مشمولات

Thursday, 13 December 2012

Supreme Court Verdict about fabricated terrorist



مائی نیم از خان بٹ آئی ایم ناٹ ٹیررسٹ
خفیہ ایجنسیوں، حکومت اور قومی میڈیا کے کانوں پر جوں رینگے گی؟

گزشتہ سال کے پہلے سہ ماہے میں جب ملک کے بڑے بڑے سیاست داں اور کابینہ سطح کے وزرا اے راجا، کلماڈی اور اس وقت کے وزیر داخلہ پی چدمبر م اور ان کے صاحب زادے کے چہروں سے نقاب اٹھا اور اربوں ارب روپوں کے گھوٹالوں کا انکشاف ہوا ، قومی میڈیا اپنی اپنی پالیسیوں اور رجحانات کے تحت ان واقعات کی گتھیوں کو الجھا اور سلجھا رہا تھا کہ اچانک اس میں ایک نیا موڑ آیا اور اس طرح کی ساری خبریں پس پشت ڈال دی گئیں۔ ہوا یوں کہ اچانک شمالی بہار کے سیدھے سادھے مسلم نوجوان دہلی اور بہار کے کئی اضلاع سے دہشت گردی کے نام پکڑے جانے لگے۔ ملک کی ساری خفیہ ایجنسیاں ان علاقوں پر ٹوٹ پڑیں اور قومی میڈیا گزشتہ واقعات سے منہ موڑ کر ان واقعات کے سلسلہ میں ایسی ایسی کہانیاں گھر نے لگا کہ محسوس ہوا کہ پورا ملک صرف انہی علاقوں کے دہشت گردوں کی زد پر ہے۔ ایجنسیوں نے اس علاقہ کو دہشت گردی کا ایک ماڈیول قرار دیا اورقومی میڈیا نے اسے بھر پور جگہ دی۔ چونکہ یہ ریاست کے اپنے وقار کا مسئلہ تھا اس لیے حکومتی سطح سے اس بات کی تردید کی گئی کہ کسی ماڈیول کا نام دینا سراسر غلط ہے لیکن ایجنسیوں کے ذریعہ گرفتاریوں کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ حکومت کا مسئلہ نہیں تھا اس لیے حکومت کو اس سے واسطہ بھی نہیں رہا۔ اب میڈیا میں اس کے ان خبروں نے وہ جگہ پائی کہ گھوٹالوں ، سیاست دانوں کے کالے کرتوتوں اور ملک کو کھوکھلا کرنے کی سازشوں کی ساری خبریں اس طرح بھلادی گئیں گویا یہ وقوع پذیر ہی نہیں ہوئی ہیں۔ اس شور میں کو ے کو تو دیکھنے کی کوشش کی گئی لیکن کان پر کسی نے توجہ نہیں دی۔اس علاقے کے مسلمان اپنی روداد سناتے رہے لیکن کسے پڑی ہے کہ ان کی روداد سنے ۔ خفیہ ایجنسیوں نے گرفتار شدہ مسلم نوجوانوں سے ملک کے سارے دہشت گردانہ حملوں اور دیگر نام نہاد منصوبوں سے جوڑ دیا۔ ابھی یہ سلسلہ تھما بھی نہیں تھا کہ دہشت گردی کے الزام میں پکڑے گئے ایک مسلم نوجوان عامر کو ۴۱ سال کی عمر عزیز ضائع کرنے کے بعد انصاف ملا اور وہ بے داغ بری ہوا۔ قومی میڈیا جس طرح سے گرفتاریوں کو خبر بناتا ہے اس کی بے داغ رہائی اور پولیس کی بے جا گرفتاری کو وہ جگہ نہیں دے سکا ۔ اردو میڈیا ابھی اس کی مظلومیت کی داستا بیان کر ہی رہا تھا کہ نرودا پاٹیا اجتماعی قتل کیس معاملہ مین ۲۳ لوگوں کو سزا ہوئی ۔ قومی میڈیا کے لیے یہ خبر ان کی پالیسی کے مخالف تو تھی ہی خود حکومتوں اور ان بیرو کریٹوں کے لیے جو فرقہ پرست ذہنیت لیے ہوئے ہیں (بڑی تعداد ایسی ہی ہے) بڑا ہی مسئلہ تھا۔ عین اس کے ایک ہفتہ بعد اس جا اس جا سے ۸۱ مسلم نوجوانوں کو پھر دہشت گردی کے نام پر پکڑا گیا۔ قومی میڈیا کے لیے سزا یافتوں کی پردہ پوشی کا سامان مل گیا اور ان کے لیے یہی خبر سب سے بڑی تھی کہ ایک ساتھ ۸۱ ایسے مشتبہ دہشت پسند (اردو میڈیا کے لیے ورنہ غیر اردو میڈیا کے لیے دہشت گرد) گرفتار ہوئے ۔ ان سب کے ساتھ جو کہانی دھرائی گئی وہ سب ایک ہی طرز کی اور گزشتہ واقعات سے ملتی جلتی۔ ان سب پر یہ الزام لگایا گیا کہ یہ بڑے سیاست داں، صحافی وغیرہ پر حملہ کرنا چاہتے تھے۔ چونکہ گرفتار شدگان میں ایک مسلم نوجوان سائنس داں بھی ہے اس لیے کہانی بھی اسی طرح کی بنائی گئی کہ ان دہشت گردوں کے نشانہ پر ملک کے جوہری تنصیبات بھی تھے۔ حالانکہ ایسی کہانیاں اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ دہرائی جاچکی ہیں۔ کسی اہم واقعہ کے بعد جب ایسی گرفتاریاں عمل میں آتی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں کے پاس Ready Reference کے طور پر مجرمین موجود رہتے ہیں اور ان کی گرفتاریاں کسی اہم واقعہ سے لوگوں کی نظریں پھیرنے کے لیے مؤخر رہتی ہیں۔ محسوس کرنے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ دس برسوں سے ملک کے مختلف علاقوں سے جس طرح مسلم نوجوانوں کو بے دریغ گرفتار کیا جارہا ہے کہ اگر واقعی اتنی بڑی تعداد میں ملک میں دہشت گرد موجود ہیں تو دہشت گردانہ واقعات کی تعداد دیگر تشدد پسند تنظیموں کے ذریعہ انجام دئے جانے والے واقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان تنظیموں کے مقابلہ میں دہشت گردانہ واقعات کم ہیں۔ ایک اور بات جو محسوس کرنے کی ہے کہ ان ساری گرفتاریوں کے ساتھ کسی ماسٹر مائنڈ کا تعلق ہوتا ہے لیکن بے تحاشہ گرفتاریوں کے باوجود ماسٹر مائنڈوں کی گرفتاری کیوں نہیں ہوپاتی ہے؟ اور وہ کیوں بچے رہ جاتے ہیں؟ ابھی گزشتہ دنوں ٹاڈا کیس میں ماخوذ گیارہ مسلم نوجوانوں کو ملک کی عدالت عظمی نے نہ صرف رہائی کا فیصلہ دیا بلکہ اس نے محسوس کیا کہ ملک میں مخصوص فرقے کے ساتھ خاص طرح کی زیادتی ہورہی ہے اس لیے اس نے مشورہ دیا کہ جو لوگ قانون کے رکھوالے ہیں وہ کسی مخصوص فرقہ کے ساتھ ایسا رویہ روا نہ رکھیں کہ اسے کہنا پڑے کہ ”میرانام خان ہے لیکن میں دہشت گرد نہیں ہوں“۔ یہ خبر اور عدالت عظمی کا یہ بیان بھی قومی میڈیا کی پالیسیوں کے خلاف تھا اس لیے اسے وہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ادھر خفیہ ایجنسیوں کے لیے جو بات تھی سو تھی ہی ، اس کے چند دنوں بعد پھر اخباروںمیں خبر دی گئی کہ انڈین مجاہدین کے تین انتہا پسند گرفتار ۔ ان پر بھی وہی الزام لگایا گیا کہ کئی مذہبی مقامات ان کے نشانہ پر تھے اور انہوں نے حال ہی میں گجرات میں دہشت گردانہ حملہ کی کارروائی انجام دی تھی۔ در اصل یہ واقعہ ان گیارہ بے قصوروں کی گرفتاری کی خبر اور تجزیوں سے دانشوران اور عام لوگوں کی نظروں کو پھیرنے کا کھیل ہے ۔ اگر یہ ایجنسیاں اتنی چاق وچوبند ہیں تو واقعات کے انجام دینے سے پہلے انہیں خبر کیوں نہیں ہوپاتی۔ جن کے بارے میں یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ یہ فلاں واقعہ انجام دینے والے تھے اکثر ایسے مقدمات میں ماخوذ نوجوان بے قصور ثابت ہوئے ہیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خفیہ ایجنسیاں منظم سازش کے تحت یہ کام کررہی ہیں جس میں حکومت اور پورا سسٹم ان کا بھر پور معاون ہے۔ اس میں قومی میڈیا بھی ہر گام ان کے ساتھ ہے۔ خفیہ ایجنسیاں بے قصوروں کو گرفتار کرتی ہے اور قومی میڈیا ان گرفتاریوں کے بارے میں رائے عامہ ہموار کرتا ہے۔ 
            گزشتہ دنوں گیارہ لوگوں کی رہائی کے عدالت عظمی نے جو بیان دیا وہ گوکہ خفیہ ایجنسیوں کے لیے شرمندگی کی بات ہے لیکن وہ ایجنسیاں اور حکومت جو کئی مرتبہ عدالت عظمی کی ایسی باتیں سنتے آئے ہیں لیکن ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی، ان باتوں کا ان پر کوئی اثر کیا پڑے گا۔ دوسری طرف خود مسلمان جو اس بات کو محسوس کررہے ہیں لیکن وہ اس بات کے لیے تیار نہیں ہیں حکومت کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا احساس دلانے کے لیے کچھ کرسکیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ زور انداز میں ہم حکومت کو یہ احساس دلائیں کہ مسلمانوں کے خلاف خفیہ ایجنسیوں نے جو رویہ اپنا رکھا ہے وہ اس کے لیے قومی تحریک چھیڑی جاسکتی ہے۔ ساتھ قومی میڈیا کو بھی یہ احساس دلانے کی ضرورت ہے کہ ان کے رویہ کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج چھیڑا جاسکتا ہے۔ قومی میڈیا جس طرح سے غلط بیانی سے کام لیتا ہے انہیں آزادی رائے کے نام پر چھوڑ ا نہیں جاسکتا بلکہ اس سلسلہ میں مناسب قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ 


Wednesday, 12 December 2012

ہندی میڈیا کا طرز عمل


دہشت گردی کے نام پر گرفتاریاں اور ہندی میڈیا کا طرز عمل
               
                پچھلے چھ ماہ سے دہشت گردی کے نام پر فرضی گرفتاریوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے وہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ابھی پھر دربھنگہ سے محمد کفیل کی گرفتاری عمل میں آئی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سائیکل مستری ہے۔ دن بھر محنت ومزدوری سے روز کا کھانا خرچہ جوڑتا ہے۔ اس کے پاس رہنے کو اچھا گھر بھی نہیں ہے اور نہ یہ پڑھا لکھا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ معاملہ کے اصل ملزم یسین بھٹکل سے اس کے گہرے روابط تھے۔ یہ آئی ایم کے لیے Motivatorکا کام کرتا تھااور اس پر فرضی پاسپورٹ اور دھماکہ دار دار اشیا رکھنے کا بھی الزا م ہے اور اس کے بارے میں دلی کے کسی تھانہ میں معاملہ درج ہے۔
                بتائیے کہ ایک شخص جو غریب ہو ، جاہل ہومحنت ومزدوری سے کھانا خرچہ جوڑتا ہو وہ Motivatorکا کام کس طرح انجام دے گا۔ کیا اسے اس کے بدلہ اتنا بھی پیسہ نہیں مل پاتا کہ وہ بہ آسانی اپنا کھانا خرچہ جوڑلے۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے ڈھنگ سے گفتگو بھی نہیں کرنے آتی ۔ اب ایک شخص جس کو گفتگو کرنے نہیں آتی وہ Motivatorہو جائے کیا یہ ممکن ہے؟ کسی ایسے کام کی رغبت دلانا جس کے لیے بہر حال جرأت چاہیے ٹوٹی پھوٹی زبان میں رغبت دلائی جاسکتی ہے۔ ایک آدمی جو جاہل ہو فرضی پاسپورٹ کا معاملہ کرے۔ جو کبھی دہلی گیا ہی نہیں اس کے بارے دلی میں معاملہ درج ہو یہ کیسے ہوسکتا ہے؟
                اب تک دہشت گردی کے نام پر ایک درجن سے زیادہ گرفتاریاں عمل میں آچکی ہیں اور اس سے زیادہ لوگوں سے پوچھ تاچھ ہوچکی ہے ۔ اس کے باوجود اب تک اصل ملزم کا پتہ نہیں چل پایا ہے اور نہ اب تک اخبار وں میں یہ خبر آئی ہے کہ یہ کوئی غیر ملکی تھا۔ اگر یہ ملک کا تھا تو کیا اس کے گھر بار ، اس کے ماں باپ اور رشتہ دار نہیں ہیں۔ اب تک نہ اس کے گھر باراور اس کے ماں باپ کے بارے میں ہی کوئی خبر چھپی ہے۔ دہشت گردی کے نام پکڑے گئے افراد کے سلسلہ میں جو خبریں چھپتی ہیں اس سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ اصل ملزم سے زیادہ زور ان پر ہے جو اس کے رابطہ میں آئے ہیں۔اگر واقعی ایسا کوئی آدمی تھا جس نے لوگوں کو گمراہ کیا ہے تو ایسے لوگوں کی یقینی طور پر شناخت ہونی چاہیے جن کے ذہن کو پراگندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ انہیں رواداری اور جمہوریت کی اہمیت وضرورت کا احساس دلایا جاسکے ۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ یسین بھٹکل اگر واقعی گوشت پوشت سے بنا آدمی تھا تو اس کا گھر ہوگا ، ماں باپ ہوں گے آخر ان پر کوئی کاروائی کیوں نہیں ہوتی ؟ یا اگر ہوئی ہے تو کوئی خبر کیوں نہیں شائع ہورہی ہے؟ ایسے لوگ جو اس سے رابطہ میں آئے ایک ایک کرکے کی ان کی شناخت ہوسکتی ہے انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے اور پھر ان کی شناخت پر نئے چہرے سامنے آسکتے ہیں اور جس نے اتنا بڑا نیٹ ورک چلایا وہ پولس کی پہنچ سے اب تک باہر ہویہ بڑی عجیب سی بات ہے!!!
                ایک طرف ہندی اخباروں نے دھماچوکڑی مچا رکھی ہے کہ ادھر کوئی شخص گرفتار نہیں ہوتا ہے کہ یہ اخبار بڑے ہی محکم انداز میں لکھتا ہے ایک اور” آتنک وادی “پکڑا گیا۔ حتی کہ کوئی شخص اگر پوچھ تاچھ کے لیے بھی اٹھتا ہے اور اس کے بارے اس کی وضاحت نہیں ہوتی ہے تو یہ یہی لکھتا ہے کہ ”آتنک وادی “پکڑا گیا۔ کیا پریس کی آزادی کا یہی مطلب ہے کہ جس کو چاہے بے آبرو کردے اور جس کی چاہے شبیہ بگاڑدے اور جس کے سر چاہے الزام دھرتا چلا جائے ۔ اگر کورٹ ان کوبے قصور سمجھ کر رہا کردے گی اور ضرور کرے گی تو کیا ہندی اخبارات جو آج لوگوں کی شبیہ بگاڑ رہے ہیں انہیں ہتک عزتی کا معاوضہ دیں گے اور اگر دے بھی دیں تو سماج میں ان کی عزت وآبرو جو رسوا ہوچکی ہے واپس آجائے گی؟
                جیسے ہی کوئی شخص پکڑا جاتا ہے جس کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ اصل ملزم سے اس کا رابطہ تھا ، میڈیا والے اس کے گھر پہنچ کر اس کے گھر محلے اور گاؤں کی تصویریں لیتے ہیں ماں باپ، رشتہ دار اور گاؤں محلے والے سے اس کے بارے میں پوچھ تاچھ کرتے ہیں ۔ آخر اصل ملزم کے ماں باپ اور گھر اور علاقے کی تصویر یں اور ان کے بیانات کو سامنے کیوں نہیں لانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہندی انگریزی میڈیا جو ایسے موقع پر خبروں کے حصول کے اپنے وسیع ذرائع کا احساس دلاتے ہیں اس شخص کی معلومات حاصل کرنے اور انہیں شائع کرنے میں کیوں ناکام ہیں؟کیا یہ جرم خاموشی شعوری تو نہیں ؟
                 کیا مسلم قیادت ان سے اتنا پوچھنے کے مجاز نہیں کہ ان ہندی اخباروں کے پاس پکڑے گئے لوگوں کے مجرم ہونے کے کیا ثبوت ہیں۔ اگر قیادت ایسا نہیں کرسکتی تو کیا قانون حق اطلاعات(RTI) کا سہارا لیتے ہوئے ان سے نہیں پوچھا جاسکتا کہ آپ نے ان کو ”آتنک وادی “لکھا ہے اس کے بارے آپ کے پاس کیا ثبوت ہیں جبکہ معاملہ ابھی کورٹ نہیں پہنچا ہے اور اگر قوم میں اتنی جرأت بھی نہیں ہے تو کیا ہم مسلمان ایک دن کے لیے ہی سہی احتجاجا ان اخباروں کو خریدنے سے نہیں رک سکتے ؟
٭٭٭
                

A circle around the Indian Muslim


ہندوستانی مسلمانوں کے گرد تنگ ہوتے دائرے


                                                                                                                                                                               
                ہندوستان میں مسلمانوں کے فکری ارتداد، تہذیبی زوال، علمی تنزل اور اسلامی تشخص کی گمشدگی کی ابتدا تو عہد اسلامیہ ہی سے ہوگئی تھی۔ جس کا نقطہ عروج عہد اکبر کو کہا جاسکتا ہے کہ جب دین اسلام کی جگہ دین الٰہی کی بنیاد ڈالی گئی۔مسلمانوں نے دینی شعاراور اسلامی عقائد کی مخالفت کو شیوہ بنالیا ۔ قرآن واحادیث اور فقہ کی تعلیم کو فرسودہ سمجھ کر چھوڑدیا گیا،ویدوں اور دیگر سنسکرت اور غیرمسلم مذہبی کتابوں کو اہمیت دی جانے لگی تھی۔ مسلمان قشقہ کھینچنے اور جنیو باندھنے لگے تھے۔ گائے حرام اور سور حلال کردئے گئے تھے۔ وہ تو بھلا ہوا کہ ایسے وقت میں علما کی ایک بہت چھوٹی سی جماعت نے اس ارتداد کا مقابلہ کیا جس میں سر فہرست شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی ؒ جیسی شخصیت تھی جنہوں نے آگے بڑھ اس کا کام کو انجام دیا۔انہوں نے ہندوستان میں اسلام کی ڈوبتی نیا کو سہارا دیا اور ظل الٰہی کے برخلاف اسلام کی تبلیغ واشاعت کی اور مسلمانوں کو اپنے دین پر قائم کیا ۔ اسلامی تعلیمات کو عام کیا اور اسلامی تشخص کو بچانے اور حالات کا رخ پھیرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ اس کے بعد شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اور ان کے جانشینوں نے اس کاز کو آگے بڑھایا اور ہندوستان میں اسلامی تعلیمات اور اسلامی تشخص کی بقا اور فروغ کی جہت میں کارہائے نمایاں انجام دئے۔ لیکن چونکہ مسلم حکمراں اپنی توانائی کھوچکے تھے اس لیے وہ بہت دنوں تک اپنی ساکھ مضبوط نہیں رکھ سکے ۔ ان پر ادبار کی گھٹا ایسی چھائی ہوئی تھی کہ ان کے لیے اپنی بقا کی جنگ ہی بہت اہم تھی جس میں وہ ناکام تھے تو تعلیم اور تہذیب پر کیا نظر کرتے ۔ پھر انہوں نے ملک کے اعلی منصبوں پر جن کو فائز کیا تھا ان کے رہتے ہوئے ملی احساس کی بیداری کے تئیں تعلیم کے ذریعہ بہت اچھا قدم اٹھایا بھی نہیں جاسکتا تھا۔
                مسلم حکمرانوں کی حکومت کے سقوط کے بعد جب انگریزی سامراج کا قیام ہوا تو پھر ایک بار اسلامی تشخص کو مٹانے کے نئے حربے اپنائے جانے لگے۔ انہیں قومی فکر کے دھارے کو موڑنے میں تعلیم کے بہتر ذریعہ ہونے کا بھر پور احساس اور تجربہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے عیسائیت کی تبلیغ کا ذریعہ تعلیم ہی کو بنایا اور ملکی نظام تعلیم کی تشکیل اس طرح کی کہ ملک کا ہر شہری کرسچنیٹی کے رنگ میں رنگ جائے ۔ تو دوسری طرف بغاوت کے نام پر صاحبان فکر اور حامیان دین (علما ) کی سر کوبی کا سلسلہ شروع کیا تاکہ ملک میں قوم کی فکری بیداری کے جو ذرائع ہیں انہی چراغوں کو گل کردیا جائے۔ لیکن اس وقت یہ متحدہ قومیت کا مسئلہ تھا۔ ہندوؤں میں بھی ایسی روشن خیالی نہیں آئی تھی کہ وہ مذہبی احساس کو کھودیں اور مسلمانوں میںمجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہمااللہ اور ان کے جانشینوں نے قوت فکروعمل کی بیداری کی جو پود لگائی تھی وہ ہری تھی۔ چنانچہ علما کے طبقہ نے ملک بھرمیں مدارس اسلامیہ کاجال بچھا دیا تاکہ فرزندان توحید کے اسلامی جذبہ وحمیت، تہذیبی آراستگی اور مذہبی شناخت کو باقی رکھا جاسکے۔ اس طرح فرنگی عہد میں بھی علمائے کرام نے نہ صرف مسلمانوں کی اسلامی شناخت کو باقی رکھا بلکہ گزشتہ عہد کے بالمقابل مذہبی نشأة کی داغ بیل ڈالی اور علمی برتری بھی حاصل کی۔ایسے وقت میں سرسید ؒ کی خدمات کو بھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بھی اس ملی تنزل کو محسوس کیا اور مسلمانوں کی مذہبی شناخت کی بقا کے ضمن میں غیر معمولی اقدامات کئے۔ بلاشبہ ان سے اساسی غلطیاں ہوئیں لیکن ان کی دینی حمیت اور جذبہ کے خلوص اور صداقت سے انکار بددیانتی ہے۔
                پھر جب ملک آزاد ہوگیا اور نئی آزاد ریاست قائم ہوئی توآئین بناتے وقت اسے ایک سیکولر ملک کا درجہ دیا گیا اور یہ آزادی دی گئی کہ ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کا اختیار ہوگا اوروہ اپنے اپنے مذہب ، تہذیب اور زبان کی حفاظت اور ان کی تعلیم کے لیے آزاد ہوں گے۔ اس کے باوجود آزادی کی فورا بعد سے ہی ایسی کوششیں کی جاتی رہیں کہ مسلمانوں کو ان کے مذہب سے منحرف کرکے ان میں الحادلایا جائے۔ اس طرح ملک کے سیکولر رتبہ کے باوجود آزاد ہند کے ہر دور میں ملکی نظام تعلیم کو زعفرانی رنگ دینے کی کوشش کی جاتی رہی وہیں مدارس اسلامیہ پر بغاوت، دہشت گردی تو کبھی فرسودگی اور نہ جانے کیسے کیسے الزامات عائد کرکے فکری بیداری کے اس دروازے کو بندکرنے اور عام مسلمانوں کو ان سے نفرت دلانے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ چونکہ ملک کا آئین سیکولر کہلاتا ہے اور ہر شخص کو عقیدہ وضمیر کی آزادی کا حق حاصل ہے اس لیے مسلمانوں نے ہر دور میں اس کے خلاف جنگ کی اور اس حملے کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ فی الوقت انہیں کامیابی بھی ملی لیکن حکومت اور نظام انہی فرقہ پرست ذہنیت کے ہاتھوں میں رہے اس لیے نئے نئے حربوں کے ذریعہ اس طرح کی کوششیں جاری رکھی گئیں۔ چونکہ آئین میں بنیادی حقوق کے تحت آزادی عقیدہ وضمیر کا حق دیا گیا ہے جس کے تحت اپنے مذہب وفکر کی تبلیغ اور تعلیم کے لیے ادارے قائم کئے جاسکتے ہیں اس لیے ملک کے حساس اور دینی حمیت رکھنے والے علما ودانشوران کی ایک جماعت نے جہاں مدارس ومکاتب کے ذریعہ مسلمانوںمیں اسلامی شناخت اور فکری بیداری کو کوششیں جاری رکھیں ،وہیں ملکی نظام تعلیم سے ہم آہنگ عصری اسلامی تعلیمی ادارے قائم کئے تاکہ ہر سطح سے نئی نسل میں اسلامی تشخص کو بیدار رکھا جاسکے اور ان میںدینی جذبہ اور حمیت کو باقی رکھا جاسکے۔ چنانچہ یہی وہ ذرائع ہیں جنہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کو اس میدان میں کامیاب کیا ہے اور فکری تصادم میں ان کا وجود قائم ودائم ہے۔ لیکن فرقہ پرست عناصر نے ایک مرتبہ پھر اس جہت میں ایک نیا قدم اٹھایا اور مسلمانوں کی فکری بیداری کے دروازے بند کرنے کے لیے نیا حربہ اپنایا ہے۔ یہ نیا حربہ ہے بچوں کے مفت اور لازمی تعلیم حاصل کرنے کا حق۔ بظاہر یہ قانون ایک فلاحی ریاست کا احساس دلاتا ہے جو گرچہ کوئی نیا تصور نہیں ہے بلکہ اسی ملک میں پہلے وزیر تعلیم مولانا آزاد نے دیا تھا جو اب عملی جامہ پہن سکا ہے۔ لیکن اس کے بین السطور وہ پیچیدگی ڈال دی گئی ہے کہ مسلمانوں کی فکری بیداری کے دروازے بند ہوجائیں اور اگر یہ مذہب منحرف سمت میں چلیں تو پہلے روشن خیالی اور مذہبی سمت میں چلیں تو بد عقیدگی کی طرف گامزن ہوں اور ایک دو نسلوں کے بعد اس کے اثرات الحاد و ارتداد کی شکل میں ظہور پذیر ہوں۔
                آج پھر ان دونوں ذرائع کے لیے مشکل پیدا ہورہی ہے۔ کیوں کہ موجودہ قانون کی روسے تعلیم دینے کے لیے ضروری ہے ادارہ اور اس کا پورا نصاب حکومت سے منظور شدہ ہو اور ان کا قطعی طور نفاذ ہوتا ہو۔ اگر کسی سطح سے اس میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو یہ ایک جرم ہوگا اور اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ حتی کہ والدین بھی اگر ایسے اداروں سے اپنے بچوں کو کو دور رکھتے ہیں تو وہ کارروائی کے مستحق ہوں گے۔ اس کا سیدھا اثر اعلی سطحی مدارس پرتو نہیں پڑے گا لیکن مدارس میں جہاں سے بچے آتے ہیں یعنی مکاتب وہ اس کی زد میں آئیں گے اور ایسے ادارے جو عصری واسلامی ادارے کہلاتے ہیں اس سے متاثر ہوں گے۔ پہلی بات تو یہ کہ ان کا نصاب وہی ہوگا جو سرکاری تعلیمی محکمہ کی سطح سے پورے ملک کے لیے معیاری طور پر تیار کیا جا ئے گا۔ اب اس میں اسلامی تعلیمات اور تہذیب کی جگہ کہاں سے ہوگی اور اگر اضافی طور پر وہ اسے شامل کرتے ہیں تو یہ غیر قانونی عمل ہوگا ور کوئی طالب علم اس کی شکایت درج کراتا ہے تو مدرسہ کا مواخذہ کی زد میں آنا طے ہے۔ اس قانون کے تحت ہر ادارے میں پڑوس کے ۵۲فیصد بچوں کا داخلہ لازمی ہے۔ اگر ۵۲ فیصد بچے پڑوس کے داخل نہیں ہوتے ہیں اسے منظور ی ہی نہیں ملے گی۔ اگر پڑوس میں غیر مسلم کی تعداد ہے تو وہ اس کے نصاب کو کیوں برداشت کریں گے اور پھر نتیجہ وہی مواخذہ ہوگا۔ دوسری طرف یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ملک میں فرقہ پرست ذہنیت اتنی بار پاچکی ہے کہ ایسے ادارے جو کسی مسلمان کے زیر انتظام ہوں اور اس کے منتظمین سیکولر کہلانے کے لیے اس انتہائی درجہ کو بھی پار کرچکے ہوں کہ خود مسلمانوںمیں اچھی نظر سے نہ دیکھے جاتے ہوںتب بھی غیر مسلم اپنے بچوں کو ان اداروں میں داخلہ نہیں دلاتے چہ جائے کہ اس میں اسلامی درسیات شامل کی جائیں۔ یہ سارے اسکول کل وقتی ہوں گے جن میں ہر ہفتہ کم ازکم ۵۴ گھنٹوں کی تدریس لازمی ہے۔ یہ تدریس سرکار سے منظور شدہ مضامین کے لیے ہوگی ۔ اسی میں روزانہ ساڑھے سات گھنٹے صرف ہوجائیں گے تو اضافی مضامین کے لیے وقت کہاں سے نکالا جاسکتا ہے۔
                اب جب اسی سطح سے دین ومذہب سے بیگانہ ہوکر بچے آگے بڑھیں گے تو آگے دینی تعلیم کا حصول ان کے لیے مزید مشکل ہوگا۔ رفتہ رفتہ ان کے اندر سے دینی احساس ختم ہوتا چلائے جائے گا ۔ اس طرح تہذیب مخلوط ہوگی۔ شناخت مٹے گی اور وجود ختم ہوجائے گا۔
                چونکہ مکاتب کا مرحلہ لازمی تعلیم کے زمرے میں آتا ہے اس لیے ان کو بھی منظور شدہ نصاب ہی پڑھانا ہوگا اور مدارس میں جانے کے لیے لازمی تعلیم نہیں دی جاسکے گی تو مدارس کی طرف طلبہ کا رجحان کم ہوگا اور اگر جو بچے رخ کریں گے انہیں موجودہ نظام کے مطابق تعلیم حاصل کرنے کے لیے تیار کرنا ہوگا اس طرح ان کے اوقات ضائع ہوں گے۔ تعلیمی مراحل کی تکمیل میں عمریں زیادہ صرف ہوں گی۔ اس سے والدین کا رجحان اور بھی کمزور ہوگا۔ مدارس کے فارغین کی تعداد کم ہوگی تو عصری اداروں میں پڑھنے والے طلبہ کو جزوقتی طور پر بھی مذہبی تعلیم دینے والے ، گھروں میں اسلامی تعلیمات دینے والے اور مسجدوں سے اصلاح وتربیت کا کام انجام دینے والے علما واعظین کم ہوتے چلے جائیں گے۔ مدارس میں طلبہ کی تعداد کم ہوجانے کی وجہ سے اعلی لیاقتوں کے افراد میں بھی کمی آئے گی جو علمی تنزل کا باعث ہوگا۔ اس طرح ہر طرف سے مسلمانوں کامذہبی تشخص گم ہوتا چلاجائے گا۔
                مسلمانوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے اور انہیں فکری قلاش بنانے کی جو اسکیم رچی گئی ہے اس سے ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ ایک طرف قانون کے ذریعہ اسلامی اداروں کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو دوسری طرف علما اور ایسے حساس نوجوان جو اپنی قوم کے تئیں فکر مند ہیں اور اسلامی حمیت رکھتے حکومت کے نشانے پر ہیں ۔ انہیں دام لانے کے حربے اپنائے جارہے ہیں اور مختلف قسم کے الزام ڈال کر قوم سے ان کا رابطہ توڑنے کی کوشش ہورہی ہے۔
قوت فکر وعمل پہلے فنا ہوتی ہے
تب کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے
٭٭٭

Tuesday, 11 December 2012

Information Technology and Madaris-e-Islamia



اطلاعاتی ٹکنالوجی اور مدارس اسلامیہ
                                                                                 
        عصر حاضر میں جن ٹکنالوجیوں کو فروغ حاصل ہوا ہے ان میں اطلاعاتی ومواصلاتی ٹکنالوجیوں کا بڑا حصہ ہے۔ انہوں نے زندگی کے اکثر شعبوں کو متاثر کیا ہے۔ عالمی گاؤں (گلوبل ولیج) کا تصور در اصل انہی کا رہین منت ہے۔ انہوں نے زندگی کے اکثر شعبوں کے دائروں کو وسیع کیا ہے تو بہت سی وسعتوں کو محدود کرکے بھی رکھ دیا ہے۔ مختصر وقت میں اطلاعات ومعلومات کا حصول آسان ترین ہوگیا ہے۔ ان تمام شعبوں میں تعلیم کا شعبہ سب سے زیادہ مستفید ہوا ہے۔ برقی آموزش (E-Learning)کا نیا دروازہ بھی انہی کے ذریعہ کھلا ہے جس نے طالب علم کو روایتی استاد سے بے نیاز کردیا ہے۔ وہ تمام ترتعلیمی خصوصیتیں جو ایک استاد کے ذریعہ حاصل کی جانے والی تعلیم میں ہوتی ہیں اس برقی آموزش میں مہیا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ باریک سے باریک نکات کی وضاحت کی جاتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے تعلیمی نظام میں چند خرابیاں بھی پیدا ہوئی ہیں لیکن اس کی افادیت ان پر غالب ہے۔
        یہ نئی ٹکنالوجی مدارس اسلامیہ کے لیے بھی نئے دروازے کھولتی ہے۔ اپنے اندر اس کی بقا، فروغ اور استحکام کی اہلیت رکھتی ہے۔ بس ضرورت ہے اس ذریعہ کو اپنانے اور اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالنے کی۔
        مدارس کی اپنی تعلیمی روایت رہی ہے۔ ان میں مختلف فنون اور کتابوں کے ماہر اساتذہ ہوئے ہیں جن کی اپنی تدریسی خصوصیتیں اور لیاقتیں تھیں۔ ان کے بعد پھر ان خصوصیتوں کی حامل شخصیات ان مدارس ہی میں نہیں جن میں یہ حضرات مسند درس پر فائز تھے، بلکہ دوسرے مدرسوں میں بھی پیدا نہیں ہوئیں۔ یہی وجہ کہ مدارس میں اچھے اساتذہ کا جو خلا پیدا ہوا ہے وہ پر نہیں ہورہا ہے۔ ظاہر ہے کہ تدریس کا اپنا مخصوص طریقہ اور ڈھنگ ہوتا ہے جو کتابوں میں سمیٹا نہیں جاسکتا ہے۔ اب بھی مدارس میں مختلف فنون اور کتابوں کے پڑھانے والے طاق اور منفرد اساتذہ موجود ہیں ۔ شاید ان کے بعد وہ خصوصیتیں دوسروں میں پیدا نہیں ہوں۔ اگر ہم چاہیں تو اب ان کو دست برد زمانہ سے بچاکر آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرسکتے ہیں۔ اس طرح ان سے استفادہ کا دائرہ بھی وسیع ہوجائے گااور کسی خاص مدرسہ کے استاد کی خدمات تمام مدارس کے لیے عام ہوجائیں گی،کم خرچ میں مختلف علوم اور مستند علمی لیاقتوں کی زیادہ سے زیادہ ترسیل ہوسکے گی اوران افراد کی صلاحیتوں سے زیادہ کام لیا جاسکے گا۔ اطلاعاتی ٹکنالوجی ہمیں اس کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
        بہت اچھی بات یہ ہے کہ یہ ٹکنالوجی اتنی سستی ہے جتنی شاید اشیائے خوردونوش بھی نہیں۔ اس لیے اس میں بہت بڑے سرمائے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بس سنجیدگی سے اس کی طرف توجہ کی جائے تو بہت سہل ہے۔
             طریقہ کار:
        عام طورپرہر بڑے چھوٹے مدرسہ میں کوئی نہ کوئی استاد اپنے فن میں نمایاں خصوصیت کا حامل ہوتا ہے۔ ان کے دروس کا آڈیو اور ویڈیو رکارڈ تیار کیا جائے۔ دروس کو مباحث (Chapter)کے اعتبارسے تقسیم کیا جائے ۔ ان کی سی ڈی اور ڈی وی ڈی وغیرہ بناکر مارکٹ میں سپلائی کیا جائے۔ اگر افراد کی خدمات سے استفادہ کا یہ طریقہ استعمال کیا جانے لگا تو اس سے ایک مدرسہ میں محدود خدمت کا دائرہ اتنا وسیع ہوجائے گا جہاں تک اس زبان کے جاننے والے موجود ہوں گے ۔چونکہ کتابوں کی بہ نسبت ان کی قیمتیں بہت کم ہوتی ہیں اس لیے مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کے لیے خریدنا آسان ہوگا۔
         البتہ اس کے استعمال کے لیے ملٹی میڈیا کمپیوٹر یا یا ٹی وی اور سی ڈی/ ڈی وی ڈی پلیئر کی ضرورت ہوگی جو عام طور پر مدارس میں طلبہ کے عام استعمال میں نہیں ہیں۔زیادہ تر مدارس کے طلبہ تو ان کو چلانا بھی نہیں جانتے ہیں۔ لیکن یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ ٹی وی اور سی ڈی/ ڈی وی ڈی/ پلیئر کا چلانا اتنا مشکل بھی نہیں ہے جتنا کہ موبائل چلانا ۔ کمپیوٹر کے لیے بھی محض دو سے تین ماہ کی جزوقتی تربیت کافی ہوگی اور یہ وقت کی ایسی ضرورت ہے جس سے پرہیز ریت میں منہ چھپانے کے مترادف ہے۔ عام طور مدارس میں اس کے تئیں یہ وہم بھی پایا جاتا ہے کہ اس کے لیے انگریزی میں اچھی خاصی لیاقت درکار ہے جبکہ کہ ایسا نہیں ہے ۔اب کمپوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو میں بھی کام کرنا بہت آسان ہے ۔ویب سائٹ ہی نہیں بلکہ اردو ، عربی اور فارسی میں متعلقہ موضوع کے ذیلی فقرے بھی Search Engineمیں ڈال کر مطلوبہ چیزیں تلاش کی جاسکتی ہیں۔
        تعلیمی میدان میں انٹر نیٹ نے بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔ عصری تعلیم کے ہر موضوع کا ہر جز انٹر نیٹ پر موجود ہے ،جہاں تک کسی بھی طالب علم کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عام طور پر ایسی خدمات مفت مہیا کی گئی ہیں۔ ان کے علاوہ برقی آموزش کا ذریعہ بھی یہی ہے۔ انٹر نیٹ پر مختلف تعلیمی اداروں کی جانب سے مختلف فنون کے برقی کورس موجود ہیں۔ موجودہ وقت میں جب تعلیم کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے نیز فاصلاتی تعلیم اور برقی تعلیم کی طرف رجحان بڑھنے لگا ہے، بہت سے لوگ اقتصادی پسماندگی کی وجہ سے روزگار سے جڑجانے کے بعد بھی اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ مدارس کو بھی اس جانب سوچنے اور اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہوسکتا ہے ایسے مواقع پیدا ہوجانے کے بعد عصری تعلیم کے فیض یافتہ بھی دینی تعلیم حاصل کرنا چاہیں توایسی صورت میں انہیں یہ ذریعہ مہیا ہو گااور وہ اپنی علمی تشنگی دور کرسکیں گے۔ اس سے ظاہر ہے بڑی مہارت تو حاصل نہیں ہوگی مگر کم از کم یہ دین کے بارے میں بنیادی معلومات کے ساتھ اس سے وابستگی کا ایک ذریعہ تو بنے گا۔بعض ایسے طلبہ بھی جو کسی وجہ سے مدارس کے پورے مرحلہ کی تکمیل نہیں کرپاتے ہیںاس ذریعہ کے حاصل ہونے کے بعد باقی ماندہ تعلیم کو جاری رکھ سکیںگے۔
        ان کے علاوہ جو آڈیواور ویڈیو رکارڈ تیار کئے جائیں انہیں بھی مباحث کے اعتبار سے انٹر نیٹ پر ڈال دیا جائے تاکہ مدارس کے طلبہ کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے اسکالرس اور دوسرے وہ تمام حضرات جنہیں خاص موضوع سے متعلق معلومات حاصل کرنی ہو استفادہ کرسکیں۔
        مدارس نے لڑکیوں کی تعلیم کی طرف بہت اچھا قدم اٹھایا ہے۔ لڑکوں کی طرح لڑکیوں کے لیے بھی باضابطہ مدارس قائم کئے گئے ہیں۔لیکن لڑکیوں کے مدرسوں میں اساتذہ کا وہ معیار نہیں ہے جو لڑکوں کے مدار س میں ہیں۔ ان رکارڈ شدہ کلاس روم کی ویڈیو سے ان کے لیے بھی کام لیا جاسکتا ہے نیز ایسی جگہوں پر جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے مدرسے ایک ہی جگہ یا ایک ہی انتظامیہ کے تحت چلتے ہیں سی سی ٹی وی کیمروں اور پراجکٹر کے ذریعہ بیک وقت دونوں کو ایک ہی استاد سے تعلیم دی جاسکتی ہے۔
        انٹرنیٹ پر علم الفرائض کے مسائل کو اس طرح ترتیب دے کر رکھا جاسکتا ہے کہ اس میں اپنے مسائل لکھ کر ان کا حل حاصل کیا جاسکے۔ اس سے جہاں عام لوگ مستفید ہوں گے وہیں مدارس کے طلبہ اس فن کو سیکھنے کے لیے بھی استفادہ کرسکتے ہیں۔
        اسی طرح مدارس میں عصری علوم کی تعلیم کا معیار بھی پست ہے۔ وسیع انداز میں تو نہیں لیکن کم ازکم ان کی مبادیات سے لازمی واقفیت کا احساس مدارس کی سطح سے بھی ہوتا ہے ۔ لیکن وسائل کی قلت ان کے حصول میں مانع ہے۔ یہ ٹکنالوجی افراد کی براہ راست خدمات سے سستی ہے اور اس میں طلبہ کے لیے اپنے اپنے وقت کی مناسبت سے استفادہ سہل اور ممکن ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اس کے لیے انگریزی سے واقفیت لازمی ہے۔ تاہم ایسا بھی نہیں ہے کہ اردو میں یہ چیزیں بالکل موجود نہیں ہیں بس تنوع اور گہرائی کی کمی ہے ۔ جب استعمال میں اضافہ ہوگا تو چیزیں بھی تیزی سے اور نئی نئی دریافتوں کے ساتھ آئیں گی۔ لیکن مدارس کی مناسبت سے یہ عربی وفارسی میں تو موجود ہی ہیں۔
        مدارس میں اردو کے علاوہ عربی، فارسی، ہندی اور انگریزی زبانوں کی تعلیم مختلف سطح تک دی جاتی ہے۔ زبان کی تعلیم میں قواعد کے ساتھ ساتھ لہجہ کی بھی ضرورت ہے۔ تکلم کی سطح پر کوئی زبان قواعدی طور سے مضبوط ہونے کے باوجود غیر مانوس لہجہ میں اجنبیت کا احساس پیدا کرتی ہے۔ مدارس کے طلبہ کم ازکم عربی وفارسی زبانوں میں انتہائی مضبوط ہوتے ہیں۔ لیکن کسی زبان کے لہجہ سے پوری واقفیت اس وقت تک نہیں ہوسکتی جب تک کہ سماعی سطح پر اس سے تعامل نہ ہو۔ مدارس اپنے قلیل وسائل کے ساتھ ایسے افراد کی خدمات حاصل نہیں کرسکتے جو یہاں پڑھائی جانے والی ہر زبان کے لہجہ سے طلبہ کو واقف کراسکیں۔ ایسی صورت میں یہ ٹکنالوجی ان کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہے۔ یہ انہیں ایسے بھر پور مواقع فراہم کرتی ہے جن میں وہ زبان کے لہجہ اور تکلمی اشاروں کو سیکھ سکیں۔ یہ چیزیں میڈیا کی سطح پربھی موجود ہیں ۔ تقریبا ہر زبان کی تعلیم کے لیے ٹی وی پر ایسے کورس ہیں۔ کوئی بھی مدرسہ DTHکی سہولت سے فائدہ حاصل کرکے ان سے مستفید ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ زبان کی آموزش کے آن لائن کورس ہیں جو قواعد کے ساتھ اصوات ومخارج ، تلفظ اور لہجہ کی بھی تعلیم دیتے ہیں ۔ آن لائن کے علاوہ اس کے لیے سافٹ ویئر بھی ملتے ہیں ۔ آن لائن کورسوں کی بہ نسبت سافٹ ویئر کے ذریعہ تعلیم سستی ہے۔ ان سے فائدہ اٹھاکر مدارس میں تعلیم دی جانے والی زبان کے لہجہ سے طلبہ کو واقف کرایا جاسکتا ہے۔ چھوٹے بچوں میں زبان کی تدریس کے لیے بھی ایسے سافٹ ویئر ہیں جو تدریس کے جدید طریقوں پر مبنی ، سریع الفہم اور سہل الحصول ہیں۔
        مدارس کے طلبہ کثیر لسانی ذولسانی ہوتے ہیں۔ اس لیے ترجمہ نگاری کے فن کا اکتساب ان کے لیے بہت سہل ہے۔ اطلاعاتی ٹکنالوجی مدرسہ میں رہتے ہوئے انہیں ایسے کورسوں سے متعارف کراسکتی ہے جو انہیں جز وقتی تربیت سے بہتر ترجمہ نگار بناسکتے ہیں۔ فراغت کے بعداس تربیت سے ان کے لیے بہتر روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں گے اور انہیں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو پیش کرنے کا موقع بھی ملے گا۔ وہ مذہبی موضوعات پر آنے والی نئی نئی کتابوں سے اپنی قوم کو واقف کراسکیں گے۔
        جدید موضوعات نے مدارس یا مذہبی تعلیم کے لیے فکر واجتہاد کے نئے دروازے کھولے ہیں ۔طلبہ کو ان موضوعات ومسائل سے واقف کرانے کے لیے مدارس کو ان پر توسیعی خطبات کا انتظام کرنا چاہیے جنہیں عام کرنے میں یہ جدید وسائل ممد ومعاون ہوںگے۔
        گزشتہ سو سالوں میں نظامہائے حیات میں بنیادی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں۔ سیاسیات، سماجیات ، اقتصادیات اور طب کے نظریات وفلسفے کے فکری ڈھانچوں میں ایسی تبدیلی آگئی ہے کہ نسل انسانی کے مختلف گروہ ان موضوعات کے تئیں اپنے گزشتہ نظریات پر نظر ثانی کرنے پر مجبور ہیں۔ نوعیتی اعتبار سے جدید مسائل وموضوعات جوآواخر کی ان صدیوں میں ظہور پذیر ہوئے ہیں وہ اسلامی درسیات میں شامل نہیں ہیں۔ ان مسائل کو طلبہ کے سامنے لانے کے لیے ایسے ورک شاپ منعقد کئے جاسکتے ہیں جن میں عصری علوم کے کسی ایک موضوع پر اس علم کے عصری واسلامی نظریات کے ماہرین کے ذریعہ توسیعی خطبات کا انتظام کیا جائے۔ منتخبہ موضوع پر اس علم کے غیر اسلامی افکار ونظریات کے بنیادی نظریات ومسائل، اس کی وسعت اور دائروں کو بیان کرکے اسلام کا سچا اور صحیح نظریہ پیش کیا جائے۔ اس کے بعد طلبہ کے سامنے اس علم کے جدید مسائل رکھے جائیں اور اس سلسلہ میں اسلامی تعلیمات اور اس کا صحیح حل طلبہ پیش کریں اور اس کام کی نگہداشت (Monitoring) ماہرین کے ذریعہ کی جائے۔ مختلف مدارس الگ الگ موضوع پر ایسے ورک شاپ منعقد کرسکتے ہیں۔ ان کی بہترین ویڈیو رکارڈنگ کرلی جائے۔ باہمی رابطہ کے ذریعہ مدارس کے درمیان ایسے ورک شاپوں کی تشہیر کی جائے تاکہ کسی ایک موضوع پر ہونے والا ورک شاپ دوسرا مدرسہ منعقد نہ کرے اور انہی کی ویڈیو سے کام چلاجائے۔ اس طرح وقت اور پیسے کی بچت ہوگی اور زیادہ سے زیادہ موضوعات کی احاطہ بھی ہوسکے گا۔ ایسی ویڈیو کو You Tube اور اس طرح کی دوسری سائٹوں پربھی ڈال دیا جائے تاکہ اس کا دائرہ وسیع ہو اور عصری علوم کے ماہرین اور غیر مسلم دانشوران بطور نظریہ وفکر اس کا مشاہدہ ومطالعہ کرسکیں ۔ اس طرح مذہب زندگی سے اور بھی قریب ہوجائے گا ۔ چونکہ اسلام ایک نظام حیات ہے اورکوئی نظام حیات زندگی کے کسی شعبہ میں اپنی فکر ونظرکے تداخل سے بے گانہ نہیں رہ سکتا ہے۔ یہ ذرائع ہمیں زندگی کے کسی بھی شعبہ سے متعلق اسلامی افکار ونظریات کو نظریاتی تصادم کی دنیا میں لے جانے اور ان کی برتری ثابت کرنے کا بہترین موقع فراہم کریں گے۔ سماجی رابطہ صفحات (Socail Networking Sites) اس کام کے لیے بہت بڑا ذریعہ بن کر ابھرے ہیں۔ ان کے مشاہدین رفیقان آوارگان نہیں بلکہ ایسی مختلف الآرا ءجماعت کے افراد ہیں جو آپس میں رنج وشادمانی کے شریک بھی ہیں اور متصادم افکار ونظریات کے روادار ساجھے دار بھی۔
        ٹی وی اور انٹر نیٹ پر زبان وادب ہی کی تعلیم نہیں ہوتی بلکہ دیگر علمی موضوعات کا بھی احاطہ کیا جاتا ہے۔ اگر مدارس کے یہ کلاس روم رکارڈ ہوجاتے ہیں تو طلبہ تو ان سے استفادہ کریں گے ہی میڈیا میں استعمال ہونے کے لیے یہ چیزیں ان کے ہاتھوں مہنگے داموں فروخت بھی ہوں گی۔ خاص طورپر اردو میڈیا میں اس کا قوی امکان ہے۔ میڈیا ہی رکارڈ کی ذمہ داری بھی لے سکتا ہے۔
        اگر ہم ان چیزوں میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو علم کی سطح پرجو فائدہ طلبہ اور آنے والی نسلوں کو ہوگا وہ اپنی جگہ ، یہ چیزیں ملی اتحاد کا ذریعہ بھی بنیں گی۔ یہ انسان کی فطرت ہے کہ جہاں صرف ایک ہی فکر کے لوگ ہوتے ہیں وہاں متعصابہ اور اختلافی باتیں کرتے ہوئے کوئی جھجھک محسوس نہیں ہوتی اور جب کئی فکر یا مخالف افکار کے حامل لوگ ہوں تو انسان احتیاط برتتا ہے اور انہی اختلافوں کا ذکر کرتا ہے جن میں فرق وتفاوت واضح اور بنیادی قسم کے ہوں۔ ظاہر ہے کہ جب درسیات رکارڈ ہوں گی اور تمام لوگوں کے لیے ان کا دروازہ کھلا ہوگا تو فروعی اختلافات سے صرف نظر کیا جائے گا ۔ اس طرح کسی بھی موضوع پر جو بیانات سامنے آئیں گے ان سے حقیقت تک پہنچنے میں آسانی ہوگی ۔آپس میں دوریا ں کم ہوں گی، ایک دوسرے کو قریب سے سمجھنے کا موقع ملے گا اور آپسی اعتماد بحال ہوگا۔ چونکہ دروس رکارڈ ہوکر کلاس روم سے باہر آئیں گے اس لیے اس کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوگا کہ اساتذہ تعلیمی معیار پربھی بھر پور توجہ دیں گے۔
        ان ٹکنالوجیوں کا ایک بہت بڑا فائدہ ڈ جیٹل لائبریری کی شکل میں منظر عام پر آیا ہے۔ اب بڑی بڑی لائبریریوں کی جگہ ایک ڈی وی ڈی آگئی ہے جن میں ہزاروں کی تعداد میں کتابیں موجود ہیں۔ یہ انگریزی ہی نہیں عربی وفارسی اور اردو میں بھی دستیاب ہوگئی ہیںاور کتابوں کی بہ نسبت بدرجہا سستی ہیں۔ اسلامی علوم کے لیے بھی ایسی ڈی وی ڈی موجود ہے جس میں اسلامی کتابوں کے ذخیرے جمع کیے گئے ہیں۔ اسلامی دائرة المعارف (انسائیکلو پیڈیا) اور عربی وفارسی لغتیں ان میں دستیاب کرائی گئیں ہیں۔ ان سے استفادہ بھی آسان ہے۔ فہرست کادیکھنا ہی نہیں بلکہ موضوع سے متعلق جملہ کتابوں کی عبارتوں اور مواد کی تلاش اور ان کا مطالعہ کتابوں کے راست مطالعہ کے آدھے وقت میں ممکن ہے۔ ان کا فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ منقولہ (Portable) ہوتی ہے جسے کوئی اپنے ساتھ جہاں چاہے لے جاسکتا ہے اور ایک چھوٹے سے لیپ ٹاپ میں لگاکر استعمال کرسکتا ہے۔ جبکہ ہزاروں کیا دس بیس کی تعدا دمیں بھی کتابیں ہر جگہ ساتھ ساتھ نہیں لے جائی جاسکتی ہیں۔ مزید برآں دنیا بھر کی مشہور لائبریریوں کو آن لائن کیا جارہا ہے۔ اب تحقیقات کے لیے ان لائبریریوں تک پہنچنا ضروری نہیں ہے ۔ اگر مدارس کے طلبہ ان کے استعمال سے واقف نہیں ہوں گے تو انہیں اپنی علمی تحقیقات کے لیے وہاں تک سفر کرنا ضروری ہوگا۔ ایسے میں انہیں کسی تحقیق میں زیادہ سرمائے کی ضرورت ہوگی اور ان کا وقت بھی زیادہ صرف ہوگا۔
        ان کے علاوہ اردو رسائل جن میں بہت سے مذہبی انداز کے بھی ہیں اور اخبارات بڑی تعداد میں آن لائن ہوگئے ہیں۔ کم خرچ میں زیادہ سے زیادہ اخبارات ورسائل پڑھے جاسکتے ہیں۔ روزانہ کئی ریاستوں کے اخبارات کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح لکھنے کا شوق اور جذبہ رکھنے والے اساتذہ و طلبہ بہت کم خرچ میں ایسے رسالوں اور اخباروں کو اپنی تخلیقات ارسال کرسکتے ہیں۔مستقل اچھے اور معیاری مضامین لکھنے والوں کو اس سے بطور اعزازیہ مالی فائدہ بھی حاصل ہوسکتا ہے۔
        شاید بعض لوگوں کی طرف سے یہ اعتراض بھی کیا جائے کہ ان کے استعمال کی عام اجازت کے بعد ان کا منفی استعمال بھی ہونے لگے گا۔ شاید ایسا ممکن بھی ہے۔ لیکن یہ چیزیں اتنی کارگر ہیں کہ ان کی افادےت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے ان کو منفی استعمال سے بچانے کے لیے کوئی مناسب حل نکالا جاسکتا ہے۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر طلبہ کی تربیت بہتر انداز سے کی جائے گی اور ان کے سامنے ان کا نصب العین واضح ہوگا تو وہ خود ہی ان کے منفی استعمال سے احتراز کریں گے لیکن اگر مقصدہی مفقود ہوگا تو یہ چیزیں اتنی عام ہوتی جارہی ہیں کہ ان کے استعمال کی اجازت کے بغیر بھی وہ ان کا استعما ل کریں گے ۔عام طور پر چیزوں کا منفی استعمال تب ہی ہوتا ہے جب ان کا اثباتی منظر اور افادیت واضح نہ ہو۔ پھر یہ کہ ایسے چند ہی طلبہ ہوتے ہیںجو منفی ذہنیت رکھتے ہیںمحض چند طلبہ کی وجہ سے تمام طلبہ کو اس نعمت سے محروم کرنا کیسی دانشمندی ہے؟ اس سے قبل کہ آنے والی نسلیں تاریخ مرتب کرتے وقت ہماری پسماندگی کی وجہوں میں ہماری تنگ نظری اور جمود کو بھی شمار کریں ہمیں اپنے طرز عمل میں تبدیلی لانی چاہئے۔
آئین نو سے ڈرنا ، طرز کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
        دروس کی ویڈیو رکارڈنگ اور انٹرنیٹ وغیرہ کا استعمال مستقل سرمائے کے حاجت مند ضرور ہیںجو ہندوستان کے بہت سے مدارس کے لیے ذرا مشکل ہے۔ لیکن اس جانب سنجیدگی سے اقدام کیا جا ئے گا تو اس کا انتظام بھی ہوہی جائے گا اور بہت سے اہل خیر حضرات اس کے اخراجات برداشت کرنے کے لیے کمر بستہ ہوں گے۔
نوٹ: یہ مضمون اردو دنیا کے مئی ۲۰۱۲ کے شمارہ میں شائع ہوا۔ 

Sunday, 18 November 2012

لو اب حکم زباں بندی بھی ہے


لو اب حکم زباں بندی بھی ہے
                                                                                                                                                                                               
                 وزرائے اعلی کی سالانہ کانفرنس میں داخلی سلامتی کے تعلق سے دہشت گردی کے موضوع پر ملک کے وزیر داخلہ پی چدمبر م نے جو بیان دیا ہے وہ بطور خاص مسلمانوں کے لیے ذرا تشویش ناک ہے اوریہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس میں ان کے لیے حکم زباں بندی بھی ہے۔کیونکہ یہ بیان پولس کے ظلم کے خلاف بھی آواز بلند کرنے والوں کو دہشت گردوں کا حمایتی قرار دیتا ہے۔ انہوں نے ۱۱۰۲ کے جولائی میں ممبئی بم دھماکے اور ستمبر کے دہلی ہائی کورٹ بم دھماکے کے حوالہ سے جو تاثر دیا ہے اس کے مطابق اس سلسلہ میں ہونے والی ساری گرفتاریاں بالکل درست ہیں اور اس سلسلہ میں جو احتجاج ہوئے ہیں وہ ان مجرمین کی حمایت میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیشہ ایک چھوٹی سی جماعت ایسے لوگوں کی حمایت کرتی ہے جو باعث تشویش ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی مذہب یا فرقے کی طرف سے اس طرح کی حمایت کے لیے کسی سبب کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ اس سے تفتیشی ایجنسیوں کے کام میں مشکل ہوتی ہے اس لیے ریاستیں اس کی حوصلہ شکنی کریں اور میڈیا ان کی مدد کریں۔ ریاستوں کی حوصلہ شکنی اور میڈیا کی مدد کا کیا مطلب ہے یہ تو ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔ لیکن قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ اس طرح کی آواز بلند کرنے والے کے خلاف جسے پی چدمبر م مجرمین کا حمایتی سمجھتے ہیں ریاست کارروائی کرے یا جس طرح بھی ممکن ہو آواز اٹھانے سے روکے اور میڈیا ن کی ہاں میں ہاں ملائے یا میڈیا ایسی آوازوں کو جگہ نہ دے جو ظاہر ہے آزادی اظہار رائے کی صریح مخالفت ہے۔
                یہ بات درست ہے کہ دہشت گردی سے ملک کی فضا بگڑتی ہے۔ ملک کا قیمتی اثاثہ ضائع ہوتا ہے۔امن وامان ختم ہوتا ہے اور لوگ خوف ودہشت کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ایسی سوچ کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے اور ایسے لوگ چاہے خواہ جس فرقے سے ہوں اور جس مذہب سے ان کا تعلق ہو ان کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔تاکہ ملک کو اس سے جتنا جلد ممکن ہو نجات ملے۔ لیکن کیا وزیر داخلہ اس سے بے خبر ہیں کہ ایسے واقعات کے رونما ہونے کے بعد ملک کی تفتیشی ایجنسیاں جانبداری سے کام لیتی ہیں اور ایک مخصوص فرقے کو بلا کسی ثبوت کے نشانہ بناتی ہیں۔ ایسا کوئی ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ جب جب ایسے واقعات ہوتے ہیں نشانہ سیدھے مسلمان بنتے ہیں اور جب سالوں کی عدالتی کارروائی کے بعد فیصلہ سامنے آتا ہے تو وہ بے قصور ثابت ہوتے ہیں۔اس طرح کے واقعات سے مسلمانوں کا اعتماد مجروح ہوتا رہا ہے ۔ اس لیے جب کبھی مسلمانوں کی گرفتاری عمل میں آتی ہے تو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ظاہر ہے جب معاملہ ایسا ہو تو کیا اس فرقے کے لوگوں کو یہ کہنے کا اختیار نہیں ہے کہ پکڑے گئے لوگ بے قصور ہیں۔
                ان سارے وجوہات کی وجہ سے تجزیہ کرنے والے یہ محسوس کرتے ہیں کہ ملک میں جو دھماکے ہوتے ہیں یا ہورہے ہیں ، ان کے انجام دئے جانے تک کچھ کھیل کھیلے جاتے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ یہ کھیل ملک کی تفتیشی ایجنسیاں ہی کھیلتی ہیں یامسلمانوں کو پھنسانے کے لیے کچھ غیر مسلم تشدد پسند تنظیمیں کھیلتی ہیں۔ وزیر داخلہ نے جن دھماکوں کا حوالہ دیا ہے اس سلسلہ میں بہار کے مختلف اضلاع سے نصف درجن سے زائد مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں ہوئی ہیں۔ ان گرفتاریوں کے سلسلہ میں کچھ لیڈروں نے اور کچھ دانشوروں نے احتجاج کیا ہے کہ یہ بے قصور ہیں۔ وزیر داخلہ کے مطابق وہ سب قصوروار ہیں اور جنہوں نے احتجاج کیا ہے ، وہ سب ان دہشت گردوں کے حمایتی ہیں۔
                ایسی خبروں پر نظر رکھنے والوں کا اندیشہ ہے کہ مسلمانوں کی شبیہ بگاڑنے کے لیے ملک میں دہشت گردانہ واقعات کے انجام دینے کے لیے تفتیشی ایجنسیاں کچھ اس طرح کا کھیل کھیلتی ہیں۔مثلا دہشت گردانہ واقعات یا کسی بڑے جرم میں جو لوگ پکڑے جاتے ہیں تفتیشی ایجنسیاں ان میں سے ذہین لوگوں کا انتخاب کرتی ہے اور ایسے لوگوں کے کیس کو کم از کم اتنا ہلکا بنانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ جیل سے باہر جاسکیں تاہم جب ضروری ہو انہیں بہ آسانی جیل میں داخل کیاجاسکے۔ ایسے لوگوں سے ایجنٹ یا مخبری یا دونوں کام کرائے جاتے ہیں۔ یہ ایجنٹ خاص طور پر مسلم بستیوں اور علاقوں میں جاکر کچے ذہنوں کو ٹارگٹ کرتےA ہیں اور ان کی برین واشنگ کرتے ہیں ۔ ان پر موٹی موٹی رقمیں خرچ کی جاتی ہیں ۔ ان کی پیسوں سے مدد کرتے ہیں ۔یہ پیسے خود ایجنسیوں کے افسران ہی فراہم کرتے ہیں۔ پھر ان سے دہشت گردانہ واقعات انجام دلاتے ہیں یا انجام دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ جو مخبری کرتے ہیں وہ ایسے لوگ اور عوام کے بدکردار عناصر کے بارے پولس کو خبریں پہنچایا کرتے ہیں۔ پولس ایسے مخبروں کو بھی موٹی رقمیں دیتی ہے۔ انہیں ہر طرح کی سہولیات میسر ہوتی ہے۔ شہروں کا سیر کراتی ہے۔ اگر یہ ایجنٹ اور مخبر ایسا کرنے سے گریز کرتے ہیں تو ان پر ایسے کیس ہیں کسی وقت بھی گرفتار کیے جاسکتے ہیں اور انہیں جیل کی ہوا کھانی پڑسکتی ہے۔ پھر جب کوئی دہشت گردانہ واقعہ رونما ہوتا ہے تو ایجنٹ خود ہی اس کی اطلاع تفتیشی ایجنسیوں کا پہنچادیتا ہے یا مخبر اس کام کو کرتا ہے۔ ایجنسیاں اس کے لیے ایسے لوگوں کے کالوں پر بھی نظر رکھتی ہے۔ تاکہ اگر کہیں سے کوئی خبر نہ ملے تو فون تو اس کے لیے ہے ہی۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ واقعہ بہکے ہوئے نوجوانوں میں سے کوئی انجام دے یا کسی نے دوسرے بھی انجام دیا ہو، ایجنسیوں کے ذریعہ ان میں سے کسی کے نام کا شوشہ چھوڑدیا جاتا ہے اور پھر آگے پورا نیٹ ورک گرفتار ہوتا ہے اور یہ ایجنٹ صاف بچ جاتا ہے یا بچالیا جاتا ہے۔ اس نیٹ ورک کو کوئی تشدد پسند نام نہاد نام بھی دے دیا جاتا ہے۔
                بہار کے جن نوجوانوں کو اس معاملہ میں جس کا حوالہ وزیر داخلہ نے دیا ہے، گرفتار کیا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس میں بھی کچھ ایسی ہی کہانیاں کام کرتی نظر آرہی ہیں۔ ایک غیر سرکاریت تنظیم (NGO)کے جائزے سے جو بات سامنے آئی ہے اس سے تو صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یسن بھٹکل، عرف عمران، عرف شاہ رخ اور نہ جانے کیا کیا(خبروں کے مطابق جگہ کے ساتھ اس کا نام بھی بدلتا رہا ہے)کبھی کا کوئی ایسا ہی مجرم ہے جو اب ایجنسیوں کا ایجنٹ ہے۔ اس دربھنگہ کے چند اضلاع میں آکر کچے ذہنوں کو نشانہ بناکر ان کی برین واشنگ کرتا رہا ہے۔ اس نے ان لوگوں پر پیسے خرچ کئے ہیں اور ان کو دہشت گردانہ واقعات انجام دینے کے لیے تیار کیا ہے یہ شبہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اس معاملہ بھی کوئی شخص مخبری بھی کرتا رہا ہے۔ یہ نوجوان تو پکڑے گئے ہیں لیکن اصل ملزم اب تک پولس کی گرفت سے باہر ہے ۔ نہ ہی اس کی گرفتاری پولس کا اتنا زور ہے جتنا اس سے رابطہ میں آنے والوں پر ۔
                اگر یہ اندیشے درست ہیں تو کیا اس فرقے کے لوگوںکو یہ اختیار نہیں ہے کہ اس کے خلاف آواز اٹھائےں اور انہیں بے قصور سمجھیں اور یہ آواز اٹھانا دہشت گردی یا دہشت گردوں کی حمایت کرنا ہے؟ پکڑے گئے نوجوانوں پر دہلی ہائی کورٹ پر بم دھماکے کا الزم بھی ہے۔ پولس اس معاملہ میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکی ہے ۔ اس لیے ان پر اس سلسلہ میں چارج شیٹ داخل نہیں کیا گیا ہے اور اب چونکہ یہ الزام ثابت نہیں ہوا ہے اس لیے دوسری ریاستوں کے حوالے کردیا گیا ہے تاکہ دوسری جگہوں پر ہونے والے دھماکوں کے سلسلہ میں تفتیش کی جاسکے۔ مسلمانوں نے تفتیش کے خلاف کہیں سے کوئی آواز نہیں اٹھائی ہے۔ ان کی کوشش صرف یہ ہے کہ جانب داری سے کام نہ لیا جائے اور اگر واقعی یہ بے قصور ہیں تو ان کے کیرئیر سے کھلواڑ نہیں کیا جائے۔ کیونکہ سالوں کے بعد اگر ان پر الزام ثابت نہیں ہوگا اس وقت تک ان کا کیرئیر تباہ ہوچکا ہوگا۔ جہاں تک حمایت کا سوال ہے تو کوئی شخص مبینہ دہشت گردوں کی حمایت نہیں کررہا ہے اور کوئی اچھا شہری کر بھی نہیں سکتا ہے۔ چونکہ ان کا اعتماد اتنی بار مجروح ہوچکا ہے کہ وہ انہیں دہشت گرد تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہ اعتماد بھی ایجنسیوں ہی نے مجروح کیا ہے۔ اگر واقعی ایجنسیاں ثبوت فراہم کردیتی ہیں تو نہ صرف یہ کہ کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ سب سے پہلے اس کی تائید کی جائے گی۔
                پھر یہ کہ جب ملک کی تفتیشی ایجنسیاں محض اپنے نموداور ترقی مدارج کے لیے اس طرح کے واقعات انجام دیتے ہیں تو اس میں قصور کس کا زیادہ ہے۔ خود ایجنسیوں کا یا ان کچے ذہنوں کا ۔ کیا اگر واقعی کوئی انہی صورت حال سے دوچار ہوا ہو وہ تو دہشت گرد ہے یا خود پولس اور خفیہ ایجنسیوں کے ذریعہ بنایا گیا ہے۔ اس کا زیادہ سزاوار کون ہے کچے ذہنوں والے گم گشتہ راہ یا تربیت یافتہ خفیہ ایجنسیوں کے افسران؟ یہ ممکن نہیں ہے ملک کے وزیر داخلہ ایسی صورت حال سے ناواقف ہوں۔ اس پر ان کا بیان حیرت ناک اور افسوس ناک ہے۔ یہ کھلی ہوئی سازش ہے جس کے تحت کوشش یہ ہے کہ بے قصوروں کا پکڑا بھی جائے اور انہیں آواز بلند کرنے سے بھی روکا جائے۔ ایسی فکر کی ہر سطح سے مذمت کی جانی چاہیے۔
نوٹ: یہ مضمون دعوت اور قومی تنظیم میں شائع ہوچکا ہے

Tuesday, 24 July 2012

نام نہاد دہشت گردی مخالف آپریشن اصلی دہشت گردوں کا جنم دے سکتا ہے


نام نہاد دہشت گردی مخالف آپریشن اصلی دہشت گردوں کو جنم دے سکتا ہے

                                                                                                           
دربھنگہ اور مدھوبنی سے پے در پے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے ملک کے مختلف صوبوں کی خفیہ ایجنسیاں برادران وطن تو برادران وطن خود اس سماج کے ذہنوں میں، جہاں سے یہ گرفتار کئے گئے ہیں،یہ نقش بٹھانے میں کامیاب ہوگئی ہیں کہ یہ علاقے دہشت گردی کا اڈہ بن رہے تھے اور ان علاقوں میں نہ جانے کتنے امن وامان اور انسانیت کے دشمن پل رہے تھے۔ صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ ان نوجوانوں کے ان متعلقین کو بھی ان کے سایہ سے خوف محسوس ہونے لگا ہے جن کی صبح وشام ان کے ساتھ گزرتی تھی اوروہ اس کی حرکات وسکنات سے پوری طرح واقف ہیں۔ جنہیں ان کی صحبت میں کبھی خوف تو کیا کسی طرح کا شبہ بھی نہیں ہوا تھا۔یہ وہ نوجوان تھے جو گولیاں اور بم کیا جانیں کبھی پٹاخے بھی نہیں پھوڑے ہوں گے۔ حتی کہ خود مسلمانوں کی ایک جماعت بھی محسوس کرنے لگی ہے کہ اس کے پیچھے کچھ نہ کچھ صداقت ضرور ہے۔ حالانکہ یہ ایجنسیاں جو کھیل کھیل رہی ہیں اس میںوہ خود بھی ایسی غلطاں وپیچاں ہیں کہ انہیں نہ چپ رہتے بنتا ہے نہ کچھ کرتے بنتا ہے۔ڈیڑھ درجن سے زائد گرفتاری اور آٹھ سے نو ماہ کے گزرجانے کے بعد بھی اب تک یہ کسی ملزم کے خلاف کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کرسکی اور اسی جھوٹی سچی گواہیوں کے پیش کرنے کے چکر میں ملزم قتیل صدیقی کو حراست کے دوران موت کی بھینٹ چڑھادیا گیااور اگر اب کسی کے خلاف کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوسکا تو خفیہ ایجنسیاں مقتول صدیقی کو اذیت دے کر اتنے سادہ کاغذات پر دستخط لے چکی ہوںگی کہ سارے معاملات کے سلسلہ میں انہی کاغذات پراقبال جرم کا ثبوت پیش کردیں گی۔ گواہیوں کے جمع کرنے میں یہ ایجنسیاں اتنی باولا ہوگئی ہیں کہ پکڑے گئے نوجوانوں کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ شریف شہریوں کو ہراساں کررہی ہیں۔ ہر وہ شخص جو ان پکڑے گئے لوگوں سے سماج میں رہنے کی وجہ سے ؛رشتہ داریوں کی وجہ سے ؛ایک جگہ کام کاج کرنے کی وجہ سے یا کسی کے ہاں ملازمت کرنے کی وجہ سے؛ کوئی تعلق رکھتا ہے اس سے تفتیش کے نام پر الٹے سیدھے سوال کررہی ہیں کہ کسی طرح پکڑے گئے بے قصور ناکردہ گناہوں کے دام میں آجائیں اور ان ایجنسیوں کا کام بن جائے۔ کیونکہ عدالت نے انہیں اس سے قبل بھی ان کے ایسے اوچھے کرتوتوں پر کھڑی کھوٹی سنائی ہے۔ جب اسی طرح سے ملک کے دوسرے علاقوں سے کبھی بم دھماکوں کے الزام میں کبھی کسی سازش کے الزام میں صرف ایک کمیونٹی کے لوگ پکڑے گئے۔ انہیں طرح طرح سے اذیت دے کر اقبال جرم کرایا گیا اور عدالت میںنہ صرف ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیا جاسکا بلکہ کچھ انجانے چہرے ،جو دیش بھکت ہونے کی شہادتیں لیے ہوئے تھے ،سامنے آئے اور ان کا جرم واضح طور پر عدالت کے سامنے آیا۔لیکن یہ اتنی بے حیا ہوچکی ہیں اور جو مقاصد ان کے پیش نظر ہیں کہ ان پرملک کی عدالت عظمی تک کی کسی بات کا کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ ان کی نظر میں مقاصد کے بالمقابل اس کی کوئی اہمیت بھی نہیں رہ گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے آئین کی وہ جس طرح چاہیں دھجیاں اڑا سکتے ہیں کیونکہ ان پر ملک ایک ایسی تنظیم کا دست شفقت ہے جو دہشت گردانہ پس منظر رکھنے کے باوجود حکومت میں اپنا وزن رکھتی ہے اور سیکولر کہلانے والی کانگریس جیسی پارٹی بھی کہیں نہ کہیں ان سے خوف کھاتی ہے اس لیے ایسے فرقہ پرست ذہنیت رکھنے والے افسران پر لگام کسنے کی جرأت نہیں رکھتی ۔ یہ افسران سوامی اسیمانند، پرگیہ ٹھاکر، کرنل پروہت اور یوگی آدتیہ ناتھ جیسے دہشت گردوںکے منظور نظر ہی نہیں بلکہ ان کی معنوی اولادیں ہیں اور جب ہندوستانی وزارت خارجہ کے ملہم اسرائیل اور امریکہ کی خاموش نظریں ان کی حمایت میں ہوں تو پھر کسی خوف کا کیا سوال ہے اور ان کے سامنے ہندوستانی آئین اور عدالت کی اہمیت کیا ہے؟
صورت حال یہ ہے کہ پکڑے گئے لوگوں کو بار بار ریمانڈ پر رکھنے کے باوجود یہ ایجنسیاں کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ پاتی ہیں اور کوئی صریح الزام بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا ہے تو تھک کر دوسری ایجنسی کو مستعار دے دیتی ہے اور پھر وہ ایجنسی وہ ساری کارروائیاں کرتی ہیں جو اس سے پہلے والی ایجنسی کرچکی ہوتی ہے۔ نئے سرے سے اس پر اذیت کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں اور اس کے گھر والوں کو نئے سرے سے عدالتی کارروائیاں کرنی پڑتی ہیں ۔ بہت سے لوگ تو اقتصادی طور پر اتنے مستحکم بھی نہیں ہوتے کہ ہر صوبہ میں جاجاکر عدالتی کارروائیاں کرسکیں اور لاکھوں روپے اس کی صفائی پیش کرنے پر خرچ کرسکیں۔ افسوس اور تعجب کی بات یہ ہے کہ نو ماہ گزرجانے کے باوجود اب تک بیشتر پر چارج شیٹ بھی نہیں داخل کی جاسکی ہے اور کچھ پر الٹے سیدھے اور بغیر کسی ثبوت کے ملک کے تمام بلائنڈ کیسوں میں ان کو ملوث بتا کر چار چار پانچ پانچ ہزار صفحات میں چارج شیٹ داخل کردی گئی ہے اور اب بے چارے ان کے سرپرست حضرات کیس کھلنے کے انتظار میں تاریخوں کا انتظار کررہے ہیں اور جب کیس کھلے گا تو گواہیوں کی پیشی کا سلسلہ شروع ہوگا۔ کئی کئی تاریخوں پر کوئی گواہی پیش نہیں ہوسکے گی ۔ پھر اگلی تاریخیں ملتی رہیں گی اور بے قصوروں کا مستقبل تاریک ہوتا رہے گا۔ کچھ کو ابھی تک تفتیش کے نام پر طرح طرح سے مشق ستم بنایا جارہا اور ثبوت نہیں ملنے پر اس ایجنسی سے اس ایجنسی تبادلہ کا سلسلہ جاری ہے۔
چنانچہ ۶ مئی کودربھنگہ کے باڑھ سمیلا سے صبح کے وقت نیند کی حالت میں اپنے گھر سے اٹھائے گئے نوجوان کفیل اختر کو کرناٹک پولیس گرفتار کرکے دربھنگہ میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے کے بجائے رانچی لے گئی اور وہاں کے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیااور وہاں سے کرناٹک لے گئی۔ وہاں تقریبا ۲ ماہ تک تفتیشی کارروائی کرنے کے بعد جب کوئی ثبوت ہاتھ نہ لگا تو دہلی کے کرائم برانچ کے ہاتھ بیچ دیا اور پھر دہلی پولیس نے شروع کیا ہے اذیت کا نیا سلسلہ اور تفتیشی کارروائیاں۔ اسے دربھنگہ اور دوسری جگہوں پر جہاں سے اس کا کسی وجہ سے بھی تعلق رہا ہے لے لے جاکر اس جگہ کے لوگوں کو ہراساں کیا جارہا ہے جس سے پورے علاقے میں خوف کا ماحول پیدا ہورہا ہے۔ چنانچہ ۶۱ جولائی کو اسے پھر دربھنگہ لائی اور اسے ان جگہوں پر لے گئی جہاں سے اس کا ملازمت کا تعلق رہا ہے یا جہاں وہ رہتا تھا۔ اس کے بعد ان جگہوں کے لوگوں سے الٹے سیدھے سوال کرکے ذہنی اذیت تو دیا ہی انہیں مستقل تذبذب میں رکھنے کا سامان بھی پیدا کیا۔ چنانچہ ان لوگوں کو چند تصویریں دکھائیں ،جن میں کچھ ان لوگوں کی تھیں جو اسی علاقے سے پکڑے گئے ہیں اور اسی علاقے میں رہتے تھے اور انہیں پہنچاننے کو کہا گیا ۔ظاہر ہے جو اس علاقے کے ہیں انہیں تو کوئی بھی پہچانے گا۔ اس پہچان کی ان سے تصدیق کرائی گئی ۔ آخر اس تصدیق کا کیا مطلب ہے؟ کیا کوئی اپنے آس پاس کے لوگوں کو پہچاننے سے بھی انکار کردے؟ کیا صرف کسی کو پہچاننا دہشت گردوں سے ربط ضبط رکھنے کی علامت ہے؟ کیا سوامی اسیمانند ، پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت کو ان کے علاقے کے لوگ نہیں جانتے تھے؟ کیا ان کے جاننے والوں سے تفتیش کی گئی کہ کیا تم ان کو جانتے ہو اور اگر جانتے ہو تم اس کی تصدیق کرو؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایجنسیاں ایسے مسلمانوں کو تذبذب کا شکار بناکر انہیں ذہنی اذیت میں رکھنا چاہتی ہیں۔ ساتھ ہی ان کے ارد گرد پھنسانے کے لیے جال بن رہی ہیں۔ مختلف جگہوں پر پکڑے گئے لوگوں کی گردش در اصل عوام کے درمیان ان کے خلاف منفی سوچ پیدا کرنے اور برادران وطن کو مسلمانوں کے خلاف برگشتہ کرنے اور ان کے خلاف ذہن سازی کرنے کی کھلی سازش ہے۔ نیز عوام میں یہ تاثر دیا جارہا کہ معاملات کو عدالت کے سامنے پیش کرنے میں تاخیر کی وجہ تفتیشی کارروائی ہے۔ حالانکہ یہ اپنے کئے ہوئے اعمال کو سچ کرنے کاپھیر ہے۔
جب کسی ملزم کو کسی جگہ لے جایا جاتا ہے تو ہندی میڈیا جلے پر تیل ڈالنے کا کام کرتی ہیں اور جو چاہتی ہیں بیان دیتی ہیں۔ ان سے برادران وطن میں نفرت کا ماحول تو پیدا ہوتا ہی ہے مسلم سماج بھی انہی بیانوں پر یقین رکھتا چلا جاتا ہے ۔ جب بھی کوئی مسلمان پکڑا جاتا ہے ہندی میڈیا عجیب رائے قائم کرتی ہیں اور طر ح طرح کی قیاس آرائیوں سے کام لے کر ماحول کو کشیدہ بناتی ہیں۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہونے کی اتنی مدت گزرجانے کے باوجود اب تک وہ خفیہ ایجنسیوں سے یہ سوال قائم نہیں کرسکیںکہ آخر ایک علاقے میں اتنا بڑا نیٹ ورک کیسے تیار ہوا اور جب تیار ہورہا تھا تو خفیہ ایجنسیاں کہاں تھیں؟ ایک نام یعنی یٰسین بھٹکل جو اصل ملزم کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسی نے یہ پورا نیٹ ورک تیار کیا ہے،وہ ان کی گرفت سے ابھی تک کیوں باہر ہے؟ اس کے بارے ایجنسیوں کا دعوی ہے کہ وہ مہینوں اور سالوں تک ان علاقوں میں رہا ہے ،اس مدت تک یہ ایجنسیاں کہاں تھیں؟ انہیں دہشت گردانہ تانے بانے بنے جانے اور یٰسین بھٹکل، جس پر اس سے قبل اعظم گڑھ میںبھی ایسی کاررائیوں کا الزام رہا ہے ، کی موجودگی کا علم آخر کیوں نہیں ہوسکا؟ ایجنسیوں کی مجرمانہ خاموشی کے پیچھے کوئی خاص راز تو نہیں ہے؟ ایسی خبریں بھی ملی ہیں کہ ان معاملوں میں کچھ غیر مسلم بھی گرفتار ہوئے ہیں۔ اگر یہ خبر صحیح ہے تو شبہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ بھی دیش بھکت کہلانے والی تنظیموں کی سازش تو نہیں جس طرح مالیگاؤں، مکہ مسجد وغیرہ دھماکوں میں سازش رچی گئی اور برق بے چارے مسلمانوں پر گرتی رہی۔ ہندی میڈیا نے ایسی خبروں کو اہمیت کیوں نہیں دی؟ اسی لیے نا کہ اس سے ان کی پالیسی فاش ہوتی ہے۔ ہندی میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ بیانوں پر یقین رکھنے کا نتیجہ ہے کہ پوری مسلمان قوم میں احساس جرم پیدا ہورہا ہے۔
اگر اس رویہ پر لگا م نہیں لگائی گئی تو پوری قوم جس طرح سے احساس جرم میں جی رہی ہے اس میں اضافہ ہوگا۔ ملک کی فرقہ پرست ذہنیت اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گی۔ در اصل ان کا مقصد ہی یہ ہے کہ مسلمان اپنے اسلامی تشخص کھوکر رفتہ رفتہ ہندو تہذیب میں ڈھل جائے۔ کسی پوری قوم کا احساس جرم اس کی آنے والی نسلوں کے قدم لڑ کھڑانے میں معاون ہوگا۔ اس کے سد باب کے لیے پوری قوم کو تیاری کرنی ہوگی اور حکومتی سرپرستی میں خفیہ ایجنسیوں کے اس رویہ کو لگام لگانے کے لیے آگے آنا ہوگا۔
قتیل صدیقی کے قتل اور بڑھتی ہوئی گرفتاری کے درمیان اچانک دیکھا گیا کہ دانشوران کی کئی جماعتوںکی مختلف جگہوں پر نشست وبرخواست ہوئی اور طرح طرح کے ارادے بنائے گئے۔ اخبارات کے پردوں پر ان کے نام کی تختیاں لگیں اورپھر لگا کہ ان کا بھی کام بن گیا اور ان کے سارے ارادے خاموش بستے میں رکھ دئے گئے۔ دربھنگہ شہر میں ایک تحریک بھی مسلم بیداری کارواں کے نام سے اٹھی۔ پھر اس تحریک کے ہی چند افراد پر حکومت کا نظر کرم ہوا اور انہوں نے تحریک میں پھوٹ ڈال کر پہلے تو اس کو غصب کیا اورپھر چند سطحی باتوں کی طرف اس کا رخ پھیر کر خواب خرگوش کی نیند سوگئے۔ ہمیں شکر گزار ہونا چاہیے ان تنظیموں کا جو مذہب اور فرقہ سے اوپر اٹھ کر انسانی حقوق کی بازیافت اور ظلم کے خلاف لڑائی لڑرہی ہیں۔ ایسی تنظیموں میں مسلمانوں سے زیادہ انصاف پسند برادران وطن ہیں۔ موت وحیات کے معین وقت اور تکلیف وآرا م کے مقدر ہونے پر یقین رکھنے والی مسلمان قوم خود نہیں اٹھ سکتی تو ان جیالوں کے ساتھ ہی تو چلیں۔ ان ہی کے شانے کو مضبوط بنائیں۔
اس بے کسی کے وقت میں چپی سادھنے والوں اور حکومت کے الطاف وعنایات کی طمع رکھنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام وہ مذہب ہے جس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ نے لیا ہے۔ اسلام تو نہیں مٹے گا لیکن ہم اور ہماری نسلیں معدوم ہوجائیں گی اوراللہ تعالی اپنے لیے دوسری قوم پیدا کرلے گا جو اس کی قوم کی حفاظت کرے گی۔ اگر آپ کو واقعی لگتا ہے کہ پکڑے گئے لوگ مجرم ہیں تو اٹھئے اور ان کے خلاف تحریک چلائیے اور اسلام کے تصور کو عام کرتے ہوئے کہیے کہ یہ ان کا اپنا عمل تھا ۔ اسلام کی سوچ اور اسلام کا تصور یہ نہیں ہے لیکن پوری قوم کو بھنور میںپھنسا دیکھنا کسی طرح بھی دانشمندی نہیں ہے۔ یہ خاموشی احساس جرم کو فروغ دے گی جس سے آنے والی نسلوں کے قدم لڑکھڑا جائیں گے اور وہ اپنا تشخص کھونے میں ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں کریں گی اور اگر یہ پکڑے گئے لوگ مجرم نہیں ہیں اور ہم نے ان کی بروقت مدد نہیں کی، حکومتی سرپرستی میں خفیہ ایجنسیوں کی دہشت گردی کو نہیں روکا، بے قصور پکڑے گئے لوگوں کی رہائی جان توڑ جد وجہد نہیں کی تو اس کا انجام ملک وقوم کو دونوں کے لیے بہتر نہیں ہوگا۔ ان کی اولادیں قوم ، ملک اور حکومتوں کے خلاف دشمنانہ ذہنیت کے ساتھ پرورش پائیں گی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان میں بڑی تعداد میں دہشت گرد پیدا ہوں گے جن کو روکنے میں بہت دیر لگے گی۔ کیا یہ بات کسی سے پوشیدہ ہے کہ ملک کی دوسری تشدد پسند تنظیمیں مستقل استحصال اور ظلم کے نتیجہ میں ہی وجود پذیر ہوئی ہیں اور ترقی کی ہےں۔ یہ کوئی بہتر راہ نہیں ہوگی لیکن انقلابات تاریخ پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ مستقل ظلم کا رد عمل تشدد کی شکل میں راہ پاتا ہے۔اگ اس رویہ پر روک نہیں لگی تو نام نہاد دہشت گردی پر قابو پایا جائے یا نہیں لیکن مستقل دہشت گردی ضرور جنم لے گی جس کا علاج ناممکن نہیں تو آسان بھی نہیں ہوگا۔ اس لیے حالات اور اسباب پر غور کرتے ہوئے مناسب قدم اٹھایا جاناانتہائی ضروری ہے۔