مشمولات

Saturday, 22 December 2012

Concept of Right in Islam and Family System


(۱)
اسلام میں حقوق کا تصور اور خاندانی نظام
                                                                                                                                                                       
        اسلام ایک دین فطرت اور حقیقی نظام حیات ہے جس نے انسانی زندگی کے تمام تر انسلاکات کا حقیقی اور ارضی زندگی سے ربط باقی رکھنے اور مضبوط بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ایسے حقوق متعین کیے ہیں جو معاشرہ کی اجتماعیت و یگانگت اور استحکام امن کی بنیاد ہیں اور جبر واستحصال کا خاتمہ کرنے کے لیے ہر شخص کے اختیارات کی حدیں مقرر کردی ہیں۔ دیگر مذاہب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے عقائد و عبادات کے باب میں تو بے شمار ہدایات دی اور ان کے طریقے ایجاد کیے ہیں ۔ لیکن زندگی کے دیگر مسائل کو بتایا ہی نہیں ہے یا انتہائی محدود اور مبہم طور پر۔ اس کے برعکس مذہب اسلام نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کا تصور دیتے ہوئے عقائد و عبادات کے باب میں جتنی واضح تعلیمات پیش کی ہیں اسی طرح زندگی کے دیگر مسائل اور نظام کو بھی پوری وضاحت اور قطعیت کے ساتھ اور مصالح انسانیت کے مطابق بیان کیا ہے۔ خواہ وہ سماجی و اجتماعی نظام ہو یا سیاسی ودستوری یا آئینی ، اخلاقی نظام ہو کہ تعلیمی و معاشی نظام حتی کہ زرعی نظام تک کے بارے میں اس طرح کی واضح ہدایات دی ہیں جو دوسرے مذاہب یا انسانی طرز حکومت میں موجود نہیں ہیں۔ ان نظاموں کے بنیادی تصورات اور ان کے متعلقہ افراد کے اختیارات و فرائض اور حقوق کو بھی واضح طور پر متعین کردیا ہے اور ان کی ادائیگی پر ہر شخص کو مکلف کیا ہے۔ پھر یہ کہ یہ حقوق و فرائض ہر شخص کی حیثیت اور بساط کے مطابق ہیں۔اسلام کا کمال اور اس کی جامعیت یہ ہے کہ یہ سب ایسے وقت میں کر دکھایا جب چار دانگ عالم کا کوئی گوشہ حقوق اور نظام کے تصور سے بھی واقف نہیں تھا۔
        حقوق العباد کے بارے میں جو اسلامی تعلیمات ہیں اور جس طرح سے ان کی ادائیگی کی تلقین کی گئی ہے اس سے حقوق العباد کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ حقوق العباد کی ادائیگی کو بھی نہ صرف عبادت قرار دیا گیا ہے بلکہ ان میں بعض حقوق کی پامالی کو حقوق اللہ کی پامالی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نبی نے فرما یا: بروز قیامت اللہ تعالی بندے سے دریافت کرے گا کہ میں بھوکا تھا تم نے مجھے کھلایا نہیں۔ میں بیمار تھا تم نے میری عیادت نہیں کی وغیرہ۔ ظاہر ہے بندہ حیرت کا اظہار کرے گا کہ تو اور بھوکا، تو اور بیمار ؟ اس پر اللہ تعالی کہے گا میرا فلاں بندہ بھوکا تھا ،فلاں بیمار تھا ، اگر تم اس کی عیادت کرتے تو تم مجھے وہاں پاتے۔ پھر حقوق کی پامالی کی تلافی اس شخص کی رضا پر منحصر ہے جس کا حق سلب ہوا ہے۔
        اسلامی تعلیمات میں حقوق کے تصور کو سمجھنے کے لیے اسلام نے عبادات ، معاشرت اور معیشت کے جو نظام پیش کیے ہیں انہیں ذہن میں رکھنا چاہیے۔ اسلامی نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ مکمل، باہم مربوط اور اسلام کے بنیادی تصور سے بالکل ہم آہنگ ہے جس میں آخرت کی جوابدہی کا تصور لازمی عنصر ہے۔
         تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں جو مختلف غیر اسلامی نظام رائج رہے ہیں انسانی ارتقا کے مختلف مراحل اور مدارج پر عدم تکمیلیت کی وجہ سے اپنی معنویت کھوتے جا رہے ہیں اور وقت کا ساتھ نہیں دینے کی وجہ سے ان کی فرسودگی ظاہر ہوتی جارہی ہے۔
        ان غیر اسلامی نظاموں کی ناکامی کے دو بنیادی اسباب ہیں:
        1             اگر وہ مذہبی نوعیت کے ہیں تو زندگی کا مجموعی طور پر احاطہ نہیں کرتے ہیں یا لوگوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس کی تعلیمات میں تحریفیں کرلیں ہیں۔یا وہ انسانوں کے اپنے بنائے ہوئے ہیں جن کی تشکیل کے وقت کبھی ان کے سامنے جس قدر مصالح ہوتے ہیں مفاسد نہیں ہوتے، کبھی مفاسد کے بالمقابل مصالح نگاہ سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور کبھی مصالح اور مفاسد کی حقیقت کے فہم و ادراک میں التباس پیدا ہو جاتا ہے۔ ان وجوہ سے جن چیزوں کا تعلق مصالح سے ہے ان کو مفاسد میں شمار کرلیا جاتا ہے اور مفاسد کو مصالح میں ۔ قرآن نے کئی مقامات پر ایسی فکر کی تردید کی ہے۔ مثلاً: ولکم فی القصاص حیاة یا اولی الالباب “ ( ترجمہ): اے صاحبان فہم وفراست قصاص میں (جس کو تم موت سے تعبیر کرتے ہو)تمہارے لیے عین زندگی ہے۔اور کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم و عسی ان تکرھوا شیئا وھو خیرلکم وعسی ان تحبوا شیئا وھو شر لکم(ترجمہ) تم پر جہاد فرض کیا گیا گرچہ وہ تمہیں  ناگوار گزرے۔ ممکن ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بھلی ہو اور کسی چیز کو پسند کرو حالانکہ وہ تمہارے لیے بری ہو۔ اسی طرح کی کج فہمیوں  کی وجہ سے حقوق کا مناسب تعین بھی نہیں ہو پاتا ہے اور نہ یہ انسان کے بس میں ہے کہ وہ تمام حقوق کی وضاحت کلی طور پر کر دے جن میں کسی فساد کا امکان باقی نہ رہے۔ مزید یہ کہ دعوی سے خارج حقوق یا اخلاقی حقوق تک ان کی رسائی نہیں ہو پاتی ہے اور اگر ہو بھی جائے تو اس لیے بے معنی ہیں کہ ان کا نفاذ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ پھر یہ کہ ان نظاموں کو بناتا کوئی اور ہے چلاتا کوئی اور۔ نگرانی کوئی اور کرتا ہے اور محاسبہ کوئی اور نیز عقوبت وسزا کی ذمہ داری کسی اور پر ہے۔ ان سے پورے نظام کا توازن بگڑ جاتا ہے اور ان کے مفاسد اس وقت سامنے آتے ہیں جب یہ نظام سماج میں رائج ہو چکے ہوتے ہیں۔ تب اس میں تبدیلی اگر نا ممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہوتی ہے۔ اس پر مستزاد خود ترمیم اور تبدیلی کی گنجائش ہے جو نئے فتنوں کو جگاتی ہے اور یہ سلسلہ دراز ہوتا جاتا ہے۔
        2.            ان نظاموں میں انسانوں کے فرائض اور اختیارات کی نگرانی اور محاسبہ کا نظم بھی انتہائی محدود ہے ۔ پس جہاں وہ نگراں یا محاسب کی نگاہوں سے بچ سکتے ہیں ، بچ نکلتے ہیں اور بعد الموت جوابدہی کا کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ ان کے محاسب یا نگراں ظاہر اور اعلانیہ جرائم یا کوتا ہی کا ہی پتہ لگا سکتے ہیں۔ باطن یا پس پردہ کوتاہی یا جرائم پر ان کو قابو نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ جب محاسب اتنی محدود قوت کا مالک ہو تو جب تک دعوی دائر نہیں کیا جائے کسی ٹھوس اقدام کا امکان نہیں ہے اور نہ بعد الموت جوابدہی کا تصور ہے جو لوگوں کو اپنے فرائض پر بالکلیہ آمادہ کرسکے۔ اب اگر کوئی شخص جبر واستحصال کا شکار ہو کر اپنے حقوق سے محروم ہو جائے تو ان کی ادائیگی کی صورت باقی نہیں رہتی ہے اور اخلاقی حقوق کی پامالی کے خلاف تو کوئی دعوی دائر ہو ہی نہیں ہو سکتا ہے۔
        جب کہ اسلامی تعلیمات کا یہ معجزہ ہی ہے کہ وقت کے ساتھ اس کے مختلف نظاموں کی معنویت نہ صرف برقرار ہے بلکہ ان کی اہمیت میں روز افزوں اضافہ ہی ہے اور ہمارا یقین ہے کہ موجودہ نظاموں کی ٹھوکریں کھانے کے بعد انسانوں کو اسلامی نظام زندگی کی آغوش راحت ہی میں حقیقی امن وسکون ملے گا۔ کیونکہ یہ نظام حاکم مطلق کا بنایا ہوا ہے جو انسانوں کے تمام مصالح ومفاسد سے آگاہ ہے اور اس نظام کا تصور یہ ہے کہ حاکم اعلی خود ہی نگران اعلی، محاسب اور نگہبان بھی ہے۔ چونکہ اس کا علم پورے کائنات کی وسعت کا احاطہ کرتا ہے اس لیے اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ بھی نہیں ہے۔ وہ انسانوں کی نگاہوں سے اوجھل ہو کر کئے گئے جرائم اور کوتاہیوں کا بھی علم رکھتا ہے اور وہ علیم بذات الصدور ہے اس لیے دلوں میں پوشیدہ حالات سے بھی آگاہ ہے۔ وہی قیامت کے دن ان کا محاسبہ کرکے جزا وسزا متعین کرے گا۔
        زندگی کے ان نظاموں میں اجتماعی یا سماجی نظام کی ایک بنیادی اکائی خاندانی نظام ہے۔ جس پر معاشرہ کی اجتماعیت کی بنیاد ہے۔ یہ نظام انسانیت اور حیوان کے درمیان بنیادی فرق قائم کرتا ہے۔ حیوان کا نہ کوئی خاندان ہوتا ہے اور نہ ان میں حقوق اور ذمہ داریوں کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس کے بالمقابل انسانیت کا اپنا خاندانی تعلق ہوتا ہے اور اسی بنیاد پر ان میں باہمی تعاون کا جذبہ اور حقوق و ذمہ داریوں کا تصور ابھرتا ہے۔ دنیائے انسانیت پر اسلام کے بے شمار احسانات میں ایک خاندانی نظام بھی ہے۔ اس نے” خاندان کا مفصل نظام پیش کیا۔ مردو زن کا رشتہ عدل و انصاف کی بنیاد پر استوار کیا، افراد خاندان کے حقوق و واجبات کا ٹھیک ٹھیک تعین کیا اور ان کے درمیان ہم دردی، محبت اور حسن سلوک کا ماحول پیدا کیا۔ “ (اسلام کا عائلی نظام) چنانچہ قرآن مجید اور احادیث میں کہیں قرابت داروں کے حقوق کی ادائیگی ، کہیں والدین کے ساتھ حسن سلوک اور اطاعت و فرمانبرداری، کہیں بال بچوں اور ماتحتوں کے سلسلے میں تاکید تو کہیں بیوی کے ساتھ حسن معاشرت کے احکامات کے ذریعہ خاندان کے حقوق کی ادائیگی پر ہر مسلمان مرد و عورت کو مامور کیا گیا ہے اور یہ تاکید کی گئی ہے کلکم راع  و کلکم مسؤل عن رعیتہ تم میں کا ہر شخص نگہبان ہے اور اپنے ماتحت کے سلسلہ میں جوابدہ ہے۔
                        ” خاندان سے مراد ازدواجی رشتوں میں منسلک زن و شوہر اور ان کی اولاد کا ایک گروہ اور ان کے قریبی رشتہ دار ہیں جو ایک ساتھ رہتے ہیں اور ان کی زندگی کے امور میں آپسی مشاورت اور فیصلوں کے پابند ہوتے ہیں۔“(جامع اردو انسائیکلو پیڈیا)
حقوق:          یہ عربی زبان کے لفظ حق کی جمع ہے اور باطل کی ضد ہے جس کا معنی صحیح اور ثابت ہونا ہے اور اصطلاح میں وہ ثابت شدہ امر جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہےیعنی”الثابت الذی لا یسوغ انکارہ ‘(التعریفات للجرجانی)اس میں ایسے تمام واجبات اور استحقاقات داخل ہیں جو کسی انسان کو اپنے تعلق اور واسطہ کی بنیاد پرلازمی طور پر حاصل ہوتے ہیں۔یہ متمدن سماج کی بنیادی خصوصیت ہے۔ حقوق در اصل ان تمام منافع کا حصول ہے جو ایک انسان کے لیے مصالح دنیوی اور اخروی کی خاطر لازمی ہیں۔جب کسی انسان کو حقوق حاصل نہیں ہوتے ہیں تو اسے اپنی زندگی غیر محفوظ محسوس ہوتی ہے اور آزادی کے ساتھ جینے اور آگے بڑھنے کے لیے جو مواقع چاہئیں نہیں مل پاتے ہیں ۔ بعض اوقات جبرواستحصال کا شکار ہونا پڑتا ہے۔” لاسکی کے لفظوں میں :حقوق سماجی زندگی کی وہ لازمی شرائط ہیں جن کے بغیر کوئی فرد عام طور پر اپنی شخصیت کی تکمیل نہیں کرسکتا ہے۔“ (جامع اردو انسائیکلو پیڈیاج۳) یہ حقوق کبھی ریاست تو کبھی متعلقہ ادارہ یا افراد کی جانب سے حاصل ہوتے ہیں اور ریاست اس کی محافظت میں معاون ہوتی ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ حقوق وہ خارجی مراعات یا استحقاق ، سازگار ماحول اور مسرت آگیں داخلی احساس کا حصول ہے جو فرد کے ایمان کی بقا اور سلامتی ،زندگی کے تحفظ کا احساس، فطری نمو ، شخصیت کی تکمیل اور اظہار کے لیے لازمی ہیں۔
        موجودہ سیاسی نظام حکومت میں حقوق کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے ریاست کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔ بلاشبہ اسلام نے جو حقوق متعین کئے ہیں انہیں یقینی بنانے کے لیے ریاست کی سرپرستی اور تعاون کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ صرف مالی اور چند اخلاقی حقوق کی حد تک ہی محدود ہے۔ بعض اخلاقی حقوق ایسے ہیں جو ریاست کی سرپرستی کے باوجود کوتاہی اور پامالی کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام اپنے متبعین کو آخرت کی جوابدہی کا تصور دے کر ایسے حقوق کا بھی پاسدار بناتا ہے ۔جب کہ انہی اخلاقی حقوق میں بعض ایسے ہیں جن کی پامالی کا سد باب صرف اسلامی ریاست ( اسلامی ریاست سے مراد ایسی ریاست ہے جو اسلامی قوانین کی پاسداری کرے اور اس کی بنیاد اسلامی سیاسی قانون پر استوار ہو اور جب تک ایسی کوئی حکومت شریعت کے اصولوں کا انکار یا اس کی مخالفت نہ کرے اسے غیر اسلامی حکومت نہیں کہا جاسکتا ہے) یا شرعی قوانین کے تحت ہی کیا جاسکتا ہے اور کوئی غیر اسلامی طرز حکومت اس ضمن میں ٹھوس اقدام کرنے سے قاصر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مسائل کے مقدمات سالوں غیر اسلامی عدالتوں میں چلتے ہیں اور ان کا کوئی حل نہیں نکلتا۔ فریقین تھک کر بیٹھ جاتے ہیں یا مصالحت کر لیتے ہیں یا ان میں کوئی ایک فیصلہ میں جانب داری کی شکایت کرتا ہے۔ جب کہ انہی مسائل کا نہایت واضح اور آسان حل اسلام میں موجود ہے۔
        اسلام میں خاندانی نظام کو سمجھنے کے لیے یہ وضاحت ضروری ہے کہ وہ حقوق جو غیر اسلامی نظام نے تشکیل دیئے ہیں انسانوں کے محدود تجربات اور ذہنی ارتقا پر مبنی ہیں جس کی مقبولیت میں سیا سی دبدبہ کو بھی دخل حاصل ہے۔ یہ ایسے انسانوں کے تشکیل کردہ ہیں جو اپنا مخصوص مذہبی یا لا دینی پس منظر رکھتے ہیں۔ ان میں بیشتر دنیا کو بے مقصد اور خود کار وجود تسلیم کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ انسان کے افکار، تجربات اور ارتقا پر مبنی ہوتے ہیں اور دنیا کے سلسلہ میں ان کے جو بنیادی نظریے ہوتے ہیں ان سے متاثر ہوتے ہیں ۔ ایسی صورت میں حقوق کے تعین میں بھی یہ عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ بسا اوقات یہ اپنے بلند بانگ دعووں اور ظاہری چمک دمک یا سیاسی دبدبہ کی وجہ سے قبول عام کا درجہ پا لیتے ہیں ۔انسانی تجربات میں خام کاری اور مخصوص حد تک ارتقا کی وجہ سے ذہن کی رسائی محدود ہوتی ہے۔ جب انسانی ارتقا کی اگلی منزل آتی ہے، یا سیاسی دبدبہ کمزور پڑجاتا ہے اور تجربات سے اس کے مفاسد سامنے آتے رہتے ہیں تو رفتہ رفتہ وہ نظام فرسودہ ہوتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مخصوص عہد کے گزر جانے کے بعد بہت سے تصورات فرسودہ ہو گئے ہیں۔ آج بھی جو تصورات رائج ہیں اگلے وقتوں میں عدم تکمیل ، تجربات کی خام کاری اور مفاسد کے امکانات کی وجہ سے فرسودہ ہوجائیں گے۔ اس کے برخلاف اسلام نے جو حقوق دیئے ہیں وہ آفاقی ،مکمل ، جامع اور مفاسد سے پاک ہیں۔یہ اور بات ہے کہ انسان اپنے ذہن کی محدود پرواز کی وجہ سے ان کے مصالح سے آگاہ نہ ہوسکے ۔
        اسلامی خاندانی نظام میں حقوق کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اسلام موجودہ سماجی اصطلاح میں پدرسری نظریہ کی حمایت کرتا ہے لیکن اس کی نوعیت وہ نہیں ہے جو غیر اسلامی نظاموں میں رہی ہے۔ اسلام میں مرد کی حیثیت گھر کے نگہبان اور رئیس کی سی ہے۔ اسے عورتوں پر ایک درجہ فضیلت حاصل ہے۔ معاش کی تمام تر ذمہ داری مرد وں ہی پر ہے۔ عورت اس فریضہ سے آزاد ہے۔ جب کہ عورت کی حیثیت ملازمہ یا نوکرانی کی نہیں بلکہ اپنے حدود میں رہتے ہوئے با اختیار ملکہ کی سی ہے۔ اپنی تمام تر حاجتوں (کھانا ، کپڑا، مکان ،علاج اور دیگر لازمی خواہشات )کی تکمیل لیے مرد پر اپنا حق رکھتی ہے۔اس کی پامالی کی صورت میں اس کے خلاف دعوی دائر کرسکتی ہے۔ اسے والدین ، شوہر اور اولاد کی جہتوں سے جائیداد کا حق حاصل ہے لیکن مرد کا نصف۔ عورت کو ذاتی ملکیت رکھنے کا پورا پورا اختیار ہے وہ اس کو فروغ دینے کے لیے ہر اس ذریعہ کا استعمال کرسکتی ہے جس سے اس کے ایمان اور عصمت کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ اس پر اس کو اختیار کلی حاصل ہے اور یہی شرط مردوں کے ساتھ بھی ہے۔ البتہ شریعت میں متعین شدہ حصہ داروں کی طرف اس کی منتقلی میں کسی امتیاز کا اختیار کسی مرد اور عورت کو حاصل نہیں ہے۔ بچوں کی نسبت باپ کی طرف ہوگی۔مرد ہی کو ولایت حاصل ہوگی۔ کوئی عورت ولی نہیں ہوسکتی ہے۔ دینی معاملات میں جس طرح مردوں کے فرائض ہیں عورتوں کے بھی ہیں ۔ مرد اس میں رکاوٹ بنتا ہے تو بعض صورتوں میں رشتہ تک قطع کیا جاسکتا ہے۔شوہر کی وفات کے بعد اس کی حیثیت خاندان کے ایک مستقل اور بڑی حد تک خود مختار فرد کی ہے۔ کسی وارث کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس پر قابض ہو جائے یا خاندان یا باہر کا کوئی مضبوط شخص اس کو زبردستی ہتھیالے اور اس سے تمتع حاصل کرے۔ ہاں اگر وہ خواہ عمر کی جس دہلیز پر ہو اپنی رضا سے گھر کے کسی ایسے فرد سے جو محارم کی ذیل سے نہیں ہیں یا کسی دوسرے شخص سے شادی کرنا چاہے اور وہ شخص راضی ہو تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہے بلکہ اسے نظر استحسان سے دیکھتا ہے۔ البتہ اس کے لیے اسے مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اسے ایسا کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔
        باہمی حقوق: اسلام نے جہاں ہر شخص کے لیے انفرادی حقوق متعین کیے ہیں وہیں ایسے حقوق کی وضاحت بھی کی ہے جو گھر کے تمام افراد کو مساوی طور پر حاصل ہیں اور ہر شخص کا یہ فرض ہے کہ وہ ان حقوق کو ادا کرے۔
        احترام انسانیت:    ان میں سب پہلی چیز ایک دوسرے کا احترام ہے یعنی ہر شخص کو احترام انسانیت کا حق حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں ایک مشہور حدیث ہے : من لم یرحم صغیرنا ولم یؤقر کبیرنا فلیس منا یعنی چھوٹوں پر شفقت اور رحم اور بڑوں کی توقیر و تعظیم۔ یہ اسلامی سماج کی خاص پہچان ہے۔
        خیر کی رہنمائی ،شر کی نشاندہی اور باہمی تعاون:         اس کے علاوہ ہر شخص اس بات کا حقدار ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔ برائی سے بچایا جائے، جیسا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے: یا ایھاالذین اٰمنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا۔ ( اے ایمان والوں بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل کو جہنم کی آگ سے) فرائض کی ادائیگی کی ترغیب دی جائے اور گھروں میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس سے اسلام پر عمل کرنا آسان ہو۔خیر کے کاموں میں تعاون اور ان کی طرف نشاندہی کی جائے۔ برے کاموں سے اجتناب اور ان سے منع کیا جائے۔ جیساکہ اللہ تعالی فرماتا ہے: وتعاونواعلی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان۔ نیز گھر میں ہر شخص کے ساتھ مساوی سلوک ہو ۔ کسی پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اسی میں یہ بھی شامل ہے کہ خاندان کا کوئی فرد اگر غیر مسلم ہو تو اسے بساط بھر اسلام کی دعوت دی جانی چاہیے۔
        تحفظ کا احساس:       خاندان وہ ادارہ ہے جو انسان کو تحفظ ادا کرتا ہے۔ گھر کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسا تعلق نہ رکھیں جس میں کسی کی زندگی اجیرن ہوجائے ۔ ایک دوسرے کا رابطہ اور تعلق اس طرح ہو کہ کسی پر خارجی حملہ کا خوف نہ ہوا اور اگرایسی صورت پیدا ہو تو خاندان کے افراد اس کی حفاظت کریں۔ لیکن ایسا ظلما وعدوانا نہیں ہونا چاہیے۔ بیماری اور مصیبت کے وقت ایک دوسرے کی غمگساری اور مدد ہونی چاہیے۔ خوشی اور غم کے موقعوں پر ایک دوسرے کے ساتھ محبت وہمدردی کا پورا پورا ظہار کیا جائے۔
        زندگی میں انسان مختلف طرح کے معاملات کرتا ہے۔ جب کوئی مر جائے تو وارثین اور خاندان کے دیگر افراد کی ذمہ داری ہے کہ اس کے ذمہ قرض کا پتہ لگائے۔ اگر وہ صاحب جائیداد مرا ہے تو اس کی جائیداد سے ورنہ اس کے وارثین اس کی ادائیگی کریں۔ اسی طرح اس کی موت پر بہتر ڈھنگ سے اسلام کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اس کی تجہیز وتکفین کی جائے۔ انسان کے یہ اعمال ہر شخص میں تحفظ کا احساس جگاتے ہیں۔
        خاندان کے ساتھ ایک گھر یعنی مکان کا تصور بھی ذہن میں آتا ہے۔ اسلام اس مکان کا حق بھی متعین کرتا ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق گھر کو ظلم کی پناہ گاہ نہیں بننے دیا جائے۔ گھر میں کسی مجرم کو پناہ نہ دی جائے۔ایسا شخص جو اسلام کا مذاق اڑاتا ہو اور اسلامی شعار کو فرسودہ سمجھتا ہو وہ بھی مجرم ہی کے شمار میں ہے۔ گھر کو اللہ کے ذکر سے خالی نہ کیا جائے ، گھر میں آنے والے مہمانوں کی ضیافت کی جائے،مسافر،کمزور، مظلوم، یتیم اور بیواؤں کے ساتھ اچھا بر تاؤ کیا جائے۔
        اسلامی خاندانی نظام کی بنیاد جن حقوق پر استوار ہے وہ سب اسلام نے ایسے وقت میں کیا جب دنیا نظام اور حقوق کے تصور سے بھی نا واقف تھی۔ اس کے باوجود یہ حقوق ہر طرح سے مکمل اور عدل پر مبنی ہیں۔ باوجودیکہ موجودہ دور میں آزادہ  روی، مستقل اور ذمہ داری عائد ہونے والے تعلقات سے بےزاری کا رجحان بڑھ رہا اور خاندانی نظام انتشار کا شکار ہے، اسلامی خاندانی نظام میں ان حقوق کی پاسداری اور احساس جوابدہی کے تصور کی وجہ سے سالمیت برقرار ہے اور بڑی حد تک مضبوط بھی ہے ۔ آج جو غیر اسلامی نظام حکمرانی رائج ہیں اور بزعم خود انسانیت کے محافظ اور بہی خواہ ہیں یا دوسرے جو مذاہب ہیں انہوں نے کبھی انسان کے عائلی حقوق کو اس طرح بیان کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام نے انسانی زندگی کو جو دستور دیا ہے اور اس میں زندگی گزارنے کے جو نظام بیان ہوئے ہیں انہیں جدید اسلوب میں منضبط طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے ۔ ان میں وہ تمام مسائل یا حقوق جو اسلام نے عالم انسانیت کو بخشا ہے، بیان کیے جائیں۔آج مسلمانوں پر بہت سے جو اعتراضات عائد ہوتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے دنیا کے ساتھ زندگی کے ہر مسئلہ میں اسلامی تعلیمات کو پیش نہیں کیا،اگر پیش کیا تو وہ ذرائع استعمال نہیں کئے جن سے دیگر قوموں نے کام لے کر اپنے پیغام کو عام کیا۔ مسلمانوں میں بھی دانشوروں کا ایک ایسا طبقہ ہونا چاہیے جس کا تقابل غیر اسلامی رجحان ساز (Lobbyist)  طبقوں سے کیاجاسکے۔ یہ طبقہ دنیا کی صورت حال پر اس طرح نظر رکھے کہ آنے والے عہد کے مسائل کو پرکھ کر اسلامی نظام کے بیان کردہ حل کو تیار رکھا جاسکے اور اس کے لیے وہ تمام ذرائع استعمال کئے جائیں جن سے عالمی پردے پر اپنی آواز کو نمایاں جگہ دی جاسکے۔ مسلمانوں کا زوال اور ان کی محرومی یہ ہے کہ ان کا جو طبقہ دنیا کے حالات پر نظر رکھتا ہے دین کی بنیادوں سے نا واقف ہوتا ہے اور دین کا درک رکھنے والے دنیا کے حالات سے نا آشنا اور بے خبر ہوتے ہیں۔ حالانکہ دونوں کا مشن اسلام اور مسلمان کی ترقی اور فروغ ہے۔ اس کے باوجود ددنوں کے درمیان مربوط تعلقات پیدا ہونے کی راہیں بھی نہیں نکلتی ہیں۔ واللہ ولی التوفیق۔
٭٭٭
یہ مضمون دارا لعلوم احمد یہ سلفیہ دربھنگہ بہار میں منعقد دو روزہ قومی سیمینار اسلام اور حقوق کے لئے لکھا گیا اور سیمینار میں پیش کیا گیا
مضمون کا یہ پہلا حصہ ہے 

Thursday, 13 December 2012

Supreme Court Verdict about fabricated terrorist



مائی نیم از خان بٹ آئی ایم ناٹ ٹیررسٹ
خفیہ ایجنسیوں، حکومت اور قومی میڈیا کے کانوں پر جوں رینگے گی؟

گزشتہ سال کے پہلے سہ ماہے میں جب ملک کے بڑے بڑے سیاست داں اور کابینہ سطح کے وزرا اے راجا، کلماڈی اور اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبر م اور ان کے صاحب زادے کے چہروں سے نقاب اٹھا اور اربوں ارب روپوں کے گھوٹالوں کا انکشاف ہوا ، قومی میڈیا اپنی اپنی پالیسیوں اور رجحانات کے تحت ان واقعات کی گتھیوں کو الجھا اور سلجھا رہا تھا کہ اچانک اس میں ایک نیا موڑ آیا اور اس طرح کی ساری خبریں پس پشت ڈال دی گئیں۔ ہوا یوں کہ اچانک شمالی بہار کے سیدھے سادھے مسلم نوجوان دہلی اور بہار کے کئی اضلاع سے دہشت گردی کے نام پکڑے جانے لگے۔ ملک کی ساری خفیہ ایجنسیاں ان علاقوں پر ٹوٹ پڑیں اور قومی میڈیا گزشتہ واقعات سے منہ موڑ کر ان واقعات کے سلسلہ میں ایسی ایسی کہانیاں گھر نے لگا کہ محسوس ہوا کہ پورا ملک صرف انہی علاقوں کے دہشت گردوں کی زد پر ہے۔ ایجنسیوں نے اس علاقہ کو دہشت گردی کا ایک ماڈیول قرار دیا اورقومی میڈیا نے اسے بھر پور جگہ دی۔ چونکہ یہ ریاست کے اپنے وقار کا مسئلہ تھا اس لیے حکومتی سطح سے اس بات کی تردید کی گئی کہ کسی ماڈیول کا نام دینا سراسر غلط ہے لیکن ایجنسیوں کے ذریعہ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ حکومت کا مسئلہ نہیں تھا اس لیے حکومت کو اس سے واسطہ بھی نہیں رہا۔ اب میڈیا میں اس کے ان خبروں نے وہ جگہ پائی کہ گھوٹالوں ، سیاست دانوں کے کالے کرتوتوں اور ملک کو کھوکھلا کرنے کی سازشوں کی ساری خبریں اس طرح بھلادی گئیں گویا یہ وقوع پذیر ہی نہیں ہوئی ہیں۔ اس شور میں کو ے کو تو دیکھنے کی کوشش کی گئی لیکن کان پر کسی نے توجہ نہیں دی۔اس علاقے کے مسلمان اپنی روداد سناتے رہے لیکن کسے پڑی ہے کہ ان کی روداد سنے ۔ خفیہ ایجنسیوں نے گرفتار شدہ مسلم نوجوانوں سے ملک کے سارے دہشت گردانہ حملوں اور دیگر نام نہاد منصوبوں سے جوڑ دیا۔ ابھی یہ سلسلہ تھما بھی نہیں تھا کہ دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے ایک مسلم نوجوان عامر کو ۴۱ سال کی عمر عزیز ضائع کرنے کے بعد انصاف ملا اور وہ بے داغ بری ہوا۔ قومی میڈیا جس طرح سے گرفتاریوں کو خبر بناتا ہے اس کی بے داغ رہائی اور پولیس کی بے جا گرفتاری کو وہ جگہ نہیں دے سکا ۔ اردو میڈیا ابھی اس کی مظلومیت کی داستا بیان کر ہی رہا تھا کہ نرودا پاٹیا اجتماعی قتل کیس معاملہ مین ۲۳ لوگوں کو سزا ہوئی ۔ قومی میڈیا کے لیے یہ خبر ان کی پالیسی کے مخالف تو تھی ہی خود حکومتوں اور ان بیرو کریٹوں کے لیے جو فرقہ پرست ذہنیت لیے ہوئے ہیں (بڑی تعداد ایسی ہی ہے) بڑا ہی مسئلہ تھا۔ عین اس کے ایک ہفتہ بعد اس جا اس جا سے ۸۱ مسلم نوجوانوں کو پھر دہشت گردی کے نام پر پکڑا گیا۔ قومی میڈیا کے لیے سزا یافتوں کی پردہ پوشی کا سامان مل گیا اور ان کے لیے یہی خبر سب سے بڑی تھی کہ ایک ساتھ ۸۱ ایسے مشتبہ دہشت پسند (اردو میڈیا کے لیے ورنہ غیر اردو میڈیا کے لیے دہشت گرد) گرفتار ہوئے ۔ ان سب کے ساتھ جو کہانی دھرائی گئی وہ سب ایک ہی طرز کی اور گزشتہ واقعات سے ملتی جلتی۔ ان سب پر یہ الزام لگایا گیا کہ یہ بڑے سیاست داں، صحافی وغیرہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ چونکہ گرفتار شدگان میں ایک مسلم نوجوان سائنس داں بھی ہے اس لیے کہانی بھی اسی طرح کی بنائی گئی کہ ان دہشت گردوں کے نشانہ پر ملک کے جوہری تنصیبات بھی تھے۔ حالانکہ ایسی کہانیاں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ دہرائی جاچکی ہیں۔ کسی اہم واقعہ کے بعد جب ایسی گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے پاس Ready Reference کے طور پر مجرمین موجود رہتے ہیں اور ان کی گرفتاریاں کسی اہم واقعہ سے لوگوں کی نظریں پھیرنے کے لیے مؤخر رہتی ہیں۔ محسوس کرنے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں سے ملک کے مختلف علاقوں سے جس طرح مسلم نوجوانوں کو بے دریغ گرفتار کیا جارہا ہے کہ اگر واقعی اتنی بڑی تعداد میں ملک میں دہشت گرد موجود ہیں تو دہشت گردانہ واقعات کی تعداد دیگر تشدد پسند تنظیموں کے ذریعہ انجام دئے جانے والے واقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان تنظیموں کے مقابلہ میں دہشت گردانہ واقعات کم ہیں۔ ایک اور بات جو محسوس کرنے کی ہے کہ ان ساری گرفتاریوں کے ساتھ کسی ماسٹر مائنڈ کا تعلق ہوتا ہے لیکن بے تحاشہ گرفتاریوں کے باوجود ماسٹر مائنڈوں کی گرفتاری کیوں نہیں ہوپاتی ہے؟ اور وہ کیوں بچے رہ جاتے ہیں؟ ابھی گزشتہ دنوں ٹاڈا کیس میں ماخوذ گیارہ مسلم نوجوانوں کو ملک کی عدالت عظمی نے نہ صرف رہائی کا فیصلہ دیا بلکہ اس نے محسوس کیا کہ ملک میں مخصوص فرقے کے ساتھ خاص طرح کی زیادتی ہورہی ہے اس لیے اس نے مشورہ دیا کہ جو لوگ قانون کے رکھوالے ہیں وہ کسی مخصوص فرقہ کے ساتھ ایسا رویہ روا نہ رکھیں کہ اسے کہنا پڑے کہ ”میرانام خان ہے لیکن میں دہشت گرد نہیں ہوں“۔ یہ خبر اور عدالت عظمی کا یہ بیان بھی قومی میڈیا کی پالیسیوں کے خلاف تھا اس لیے اسے وہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ادھر خفیہ ایجنسیوں کے لیے جو بات تھی سو تھی ہی ، اس کے چند دنوں بعد پھر اخباروںمیں خبر دی گئی کہ انڈین مجاہدین کے تین انتہا پسند گرفتار ۔ ان پر بھی وہی الزام لگایا گیا کہ کئی مذہبی مقامات ان کے نشانہ پر تھے اور انہوں نے حال ہی میں گجرات میں دہشت گردانہ حملہ کی کارروائی انجام دی تھی۔ در اصل یہ واقعہ ان گیارہ بے قصوروں کی گرفتاری کی خبر اور تجزیوں سے دانشوران اور عام لوگوں کی نظروں کو پھیرنے کا کھیل ہے ۔ اگر یہ ایجنسیاں اتنی چاق وچوبند ہیں تو واقعات کے انجام دینے سے پہلے انہیں خبر کیوں نہیں ہوپاتی۔ جن کے بارے میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ فلاں واقعہ انجام دینے والے تھے اکثر ایسے مقدمات میں ماخوذ نوجوان بے قصور ثابت ہوئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں منظم سازش کے تحت یہ کام کررہی ہیں جس میں حکومت اور پورا سسٹم ان کا بھر پور معاون ہے۔ اس میں قومی میڈیا بھی ہر گام ان کے ساتھ ہے۔ خفیہ ایجنسیاں بے قصوروں کو گرفتار کرتی ہے اور قومی میڈیا ان گرفتاریوں کے بارے میں رائے عامہ ہموار کرتا ہے۔ 
            گزشتہ دنوں گیارہ لوگوں کی رہائی کے عدالت عظمی نے جو بیان دیا وہ گوکہ خفیہ ایجنسیوں کے لیے شرمندگی کی بات ہے لیکن وہ ایجنسیاں اور حکومت جو کئی مرتبہ عدالت عظمی کی ایسی باتیں سنتے آئے ہیں لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، ان باتوں کا ان پر کوئی اثر کیا پڑے گا۔ دوسری طرف خود مسلمان جو اس بات کو محسوس کررہے ہیں لیکن وہ اس بات کے لیے تیار نہیں ہیں حکومت کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا احساس دلانے کے لیے کچھ کرسکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زور انداز میں ہم حکومت کو یہ احساس دلائیں کہ مسلمانوں کے خلاف خفیہ ایجنسیوں نے جو رویہ اپنا رکھا ہے وہ اس کے لیے قومی تحریک چھیڑی جاسکتی ہے۔ ساتھ قومی میڈیا کو بھی یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ان کے رویہ کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج چھیڑا جاسکتا ہے۔ قومی میڈیا جس طرح سے غلط بیانی سے کام لیتا ہے انہیں آزادی رائے کے نام پر چھوڑ ا نہیں جاسکتا بلکہ اس سلسلہ میں مناسب قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ 


Wednesday, 12 December 2012

ہندی میڈیا کا طرز عمل


دہشت گردی کے نام پر گرفتاریاں اور ہندی میڈیا کا طرز عمل
               
                پچھلے چھ ماہ سے دہشت گردی کے نام پر فرضی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ابھی پھر دربھنگہ سے محمد کفیل کی گرفتاری عمل میں آئی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سائیکل مستری ہے۔ دن بھر محنت ومزدوری سے روز کا کھانا خرچہ جوڑتا ہے۔ اس کے پاس رہنے کو اچھا گھر بھی نہیں ہے اور نہ یہ پڑھا لکھا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ معاملہ کے اصل ملزم یسین بھٹکل سے اس کے گہرے روابط تھے۔ یہ آئی ایم کے لیے Motivatorکا کام کرتا تھااور اس پر فرضی پاسپورٹ اور دھماکہ دار دار اشیا رکھنے کا بھی الزا م ہے اور اس کے بارے میں دلی کے کسی تھانہ میں معاملہ درج ہے۔
                بتائیے کہ ایک شخص جو غریب ہو ، جاہل ہومحنت ومزدوری سے کھانا خرچہ جوڑتا ہو وہ Motivatorکا کام کس طرح انجام دے گا۔ کیا اسے اس کے بدلہ اتنا بھی پیسہ نہیں مل پاتا کہ وہ بہ آسانی اپنا کھانا خرچہ جوڑلے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے ڈھنگ سے گفتگو بھی نہیں کرنے آتی ۔ اب ایک شخص جس کو گفتگو کرنے نہیں آتی وہ Motivatorہو جائے کیا یہ ممکن ہے؟ کسی ایسے کام کی رغبت دلانا جس کے لیے بہر حال جرأت چاہیے ٹوٹی پھوٹی زبان میں رغبت دلائی جاسکتی ہے۔ ایک آدمی جو جاہل ہو فرضی پاسپورٹ کا معاملہ کرے۔ جو کبھی دہلی گیا ہی نہیں اس کے بارے دلی میں معاملہ درج ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
                اب تک دہشت گردی کے نام پر ایک درجن سے زیادہ گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں اور اس سے زیادہ لوگوں سے پوچھ تاچھ ہوچکی ہے ۔ اس کے باوجود اب تک اصل ملزم کا پتہ نہیں چل پایا ہے اور نہ اب تک اخبار وں میں یہ خبر آئی ہے کہ یہ کوئی غیر ملکی تھا۔ اگر یہ ملک کا تھا تو کیا اس کے گھر بار ، اس کے ماں باپ اور رشتہ دار نہیں ہیں۔ اب تک نہ اس کے گھر باراور اس کے ماں باپ کے بارے میں ہی کوئی خبر چھپی ہے۔ دہشت گردی کے نام پکڑے گئے افراد کے سلسلہ میں جو خبریں چھپتی ہیں اس سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ اصل ملزم سے زیادہ زور ان پر ہے جو اس کے رابطہ میں آئے ہیں۔اگر واقعی ایسا کوئی آدمی تھا جس نے لوگوں کو گمراہ کیا ہے تو ایسے لوگوں کی یقینی طور پر شناخت ہونی چاہیے جن کے ذہن کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ انہیں رواداری اور جمہوریت کی اہمیت وضرورت کا احساس دلایا جاسکے ۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یسین بھٹکل اگر واقعی گوشت پوشت سے بنا آدمی تھا تو اس کا گھر ہوگا ، ماں باپ ہوں گے آخر ان پر کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوتی ؟ یا اگر ہوئی ہے تو کوئی خبر کیوں نہیں شائع ہورہی ہے؟ ایسے لوگ جو اس سے رابطہ میں آئے ایک ایک کرکے کی ان کی شناخت ہوسکتی ہے انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے اور پھر ان کی شناخت پر نئے چہرے سامنے آسکتے ہیں اور جس نے اتنا بڑا نیٹ ورک چلایا وہ پولس کی پہنچ سے اب تک باہر ہویہ بڑی عجیب سی بات ہے!!!
                ایک طرف ہندی اخباروں نے دھماچوکڑی مچا رکھی ہے کہ ادھر کوئی شخص گرفتار نہیں ہوتا ہے کہ یہ اخبار بڑے ہی محکم انداز میں لکھتا ہے ایک اور” آتنک وادی “پکڑا گیا۔ حتی کہ کوئی شخص اگر پوچھ تاچھ کے لیے بھی اٹھتا ہے اور اس کے بارے اس کی وضاحت نہیں ہوتی ہے تو یہ یہی لکھتا ہے کہ ”آتنک وادی “پکڑا گیا۔ کیا پریس کی آزادی کا یہی مطلب ہے کہ جس کو چاہے بے آبرو کردے اور جس کی چاہے شبیہ بگاڑدے اور جس کے سر چاہے الزام دھرتا چلا جائے ۔ اگر کورٹ ان کوبے قصور سمجھ کر رہا کردے گی اور ضرور کرے گی تو کیا ہندی اخبارات جو آج لوگوں کی شبیہ بگاڑ رہے ہیں انہیں ہتک عزتی کا معاوضہ دیں گے اور اگر دے بھی دیں تو سماج میں ان کی عزت وآبرو جو رسوا ہوچکی ہے واپس آجائے گی؟
                جیسے ہی کوئی شخص پکڑا جاتا ہے جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اصل ملزم سے اس کا رابطہ تھا ، میڈیا والے اس کے گھر پہنچ کر اس کے گھر محلے اور گاؤں کی تصویریں لیتے ہیں ماں باپ، رشتہ دار اور گاؤں محلے والے سے اس کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے ہیں ۔ آخر اصل ملزم کے ماں باپ اور گھر اور علاقے کی تصویر یں اور ان کے بیانات کو سامنے کیوں نہیں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہندی انگریزی میڈیا جو ایسے موقع پر خبروں کے حصول کے اپنے وسیع ذرائع کا احساس دلاتے ہیں اس شخص کی معلومات حاصل کرنے اور انہیں شائع کرنے میں کیوں ناکام ہیں؟کیا یہ جرم خاموشی شعوری تو نہیں ؟
                 کیا مسلم قیادت ان سے اتنا پوچھنے کے مجاز نہیں کہ ان ہندی اخباروں کے پاس پکڑے گئے لوگوں کے مجرم ہونے کے کیا ثبوت ہیں۔ اگر قیادت ایسا نہیں کرسکتی تو کیا قانون حق اطلاعات(RTI) کا سہارا لیتے ہوئے ان سے نہیں پوچھا جاسکتا کہ آپ نے ان کو ”آتنک وادی “لکھا ہے اس کے بارے آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں جبکہ معاملہ ابھی کورٹ نہیں پہنچا ہے اور اگر قوم میں اتنی جرأت بھی نہیں ہے تو کیا ہم مسلمان ایک دن کے لیے ہی سہی احتجاجا ان اخباروں کو خریدنے سے نہیں رک سکتے ؟
٭٭٭
                

A circle around the Indian Muslim


ہندوستانی مسلمانوں کے گرد تنگ ہوتے دائرے


                                                                                                                                                                               
                ہندوستان میں مسلمانوں کے فکری ارتداد، تہذیبی زوال، علمی تنزل اور اسلامی تشخص کی گمشدگی کی ابتدا تو عہد اسلامیہ ہی سے ہوگئی تھی۔ جس کا نقطہ عروج عہد اکبر کو کہا جاسکتا ہے کہ جب دین اسلام کی جگہ دین الٰہی کی بنیاد ڈالی گئی۔مسلمانوں نے دینی شعاراور اسلامی عقائد کی مخالفت کو شیوہ بنالیا ۔ قرآن واحادیث اور فقہ کی تعلیم کو فرسودہ سمجھ کر چھوڑدیا گیا،ویدوں اور دیگر سنسکرت اور غیرمسلم مذہبی کتابوں کو اہمیت دی جانے لگی تھی۔ مسلمان قشقہ کھینچنے اور جنیو باندھنے لگے تھے۔ گائے حرام اور سور حلال کردئے گئے تھے۔ وہ تو بھلا ہوا کہ ایسے وقت میں علما کی ایک بہت چھوٹی سی جماعت نے اس ارتداد کا مقابلہ کیا جس میں سر فہرست شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی ؒ جیسی شخصیت تھی جنہوں نے آگے بڑھ اس کا کام کو انجام دیا۔انہوں نے ہندوستان میں اسلام کی ڈوبتی نیا کو سہارا دیا اور ظل الٰہی کے برخلاف اسلام کی تبلیغ واشاعت کی اور مسلمانوں کو اپنے دین پر قائم کیا ۔ اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور اسلامی تشخص کو بچانے اور حالات کا رخ پھیرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے جانشینوں نے اس کاز کو آگے بڑھایا اور ہندوستان میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تشخص کی بقا اور فروغ کی جہت میں کارہائے نمایاں انجام دئے۔ لیکن چونکہ مسلم حکمراں اپنی توانائی کھوچکے تھے اس لیے وہ بہت دنوں تک اپنی ساکھ مضبوط نہیں رکھ سکے ۔ ان پر ادبار کی گھٹا ایسی چھائی ہوئی تھی کہ ان کے لیے اپنی بقا کی جنگ ہی بہت اہم تھی جس میں وہ ناکام تھے تو تعلیم اور تہذیب پر کیا نظر کرتے ۔ پھر انہوں نے ملک کے اعلی منصبوں پر جن کو فائز کیا تھا ان کے رہتے ہوئے ملی احساس کی بیداری کے تئیں تعلیم کے ذریعہ بہت اچھا قدم اٹھایا بھی نہیں جاسکتا تھا۔
                مسلم حکمرانوں کی حکومت کے سقوط کے بعد جب انگریزی سامراج کا قیام ہوا تو پھر ایک بار اسلامی تشخص کو مٹانے کے نئے حربے اپنائے جانے لگے۔ انہیں قومی فکر کے دھارے کو موڑنے میں تعلیم کے بہتر ذریعہ ہونے کا بھر پور احساس اور تجربہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے عیسائیت کی تبلیغ کا ذریعہ تعلیم ہی کو بنایا اور ملکی نظام تعلیم کی تشکیل اس طرح کی کہ ملک کا ہر شہری کرسچنیٹی کے رنگ میں رنگ جائے ۔ تو دوسری طرف بغاوت کے نام پر صاحبان فکر اور حامیان دین (علما ) کی سر کوبی کا سلسلہ شروع کیا تاکہ ملک میں قوم کی فکری بیداری کے جو ذرائع ہیں انہی چراغوں کو گل کردیا جائے۔ لیکن اس وقت یہ متحدہ قومیت کا مسئلہ تھا۔ ہندوؤں میں بھی ایسی روشن خیالی نہیں آئی تھی کہ وہ مذہبی احساس کو کھودیں اور مسلمانوں میںمجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہمااللہ اور ان کے جانشینوں نے قوت فکروعمل کی بیداری کی جو پود لگائی تھی وہ ہری تھی۔ چنانچہ علما کے طبقہ نے ملک بھرمیں مدارس اسلامیہ کاجال بچھا دیا تاکہ فرزندان توحید کے اسلامی جذبہ وحمیت، تہذیبی آراستگی اور مذہبی شناخت کو باقی رکھا جاسکے۔ اس طرح فرنگی عہد میں بھی علمائے کرام نے نہ صرف مسلمانوں کی اسلامی شناخت کو باقی رکھا بلکہ گزشتہ عہد کے بالمقابل مذہبی نشأة کی داغ بیل ڈالی اور علمی برتری بھی حاصل کی۔ایسے وقت میں سرسید ؒ کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بھی اس ملی تنزل کو محسوس کیا اور مسلمانوں کی مذہبی شناخت کی بقا کے ضمن میں غیر معمولی اقدامات کئے۔ بلاشبہ ان سے اساسی غلطیاں ہوئیں لیکن ان کی دینی حمیت اور جذبہ کے خلوص اور صداقت سے انکار بددیانتی ہے۔
                پھر جب ملک آزاد ہوگیا اور نئی آزاد ریاست قائم ہوئی توآئین بناتے وقت اسے ایک سیکولر ملک کا درجہ دیا گیا اور یہ آزادی دی گئی کہ ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا اختیار ہوگا اوروہ اپنے اپنے مذہب ، تہذیب اور زبان کی حفاظت اور ان کی تعلیم کے لیے آزاد ہوں گے۔ اس کے باوجود آزادی کی فورا بعد سے ہی ایسی کوششیں کی جاتی رہیں کہ مسلمانوں کو ان کے مذہب سے منحرف کرکے ان میں الحادلایا جائے۔ اس طرح ملک کے سیکولر رتبہ کے باوجود آزاد ہند کے ہر دور میں ملکی نظام تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی رہی وہیں مدارس اسلامیہ پر بغاوت، دہشت گردی تو کبھی فرسودگی اور نہ جانے کیسے کیسے الزامات عائد کرکے فکری بیداری کے اس دروازے کو بندکرنے اور عام مسلمانوں کو ان سے نفرت دلانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ چونکہ ملک کا آئین سیکولر کہلاتا ہے اور ہر شخص کو عقیدہ وضمیر کی آزادی کا حق حاصل ہے اس لیے مسلمانوں نے ہر دور میں اس کے خلاف جنگ کی اور اس حملے کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ فی الوقت انہیں کامیابی بھی ملی لیکن حکومت اور نظام انہی فرقہ پرست ذہنیت کے ہاتھوں میں رہے اس لیے نئے نئے حربوں کے ذریعہ اس طرح کی کوششیں جاری رکھی گئیں۔ چونکہ آئین میں بنیادی حقوق کے تحت آزادی عقیدہ وضمیر کا حق دیا گیا ہے جس کے تحت اپنے مذہب وفکر کی تبلیغ اور تعلیم کے لیے ادارے قائم کئے جاسکتے ہیں اس لیے ملک کے حساس اور دینی حمیت رکھنے والے علما ودانشوران کی ایک جماعت نے جہاں مدارس ومکاتب کے ذریعہ مسلمانوںمیں اسلامی شناخت اور فکری بیداری کو کوششیں جاری رکھیں ،وہیں ملکی نظام تعلیم سے ہم آہنگ عصری اسلامی تعلیمی ادارے قائم کئے تاکہ ہر سطح سے نئی نسل میں اسلامی تشخص کو بیدار رکھا جاسکے اور ان میںدینی جذبہ اور حمیت کو باقی رکھا جاسکے۔ چنانچہ یہی وہ ذرائع ہیں جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو اس میدان میں کامیاب کیا ہے اور فکری تصادم میں ان کا وجود قائم ودائم ہے۔ لیکن فرقہ پرست عناصر نے ایک مرتبہ پھر اس جہت میں ایک نیا قدم اٹھایا اور مسلمانوں کی فکری بیداری کے دروازے بند کرنے کے لیے نیا حربہ اپنایا ہے۔ یہ نیا حربہ ہے بچوں کے مفت اور لازمی تعلیم حاصل کرنے کا حق۔ بظاہر یہ قانون ایک فلاحی ریاست کا احساس دلاتا ہے جو گرچہ کوئی نیا تصور نہیں ہے بلکہ اسی ملک میں پہلے وزیر تعلیم مولانا آزاد نے دیا تھا جو اب عملی جامہ پہن سکا ہے۔ لیکن اس کے بین السطور وہ پیچیدگی ڈال دی گئی ہے کہ مسلمانوں کی فکری بیداری کے دروازے بند ہوجائیں اور اگر یہ مذہب منحرف سمت میں چلیں تو پہلے روشن خیالی اور مذہبی سمت میں چلیں تو بد عقیدگی کی طرف گامزن ہوں اور ایک دو نسلوں کے بعد اس کے اثرات الحاد و ارتداد کی شکل میں ظہور پذیر ہوں۔
                آج پھر ان دونوں ذرائع کے لیے مشکل پیدا ہورہی ہے۔ کیوں کہ موجودہ قانون کی روسے تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے ادارہ اور اس کا پورا نصاب حکومت سے منظور شدہ ہو اور ان کا قطعی طور نفاذ ہوتا ہو۔ اگر کسی سطح سے اس میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو یہ ایک جرم ہوگا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ حتی کہ والدین بھی اگر ایسے اداروں سے اپنے بچوں کو کو دور رکھتے ہیں تو وہ کارروائی کے مستحق ہوں گے۔ اس کا سیدھا اثر اعلی سطحی مدارس پرتو نہیں پڑے گا لیکن مدارس میں جہاں سے بچے آتے ہیں یعنی مکاتب وہ اس کی زد میں آئیں گے اور ایسے ادارے جو عصری واسلامی ادارے کہلاتے ہیں اس سے متاثر ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ کہ ان کا نصاب وہی ہوگا جو سرکاری تعلیمی محکمہ کی سطح سے پورے ملک کے لیے معیاری طور پر تیار کیا جا ئے گا۔ اب اس میں اسلامی تعلیمات اور تہذیب کی جگہ کہاں سے ہوگی اور اگر اضافی طور پر وہ اسے شامل کرتے ہیں تو یہ غیر قانونی عمل ہوگا ور کوئی طالب علم اس کی شکایت درج کراتا ہے تو مدرسہ کا مواخذہ کی زد میں آنا طے ہے۔ اس قانون کے تحت ہر ادارے میں پڑوس کے ۵۲فیصد بچوں کا داخلہ لازمی ہے۔ اگر ۵۲ فیصد بچے پڑوس کے داخل نہیں ہوتے ہیں اسے منظور ی ہی نہیں ملے گی۔ اگر پڑوس میں غیر مسلم کی تعداد ہے تو وہ اس کے نصاب کو کیوں برداشت کریں گے اور پھر نتیجہ وہی مواخذہ ہوگا۔ دوسری طرف یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ملک میں فرقہ پرست ذہنیت اتنی بار پاچکی ہے کہ ایسے ادارے جو کسی مسلمان کے زیر انتظام ہوں اور اس کے منتظمین سیکولر کہلانے کے لیے اس انتہائی درجہ کو بھی پار کرچکے ہوں کہ خود مسلمانوںمیں اچھی نظر سے نہ دیکھے جاتے ہوںتب بھی غیر مسلم اپنے بچوں کو ان اداروں میں داخلہ نہیں دلاتے چہ جائے کہ اس میں اسلامی درسیات شامل کی جائیں۔ یہ سارے اسکول کل وقتی ہوں گے جن میں ہر ہفتہ کم ازکم ۵۴ گھنٹوں کی تدریس لازمی ہے۔ یہ تدریس سرکار سے منظور شدہ مضامین کے لیے ہوگی ۔ اسی میں روزانہ ساڑھے سات گھنٹے صرف ہوجائیں گے تو اضافی مضامین کے لیے وقت کہاں سے نکالا جاسکتا ہے۔
                اب جب اسی سطح سے دین ومذہب سے بیگانہ ہوکر بچے آگے بڑھیں گے تو آگے دینی تعلیم کا حصول ان کے لیے مزید مشکل ہوگا۔ رفتہ رفتہ ان کے اندر سے دینی احساس ختم ہوتا چلائے جائے گا ۔ اس طرح تہذیب مخلوط ہوگی۔ شناخت مٹے گی اور وجود ختم ہوجائے گا۔
                چونکہ مکاتب کا مرحلہ لازمی تعلیم کے زمرے میں آتا ہے اس لیے ان کو بھی منظور شدہ نصاب ہی پڑھانا ہوگا اور مدارس میں جانے کے لیے لازمی تعلیم نہیں دی جاسکے گی تو مدارس کی طرف طلبہ کا رجحان کم ہوگا اور اگر جو بچے رخ کریں گے انہیں موجودہ نظام کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کے لیے تیار کرنا ہوگا اس طرح ان کے اوقات ضائع ہوں گے۔ تعلیمی مراحل کی تکمیل میں عمریں زیادہ صرف ہوں گی۔ اس سے والدین کا رجحان اور بھی کمزور ہوگا۔ مدارس کے فارغین کی تعداد کم ہوگی تو عصری اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو جزوقتی طور پر بھی مذہبی تعلیم دینے والے ، گھروں میں اسلامی تعلیمات دینے والے اور مسجدوں سے اصلاح وتربیت کا کام انجام دینے والے علما واعظین کم ہوتے چلے جائیں گے۔ مدارس میں طلبہ کی تعداد کم ہوجانے کی وجہ سے اعلی لیاقتوں کے افراد میں بھی کمی آئے گی جو علمی تنزل کا باعث ہوگا۔ اس طرح ہر طرف سے مسلمانوں کامذہبی تشخص گم ہوتا چلاجائے گا۔
                مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے اور انہیں فکری قلاش بنانے کی جو اسکیم رچی گئی ہے اس سے ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ ایک طرف قانون کے ذریعہ اسلامی اداروں کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری طرف علما اور ایسے حساس نوجوان جو اپنی قوم کے تئیں فکر مند ہیں اور اسلامی حمیت رکھتے حکومت کے نشانے پر ہیں ۔ انہیں دام لانے کے حربے اپنائے جارہے ہیں اور مختلف قسم کے الزام ڈال کر قوم سے ان کا رابطہ توڑنے کی کوشش ہورہی ہے۔
قوت فکر وعمل پہلے فنا ہوتی ہے
تب کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے
٭٭٭

Tuesday, 11 December 2012

Information Technology and Madaris-e-Islamia



اطلاعاتی ٹکنالوجی اور مدارس اسلامیہ
                                                                                 
        عصر حاضر میں جن ٹکنالوجیوں کو فروغ حاصل ہوا ہے ان میں اطلاعاتی ومواصلاتی ٹکنالوجیوں کا بڑا حصہ ہے۔ انہوں نے زندگی کے اکثر شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ عالمی گاؤں (گلوبل ولیج) کا تصور در اصل انہی کا رہین منت ہے۔ انہوں نے زندگی کے اکثر شعبوں کے دائروں کو وسیع کیا ہے تو بہت سی وسعتوں کو محدود کرکے بھی رکھ دیا ہے۔ مختصر وقت میں اطلاعات ومعلومات کا حصول آسان ترین ہوگیا ہے۔ ان تمام شعبوں میں تعلیم کا شعبہ سب سے زیادہ مستفید ہوا ہے۔ برقی آموزش (E-Learning)کا نیا دروازہ بھی انہی کے ذریعہ کھلا ہے جس نے طالب علم کو روایتی استاد سے بے نیاز کردیا ہے۔ وہ تمام ترتعلیمی خصوصیتیں جو ایک استاد کے ذریعہ حاصل کی جانے والی تعلیم میں ہوتی ہیں اس برقی آموزش میں مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ باریک سے باریک نکات کی وضاحت کی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے تعلیمی نظام میں چند خرابیاں بھی پیدا ہوئی ہیں لیکن اس کی افادیت ان پر غالب ہے۔
        یہ نئی ٹکنالوجی مدارس اسلامیہ کے لیے بھی نئے دروازے کھولتی ہے۔ اپنے اندر اس کی بقا، فروغ اور استحکام کی اہلیت رکھتی ہے۔ بس ضرورت ہے اس ذریعہ کو اپنانے اور اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کی۔
        مدارس کی اپنی تعلیمی روایت رہی ہے۔ ان میں مختلف فنون اور کتابوں کے ماہر اساتذہ ہوئے ہیں جن کی اپنی تدریسی خصوصیتیں اور لیاقتیں تھیں۔ ان کے بعد پھر ان خصوصیتوں کی حامل شخصیات ان مدارس ہی میں نہیں جن میں یہ حضرات مسند درس پر فائز تھے، بلکہ دوسرے مدرسوں میں بھی پیدا نہیں ہوئیں۔ یہی وجہ کہ مدارس میں اچھے اساتذہ کا جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پر نہیں ہورہا ہے۔ ظاہر ہے کہ تدریس کا اپنا مخصوص طریقہ اور ڈھنگ ہوتا ہے جو کتابوں میں سمیٹا نہیں جاسکتا ہے۔ اب بھی مدارس میں مختلف فنون اور کتابوں کے پڑھانے والے طاق اور منفرد اساتذہ موجود ہیں ۔ شاید ان کے بعد وہ خصوصیتیں دوسروں میں پیدا نہیں ہوں۔ اگر ہم چاہیں تو اب ان کو دست برد زمانہ سے بچاکر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں۔ اس طرح ان سے استفادہ کا دائرہ بھی وسیع ہوجائے گااور کسی خاص مدرسہ کے استاد کی خدمات تمام مدارس کے لیے عام ہوجائیں گی،کم خرچ میں مختلف علوم اور مستند علمی لیاقتوں کی زیادہ سے زیادہ ترسیل ہوسکے گی اوران افراد کی صلاحیتوں سے زیادہ کام لیا جاسکے گا۔ اطلاعاتی ٹکنالوجی ہمیں اس کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
        بہت اچھی بات یہ ہے کہ یہ ٹکنالوجی اتنی سستی ہے جتنی شاید اشیائے خوردونوش بھی نہیں۔ اس لیے اس میں بہت بڑے سرمائے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بس سنجیدگی سے اس کی طرف توجہ کی جائے تو بہت سہل ہے۔
             طریقہ کار:
        عام طورپرہر بڑے چھوٹے مدرسہ میں کوئی نہ کوئی استاد اپنے فن میں نمایاں خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ان کے دروس کا آڈیو اور ویڈیو رکارڈ تیار کیا جائے۔ دروس کو مباحث (Chapter)کے اعتبارسے تقسیم کیا جائے ۔ ان کی سی ڈی اور ڈی وی ڈی وغیرہ بناکر مارکٹ میں سپلائی کیا جائے۔ اگر افراد کی خدمات سے استفادہ کا یہ طریقہ استعمال کیا جانے لگا تو اس سے ایک مدرسہ میں محدود خدمت کا دائرہ اتنا وسیع ہوجائے گا جہاں تک اس زبان کے جاننے والے موجود ہوں گے ۔چونکہ کتابوں کی بہ نسبت ان کی قیمتیں بہت کم ہوتی ہیں اس لیے مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے خریدنا آسان ہوگا۔
         البتہ اس کے استعمال کے لیے ملٹی میڈیا کمپیوٹر یا یا ٹی وی اور سی ڈی/ ڈی وی ڈی پلیئر کی ضرورت ہوگی جو عام طور پر مدارس میں طلبہ کے عام استعمال میں نہیں ہیں۔زیادہ تر مدارس کے طلبہ تو ان کو چلانا بھی نہیں جانتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ ٹی وی اور سی ڈی/ ڈی وی ڈی/ پلیئر کا چلانا اتنا مشکل بھی نہیں ہے جتنا کہ موبائل چلانا ۔ کمپیوٹر کے لیے بھی محض دو سے تین ماہ کی جزوقتی تربیت کافی ہوگی اور یہ وقت کی ایسی ضرورت ہے جس سے پرہیز ریت میں منہ چھپانے کے مترادف ہے۔ عام طور مدارس میں اس کے تئیں یہ وہم بھی پایا جاتا ہے کہ اس کے لیے انگریزی میں اچھی خاصی لیاقت درکار ہے جبکہ کہ ایسا نہیں ہے ۔اب کمپوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو میں بھی کام کرنا بہت آسان ہے ۔ویب سائٹ ہی نہیں بلکہ اردو ، عربی اور فارسی میں متعلقہ موضوع کے ذیلی فقرے بھی Search Engineمیں ڈال کر مطلوبہ چیزیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔
        تعلیمی میدان میں انٹر نیٹ نے بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔ عصری تعلیم کے ہر موضوع کا ہر جز انٹر نیٹ پر موجود ہے ،جہاں تک کسی بھی طالب علم کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عام طور پر ایسی خدمات مفت مہیا کی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ برقی آموزش کا ذریعہ بھی یہی ہے۔ انٹر نیٹ پر مختلف تعلیمی اداروں کی جانب سے مختلف فنون کے برقی کورس موجود ہیں۔ موجودہ وقت میں جب تعلیم کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے نیز فاصلاتی تعلیم اور برقی تعلیم کی طرف رجحان بڑھنے لگا ہے، بہت سے لوگ اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے روزگار سے جڑجانے کے بعد بھی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ مدارس کو بھی اس جانب سوچنے اور اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے ایسے مواقع پیدا ہوجانے کے بعد عصری تعلیم کے فیض یافتہ بھی دینی تعلیم حاصل کرنا چاہیں توایسی صورت میں انہیں یہ ذریعہ مہیا ہو گااور وہ اپنی علمی تشنگی دور کرسکیں گے۔ اس سے ظاہر ہے بڑی مہارت تو حاصل نہیں ہوگی مگر کم از کم یہ دین کے بارے میں بنیادی معلومات کے ساتھ اس سے وابستگی کا ایک ذریعہ تو بنے گا۔بعض ایسے طلبہ بھی جو کسی وجہ سے مدارس کے پورے مرحلہ کی تکمیل نہیں کرپاتے ہیںاس ذریعہ کے حاصل ہونے کے بعد باقی ماندہ تعلیم کو جاری رکھ سکیںگے۔
        ان کے علاوہ جو آڈیواور ویڈیو رکارڈ تیار کئے جائیں انہیں بھی مباحث کے اعتبار سے انٹر نیٹ پر ڈال دیا جائے تاکہ مدارس کے طلبہ کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے اسکالرس اور دوسرے وہ تمام حضرات جنہیں خاص موضوع سے متعلق معلومات حاصل کرنی ہو استفادہ کرسکیں۔
        مدارس نے لڑکیوں کی تعلیم کی طرف بہت اچھا قدم اٹھایا ہے۔ لڑکوں کی طرح لڑکیوں کے لیے بھی باضابطہ مدارس قائم کئے گئے ہیں۔لیکن لڑکیوں کے مدرسوں میں اساتذہ کا وہ معیار نہیں ہے جو لڑکوں کے مدار س میں ہیں۔ ان رکارڈ شدہ کلاس روم کی ویڈیو سے ان کے لیے بھی کام لیا جاسکتا ہے نیز ایسی جگہوں پر جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے مدرسے ایک ہی جگہ یا ایک ہی انتظامیہ کے تحت چلتے ہیں سی سی ٹی وی کیمروں اور پراجکٹر کے ذریعہ بیک وقت دونوں کو ایک ہی استاد سے تعلیم دی جاسکتی ہے۔
        انٹرنیٹ پر علم الفرائض کے مسائل کو اس طرح ترتیب دے کر رکھا جاسکتا ہے کہ اس میں اپنے مسائل لکھ کر ان کا حل حاصل کیا جاسکے۔ اس سے جہاں عام لوگ مستفید ہوں گے وہیں مدارس کے طلبہ اس فن کو سیکھنے کے لیے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔
        اسی طرح مدارس میں عصری علوم کی تعلیم کا معیار بھی پست ہے۔ وسیع انداز میں تو نہیں لیکن کم ازکم ان کی مبادیات سے لازمی واقفیت کا احساس مدارس کی سطح سے بھی ہوتا ہے ۔ لیکن وسائل کی قلت ان کے حصول میں مانع ہے۔ یہ ٹکنالوجی افراد کی براہ راست خدمات سے سستی ہے اور اس میں طلبہ کے لیے اپنے اپنے وقت کی مناسبت سے استفادہ سہل اور ممکن ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس کے لیے انگریزی سے واقفیت لازمی ہے۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ اردو میں یہ چیزیں بالکل موجود نہیں ہیں بس تنوع اور گہرائی کی کمی ہے ۔ جب استعمال میں اضافہ ہوگا تو چیزیں بھی تیزی سے اور نئی نئی دریافتوں کے ساتھ آئیں گی۔ لیکن مدارس کی مناسبت سے یہ عربی وفارسی میں تو موجود ہی ہیں۔
        مدارس میں اردو کے علاوہ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں کی تعلیم مختلف سطح تک دی جاتی ہے۔ زبان کی تعلیم میں قواعد کے ساتھ ساتھ لہجہ کی بھی ضرورت ہے۔ تکلم کی سطح پر کوئی زبان قواعدی طور سے مضبوط ہونے کے باوجود غیر مانوس لہجہ میں اجنبیت کا احساس پیدا کرتی ہے۔ مدارس کے طلبہ کم ازکم عربی وفارسی زبانوں میں انتہائی مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن کسی زبان کے لہجہ سے پوری واقفیت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک کہ سماعی سطح پر اس سے تعامل نہ ہو۔ مدارس اپنے قلیل وسائل کے ساتھ ایسے افراد کی خدمات حاصل نہیں کرسکتے جو یہاں پڑھائی جانے والی ہر زبان کے لہجہ سے طلبہ کو واقف کراسکیں۔ ایسی صورت میں یہ ٹکنالوجی ان کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہے۔ یہ انہیں ایسے بھر پور مواقع فراہم کرتی ہے جن میں وہ زبان کے لہجہ اور تکلمی اشاروں کو سیکھ سکیں۔ یہ چیزیں میڈیا کی سطح پربھی موجود ہیں ۔ تقریبا ہر زبان کی تعلیم کے لیے ٹی وی پر ایسے کورس ہیں۔ کوئی بھی مدرسہ DTHکی سہولت سے فائدہ حاصل کرکے ان سے مستفید ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ زبان کی آموزش کے آن لائن کورس ہیں جو قواعد کے ساتھ اصوات ومخارج ، تلفظ اور لہجہ کی بھی تعلیم دیتے ہیں ۔ آن لائن کے علاوہ اس کے لیے سافٹ ویئر بھی ملتے ہیں ۔ آن لائن کورسوں کی بہ نسبت سافٹ ویئر کے ذریعہ تعلیم سستی ہے۔ ان سے فائدہ اٹھاکر مدارس میں تعلیم دی جانے والی زبان کے لہجہ سے طلبہ کو واقف کرایا جاسکتا ہے۔ چھوٹے بچوں میں زبان کی تدریس کے لیے بھی ایسے سافٹ ویئر ہیں جو تدریس کے جدید طریقوں پر مبنی ، سریع الفہم اور سہل الحصول ہیں۔
        مدارس کے طلبہ کثیر لسانی ذولسانی ہوتے ہیں۔ اس لیے ترجمہ نگاری کے فن کا اکتساب ان کے لیے بہت سہل ہے۔ اطلاعاتی ٹکنالوجی مدرسہ میں رہتے ہوئے انہیں ایسے کورسوں سے متعارف کراسکتی ہے جو انہیں جز وقتی تربیت سے بہتر ترجمہ نگار بناسکتے ہیں۔ فراغت کے بعداس تربیت سے ان کے لیے بہتر روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں گے اور انہیں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پیش کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ وہ مذہبی موضوعات پر آنے والی نئی نئی کتابوں سے اپنی قوم کو واقف کراسکیں گے۔
        جدید موضوعات نے مدارس یا مذہبی تعلیم کے لیے فکر واجتہاد کے نئے دروازے کھولے ہیں ۔طلبہ کو ان موضوعات ومسائل سے واقف کرانے کے لیے مدارس کو ان پر توسیعی خطبات کا انتظام کرنا چاہیے جنہیں عام کرنے میں یہ جدید وسائل ممد ومعاون ہوںگے۔
        گزشتہ سو سالوں میں نظامہائے حیات میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ سیاسیات، سماجیات ، اقتصادیات اور طب کے نظریات وفلسفے کے فکری ڈھانچوں میں ایسی تبدیلی آگئی ہے کہ نسل انسانی کے مختلف گروہ ان موضوعات کے تئیں اپنے گزشتہ نظریات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ نوعیتی اعتبار سے جدید مسائل وموضوعات جوآواخر کی ان صدیوں میں ظہور پذیر ہوئے ہیں وہ اسلامی درسیات میں شامل نہیں ہیں۔ ان مسائل کو طلبہ کے سامنے لانے کے لیے ایسے ورک شاپ منعقد کئے جاسکتے ہیں جن میں عصری علوم کے کسی ایک موضوع پر اس علم کے عصری واسلامی نظریات کے ماہرین کے ذریعہ توسیعی خطبات کا انتظام کیا جائے۔ منتخبہ موضوع پر اس علم کے غیر اسلامی افکار ونظریات کے بنیادی نظریات ومسائل، اس کی وسعت اور دائروں کو بیان کرکے اسلام کا سچا اور صحیح نظریہ پیش کیا جائے۔ اس کے بعد طلبہ کے سامنے اس علم کے جدید مسائل رکھے جائیں اور اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات اور اس کا صحیح حل طلبہ پیش کریں اور اس کام کی نگہداشت (Monitoring) ماہرین کے ذریعہ کی جائے۔ مختلف مدارس الگ الگ موضوع پر ایسے ورک شاپ منعقد کرسکتے ہیں۔ ان کی بہترین ویڈیو رکارڈنگ کرلی جائے۔ باہمی رابطہ کے ذریعہ مدارس کے درمیان ایسے ورک شاپوں کی تشہیر کی جائے تاکہ کسی ایک موضوع پر ہونے والا ورک شاپ دوسرا مدرسہ منعقد نہ کرے اور انہی کی ویڈیو سے کام چلاجائے۔ اس طرح وقت اور پیسے کی بچت ہوگی اور زیادہ سے زیادہ موضوعات کی احاطہ بھی ہوسکے گا۔ ایسی ویڈیو کو You Tube اور اس طرح کی دوسری سائٹوں پربھی ڈال دیا جائے تاکہ اس کا دائرہ وسیع ہو اور عصری علوم کے ماہرین اور غیر مسلم دانشوران بطور نظریہ وفکر اس کا مشاہدہ ومطالعہ کرسکیں ۔ اس طرح مذہب زندگی سے اور بھی قریب ہوجائے گا ۔ چونکہ اسلام ایک نظام حیات ہے اورکوئی نظام حیات زندگی کے کسی شعبہ میں اپنی فکر ونظرکے تداخل سے بے گانہ نہیں رہ سکتا ہے۔ یہ ذرائع ہمیں زندگی کے کسی بھی شعبہ سے متعلق اسلامی افکار ونظریات کو نظریاتی تصادم کی دنیا میں لے جانے اور ان کی برتری ثابت کرنے کا بہترین موقع فراہم کریں گے۔ سماجی رابطہ صفحات (Socail Networking Sites) اس کام کے لیے بہت بڑا ذریعہ بن کر ابھرے ہیں۔ ان کے مشاہدین رفیقان آوارگان نہیں بلکہ ایسی مختلف الآرا ءجماعت کے افراد ہیں جو آپس میں رنج وشادمانی کے شریک بھی ہیں اور متصادم افکار ونظریات کے روادار ساجھے دار بھی۔
        ٹی وی اور انٹر نیٹ پر زبان وادب ہی کی تعلیم نہیں ہوتی بلکہ دیگر علمی موضوعات کا بھی احاطہ کیا جاتا ہے۔ اگر مدارس کے یہ کلاس روم رکارڈ ہوجاتے ہیں تو طلبہ تو ان سے استفادہ کریں گے ہی میڈیا میں استعمال ہونے کے لیے یہ چیزیں ان کے ہاتھوں مہنگے داموں فروخت بھی ہوں گی۔ خاص طورپر اردو میڈیا میں اس کا قوی امکان ہے۔ میڈیا ہی رکارڈ کی ذمہ داری بھی لے سکتا ہے۔
        اگر ہم ان چیزوں میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو علم کی سطح پرجو فائدہ طلبہ اور آنے والی نسلوں کو ہوگا وہ اپنی جگہ ، یہ چیزیں ملی اتحاد کا ذریعہ بھی بنیں گی۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جہاں صرف ایک ہی فکر کے لوگ ہوتے ہیں وہاں متعصابہ اور اختلافی باتیں کرتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی اور جب کئی فکر یا مخالف افکار کے حامل لوگ ہوں تو انسان احتیاط برتتا ہے اور انہی اختلافوں کا ذکر کرتا ہے جن میں فرق وتفاوت واضح اور بنیادی قسم کے ہوں۔ ظاہر ہے کہ جب درسیات رکارڈ ہوں گی اور تمام لوگوں کے لیے ان کا دروازہ کھلا ہوگا تو فروعی اختلافات سے صرف نظر کیا جائے گا ۔ اس طرح کسی بھی موضوع پر جو بیانات سامنے آئیں گے ان سے حقیقت تک پہنچنے میں آسانی ہوگی ۔آپس میں دوریا ں کم ہوں گی، ایک دوسرے کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملے گا اور آپسی اعتماد بحال ہوگا۔ چونکہ دروس رکارڈ ہوکر کلاس روم سے باہر آئیں گے اس لیے اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اساتذہ تعلیمی معیار پربھی بھر پور توجہ دیں گے۔
        ان ٹکنالوجیوں کا ایک بہت بڑا فائدہ ڈ جیٹل لائبریری کی شکل میں منظر عام پر آیا ہے۔ اب بڑی بڑی لائبریریوں کی جگہ ایک ڈی وی ڈی آگئی ہے جن میں ہزاروں کی تعداد میں کتابیں موجود ہیں۔ یہ انگریزی ہی نہیں عربی وفارسی اور اردو میں بھی دستیاب ہوگئی ہیںاور کتابوں کی بہ نسبت بدرجہا سستی ہیں۔ اسلامی علوم کے لیے بھی ایسی ڈی وی ڈی موجود ہے جس میں اسلامی کتابوں کے ذخیرے جمع کیے گئے ہیں۔ اسلامی دائرة المعارف (انسائیکلو پیڈیا) اور عربی وفارسی لغتیں ان میں دستیاب کرائی گئیں ہیں۔ ان سے استفادہ بھی آسان ہے۔ فہرست کادیکھنا ہی نہیں بلکہ موضوع سے متعلق جملہ کتابوں کی عبارتوں اور مواد کی تلاش اور ان کا مطالعہ کتابوں کے راست مطالعہ کے آدھے وقت میں ممکن ہے۔ ان کا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ منقولہ (Portable) ہوتی ہے جسے کوئی اپنے ساتھ جہاں چاہے لے جاسکتا ہے اور ایک چھوٹے سے لیپ ٹاپ میں لگاکر استعمال کرسکتا ہے۔ جبکہ ہزاروں کیا دس بیس کی تعدا دمیں بھی کتابیں ہر جگہ ساتھ ساتھ نہیں لے جائی جاسکتی ہیں۔ مزید برآں دنیا بھر کی مشہور لائبریریوں کو آن لائن کیا جارہا ہے۔ اب تحقیقات کے لیے ان لائبریریوں تک پہنچنا ضروری نہیں ہے ۔ اگر مدارس کے طلبہ ان کے استعمال سے واقف نہیں ہوں گے تو انہیں اپنی علمی تحقیقات کے لیے وہاں تک سفر کرنا ضروری ہوگا۔ ایسے میں انہیں کسی تحقیق میں زیادہ سرمائے کی ضرورت ہوگی اور ان کا وقت بھی زیادہ صرف ہوگا۔
        ان کے علاوہ اردو رسائل جن میں بہت سے مذہبی انداز کے بھی ہیں اور اخبارات بڑی تعداد میں آن لائن ہوگئے ہیں۔ کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ اخبارات ورسائل پڑھے جاسکتے ہیں۔ روزانہ کئی ریاستوں کے اخبارات کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح لکھنے کا شوق اور جذبہ رکھنے والے اساتذہ و طلبہ بہت کم خرچ میں ایسے رسالوں اور اخباروں کو اپنی تخلیقات ارسال کرسکتے ہیں۔مستقل اچھے اور معیاری مضامین لکھنے والوں کو اس سے بطور اعزازیہ مالی فائدہ بھی حاصل ہوسکتا ہے۔
        شاید بعض لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض بھی کیا جائے کہ ان کے استعمال کی عام اجازت کے بعد ان کا منفی استعمال بھی ہونے لگے گا۔ شاید ایسا ممکن بھی ہے۔ لیکن یہ چیزیں اتنی کارگر ہیں کہ ان کی افادےت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے ان کو منفی استعمال سے بچانے کے لیے کوئی مناسب حل نکالا جاسکتا ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر طلبہ کی تربیت بہتر انداز سے کی جائے گی اور ان کے سامنے ان کا نصب العین واضح ہوگا تو وہ خود ہی ان کے منفی استعمال سے احتراز کریں گے لیکن اگر مقصدہی مفقود ہوگا تو یہ چیزیں اتنی عام ہوتی جارہی ہیں کہ ان کے استعمال کی اجازت کے بغیر بھی وہ ان کا استعما ل کریں گے ۔عام طور پر چیزوں کا منفی استعمال تب ہی ہوتا ہے جب ان کا اثباتی منظر اور افادیت واضح نہ ہو۔ پھر یہ کہ ایسے چند ہی طلبہ ہوتے ہیںجو منفی ذہنیت رکھتے ہیںمحض چند طلبہ کی وجہ سے تمام طلبہ کو اس نعمت سے محروم کرنا کیسی دانشمندی ہے؟ اس سے قبل کہ آنے والی نسلیں تاریخ مرتب کرتے وقت ہماری پسماندگی کی وجہوں میں ہماری تنگ نظری اور جمود کو بھی شمار کریں ہمیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانی چاہئے۔
آئین نو سے ڈرنا ، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
        دروس کی ویڈیو رکارڈنگ اور انٹرنیٹ وغیرہ کا استعمال مستقل سرمائے کے حاجت مند ضرور ہیںجو ہندوستان کے بہت سے مدارس کے لیے ذرا مشکل ہے۔ لیکن اس جانب سنجیدگی سے اقدام کیا جا ئے گا تو اس کا انتظام بھی ہوہی جائے گا اور بہت سے اہل خیر حضرات اس کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کمر بستہ ہوں گے۔
نوٹ: یہ مضمون اردو دنیا کے مئی ۲۰۱۲ کے شمارہ میں شائع ہوا۔