مشمولات

Friday, 5 September 2025

سرکاری اسکول اور ہمارے کرنے کے کچھ کام

 

احتشام الحق

سرکاری اسکول اور ہمارے کرنے کے کچھ کام

 

نیا تعلیمی سال شروع ہوچکا ہے۔ داخلوں کا عمل بھی تقریبا ختم ہوچکا ہے۔ البتہ سرکاری اسکولوں میں داخلہ کی کارروائی جاری ہے۔ گاؤں سے لے کر شہر تک سماج کے پریشان کن مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ان کے علاقہ میں ایک بہتر تعلیمی ادارہ کی کمی  ہے۔ ہر شخص اس بات کا خواہاں ہے کہ اس کے بچے کو معیاری تعلیم مل سکے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر سے گاؤں تک میں پرائیویٹ اسکولوں کا بول بالا ہے۔ادھر آئے دن پرائیویٹ اسکولوں کی تعلیم مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیمی فیس سے زیادہ اس کے لوازمات مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔ چونکہ یہ ایسا مسئلہ ہے کہ تعلیم کی اہمیت سے ذرا بھی واقف کوئی شخص اس سے چشم پوشی نہیں کرسکتا ہے۔ اس لیے وہ  اپنی بساط سے اوپر اٹھ کر بچوں  کی تعلیم کا انتظام کر رہا ہے۔ تعلیم کے تئیں لوگوں کی یہ سنجیدگی بہر حال قابل تعریف ہے۔ حالانکہ قدم قدم پر جو پرائیویٹ اسکول کھلے ہوئے ہیں ،ان میں سے بڑی تعداد معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام ہے۔ کتابوں، پوشاک کی چمک دمک اور تام جھام سے دھوکہ دیا جا رہا ہےلیکن جو لوگ تعلیم اور اس کے تقاضوں سے واقف ہیں وہ خوب سمجھ رہے ہیں کہ پرائیویٹ اسکولوں کا یہ کھیل سرپرستوں کی جیب ڈھیلی ہونے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ ادارے اسکول کم اسٹیشنری ، کپڑوں اور چپل جوتوں کی دکان زیادہ  بن گئے ہیں۔

تعلیم کے نام پر لوگوں  کا یہ مسئلہ اس لیے ہے کہ ان کے خیال میں ان کے آس پاس ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جہاں وہ بچے کو معیاری تعلیم دلاسکیں۔ سرکاری اسکولوں کے تیئں لوگوں میں بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے۔ لوگوں کا احساس ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کا وقت ضائع ہونے کے علاوہ کچھ نہیں ہو رہا ہے۔ تربیت کے حوالے سے بھی منفی تاثر  ہے۔لوگوں کا یہ احساس بے جا بھی نہیں ہے۔ تلخ سچائی یہی ہے کہ سرکاری اسکولوں میں ورک کلچر نہیں ہے۔ لیکن  یہ ناقابل تبدیل مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  سرکاری اسکولوں کی یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ تعلیم یافتہ اور بیدار لوگوں نے سرکاری اسکولوں سے اپنے بچوں کو دور  کر دیا ہے اور اچھے لوگ سرکاری اسکول کی  انتظامیہ سے باز پرس اور ان کی مناسب مدد  نہیں کر رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی  کہ ماضی قریب میں سرکاری اسکولوں میں وسائل کا بہت فقدان تھا۔ اساتذہ کی بے حد کمی تھی۔ دیگر وسائل بھی نہیں تھے۔ماضی میں کچھ بحالی کے طریقہ کار کے سبب چند اساتذہ کی وجہ سے لوگوں کا اعتبار بھی کم ہوا۔ لیکن  یہ کہنا  غلط نہیں ہوگا  اس کو ایک مستقل اور ناقابل درست مسئلہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔

حکومت نے ۲۰۱۳ اور اس کے بعد سے  تقرری کا جو طریقہ اپنایا ہے وہ یقینا عمدہ ہے۔ گزشتہ  دو تین برسوں میں بہتر انتخاب کے ساتھ ہونے والی تقرری کے بعد اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ بڑی حد تک دور ہوگیا ہے۔ اچھے اساتذہ کی ٹیم موجود ہے۔ محکمہ نے سرکاری اسکولوں کو دیگر لازمی وسائل سے بھی لیس کرنے کی کوشش کی ہے۔کتابیں بھی وقت پر دستیاب کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  گرچہ اب بھی کئی اسکول  ایسے ہیں جہاں عمارت کی کمی ہے لیکن بیشتر اسکولوں میں اتنے کمرے موجود  ہیں جس میں ہر درجہ الگ الگ  چل سکے۔ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ جاتی کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔ اس کے باوجود اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اب بھی سرکاری اسکولوں میں وہ ورک کلچر پیدا نہیں ہوسکا ہے جو معیاری تعلیم کے لیے ضروری ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ سماج خود بیدار نہ ہو۔  محکمہ جاتی سطح پر عام لوگوں اور سرپرستوں کو جوڑنے کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ملازمین کی اپنی فطرت ہوتی ہے اور لوگوں کی یہ کوشش  ہوتی ہے کہ جتنی کم محنت سے اس کا کام چل سکے وہ  چلا چلے۔ چنانچہ اسکول انتظامیہ بھی سماج  کو اسکول کے ساتھ فعال کرنے میں رو گردانی کر رہا ہے۔ ایسے میں ہمارا جو تعلیم یافتہ اور بیدار طبقہ ہے وہ اگر چاہے تو کچھ ضروری اقدام کر کے اپنے علاقہ میں بہتر تعلیمی نظام والا ادارہ بناسکتا ہے۔ کئی جگہوں پر مقامی سطح پر لوگ اس طرح  کی کوششیں کرتے  بھی رہتے  ہیں کہ ان کے علاقہ میں تعلیم کا ایسا نظم ہوجائے  جس سے   کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہ سکے۔ ایسے لوگوں کو اس جانب ضرور پیش رفت کرنی چاہیے۔

ہمارے کرنے کے کچھ  کام:

مڈل سطح تک کے ہر اسکول میں ایک شکشا سمیتی ہوتی ہے جس کا کام تعلیم اور اسکول کے مجموعی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ جس وارڈ میں اسکول واقع ہے اس کا وارڈ ممبر اس کا صدر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ سکریٹری ، ہیڈ ماسٹر، سینئر ٹیچر اور دیگر اراکین پر مشتمل تقریبا گیارہ رکنی کمیٹی ہوتی ہے۔ ممبران کا اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ ہر ماہ میں کم از کم ایک میٹنگ ہونی چاہیے جو خانہ پری کی نذر ہو جاتی ہے۔ اسکول انتظامیہ اپنی سہولت اور آرام کے مد نظر کمیٹی میں ایسے افراد کا انتخاب کرلیتے ہیں جن سے ان کے کام میں رخنہ پیدا نہ ہو۔ یہ بھی صحیح ہے کہ ہر سماج میں ایسے کچھ افراد ہیں جو سنجیدگی کے ساتھ  حالات کو سازگار اور بہتر بنانے کی بجائے تخریبی امور پر زیادہ توجہ دیتے ہیں اور وقتی ہنگامہ آرائی کر کے اپنا چہرہ چمکانے کا کام کرتے ہیں۔

 سوسائٹی کے سرکردہ افراد یہ کرسکتے ہیں اس شکشا سمیتی کو فعال بنائیں اور ایسے افراد کو شامل کریں جو تعلیم کو بہتر بنانے میں اسکول انتظامیہ کی مدد کرسکیں۔تخریبی مزاج والے افراد کو رخنہ پیدا کرنے سے روک سکیں۔  ہوتا یہ ہے کہ کمیٹی میں بعض افراد اپنا وقتی مفاد تلاش کرلیتے ہیں اور تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتے ہیں۔ اگر اچھے ممبران ہوں گے تو ہر ماہ  میٹنگ کو یقینی بنائیں گے اور تعلیم کے مسائل پر غور کرتے ہوئے ان  خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے جس سے تعلیم بہتر ہوسکے۔جہاں اسکول یا  دفتر کی سطح پر کمی یا خامی ہے تو اس کو دور کرنے میں اسکول انتظامیہ کی مدد کریں گے۔  

پڑھے لکھے ممبران ہوں گے تو یومیہ روٹین پر عمل کراسکیں گے جو تدریس کے لیے سب سے لازمی چیز ہے۔ روٹین پر عمل نہ کرنے والے اساتذہ سے بھی باز پرس کرسکیں گے۔ اچھا روٹین اور اس پر سختی سے عمل در آمد بہتر تدریس کے لیے سب سے لازمی امر ہے۔ اس کو یقینی بنا کر تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

محکمہ جاتی ہدایت کے مطابق ہر ماہ کے آخری سنیچر کو سرپرستوں کی میٹنگ ہونی ہے۔ سرپرستوں کی  عدم توجہی کی وجہ سے اکثر اسکولوں میں اس پر بھی عمل نہیں ہوتا ہے۔ ۔ والدین عام طور پر  بچوں کی تعلیمی پیش رفت جاننے کی بجائے  وہ اسکول یہ معلوم کرنے جاتے ہیں کہ ان کو پوشاک اور وظیفہ کی رقم نہیں ملی ہے۔ظاہر ہے سرپرستوں کو جس چیز  کی تلاش ہے اسکول انتظامیہ وہ اس کو دینے کی کوشش کرے گا ۔

سرپرستوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کی روزانہ کی تعلیمی سرگرمی پر نظر رکھیں۔ ہوم ورک چیک کریں۔ اگر انہیں لگاتار ہوم ورک نہیں مل رہا ہے تو اسکول انتظامیہ سے ملاقات کریں اور سنجیدگی کے ساتھ ان سے شکایت کریں اور پھر اگلے دنوں میں بھی اس پر  مسلسل نظر رکھیں۔  بار بار اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور گارجین سے مل کر بچے کی کمی کو جاننے کی کوشش کریں  تاکہ اساتذہ میں جوابدہی کا احساس پیدا ہوسکے۔ شام میں پڑھتے وقت بچوں کو مائیں بطور خاص وقت دیں۔ اگر سرپرستوں کے لیے  تعلیم اہم ہوجائے گی تو اسکول انتظامیہ تعلیم دینے کے لیے مجبور ہوگا۔ لیکن ایسا  انفرادی عمل سے ممکن نہیں ہے۔ہر ایک سرپرست  کو اس کے لیے بیدار ہونا ہوگا۔ اگر سرپرستوں کی سطح سے مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو شکشا سمیتی اس پر غور کرے گی اور اساتذہ کو مجبور کرے گی کہ وہ اسکول میں تعلیمی کلچر بنائیں۔ کئی جگہوں پر مقامی اساتذہ کی وجہ سے بھی اسکول میں ورک کلچر نہیں بن پاتا ہے۔ ایماندار اور فعال شکشا سمیتی اس مسئلہ کو حل کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔

عام طور پر کمیٹیاں مڈ ڈے میل  اور اساتذہ کی بروقت حاضری کے مسائل میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔یہ چیزیں بھی ضروری ہیں لیکن ہماری ترجیح میں اول مقام نہیں رکھتی ہیں۔  پہلا مرحلہ ہر کمیٹی کا درس و تدریس ہونا چاہیے۔ اگر درس و تدریس کا عمل یقینی بن گیا  تو مڈ ڈے میل اور اساتذہ کے بروقت اسکول پہنچنے  کا مسئلہ بھی از خود  حل ہوجائے گا۔ کوتاہ اور بے ایمان ہیڈ ماسٹر بھی راہ راست پر آجائیں گے۔

 کئی  اسکول کے  ہیڈ ماسٹر چاہتے ہیں کہ تعلیمی ماحول پیدا ہو لیکن اساتذہ کی جانب سے مناسب تعاون نہیں ہوپاتا ہے۔ ایسے میں سرپرستوں اور کمیٹی کے اراکین کی بیداری اساتذہ کو پڑھانے پر مجبور کرے گی۔

کئی اسکولوں میں جہاں عمارت اور دیگر انفرا اسٹرکچر کی کمی ہے، وہاں کے لوگ اگر چاہتے ہیں کہ ان کے یہاں اچھا تعلیمی ادارہ ہو تو وہ مقامی سطح پر مستقل عمارت نہ سہی تو ایسی عمارت کا انتظام کرسکتے ہیں جس میں بچے دھوپ، ٹھنڈی اور بارش سے بچ کر تعلیم حاصل کرسکیں۔

اسی طرح پوشاک کا مسئلہ بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں سرپرست اس بات کا اہتمام نہیں کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صاف ستھرا اسکول ڈریس پہنا کر، نہلا دھلا کر صفائی کے ساتھ اسکول بھیجیں۔ سرکردہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرپرست – ٹیچر میٹنگ میں شرکت  کرتے ہوئے والدین کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کو روزانہ  نہلا دھلا کر اسکول بھیجیں، صاف ستھرا اسکول ڈریس پہنائیں۔ ممکن ہو تو جوتا موزہ اور ٹائی وغیرہ بھی پہنائیں۔ ان چیزوں میں بہت خرچ بھی نہیں ہے۔ اگر اس طرح کے کچھ ضروری کام کر لئے جائیں تو ہر گاؤں اور علاقہ میں ایک بہتر تعلیمی ادارہ ہوسکتا ہے۔ لیکن لوگوں کا مقصد وقتی ہنگامہ آرائی نہ ہو  بلکہ اس کو مسلسل عمل سمجھیں۔

***


احتشام الحق

سرکاری اسکول اور ہمارے کرنے کے کچھ کام

 

نئے تعلیمی سیشن میں اسکولوں میں  داخلوں کا عمل جاری ہے۔ گاؤں سے لے کر شہر تک سماج کے پریشان کن مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ ان کے علاقہ میں ایک بہتر تعلیمی ادارہ کی کمی  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہر سے گاؤں تک میں پرائیویٹ اسکولوں کا بول بالا ہے۔ادھر آئے دن پرائیویٹ اسکولوں کی تعلیم مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیمی فیس سے زیادہ اس کے لوازمات مہنگے ہوتے جا رہے ہیں۔چونکہ یہ ایسی ضرورت ہے جس کو ٹالا نہیں جاسکتا ہے اس لیے ہر شخص اپنی بساط سے بڑھ کر بچوں کی تعلیم کا انتظام کر رہا ہے۔ حالانکہ قدم قدم پر جو پرائیویٹ اسکول ہیں ان میں بیشتر معیاری تعلیم دینے میں ناکام ہیں۔ لیکن کوئی دوسرا چارہ نظر نہیں آتا اس لیے اسکول والے اس کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

سرکاری اسکولوں کے تیئں لوگوں میں بہت زیادہ مایوسی پائی جاتی ہے۔ تربیت کے حوالے سے بھی منفی تاثر  ہے۔لوگوں کا یہ احساس بے جا بھی نہیں ہے۔ لیکن  یہ ناقابل تبدیل مسئلہ نہیں ہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ  سرکاری اسکولوں کی یہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی ہے کہ تعلیم یافتہ اور بیدار لوگوں نے سرکاری اسکولوں سے اپنے بچوں کو دور  کر دیا ہے اور اچھے لوگ سرکاری اسکول کی  انتظامیہ سے باز پرس اور ان کی مناسب مدد  نہیں کر رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی رہی  کہ ماضی قریب میں سرکاری اسکولوں میں وسائل کا بہت فقدان تھا۔ اساتذہ کی بے حد کمی تھی۔ دیگر وسائل بھی نہیں تھے۔ماضی میں کچھ بحالی کے طریقہ کار کے سبب چند اساتذہ کی وجہ سے لوگوں کا اعتبار بھی کم ہوا۔ لیکن  یہ کہنا  غلط نہیں ہوگا  اس کو ایک مستقل اور ناقابل درست مسئلہ سمجھنا ایک بڑی غلطی ہے۔

حکومت نے ۲۰۱۳ اور اس کے بعد سے  تقرری کا جو طریقہ اپنایا ہے وہ یقینا عمدہ ہے۔ گزشتہ  دو تین برسوں میں بہتر انتخاب کے ساتھ ہونے والی تقرری کے بعد اسکولوں میں اساتذہ کی کمی کا مسئلہ بڑی حد تک دور ہوگیا ہے۔ محکمہ نے سرکاری اسکولوں کو دیگر لازمی وسائل سے بھی لیس کرنے کی کوشش کی ہے۔کتابیں بھی وقت پر دستیاب کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔  گرچہ اب بھی کئی اسکول  ایسے ہیں جہاں عمارت کی کمی ہے لیکن بیشتر اسکولوں میں اتنے کمرے موجود  ہیں جس میں ہر درجہ الگ الگ  چل سکے۔ تعلیم کو بہتر بنانے کے لیے محکمہ جاتی کوششیں بھی مسلسل جاری ہیں۔ اس کے باوجود اس حقیقت کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اب بھی سرکاری اسکولوں میں وہ ورک کلچر پیدا نہیں ہوسکا ہے جو معیاری تعلیم کے لیے ضروری ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک کہ سماج خود بیدار نہ ہو۔  محکمہ جاتی سطح پر عام لوگوں اور سرپرستوں کو جوڑنے کے لیے بھی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ظاہر ہے کہ ملازمین کی اپنی فطرت ہوتی ہے اور لوگوں کی یہ کوشش  ہوتی ہے کہ جتنی کم محنت سے اس کا کام چل سکے وہ  چلا چلے۔ چنانچہ اسکول انتظامیہ بھی سماج  کو اسکول کے ساتھ فعال کرنے میں رو گردانی کر رہا ہے۔ ایسے میں ہمارا جو تعلیم یافتہ اور بیدار طبقہ ہے وہ اگر چاہے تو کچھ ضروری اقدام کر کے اپنے علاقہ میں بہتر تعلیمی نظام والا ادارہ بناسکتا ہے۔

ہمارے کرنے کے کچھ  کام:

مڈل سطح تک کے ہر اسکول میں ایک شکشا سمیتی ہوتی ہے جس کا کام تعلیم اور اسکول کے مجموعی نظام کو بہتر بنانا ہے۔ ہر ماہ اس کی  کم از کم ایک میٹنگ ہونی چاہیے جو خانہ پری کی نذر ہو جاتی ہے۔ اسکول انتظامیہ اپنی سہولت اور آرام کے مد نظر کمیٹی میں ایسے افراد کا انتخاب کرلیتے ہیں جن سے ان کے کام میں رخنہ پیدا نہ ہو۔سماج کے بعض تخریبی مزاج افراد رخنہ پیدا بھی کرتے ہیں۔  سوسائٹی کے سرکردہ افراد یہ کرسکتے ہیں اس شکشا سمیتی کو فعال بنائیں اور ایسے افراد کو شامل کریں جو تعلیم کو بہتر بنانے میں اسکول انتظامیہ کی مدد کرسکیں۔تخریبی مزاج والے افراد کو رخنہ پیدا کرنے سے روک سکیں۔  ہوتا یہ ہے کہ کمیٹی میں بعض افراد اپنا وقتی مفاد تلاش کرلیتے ہیں اور تعلیم پر توجہ نہیں دے پاتے ہیں۔ اگر اچھے ممبران ہوں گے تو ہر ماہ  میٹنگ کو یقینی بنائیں گے اور تعلیم کے مسائل پر غور کرتے ہوئے ان  خامیوں اور کمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے جس سے تعلیم بہتر ہوسکے۔جہاں اسکول یا  دفتر کی سطح پر کمی یا خامی ہے تو اس کو دور کرنے میں اسکول انتظامیہ کی مدد کریں گے۔ 

پڑھے لکھے ممبران ہوں گے تو یومیہ روٹین پر عمل کراسکیں گے جو تدریس کے لیے سب سے لازمی چیز ہے۔ روٹین پر عمل نہ کرنے والے اساتذہ سے بھی باز پرس کرسکیں گے۔ اچھا روٹین اور اس پر سختی سے عمل در آمد بہتر تدریس کے لیے سب سے لازمی امر ہے۔ اس کو یقینی بنا کر تعلیمی نظام کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔

محکمہ جاتی ہدایت کے مطابق ہر ماہ کے آخری سنیچر کو سرپرستوں کی میٹنگ ہونی ہے۔ سرپرستوں کی  عدم توجہی کی وجہ سے اکثر اسکولوں میں اس پر بھی عمل نہیں ہوتا ہے۔ والدین عام طور پر  بچوں کی تعلیمی پیش رفت جاننے کی بجائے  وہ اسکول یہ معلوم کرنے جاتے ہیں کہ ان کو پوشاک اور وظیفہ کی رقم نہیں ملی ہے۔

سرپرستوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے بچوں کی روزانہ کی تعلیمی سرگرمی پر نظر رکھیں۔ ہوم ورک چیک کریں۔ اگر انہیں لگاتار ہوم ورک نہیں مل رہا ہے تو اسکول انتظامیہ سے ملاقات کریں اور سنجیدگی کے ساتھ ان سے شکایت کریں اور پھر اگلے دنوں میں بھی اس پر  مسلسل نظر رکھیں۔  بار بار اسکول کے ہیڈ ماسٹر اور گارجین سے مل کر بچے کی کمی کو جاننے کی کوشش کریں  تاکہ اساتذہ میں جوابدہی کا احساس پیدا ہوسکے۔ شام میں پڑھتے وقت بچوں کو مائیں بطور خاص وقت دیں۔ اگر سرپرستوں کے لیے  تعلیم اہم ہوجائے گی تو اسکول انتظامیہ تعلیم دینے کے لیے مجبور ہوگا۔ لیکن ایسا  انفرادی عمل سے ممکن نہیں ہے۔ہر ایک سرپرست  کو اس کے لیے بیدار ہونا ہوگا۔ اگر سرپرستوں کی سطح سے مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے تو شکشا سمیتی اس پر غور کرے گی اور اساتذہ کو مجبور کرے گی کہ وہ اسکول میں تعلیمی کلچر بنائیں۔ کئی جگہوں پر مقامی اساتذہ کی وجہ سے بھی اسکول میں ورک کلچر نہیں بن پاتا ہے۔ ایماندار اور فعال شکشا سمیتی اس مسئلہ کو حل کرنے میں مدد کرسکتی ہے۔

عام طور پر کمیٹیاں مڈ ڈے میل  اور اساتذہ کی بروقت حاضری کے مسائل میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔یہ چیزیں بھی ضروری ہیں لیکن ہماری ترجیح میں اول مقام نہیں رکھتی ہیں۔  پہلا مرحلہ ہر کمیٹی کا درس و تدریس ہونا چاہیے۔ اگر درس و تدریس کا عمل یقینی بن گیا  تو مڈ ڈے میل اور اساتذہ کے بروقت اسکول پہنچنے  کا مسئلہ بھی از خود  حل ہوجائے گا۔ کوتاہ اور بے ایمان ہیڈ ماسٹر بھی راہ راست پر آجائیں گے۔

 کئی  اسکول کے  ہیڈ ماسٹر چاہتے ہیں کہ تعلیمی ماحول پیدا ہو لیکن اساتذہ کی جانب سے مناسب تعاون نہیں ہوپاتا ہے۔ ایسے میں سرپرستوں اور کمیٹی کے اراکین کی بیداری اساتذہ کو پڑھانے پر مجبور کرے گی۔

کئی اسکولوں میں جہاں عمارت اور دیگر انفرا اسٹرکچر کی کمی ہے، وہاں کے لوگ اگر چاہتے ہیں کہ ان کے یہاں اچھا تعلیمی ادارہ ہو تو وہ مقامی سطح پر مستقل عمارت نہ سہی تو ایسی عمارت کا انتظام کرسکتے ہیں جس میں بچے دھوپ، ٹھنڈی اور بارش سے بچ کر تعلیم حاصل کرسکیں۔

اسی طرح پوشاک کا مسئلہ بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں سرپرست اس بات کا اہتمام نہیں کرتے ہیں کہ وہ بچے کو صاف ستھرا اسکول ڈریس پہنا کر، نہلا دھلا کر صفائی کے ساتھ اسکول بھیجیں۔ سرکردہ افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرپرست – ٹیچر میٹنگ میں شرکت  کرتے ہوئے والدین کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اپنے بچوں کو روزانہ  نہلا دھلا کر اسکول بھیجیں، صاف ستھرا اسکول ڈریس پہنائیں۔ ممکن ہو تو جوتا موزہ اور ٹائی وغیرہ بھی پہنائیں۔ ان چیزوں میں بہت خرچ بھی نہیں ہے۔ اگر اس طرح کے کچھ ضروری کام کر لئے جائیں تو ہر گاؤں اور علاقہ میں ایک بہتر تعلیمی ادارہ ہوسکتا ہے۔ لیکن لوگوں کا مقصد وقتی ہنگامہ آرائی نہ ہو  بلکہ اس کو مسلسل عمل سمجھیں۔

***

تبصرہ : روش روش نشتر

 

نام کتاب                   : روش روش نشتر

شاعر                       : مفتی آفتاب غازی

سن اشاعت              : ۲۰۲۴

صفحات                    : ۱۸۴

قیمت                       : ۳۵۰ روپے

ملنے کا پتہ                  : معہد الطیبات، منحر روڈ، کرم گنج، دربھنگہ

مبصر                        : احتشام الحق

قدیم علماء کے تعارف میں دینی و شرعی علوم میں مہارت کے ساتھ حکمت اور شاعری پر ملکہ کے اوصاف بھی بکثرت ملا کرتے تھے۔ دور حاضر میں حکمت یعنی طب کے شعبے میں جو ترقی اور تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اس کے سبب ایسی مثالیں دیکھنے کو کم ملتی ہیں۔ اب ان دونوں کو ساتھ لے کر چلنے میں دونوں کے نقصان کا خطرہ بھی ہے۔ شعر و شاعری پر درک کے ضمن میں بھی کہا جا سکتا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں کمی آئی ہے۔ لیکن چونکہ شاعری کا تعلق موزونی طبع اور احساس کے ساتھ بیان پر قدرت سے ہے۔ اس لیے کسی بھی شعبے کے ماہرین میں اس کا پیدا ہو جانا فطری ہے۔ لہذا اب بھی کئی معتبر علماء کے یہاں شاعری کے عناصر اور اس کے نمونے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ یہ اور بات کہ دیگر مشغولیات انہیں اس جانب توجہ دینے اور کلام کو طباعت کے مرحلے سے گزارنے کی مہلت نہیں دیتی۔ لیکن ان سب کے بیچ زیر نظر کتاب "روش روش نشتر" جیسی چیزیں نظر آجاتی ہیں جو مفتی آفتاب غازی کا مجموعہ کلا ہے۔

مفتی آفتاب غازی ایک ابھرتے ہوئے معروف عالم دین ہیں۔ دربھنگہ ان کا وطن  مالوف ہے اور اسی کو انہوں نے اپنا میدان عمل بنایا ہے۔ ان کا خاص میدان درس و تدریس ہے لیکن انہوں نے لڑکیوں کی دینی تعلیم اور خاص طور پر اسکول کالجوں میں میں پڑھنے والی طالبات کو دینی علوم سے بہرہ وَر کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے اور ایک مہم کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ یہ کام وہ نہ صرف دربھنگہ بلکہ ضلع کی مختلف بستیوں میں بھی اس کی شاخیں پھیلا رکھی ہیں۔ علمی دنیا میں بھی انہوں نے اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ فقہی مسائل پر ان کی کئی کتابیں منظرعام پر آ چکی ہیں۔خطابت کا بھی اچھا ملکہ ہے۔ شائستہ لہجے میں علمی گفتگو کرتے ہیں ۔

زیر نظر کتاب مفتی آفتاب غازی کا پہلا اور تازہ مجموعہ کلام ہے جس میں ان کے دور طالب علمی سے لے کر حال تک کے مشق سخن کا نتیجہ ہے۔ کلام کا آغاز انہوں نے دعا اور نعت سے کیا  ہے۔ اس میں ان کی نظمیں، ترانے، نغمات تہنیت اور غزلوں کے علاوہ قطعات، تضمین اور متفرق اشعار کو جگہ دی ہے۔ مشمولات میں تنوع سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر میں شعر کہنے کی فطری صلاحیت اور قدرت موجود ہے۔ اس کتاب کی پہلی نظم  ’’بھارت --- ماضی، حال اور مستقبل‘‘ ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ و طالبات کے نام!، آنکھ، دنیا، تاج محل، روداد دل، امتحان، بچے کا حوصلہ اور شجر کاری جیسی موضوعاتی نظمیں ۔ پہلی اور دیگر کئی نظموں کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ پختہ شاعر کی طرح روانی موجود ہے۔ پہلی نظم واضح طور پر ارتقائی صورت اختیار کرتے ہوئے انجام تک پہنچتی ہے۔ حالانکہ ایک مصرعہ میں بھارت کی زمین کو بنجر قرار دینا فکری طور سے قابل گرفت ہے۔ بنیادی طور پر شاعر نے ہندوستان کی ترقی کی بنیاد یہاں مسلمانوں کی آمد سے رکھا ہے ۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسلم سلاطین نے ہندوستان کے حسن کو دوبالا کیا ہے لیکن بہر حال بھارت کی زمین ہزاروں برس سے زرخیز رہی ہے اور علمی سرمایہ سے مالا مال رہی ہے۔ اس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم نظم خوبصورت ہے اور حال اور مستقبل کے منظر نامے کو پیش کرنے میں کامیاب ہے۔ آنکھ بھی ان کی خوبصورت نظم ہے۔ رودادِ دل میں انہوں نے عربی ماہ کے ناموں کو شعر میں کامیابی کے ساتھ برتا ہے۔نیا تاج محل بھی ایک مختصر اور خوبصورت نظم ہے۔ اس کے یہ چند اشعار دیکھے جاسکتے ہیں

عشق کا نقص ہے ، پیمانہ چھلک اٹھتا ہے

شعلۂ دردِ محت کو دبایا ہم نے

اس نے رسوا کیا الفت کو سر عام، مگر

حسن کو سرپھری نظروں سے بچایا ہم نے

غم کی بستی میں بنا کر کے حسین تاج محل

پردۂ صبر و تبسم میں چھپایا ہم نے

 

 

 چند شخصیاتی نظمیں بھی ہیں جن سے ان کے واردات قلبی کا اندازہ ہوتا ہے۔ شخصیاتی نظموں میں مفتی ظفیر الدین مفتاحی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا ریاض احمد موتیہاری، شہنواز بھائی کے نام اور مرثیہ جو ان کے جواں سال ماموں کی ناگہانی موت پر ہے۔ اس کتاب میں شامل ہیں۔

کلام کے مطالعہ کے بعد شاعر و ناقد ڈاکٹر عطا عابدی کی یہ رائے بجا لگتی ہے کہ مفتی آفتاب غازی کی نظمیں پیامیہ اور نشاطیہ افکار و اظہار سے مملو ہیں۔

مولانا سید ابو اختر قاسمی – حیات و خدمات

‘‘مولانا سید ابو اختر قاسمی – حیات و خدمات ’’

عارف اقبال کے شوق جنوں کا شاہکار

 

               مولانا ابو اختر قاسمی صاحب کی شخصیت دربھنگہ اور متھلانچل ہی نہیں پورے شمالی بہار میں محتاج تعارف نہیں ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ ان کا جو منصبی فریضہ رہا ہے اور درس و تدریس سے لے کر دعوت و تبلیغ کے جو فرائض انجام دئیے ہیں اس کے سبب پورے بہار اور بہار سے باہر بھی ان کی شناخت قائم ہے۔ منصب تدریس پر فائز ہونے کے سبب ایک بڑی تعداد نے ان سے استفادہ کیا ہے اور پھر ان میں سے ایک قابل لحاظ تعداد ایسی شخصیات کی ہوئی ہے جنہوں نے اپنے ملک اور سماج میں ایک مرتبہ بنایا ہے اور جو ہندوستان اور دنیا کے مختلف گوشوں  میں دین اور انسانیت کی خدمت میں مصروف  عمل ہیں۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ  مولانا سید ابو اختر قاسمی صاحب کا فیض ہندوستان اور دنیا کے مختلف حلقوں میں  اب بھی جاری ہے۔

               مولانا ابو اختر قاسمی کی خدمات کی میعاد کم و بیش چھ دہائیوں پر مشتمل ہے جس میں دربھنگہ اور دربھنگہ کے باہر کا علاقہ بھی شامل ہے جہاں انہوں نے اپنے فیض لٹائے ہیں۔ اس عرصے میں انہوں نے انسان سازی اور اصلاح معاشرہ کا عظیم کارنامہ انجام دیا ہے جو ناقابل فراموش ہے۔ یہ انسان سازی اور اصلاح معاشرہ کا عمل در اصل انبیاء اور صلحاء کا طریقہ ٔ کار رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے العلماء ورثۃ الانبیاء کہہ کر اس کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ انسان سازی اور اصلاح معاشرہ ایک مہذب اور پاکیزہ سماج کے لیے ناگزیر عمل ہے ۔ بلکہ کہہ لیجئے کہ یہ تہذیب انسانیت کا عمل ہے۔ اگر یہ فرائض انجام نہ دئیے جائیں تو انسان مرتبہ انسانیت سے گر جائے گا۔ تخلیق آدم سے لے کر تکمیل انسانیت  یعنی نبی آخر الزماں محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت مبارکہ تک اللہ رب العزت نے اپنے برگزیدہ بندوں کو اس کام کے لیے منتخب فرمایا۔

               نبی اکرم ﷺ کے بعد صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور ان کے بعد علماء  و صلحا نے اس وراثت کو سنبھالا ہے۔ ہر عہد میں ایسے علماء و صلحاء پیدا ہوتے رہے ہیں جنہوں نے انسان سازی اور اصلاح معاشرہ کے فریضے کو انجام دیا ہے اور آج بھی پوری دنیا میں یہ سلسلہ جاری ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ تلخ حقیقت ہے کہ ایسے علماء و صلحا کی ایک بڑی تعداد کو ہم اور ہماری نسلیں نہیں جانتیں۔ حالانکہ ان کی خدمات سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل تھیں۔ ہمارے پاس علم اور تہذیب کا جو سرمایہ موجود ہے ان میں ایسے فراموش کردہ علما کی خدمات بھی پوشیدہ ہیں۔لیکن  حقیقت یہ ہے کہ آج بھی اس سلسلے میں ہماری بے حسی نہیں ٹوٹی ہے۔ الا ماشاء اللہ۔ ایسی شخصیات کے اٹھ جانے کے بعد شخصیت اور ان کی خدمات کے لحاظ سے دو چار دہائی یا ایک دو نسلوں تک سینہ بہ سینہ یادوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ ان کی یادیں محو ہوتی چلی جاتی ہیں۔ ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ ان کا تذکرہ بھی نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایسی شخصیات کی خدمات کو پکی روشنائی سے لکھنے کا اہتمام نہیں کیا تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رہ سکیں اور ان کے لیے نشانِ راہ بن سکیں۔ حالانکہ زندہ لوگوں کے درمیان لکھنے میں یہ خطرہ بھی رہتا ہے کہ انسان انسان کم فرشتہ زیادہ ہو جائے۔ لیکن اس کے باوجود غیر معمولی شخصیات کو فراموش ہونے سے بچانے کے لیے یہ امر ضروری ہے کہ ان کی حیات و خدمات کو دستاویز کا حصہ بنایا جائے اور جو لوگ عملی زندگی میں سرگرم عمل ہیں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ عارف اقبال نے اس جوکھم کو اٹھایا ہے اور اس میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔

               میں مبارکباد دیتا ہوں برادر عزیز جناب عارف اقبال کو انہوں نے بے لوث ہو کر اس کام کے بار گراں کو اپنے مضبوط کندھوں پر اٹھایا ہے۔ حالانکہ اس سے قبل بھی انہوں نے امیر شریعت سادس حضرت مولانا نظام الدینؒ کی خدمات پر یکے بعد دیگرے دو ضخیم کتابیں  ان کی  حیات میں ہی بڑے اہتمام سے ترتیب دی تھیں۔ اس بار عارف اقبال نے ‘‘حضرت مولانا سید ابو اختر قاسمی  - حیات و خدمات ’’ کے نام  سےکتاب ترتیب دیتے ہوئے تقریبا ساڑھے چار سو صفحات میں مولانا کی شخصیت کے تقریبا تمام روشن پہلوؤں کو سمیٹ لیا ہے اور عمدہ طباعت کے ساتھ قاری کے لیے پیش کیا ہے۔ اس طرح یہ کتاب صوری اور معنوی ہر دو اعتبار سے بڑی وقیع اور اہم ہوگئی ہے۔

               اس کتاب کے مشمولات پر نظر ڈالیں تو  اس کتاب میں تقریبا چھ ابواب ہیں۔  پہلا باب نقوش حیات کے ذیلی عنوان سے ہے جس میں مولانا شمشاد رحمانی قاسمی، مولانا اشرف عباس قاسمی، فضیل احمد ناصری قاسمی، انجینئر عادل اختر عادل، مولانا خالد نیموی قاسمی، مفتی آفتاب غازی، سیدہ گلفشاں بانو، حذیفہ حسن اور قاری نسیم اختر کے مضامین شامل۔ اس میں مرتب نے مولانا کے صاحبزادے، صاحبزادی اور داماد کو بھی جگہ دی ہے جس سے ان کی گھریلو زندگی اور اندرون خانہ کے حالات پر روشنی پڑتی ہے ۔ سوانحی طرز کی کتابوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ اس میں گھر کے حالات بھی شامل ہوں۔ کہا جاسکتا ہے کہ مرتب اس میں کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ مرتب کتاب عارف اقبال کا  کتاب کے تئیں یہ والہانہ پن ہی ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں شامل کرنے کے لیے ساٹھ برسوں بعد دار العلوم دیوبند سے مولانا کی سند نکالی اور پھر اس کا عکس کتاب میں شامل کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے مولانا  کی نایاب تصویریں بھی شامل کی ہیں۔ قاری تصویروں کے ذریعہ بھی بچپن سے لے کر عہد پیری تک  کے اتار چڑھاؤ کا مشاہدہ  کرسکتا ہے۔ حالانکہ تصویروں کی اس فراوانی کے  جواز اور عدم جواز پر سوال قائم کیا جاسکتا ہے۔ لیکن ان تصویروں کی تلاش اور اس میں کامیابی مرتب کی جاں فشانی کی عکاسی کرتی ہے۔ بحر حال تصویروں کی شمولیت کتاب کو بایں معنی اہم بناتی ہیں کہ آنے والی نسلیں مولانا  کے  ملفوظی  خاکے ساتھ ان کا عکس بھی دیکھ سکے گی۔

مشاہدات و تاثرات کے ذیلی عنوان کے تحت تقریبا پچیس مضامین شامل ہیں۔ اس میں کئی بڑی شخصیتوں نے اظہار خیال کیا ہے  جو علمی دنیا میں اپنا اعتبار  اور منفرد شناخت رکھتی ہیں۔  اس باب میں  مولانا ابو الکلام قاسمی، مفتی ثناء الہدی قاسمی، مولانا محمد شبلی قاسمی، صفی اختر، مفتی احمد نادر القاسمی، مولانا اعجاز احمد،  مفتی عبد السلام، ڈاکٹر مشتاق احمد، مولانا عبد الکریم قاسمی،  پروفیسر ایم کمال الدین، پروفیسر شمیم باروی، آچاریہ شوکت خلیل، ڈاکٹر عطا عابدی، ڈاکٹر منظر سلیمان ، غفران ساجد ، ڈاکٹر منصور خوشتر، ڈاکٹر ایوب راعین، مولانا ارشد فیضی، سیف الاسلام قاسمی، مولانا احمد حسین قاسمی، ڈاکٹر احسان عالم، مولانا خالد سیف اللہ ندوی، قاری فرید عالم صدیقی اور حافظ صلاح الدین  شامل ہیں۔ اس باب  میں مولانا کے رفیق کار اور ایسے حضرات کا مضمون بھی شامل ہے جن کومولانا کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے اور ان کے کام کے طریقہ کو قریب سے دیکھا اور سمجھا ہے۔ مولانا ابو اختر قاسمی نے ہمیشہ سماجی سروکار رکھا ہے اور اس طرح مختلف مسالک و مشارب کے لوگوں کے درمیان بھی کام کرنے کا موقع ملا ہے۔ مرتب نے مختلف مسالک و مشارب کے علما اور دانشوران کی آرا  مولانا کے بارے میں حاصل کی ہیں  اور اس کا کتاب کا جزو بنایا ہے۔ حالانکہ اس موضوع پر مواد حاصل کرنا  بھی کوئی سہل کام نہیں ہے۔

تعلیمی و تنظیمی خدمات کے عنوان سے چار شخصیات کے مضامین کو شامل کیا گیا ہے جس میں مولانا کی تنظیمی اور علمی خدمات کا بھر پور احاطہ کیا گیا ہے۔

               مولانا کی شخصیت کے اہم عنصر میں ان کا مخصوص طرز خطابت ہے جس کے لیے وہ معروف رہے ہیں اور ظرافت سے بھر ے جملے جس کا خاصہ رہا ہے۔ مرتب نے خطابت و ظرافت کے عنوان سے آٹھ شخصیات کے مضامین کو جگہ دی ہے۔ ان میں سے بیشتر وہ ہیں جنہوں مختلف جلسوں اور تقریبات میں مولانا کے ساتھ شرکت کی ہے اور  وہ خود خطابت کا بڑا ملکہ رکھتے ہیں اور اچھی خطابت کے اوصاف سے بخوبی واقف ہیں۔ کئی مضامین میں مولانا کی خطابت کے حوالے سے بہت سے یاد گار واقعات کا ذکر کیا گیا جو کتاب کو دلچسپ اور قابل مطالعہ بناتے ہیں۔ڈاکٹر عبد الودود قاسمی نے اپنے مضامین میں جلسوں میں مولانا کی شرکت اور اپنی شراکت کے حوالے سے کئی اہم یاد گار اور ان کی خوش کلامیوں کو پیش کر کے کتاب کی وقعت اور جواز میں اضافہ کیا ہے۔ اس باب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کی خطابت کے کیا اوصاف رہے ہیں اور کس طرح وہ سامعین پر اپنی گرفت بناتے تھے۔  اس سے مولانا کے دائرہ کار اور اس میں مولانا کی مقبولیت کا بھی اندازہ کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔

مرتب عارف اقبال نے مولانا ابو اختر قاسمی کی شخصیت کو شاگردوں کی نظر سے بھی دیکھنے کا اہتمام کیا ہے۔ ایک اچھا اور کامیاب استاد وہ ہوتا ہے جس کی کامیابی کی شہادت اس کے طلبہ دیں۔ایک استاد کا بہترین تجزیہ کار اس کا طالب علم ہی ہوتا ہے اور یہ کہئے کہ  ایک  درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے ۔ مولانا ابو اختر قاسمی نے بھی خانقاہ رحمانی مونگیر، مدرسہ امدادیہ اور شفیع مسلم اسکول میں استاد کی حیثیت سے اور مدرسہ اسلامیہ جھگڑوا میں ایک مربی کی حیثیت سے ہزاروں طلبہ کی تربیت کی ہے اور ان میں سے کئی آج شجر سایہ اور شاخ ثمر دار بنے ہوئے ہیں۔ مرتب نے گیارہ ایسے لوگوں کے مضامین کو جگہ دی ہے جنہوں نے ایک استاد کی حیثیت سے اپنے تجربات و احساسات بیان کئے ہیں اور بحیثیت استاد مولانا کی خوبیوں کا تذکرہ کیا ہے۔

مرتب نے اپنے ذوق ادب کا ثبوت دیتے ہوئے  کتاب میں دس افراد کے  منظوم تاثرات بھی پیش کئے ہیں۔ ایسے تاثرات میں بھی مولانا کے مختلف اوصاف کا اظہار ہوا ہے۔ کتاب کے آغاز میں مولانا کے تعلق سے اکابر اور دانشوران کے مختصر تاثرات بھی پیش کئے گئے ہیں جن سے مولانا کی مقبولیت اور عظمت کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان شخصیات میں مولانا سید ابو الحسن علی ندوی ؒ، امیر شریعت رابع، مولانا سیدمنت اللہ رحمانی، مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی، امیر شریعت سادس مولانا سید نظام الدین ، مولانا انظر شاہ کشمیری، مولانا مفتی ظفیر الدین مفتاحی، مولانا محمد قاسم مظفر پوری رحمہم اللہ کے علاوہ  مولانا اشتیاق احمد، امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی، مولانا عبد السبحان رحمانی، سابق مرکزی وزیر محمد علی اشرف فاطمی، ڈاکٹر محمد منظور عالم اور چیف سکریٹری بہار جناب عامر سبحانی جیسی شخصیات شامل ہیں۔ کتاب کی پشت پر ڈاکٹر ابو بکر عباد کے تاثرات ہیں۔ جبکہ کتاب کے اندر مولانا  ابو اختر قاسمی کا عکس تحریر اور ان کا پیام، امیر شریعت مولانا ولی رحمانی کا خط بنام مرتب ، مولانا اشتیاق احمد کے دعائیہ کلمات، مولانا ہارون الرشید قاسمی، مولانا بدر الحسن قاسمی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا قاسم مظفر پوری، مولانا انیس الرحمن قاسمی، سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر شکیل احمد اور حقانی القاسمی کی ان تحریروں کو بھی جگہ دی ہے جس میں مولانا ابو اختر قاسمی کے تئیں نیک خواہشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ خود مرتب نے مبسوط مقدمہ تحریر کیا ہے جس میں میں مولانا سے اپنی وابستگی، مولانا کے تئیں تاثرات اور اس کتاب کی اشاعت کے غرض و غایت پر بھر پور روشنی ڈالی ہے۔

               ۲۰۲۰ کا سال دنیائے انسانیت  کے لیے اس طرح یادگار ہے  کہ یہ دنیائے انسانیت کے لیے رفتار شکن ثابت ہوا۔ ہر شعبے میں دوڑتی بھاگتی زندگی ٹھہر گئی لیکن ایسے حالات میں  بھی کچھ دیوانے ایسے تھے جنہوں نے اپنے جنون عمل کو تھکنے نہیں دیا اور ایسا کچھ کر دکھایا جس کا فیض انسان کو پہنچے۔ عارف اقبال کی یہ کاوش بھی ایسے ہی  فیض رساں  عمل میں شامل ہے۔ کوووڈ ۱۹ کے سبب جاری لاک ڈاؤن کے درمیان ہی اس کتاب کے بیشتر کام کو  انہوں نے پایہ تکمیل تک پہنچایا طباعت و اشاعت کے مرحلے سے گزار کر  لوگوں کے ہاتھوں میں دستیاب کرایا۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ اس دوران وہ  خود بھی کووڈ ۱۹  سے  متاثر ہوئے  اور گھر سے بہت دور قرنطین بھی ہوئے۔ لیکن اس کے باوجود ان کے پائے استقلال میں کوئی کمزوری نہیں آئی اور یہ شوق جنوں  انہیں منزل مقصود تک  لے گیا۔

               خلاصہ یہ کہ  یہ کتاب آنے والی نسلوں کے لیے ایک بڑا قیمتی تحفہ ہے اور دعوت و تبلیغ کے میدان کام کرنے والوں کے لیےمشعل راہ بھی ہے۔

***


حاصل مطالعہ خواب باقی ہیں۔

 

حاصل مطالعہ

اندنوں اسکول مارننگ ہے۔ دوپہر سے دیر شب تک اچھا خاصا وقت رہتا ہے۔ارادہ ہوا کہ اس مارننگ کی مدت میں ایک کتاب لازمی طور پر پڑھ لی جائے۔ خالی اوقات میں موبائل کی لت کو کم کرنے کے لیے اس سے اچھا کوئی مشغلہ ہو بھی نہیں سکتا  ۔ گزشتہ کچھ دنوں سے خواہش رہتی ہے کہ کوئی خود نوشت یا آپ بیتی پڑھی جائے۔ آپ بیتیوں میں مجھے لگتا ہے کہ  زندگی کو قریب سے سمجھنے کا جتنا موقع ملتا ہے وہ دوسری کتابوں میں کم ہے۔ مصنف اگر بڑبولے پن کا شکار نہیں ہے تو حقیقی زندگی کا انعکاس ہوتا ہے۔ ایسی کتابوں سے  گردش زمانہ کو انگیز کرنے کی تحریک  اور حقائق سے آنکھیں ملانے کا حوصلہ ملتا ہے۔ آزار اور دشوار ترین حالات میں دوسروں کی  ثبات قدمی ، حوصلہ مندی و منصوبہ بندی اور  عمل پیہم کو دیکھ کر مشکل حالات کے لیے انسان خود کو تیار کرتا ہے۔ ان کتابوں سے اپنے تئیں ایک امید جاگتی رہتی ہے۔

 لہذا کتاب کی دکان  میں جا کر نگاہ  دوڑائی تو اختر الایمان کی خود نوشت ‘‘اس آباد خرابے میں’’ پر نظر پڑی۔۲۴۴ صفحات کی کتاب کی قیمت محض ۱یک سو روپے بہت سستی لگی ۔اس میں دس فیصد کی رعایت۔ سونے پر سہاگا۔

  ایم اے کے نصاب میں اختر الایمان کی شاعری کو پڑھنے کا موقع تو ملا تھا لیکن ان کی سرگزشت حیات  سے آشنائی کم تھی یا نہ تھی۔نصاب میں بھی جو پڑھا تھا وہ امتحان سے زیادہ کے لیے نہیں تھا۔  موقع غنیمت جان کر خرید لی۔ ساری مشغولیتوں کے باوجود موبائل کی لت  سے بچتے ہوئے چار دن میں  اختتام کو پہنچی۔ پہلے ہی دن ۲۷ ؍ اپریل کو دوپہر سے شب تک ۱۲۲ صفحات کا احاطہ کر لیا۔ بقیہ صفحات  یکم اپریل کی صبح ۷ بجے تک مکمل ہوگئے۔

کتاب کے چند ابتدائی سطور پڑھتے ہی اس میں  دلچسپی کا سامان نظر آیا۔ واقعی اختر الایمان کا بچپن جن حالات سے گزرا ہے اس پس منظر میں ان کو  اس مرتبہ پر دیکھنا قاری کے لیے کم محرک نہیں ہے۔ والد کا غیر ذمہ دارانہ رویہ، ماں کی بے بسی، خانہ بدوشی کی زندگی،  پسماندہ ترین بستیوں اور نامہذب افراد کے درمیان رہائش،  اوباش اور بے راہ بچوں کی صحبت، بکری بھینس چرانا، رہائش کی تبدیلی کے ساتھ تعلیم کا  طرز  بدل جانا ، گھر سے نکلنا اور کھیتوں اور جنگلوں میں پھر، فیس نہیں ہونے کی وجہ سے گھر سے نکلنا اور اسکول نہ پہنچااور نہ جانے کیا کیا۔ ایسے ناسازگار حالات  کو موافق بنالینا کسی بھی انسان کے لیے دلچسپی کا سامان بن سکتا ہے۔ ہمارا تعلق جس طرح کے  دیہات سے ہے، ان حالات کے درمیان  اگر کوئی پروان چڑھے تو شاید  اس کا خاک کا رزق ہوجانا  طے ہے۔

حالانکہ کتاب کی  ابتدا میں  مصنف کے ساتھ ہمدردی کا جو جذبہ پیدا ہوتا ہے  آگے چل کر اس میں کمی آتی چلی جاتی ہے۔ کچھ ناپسندیدہ اعمال کا ذکر انہوں نے اس کثرت سے کیا ہے کہ سلیم الطبع انسان  تکدر کا شکار  ہوسکتا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ وہ جیسے ہیں انہوں نے آپ بیتی میں خود کو ویسا ہی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ کسی پردہ پوشی اور ملمع سازی سے کام نہیں لیا ہے لیکن اس کے باوجود ایسے کچھ واقعات کا اپنے سلسلے میں یا دوسروں کے سلسلے میں  بار بار اعادہ نہ کیا جاتا  تب بھی نہ  تو کتاب کی تکمیل میں کوئی نقص پیدا ہوتا ہے اور نہ مصنف کی شخصیت سےمتعلق شبیہ  اتارنے  میں کوئی رنگ پھیکا  پڑتا۔

کتاب کا نام اور کتاب میں شامل مواد میں بڑی موزونیت ہے۔جبکہ یہ نام انہوں نے خود نہیں دیا تھا بلکہ محمود ایاز نے خود یہ عنوان دے دیا تھا ۔ مصنف کے پیش نظر اور بھی کئی نام تھے لیکن بعد میں یہ نام رہنے دیا گیا۔

 نام سے مطابقت رکھتے ہوئے  یہ کتاب زندگی کے تضاد کو پیش کرنے میں بہت کامیاب ہے۔یہ تضاد خود اختر الایمان کی زندگی کا ہے یا مجموعی طور پر ان کے وقت کے سماج کا۔ اختر الایمان نے پھر پور زندگی گزاری ہے۔ زمانے کے سرد و گرم کو خوب چکھا ہے۔ بھانت بھانت کے لوگوں سے ان کے تعلقات قائم ہوئے  ہیں۔ دنیا میں کیسے کیسے لوگ ہوتے ہیں۔ اندر سے کیسے اور باہر کیسے ہوتے ہیں۔ کس طرح سے لوگ رنگ بدلتے ہیں ۔اچھے دنوں میں لوگوں کا تعلق کیسا ہوتا ہے اور جب زندگی ہچکولے کھا رہی ہو تو انہی لوگوں کا رویہ کیا ہوجاتا ہے۔ یہ سب اس کتاب کے مطالعہ سے سیکھنے کو ملتا ہے۔

اختر الایمان کا تعلق فلموں سے رہا ہے۔ فلموں میں پردہ کے پیچھے کی زندگی کس طرح گزرتی ہے اور کس کس گھاٹ کا پینا پڑتا ہے، یہ اس کتاب میں بخوبی موجود ہے۔ پردہ پر لوگ جتنا رنگین اور حسین نظر آتا ہے ، پردہ کے پیچھے نہ تو وہ حسن ہے اور نہ ہ رنگینی۔ بھوک اور استحصال کو عیاں کرنے والی فلموں کے پیچھے بھی بھوک اور استحصال چھپا ہوتا ہے۔ فلموں میں کام کرنے والی خواتین کو کیا کیا قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ اس حوالے سے ان کے معاصرین جو فلموں کے علاوہ دنیا دیگر میدانوں میں بھی شناخت رکھتے ہیں ان کو اس کتاب میں قریب سے دیکھنے  اور ان کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔

انہوں نے مختلف ممالک  اور شہروں کا سفر کیا ہے۔ اختصار کے ساتھ ان ملکوں اور شہروں کا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے جس میں فطری مناظر کی تصویر کشی، تاریخ و ثقافت پر مختصر اور جامع روشنی ڈالی گئی ہے۔ وہاں کی مشہور شخصیات کے حوالے سے بھی تاثرات دئیے گئے ہیں۔

چھوٹے چھوٹے جملوں  میں انہوں نے زندگی کے تجربات کا نچوڑ پیش کر دیا ہے۔ زندگی کے درمیان پیش آنے والے کئی لطیفے بھی ہیں جو گدگدانے کے ساتھ چشم کشائی کا کام کرتے ہیں۔

اختر الایمان جدید طرز کے شاعر ہیں۔ فلم اور اپنی شاعری کے درمیان انہوں نے کس طرح توازن قائم رکھا اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ مشاعروں کے حالات کو بھی بیان کیا ہے۔ مشاعرہ کی شاعری کی ادبی حیثیت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔

ایک بات جس کی طرف انہوں نے بعد کے صفحات واضح اشارہ بھی کیا ہے کہ وہ کسی کی نجی زندگی میں جھانک تاک نہیں کرتے ہیں۔ایسے افراد کے ساتھ جن کی نجی زندگی میں کچھ ہے اس کے ساتھ یہ اشارہ کر دیتے ہیں کہ ان کی نجی زندگی سے انہیں کیا مطلب۔

اس طرح یہ کتاب ہر پیشہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے قابل مطالعہ ہے۔ جملے بڑے سادہ اور آسان ہیں۔ واقعات کو اتنے چھوٹی چھوٹی کڑیوں میں پیش کیا گیا کہ قاری میں اوب یا تھکن کا احساس نہیں ہوتا ہے۔ زندگی میں جو بے ترتیب لف و نشر ہے یہ کتاب بھی اسی لف و نشر کا مجموعہ ہے۔  چونکہ انہوں نے محمود ایاز کے مطالبہ پر ان کے رسالے سوغات کے لیے سرگزشت حیات تحریر کی تھی جس قسط وار چھپی تھی۔ بعد میں وہ بیمار پڑگئے جس کے بعد انہوں نے کتاب کو تسلسل میں پرونے اور نظر ثانی کا زیادہ موقع نہیں ملا ۔ اس کی اہلیہ سلطانہ ایمن نے اس کو سمیٹا اور بعد میں اردو اکادمی دہلی سے شائع ہوئی اس لیے چند واقعات کا تکرار ہے۔ اس کا احساس خود مصنف کو بھی ہے۔

تبصرہ : کتاب در کتاب

 

کتاب کا نام               :               کتاب در کتاب

مرتب                     :              ڈاکٹر وصی احمد شمشاد

سن اشاعت               :               ۲۰۲۰

صفحات                    :              ۳۰۴

قیمت                        :               ۳۰۰

ملنے کا پتہ                  :               ادارہ جہان اردو رحم گنج، دربھنگہ

مبصر                        :               احتشام الحق              

               ڈاکٹر وصی احمد شمشاد کی ترتیب ‘‘کتاب در کتاب’’ موصول ہوئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے  کہ  مذکورہ کتاب میں کئی  کتابیں موجود ہیں۔ در اصل یہ کتاب ‘جہان اردو’ دربھنگہ کے مدیر اور سی ایم کالج کے موجودہ پرنسپل ڈاکٹر مشتاق احمد  کے ان تبصروں کا مجموعہ ہے جو ‘جہان اردو’  کے مختلف شماروں میں شائع ہوچکے ہیں۔

               ڈاکٹر وصی احمد شمشاد ایل این متھلا یونیورسٹی  کے  پی جی شعبہ اردو میں اسسٹنٹ پروفیسر (گیسٹ فیکلٹی) ہیں۔ انہوں نے متھلا یونیورسٹی سے اپنا تحقیقی کام مکمل کیا ہے۔ان کی خوش بختی ہے جہاں سے انہوں نے کسب فیض کیا  اور پھر وہیں وہ بہت جلد ہی اپنا فیض لٹاتے ہوئے نسل سازی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ درس وتدریس سے وابستگی کے بعد انہوں نے قلم وقرطاس سے اپنا رشتہ استوار کرلیا ہے اور گاہے گاہے علمی   رسائل و جرائد میں ان کی تخلیقات بھی نظر آتی ہیں۔ ‘‘کتاب در کتاب’’ ان کی پہلی  کاوش ہے جو جمع وترتیب ہے۔

               تبصرے میں  کسی کتاب پر اجمالی اور عمومی رائے قائم کی جاتی ہے جس سے رسالے یا جرائد کے قاری کتاب سے  بخوبی واقف ہوسکیں۔ اس میں کتاب کے مشمولات اور مواد کا اجمالی خاکہ پیش کیا جاتا ہے ساتھ ہی مصنف کا مختصر تعارف بھی ہوتا ہے۔ ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے مصنف کی کتاب قاری کی نظر میں معتبر ہوتی ہے۔ تاہم ایک اچھا مبصر نئے لکھنے والوں سے علمی دنیا کو متعارف کراتا ہے اور اس کی علمی تازہ کاری کو سامنے لاتا ہے ۔ مبصر قاری اور کتاب کے درمیان ایک رشتہ بنانے اور پل کا کام کرتا ہے۔

                تبصرہ عام بول چال کی زبان میں رائے قائم کرنے کو کہتے ہیں۔ تبصرے میں عمومی طور پر منفی رائے سے احتراز کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے تبصرہ علمی وادبی عمل ہونے کے ساتھ ساتھ  ایک اقتصادی عمل بھی ہے۔ اس کا مقصد قاری  کی کتاب سے شناسائی پیدا کرنا اور کتاب کے لیے قاری یا خریدار بنانا بھی ہے ۔ ظاہر ہے زیادہ منفی رائے ہوگی تو کتاب کے لیے خریدار پید ا نہیں ہوسکیں گے۔ تاہم مبصر کے لیے ضروری ہے کہ اس کے تبصرے سے قاری گمراہ بھی نہ ہو ۔ کیونکہ اس طرح مبصر کی رائے سے قاری کا اعتماد مجروح ہوگا۔ ضروری نہیں کہ ساری کتابیں سارے لوگوں کے لیے  مفید و کار آمد ہو۔ اچھا تبصرہ کتاب کی نوعیت کا تعین کرتا ہے جس سے یہ واضح ہو سکے کہ یہ کتاب کس قسم کے لوگوں کے لیے زیادہ مفید اور کار آمد ہے۔

               ڈاکٹر وصی احمد شمشاد نے زیر نظر کتاب میں ڈاکٹر مشتاق احمد کے ایک سو تین تبصروں کو جمع کیا ہے جو جہان اردو کے متعدد شماروں  میں شائع ہوچکے ہیں۔ اس طرح یہ  کتاب شائقین کو بیک وقت ایک سو تین کتابوں سے شناسا کرتی ہے۔ اس میں جن کتابوں پر تبصرہ شامل ہے وہ کلاسیکی ادب، شاعری،فکشن، تحقیق، تنقید، لسانیات، تہذیب ثقافت، فکر و فلسفہ، تاریخ، سیر و سوانح ، علاقائی ادب، ادب اطفال، مذہبیات ،  صحافت اور اشاریہ سازی سمیت درجنوں علمی مضامین و موضوعات  پر مشتمل ہے۔ ان میں بیشتر تو نئی کتابیں ہیں لیکن بعض قدیم کتابیں بھی  ہیں جو نصابوں میں شامل ہیں۔ کچھ کتابیں ہلکی پھلکی قسم کی ہیں تو بعض بڑی اہم اور نایاب و گراں قدر  ہیں۔ مرتب نے انہیں یکجا کر کے تحقیق و تنقید سے دلچسپی رکھنے والوں لیے زمین  ہموار کردی ہے اور جہان اردو میں ڈاکٹر مشتاق احمد کے تبصروں کا  ایک اشاریہ مرتب کردیا ہے۔

               مرتب نے کتاب  کے آغاز میں مبصر  ڈاکٹر مشتاق احمد کا اپنا مضمون  ‘بقلم مصنف’ کے عنوان سے شامل کیا ہے جس میں مبصر  نے تبصرے  کے فن اور اس کی نوعیت پر روشنی ڈالنے کے ساتھ خود اپنی تبصرہ نگاری  کے انداز و طریقۂ  کار کو بھی ہلکے پھلکے انداز میں واضح کیا ہے۔ جبکہ مرتب نے اپنے مقدمہ میں تبصرے  کے فن پر قدرے تفصیل سے وضاحت  کے ساتھ اردو کے مشہور تبصرہ نگاروں کے بارے میں بھی روشنی ڈالی ہے اور ساتھ ہی ڈاکٹر مشتاق احمد کی تبصرہ نگاری پر ایک واضح اور قطعی رائے قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس سے مشمولہ تبصروں کو سمجھنے میں آسانی ہو تی ہے۔اس طرح اس کتاب میں ایک  جگہ عملی تبصرے کے ساتھ تبصرے کے بعض اصولوں کو بھیج جمع کردیا گیا جو  نو آموزوں کے لیے بڑے کام کی چیز ہوگئی ہے۔ مزید بر آں اس کے ذریعہ ڈاکٹر مشتاق احمد کی تبصرہ نگاری کا تجزیہ کرنے اور اس کی قدر وقیمت کا تعین کرنا بھی سہل ہوگیا ہے۔ کتاب کا انتساب پی جی شعبہ اردو ایل این ایم کے صدر ڈاکٹر آفتاب اشرف کے نام کیا گیا ہے۔

               جیسا کہ ذکر کیا گیا کہ کتاب میں  مختلف نوعیت کی کتابوں پر تبصرے شامل کئے گئے  ہیں لیکن نوعیت کے اعتبار سے کتاب میں تبصرے منتشر ہیں۔ مرتب کو چاہیے تھاکہ وہ ان مشمولہ کتابوں کی زمرہ بندی کر کے ہر ایک زمرہ کی کتابوں کو ایک ساتھ یکجا  کر دیتے تو زبان وادب کے  ایسے طالب علم کے لیے بڑی مفید ہوجاتی جو تبصرہ نگاری میں دلچسپی رکھتے ہیں ۔ انہیں اس سے یہ سیکھنے اور اندازہ  کرنے میں آسانی ہوتی کہ کس نوعیت  کی کتابوں کے تبصرے  میں کن امور  کو بطور خاص ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ خود مصنف کے حسن ترتیب کا بھی انعکاس ہوتا۔  اسی طرح وہ اگر مشمولہ ہر ایک تبصرے میں یہ صراحت بھی کردیتے کہ یہ تبصرہ ‘جہان اردو ’کے کس شمارے میں شائع ہوا تو کتاب کی وقعت اور قدر وقیمت میں اضافہ ہوجاتا اور کتاب حوالے کی چیز بن جاتی۔

               توقع ہے کہ یہ کتاب تبصرہ نگاری کے فن میں جہاں ایک اضافہ ہوگی وہیں زبان وادب کے طلبہ کے لیے عمومی طور پر اور تبصرہ نگاری سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے خصوصی طور پر مفید ثابت ہوگی۔

***

 

Ehteshamul Haque

Incharge Head Master

Nayee Taleem Rajkiya Buniyadi Vidyalay

Majhaulia, Hayaghat, Darbhanga – 846002

shaz.bazmi@gmail.com, 9234733379

Bank Details:

Name: Ehteshamul Haque
SB Bank Account: 20070088371

IFSC: SBIN0002931
State Bank of India , City Branch

 

                                                                                                                                                                                   

تبصرہ Sunny Song

 

نام کتاب:           Sunny Songs

                        (A glimpse of modern Urdu poems in English Poems)

مصنف:             ڈاکٹر محمد مجتبیٰ احمد

سن اشاعت:        ۲۰۰۹

قیمت:                ۱۲۵

ملنے کا پتہ:           مکتبہ جامعہ لمٹیڈ دہلی

مبصر   :               احتشام الحق

 

         زیر نظر کتاب ڈاکٹر محمد مجتبیٰ احمد کی ہے جو ان کے بین مضامینی تحقیقی مقالے کا ایک جزو ہے۔ انہوں نے اپنا مقالہ متھلا یونیورسٹی کے شعبہ انگریزی میں ‘‘جدید اردو نظموں پر انگریزی شاعری کے اثرات: ہیئت کے تناظر میں ایک  جائزہ’’ پیش کیا تھا جس پر انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی تفویض کی گئی۔ انہوں نے یہ مقالہ انگریزی ادب کے ماہر پروفیسر شنکرانند پالت اور معروف استاد و ناقد پروفیسر رئیس انور رحمن کی مشترکہ نگرانی میں لکھا تھا۔

مصنف ڈاکٹر مجتبیٰ احمد  کا تعلق دربھنگہ بہار سے ہے ۔ وہ سعودی عرب کی ایک یونیورسٹی میں انگریزی کے استاد ہیں۔ اردو میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے معروف ہیں۔ اردو کے موقر رسالوں میں ان کی تخلیقات شائع ہوتی رہتی ہیں اور پسند کی جاتی ہیں۔ اردو ادب کا نہ صرف ستھرا ذوق رکھتے ہیں بلکہ اردو کے ادبی ادوار اور افکار و رجحانات کو  بھی سمجھتے ہیں۔ بین مضامینی انسلاک کے سبب وہ  اردو اور انگریزی شعریات (Poetics)سے  بخوبی واقف ہیں۔ ترجمہ نگاری کے فن پر بھی انہیں دسترس و مہارت حاصل ہے۔

مصنف نے علامہ اقبال سے لے کر حنیف ترین تک کے چھبیس اہم اور صاحب طرز شعرا کی جدید اردو نظموں کا انتخاب کرتے ہوئے انگریزی میں اس کا ترجمہ کیا ہے۔ ڈاکٹر مجتبیٰ احمد کا یہ انتخاب حسین، قابل توجہ اور بہترین ہے جس سے ان کی شعر فہمی اور شعر شناسی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے اس انتخاب کو پڑھ کر ان کی شعر شناسی اور شعریات پر درک کی داد دئیے بغیر نہیں رہا جاسکتا ہے۔پیش لفظ اور دیباچے کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس انتخاب کی بنیاد انہوں نے جدت پر رکھی ہے۔ انہوں نے اپنے مقدمہ لکھا ہے کہ غالب، اقبال اور چند شعرا کی تخلیقات کا ترجمہ تو ضرور کیا گیا ہے لیکن بیشتر جدید شعرا کی تخلیقات کا اردو ترجمہ موجود نہیں ہے۔ حالانکہ محتویات کے مطالعہ  سے یہ احساس ہوتا ہے  کہ اس کی بنیاد محض جدت ہے نہ کہ شاعری کے رجحان کے اعتبار سے جدیدیت۔ ہیئت اور اظہار کی سطح پر  بھی یہ جدت واضح طور سے انتخاب کلام سے نظر آتی ہے  اور جس کا سراغ مقالہ کے عنوان سے بھی  ملتا ہے لیکن کتاب کے اندر یا دیباچے میں ہیئت کے حوالے  سے گفتگو ناپید ہے۔

انہوں نے ترجمہ کی اہمیت پر اظہار  خیال   ضرور کیا ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ ہندوستان جیسے بڑے کثیر لسانی سماج میں بین لسانی اور بین ثقافتی ترسیل کے لیے ترجمہ بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ڈاکٹر مجتبیٰ احمد کا یہ انتخاب اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس سے انگریزی زبان میں اردو شاعری کا بہترین نمونہ کی عکاسی ہوگی۔ ورنہ کئی دفعہ دیکھا جاتا ہے کہ بعض مترجمین ترجمہ کے شوق میں ایسی کتابوں یا تخلیقات کا ترجمہ کر دیتے ہیں جس کی حیثیت خود  اس کی اپنی زبان  میں  جس میں وہ لکھی گئی ہوتی ہے ، مستحکم نہیں ہوتی  ہے۔ حالانکہ یہ درست ہے کہ ترجمہ کسی بھی مترجم کی اپنی جائیداد ہے ۔ وہ اس کا جیسا چاہے استعمال کرے۔ اگر اس نے کسی ادب یا تخلیق کا ترجمہ کرتے ہوئے اصل سے الگ کوئی ترجمہ نہیں کیا ہے تو اس پر کلام کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یا پھر ترجمہ پر اس جہت سے گفتگو کی جاسکتی ہے کہ مترجم ترجمہ نگاری میں کتنا کامیاب ہوا ہے؟  لیکن ادب کے طالب علم کی  توجہ اس جانب ضرور مبذول ہو جاتی  ہے کہ کوئی  مترجم جس چیز کو دوسری زبان میں منتقل کر رہا ہے وہ خود اس زبان میں جس میں وہ لکھی گئی  ہے   کس مرتبہ کی حامل ہے۔ ہم جانتے ہیں ترجمہ دو زبانوں میں پل کا کام کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی ایسی چیز کا ترجمہ کیا جائے جس کی  ادبی ؍ علمی حیثیت خود اپنی اصل زبان میں مستحکم نہ ہو تو وہ دوسری زبان میں پہنچ کر ترجمہ پڑھنے والے لوگوں کے لیے  اُس زبان کی ادبی سطح کے تعین میں گمراہ کن ثابت ہوگی۔

زیر نظر کتاب  میں شامل نظمیں  نہ صرف اردو ادب کا اعلی نمونہ اور ماہرین فن کے کلام ہیں بلکہ ادب کی مختلف روایتوں، رجحان، تحریکات اور انداز فکر ونظر کی ترجمانی کرتے ہیں۔ مزید برآں اردو زبان میں عہد بہ عہد فکر و نظر کی جو تبدیلی آئی ہے، موضوع اور ہیئت کے لحاظ سے جو بدلاؤ آیا ہے اس کے مشمولات سے اس کی بھی عکاسی ہے ۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ ترجمہ اردو کے فن پارے کا نمائندہ اور ترجمان بننے میں کامیاب ہوا ہے۔

شعری و ادبی تخلیقات کے ترجمہ کی جو مشکلات ہیں مترجم کو اس کا خوب خوب  اندازہ ہے۔ اس حوالے سے  رابندر ناتھ ٹیگور کی نظموں کے خود اپنے ترجمے پر پیدا ہونے والے تنازع کا بھی ذکر مترجم نے دیباچے میں کیا ہے۔ ہر زبان  میں محاورات اور ساختیات  کا اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے جس کو ترجمہ میں برتنا کتنا مشکل ہے اس حوالے سے بھی انہوں نے گفتگو کی ہے۔ مصنف کا دیباچہ ترجمہ نگاری کے حوالے  سے اہمیت کا حامل ہے۔ ان امور اور پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے مصنف نے جدید اردو نظموں کے انتخاب کو انگریزی کے پیراہن میں اس کو اتارنے  کی کامیاب کوشش کی ہے۔ پروفیسر وہاب اشرفی نے  بھی اپنی تقریظ میں ان کے ترجمہ کی کامیابی  کا اعتراف کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں: ‘‘کتاب کے محتویات کا مطالعہ پہلی قرأت کے بعد مسلسل قرأتوں پر اکساتا ہے ہے۔ ترجمہ ایسا ہے کہ اس میں کوئی خاموشی کا پہلو ہے اور نہ ہی تعطل کا اور تمام امور ایک تسلسل میں پروئے نظر آتے ہیں۔

بلا شبہ مصنف کا یہ انتخاب اوریجنل شاعری کا انتخاب ہے اور قاری کے لیے سامان مسرت و بصیرت ہے۔ انہوں جن شعرا کا انتخاب کیا ہے اگر ان کی تاریخ پیدائش و وفات درج کردیتے اور ان کے فکری رجحان کی طرف مختصر اشارہ کر دیتے تو عہد بہ عہد فکر ونظر کے اختلاف کو سمجھنے اور شاعری کے موضوعات کے ارتقا کو محسوس کرنے میں ادب کے طالب علم  کو سہولت ہوتی۔

مجموعی طور پر کتاب عمدہ ہے اور نئے آئیڈیا کے ساتھ آئی ہے۔ حالانکہ یہ کتاب ۲۰۰۹ میں ہی شائع ہوئی ہے مگر آئیڈیا کی جدت باقی ہے۔ یہ اور بات  ہے کہ یہ کام دقت طلب ہے جو ہمارے دیار میں اس زبان والوں کے درمیان عنقا ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ اہل علم کے درمیان یہ کتاب پسند کی جائے گی۔