت بچوں کو ایک وقت کے کھانے کے علاوہ چھ سو ، بارہ سو یا اٹھارہ سو روپے اسکالر شپ کے نام پر اور تین سو پانچ سو یا سات سو روپے پوشاک کے نام پر بہ لحاظ درجات  رقم دیتی ہے تاکہ تعلیم(اسکول) کی طرف بچے اور سرپرستوں کی رغبت ہوسکے۔ اسکالر شپ کے لیے محکمہ نے پچھتر فیصد حاضری کی شرط عائد کر رکھی ہے۔( اس میں ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاستی انتخاب کے وقت  (تعلیمی سیشن 17-2016 میں) محکمہ نے  یہ شرط اٹھا لی تھی اور اسکول میں اندراج ہر ایک بچے کو مذکورہ منصوبوں کی رقم کا فائدہ دینے کی ہدایت جاری کی گئی تھی اور اسے عملی جامہ پہنایا بھی گیا تھا) اگر خدا نہ خواستہ کسی کا بچہ حاضری کا فیصد پورا کرنے میں ناکام ہوگیا  یا اگر اسکول انتظامیہ کی جانب سے بھول چوک میں کسی بچے کا نام نہیں دیا جاسکا اور بچہ مذکورہ رقوم سے محروم ہوگیا تو ایسے بچوں کے سرپرست اسکول سر پر  اٹھا لیتے ہیں اور مختلف سطح سے پیروی کرواتے ہیں کہ کسی طرح بھی انہیں یہ چند سکے مل جائیں ۔ اسی طرح رقم آنے کے بعد کسی سبب سے اگر تقسیم میں تاخیر ہوئی تو سرپرستوں کا دباؤ اس طرح بڑھتا ہے گویا اسکول انتظامیہ نے سارے پیسے  غبن ہی کر لیے ہوں۔ اسکول انتظامیہ  کو نہ جانے کیسی کیسی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ کہیں کسی بے ایمان ٹیچر نے (جس کا  بالکل انکار بھی ممکن نہیں ہے) یہ رقم پوری یا کچھ غبن کرلی تو اس کے خلاف دھرنا مظاہرہ، اعلی افسران کے پاس شکایت اور  کئی طرح کے  اقدامات کیے جاتے ہیں تاکہ اس بے ایمان ٹیچر کے خلاف کارروائی ہو۔ یقینا اگر کوئی بے ایمان استاد ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور یہ بے جا بھی نہیں ہے۔ قابل مبارکباد ہیں ایسے سرپرست جو کم از کم  زندگی کا اتنا ثبوت تو دیتے ہیں۔
مذکورہ امور کو مد نظر رکھتے ہوئے ذرا سوچئے کہ حکومت نے چند سکے عطا کر کے ان بچوں کا نہ جانے کتنے ہزار روپے کا مستقبل ضائع کردیا ۔یہ کہنا بھی بے جا نہیں ہوگا کہ محکمہ نے ایک وقت کے کھانے،  وظیفہ اور پوشاک کی رقم کے عوض ان بچوں کے مستقبل کو ضائع کر نے کے لیے خرید لیا ۔حسرت اس پر ہے کہ  یہ  سرپرست چند سکوں کے لیے تو بے چین ہو اٹھتے ہیں اور اسکول انتظامیہ کے خلاف ہر طرح کے اقدام کرنے کو تیار رہتے ہیں لیکن حکومت کے اس رویے کے خلاف ان کی جو آواز بلند ہونی چاہیے وہ نہیں ہوپاتی ہے۔ گویا وہ احساس زیاں سے بھی محروم ہیں۔
اسکول میں اساتذہ کا کام پڑھانا ہے۔ یہ روزانہ کا کام ہے۔ ہر دن بچے کو آگے بڑھنا چاہیے۔ اسے اسکول میں پڑھانے کے ساتھ کچھ ہوم ورک ملنا چاہیے۔ اساتذہ کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ یہی سرپرست جو چند سکوں کے لیے دوڑ دوڑ کر اسکول کی مٹی کھود دیتے ہیں کبھی اسکول میں یہ شکایت لے کر نہیں آتے ہیں کہ آج انہوں نے اپنے بچے کی کتاب یا کاپی دیکھی، اسے کوئی ہوم ورک نہیں دیا گیا یا اسے آج کچھ نہیں پڑھا یا گیا۔ آج اور کل کی بات کو نظر انداز  کردیجئے ، ہفتوں ، مہینوں بلکہ سال بھر میں اسے یہ فرصت نہیں ملتی ہے کہ اس کے  بچے نے پورے ہفتہ، مہینہ یا سال بھر میں کیا پڑھا اور استاد نے کیا پڑھایا، وہ اس کا جائزہ لے سکے اور اسکول پہنچ کر سنجیدگی کے ساتھ کلاس ٹیچر یا مضمون کے ٹیچر یا اسکول انتظامیہ سے بات کرسکے۔ غور طلب ہے کہ محکمہ نے ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو والدین –اساتذہ (Parents-Teacher) میٹنگ کے لیے مخصوص بھی کر رکھا ہے جو صرف کاغذی کارروائی کا حصہ ہے۔زیادہ تر سرپرست تو اس سے نا واقف ہی ہیں جنہیں خبر ہو انہیں بھی فرصت نہیں کہ وہ اس کے بارے میں بھی پوچھ سکیں کہ میٹنگ کیوں نہیں ہوتی۔ حالانکہ اسکول جس گاؤں یا محلہ میں واقع ہے اس کے ہر سرپرست اور ہر شخص کو یہ شکایت اور احساس ہے کہ اسکول کے ٹیچر کچھ نہیں پڑھاتے  ہیں۔ آپس میں شکایت کرنے کی فرصت تو ان کے پاس ہے لیکن ان کے پاس اس کا ثبوت لے کر آنے کی فرصت نہیں ہے کہ دیکھئے آپ کے اسکول کے استاد نے اتنے دنوں میں کتنا پڑھایا اور کیوں نہیں پڑھایا۔
اسکولوں میں پڑھائی نہیں ہونے کا ایک سبب اساتذہ کا مناسب تعداد میں موجود نہ ہونا بھی ہے۔ جو اساتذہ موجود ہیں ان کے پاس تعلیم کے علاوہ کاغذی کام کو انجام دینے کے لیے بھی اتنے کام ہیں جن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد تعلیم ؍ تدریس کا وقت نہیں بچتا ہے۔ مطلب یہ کہ اسکول میں ایک کلرک کے ذمہ جتنا کام ہوتا ہے ان کو پورا کرنا اسکول کے اساتذہ کی ہی ذمہ داری ہے۔
ریاست کے بیشتر اسکول ایسے ہیں جہاں مناسب تعداد میں اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ حکومت نے اب اساتذہ کی تقرری کا طریقہ یہ کر دیا ہے کہ بیسک گریڈ میں جو تقرری ہوتی ہے انہیں درجہ اول سے  درجہ پنجم تک تمام مضامین کی تعلیم دینی ہے۔ جبکہ گریجویٹ سطح کے اساتذہ کی تقرری درجہ ششم تا ہشتم کے لیے سائنس (ریاضی وسائنس)، سوشل اسٹڈیز، انگریزی، ہندی، اردو، سنسکرت اور فزیکل ٹیچر مضمون کے اعتبار سے ہوتی ہے۔ انہیں اپنے مضمون کو پڑھانا ہوتا ہے۔ بیشتر اسکولوں میں اس گریڈ میں دو تین مضمون میں ہی اساتذہ بحال کئے گئے ہیں۔ اب اگر ایک ٹیچر نے میٹرک کے بعد سوشل اسٹڈیز یا زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی اور میٹرک کے بعد ریاضی اور سائنس کے مضامین کو اٹھاکر نہیں دیکھا اور ایسا عملا ہوتا بھی ہے تو ان سے آٹھویں درجہ میں ریاضی اور سائنس کی تعلیم دلوائی جائے تو ممکن ہے تدریسی خانہ پری تو ہوجائے لیکن معیاری تعلیم کی توقع کرنا فضول ہوگا۔اسی طرح  سائنس  وریاضی کے اساتذہ سے سوشل اسٹڈیز اور زبان  کی تعلیم دلوانے کا نتیجہ بھی افسوسناک ہی ہوگا۔
 ہر مضمون کے اعتبار سے سارے اساتذہ کا ہر اسکول میں فراہم نہ کرانا  بچوں اور ان کے سرپرستوں کے ساتھ محکمہ کی سراسر بے ایمانی ہے۔ سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ جس طرح چند سکوں کے لیے باؤلے بن جاتے ہیں حکومت کی اس بے ایمانی کے خلاف بھی اتاؤلے ہوتے اور سڑکوں پر اتر کر اس کے  خلاف احتجاج درج کراتے کہ ان کے اسکول میں جن مضامین میں اساتذہ نہیں ہیں ان میں ان  کی تقرری کو یقینی بنایا جائے ۔ لیکن ایسا کہیں دیکھنے کو ملتا نہیں ہے۔ ظاہر ہے جب بچوں کو ایک وقت کے کھانے اور چند سکوں کے لیے ہی اسکول بھیجا جاتا ہے تو ان کو تعلیم سے اور اساتذہ سے کیا لینا دینا۔
ماہ نومبر سے حکومت نے بچوں کو ہر جمعہ کو انڈا یا پھل دینے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس کے لیے ہدایت نامہ بھی جاری کردیا گیا ہے۔ محکمہ کی ہدایت کے مطابق ہر اسکول کو ایمانداری سے اس منصوبہ کو چلانا چاہیے اور جب محکمہ کو پیسہ دینا ہے تو اسکول انتظامیہ کو چاہیے کہ بچوں کو ان کا حق دیں۔ کئی جگہوں پر اسکول انتظامیہ نے اب تک اس منصوبے کے تحت کھانے میں انڈے یا پھل دینے کا آغاز نہیں کیا ہے جس کے خلاف احتجاج کی خبریں بھی پڑھنے کو ملیں۔ کہا جاسکتا ہے کہ ایسےلوگ اپنے حقوق کے لیے بیدار ہیں اور حق ماری کے خلاف ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ یہی لوگ جو انڈے یا پھل کے نہ دینے پر برہم نظر آتے ہیں حکومت کے ذریعہ کی جارہی  حق ماری  جو ان چیزوں سے کہیں بڑی حق ماری  ہے، کے خلاف  آواز کیوں بلند نہیں کرتے؟حکومت کی جانب سے کتاب فراہم نہ ہو اور اساتذہ پورے نہ ہوں  تو کوئی بات نہیں۔ لیکن اگر کھانے میں  کمی یا نقص آجائے، اسکالر شپ یا پوشاک کی رقم بروقت نہ مل سکے یا  کوئی بچہ اس سے محروم ہوجائے  تو مرنے مارنےپر آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے لیے اسکول میں کھانا اور چند روپے جتنی  اہمیت رکھتے ہیں تعلیم کی اہمیت ان کی نظر میں اتنی نہیں ہے۔ 
حکومت اساتذہ کو بر وقت تنخواہیں نہیں دیتی۔ تین تین چار چار مہینوں کی تنخواہیں زیر التوا رہتی ہیں۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ جو اساتذہ اسکولوں میں برسر کار ہیں وہ اسی ماہانہ تنخواہ کےلیے کام کر رہے ہیں۔  جب محکمہ بر وقت ان کی اجرت ادا نہیں کرے گا تو اساتذہ کو اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے دیگر ذرائع کو اختیار کرنا ہوگا۔ اس کا اثر تعلیم کے معیار پڑے گا۔ سرپرستوں کی ہی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکومت کے اس رویہ کے خلاف بھی کھڑے ہوں تاکہ ان کے بچوں کی تعلیم کا معیار اثر انداز نہ ہو۔جب اساتذہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے دیگر ذرائع کو اختیار کرتے ہیں اور تعلیم متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر ان کے ہی بچوں پر پڑتا ہے اور اساتذہ کا یہ مسئلہ  بالواسطہ طور پر ان کا بھی مسئلہ ہے۔  لیکن ظاہر ہے کہ جو سرپرست خود اپنے بچوں کے تئیں بیدار نہیں ہیں اور راست طور پر ہو رہی حق ماری کے خلاف کھڑے ہوکر آواز بلند نہیں کرسکتے بالواسطہ طور پر ہونے والے نقصان کے خلاف آواز بلند کرنے کی فرصت کسے ہے؟ 
اتنی ساری خامہ فرسائی کرنے کے بعد اچانک ذہن میں یہ بات آئی کہ آخر یہ بات کس سے کہی جارہی ہے؟ جس سے خطاب ہے کیا ان تک یہ پیغام پہنچ پائے گا؟ اگر اخبار میں یہ باتیں شائع ہوتی ہیں تو جو مخاطب ہے کیا وہ اس کو پڑھیں گے ؟اور جو پڑھیں گے کیا ان کے بچے  وہاں پڑھتے ہیں جہاں کی بات کی جارہی ہے؟ اگر نہیں تو کیا جن کے بچے پڑھ رہے ہیں ان کے بچوں کے لیے پڑھنے والے کے پاس اتنی فرصت ہے کہ وہ اس مسئلہ پر بیداری لائیں؟؟؟جواب :نہیں! نہیں!! نہیں!!!

کیا یہ مسائل میلادوں ، جلسوں اور جمعہ کے خطبوں کا موضوع نہیں بن سکتے؟؟؟

Thursday, 9 November 2017

ہنگلش اور ہنگلشیا اردو

ہنگلش اور ہنگلشیا اردو

روزنامہ انقلاب بہار نے پیر ۶ نومبر ۲۰۱۷ کے اپنے اداریہ میں ’’کیسے کیسے الفاظ!‘‘ کے عنوان سےاہل اردو کے موجودہ لسانی رویہ کو موضوع سخن بنایا ہے۔ مدیر نے زبان کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بجا طور پر محسوس کیا ہے کہ گھروں میں روز مرہ کے طور پر بولی جانے والی زبان کو آج ہم بھولتے جا رہے۔ اسی ضمن میں ایک طرف ہنگلش (ہندی اور انگریزی سے مخلوط زبان)کی اصطلاح رائج ہوئی ہے تو اہل اردو کا جو موجودہ لسانی رویہ ہے اس کے مطابق ہنگلشردو (ہندی، انگلش اور اردوسے مخلوط زبان) کا نام دیا گیا ہے۔ انہوں نے اپنے اداریہ میں اس ضمن میں پیشے کے اعتبار سے کچھ الفاظ مثلا: ’بیلدار، خاکروب، جِلا کار، نان بائی، زر گر، خیاط، بھشتی، دھنیا‘تو گھروں میں استعمال ہونے والے ظروف اور دیگر اشیا کے نام کے طور پر ’مرتبان، آفتابہ، سماور، رکابی یا طشری، دست پناہ، آبخورا‘ اور مکان کے حصوں کے طور پر ’دیوان خانہ، باورچی خانہ، مہمان خانہ، صحن، طاق یا محراب، طاقچہ، دہلیز، دراز‘ تو محاوروں ، ضرب الامثال اور کہاوتوں میں’جہاں گنج وہاں رنج، آفت کا پرکالہ‘ جیسےالفاظ اور فقرے بطور مثال پیش کیے ہیں جن کی جگہ انگریز ی یا ہندی الفاظ لیتے جا رہے ہیں۔ میں نے تو ادیب و شاعر ہونے کے کئی دعویداروں کو عام گفتگو اور اردو سیمینار اور مذاکرہ میں ’سبب‘ کو’ کارن‘ کہتے ہوئے سنا ہے۔ اسی طرح کے ایسے کئی پیش پا افتادہ الفاظ ہیں جن کے لیے ہندی یا انگریزی کے الفاظ استعمال کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے لیکن لوگ بلا جھجک استعمال کرتے ہیں۔ تن آسانی سے کام لیتے ہوئے کئی ادباء و شعرا اپنے مضامین و مقالات میں بھی انگریزی کے ایسے الفاظ استعمال کرتے نظر آتے ہیں جن کے لیے اردو میں مناسب اور بر محل لفظ موجود ہے اور جس خیال کے اظہار کے لیے انگریزی کا لفظ استعمال میں لایا گیا ہوتا ہے اس خیال اور کیفیت کی پوری پوری ترجمانی اردو کے لفظ سے ہوتی ہے۔ تب بھی انگریزی کا استعمال ہو تو اس کو سوائے اردو والوں کی بے حسی کے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔
اس معاملے ایک اور خراب بات یہ پیدا ہوئی ہے کہ اب روکنے ٹوکنے کی روایت ختم ہو گئی ہے۔ ایسے کسی الفاظ، محاورے اور روزہ مرہ کے استعمال پر اگر خدا نہ خواستہ کسی نے ٹوک دیا تو ٹوکنے والی کی خیر نہیں ہے ۔ ممکن کچھ لٹھ مار قسم کے لوگ اسی وقت اس روک ٹوک پر روکنے والے کو ذلیل و رسوا کر دیں ورنہ ہمیشہ کے لیے دل میں دشمنی کا بیج پڑ ہی جاتا ہے جو کبھی بھی تناور ہوسکتا ہے۔ اب جو رجحان پیدا ہوا ہے اس میں لوگوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کی تعریف تو ڈنکے کی چوٹ یا پکی روشنائی سے کی جائے اور خامیوں کی نشاندہی کے لیے زیادہ سے زیادہ اس بات کے لیے وہ تیار ہوسکتے ہیں کہ ایسی باتوں کو ان کے کان میں سرگوشی کے انداز میں کہا جائے۔ جبکہ ہمارے متقدمین اس معاملے میں بڑے حساس ہوا کرتے ہوئے۔ بگڑی ہوئی زبان استعمال کرنے پر سخت گرفت کرتے تھے۔ اس معاملے میں کئی دلچسپ واقعات اور لطائف بھی ہماری ادبی اور لسانی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس طرح کی گرفت پر ادباء کے ادبی و لسانی معرکے تو چلتے تھے لیکن لٹھ ماری نہیں ہوتی تھی۔
اداریہ میں جن امور کی طرف نشاندہی کی گئی ہے وہ یقینا قابل تشویش اور قابل حسرت ہیں۔ ان امور کی طرف یقینا گھروں میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یہ محض زبان کی تبدیلی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ سارے الفاظ ہماری تہذیبی روایتوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور ان کے امین ہیں۔ ان کا ختم ہونا ہماری تہذیبی شناخت کے مٹنے کا سبب بنےگا۔
یہ تو خیر سے گھروں اور بازاروں کی زبان ہے۔ سب سے حسرتناک بات یہ ہے کہ یہ ’’ہنگلشیا اردو‘‘ بعض اخبارات میں بھی بکثرت نظر آتی ہے۔ہندی کے جس لفظ کا اردو متبادل نہیں مل سکا تو اس کے لیے یا تو انگریزی لکھ دیا یا پھر ہو بہو اسی کو اتار دیا۔ یہ لفظ کی حد تک بار گرانی کے ساتھ لائق برداشت بھی ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی فقرے بھی ایسی ہنگلش یا ہنگلشیا اردو میں ہوتے ہیں جس سے عجیب مضحکہ خیز صورتحال پیدا ہو جاتی ہے اور سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔
افسوس کا مرحلہ یہ بھی ہے کہ اس امر میں ہمارے اندر بہت زیادہ بے حسی بھی پیدا ہوئی ہے۔ ہم ایسے الفاظ اخباروں میں دیکھتے ہیں طبع لطیف پر تو گراں گزرتا ہے لیکن اس کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے ایسے اخبار میں مراسلہ لکھ کر اخبار کے مدیران کو ا س کی طرف متوجہ کیا جاتا۔
بات جب چلی ہے تو اس امر کی طرف بھی ہمیں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے کہ جو نئی نئی اصطلاحیں رائج ہو رہی ہیں الگ الگ اخبارات میں ان کے لیے الگ الگ اصطلاحیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ بلکہ کبھی کبھی تو ایک ہی اخبار میں ایک ہی اصطلاح الگ الگ طریقہ سے دی ہوئی ہوتی ہے۔ اہل زبان کا ایماندارانہ اور اپنی زبان کے تئیں مخلصانہ حل تو یہ ہے کہ اخبارات کو چاہیے کہ ایسی اصطلاحات جو اب تک مشترکہ طور پر استعمال نہیں ہو رہی ہیں ان کی فہرست سازی کی جائے اور ایک مدت پر تمام اخبارات کو مل کر ہر نئی اصطلاح کے لیے مشترک طور پر ایک اصطلاح وضع کرناچاہیے اور پھرتمام اخبارات اس اصطلاح کو اختیار کریں۔ دوسرا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہر اخبار اخبار کم از کم اپنے اخبار کا مشاہدہ و مطالعہ کرے اور اصطلاحات کے سلسلے میں جو بےترتیبی پائی جارہی ہے اس کی فہرست تیار کرے اور ان کی مناسب اصطلاح وضع کر کے اپنے نمائندوں کو اس سے واقف کرائے اور انہیں ہدایت دی جائے کہ فلاح ہندی یا انگریزی اصطلاح کے لیے فلاں اصطلاح استعمال کریں۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زبان کی درستگی کے کے لیے وقفے وقفے سے ہر اخبار کو ورکشاپ ؍ آرینٹیشن جیسے پروگرام منعقد کرنے اور اپنے نمائندوں کی زبان کے تئیں بیدار کرتے ہوئے اچھی زبان سکھانے اور بتانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
زبان کی توجہ نہیں دلانے کے سبب اکثر جملوں میں مبتدا، خبر، عدد معدو، ممیز تمیز، موصول صلہ، تذکیر و تانیث ، فعل، فاعل اور مفعول وغیرہ میں مطابقت نہیں ہوتی ہے۔بہت سے لوگ فعل لازم اور متعدی کے فرق کو نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔ ا ن امور کی طرف سے بے توجہی یا لا پرواہی زبان کے لیے نقصاندہ ثابت ہوگی
اخبارات میں بہت سی خبریں ترجمہ کی جاتی ہیں۔ ترجمہ یقینا زبان کے لیے تازہ خون ہے لیکن مقامی سطح پر اخبارات کے لیے جو لوگ ترجمہ کرتے ہیں طویل تجربات کے باوجود ان میں سے اکثر ہر دو زبان کی باریکی سے واقف نہیں ہوتے۔ انہیں نہیں پتہ ہوتا کہ اصطلاحیں کیسے وضع کرنی چاہئیں۔ پھر ترجمہ کے لیے ضروری ہے کہ جس زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے اس کے قواعد اور زبان کے عام مزاج کا خیال رکھا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک زبان سے دوسری زبان میں جب لفظ داخل ہوتے ہیں تو کبھی صوری اور کبھی صوتی طور پر بدل جاتے ہیں اور زبان کے مزاج پر ڈھل کر استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ اخبارات کو مقامی سطح پر کام کرنے والے افراد کے درمیان ان چیزوں کی طرف توجہ دلانے کا اقدام کرنا چاہیے۔ مقامی سطح پر جو لوگ اخبار میں کام کرتے ہیں انہیں وحید الدین سلیم کی وضع اصطلاحات کا مطالبہ میں ہمیشہ کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی فرہنگ اصطلاحات بھی ساتھ رکھنا چاہیے ۔ ہندی سے اردو، انگریزی سے اردو اور اردو سے اردو ڈکشنری تو اس پیشےکا ایک آلہ کار ہی ہے۔
زندہ زبانوں کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ اس میں کھڑکیاں اور دریچے کھلے رکھے جائیں تاکہ دوسری زبانوں سے روشنی اور ہوائیں آتی رہیں۔ بلا شبہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اگر دریچے وا نہیں رہیں گے تو زبان کا لفظی سرمایہ تنگ ہوتا چلا جائے گا۔ نئی فکر وتصورات کے بھی دروازے بند ہوجائیں گے۔ نئے افکار وخیالات کے بھر پور اظہار یا مکمل ترجمانی کے لیے ہمارے پاس جو لفظی و اصطلاحی سرمایہ ہونا چاہئے ہمیں اس سے بھی محروم ہوجانا پڑے گا اور زبان اپنے عہد کی دوسری زبانوں کے دوش بدوش نہیں چل سکے گی اور پھر زبان بقا سے عدم کی طرف بڑھتی چلی جائے گی۔ لیکن یہ بھی نظر میں رہنا چاہیے کہ دروازوں اور دریجوں سے گھر میں جو روشنی آتی ہے اس کے ساتھ گرد وغبار بھی آتے ہیں۔ ہم روشنی کو استعمال میں لاتے ہیں اور جو غبار آکر بیٹھ جاتا ہے اس کی جھاڑ پونچھ تسلسل کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اسی طرح جو ہوائیں آتی ہیں اس میں آکسیجن کے علاوہ دیگر ہوائیں بھی ملی ہوتی ہیں۔ ہماری ناک اپنے فطری عمل سے آکسیجن کو چھانٹ کر جسم تک لے جاتی ہے جبکہ بقیہ گیس جو نقصاندہ یا غیر نقصاندہ ہی سہی لیکن ہمارے لیے کام کی نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتی ہے۔
زبان میں بھی دوسری زبانوں کی روشنی اور ہوا دریجوں سے داخل ہوتی ہیں ان کا دخول محسوس اور غیر محسوس دونوں طریقے سے ہوتا ہے۔اس میں کچھ الفاظ کی حیثیت اسی گرد وغبار یا مخلوط گیس جیسی ہوتی ہے۔ اس میں جو روشنی اور آکسیجن کی حیثیت رکھتے انہیں ہم استعمال میں لاتے ہیں اور بقیہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی رکھنے اور چھوڑنے کا عمل اصلاح زبان کی تحریک سمجھی جاتی ہے۔ البتہ اصلاح زبان کی تحریک میں کبھی کبھی تشدد بھی پیدا ہوجاتا ہے جس سے زبان کو نقصان بھی ہوتا ہے۔ لیکن اصلاح زبان کی تحریک کے فوائد کا یکسر انکار ممکن نہیں ہے۔میرے خیال میں ایک زندہ زبان کو جراحی کے اس عمل سے گزرتے رہنا چاہیے۔ جو الفاظ زبان میں شامل ہوتے ہیں ان میں کچھ ایسے سہل ہوتے ہیں کہ وہ ہو بہو استعمال میں آنے لگتے ہیں اور کچھ میں صوت یا صورت کے اعتبار سے وہ سہولت موجود نہیں ہوتی ہے جو اس زبان کا عام مزاج ہوتا ہے تو غیر محسوس طور پر صوت اور صورت بدل لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اساتذہ اور ماہرین فن اپنی زبان کے کچھ الفاظ کو واضح کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ یہ فلاں زبان کا لفظ ہے اور اس میں اس کی اصل صورت یہ ہے۔  یہ سب لفظوں کو غیر شعوری طور پر سہل بنانے کے نتیجے میں ہی ہوتا ہے۔