مشمولات

Tuesday, 1 April 2014

بہار قانون ساز کونسل کے انتخابی نتائج اورہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل

بہار قانون ساز کونسل کے انتخابی نتائج
اورہندوستانی مسلمانوں کا لائحہ عمل
                 پارلیامانی انتخاب سے عین قبل لیکن انتخابی سرگرمیوں کے دوران بہار قانون ساز کونسل کے گریجویٹ اور اساتذہ انتخابی حلقوں کی ۸ سیٹوں پر ہونے والے انتخاب کے نتائج ریاست میں سیاسی پارٹیوں کے لیے انتباہ ثابت ہورہے ہیں تو وہیں ان سے عوام کو بھی اپنے ووٹ کے تئیں حساس اور باشعور ہونے کا سبق مل رہا ہے۔ گوکہ اس انتخاب میں ووٹروں کی تعداد مخصوص اور محدود ہوتی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس کے رائے دہندگان کی شبیہ باشعور اور دانشوانہ سمجھی جاتی ہے اور اس کے رائے دہندگان میں کچھ محدود تو کچھ وسیع پیمانے پر دوسرے لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔مزید برآں اس کا حلقہ کئی اضلاع پارلیامانی حلقوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان حوالوں سے اس کے اثرات وسیع پیمانے دیکھے جاسکتے ہیں۔ اس وقت ملک بھر میں جو انتخابی پیش منظر ہے اس میں دو طرح کے آئیڈیالوجی کام کر رہی ہےں جنہیں سیکولرز م اور فرقہ پرستی سے تعبیر کیا جانا چاہے۔ جو پارٹیاں میدان میں اتر رہی ہیں ان میں ایک طرف بی جے پی اور اس کی حامی پارٹیاں ہیں جو اپنی فرقہ پرستی کی وجہ سے مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ حالانکہ وہ وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کو راغب کرنے کے لیے اپنی فرقہ پرستی کی تاویلات بھی پیش کرتی رہتی ہے تو دوسری طرف جو پارٹیاں ہیں بظاہر وہ سب کی سب سیکولرزم کے حوالہ سے ہی خود کو عوام کے سامنے پیش کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں موجودہ نتائج پر نظر ڈالی جائے تودیکھا جاسکتا ہے کہ ۸ میں سے۶ سیٹیں سیکولر کھاتے میں آئی ہیں گرچہ ان میں سے ۱ آزاد امیدوار ہے لیکن چونکہ یہ اینٹی بے جی پی ہے اس لیے اسے بھی سیکولر خانہ میں ہی رکھا جانا چاہیے۔ جبکہ دو پر بھاجپا نے بھی کامیابی حاصل کی ہے جن میں پٹنہ اساتذہ حلقہ سے نول کشور یادو ہیں تو کوسی سے این کے یادو ہیں ۔ جبکہ دربھنگہ سے گریجویٹ اور اساتذہ دونوں پر کانگریس ۔راجد اتحاد کے ڈاکٹر دلیپ کمار چودھری اور ڈاکٹر مدن موہن جھا کامیا ب ہوئے ۔ اسی طرح پٹنہ گریجویٹ سے جد یو کے نیرج سنگھ نے کامیا بی حاصل کی ہے تو بھاکپا کے امیدواروں میں ترہت اساتذہ حلقہ سے سنجے کمار سنگھ اور سارن سے کیدار ناتھ نے فتح پائی ہے اور ترہت گریجویٹ سے دیویش چندر ٹھاکر نے بطور آزاد امیدوار جیت حاصل کی ہے۔ ان میں پٹنہ سے کامیاب نول کشور ایسے ہیں جنہوں نے کچھ دنوں قبل ٹکٹ کے لیے راجد سے بغاوت کر کے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اسی طرح کوسی سے جیتنے والے بی جے امیدوار کے بارے میں بھی یہی کہا جارہا ہے کہ انہیں راجد کے کیڈر ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔نتیجہ کے اس تناظر میں یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ پورے ملک میں مودی کی جس لہر کی بات کی جارہی ہے عام انتخاب سے متصل بہار قانون ساز کونسل کے اس انتخاب میںاس کے اثرات کیوں نہیں دکھائی دیئے اور انہیں صرف دو سیٹوں پر ہی جیت حاصل کیوں ہوسکی جبکہ ان دونوں سیٹوں پر راجد ووٹروں کی لاشعوری اور عدم حساسیت بھی اثر انداز ہوئی ہے۔اس انتخاب میں یہ بھی دیکھا گیا ہے پانچ سیٹوں پر بی جے پی تیسرے مقام تک ہی پہنچ سکی ہے۔
                ان سیٹوں پر قسمت آزمائی کر رہے امیدواروں کو بی جے پی اور سیکولر خانہ میں رکھ کر ہر سیٹوں پر دیئے گئے ووٹوںکا جائزہ لیا جائے تو سیکولر ووٹوں کے مقابلہ میں بی جے پی حامی ووٹوں کی تعداد قابل اعتنا بھی نہیں ہے۔ کیونکہ ماسوا بی جے پی تمام امیدواروں کو ملاکر جو ووٹ ہیں وہ سب کے سب اینٹی بی جے پی سمجھے جانے چاہئیں جو کہیں امیدواروں کے ذاتی تعلقات تو کہیں دیگر عامل کی کارفرمائی کی وجہ سے سیکولرزم کی بقا کے لیے ووٹوں کے صحیح استعمال سے بے توجہی اور عدم حساسیت کی وجہ سے منتشر ہوگئے ہیں لیکن بنیادی طور پر وہ سیکولر حامی ہی ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگرسیکولر ووٹر سیاسی شعور اور بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے حق رائے دہی کا استعمال کریں تو فرقہ پرست جماعت اب بھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ سر اٹھاسکے۔ حالانکہ یہ بھی المیہ ہی ہے کہ عام طور پر سیکولر ووٹوں میں جو انتشار ہے فرقہ پرست حامی ووٹروں میں وہ انتشار نہیں پایا جاتا ہے۔
                یہ وقت مسلمانوں کے لیے ہوشیار رہنے کا ہے کیونکہ اس نتیجہ کے بعد فرقہ پرست جماعتیں اپنے سیاسی منشور پر نظر ثانی کریں گی اور سیکولر ووٹوں کو تقسیم کرنے کی سازش پوری طرح رچیں گی۔ ایسی حالت میں عوام کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ کس طرح اپنے ووٹوں کو تقسیم سے روک پاتے ہیں۔ یہاں یہ بھی قابل نظر ہے کہ بہار کی ۰۴ پارلیامانی سیٹوں میں ۸ پر مسلمان فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں فرقہ پرست جماعتیں چاہیں گی کہ مسلمانوں کے ووٹ بکھر جائیں ۔ ان میں دربھنگہ اور مدھوبنی ایسے پارلیامانی حلقے ہیں جہاں مسلم ووٹوں کو بکھراؤ سے بچانا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔اسی طرح ملک کے دیگر حلقوں میں بھی جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیںفرقہ پرست پارٹیاں ان کے ووٹوں کو انتشار کا شکار بناکر جیت کا راستہ ہموا کرنے کی کوشش کریں گی ۔ ماضی میں مسلمانوں کا جو رویہ رہا ہے اس میں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ان کی یہ گندی سیاست کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ ایسے میں مسلمانوں کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اتحاد کا ثبوت دیتے ہیں یا منتشر ہوکر فرقہ پرستی کو سر اٹھانے کا موقع دیتے ہیں۔ مسلم ووٹوں میں اتحاد کے لیے سب سے زیادہ ضروری ہے کہ وہ مقامی لیڈران سے ہوشیار رہیں اور الزام تراشی اور ذات پات کی سیاست سے بالاتر ہوکر سوچیں۔ ذاتی اور وقتی مفاد کی جگہ جمہوری اور دائمی مفاد کو ترجیح دیں۔ عام طور پر مقامی لیڈران وقتی اور ذاتی مفاد کے لیے عوام کے ووٹوں کا سودا کر بیٹھتے ہیں۔ انہیں یہ جاننا چاہیے کہ اس سے ان کی اہمیت گھٹ جاتی ہے اور انہیں لیڈران ہمیشہ چند سکوں میں تولنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے اگر وہ ووٹ کو کاسٹ کرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو انہیں بڑے مفاد کو ترجیح دینی چاہیے ۔ اس سے ان کی اہمیت میں بھی اضافہ ہوگا اور لیڈران کو ان کی طاقت بھی احساس ہوسکے گا۔
اس انتخاب کے نتائج کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ دربھنگہ میںگریجویٹ حلقہ میں ۳ ہزار سے زائد اور اساتذہ حلقہ میں تقریبا ۰۵۵ ووٹ رد ہوگئے۔دیگر حلقوں میں بھی اسی طرح کے کچھ اعداد وشمار ہیں۔ پارلیمانی انتخاب ہو یا اسمبلی انتخاب اور اسی طرح پنچایت اور بلدیہ انتخابات ہر ایک میں قابل لحاظ ووٹ رد ہوتے رہتے ہیں۔ رد ہونے کی وجہ بھی سمجھ میں آتی ہے۔ ہمارے ملک میں ناخواندہ لوگوں کی ایسی بڑی تعداد ہے جو ووٹ کے طریقہ سے ناواقف ہے ۔ اس لیے حق رائے دہی میں غلطی ہوجاتی ہے ۔ سن رسیدہ لوگوں کو بھی کچھ دقتیں پیش آتی ہیں۔ مگر ان کے برخلاف قانون ساز کونسل کے انتخاب میں جو ووٹر ہوتے ہیں وہ گریجویٹ اساتذہ اور اعلی تعلیم یافتہ ہی ہوتے ہیں۔ اس میںاس تعداد میںووٹوں کا خراب ہوجانا ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا ہمارے گریجویٹ میں یہ شعور نہیں ہے کہ وہ اپنے حق رائے دہی کو مناسب طریقہ سے استعمال کرسکیں تاکہ ان کا انتخاب فیصلہ کن ہو۔ اس سے ہماری ریاست اور ملک کی تعلیمی صورتحال پر بھی سوالیہ نشان اٹھتا ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام اپنے اساتذہ اور اپنے شہریوں کو گریجویٹ سطح تک کی تعلیم دینے کے بعد بھی ان میں اتنا شعور پیدا نہیں کرپاتا کہ ووٹنگ کے عمل کو درست طریقہ سے انجام دے سکیں ۔یہ نتیجہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ جب ہمارے یہاں ایسے گریجویٹ ووٹر ہوں گے تو ان سے اچھے اور لائق نمائندوں کی انتخاب کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے۔ واضح رہے کہ پہلی مرتبہ اس انتخاب میں نوٹا (ان میں سے کوئی نہیں) کا بھی آپشن تھا جس میں گریجویٹ حلقہ سے تقریبا ۰۵۱ اور اساتذہ میں ۱ لوگوں نے اس کا بھی استعمال کرتے ہوئے موجودہ امیدواروں کی نفی بھی کی۔ باشعور عوام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا بہت سوچ سمجھ کر کیا ہوگا تو کیا ایسے لوگ کوئی متبادل بھی دے سکیں گے جو ان کی امیدوں پر کھڑا اترسکیں۔
                 اس انتخاب میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کا معاملہ لوگوں کے سننے میں آیا ہے۔کہا جارہا ہے کہ کئی حلقوں میں ووٹوں کی زبردست خرید وفروخت ہوئی ہے۔ ووٹوں کی خرید وفروخت کا معاملہ بھی ہر انتخاب میں سننے میں آتا ہے۔ شراب کی بوتلیںاور روپے کی تھیلیاں انتخاب سے قبل کی رات میں بڑے پیمانے پر تقسیم ہوتی ہیںاور ان سے متاثر ہوکر جمہوریت کی تقدیر چند سکوں میں لکھ دی جاتی ہے۔ پارلیامانی اسمبلی، پنچایت اور بلدیہ انتخابات میں غریبوں ، کم پڑھے لکھے یا ناخواندہ لوگوں کو ان چیزوں سے راغب کرلینے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن باشعور ووٹروں کے درمیان ان کے ذریعہ رغبت پیدا ہوجانا بہت بڑا سوال ہے۔حالانکہ اس وقت دنیا بھر میں صارفیت اور مادیت کا جس طرح دور دورہ ہے کہ اس میں یہ باتیں بڑی عجیب بھی نہیں ہیں۔ خود عوامی نمائندے عوام کو جس طرح سے ٹھگتے رہتے ہیں اس میں ووٹروں کا وقتی مفاد کو ترجیح دینا غلط نہیں لگتا۔لیکن یہ بات ہمیں نہیں فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ اس کا بنیادی سبب ہماری زندگی سے اخلاقی اقدار کا زوال ہی ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے تعلیمی نظام پریہاںبھی سوال کھڑا ہوتا ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام آدرش وادی (مثالی) انسان پیدا کرنے سے عاجز ہوچکا ہے۔ پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اتنا شعور نہیں بخشتا کہ وہ بک کر حق رائے دہی نہ کریں جبکہ اساتذہ تو ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اور وہ ہمارے نئے پودوں کو سیراب کر رہے ہیں ۔ تب ایسے اساتذہ جو خود بک سکتے ہیں ان کے پڑھائے بچوں سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ حالانکہ بکنے والوں کی جو دلیلیں ہوتی ہیں وہ وقتی طور پر بھی سوچنے پر مجبور بھی کردیتی ہے تاہم اس کے پیچھے اقدار کی گراوٹ ہی ایک اہم سبب مانا جارہا ہے۔ہماری حکومتیں نصاب تعلیم میں جنسی تعلیم کا شگوفہ تو چھوڑ سکتی ہے لیکن تعلیم کے ہر شعبہ میں اور ہر سطح تک اقدار کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے نہیں کرسکتی ہے۔ حالانکہ اقدار زندگی میں نافذ العمل تبھی ہوسکتی ہیں جب کوئی نہ کوئی مذہب کسی ماورائی قوت کے سامنے جوابدہی کا احساس پیدا کرسکے۔ عام طور پر یہ بات مشاہدہ کی جاسکتی ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں مرنے کے بعد جوابدہی کا احساس ہر مذہب کے ماننے والوں میں کمزور ہوگیا ہے جو بدعنوانی کا بنیادی سبب ہے۔
                بدعنوانی کی اس بہتی گنگا میں دیگر طبقوں کے ساتھ مسلمانوں کا بھی ایک طبقہ ہاتھ دھولیتا ہے جو انتہائی تکلیف دہ بات ہے۔ دیگر طبقوں کے لیے جواز کی صورتیں ہوں یا نہ ہوں مسلمانوں کے لیے تو کسی بھی صورت میں یہ جائز نہیں ہوسکتا۔ گوکہ مسلمانوں نے اب تک اس ملک میں وفاداری کے بہت ثبوت دیئے ہیں اس کے باوجود انہیں جن امتحانات سے گزرنا پڑا ہے وہ جگ ظاہر ہے اور اب یہ سلسلہ بڑھتا ہی جارہا ہے۔ لیکن ہمیں تسلیم کرنا چاہیے کہ یہ ملک مسلمانوں کی اپنی ملکیت ہے اور ساری دنیا چوری پر آمادہ ہو تو گھر کا مالک بھی اس میں شریک ہوجائے یہ کسی طرح طور سے روا نہیں ہوسکتا ۔ہمیں کسی بھی صورت میں حوصلہ نہیں کھونا ہے اور اب بھی یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم اس ملک کے سچے شہری ہیں اور ہم ہی جمہوریت کے امین اور محافظ ہیں۔ہمیں اس طرح کی بدعنوانیوں سے بچتے ہوئے اور پارٹیوں کی اوچھی سیاست سے اوپر اٹھ کر سیکولر اور اچھے نمائندوں کا انتخاب کرنا ہے۔ جہاں کہیںحالات ایسے ہوں کہ کسی نہ کسی دشمن کا انتخاب کرنا ہو تو دو بڑے دشمن میں کم ترین کا انتخاب کرنا ہے جس کا ملک کے ہر صوبہ اور علاقہ میں سامنا ہے۔
بلا سے کچھ ہو ہم احساں اپنی خو نہ چھوڑیں گے
ہمیشہ بے وفاؤں سے ملیں گے با وفا ہوکر
٭٭٭

Thursday, 20 March 2014

عام انتخاب اور مسلم ووٹروں کی ذمہ داریاں

عام انتخاب اور مسلم ووٹروں کی ذمہ داریاں

عام انتخاب ۲۰۱۴ دربھنگہ اور مدھوبنی اضلاع کے اقلیتی عوام کے لیے کٹھن گھڑی اور سخت امتحان کا وقت ہے۔ واضح رہے کہ دربھنگہ اور مدھوبنی مسلم غلبہ والے اضلاع ہیں۔ پارلیمانی حلقہ کی تقسیم کے اعتبار سے دونوں اضلاع کے کچھ بلاک ایک دوسرے سے ملے جلے ہیں۔ پارلیمانی انتخاب میں یہاں کے مسلم ووٹوں کی بڑی اہمیت ہوتی ہے اور کسی امیدوار کی جیت کو یقینی بناتی ہے۔ لیکن عام طور پر مسلم ووٹوں میں اتحاد نہیں ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کے لیے خوش آئند نتیجہ نہیں ہوتا ہے۔ اس بار بھی ان دونوں اضلاع کے حساس اور با شعور عوام مسلم ووٹوںکے تئیں بڑی الجھن محسوس کر رہے ہیں۔ کیونکہ ایک طرف ایوان میں مسلمانوں کی نمائندگی آزادی کے بعد سے مسلسل گھٹتی جارہی ہے جو ان کی آبادی کی شرح سے بہت پیچھے ہے۔ قیادت کی کمی کی وجہ سے مسلمانوں کے بنیادی مسائل بھی ایوان میں پیش نہیں ہو پارہے ہیں جبکہ یہ بھی صحیح ہے کہ عام طور پر ایوان تک پہنچنے والے مسلم لیڈران کی ایوان میں مسلم مسائل کو پیش کرنے سے بڑی دلچسپی نہیں ہوتی ہے ۔ شاید تعداد کی کمی بھی جرأت اظہار کو روکتی ہو لیکن ان میں کچھ مسلمان نمائندے واقعی ایسے ہیں جنہوں مسلم مسائل کے تئیں ایوان کو متوجہ کیا ہے اور کچھ نے خاموشی سے بھی مسلمانوں کے مسائل کا مناسب حل نکالنے کی کوشش کی ہے۔اس گھٹی ہوئی نمائندگی کو پارٹیاں بھی محسوس کرتی ہیں اور اس کا اظہار بھی کرتی رہی ہیں لیکن جب الیکشن کا وقت آتا ہے تب یا تو مسلمانوں کو مناسب نمائندگی نہیں دیتیں اور دیتیں بھی ہیں تو ایسی جگہ سے جس سے مسلم ووٹ تقسیم ہوجاتے ہیں اور کوئی مسلم امیدوار جیت کا سہرا نہیں لے پاتا ہے۔ اس وقت دربھنگہ سے مسلم لیڈر کے طور محمد علی اشرف فاطمی ہیں جو دربھنگہ سے ۳؍ مرتبہ جیت کر ایوان میں جاچکے ہیں اور وزیر مملکت کے عہدہ پر بھی فائز ہوچکے ہیں جبکہ جدیو سے سنجے جھا اور عآپ سے سماجی کار کن ڈاکٹر پربھات داس میدان میں ہیں اور بی جے پی کے موجودہ ایم پی کرتی جھا آزاد بھی ایک بار پھر قسمت آزمائی کریں گے۔ ان میں محمد علی اشرف فاطمی کے علاوہ ۲ ؍چہرے اور سیکولر ہیں جن میں ایک طرف بہار کی بر سر اقتدار حکومت جد یو کے سنجے جھا ہیں تو عآپ کے پربھات داس ہیں جو سیاسی طور پر گوکہ اپنی پہچان نہیں رکھتے ہیں لیکن اپنی سماجی خدمت اور عآپ کی بد عنوان مخالف پالیسی کی وجہ سے مسلم ووٹروں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ وہیں مدھوبنی سے جہاں اتحاد کی وجہ سے ڈاکٹر شکیل احمد میدان میں تو نہیں ہیں البتہ گذشتہ انتخاب میں دوسرے نمبر پر رہنے والے راجد کانگریس اتحاد کے عبد الباری صدیقی ہیں جبکہ راجد کے ہی باغی لیڈر غلام غوث ریاستی حکومت کی بر سر اقتدار پارٹی جد یو کے امیدوار کے طور پرتو عآپ کے ارشاد احمد مسلمان لیڈر میدان میں آمنے سامنے ہیں وہیں موجودہ ایم پی حکم دیو نارائن یادو بھی بی جے پی امیدوار کے طور پر قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ مدھوبنی میں بھی ۳؍ چہرے سیکولر ہیں اور تینوں مسلمان ہیں۔ اس لیے یہاں دربھنگہ کے مقابلہ میں مسلم ووٹروں کا کچھ زیاد ہ ہی سخت امتحان ہے کہ وہ اپنے ووٹوں کی بندر بانٹ کرتے ہیں یا سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
 عوام کا خیال ہے کہ مسلمانوں کی سیٹیں عام طور پر ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے ہی ضائع ہوجاتی ہیں۔ یقینی طو رسیاسی پارٹیوں کی اپنی اہمیت ہے لیکن ہندوستانی سیاست کا موجودہ منظر نامہ یہ بتاتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے بیساکھی کے سہارے کھڑی ہونے والی حکومتیں زیادہ مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ریاستی حکومت کے کاموں سے بھی یکسر انحراف کی گنجائش نہیں ہے وہیں موجودہ مرکزی حکومت کے با لمقابل جو خیمہ ہے وہ مسلمانوں کے لیے بہتر ثابت نہیں ہوسکتا ہے۔ ایسے میں دونوں اضلاع کے مسلمانوں کے لیے سخت مشکل کی گھڑی ہے اور انہیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کسی پارٹی کی حمایت کے لیے آگے آئیں یا جماعتی سیاست سے بلند ہوکر مسلم نمائندوں کو ایوان تک پہنچانے کی کوشش کریں۔
با شعور عوام کا خیال ہے کہ دربھنگہ میں اگر مسلمان ذرا سا سیاسی شعور کا مظاہرہ کریں تو یہاں کی سیٹ بچائی جاسکتی ہے۔ جبکہ مدھوبنی میں مسلم عوام کو سخت محنت اور بہت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت پڑے گی۔ جہاں تک عام آدمی پارٹی کے امیدوار کا مسئلہ ہے تو وہ پہلی مرتبہ میدان میں ہیں اور ان کا سیاسی کیئر یر بالکل مضبوط نہیں ہے۔ اس سے قبل ان کے پختہ سیاسی شعور کا بھی مظاہرہ بھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ جبکہ غلام غوث جد یو کے اچھے امیدوار ہیں اور موجودہ حکومت کے قانون ساز کونسل میں حزب مخالف جماعت کے لیڈر کے طور پرمسلم نوجوانوں کی بے قصور گرفتاری اور ٹی ای ٹی وغیرہ کے مسائل کو بلند کرنے کی وجہ سے ان کی الگ سے کچھ پہچان بن سکی ہے۔ان کے لیے بھی یہ حلقہ نیا ہی ہے اور وہ خود راجد سے بغاوت کرنے کے بعد بتیا سے ٹکٹ کے امیدوار تھے۔ جبکہ عبد الباری صدیقی بہار کے مسلمانوں کے قد آور لیڈر ہیں اور اپنی سیاسی پہچان اور بالیدہ سیاسی شعوررکھنے کی حیثیت سے اپنی منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے دربھنگہ اور مدھوبنی حلقہ کے مسلم ووٹروں کو احتیاط سے کام لینے اور سیاسی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں سیکولرزم اور فرقہ پرستی کے نام پر عوام کو ہمیشہ گمراہ کیا جاتا رہا ہے ۔عام انتخاب ۲۰۱۴ میں اس خیمہ سے اس خیمہ اور اس خیمہ سے اس خیمہ میں کودنے پھادنے کا جو کھیل کھیلا گیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے سیکولرزم اور فرقہ پرستی کی سیاست کرنے والے تمام لیڈران جھوٹے ہیں اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے اس طرح کی سیاست کرتے پھر رہے ہیں۔ اصل میں ہندوستانی سیاست میں سب کے سب مفاد پرست ہیں ۔ سیکولرزم اور فرقہ پرستی کا یہ کھیل اس لیے کھیل رہے ہیں کہ اسی کے ذریعہ وہ عوام کو گمراہ کرسکتے ہیں اور اسی ان کا مفاد پنہاں ہے۔ ایسے میں ووٹروں کے لیے بھی یہ سوال کھڑا ہوگیا ہے کہ وہ سیکولر رہے یا فرقہ پرست یا ان کو بھی مفاد پرست ہوجانا چاہیے۔ مسلم ووٹر کم از کم اتنے مفاد کا ضرور خیال رکھ سکتے ہیں کہ جس حلقہ میں جو مسلم امیدوار جیت کی پوزیشن میں ہو اسے حتی الامکان جیت دلانے کی کوشش کریں اور ووٹ کی بندر بانٹ سے بچیں۔ جبکہ مقامی لیڈران جو ووٹ کاسٹ کرانے میں خصوصی دخل رکھتے ہیں انہیں ذاتی اور وقتی مفاد کی جگہ دائمی اور بڑے مفاد کو ترجیح دینی ہوگی۔ اسی طرح ذات پات اور الزام تراشیوں کی سیاست بھی پرہیز کرنا ہوگا۔ اس وقت ملک میںمسلم ووٹوں کا اتحاد ہی کسی پارٹی کو مسلمانوں کے طرف متوجہ کرسکتی ہے۔

Saturday, 15 March 2014

کیا اب بھی یہ وقت نہیں آیا کہ دوسرے شہر میں رہتے ہوئے بھی ہم ووٹ دے سکیں


کیا اب بھی یہ وقت نہیں آیا
کہ دوسرے شہر میں رہتے ہوئے بھی ہم ووٹ دے سکیں
                                                                                                                                   
            انتخاب کو جمہوریت کا تہوار کہا جاتا ہے اور تہوار کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس تہوار کے ماننے والی کمیونٹی کا ہر شخص اس میں اپنے طور پر شامل ہو۔ انتخاب ایسا تہوار ہے جس میں بڑے چھوٹے کا کوئی امتیاز نہیں ہوتا ہے اور ہر شخص کو تہوار منانے کا مساوی حق حاصل ہے۔ ہر شخص کے ووٹ کی قدر یکساں ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ہمیں یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارے ملک میں آج بھی ایک بہت بڑی تعداد اس جمہوری تہوار میں شریک نہیں ہو پارہی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر کو اس محرومی کا احساس بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ان پر اس تہوار میں شمولیت کے لیے کوئی پابندی ہے بلکہ ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ایسا نظام تیار نہیں کیا جاسکا ہے کہ ہر شخص اس میں شامل ہوسکے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہندوستان ان ممالک میں سے ہے جس کی ۷۰؍ فیصد سے زائد آبادی دیہی علاقوں میں بستی ہے۔ ہندوستان کی دیہی علاقوں کی خامی یہ ہے کہ وہاں زراعت کے علاوہ روزگار کے مواقع بہت کم ہیں اور زراعت سے ملنے والی روزگار ناکافی ہے۔ اس لیے دیہات کے لوگ شہر جاکر روزی روٹی کمانے پر مجبور ہیں ۔موجودہ انتخابی نظام کے مطابق جس شخص کا نام جس انتخابی حلقہ میں موجود ہے اس کو انتخاب کے دن وہاں حاضر ہوکر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا ہوتاہے۔ سوائے اس کے کہ جو لوگ کام کی غرض سے گذشتہ چھ ماہ سے ملک سے باہر رہ رہے ہیں انہیں پارلیامنٹ نے ۲۰۱۰ میں ایک بل کے ذریعہ این آر آئی ووٹ دینے کا بھی حق دیا ہے۔اس کا پورا نظام ہے جس کے مطابق بیرون ممالک رہنے والا شخص ووٹ دے سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ این آر آئی ووٹنگ حق(غیر حاضر ووٹنگ سہولت) پر بات کی جائے ہم یہاں ان لوگوں کی بات کرنا چاہ رہے جو ملک میں رہتے ہوئے بھی ووٹ کے حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ اس وقت ہماری دیہی آبادی کا تقریبا ۳۰؍ فیصد سے زائد بڑا طبقہ علاقے سے دور کے شہروں میں روزی روٹی کماتا ہے۔جس کی مسافت پورے ایک دن سے تین اور چار دن تک ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے لیے الیکشن کے وقت اپنے حلقہ میں آسکتے ہیں جبکہ قابل لحاظ آبادی ایسی ہے جوکسی بھی صورت میں نہیں آسکتی ہے۔ کیونکہ وہ اتنا روزگار نہیں کماتے ہیں کہ کرایہ سمیت آنے جانے کے دیگر اخراچات کو برداشت کرسکیں۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ حکومت ان لوگوں کو ریل یا دیگر کسی بھی ذریعہ سے مفت سفر کی اجازت دے دیتی ہے تب بھی یہ ممکن نہیں ہے کہ جتنی بڑی تعداد میں دیہی علاقوں کے لوگ شہروں میں رہتے ہیں وہ سفر کرسکیں۔ عام طور پر چھٹیوںیا تہوار کے موقع پر کئی ماہ قبل سے ٹرینوں کی ساری سیٹیں ریزرو ہوتی ہیں جبکہ شہر میں رہنے والے دیہی لوگوں کا ۱۰؍ فیصد حصہ ہے ان مواقع پر ایک ساتھ گاؤں کا سفر کرتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر مفت سہولت بھی ہوگی تو وہ مزدور طبقہ جو ایک دن کماکر ایک دن کی خوراک مہیا کرتا ہے بھلا انتخاب کے لیے کئی دنوں کا اور کئی دنوں کے لیے کیونکر سفر کرے گا۔شہروں میں کمانے والے لوگوں میں سے بہت سے لوگ چھوٹی موٹی ملازمت سے وابستہ ہوتے ہیں جنہیں انتخاب کے لیے ہفتہ عشرہ کی چھٹی ملنی ہی مشکل امر ہے۔ اگر مل گئی تو ان کی اجرت کاٹ لی جائے گی۔دوسری جانب اگر تمام لوگ سفر کرکے اس تہوار میں شامل ہونا چاہیں تو ہمارے یہاں اب بھی سفر کی ایسی سہولت موجود نہیں ہے کہ تمام لوگ ایک ساتھ اپنے گاؤں کا سفر کرسکیں۔ اسی طرح تجارت کرنے والے بھی اگر گھر اس حق کے لیے گھر آنا چاہیں تو کم از کم ہفتہ عشرہ تک ان کی تجارت میں خلل پیدا ہوگا جس سے بڑے نقصان ہوسکتا ہے۔ ظاہر ہے کہ کوئی اتنا بڑا نقصان کا سودابھی کیونکر کرے گا۔
            این آر آئی ووٹ کا اختیار دیتے ہوئے جن امور پر غور کیا گیا تھا اس میں سے ایک یہ تھا کہ ہمارے ملک کے تقریبا ۲۵؍ ملین لوگ ملک سے باہر رہ کر روزگار کماتے ہیں اور۴۵ ؍ دن قبل سے ساری سیٹیں ریزرو کی جائیں جیسا کہ ایئر ٹکٹ ریزرو ہوتی ہے تو صرف ۵؍ ملین لوگ ہی سفر کرسکیں گے۔ چونکہ اس سے کہیں بڑی تعداد خود ملک کے اندر اپنے حلقہ سے بہت دور رہتی ہے اور وہ چاہ کر بھی سفر نہیں کرسکتی۔ لیکن صرف اس وجہ سے کہ وہ انتخاب کے وقت اپنے گاؤں آنے سے مجبورہیں ملک کی اتنی بڑی آبادی کو اس تہوار میں شامل ہونے کا مناسب موقع فراہم نہ کیا جانا ٹیکنالوجی کے اس ترقی یافتہ دور میں جمہوریت کی محرومی کہلائے گی اور ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ جب تک ایسی آبادی ووٹ کے حق سے محروم رہے گی ہماری جمہوریت غیر مستحکم ہی رہے گی۔ اب جبکہ مختلف شعبہ حیات میں آن لائن خدمات موجود ہیں ،یہ نہ تو ناممکن ہے اور نہ ہی بہت مشکل ترین امر ہے کہ ایسی آبادی کو اپنے روزگار کے مقامات پر رہتے ہوئے ووٹ کا حق دیا جائے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر جو لوگ ۶؍ مہینہ یا اس سے زائد مدت سے کسی خاص مقام پر رہ رہے ہیں تو ان کا نام وہاں کے ووٹر لسٹ میں شامل کیا جاسکتا ہے۔لیکن زمینی حالات ایسے ہیں کہ عوام میں اس کی حوصلہ افزائی نہیں ہوگی اور کسی طرح بھی عوام دلچسپی نہیں لیں گے۔ اسی طرح عوام کو دوسرے حلقہ سے ویسی دلچسپی نہیں ہوگی جیسا کہ اپنے حلقہ سے ہوا کرتی ہے۔ پھر یہ کہ ملک میں نام کا داخل کرانا اور کٹوانا اور پھراپنے حلقہ میں نام داخل کروانے کا عمل اتنا پیچیدہ اور دشوار کن ہے کہ ایک شخص بھی اپنے حلقہ سے اپنا نام کسی بھی قیمت پر کٹوانا نہیں چاہے گا ۔ پھر یہ کہ ان کے گھرانے کے سارے لوگ اپنے حلقہ میں رہ رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں علاقائی تعصب بھی اتنا ہے کہ وہ ہمیشہ باہری کہلاتے رہیں گے۔ جہاں تک دوہریت کی بات ہے کہ اب الیکٹرانک اور انٹرنیٹ عہد میں اس پر قابوپانا بہت آسان ہے جس کو بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ Eye Impression, Electronic thumb Impressionاور Magnetic Cardوغیرہ  تو بالکل عام سی چیزیں ہیں۔واضح رہے کہ الیکٹرول لسٹ بھی اب بھی الیکشن کمیشن کی سائٹ پر ڈال دی گئی ہے جسے Epic Code ڈال کر بھی ڈھونڈا جاسکتا ہے۔
            دوسری جانب یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ این آر آئی (غیر مقیم ہندوستانی) ووٹ کا حق بھی کتنے لوگ حاصل کرپارہے ہیں اور اس کی ۱۰۰؍ فیصد تعمیل کے لیے الیکشن کمیشن یا حکومت کی جانب سے کیا حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حق کا استعمال صرف ہائی پروفائل ملازمت سے وابستہ افراد ہی کرپاتے ہیں۔ خصوصا بیرون ممالک ملازمت کرنے والا اقلیت طبقہ اس سے بالکل ناواقف ہے اور اگر کچھ لوگ واقف بھی ہیں تو اس کے تئیں حساس نہیں ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ہر شخص کو اس سے واقف کرایا جائے تاکہ ہر فرد اس حق کو حاصل کر کے جمہوریت کے استحکام میں اپنی حصہ داری نبھائے۔
            غیر مقیم ہندوستانیوں کو ووٹ دینے کے لیے کم از کم ۳۰؍ دن قبل اپنے پاسپورٹ اور بیرون ملک رہائش کی سند کے ساتھ درخواست دینی پڑتی ہے ۔ الیکشن کمیشن اسے اپنی طرف سے یااس ملک میں موجود ملک کے قونصلیٹ کے تعاون سے بیلٹ پہنچاتا ہے۔ ووٹر کو اپنے انتخاب پر نشان لگاکر دوبارہ دیئے گئے پتہ پر بھیجنا پڑتا ہے۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ رجسٹرڈ ووٹر انٹرنیٹ سے بیلٹ پرنٹ کر کے آن لائن بھیج سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں http://www.nrivotingrights.info/index.php?option=com_content&view=article&id=62&Itemid=68 پر مزید معلومات کا مشاہدہ کر کے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنا چاہیے۔
            مسلمانوں کی کمزوری یہ ہے کہ جب انہیں کوئی حق نہیں ملتا ہے تو ہنگامہ برپا کرتے ہیں لیکن جب حق حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کا استعمال نہیں کرتے حتی کہ بسا اوقات عدم دلچسپی کی وجہ سے کئی مراعات ختم کردی گئے ہیں۔ این آر آئی ووٹ بھی ایک اہم اختیار ہے۔ بیرون ممالک مقیم ہندوستانیوں اور بطور خاص مسلمانوں کو چاہیے کہ نہ صرف اس کا استعمال کریں بلکہ ملنے جلنے والوں کو بھی اس کے استعمال پر راغب کریں ۔ ایسے لوگ جو کم پڑھے لکھے ہیں اور بیرون ممالک ملازمت کرتے ہیں ان کی رہنمائی بھی کریں تاکہ ملک کے ایک اچھے شہری کی حیثیت سے آپ کی پہچان بن سکے۔
 ٭٭٭

Wednesday, 12 March 2014

اچھی یا بری رائے قائم کرنے کی آزادی

کچھ لا ابالی باتیں:
اچھی یا بری رائے قائم کرنے کی آزادی
اظہار رائے کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس حق کی رو سے  ہر شخص آزاد ہے کہ وہ کسی بھی شخص کے بارے میں اپنی اچھی یا بری رائے قائم کرسکے ۔ اس کا جواز کوئی خوشی فہمی یا غلط فہمی بھی ہوسکتی ہے (جو بذات خود ایک قسم کی آزادی  اور جواز ہے) یا کوئی دیگر  سبب بھی ۔ اسباب کا انحصار   فریقین کی ترجیحات  کی نوعیتوں کو قرار دیا جاسکتا ہے۔ ترجیحات کا اختیار بھی حق آزادی کا ایک حصہ  ہے۔ جس طرح کسی شخص کو کسی کے بارے اچھی یا بری رائے قائم کرنے سے روکنا اس کے حق آزادی کو سلب کرنا ہو گا اسی طرح  کسی کے بارے میں اپنی  رائے بدلنے کے لیےاس کی ترجیحات کو بدلنے کی شرط قائم کرنا آزادی کے منافی ہے۔
            بعینہ یہ بات بھی محل نظر ہے کہ جس طرح کوئی شخص کسی شخص کے بارے میں اپنی اچھی یا بری رائے قائم  کرنے میں آزاد ہے اسی طرح وہ شخص جس کے بارے میں کوئی اچھی یا بری رائے قائم کی گئی ہے اپنے بارے میں  یا کوئی تیسرا شخص اس کے بارے میں آزادانہ طور پر اپنی رائے قائم کرنے میں آزاد ہے اور  اس شخص کو یا کسی بھی شخص کو اپنی رائے منوانے کے لیے جائز جواز کے حوالہ سے بھی مجبور نہیں کیا جانا چاہیے اور جب بھی ایسا کیا جائے تو یہ سمجھا جائے گا کہ یہ  کسی شخص کی آزادی میں دخل اندازی کی کوشش ہے۔


Saturday, 1 March 2014

गोधरा की सच्ची कहानी, एक पत्रकार की ज़ुबानी


Published by Rashtriya Ulma Council
गोधरा की सच्ची कहानी, एक पत्रकार की ज़ुबानी

पाठकों और ब्लोगर बन्धुवों ! मैं आज एक ऐसे पत्र को आप तक पहुँचाने जा रहा हूँ जो कि एक पत्रकार ने लिखा था. उसने अपने पत्र में गोधरा में हुए काण्ड का सच बयान किया है. मैं उस पत्र में लिखित अंश और विश्लेषण को आप तक पहुँचाना चाहता हूँ.
साबरमती एक्सप्रेस में जो दु:खदायक काण्ड हुआ वह क्या था? और उस दिन क्या क्या घटित हुआ? कितनी सच्चाई हमारी मिडिया ने दिखाई, कितना सच छान कर झूठ का लबेदा ओढे हम तक पहुंचा? आईये एक पत्रकार की ज़ुबानी सुनते हैं..... (Mr. Anil Soni and Neelam Soni (reporter of Gujarat Samachar) Soni's mobile number: 0-9825038152. Resident number 02672 (code) 43153)
गोधरा
साबरमती एक्सप्रेस का दुखदाई कांड सुबह ७:३० पर गोधरा स्टेशन के एक किलोमीटर दूर हुआ, की सच्चाई मैं आप तक पहुँचाना चाहता हूँ. साबरमती एक्सप्रेस की बोगी नंबर S-6 और दो दूसरी बोगियों में विश्व हिन्दू परिषद् (VHP) के कार-सेवक यात्रा कर रहे थे. दुखदाई कांड की असल वजह ये कार-सेवक ही थे, जो उन बोगियों में सफ़र कर रहे थे. जो कहानी आप तक पहुंचाई गयी है वह सच्चाई से कोसों दूर हैं, असल कहानी जो कि सच है वह अलग ही है.

यह वास्तविकता शुरू होती है गोधरा से ७०-७५ किलोमीटर दूर दाहोद नामक स्टेशन से. समय था ५:३०-६:०० ऍएम्, ट्रेन दाहोद स्टेशन पहुंचती है. ये कार-सेवक उस स्टेशन पर चाय-नाश्ता करने के उद्देश्य से टी-स्टाल पर जाते हैं. किसी बात पर कार-सेवकों और टी-स्टाल के बीच विवाद हो गया और उन कार-सेवकों ने दूकान में तोड़-फोड़ कर दी. फिर वे अपने बोगी में वापस चले गए... इस वाकिये की एक एन-सी.आर. दूकान मालिक ने स्थानीय पुलिस में भी की थी.

अब ट्रेन गोधरा स्टेशन पर पहुंचती है और समय हो रहा होता है ७:००-७:१५ AM. वहां सभी के सभी कार-सेवक ट्रेन से उतर कर स्टेशन पर एक छोटे से चाय की स्टाल पर जा कर स्नैक्स आदि लेते हैं; उस स्टाल को एक बुढा मुसलमान व्यक्ति चला रहा होता है. उस दूकान में एक छोटा लड़का भी हेल्पर बतौर काम कर रहा था. कार-सेवकों ने जानबूझ कर मुसलमान दूकानदार से बहसबाजी शुरू कर दी और बहस करते करते ही उसे पीट डाला. उन कार-सेवकों ने उस बूढे मुसलमान की दाढ़ी भी पकड़ कर खींची और उसे मारा. वे कार-सेवक जोर जोर से एक नारा भी दे रहे थे

"मंदिर का निर्माण करो, बाबर की औलाद को बाहर करो"
बाबर की औलाद से उनका मुराद मुसलमान ही थे.

शोर-शराबा सुन कर उस बूढे की सोलह साल की एक लड़की वहां पर आ गयी और अपने बाप को बचाने की नाकाम कोशिश करने लगी. वह उन ज़ालिम कार-सेवकों से दया की भीख मांग रही थी और कह रही थी कि उसके बाप को छोड़ दीजिये, जिसको वे कार-सेवक अभी भी मार रहे.

उन ज़ालिमों ने उस बूढे को तो छोड़ दिया लेकिन उस लड़की को पकड़ लिया और अपने बोगी (S-6) में ले गए और अन्दर से दरवाज़ा बंद कर लिया. उस लड़की को अपने साथ ज़बरदस्ती क्यूँ ले गए थे; यह बताने की आवश्यकता नहीं है.

उधर बुढा उनसे अपनी बेटी को छोड़ देने की गुहार लगा रहा था. लेकिन उसकी एक न चली. अब ट्रेन धीमे धीमे आगे बढ़ना शुरू हो गयी लेकिन ट्रेन के रफ़्तार पकड़ने से पहले ही वह बुढा मुसलमान दूकानदार ट्रेन की आखिरी बोगी (गार्ड के पहले वाली) में चढ़ जाता है और ट्रेन की चेन को पुल कर देता है. अब ट्रेन पूरी तरह से रुक जाती है और यह सब करते करते गोधरा स्टेशन लगभग एक १ किलोमीटर पीछे हो चुका होता है.

तभी २ नव-युवक वहां आ जाते हैं माज़रा समझ कर खिड़की के बाहर से उन कार-सेवकों से उस लड़की को छोड़ देने के लिए कहते हैं. शोर-शराबा काफी बढ़ चुका होता है बोगी के आस-पास लोग इक्कट्ठे हो जाते हैं; उस भीड़ में कुछ लड़के और औरतें भी होती हैं जो बाहर से ही उन कार-सेवकों से उस लड़की को छोड़ने का दबाव बनाने लगते हैं. भीड़ काफी गुस्से में होती जा रही थी और लड़की को वापस कर देने की मांग अब गुस्से में तब्दील होती जा रही थी.

लेकिन बजाये लड़की को वापस देने के, वे ज़ालिम (VHP) के कार-सेवक लोगों ने बोगी की खिड़कियाँ ही बंद कर दीं. यह क्रिया भीड़ के गुस्से में आग में घी का सा काम किया और उस भीड में से कुछ लोगों ने बोगी पर पत्थर फेंकना शुरू कर दिया.

बोगी संख्या एस छह (S-6) के दोनों तरफ की बोगियों में भी कार सेवक थे. उन कार-सेवकों के पास भी बैनर थे जिसमें लम्बे लम्बे डंडे लगे थे. वे कार-सेवक अपने बैनर्स और डंडों के साथ लड़की को बचाने आई भीड़ पर ही पिल पड़े और बैनर के डंडों से भीड़ पर हमला बोल दिया. अब भीड़ का गुस्सा पूरी तरह से अनियंत्रित हो चुका था. भीड़ में से ही कुछ लोगों ने पास के ही एक गैराज से (garages Signal Fadia) से डीज़ल और पेट्रोल आदि ले आये और बोगी को जलाने लगे.

जैसा कि कथित रिपोर्ट में यह कहा गया कि पेट्रोल आदि को प्री-प्लांड पेट्रोल पम्प से लाया गया; बिलकुल ही बे-बुनियाद है. यह प्रतिक्रिया अचानक भीड़ ने की न कि पहले से प्लान करके. भीड़ लड़की को छुडाने की कोशिश कर रही थी लेकिन कार-सेवक उग्र से उग्रतर होते जा रहे थे. वे (स्वभावत: वैसा ही करने लगे जैसा कि वे अयोध्या में कर चुके थे) जानते थे कि यह हिन्दुस्तान है यहाँ केवल जय श्री राम कह कर जो आतंक फैलाया जा सकता है वह गोली बंदूक से भी ज़्यादा भयानक होता है.

यह घटना सुनकर वहां के स्थानीय वीएचपी (VHP) कार्यकर्ताओं ने उस गैराज में (Signal Fadia) में आग लगा दी और पास के ही एक इलाके 'शेहरा भगाड़' (गोधरा का ही एक स्थान) में स्थित एक मस्जिद को भी जला डाला.

देर से पहुंची पुलिस को सच कहानी का पता तो नहीं चल सका लेकिन भीड़ द्वारा जलाई गयी सरकारी बोगी को साक्षात् देख पुलिस का गुस्सा स्थानीय लोगों पर उतारा और पुलिस ने स्थानीय लोगों को गिरफ़्तार कर लिया.
पुलिस अपना पल्ला झाड़ने के तहत गोधरा के मेयर श्री अहमद हुसैन कलोता को इस घटना का ज़िम्मेदार ठहरा दिया. श्री अहमद हुसैन भारतीय कांग्रेस के मेंबर भी है उर एक वकील भी.

यह पूरी जानकारी वहीँ के स्थानीय लोगों और विश्वसनीय लोगों से बातचीत पर आधारित भी है. मैं इस स्रोत के मुख्य पात्र श्री अनिल सोनी जी (मोबाइल # 0-9825038152. घर का नंबर 02672 'कोड' 43153, ऑफिस नंबर : 43152,) का शुक्गुज़ार हूँ जिन्होंने इस पूरी घटना का सच्चा वृतांत पहुँचाया.

वी एच पी (विश्व हिन्दू परिषद्) ने फिर ऐसा चक्र रचा कि देश को १०० साल से भी ज़्यादा पीछे धकेल दिया. मैं यह कहने से कोई गुरेज़ नहीं करता हूँ कि भारत में वी एच पी (विश्व हिन्दू परिषद्) या संघ या बजरंज दल या भाजपा आदि धुर-कट्टरपंथी ताक़तों ने एक बार नहीं कई बार देश को साम्प्रदायिकता की आग में धकेला है और उसकी रोटी सेंकी है. ऐस नहीं है कि जिसकी रोटी इन्होने सेंकी उन्हें कोई फायेदा पहुंचा हो, वे केवल देश की उन भोली भाली जनता का ब्रेन वश कर देते हैं जो अंध-विश्वास और आस्था के लिए कुछ भी कर देती है. क्या इन शैतानों के इस कृत्य को कोई रोक सकता है और इनके इस कृत्य की सज़ा तो केवल उन मासूम लोगों को ही भुगतनी पड़ती है जिनका उससे कोई लेना देना भी नहीं है.

क्या ऐसा ही होता रहेगा कभी अयोध्या, कभी गोधरा कभी गुजरात........आखिर कब तक !!!???

Monday, 24 February 2014

مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور فاطمی کمیٹی کی رپورٹ


مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی اور فاطمی کمیٹی کی رپورٹ

                ’’مسلمانوں کو کمیشن اوراوروں کو ریزرویشن‘‘ یہ ہندوستانی سیاست کی ایک غیر دستوری مگر عملی پالیسی رہی ہے جس پر آزادی سے تا حال بلا انقطاع تسلسل عمل ہوتا رہا ہے۔سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن تو اعداد وشمار پر مبنی حکومت کے تحت تشکیل شدہ معیارومیزان پر جانچی پرکھی سب سے معتبر رپورٹ ہے ۔اس کا اندازہ حکومت کا بھی اس طرح سے نہیں رہا ہوگا جن کا انکشاف ان رپورٹوں کے ذریعہ ہوا۔ ان کے سامنے آنے کے بعد یہ حکومت کے اپنے گلے کا پھندا ضرور بن گیا ہے جس سے اس کو نہ جان چھڑاتے بنتی ہے اور نہ ہی ہندوستانی سیاست میں یہ رنگ بھرا جاسکتا ہے کہ مسلمان اس رپورٹ کی سفارشات کے مطابق ۲۵؍ فیصد بھی مستفید ہوسکیں۔حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ آئین میں اس کی گنجائش نہیں ہے یا نہیںہوسکتی ہے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اگر مسلمانوں کے فلاح کی کوشش کی جائے تو کسی بھی حکومت میں بل پاس ہونا تو دور کی بات پارلیامنٹ میں اس پر غور کرنے کے اعلان کے دوسرے دن اس حکومت کا ڈانوا ڈول جائے گا۔ظاہر ہے کہ مسلمانوں کی فلاح کے لیے بات کرکے اقتدار کو پنڈولم بنانا برسر اقتدار جماعت کے لیے کسی بھی طورپر دانشمندی نہیں ہوسکتی ہے۔ بہر کیف ماضی میں بھی مسلمان اور انصاف پسند غیر مسلم دانشوران کی جانب سے مسلمانوں کے تعلیمی، اقتصادی اور سماجی وسیاسی صورتحال کے حوالہ سے ملکی سطح پر دور کی بات صوبائی یا علاقائی سطح پر بھی گفتگو کی گئی ہے تو اعداد وشمار کی روشنی میں بارہا یہ انکشاف ہوتا رہا ہے کہ اس ملک میں مسلمان آئینی طور پر چاہے جس درجہ کے شہری ہوں عملی طور پروہ دوسرے درجہ کے شہری ضرور بنادیئے گئے ہیں اور دن بدن ان کی اقتصادی بنیادوں کو کمزور کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کی تعلیمی ، سماجی وسیاسی حیثیت تنزل پذیر ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کے حوالے حکومتوں کے سامنے بھی جاتے رہے ہیں جن کا فائدہ بھی حکمراں جماعتوں کو الیکشن کے دوران تشہیر اور خوش کن بیانات دینے کی شکل میں ملتا رہا اور سادہ لوح مسلمان ہر مرتبہ کسی نہ کسی پارٹی کو ایک موقع دیتے ہوئے وہاں پہنچے جس کا خاکہ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن نے کھینچا۔ دیگر رپورٹوں کی طرح سچر کمیٹی کی رپورٹ کا سرد خانہ میں چلا جانا کوئی غیر یقینی بات نہ پہلے تھی نہ اب ہے۔ محض اس لیے نہیں کہ حکومت مسلمانوں کے لیے سنجیدہ نہیں بلکہ اس سے زیادہ اس لیے کہ مسلمان اس کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے سب سے حسرت آمیز امر تو یہی ہے کہ آزادی کے ۶۷؍ سال میں بھی مسلمانوں نے اپنا کوئی لیڈر نہیں چنااور اس سے زیادہ حسرت انگیز بات یہ ہے کہ ہمارے یہاں ایسا کوئی لیڈر پیدا نہیں ہوا جو گاندھی اور پٹیل تو دور کیجریوال نہیں بن سکا یا کہا جاسکتا کہ نہیں بننے دیا گیا۔ ہمارے یہاں صورتحال یہ ہے کہ کوئی بڑے طمطراق سے اٹھتا ہے۔ اپنے خطابوں میں مسلمانوں کے درد کو بیان کر کے حکومت کو جھنجھوڑتا ہے۔ حکومت اس کو ان کی نمائندگی کا جھانسہ دیتی ہے اور حکومت کے ایوانوں کی ایک کمزور پایہ والی کرسی پر بٹھادیتی ہے پھر اسی دن سے اس کی زبان گنگ ہوجاتی ہے۔ کوئی اپنے قلم سے حکومت کی کارستانیوں کا عوام کے سامنے پردہ فاش کرتا ہے حکومت اسے سیاسی گلیاری میں دو چار مرتبہ بھٹکنے کا موقع دیتی ہے پھر وہ اپنا منشور بھول بیٹھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں نے آزادی کے۶۷ بھی بعد اصلی نقلی میں فرق کرنا نہیں سیکھا ۔عین اس کے برعکس اگر کسی نے ان کی نمائندگی کی کوشش کی تو ان کے نزدیک فوری اور ذاتی نوعیت کی ضرورتیں اتنی اہم ہوجاتی ہیں کہ ان کے عدم تکمیل کی صورت کے پیدا ہوتے ہی اس کے لیے دوبارہ راستہ بند کرنے پر آمادہ ہی نہیں ہوتے بلکہ عملا اسے کر دکھاتے ہیں۔اس صورتحال سے ہندوستان کی برہمنی ذہنیت مسلمانوں کی پسند وناپسندسے اتنی واقف ہوچکی ہے کہ وہ جب تک چاہے انہیں اپنی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان کا دانہ بنا رہنے پر مجبور رکھے۔ وہ جان گئے ہیں کہ یہ لالی پاپ کے عادی ہیں۔ اس لیے کیوں نہ انہیں لالی پاپ دے کر دے کر قومی قیادت کی تشکیل سے محروم رکھا جائے۔
                بہر حال سچر کمیٹی نے رپورٹ کے ساتھ چند سفارشات بھی کیں جس کے تحت کہا گیا کہ مسلمانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ انہیں تعلیمی، سماجی اور سیاسی سطح پر بڑھایا جائے۔ ان سفارشات کو روبہ عمل لانے کے لیے دوبارہ وزارت فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت (اسکول ایجوکیشن اینڈ لیٹریسی) محمد علی اشرف فاطمی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جسے فاطمی کمیٹی کا نام دیا گیا۔ اس رپورٹ کا اندازہ مولانا ولی رحمانی کے اس اقتباس سے کیا جاسکتا ہے :
’’یہ رپورٹ مسلمانوں کی حالت کی بہتری کے لیے ایک منظم کوشش ہے، ملی جماعتوں اور تعلیمی اور سماجی کام کرنے والوں کو اس رپورٹ کا مطالعہ کرنا چاہیے، اس پر بحث ہونی چاہیے اور اس بنے بنائے راہ عمل کو عوامی طاقت فراہم کرنی چاہیے، تاکہ بات آگے بڑھ سکے اور مسلمانوں کا کارواں بھی شاہراہ علم وترقی پر تیزی سے چل پڑے‘‘
                فاطمی کمیٹی کا مطالعہ کرنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ فاطمی کمیٹی نے پورے ہندوستان کے گوشہ گوشہ پھیلے مسلمانوں کی تعلیمی اور سماجی حالات کا جائزہ لے کر جو نسخہ تجویز کیا ہے وہ فی الوقت ہندوستانی مسلمانوں کو تعلیمی انقلاب برپا کرنے اور تعلیم کے ذریعہ اپنی سماجی وسیاسی حالت کو مستحکم کرنے کے لیے نسخہ کیمیا ثابت ہوسکتا ہے۔ لیکن اس سے بڑی حسرت کی بات کیا ہوگی کہ عوام تو عوام خواص تک اس رپورٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے سنجیدہ کوششوں کے لیے تیار نہیں ہیں۔ گوکہ اس رپورٹ کی سفارشات کے چند حصوں پر عمل بھی ہوا ہے لیکن ابھی اس کے ۹۰؍ فیصد حصوں پر عمل ہونا باقی ہے۔ یہ تبھی ہوسکتا ہے جب مسلمانوں کی ایک بڑی جماعت اس بات کے لیے آمادہ ہو۔ اس کے لیے نہ صرف آئینی طریقہ کار کو اپنانا ہوگا بلکہ حکومت میں ایسی قیادت بھی بھیجنی ہوگی جس میں فاطمی جیسا درد مند اور فکر مند اشخاص موجود ہوں۔
                فاطمی کمیٹی نے سچر کمیٹی کے انکشافات کی روشنی میں بطور خاص مسلمانوں کے زمینی حقائق کا پتہ لگاکر جو سفارشات کی ہیں ان کے نفاذ کے لیے ہمیں حکومت میں اپنی نمائندگی مضبوط کرانی ہوگی اور وہ بھی ایسی جو پارٹی کی کاسہ لیسی کو اپنا اوڑھنا بچھونا سمجھنے کی بجائے ایک منشور کے تحت آئین کے بموجب اپنے حقوق بازیافت کے لیے رات دن ایک کر سکے۔
                فاطمی کمیٹی نے سب سے زیادہ تعلیم کو اہمیت دی ہے اور مسلمانوں میں تعلیمی انقلاب لانے کے لیے جہاں سرکاری وظائف کو عام کرنے اور آسان کرنے کی سفارش کی ہے اس سے زیادہ تعلیمی اداروں تک ان کی رسائی کو آسان کرنے پر زور دیا ہے ۔ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ مسلم علاقوں میں زیادہ سے زیادہ اسکول قائم کئے جائیں ۔ اس کے علاوہ آئی ٹی آئی ، پالی ٹیکنیک اور دیگر پیشہ وارانہ تعلیمی ادارے کھولنے اور ان کی طرف مسلمانوں کی رغبت بڑھانے کے لیے حوصلہ افزا اقدامات کی سفارش کی ہے۔چنانچہ مجوزہ عمل اور منصوبہ کے تحت عمومی سفارشات، خواندگی اور تعلیم بالغان، پرائمری تعلیم ، ثانوی تعلیم، ہائر ایجوکیشن، پیشہ ورانہ تعلیم ، اعلی تعلیم اور طالبات کے لیے امداد جیسے عناوین کے تحت سفارشات اور گیارہویں پنچ سالہ منصوبے میں ان سفارشات کو شامل کر نے کی سفارش کی ہے۔
                الغرض کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی ہیں ان کے ہر شق کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ کم سے کم پڑھا لکھامسلمان بھی اس رپورٹ کو حاصل کر کے پڑھے۔ اس کی ذمہ داری مسلم دانشوران کی ہے کہ وہ کم سے کم پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اس رپورٹ سے واقف کرائے تاکہ مسلم عوام آئین میں موجود اپنے حقوق کی معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ان کے حصول کو آسان نے بنانے کی جو ترکیب بتائی گئی ہیں اس کو جان سکیں اور پھر اس پر عمل پیرا ہوسکیں۔
                لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ان سفارشات کے لیے سڑک پر اترنے، ہنگامہ کھڑا کرنے اورریلی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ہمیں ایوانوں میں اپنا مناسب نمائندہ بھیجنے کی ضرورت ہے۔ یہ تب ممکن ہے جب ہم مسلمان اپنی انفرادی اور وقتی ضرورتوں کی جگہ مستقل اور جماعتی ضرورتوں کو ترجیح دیں اور ملک میں سیکولر محاذ کی حکومتوں کے قیام میں اپنے اتحاد کا ثبوت پیش کریں۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ ملک کی ہر جماعت نے مسلمانوں کو ہمیشہ بے وقوف ہی بنایا ہے اور جسے جہاں موقع ملا ہے مسلمانوں کے ساتھ مظالم روا رکھے ہیں۔ ایسے میں ہمارا کام یہ ہے کہ ان میں ہلکے کا انتخاب کریں اور ہم اپنی حیثیت کو تعلیم ، سیاست اقتصادیات اور سماجی ہر سطح پر جلد از جلد مستحکم کرنے کی کوشش کریں۔ ان سب میں سب سے زیادہ ضروری ہے کہ ہم تعلیم میں مستحکم ہوں۔ کیونکہ یہی وہ کلید ہے جو ملک میں ہماری دیگر حیثیتوں کو بھی مستحکم کرے گی۔
                اس رپورٹ کے بارے میں ایک اور حقیقت جان لینی چاہیے کہ آزادی اور تقسیم کے بعد مسلمانوں نے اپنے حالات کے بارے میں حکومتوں کے سامنے اپنی بے بسی کا بہت اظہار کیا لیکن وہ کام نہیں کیا جو ان رپورٹوں کے ذریعہ ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی کام اگر ہم آزادی کے فورا بعد کرلیتے تو یہ دن دیکھنے نہ پڑتے۔ اب جبکہ آزادی ۶۷۔۶۵ سال بعد اس طرح کا دستاویزی کام ہوپایا ہے ہمیں اس کے نفاذ کے لیے مزید ۶۵ سال کا انتظار نہیں کرناچاہیے بلکہ اب ہم صرف اتحاد کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ملک میں کسی کو اپنا لیڈر منتخب کریں جو ہمیں وقتی ، انفرادی مسائل اور مسلک ومشرب کے ذریعہ گمراہ کرنے کے بجائے مستقل حل پیش کرسکے۔ جبکہ یہ کام بھی ہم نے نہیں کیا ہے بلکہ بعض حالات کے در پیش ہونے پر خود حکومت کرانے پر مجبور ہوئی ۔ پھر خوش قسمتی ہے اس کو ایسی قیادت مل گئی جس نے اس پر خوشنما خاکہ کھینچ دیا ہے اور اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس میں رنگ بھرنے کے لیے اپنی عملی جد وجہد کا ثبوت پیش کریں اور ایک بار پھر جبکہ پارلیامانی الیکشن ہمارے سامنے ہے ہم ایک بار عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے اپنے ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو ہماری طرف اس میں رنگ بھرنے کی پہل کرسکیں۔
٭٭٭

Sunday, 16 February 2014

ملحقہ مدارس سے طلبہ کا ختم ہوتا رجحان تشویشناک


ملحقہ مدارس سے طلبہ کا ختم ہوتا رجحان تشویشناک
بہار کی موجودہ حکومت نے ملحقہ مدارس کے اساتذہ کے معاملے میں جو انقلابی قدم اٹھایا وہ نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ تاریخی کہاجاسکتا ہے۔حالانکہ اب بھی ۶ پے رویزن کے نام پر جس تنخواہ کا اعلان کیا گیا ہے اسے کسی بھی طرح ۶ پے کا نام نہیں دیا جاسکتا ہے۔ یہ اور بات کہ مدارس کے اساتذہ” تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کرگیا“ کے مصداق حکومت کی تعریف کرتے نہیں تھکتے۔ اس کے باوجود اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ ریاست کا جو پیسہ مدارس کے لیے خرچ ہورہا ہے اس کا خاطر خواہ فائدہ نظر نہیں آرہا ہے اور دن بدن لوگوں کا رجحان مدارس اور بطور خاص سرکاری مدارس سے ختم ہورہا ہے۔ اس کی وجہ صرف اسکولی تعلیم کی مقبولیت اور روزگار کے مواقع کی پیداواری نہیں بلکہ مدارس کا گھٹتا ہوا معیار تعلیم بھی ہے۔ بیشتر مدارس میں قابل اور با صلاحیت اساتذہ بحال نہیں کئے جارہے ہیں۔ مدارس میں اساتذہ کی بحالی کے لیے جو اکسپرٹ متعین کئے جاتے ہیں عام طور پر انٹرویو میں معروضیت کا ختم ہوجانا بہت یقینی ہے۔ جبکہ یہ اکسپرٹ خود وہ ہوتے ہیں جو بورڈ میں اپنی چلت پھرت بڑھائے ہوئے ہوتے ہیں اور انٹرویو کے لیے ان کا انتخاب ان کی صلاحیت اور غیر جانب داری کی بنیاد پر نہیں بلکہ بورڈ افسران سے تعلقات اور مہربانی کی بنیاد پر ہوتا ہے ۔جبکہ مدرسہ بورڈ کے انٹرویو میں حالات یہ ہیں کہ اگر یہ اکسپرٹ مدرسہ انتظامیہ کی خواہش کے مطابق متاثر نہ ہوئے تو بہت ممکن ہے کہ وہ امیدوار سے متاثر ہوجائیں حالانکہ کچھ اچھے لوگ بھی ہیں لیکن انہیں موقع ہی کم مل پاتا ہے۔ اس سلسلہ میں ماہرین کی رائے یہ ہے کہ بی ٹی ای ٹی یا بی ایس ٹی ای ٹی کی طرز پر مدارس میں تقرری کے لیے بھی ریاستی سطح کا ایک معیاری امتحان منعقد کرایا جائے جس میں مدرسہ بورڈ اور مدارس میں ملازمت کے لیے منظور شدہ مدارس کے فارغین حصہ لیں سکیں اور اس امتحان کے پاس کرنے کے بعد ہی مدارس کے خالی عہدوں کے لیے وہ امیدوار ہوسکیں۔ واضح رہے کہ مدرسہ بورڈ میں ملازمت کے لیے مدارس بورڈ کی سند کے ساتھ ہندوستان کے کچھ مشہور مدارس کی سند کو بھی منظوری دی گئی ہے جس کے فارغین اپنی اسی سند پر یہاں ملازمت کرسکتے ہیں۔ حالانکہ بحالی کا جو اختیار مدارس انتظامیہ کو حاصل ہے اسے بھی برقرار رکھا جانا ضروری ہے۔ اس امتحان کے کامیاب امیدواروں کی بحالی سے ایسا ہوگا کہ کم از کم ایسے لوگ امیدوار ہوں گے کہ اگر اکسپرٹ ان سے یا مدارس انتظامیہ کی ایما پر ان کے بارے میں متاثر ہوجائے تب بھی ان کی صلاحیت قابل اعتبار ہوگی اور مدارس اساتذہ کی بحالی میں لگایا جانے والا کنبہ پروری اور لین دین کا الزام بھی بڑی حد ختم ہوسکتا ہے۔اس سلسلہ میں قابل توجہ بات یہ ہے کہ تقرری کا اختیار مدارس انتظامیہ کو رہتے ہوئے بھی معیاری اساتذہ مدارس میں خدمت پر مامور ہوں گے اور لوگوں کا ان پر اعتبار قائم ہوگا اور اس سے سرکاری مدرسوں میں پڑھنے کا رجحان بڑھے گاجبکہ مدارس میں ماسٹر کی جگہوں پر بحالی کے لیے بی ٹی ای ٹی امیدواروں کا بھی انتخاب کیا جاسکتا ہے۔ حالانکہ اس طرح کے عمل کو مدارس انتظامیہ اپنی آزادی کے خلاف سمجھیں گے لیکن آج جس طرح لوگوں کا رجحان مدارس کے ختم ہورہا ہے وہ تشویشناک ہے اور جب بچے ہی نہیں ہوں گے تو ان کی نظامت اور صدارت کسی کام کی نہیں رہے گی۔ اس ضمن میںقابل توجہ امر یہ ہے کہ آج مدارس میں جو انفرا اسٹرکچر ہے اس کی نفع بخش صلاحیت کے ضیاع کے ساتھ مدارس میں بچوں کی مناسب تعداد نہیں رہنے کی وجہ اساتذہ کی افرادی قوت اور توانائی ضائع ہورہی ہے۔ جبکہ وسائل کا ضیاع قوم اور ملت کے لیے دونوں کے لیے مہلک ہے۔ اس لیے ماہرین کا خیال ہے کہ وسائل کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے بھی ضروری ہے کہ مدارس کے نظام کی تشکیل نو کی جائے۔ پھر یہ کہ ہندوستان میں مدارس کے ذریعہ ہی مسلمانوں کے مذہبی تشخص کو بچایا جاسکتا ہے۔ ایسے میں علما اور دانشوران کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ مدارس کے نظام کو درست کر کے مناسب تعداد میں بچوں کو مدارس میں پڑھنے کی طرف راغب کیا جائے تاکہ ہندوستان میں مسلمانوں کو ملی تشخص کی بقا کا مسئلہ پیدا نہ ہو۔ واضح رہے کہ ہندوستان جیسے کثیر التہذیب ملک میں اب بھی کوئی ایسی چھوٹے چھوٹے لسانی اور منفرد تہذیب رکھنے والے طبقات ہیں جو اپنی تہذیب کو باقی نہیں رکھنے کی وجہ سے اپنا تشخص کھو رہے ہیں۔ یہ صرف اس طبقہ کے لیے تشویشناک بات نہیں بلکہ ملک میں موجود کثرت میں وحدت کی خصوصیت کو باقی رکھنا بھی ایک مسئلہ ہے جو اس ملک کی انفرادی شان ہے۔



Monday, 3 February 2014

Technical Education in Urdu

اردو زبان میں سائنسی ،تکنیکی، حرفتی، پیشہ ورانہ اور اعلی تعلیم کے مسائل

                اردو زبان میں سائنسی ، تکنیکی ، حرفتی، پیشہ ورانہ اور اعلی تعلیم پر کئی پہلؤوں سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاشبہ اردو ہندوستان کی مقبول اوراہم زبانوں میں سے ایک ہے۔ ہندوستان کی بہت بڑی آبادی بلا لحاظ مذہب وعلاقہ اسے بولتی اور سمجھتی ہے۔ پاکستان کی تو خیر قومی زبان ہی ہے۔ دنیا کے دوسرے گوشوں حتی کہ یورپین ممالک میں بھی اس زبان کے سمجھنے اور بولنے والے اچھی تعداد میں موجود ہیں۔ لیکن اس موضوع کی مناسبت سے سب سے اہم مسئلہ زبان بحیثیت ذریعۂ تعلیم ہے۔ ظاہر ہے کہ کسی زبان کے ذریعہ تعلیم ہونے کے لیے اس کا صرف سمجھا جانا ور بولا جانا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے رسم الخط (Script)اور علمی زبان کا جاننا بھی ضروری ہے اور کوئی زبان علمی زبان تب ہوگی جب اس کے اندر دنیا بھر کے مروجہ علوم وافکار کے مسائل وموضوعات کی ہر کیفیت کو اپنی زبان کے مزاج وروایات کے مطابق بیان کرنے کی قدرت موجود ہو۔
                عام طور پر جو زبانیں علمی کہی جاتی ہیں ان میں علوم کی اشاعت میں ایک تسلسل پایا جاتا ہے۔ یہ بھی قدرتی امر ہے کہ اگر کسی زبان میں علوم کی اشاعت کا تسلسل ٹوٹ جائے تو علوم کی ترقی کی رفتار اتنی تیز ہے کہ ایک وقفہ کے بعد اس کے بیان پر عبور مشکل ترین امر ہوجاتا ہے اور وقفہ جتنا بڑھے گا مشکل اتنی زیادہ بڑھے گی۔
                ماہرین کا خیال ہے کہ مؤثر تعلیم وہی ہوگی جس کا میڈیم مادری زبان ہو۔ چنانچہ ابتدا ہی سے دور رس اور گہر ی نظر رکھنے والے ہمارے اسلاف نے کوشش کی کہ ہماری زبان اردو کو اس لائق بنایا جائے کہ اس میں ہر طرح کے خیالات کا اظہار ہوسکے اور وہ تعلیم کا میڈیم بن سکے۔ اس سلسلے میں چند شخصیتوں اور چند اداروں کی ناقابل فراموش خدمات رہی ہیں۔ خاص طور پر دلی کالج جس میں سائنسی اور علمی مضامین کی تعلیم کا ذریعہ ہندوستانی تھا اور اس وقت ہندوستانی یہی اردو زبان تھی۔ اس ادارے میں ماسٹر رام چندر کی خدمات قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے جہاں بچوں کو اردو زبان کو میڈیم بناکر تعلیم دی وہیں اپنے زیر ادارت نکلنے والے اخبار میں ایسے علمی اور سائنسی مضامین کی اشاعت کی جن سے ہماری زبان علمی اور سائنسی زبان کے اظہار کا ذریعہ بن سکے ۔اس کام کے لیے ورنا کلر سوسائٹی قائم کی گئی تھی اور منصوبہ کے تحت اس کے ذریعہ ادب سے الگ ہوکر علوم وسائنس پر مضامین لکھے گئے۔ اس کے بعد کے زمانہ میں علی گڑھ تحریک اور سرسید کی شخصیت ہے جس نے اس ضرورت کو شدت سے محسوس کیا اور اپنے رفیقوں کے ساتھ خودبھی اس کام کو بخوبی انجام دیا ۔ فورٹ ولیم کالج کی خدمات بھی ناقابل فراموش ہیں لیکن وہاں محض زبان سے سروکار تھا۔ان حضرات کی گراں قدر خدمات سے ہماری زبان میں اتنی طاقت آگئی کہ وہ اس وقت کی رائج علمی زبانوں کو بخوبی بیان کرسکے۔ ان کے بعد ایک اہم ادارہ جس نے اردو کو تعلیم کا میڈیم بنانے اور اسے کامیاب طور پر عملی جامہ پہنانے کی نیک خدمات انجام دی جامعہ عثمانیہ حیدرآباد ہے۔ اس ادارے میں دارالترجمہ کا ایک شعبہ ہی اس لیے قائم کیا گیا تھا کہ دوسری زبانوں کے مفید علمی مضامین کو اردو کے قالب میں ڈھالا جاسکے ۔ اس کا یہ شعبہ اردو کے فروغ میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتا ہے۔
                ان لوگوں نے محسوس کیا کہ کوئی زبان جب تک وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہوگی تو زندہ نہیں رہ سکتی ہے اور کوئی زبان محض ادب اور شاعری کی بنیاد پر آگے نہیں بڑھتی ہے بلکہ اس کی بنیاد علمی ہوتی ہے ۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ ادب ؛علمی زبان کو خیالات کے اظہار کے لیے جن ترسیلی قوتوں کی ضرورت ہے؛ ان کو سہل اور سریع الفہم بناتا ہے ۔ اس میں ایسی لفظیات کا اضافہ کرتا ہے جو پیچیدہ خیالات کی ترسیل میں معاون ہو ں اور ان کی کیفیات کا بخوبی اظہار ہوسکے۔ انہوں نے دیکھا کہ جو قومیں علمی بنیاد پر جتنی ترقی یافتہ ہیں ان کی زبان دوسری زبانوں پر اتنی ہی فوقیت رکھتی ہے۔ لیکن انگریزجو Devide and Rule کی پالیسی پر عمل کرتے تھے زبان کی بنیاد پر بھی ہندوستانیوں کے درمیان تفریق ڈالنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس وجہ سے ہندؤوں کا رجحان سنسکرت کی طرف ہوگیا اور ہندی زبان کو فروغ حاصل ہوا ۔ دوسری طرف تقسیم کا سانحہ ہوگیا اور پاکستان کی زبان اردو ٹھہر ی ۔ اس کے نتیجہ میں ہندوستا ن کی زبان ہندی ہوگئی ۔ پھر یہ کہ اردو بولنے والی ایک بڑی آبادی پاکستان منتقل ہوگئی۔ اس طرح اردو میں جو علمی سرمایہ اور علمی دماغ تھا وہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ اردو رفتہ رفتہ زوال کا شکار ہوگئی اور زمانے کے تقاضوں سے اس کا رشتہ ٹوٹ گیااور اس کی ارتقائی کڑی بکھر کر رہ گئی۔ اس طرح ایک علمی زبان میں ترسیل کی جو قوت درکار ہوتی ہے اس میں کمی آگئی ۔
                لیکن ہماری زبان کے علما نے اس فلسفہ پر غور کیا اور اپنی زبان کو علمی اور سائنسی زبان سے جوڑنے کی پوری کوشش کرتے رہے۔ اس سلسلے میں موجودہ دور میں دو اداروں کی خدمات نہایت اہمیت رکھتی ہیں۔ ایک قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان جس کا قیام ۱۹۹۶ میں عمل میں آیا۔ یہ ادارہ جہاں اپنے پرانے سرمائے کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے فروغ واشاعت کے لیے ہر ممکن کوشش کررہا ہے وہیں اپنی زبان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سائنسی اور تکنیکی علوم کی کتابوں کو ترجمہ کراکر شائع کر رہا ہے۔ ساتھ ہی اس نے اردو والوںکو تکنیکی تعلیم سے قریب لانے کے لیے کمپیوٹر کورس کا آغاز کیا ہے جو بڑی کامیابی سے ملک بھر میں فروغ پارہا ہے۔اس کے ساتھ حرفتی تعلیم سے اردو کو جوڑنے کے لیے ایک کورس اور لانے کی کوشش کر رہا ہے جس کے لیے موجودہ ڈائرکٹر ڈاکٹر خواجہ اکرام الدین کی اہم پیش رفت ہے۔وہ خود بھی سائبر اسپیس اور اردو کے حوالے سے کام کرنے کے ساتھ ساتھ اردو ٹکنالوجی پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت کے ذریعہ ۱۹۹۸میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ایک سنٹرل یونیورسٹی کی حیثیت سے قائم ہوئی جو روایتی اور فاصلاتی دونوں طرز پر اردو میڈیم میں کامیابی کے ساتھ تعلیم دے رہی ہے۔ اس یونیورسٹی میںسماجی اور روایتی علوم کے علاوہ پالی ٹیکنک کے چار برانچ ، آئی ٹی آئی کے تین برانچ ، ڈگری سطح پر بی ایس سی، بی کام اورپیشہ ورانہ تعلیم میں بی ایڈ، ایم ایڈ، جرنلزم اور ماس کمیونی کیشن وغیرہ کے کورس اردو میڈیم میں موجود ہیں۔ ان کورسوں کا اردو آبادی کی طرف سے بھر پور استقبال بھی ہورہا ہے۔
                ذریعہ تعلیم کی زبان اور عام زبان میں قدرے فرق ہوتا ہے۔ ذریعہ تعلیم ایک علمی زبان ہوتی ہے جس میںہر فن سے متعلق اپنی اصطلاحات ہوتی ہیںجو کسی بھی مضمون کو بڑی بڑی تشریحات سے بچاتی ہیں۔وہ اصطلاحات اپنے فن کی نمائندگی کر تی ہیں۔ جب دلی کالج، علی گڑھ تحریک اور جامعہ عثمانیہ نے اس ضمن میں پیش رفت کی تو اصطلاح سازی پر بھی بھر پور توجہ دی گئی۔ اس سلسلے میں عثمانیہ یونیورسٹی کی ناقابل فراموش خدمات رہی ہیں۔ اسی زمانے میں اصطلاح سازی کے لیے کامیاب اصول بھی بنائے گئے۔ الغرض کسی زبان کو علمی زبان بننے کے لیے جس ترسیلی صلاحیت کی ضرورت ہے اس میں اصطلاحات کی اہمیت مسلم ہے۔ بلا شبہ اردو میں یہ صلاحیت موجودرہی ہے۔ البتہ وقت کے ساتھ نہیں چلتے رہنے کی وجہ سے اس میں ایک خلا ضرور پیدا ہوگیاجس نے چند ایسے مسائل کو جنم دیا ہے کہ اگر ان کی جانب توجہ نہیں دی گئی تو امید بھر کامیابی نہیں مل سکتی ہے۔
                موجودہ وقت میں جب کبھی اپنے یا غیر اردو زبان کی خوبیوں پر گفتگو کرتے ہیں تو صرف اس کے رومانی وصف کو بیان کرتے ہیں۔ اردو محبت اورشاعری کی زبان ہے۔ اردو دلوں پر محبت کرتی ہے اور کانوں میں رس گھولتی ہے۔ یہ غزل ، قصیدہ اور مرثیہ (عاشقی، خوشامد اور نوحہ و ماتم ) کی زبان ہے۔ہندوستان کی کامیاب فلموں کا راز بھی اردو زبان کی چاشنی ہے۔اردو زبان کے نغمات مسرور کردیتے ہیں۔ یہ باتیں سننے میں بھلی لگتی ہیں اور ہم خوش ہوجاتے ہیں اور ان کے منفی پہلوؤوں پر غور نہیں کرتے۔ لیکن قابل غور امر یہ ہے کہ کیا رومانی جذبات دائمی ہوتے ہیں؟ رومانیت ایک قسم کی جذباتیت ہے جو دیر تک قائم نہیں رہتی۔ یہ بات صحیح ہے کہ جس کی زبان میں مٹھاس ہوتی ہے وہ دلوں پر حکومت کرتا ہے لیکن ہمیں دلوں کے ساتھ ساتھ جہاں داری وجہاں بانی کا کام بھی کرنا ہوگا جس میں صرف عاشقی کی زبان بہت دیر تک ہمارا ساتھ نہیں دے سکے گی۔ ہمیں صرف رقص وسرور کی نہیں علم وسائنس کی زبان بھی درکار ہوگی ۔ ہماری زبان کی بد قسمتی یہ بھی رہی ہے کہ اس میں علوم کی اشاعت کا تسلسل بھی ٹوٹا ہے۔ ہماری شاعری اور ادب میں زبان کا ایسا تجربہ بھی اب نہیں ہو رہا ہے جو علوم کے پیچیدہ افکار وخیالات کے بیان پر قادر ہوسکے۔حالانکہ پہلے اردو زبان میں علوم کے فارمولے بھی شعروں میں بیان کیے جاتے تھے۔
                اردو زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے میں ان سب کے علاوہ بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔ مثلاآج لوگوں کا رجحان انگریزی میڈیم کی طرف ہے۔ اس لیے اردو مادری زبان رکھنے والے اردو کی تحریری اور علمی زبان سے نا بلد رہ جاتے ہیں۔ دوسری طرف پرائمری اور مڈل سطح پر اردو میڈیم کے جو اسکول ہیں ان میں مناسب تعلیم نہیں ہونے کی وجہ سے عوام کا رجحان ادھر نہیں ہوتا ہے۔ اکثر ریاستوں میں اردو میڈیم اسکول موجود ہی نہیں ہیں ۔ سیکنڈری سطح کے اسکول کا تو اور بھی فقدان ہے۔ پھر یہ کہ اردو میں نصاب کی کتابیں بھی دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔ اس لیے جو طلبہ ایک زبان کے طور پر پرائمری ، مڈل اور سکنڈری سطح پر کسی طور سے اردو پڑھتے بھی ہیں تو اس میں ان کی لیاقت بس واجبی سی ہوتی ہے۔ سیکنڈری کے بعد سینئر سیکنڈری سطح پر اس میں مزید کمی آجاتی ہے۔ ظاہر ہے ایسے بچے جب تکنیکی تعلیم میں اردو کو ذریعہ تعلیم بنائیں گے تو یہاں پر زبان ان کی سمجھ سے بالاتر ہوگی۔ ایسے میں ان کی یہ تعلیم بھی متاثر ہوگی۔
                جیسا کہ اوپر کہا گیا کہ موجود وقت میں دو اداروں نے اردو کو ذریعہ تعلیم بنایا ہے ۔ اگر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو نظرمیں رکھتے ہوئے اس موضوع پر بات کی جائے تو سب سے پہلے جوبات سامنے آتی ہے وہ مواد کی فراہمی کا ہے۔ نصاب کے مطابق اب بھی بازار میں اردو زبان میں کتابیں دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے جو کتابیں پڑھائی جارہی ہےں وہ انگریزی میں ہیں۔ ظاہر ہے کہ طلبہ اس سطح پر اتنی لیاقت تو رکھتے نہیں ہیں کہ وہ بہ آسانی ترجمہ بھی کریں اور مواد کو بھی سمجھیں ۔ ایسی صورت میں لیاقت بھی متاثر ہوگی اور امتحان میں نمبرات بھی نہیں آئیں گے۔ جو اساتذہ مامورکیے گئے ہیں گرچہ ان کے لیے اردو جاننے کی شرط رکھی گئی ہے لیکن خود ان کی تعلیم انگریزی یا دیگر کسی زبان میں ہوئی ہے اورسر دست اردو میں تدریس کے لیے ان کی تربیت کا کوئی نظم بھی نہیں کیا گیا ہے ۔مزید یہ کہ اردو سے ان کا تعلق بس ذریعہ اظہار کی حد تک ہے ۔ وہ بھلا اردو میڈیم میں بخوبی کس طرح تدریس کا کام انجام دے سکتے ہیں۔جبکہ اب تو ایسے اساتذہ بھی بحال کئے گئے ہیں جن کا اردو زبان سے ایسا بھی تعلق نہیں ہے۔ خود یونیورسٹی کی پالیسی یہ ہے کہ بازار کے ڈیمانڈ کو نظر میں رکھتے ہوئے Termsکو انگریز ی ہی میں پڑھا یا جائے اور درمیان کی چیزیں اردو میں ہوں ۔ ایسی زبان کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں تو یہ نہ اردو ہوتی ہے نہ انگریزی۔ یہ صحیح ہے کہ زندہ زبان نئی ایجادوں کو قبول کرنے سے بھاگتی نہیں ہے لیکن ایک زندہ زبان نئی چیزوں کو اپنے رنگ میں ڈھال کر ہی اسے استعمال میں لاتی ہے۔ اس کے لیے اصطلاح سازی کی ضرورت ہے۔ ایک علمی زبان کے لیے ضروری ہے کہ اس میں اصطلاح سازی کا کام ہمیشہ جاری رہے ۔ تب ہی ایک زندہ زبان کی اپنی خصوصیتیں باقی رہ سکتی ہیں۔ ہمارے لیے ہندی زبان اس کا نمونہ ہے۔ وہ نئے الفاظ کو اپنی اصطلاح دے کر ہی استعمال کرتی ہے ۔خواہ وہ لفظ سنسکرت سے ماخوذ ہونے کی وجہ سے کتنا ہی ثقیل کیوں نہ ہو۔ان دنوں دیکھنے میں یہ آرہا ہے کہ علمی موضوعات تو درکنار ادبی زبان میں بھی انگریزی الفاظ ہو بہو استعمال کئے جانے لگے ہیں۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ اردو میں انجذابی صلاحیت ہے ۔اگر یوں ہی نئے الفاظ اپنی تمام تر خصوصیتوں کے ساتھ لیے جانے لگیں تو بہت جلد یہ زبان دوسری زبان میں ضم ہو کر رہ جائے گی۔
                مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے جب اس پیمانے پر اردو کو میڈیم بنایا ہے توجامعہ عثمانیہ کے طرز پر اسے بھی شعبہ ترجمہ میں اصطلاح سازی پر توجہ دینی چاہیے۔ اور لازمی طور پر ہر کیمپس میں دار الترجمہ کے تحت ایک فرد مامور کرنا چاہیے جو اصطلاح سازی کی خدمت انجام دے اورتدریس میں آنے والی ترجمہ کی پریشانیوں کو حل کرے۔ گرچہ اصطلاح سازی کا کام گروہی (Group work)ہے انفرادی نہیں۔
                ایک دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ مولانا آزاد قومی یونیورسٹی میں اس وقت تکنیکی تعلیم میں ڈپلوما سطح تک تعلیم جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ طلبہ تکمیل کے بعد روزگار سے لگ جائیں گے ایسا ضروری تو نہیں ہے۔ ان میں بہت سے طلبہ ڈگری اور پی جی سطح تک بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اردو ذریعہ تعلیم سے پڑھنے کے بعد کیا اس سطح پر ان کے ساتھ مسائل نہیں کھڑے ہوں گے۔ ابھی تو نچلی سطح پر کتابیں مفقود ہیں تو آگے کی سطح کا کیا کہنا۔ مستقبل قریب میں ان کے مواد کی دستیابی ممکن بھی نظر نہیں آتی ہے۔
                پیشہ ورانہ تعلیم کے حوالہ سے بھی بات کی جائے تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ آج صارفیت کا دور ہے ۔ بازار میں اس کی کھپت ہے جو بازار کے لائق ہے۔ تعلیم اب بازار کے تقاضے اور ملازمت پر مبنی (Market Based & Job Oriented)ہے۔ بازار کی زبان عالمی طور پر انگریزی ہے۔ کیا اردو میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بازار میں ان کی کھپت دوسروں کی طرح ہوگی ؟ یونیورسٹی نے اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ہر کورس کے ساتھ انگریزی کو بھی شامل کیا ہوا ہے۔ لیکن کیا عام طور پر طالب علم اس لائق ہوتے ہیں کہ وہ دو اور تین زبانوں میں بولنے کی مہارت (Communication Skill)پیدا کرسکیں؟ جب ان میں Communicationکی کمی ہوگی تو صارفی مزاج بازار کیا انہیں قبول کرلے گا اور قبول کر بھی لے توکیا ان کی اہمیت بھی دوسروں کی طرح ہی ہوگی؟ ہوسکتا ہے کہ ملازمت ملنے پر ذہین اور با صلاحیت طلبہ اپنی قابلیت ثابت کر لیں ۔ لیکن ابتدا میں ہی اردو میڈیم ہونے کی وجہ سے ملازمت سے انکار ہوگا تو وہ اپنی قابلیت کا اظہار کہاں کریں گے؟ اور جب بازار میں اردو زبان میں تعلیم کی وجہ سے ملازمت میں امتیازی سلوک سہنا پڑا تو اس کے منفی اثرات ظاہر ہوں گے۔ آج جبکہ اعلی اور کم ازکم پیشہ ورانہ اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کا بنیادی مقصدہی کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول ہے تو کیونکر کوئی محض زبان کی وجہ سے یہ مواقع کھوئے گا۔
                یہ ایک شبہ ہے ۔ لیکن شبہ کی بنیاد پر اس سے منہ موڑا نہیں جاسکتا ۔ ہاں یہ ضروری ہے جن طلبہ نے اس سے رشتہ جوڑا ہے ان کے والدین جن کی مادری زبان اردو ہے اور جن کی تہذیب اس سے وابستہ ہے وہ کو شش کریں کہ ان کے بچے بازار کے تقاضوں پر کھرے اتریں۔ کیوں کہ زمانے سے ہم آہنگ نہ ہوکر ان کی زبان مرجائے گی تو ان کی تہذیب بھی ان کے ہاتھوں سے جاتی رہے گی تب ان کا ہونا اور نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ کیوں کہ قومیں اپنی مخصوص تہذیب ، مسلمات اور عقائد ہی سے پہچانی جاتی ہیں۔
                مختصر یہ کہ اردو میں تکنیکی تعلیم دی جاسکتی ہے ۔ اس راہ میں چند رکاوٹیں ضرور ہیں۔ لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ابھی یہ عمل تشکیلی حالت میں ہے۔ آئندہ بھی اسی صورت میں کام جاری رہا ہے تو ان پر قابو پالیا جائے گا۔ اگر ابھی سے ہی شبہات اور مسائل کو دیکھتے ہوئے اس سے فرار اختیار کیا جانے لگے تو ہماری زبان کی ترقی نہیں ہوسکے گی۔
                ان سب کے علاوہ ہمیں زبان کے فروغ کے لیے ایک ہدف مقرر کے اپنی زبان کو تحقیق و ایجادات کی سطح تک لے جانا ہوگا۔ جب ہم اپنی زبان میں نئی تحقیقات اور ایجادات لائیں گے تو دوسرے لوگ بھی ہماری زبان پڑھنے پر مجبور ہوں گے اور تبھی جاکر زبان کو بھی بقائے دوام حاصل ہوسکتا ہے۔ حالانکہ یہ مشکل بھی ہوگا اور وقت طلب بھی۔ خود آمادگی کی ضرورت بھی ہوگی اور ذہن سازی کی بھی۔
                ہمیں اردو زبان میں علمی وسائنسی تحقیقات کو فروغ دینے کے لیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ایسے رائٹرز گلڈ کلب کی تشکیل کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جہاں طلبہ وطالبات، شوقین حضرات وخواتین اور دانشوران ماہانہ یا سہ ماہی طور پر بیٹھ کر ادب کے ساتھ علمی و سائنسی زبانوں پر ٹوٹی پھوٹی زبان میں ہی صحیح پرچے پیش کریں۔جس طرح کہ ہر چھوٹے بڑے شہروں میں شعری نشستوں کا انعقاد ہوتا ہے۔ اس سے ہماری زبان میں لکھنے والوں میں تو اضافہ ہوگا ہی۔ انہی میں سے کوئی آئندہ سائنس اور دیگر علوم کا ماہر ہوگا تو اردو زبان میں کوئی علمی خدمت بھی انجام دینے کا حوصلہ رکھے گا۔ اس طرح کی نشستوں میں اگر ان میں ایک شخص ایسا ہو جو زبان کا ماہر ہو اور پرچے پیش کردینے کے بعد زبان کو صحیح کرنے کے قواعد کے نکات بتادے تو رفتہ رفتہ ان کی زبان بھی درست ہوجائے گی۔ انہی پرچوں میں اگر کسی کو اخبارات اور رسالوں میں جگہ مل گئی تو حوصلہ بلند ہوگا اور معیار لانے کی کوشش کرے گا۔
                قابل توجہ امر یہ بھی ہے کہ ہندوستان بھر میں موجود اردو اکاڈمیوں کی جانب سے ہر سال سیکڑوں سیمینار منعقد کئے جاتے ہیں اور کتابوں کی اشاعت کے لیے مالی تعاون دیا جاتا ہے لیکن ان میں بیشتر ادب سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اس میں اکاڈمیوں کا کوئی قصور نہیں ہے۔ کیونکہ ان کے پاس سائنس وٹکنالوجی اور دیگر فکری علوم کے لیے منصوبے ہی موصول نہیں ہوتے ۔

                 اس سلسلہ میں اکاڈمیوں کی جانب سے یہ اقدام کیا جاسکتا ہے کہ ۵۰ ؍فیصدسائنسی وعلمی سیمیناروں کے انعقاد اور ۵۰؍ فیصد سائنسی وعلمی کتابوں کی اشاعت کے لیے رقم مختص کردی جائے۔ ہر سال سائنس اور علوم کی اعلی تحقیقات پر مبنی عمدہ کتابوں کا ترجمے شائع کرائے جائیں۔ ہر سال اردو میڈیم میں سائنس ، ٹکنالوجی اور علوم کی اشاعت میں نمایاں کار کردگی انجام دینے والوں کو صوبائی اور مرکزی سطح کا کوئی اعلی ایوارڈ دیا جائے۔
                اردو میڈیم اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ عام طور اس طرح کے اسکول بے بسی و بدحالی کی منہ بولتی تصویر ہوتے ہیں اور ان کے بچوں کے چہرے سے مفلسی ٹپکتی ہوتی ہے۔ ان اسکولوں کے طلبہ وطالبات میں نصابی وہم نصابی سرگرمیاں مفقود ہوتی ہیں۔ قومی ریاستی وظیفوں میں ان پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔
                اس وقت پری پرائمری تعلیم کے لیے سمعی بصری آلات استعمال کر کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو حروف تہجی، اعداد ، Rhymes اور کہانیوں کے ذریعہ ہلکی پھلکی اور بوجھ ڈالے بغیر تعلیم دی جارہی ہے۔ اردو زبان میں ایسے وسائل انکار کی حد تک محدود و ہیں اور جو ویڈیوز ویب سائٹ پر ملتے ہیں وہ انتہائی ناقص ہوتے ہیں جبکہ دیگر زبانوں کے اتنے خوبصورت دلچسپ اور بہترین ہوتے ہیں کہ جی خوش ہوجاتا ہے اور بچہ ان سے راغب ہوتا ہے۔ انگریزی کے علاوہ عربی وفارسی میں بہت اچھی اچھی ویڈیو موجود ہے۔ اکاڈمیوں کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ بچوں کو دوسری زبانوں کی طرح نئی ٹکنالوجی کے ذریعہ تعلیم دے کر اپنی مادری زبان سے وابستہ وپیوستہ رکھا جاسکے۔ یہ وقت کے تقاضے ہیں اورخود کو باقی رکھنے کے ان تقاضو ںکو بھی پورا کرنا ہوگا۔
یہ مضمون سہ ماہی اسالیب مطبوعہ سرگودھا پاکستان میں جنوری تا رچ ۲۰۱۴ کے شمارے میں شائع ہوا۔