مشمولات

Tuesday, 5 January 2016

Tareekh-e-Kuroodih (Vol2) by Dr. Arshad Jamil

تاریخ کوروڈیہہ : تہذیبی وثقافتی اثاثوں کا ایک عمدہ محافظ

            ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی قربا نی ر وزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ پہلی جنگ آزادی ۱۸۵۷ءکی ناکامی کے بعد مسلمانوں کو انگریزوں کے عتاب کا سب سے زیادہ سامنا کرنا پڑا۔ بغاوت کے الزام میں ہزاروں علمائے کرام کو پھانسی کے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔ دہلی کے چاندنی چوک سے لاہور کی جامع مسجد تک جتنے درخت تھے ان پر مسلم علمائے کرام کی لاشیں لٹک رہی تھیں۔اس تاریخی حقیقت پر کسی تامل کی گنجائش نہیں ہے لیکن یہ سارے کے سارے سرفروشان وطن کون تھے،کن بستیوں کے رہنے والے تھے، کیسی شخصیت کے مالک تھے، اس کے علاوہ ان کی کیا کیا خدمات ہیںاور ایک ساتھ ان کے اٹھ جانے سے ان کے سماج کو فکر وعمل کے کس زوال کا سامنا کرنا پڑا، اس سلسلے میں استناد کے ساتھ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہم اسے دانشورانہ شعور اورفکر و احساس کے فقدان کا نام بھی نہیں دے سکتے کیونکہ قیامت صغری اور بلا خیزی کے اس عالم نے کس کو اتنا سنبھل کر بیٹھنے کا موقع دیا کہ دامان خیال یار کے چھوٹنے کا غم کرے۔انگلیوں پر شمار کئے جانے والے اردو اخبارات نے اپنے محدود وسائل وذرائع کے باوجود انگریزوں کی مشکلیں ضرور بڑھادی تھیں لیکن تھے تو محدود ہی جن سے ان کا اشاریہ تیار کرنا ممکن نہیں ہوسکا۔ تاہم اگر اس کے کچھ اشارے موجود ہوتے تو شاید آج اس کی کڑیاں جوڑی جاسکتی تھیں۔ یہ تو خیر بلا خیزی کا عالم تھا۔ ہم نے بعدمیں بھی اس طرح سے اپنے تاریخی شعور کی بیداری کا ثبوت نہیں دیا کہ ہماری جو ثقافتی، تہذیبی ، دانشمندانہ علامتیں اور تسلسل کی چھوٹی چھوٹی کڑیاں ہیں انہیں فضاؤں میں گم ہوجانے کے لیے چھوڑنے کی بجائے دستاویز کا حصہ بنائیں۔ اگرہم نے اس تاریخی شعور کا ثبوت دیا ہوتا تو آج ہمارے تشخص کو مٹانے کی جو کوششیں ہورہی ہیں ان کو کامیاب بنانا اور بھی مشکل ہوتا۔ تاریخی شعور کی بیداری کا یہ احساس ہمیں ”تاریخ کوروڈیہہ“مصنفہ ڈاکٹر ارشد جمیل میں ملتا ہے۔
            ”کورو ڈیہہ“ ضلع بھاگلپور کی ایک ایسی مردم خیر بستی ہے جو تاریخی اور علمی اہمیت کی حامل ہے۔ اس بستی اور اس کے اہالیان کے اجتہادی، علمی اور تحریکی کارنامے تاریخ میں تو جگہ پانے کے لائق ہیں ہی ساتھ ہی ایسی عظیم ہستیاں بھی یہاں ہر دور میں موجود رہی ہیں جنہوں نے نسل انسانی کی تہذیبی وراثت کو اپنے اسلاف سے حاصل کرکے اسے نئے اور مزید بالیدہ شعور کے ساتھ آنے والی نسلوں کے سپرد کیا ہے۔ یوں تو یہ بستی بھی بظاہر ایک بستی ہی ہے لیکن اس بستی میں سنہری روایتوں کا وہ رابطہ اور تسلسل موجود ہے جو ضلع بھاگلپور کی مختلف بستیوں کی سنہری کڑیوں کو جوڑ کر ایک زنجیر بناتاہے۔ وضاحت طلب امر یہ ہے کہ ایسی بہت سی بستیاں ہیں جہاں اس طرح کے رابطے اور تسلسل کم وبیش ضرور رہے ہیں لیکن چند مثالوں کو چھوڑ کرہمارے شعورمیں یہ بالیدگی نہیں آسکی کہ اس تسلسل کو تاریخ کا حصہ بنا دیا جائے۔ تاریخ کوروڈیہہ جلد دوم اسی دانشورانہ شعور ، احساس اور ادراک کی علامت ہے۔ اس سے قبل مصنف ڈاکٹر ارشد جمیل نے ۲۰۱۲ء میں ”تاریخ کوروڈیہہ “(جلد اول) لکھ کر کوروڈیہہ کی تاریخی اہمیت اور اعلی انسانی روایات کے تسلسل کو تاریخی ادراک کا حصہ بنایا تھا انہوں نے ۲۰۱۵ میں اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے جلد دوم کی تصنیف کی ہے جو کوروڈیہہ کی تاریخ کے ساتھ بھاگلپور کے گرد ونواح کی تعلیمی اور معاشرتی سرگرمیوں کا احاطہ کرتی ہے۔
            ڈاکٹر ارشد جمیل کوروڈیہہ کے باشندے ہیں اور اس وقت للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ وہ ایک اچھے اور کامیاب استاد ہونے کے ساتھ علم وفضل کے اعتبار سے بھی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ دانشورانہ فکر وشعور ، علمی بصیرت اورآگہی ان کا طرہ امتیاز ہے۔ ان کی ذات اور شخصیت شرافت اور اعلی قدروں کا مرقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ، رفقا کے ساتھ ساتھ اہل علم ونظر میں اعتبار اور عزت ووقار کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ تاریخ کوروڈیہہ جلد اول و جلد دوم ، غبار سفر (جمو وکشمیر کا سفرنامہ) کے علاوہ متعدد گراں قدر علمی وادبی مضامین ومقالات ان کے علمی کارنامے ہیں۔ کچھ کتابیں اب بھی زیر طبع ہیں جو جلد ہی منظر عام پر آئیں گی۔
            تاریخ کوروڈیہہ جلد دوم کو کل سات ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کتاب کا سب سے اہم حصہ باب اول ہے جس میں بھاگلپور اور گرد ونواح کی پندرہ اہم بستیوں ؛پورینی، جمگاؤں، کنڈی، سمریا، بزرگ ہرنا، ڈھالی ہرنا، کمال پور ہرنا، چک عابدہ، بدلو چک، سنہولی، ڈہر پور، چکدریا، پتھنہ، گرہوتیہ اور استو کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔ ان بستیوں کے حوالے سے ایک سو انتالیس افرادو شخصیات کا قدرے تفصیلی تو کچھ کا اجمالی ذکرسرخیوں کے ساتھ موجود ہے۔ باب دوم اس کتاب کے سرنامے سے متعلق ہے جس میں ماضی اور حال کے آئینے میں کوروڈیہہ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس باب کے تحت تقریبا بائیس صفحات میں کوروڈیہہ کی تفصیلی تاریخ ہے۔ تاریخی پس منظر سے لے کر گاؤں کے نشیب وفراز اور تعلیمی وسماجی سرگرمیوں کو شامل کرتے ہوئے موجودہ صورتحال کو بیان کیا گیا ہے۔ تیسرا، چوتھا، پانچواں، چھٹا اور ساتواں باب راست طور پر اسی گاؤں سے متعلق ہے۔ تیسرے باب میں یادوں کے چراغ کے عنوان سے کوروڈیہہ کے بارہ مرحومین افراد وشخصیات کا بشمول مصنف کے والدتذکرہ ہے جبکہ چوتھے باب میں تذکرہ معاصرین میں کوروڈیہہ کے ہی تیئس حی القائم افراد وشخصیات کا تذکرہ کیا گیا۔ باب پنجم میں گاؤں کے حفاظ کرام اور باب ششم میں گاؤں کے حجاج کی لسٹ دی گئی ہے جو جلد اول میں شامل نہیں ہوسکے تھے۔ اس کتاب کا ساتواں باب بھاگلپور اور گرد ونواح کی تاریخ کی حیثیت سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ مغلیہ حکومت کے آخری دور میں اس گاؤں کی کئی شخصیتیں عہدہ قضاة پر مامور تھیں تو مرزا عبد اللہ بیگ نامی ایک شخص خاندان مغلیہ کے کسی عہد میں صوبہ دار بھی رہ چکے ہیں۔ ساتویں باب میں نوادرات کو شامل کیا گیا جن میں قاضی نعیم اللہ کے نائب قاضی عبد الفتاح۱۸۴ھ کی مہر کا عکس دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ایک محضر نامے کا بھی عکس ہے جو محمد شاہ بادشاہ۱۱۵۳ھ مطابق ۱۱۸۴ء سال جلوس کے عہدسے متعلق ہے اس پر اس عہد کے مشاہیر علما اور قاضی القضاة کے دستخط ثبت کئے گئے ہیں۔ ان کے علاوہ اس علاقے سے وابستہ کئی اہم شخصیات کی تعلیمی اسناد کی عکسی کاپیاں بھی دی گئی ہیں۔
            مصنف کا تعلق اردو اور فارسی زبان وادب سے ہے۔ لیکن ان کا مطالعہ وسیع اور مشاہدہ بڑا گہرا ہے۔ انہوں نے مواضع کا ذکر کیا ہے تو گاؤں کی وجہ تسمیہ، اس کے قیام آباد ہونے کا پس منظر، جغرافیائی پس منظر، رقبہ اور حدود اربعہ، محل جائے وقوع،طول البلد اور عرض البلد، آب وہوا، تاریخی اور ثقافتی علامتیں، زبان اور بولیاں، تعلیمی وتہذیبی اور ثقافتی ادارے،گاؤں کے لوگوں کا بنیادی پیشہ اور وہاں کے تمدن ومعاشرت پر بھی بڑی باریکی اور وضاحت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے۔ جبکہ افراد وشخصیات کا تذکرہ اس طرح کیا گیا ہے کہ اس میں بیک وقت تذکرے، خاکے اور تاریخ تینوں کے اوصاف مجتمع ہوگئے ہیں۔ کئی لوگوں کا تذکرہ پڑھئے تو اس میں عمدہ خاکے کا مزہ ملتا ہے۔ اشخاص سے متعلق یاد داشتوں اور واقعات کے بیان کو پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف پیکر تراشی اور منظر کشی پر بھی خوب قدرت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مشمولہ شخصیات کی زندگی کے نشیب وفراز کا بھی احاطہ کرنے کی پوری کی کوشش کی ہے۔ قابل توجہ بات یہ بھی ہے کہ بڑی بڑی شخصیات کی زندگی کے واقعات اور ان کی یاد داشتیں قلم بند کرنا قدرے آسان کام ہے۔ کیونکہ ایسے لوگوں کی علمی کاوشوں اور دیگر ذرائع میں اس کا اہتمام ہوجاتا ہے۔ لیکن عام اور معمولی زندگی گذارنے والے لوگوں کے بارے میں معلومات اکٹھاکرنا، ان کی پیدائش اور موت اور دیگر یاد داشتوں کو تلاش کرنا محنت شاقہ کا متقاضی ہوتا ہے۔ مصنف نے اس جوکھم کو برداشت کیا ہے اور بڑے لوگوں کے ساتھ عام لوگوں کے بارے میں بھی بہت سی چھپی ہوئی معلومات کو تلاش کیا ہے اور اس کے اندر کی خوبیوں کا اجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ایسے لوگ جن کی زندگی اخلاقی اعتبار سے اچھی نہیں گذری ہو ان میں اعلی قدروں کی شناخت اور ان کا برملا اعتراف کرنا دیدہ دل کا کام ہے اور یہ کام وہی کرسکتا ہے جو خود متوازن طبیعت کا مالک ہو، جس کی سوچ اکہری نہ ہو اور خوبیوںمیں خرابی اور خرابیوں کے درمیان خوبی کو پہچان سکتا ہو۔ ورنہ عام طور پر جو لوگ غلط راہ پر چل پڑتے ہیں ا ن کے ساتھ لوگوں کا سلوک ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی برائی میں اور بھی پختہ تر ہوتے چلے جاتے ہیں اور ان کی خوبیوں کو بھی ان کو چالاکی اور مطلب پرستی کے نظریے سے دیکھا جاتا ہے۔ ڈاکٹر ارشد جمیل نے ایسے لوگوں میں بھی خوبیاں تلاش کی ہیں اور اس کا برملا اعتراف بھی کیا ہے۔ کتاب کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف ڈاکٹر ارشد جمیل اظہار بیان پر غضب کی قدرت رکھتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے جملے لکھتے ہیں جو انشا پردازی اور تخلیقیت سے پر ہوتے ہیں۔
            یہ کتاب اپنے علاقہ کی تاریخ کا بلا واسطہ طور پر احاطہ تو کرتی ہی ہے لیکن بالواسطہ طوپر بہار کے دیگر اضلاع کے سینکڑوں علما، دانشوران اور سرکردہ شخصیات کا بھی اشاریہ ہے ۔جن علما اور دانشوران کا ذکر ضمنا یا حوالے میں ہوا ہے، ان میں سے بعض تو اب بھی تاریخ میں زندہ ہیں لیکن ان میں بہت سے علما ودانشوران ایسے ہیں جن کی یادیں سینوں کے ساتھ دفن ہوتی چلی گئیں ہیں ۔ چونکہ اس کتاب میں بہت سے دینی اداروں مدرسوں کا ذکر ہوا ہے اس لیے مختلف مراحل میں ان مدارس کے نصاب میں شامل کتابوں کے بارے میں بھی معلومات ہوتی ہے۔
            ماضی میں یاد داشتوں کو باقی رکھنے کے ذرائع محدود تھے۔ بہت سی باتیں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی تھیں جس میں کچھ کڑیاں چھوٹ جاتی تھیں تو کچھ الحاقی کڑیاں جڑ جاتی تھیں اس کے باوجود بہت سی یادیں آج تک موجود ہیں۔ آج جبکہ یاد داشتوں کو باقی رکھنے کے بے شمار ذرائع پیدا ہوگئے ہیں ہماری تہذیبی قدروں کے حصے مٹتے جارہے ہیں اور کڑیاں ٹوٹتی جارہی ہیں اور اس طرح نئی نسلیں اپنے علمی سرمائے اور ثقافتی اثاثے سے بے خبر ہوتی جارہی ہیں۔ یہ کتاب اسی ثقافتی سرمائے کو آنے والی نسلوں کو تک پہچانے کا ایک ذریعہ ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ مسلم مواضع کی تاریخ اور ترتیب کا یہ نہج انتہائی منفرد ہے۔ دوجلدوں کو شامل یہ صرف ایک کتاب ہی نہیں بلکہ ایک مخصوص خطے کے تناظر میں اپنے عہد کی آثار الصنادید ہے۔ ایسے کاموں کی بلاشبہ بڑی ضرورت ہے۔ خاص طور پر اس کی ضرورت کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب ہم ماضی کے تاریخی اثاثوں کا ذکر کرتے ہیں مگر ان کا کوئی تاریخی استناد ہمارے پاس نہیں ہوتا۔ اگر اس نہج پر مسلم مواضع کی تاریخ مرتب کی جائے تو ہم آنے والی نسلوں کو بتاسکیں گے وہ اعلی قدریں جن سے ہمارا تشخص قائم ہے کس طرح فروغ پائیں اور کیسے کیسے ہم تک پہنچیں جن پر ہم آج فخر کرتے ہیں۔ یہ کتاب ہمیں اس بات کی تحریک بھی دیتی ہے کہ تمام مسلم مواضع میں دست برد زمانہ سے جو یادیں بچ گئی ہیں انہیں ہم محفوظ کریں۔
             چونکہ مصنف کی سخت بیماری کے دوران یہ کتاب طباعت کے مرحلے سے گذری ،اس لیے بعض جگہوںپر پروف کی غلطیاں راہ پاگئیں ہیں۔ مجموعی طور پر کتاب میں بڑی نفاست اور عمدہ گٹ اپ ہے۔ قیمت بھی بڑی معقول ہے۔ یہ کتاب طلبہ، اساتذہ ، دانشوران کے ساتھ عام لوگوں کے بھی مطالعے کی چیز ہے۔
٭٭٭
نوٹ: یہ مضمون قومی تنظیم پٹنہ میں 10 جنوری 2016 بروز اتوار صفحہ بعنوان ادب نامہ (10) شائع ہوا۔

Friday, 1 January 2016

تبصرہ: نسخہ ہائے درد دل (شعری مجموعہ)۔

نام کتاب                 :               نسخہ ہائے درد دل (شعری مجموعہ)
شاعر                        :               فطین اشرف صدیقی
صفحات                    :               ۲۳۵
قیمت                       :               ۲۵۰ روپے
ملنے کا پتہ                :               ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ
مبصر                        :               احتشام الحق
                محدود معنی؍ تناظر میں اردو شاعری اور غزل کو ایک دوسرے کا متبادل کہا جاسکتا ہے۔ اردوزبان سے واقف آشنا مگر اردو سے نابلد؍ ناخواندہ کسی شخص کے سامنے اردو شاعری کا نام لیجئے تو سب پہلے اس کا ذہن اردو غزل کی طرف جائے گا۔اردو غزل کا نام لیجئے تو تغزل کا تصور ذہن میں نہ آئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ گوکہ غزل نے” بازناں گفتن“ سے آگے قدم رکھتے ہوئے زندگی کے تقریبا تمام مسئلوں کا احاطہ کرلیا ہے۔ اب تو سائنسی اور طبی دریافتوں سے پیدا ہونے والے مسائل کو غزل جیسی لطیف صنف میں ثقیل اصطلاحوں کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اسے بھی بنظر استحسان دیکھا جارہا ہے۔ یہ دیکھنے والوں کی نظر نظر کا کمال ہے۔ لیکن آج بھی کسی بڑے مشاعرہ کی محفل ہو یا اہل سخن اور اہل مذاق کا مختصر اجتماع، جب کوئی شاعر غزل پڑھتا ہے تو ایسے شعر پر ٹھہر کر سامعین کو متوجہ کرتا ہے جس میں تغزل موجود ہو۔ یہ کہتے ہوئے  کہ غزل کا ایک شعر ہوگیا ہے۔ غزل کے موضوعات کے تنوع کے باوجود تغزل پر شاعر کا یہ اصرار اس بات کا اثبات ہے کہ غزل آج بھی وہی سر دھننے کے لائق ہے جس میں بھر پور تغزل موجود ہو۔ تغزل کا یہی اصرار فطین اشرف صدیقی کے شعری مجموعے نسخہ ہائے درد دل میں ملتا ہے۔ اس مجموعے میں شامل غزلیں پڑھئے قدم قدم پر تغزل کا وفور قاری کو ٹھہرا لیتا ہے۔ کہیں سرور وکیف ، سرمستی اور جذبۂ دل قاری کو گنگناے اور بار بار دہرانے پر مجبور کرتا ہے تو کہیں اس پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور قاری گانے کے ساتھ جھومنے بھی لگتا ہے۔
                 فطین اشرف صوبہ بہار کے ضلع سیتا مڑھی کے قصبہ مادھو پور سلطانپور کے باشندہ ہیں اور ایک متوسط اور دینی وعلمی گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ تعلیم کے حصول کے بعد وہ عمان کے شہر صلالہ میں برسر روزگار ہیں۔اچھے کاتب ؍ خطاط ہیں۔ خطاطی کی مہارت یہ ہے کہ انہوں نے چاول پر قل ہوا للہ لکھنے کے ہنر کا اعجاز بھی دکھلایا ہے۔ دینی گھرانے میں پیدائش، پرورش اور دینی تعلیم کے حصول نے ان کے مزاج کو بھی دینی سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ وہ پاکیزہ خیالات اور سچے جذبات کے حامل ہیں۔
                نسخہ ہائے در دل فطین اشرف کا پہلا شعری مجموعہ ہے جس میں سو سے زائد غزلوں کے علاوہ نظمیں، حمد، نعت، قطعات ، سہرا اور دعا وغیرہ شامل ہیں۔
                فطین اشرف بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور غزل میں بھی کلاسیکی برتاؤ ان کے شعری رویے کا بنیادی وصف ہے۔ شعری رجحان رومانی ہے لیکن خیال کی پاکیزگی جذبات کی سادگی اور تہذیب نفس ان کی رومانی غزلوں کا امتیازی پہلو ہے۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا کہ قدم قدم پر تغزل کا احساس ہوتا ہے لیکن رومانیت کو ان کی کل کمائی نہیں قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ ان کی غزلوں میں زندگی کا گہرا مشاہدہ بھی ہے، کمزور ہوتی ہوئی انسانیت، ٹوٹتے بکھرتے رشتے، لوگوں میں تصنع اور ملمع سازی کے بڑھتے ہوئے رجحان،ابن الوقتی اور مفاد پرستی کے خلاف احتجاج اور بے امنی اور بے چینی کی فضا کی عکاسی بھی ملتی ہے۔ دیکھیں یہ اشعار:
پرندے خوف زدہ گھونسلوں میں دبکے ہیں
کہ ان کی گھات میں کوئی عقاب لگتا ہے
وہ جو کہتے ہیں کہ ہے فکر ہماری ان کو
ان کی جانب چلیں دانستہ پھل کر دیکھیں
کون دیتا ہے جاں کسی کے لیے
ہے یہ قصہ فقط فسانے تک
اب کہاں ہے خلوص رشتوں میں
رسم باقی ہے آنے جانے تک
کیا میں نے نہ خود داری کا سودا
سبھی کہتے رہے مغرور ہوں میں
فتوے لگائے سب نے کوئی سن سکا نہ حق
زیر عتاب دار پہ منصور ہی رہا
راہِ الفت میں مقام آتے ہیں ایسے اکثر
لاکھ محتاط ہوں ہم پاؤں پھسل جاتا ہے
دریائے علم وفن سے، میں سیراب کب ہوا
بس پی کے چند قطرے، مچلتا رہتا ہوں
اگر تاب تم میں نظارے کی ہے تو
نظر سے نظر ملاؤ تو جانوں
آگے ہے جان کی بازی
جس کو جانا ہے گھر جائے
کرسی اپنی سلامت ہے
قوم مرتی ہے مر جائے
                غزل کی ایک صفت ریزہ خیالی ہے۔ فطین اشرف غزل کی اس صفت کو برتنے میں بڑی حد تک کامیاب نظر آتے ہیں۔حالانکہ کئی غزلیں غزل مسلسل کے ضمن بھی آتی ہیں لیکن فرد خیال کا احساس بہر حال باقی رہتا ہے۔ فطین اشرف نے چھوٹی چھوٹی بحروں میں بھی غزلیں کہی ہیں اور کچھ بڑی بحروں میں غزلیں ہیں۔ایک دو غزلوں میں سالم مضاعف بحر بھی استعمال کی گئی ہے۔ ان سے یقینا شاعری پر ان کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے۔ غزل کا فن رمز اور ایمائیت کا فن ہے۔ فطین اشرف نے نئے استعارے تو نہیں تراشے ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اساتذہ کے کلام کا انہوں نے گہرائی سے مطالعہ کیا ہے اورقدیم استعاروں سے استفادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ البتہ انہوں نے تشبیہ کے عمل سے اپنے کلام کو مزین کرنے کی خوب کوشش کی ہے۔
                 اس مجموعے میں ان کی تقریبا سترہنظمیں بھی شامل ہیں۔ غزل کے برعکس نظم کی صفت تسلسل بیان ہے۔ انہوں نے جو نظمیں لکھی ہیں ان میں بیشتر نظمیں اپنی اس صفت میں کامیاب نظر آتی ہیں’’کس چہرہ کو کعبہ بنائیں گے ہم“ ان کی ایک طویل نظم ہے جو ماں پر لکھی گئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اپنی ماں کی موت سے متاثر ہوکر یہ نظم ہوگئی ہے۔ یہ نظم ماں بیٹے کے رشتوں کے مختلف پہلوؤں کا احاطہ کامیابی کے ساتھ کرتی ہے۔ ”یاسیت“ ، ”تقدیس ایفا“ اور”حسن تمنا“ آزاد نظمیں ہیں۔ نظم کے خیالات اعلی ہیں لیکن ایک نظم کے اندر قاری کو اپنی گرفت میں رکھنے کی جو صلاحیت ہونی چاہئے وہ ان میں کمزور ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ ”اردو میں ہے“ ایک نظم ہے جس میں اردو شیریں بیانی کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن کہہ سکتے ہیں یہ نظم بھی نظم کی شرطوں پر کھری اترنے میں بہت کامیاب نہیں ہے۔
                فطین اشرف نے اس مجموعے میں مختلف ہئیتوں کا استعمال کیا ہے۔ مختلف شعری ہئیتوں کا استعمال ان کی قادر الکلامی کو ثابت کرتا ہے۔ لیکن پورے مجموعے کے مطالعے سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ غزل کے شاعر ہیں جس میں تغزل اور نغمگی بھری ہوئی ہے اور اس لائق ہیں کہ ان کو عالم رنج میں بھی پڑھا جائے تو نشاط کی کیفیت قاری پر طاری ہوسکتی ہے۔ نغمگی اس قدر ہے کہ ان کو مشہور مغنیوں کے ذریعہ گواکر ان کی صدا بندی کرائی جاسکتی ہے۔رومان اور نغمگی سے پر غزلوں سے کچھ اشعار دیکھے جاسکتے ہیں:
لفظ بے معنی ہیں سارے، حرف بے تاثیر سب
قامت جاناں کے آگے سر نگوں ہے شاعری
سنا ہے لوگ کہتے ہیں، بہت نازک رگ جاں ہے
ذرا تیر نظر دل پر چلا آہستہ آہستہ
سر محفل، سنا ہے! جلوۂ جاناں کی دعوت ہے
چلو! کس کس کی آئی ہے قضا آہستہ آہستہ
تمہاری مست نظروں میں سنا ہے ایک جادو ہے
مرے دل پر بھی یہ جادو چل جائے تو پھر جانا
شوخی تو ذرا دیکھئے، اس شوخ طبع کی
دل میں ہی مرے رہ کے یہ پوچھے ہے کہاں ہوں
                کتاب کی طباعت عمدہ ہے۔ گٹ اپ بھی بڑا خوبصورت ہے۔ ایسی توقع ہے کہ ان کا یہ پہلا مجموعہ اہل نقد ونظر کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں کامیاب ہوگا۔

٭٭٭

تبصرہ: لفظیات غزل

نام کتاب            :           لفظیات غزل (از ابتدا تا عہد غالب)
مصنفہ                :           ڈاکٹر نفاست کمالی
قیمت                 :           تین سو روپے
صفحات               :           ۱۶۹
ملنے کا پتہ           :           ناولٹی بکس، قلعہ گھاٹ ، دربھنگہ
مبصر                  :           احتشام الحق
            فنون لطیفہ میں ادب کا ذریعہ اظہار زبان ہے۔اصوات، اشکال اور اشارات جو مخصوص معانی کی علامتیں ہوتی ہیں کسی خاص لسانی سماج میں زبان کی تشکیل کرتے ہیں۔معنی کے اظہار کا ذریعہ لفظ ہے۔ لفظ لفظ مل کر جملہ بنتا ہے اور ایک جملہ ایک خبر، ایک کیفیت ، ایک احساس اور ایک خیال کا اظہار کرتا ہے۔ شاعری در اصل ایسی لفظیات کا نظام ہے جو مخصوص نظام کو بروئے کار لاکر افکار وخیالات کے بہتر سے بہتر اظہار کا ذریعہ تلاش کرتی ہے۔ اس طرح ہم شاعری کو زبان کی سائنس کہہ سکتے ہیں اور پھر اس کے ذریعہ دریافت ذریعہ اظہار نثر میں بھی ڈھلتے ہیں جن کو زبان کی ٹیکنالوجی کا نام دیا جاسکتا ہے۔ لیکن لفظ ہر دور اور ہر تناظر میں اپنا معنی بدلتا رہتا ہے اور اس کی گرافک صورت میں بھی تبدیلی آتی رہتی ہے۔ تناظر کے پس منظر میں لفظ کا ادراک اور استعمال شاعری کا خاص عمل ہے۔ لفظوں کے اسی عمل اور نظام کو” لفظیات غزل“ میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
            ”لفظیات غزل“ ڈاکٹر نفاست کمالی کی تازہ کتاب ہے جو ان کے پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے۔ زیر نظر کتاب میں انہوں نے اردو غزل کی ابتدا سے لے کر غالب کے عہد تک کے غزل کی لفظیات کا مبسوط جائزہ لیا ہے۔ یہ کتاب کل آٹھ ابواب پر مشتمل ہے۔ پہلے باب میں لفظیات اور اس کے محتویات کا عمومی جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کس طرح الفاظ عہد بہ عہد اپنی شکلیں بدلتے ہیں۔ یا کس طرح تناظر کے لحاظ ایک لفظ اپنی صوتی اور شکلی صورت کو برقرار رکھتے ہوئے بھی اپنی معنویت بدل لیتا ہے۔ دوسرے باب میں لفظیات غزل کے تحت غزل میں استعمال ہونے والی لفظیات کا جائزہ لیا ہے۔ اس میں اولاً غزل کی ہیئت کو نظر میں رکھتے ہوئے اس کے مخصوص معنیاتی نظام پر بحث کی ہے پھر غزل کی لفظیات کو پیش کیا ہے اور مصنفہ اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ لفظیات کے انتخاب میں مضامین کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ تیسرے باب کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں قدیم شمالی ہند میں اور دوسرے حصے میں دکن میں اردو غزل کی لفظیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ چوتھے باب میں” لفظیات غزل عبوری دور میں “کے تحت غزل کا جائزہ لیا گیاہے۔ ایہام گوئی کی تحریک کو عبوری دور سے موسوم کیا گیا ہے۔حالانکہ مصنفہ کو اس بات کی صراحت کرنی چاہئے تھی کہ ایہام گوئی کی تحریک کو عبور ی دور سے کیوں موسوم کیا گیا ہے جو وہ نہیں کرسکی ہیں۔ پانچویں باب میں میر تقی میر اور سودا کے عہد کی لفظیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ چھٹے باب ”لفظیات غزل دبستان لکھنؤ“کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں انشاء، مصحفی اور دیگر شعرا اور دوسر ے حصے میں ناسخ، آتش اور دیگر شعرا کے حوالے سے لفظیات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ساتویں باب میں ”لفظیات غزل۔ دبستان دہلی میں“ کے تحت غالب، مومن، ذوق اور دیگر شعرا کے حوالے سے اردو شاعری کے عہد زریں کی لفظیات پر بحث کی گئی ہے۔ آٹھویں باب میں پوری بحث کا محاکمہ پیش کیا گیا ہے۔
            مصنفہ نے اپنے پیش لفظ میں یوں تو اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ لفظیات کی اہمیت، وسعت اور محتویات پر بہت کم لکھا گیا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ اردو تنقید میں لفظ ومعنی کی بحث کے تحت لفظیات کے حوالے آتے رہے ہیں اور اس تحقیق میں مصنفہ نے بھی ان حوالوں سے بھر پور استفادہ کیا ہے۔
            مختصر یہ کہ ڈاکٹر نفاست کمالی کی یہ تحقیق اردو غزل کے حوالے سے ایک نئی جہت کو پیش کرتی ہے اور شاعری کے حوالے سے زبان کے نظام کا مطالعہ کرنے والے طلبہ کے خاصہ کار آمد ثابت ہوسکتی ہے۔
٭٭٭
نوٹ: یہ تبصرہ دربھنگہ ٹائمز دربھنگہ کے شمارہ اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۵ تا جنوری تا مارچ ۲۰۱۶ کے شمارے میں شائع ہوا۔



تبصرہ: دھند (افسانوی مجموعہ)۔

نام کتاب            :           دھند (افسانوی مجموعہ)                                         
تصنیف               :           ڈاکٹر قیام نیر
ترتیب وپیشکش     :           محمد علام الدین
سن اشاعت         :           ۲۰۱۵
قیمت                 :           ۸۹ روپے
صفحات               :           ۱۵۰
ناشر                   :           ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی
مبصر                  :           احتشام الحق
”کہانی کہنا اور سننا سب لوگوں کو پسند ہے کیونکہ زندگی کی ہر کڑی، ہر موڑ اورہر اتار چڑھاؤ خود ایک کہانی ہے۔ جو کبھی خوشی دیتی ہے اور کبھی غم۔ “مذکورہ اقتباس دھند کے پیش لفظ سے ماخوذ ہے۔ دھند ڈاکٹر قیام نیر کا تیسرا افسانوی مجموعہ ہے۔ ڈاکٹر قیام نیر بہار کے اہم افسانہ نگاروں میں سے ایک ہیں۔ اس سے قبل۱۹۸۴ میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”تنہائی کا کرب“ اور ۲۰۰۰ میں ”تحفہ“ دوسرا افسانوی مجموعہ شائع ہوکر مقبول ہوچکا ہے۔ وہ نہ صرف افسانہ نگار ہیں بلکہ افسانہ نگاری کی تاریخ بطور خاص بہار میں افسانہ کی پیش رفت اور اس کی تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں اوراس پر ان کی گراں قدر دو تحقیقی کتابیں بھی آچکی ہیں۔ بحیثیت افسانہ نگار، افسانہ کے فن ، اس کی روایت، اس کی تاریخ اور اس پر تنقیدی نگاہ رکھنے کی وجہ سے وہ افسانہ کے مالہ وما علیہ سے پوری طرح واقف ہیں۔
            دھند میں ۱۹ افسانوں کو شامل کیا گیا ہے جن کو ان کے ۲۰۰۱سے  ۲۰۱۵ تک پندرہ سالوں کا سرمایہ کہا جاسکتا ہے۔ یہ افسانے مختلف اوقات ملک اور بیرون ملک کے اہم رسالوں اور روزناموں مثلاً ایوان اردو، دہلی، راشٹریہ سہارا، نوئیڈا، خیال وفن، لاہو، گل کدہ، بدایوں، تعمیر، ہریانہ، یوجنا، دہلی، پاسبان، چنڈی گڑھ، نخلستان، راجستھان، پرواز ادب، پٹیالہ، نئی سوسائٹی، مراد آباد اور پالیکا سماچار دہلی میں شائع ہوتے رہے ہیں۔
            ان افسانوں کے موضوعات میں بڑا تنوع ہے اور موجودہ زندگی کے حقائق کو بڑی خوبصورتی سے کہانی کا لباس پہنایا گیا ہے۔ ان کہانیوں کے بارے میں خود افسانہ نگار کی رائے اس کتاب میں شامل ان کے پیش لفظ میں اس طرح ملتی ہے : ”ان افسانوں کے ذریعے میں نے معاشرے میں بکھرے ہوئے واقعات وحادثات، انسانی رشتوں کی بے حرمتی، قول وفعل کے تضاد، شکست آرزو اور عام انسانوں کی مجبوری اور بے بسی کو زبان دینے کی کوشش کی ہے۔“ مجموعہ میں شامل انیس افسانوں کی اپنی اپنی جہتیں ہیں اور اس جہت میں اس کی معنویت بھی مسلم ہیں۔ مگر کچھ افسانے قاری کو ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کردیتے ہیں اور ان کے محولہ بالا بیان کی بڑی حد تک تصدیق ہوتی نظر آتی ہے۔ ان افسانوں میں سے ایک ”مداوا“ نے پریم چند کے کفن کا مرتبہ پانے میں کامیابی تو حاصل نہیں کی ہے لیکن انسان کی وہی بے بسی اور مجبوری جو کفن میں ہے جس کے نتیجے میں انسان کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے، اس میں اس کی ایک جھلک ضرور نظر آتی ہے۔ یہ افسانہ ایک ایسے کرب کا اظہار ہے جو قاری کو جھنجھوڑتا ہے۔ افسانہ ”نئے راستے“ حکومت کی اسکیموں سے مستفید ہونے اور دیہی زندگی میں تبدیلی لانے کی وکالت کرتا ہے۔ لیکن اس راہ میں آسانی اتنی نہیں ہے جتنی آسانی سے افسانہ گذرا ہے۔ جس سہولت سے نئے راستے تک پہنچا گیا ہے ایسا ہمیں صرف ٹی وی پر حکومت کے اشتہاروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ زمینی حقیقت ماسوا ہے۔ اگر حالات ایسے ہوتے جس طرح افسانہ میں بیان ہوا ہے تو ہمارا ملک اتنا پیچھے نہیں ہوتا۔ یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ حکومت کی اسکیموں سے واقف کاروں نے عوام کو فائدہ پہنچانے کی کوشش نہیں کی یا بہت کم کی ہے۔ لیکن کوشش کے باوجود اس راہ کی منزل آسان نہیں ہے اور حقیقت یہ ہے کہ سرپنچ کیا جو کہانی کا ایک کردار ہے خود بلاک ترقیات افسر بھی اپنے گاؤں کو بدلنا چاہیں تو اس تیزی نہیں بدل سکتے ہیں۔البتہ کہانی تھوڑے کشمکش کے بعد اس نتیجے پر پہنچتی تو شاید کچھ کامیابی مل سکتی تھی لیکن ہوسکتا ہے کہ اس کے بعد وحدت تاثر ختم ہوجاتا جس سے فن مجروح ہوجاتا۔” آگ کی ٹھنڈک“ تقسیم کے بعد کے مسائل کو چھوتی ہوئی کہانی ہے اور یہ کہنے کی کوشش کی گئی ہے حالات کہیں بہتر نہیں ہے۔ ”دھوپ کا سایہ“ بھی کچھ اسی قسم کے موضوع کو چھوتا ہے۔ ان دونوں افسانوں کا عنوان جیسا کہ دو متضاد الفاظ کی ترکیب سے بنایا گیا ہے اور دھوپ کی تمازت میں سایہ اور آگ میں ٹھنڈک سے شدت میں نرمی کا پہلو ظاہر ہے کہانی میں بھی یہی کچھ کہنے کی کوشش کی گئی ہے۔جس سے قاری میں زندگی کو ہر حال میں انگیز کرنے کا حوصلہ اور نامساعد حالات کے تئیں کھڑے ہونی کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔ کہانی ”ہم سفر“ بھی سماج کی ایک خاص ذہنیت کی عکاس ہے۔ ہمارا سماج ہمیشہ ایسے لوگوں کو شکوک وشبہات کی نگاہوں سے دیکھتا رہتا ہے جو کبھی غلط راہ پر تھے۔ رشتوں کے معاملے میں یہ رویہ اور بھی محتاط ہوتا ہے۔ بسا اوقات سماج کے اس رویہ سے غلط راہ کو چھوڑ کر آنے والے لوگوں کو توبہ شکنی کی راہ دکھائی دینے لگتی ہے۔” بھنور کا ساحل“ بھی تقسیم ہند کے المیے کو بیان کرتا ہے۔جبکہ” راز دار“ زوجین کے درمیان رازداری کی حدوں کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
            کئی افسانوں میں جہیز کا ناسور ، اس کی کسک اور درد کہانی کا حصہ بنے ہیں ہے۔ اس مسئلہ پر افسانہ نگار سنجیدہ ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور کئی طرح کے مسائل کا سبب اسی جہیز کو تسلیم کرتا ہے۔ اوپر مذکور ”مداوا“ میں بے ضمیری کا سودا اسی جہیز کے سبب ہے۔ ”فرق“ میں بھی اس مسئلہ پر افسانہ نگار کو سنجیدہ ہوتے دیکھا جاتا ہے۔ حالانکہ” فرق“ رواداری کے مٹتے ہوئے جذبہ کا عکاس ہے جس کی وجہ سے ملک میں فرقہ وارانہ مسائل پیدا ہورہے ہیں۔ ”سمجھوتہ“ انسانی کی مجبوری کا عکاس ہے اور یہ کہنے کی کوشش کی گئی ہے مفلسی میں انسان کا ضمیر ملامت بھی کرتا ہے تو حالات انسان کو سمجھوتہ کرلینے پر مجبور کردیتے ہیں۔ موقع پرستی بھی ہمارے سماج کا بڑا المیہ ہے۔ موقع پرست لوگوں کی ابن الوقتی محسوس کرنے سے تعلق رکھتی ہے اور ایسے حالات میں باعزت ا شخاص موقع پرست لوگوں کو دیکھ کر جز بز ہوکر رہ جاتے ہیںلیکن موقع پرست لوگ اپنے مفاد کے لیے کسی بھی سطح پر جانے کو تیار رہتے ہیں۔ ”موقع پرست“ اسی خیال کا عکاس ہے۔
            بیانیہ کی تکنیک میں کہے جانے والے یہ افسانے اپنے اندر منفرد معنویت رکھتے ہیں۔ ان کہانیوں کو محمد علام الدین نے ترتیب دے کر پیش کیا ہے جس کے لیے وہ لائق مبارکباد ہیں ۔ کہانیوں کے مطالعہ سے مرتب کے ذوق نظر اور افسانوں پر ان کی گہری نظر کا اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب پر پروفیسر شہزاد انجم نے بہت اختصار کے ساتھ تقریظ لکھی ہے اور ڈاکٹر قیام نیر کی افسانہ نگاری کا جامع انداز میں جائزہ لیا ہے۔ حالانکہ بحیثیت مرتب محمد علام الدین کو بھی اس میں چند سطریں ضرور تحریر کرنی چاہئے تھی تاکہ ان کے نگاہ انتخاب کے ساتھ افسانہ پر ان کے خیالات کا اندازہ ہوتا۔ کتاب کی طباعت عمدہ ہے اور قیمت موزوں ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ مجموعہ طلبہ اور اساتذہ کے درمیان مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگا۔

٭٭٭
نوٹ: یہ تبصرہ دربھنگہ ٹائمز دربھنگہ کے شمارہ اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۵ تا جنوری تا مارچ ۲۰۱۶ کے شمارے میں شائع ہوا

تبصرہ: آؤ کہانی سنتے ہیں

نام کتاب            :           آؤ کہانی سنتے ہیں
مصنف               :           ڈاکٹر مجیر احمد آزاد
قیمت                 :           ۴۰
صفحات               :           ۵۶
ملنے کا پتہ           :           ناولٹی بکس، قلعہ گھاٹ ، دربھنگہ
مبصر                  :           احتشام الحق
کہانی اور بچہ لازم وملزوم چیز ہے۔ ہر بچے کو کہانی سننا پسند ہے۔ لیکن تفریح کے برقی ذرائع نے ہماری جن پرانی قدروں کو چھینا ہے ان میں وہ کہانیاں بھی جو کبھی دادی، نانی، پھوپھی، خالہ، ماں اور گلی محلہ کی کچھ مخصوص خواتین سناتی تھیں لیکن آج بھی بچے کہانیاں پسند کرتے ہیں البتہ یہ انہیں ٹی وی میں کارٹون کی شکل میں مل جاتی ہیں ۔ کہانی کو ایکشن کے ساتھ سننے اور دیکھنے میں مزہ دوبالا ہوجاتا ہے۔ اس کے باوجود کہانیوں کے پڑھنے سے بچوں کے ذہن میں جو سبق محفوظ ہوتے ہیں اور زبان دانی کا جو فائدہ حاصل ہوتاہے اس کا متبادل ٹی وی کی کہانی کو نہیں کہا جاسکتا ہے۔اس طرح کی توجیہ کو اس دور میں کہانی کی تخلیق کا جواز تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ کہانی کہنا ہوسکتا ہے تخلیق کار کی مجبوری بھی ہو لیکن بچوں کے لیے لکھی جانے والی کہانی میں مجبوری نہیں شعور کام کرتا ہے۔اور پھراسے شائع کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے کونئے نظام کے خلاف ایک جنگ بھی کہا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے گیارہ کہانیوں پر مشتمل کتاب ”آؤ کہانی سنتے ہیں“ کو شائع کرکے یہ جنگ کی ہے ۔
             کہانیاں یوں بھی مختصر ہی ہوتی ہیں۔ لیکن بچوں کی کہانیوں میں اس بات کا پورا خیال رکھنا پڑتا ہے کہ اس میں ہر حال میں اختصار برقرار رہے۔ بچوں کی کہانی میں بچوں کی فطرت کو ذہن میں رکھتے ہوئے دلچسپی پیدا کرنی پڑتی ہے۔ بچوں کی کہانی میں سبق آموزی کا ہونا بھی ضروری ہے جو کہانی پڑھ کر وضاحت کے ساتھ بچوں کے ذہن میں آجائے۔انہیں کچھ سیکھنے کا موقع ملے۔اعلی انسانی قدروں کے تئیں بچوں میں شعور پیدا ہو اور خود بچوں کی شخصیت بلند کردار ہوسکے۔ اس میں زبان کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔معیاری زبان کے سانچے کو بھی ذہن میں رکھنا پڑتا ہے۔ الفاظ کے استعمال میں بھی بہت سوچ سمجھ سے کام لینا پڑتا ہے۔ بچوں کے ذہنی استعداد اور عمر کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ ساتھ ہی اس بات کی بھی کوشش کی جاتی ہے بچوں میں ذخیرہ الفاظ میں اضافہ ہو۔ محاورہ اور روز مرہ کو بھی کہانی میں جگہ دی جاتی ہے۔ ”آؤ کہانی سنتے ہیں“ کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نہ صرف ایک کہانی کار ہیں بلکہ بچوں کی فطرت سے واقف بھی ہیں اور اعلی اقدار کے حامل ہیں۔ اور کیوں نہ ہوں کہ وہ جس پیشہ سے وابستہ ہیں اس میں اس میں بیک وقت یہ تمام چیزیں مجتمع ہوجاتی ہیں اور ان چیزوں کے اجتماع کے بعد ہی ایک اچھے استاد کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔ بچوں کی کہانیوں کے سلسلہ میں خود ان کا اپنا خیال یہ ہے کہ ” ان کہانیوں کی تخلیق کا مقصد بچوں کی تعلیم وتربیت میں معاونت کے ساتھ ان کے اندر اعلی انسانی قدروں کی پاسداری کا جذبہ فزوں تر کرنا ہے۔ کہانیاں بچوں کے لئے اخلاق اور کردار سازی کا ایک مؤثر ذریعہ ہوسکتی ہیں۔ ایسا میرا ماننا ہے۔ کہانیوں کے توسط سے زبان وادب کی دلچسپی کے ساتھ ساتھ بچوں کے اندر محبت، بھائی چارہ، ہمدردی، بھلائی، خیر خواہی، دست گیری جیسی صفتیں بہ آسانی پیدا کی جاسکتی ہیں“ان کہانیوں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر مجیر احمد آزاد نے ان کہانیوں کی تخلیق میں مندرجہ بالا خیالات کو ہر ممکن برتنے کی کوشش کی ہے۔ ہر کہانی بچے کو  زندگی گذارنے کا ایک سبق دیتی ہے۔
اس کتاب میں ”خالد کی عید“، ”خالہ کا گھر“، ”دوستی“، ”نیک کام“، ”نصیحت“، ”مراد کی سمجھ داری“، ”نانی کی بکری“، ”اچھی لڑکی“، ”پنڈت گوپی ناتھ“،” آخری کوشش“ اور ”مرجھائے پھول“ کل گیارہ کہانیاں ہیں۔کہانیوں کا عنوان جس طرح بالکل عام سا اور گھر کے آس پاس کا ہے اسی طرح کہانیوں کا تانا بانا بھی ہے جس سے بچوں کی دلچسپی قائم ہوتی اور کہانی کے مطالعہ سے بچے کی دلچسپی بھی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ موضوع کے لحاظ سے بالکل سہل اور سادہ زبان استعمال کی گئی ہے جس میں بچوں کی عمر اور علمی لیاقت کا خیال رکھنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ البتہ جو نسل ہمارے درمیان بڑھ رہی ہے وہ کچھ الفاظ پڑھ کر شاید ان کا معنی مطلب نہ سمجھ سکے ۔ لیکن اس کا مطلب تو یہ نہیں ہے کہ بچے جس رخ پر بہے جارہے ہیں کہانی کار بھی اس رخ پر بہہ جائے ۔ کیونکہ کہانی کار کا مقصد بچوں کو معیاری زبان سے واقف بھی کرانا ہے۔ ان میں سے بعض کہانیاں مختلف اوقات میں بچوں کے رسالوں بھی شائع ہوچکی ہیں۔
            ”خالد کی عید“ اس کتاب کی پہلی کہانی ہے جو پریم چند کی کہانی ”عید گاہ“ سے متاثر ہوکر لکھی گئی ہے۔ لیکن اس میں وہ بات پیدا نہیں ہوسکی ہے جو عید گاہ کا خاصہ ہے۔ پریم چند میں حامد کے تئیں ہمدردی کا جو جذبہ پید اہوتا ہے وہ اس میں نہیں ہوپاتا ہے لیکن حامد کے کردار میں دادی کے لیے جو جذبہ ہے وہ خالد میں ماجد کے لیے پیدا کرنے کی کوشش میں کسی حد تک ضرور کامیابی ملی ہے۔ ”نانی کی بکری“ کی بھی اچھی کہانی ہے لیکن کیا جائے کہ جن بچوں کی نانی کے پاس بکریاں ہوں گی وہاں شاید کہانی نہ پہنچ پائے اور جہاں کہانی پہنچے گی وہاں بکریاں نہ ہوں گی۔” پنڈت گوپی ناتھ“ سماجی عدم مساوات کو کم کرنے کوشش ہے۔ ”خالہ کا گھر“ رشتہ داریوں کے درمیان ہونے والے تنازعات میں بچوں کی شریک کرنے کی فطرت پر کہانی کار کا تیکھا طنز ہے۔ اس طرح ساری کہانیاں ایک مخصوص اور منفرد تناظر رکھتی ہیں۔
             بعض کہانیوں میں پروف ریڈنگ کی کمی نظر آتی ہے۔ چھوٹے بچو ں کی کتابوں میں اس طرح کی خامیوں کا در آنا اچھی بات نہیں ہے۔ مجموعی طور پر کتاب بہت عمدہ ہے اور بچوں کو ایسی کتاب فراہم کی جانی چاہئے تاکہ انہیں بہتر تفریح کا ذریعہ حاصل ہونے کے ساتھ ان کی شخصیت سازی بھی ہو اور زبان وبیان پر بھی قدرت حاصل ہوسکے۔


٭٭٭
نوٹ: یہ تبصرہ دربھنگہ ٹائمز دربھنگہ کے شمارہ اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۵ تا جنوری تا مارچ ۲۰۱۶ کے شمارے میں شائع ہوا