مشمولات

Sunday, 26 May 2019

کیا تعلیم ریاست کی ترجیح میں سر فہرست نہیں ہے



کیا تعلیم ریاست کی ترجیح میں سر فہرست نہیں ہے؟؟؟
گزشتہ دن معزز سپریم کورٹ نے بہار کے کانٹریکٹ ٹیچروں  کو مساوی کام کے بدلے مساوی تنخواہ کے مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے پٹنہ ہائی کورٹ کے ذریعہ جاری فیصلہ کو مسترد  کردیا جس میں کہا گیا تھا  کہ بہار کے ساڑھے چار لاکھ کانٹریکٹ اساتذہ کو مساوی کام کے بدلے مساوی تنخواہ  حکومت کو دینا ہوگا۔ معزز سپریم کورٹ نے یہ  فیصلہ سنایا کہ بہار کے پرائمری سے لے کر ہائر سکینڈری اسکولوں میں کام کر رہے کانٹریکٹ پر بحال اور اب مستقل اساتذہ کے مقابلہ  میں کم شرح تنخواہ پا رہے اساتذہ کو مساوی کام کے بدلے میں مساوی تنخواہ نہیں دی جاسکتی ہے۔ اس کی جو وجہ بتائی گئی ہے بنیادی طور پر  وہ حکومت بہار کے پاس مالی وسائل کی کمی ہے۔ ممکن ہے ایسا ہو۔ مجھے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ  ان اسکولوں میں پہلے سے کام کر رہے جو مستقل اساتذہ  ہیں انہیں ڈائنگ کیڈر میں ڈال دیا جائے گا اور اب پہلے سے دی جا رہی شرح تنخواہ پر اساتذہ کی بحالی نہیں ہوگی۔ ظاہر ہے کہ حکومت کے پاس  کچھ ایسے اختیارات ہیں کہ وہ کسی طرح کا فیصلہ کرسکتی ہے۔ اس طرح کے فیصلے جمہوری ملک میں بڑے اٹ پٹے سے لگتے ہیں لیکن ہمیں زمینی حقیقت کے طور پر یہ سمجھنا چاہیے کہ گرچہ حکومت کی تشکیل یہاں جمہوری طریقہ سے ہوتی ہے لیکن حکومت چلانے والے لوگ ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ سے کام لیتے ہیں۔ زیر نظر فیصلہ میں حکومت کے ڈکٹیٹر شپ کے رویہ کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔
مالی وسائل کی کمی اپنی جگہ لیکن اس فیصلہ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جس کی طرف حکومت، اپوزیشن پارٹیوں ، ماہرین تعلیم اور ملک کے دانشور طبقات کا  توجہ دینا بہت ضروری ہے۔ مالی وسائل کی کمی کے مسائل کے ساتھ ساتھ اگر اس طرف توجہ نہیں دی گئی تو ریاست کو ایک بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ  دوسرا پہلو یہ ہے کہ  حکومت کی ترجیح میں بنیادی تعلیم  کی حیثیت کیا ہے؟ کیا تعلیم حکومت کی ترجیح میں سرفہرست نہیں ہے؟ اگر نہیں ہے تو کیوں نہیں ہے اور کیا اس کا کوئی اثر سماج اور ریاست پر مرتب نہیں ہوگا؟ ملک کے غریب بچے کیا معیاری تعلیم کے حق سے محروم کر دئیے جائیں گے۔
 ایک بات بہت واضح طور پر سمجھی جاسکتی ہے کہ جب حکومت اچھی شرح تنخواہ پر اساتذہ کی تقرری بند کر دے گی تو اچھے اور قابل لوگوں کی ترجیح بھی تعلیم کے شعبہ میں ملازمت کے لیے نہیں رہ جائے گی۔ کیونکہ ہر آدمی اپنی صلاحیت کے مطابق اس شعبہ کا انتخاب کرتا ہے جہاں اس کی امیدیں اور ضروریات پوری ہوسکیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس زمانہ میں  اور ہر زمانہ میں ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق بہتر سے روز گار حاصل کرنا چاہتا ہے جہاں اسے اچھی تنخواہ اور اچھی سہولیات میسر ہوسکیں تاکہ اس کے معیار زندگی میں بہتری آسکے۔ مثال کے طور پر ہندوستان میں سول سروسیز میں لوگوں کو اس کی صلاحیت کے مطابق اچھی تنخواہ اور اچھی سہولیات اور اچھی عزت ملتی ہے تو جو سب سے کریم بچے ہوتے ہیں وہ اس شعبہ کا انتخاب کرتے ہیں۔ اگر مان لیا جائے کہ سول سروسیز میں موجودہ تنخواہ اور وہ عمدہ سہولیات ختم ہوجائیں جو موجودہ وقت میں دی جا رہی ہیں تو لوگ اپنی لیاقت اور کام کی  صلاحیت کے مطابق کسی اور شعبہ کی تلاش کریں گے۔
تعلیم کے شعبہ کی طرف بھی لوگوں کا رجحان اسی لیے رہا ہے کہ یہاں اس کی صلاحیت کے مطابق مناسب شرح تنخواہ، دیگر سہولیات اور عزت مل سکے۔ لیکن جب حکومت نے یہ چیزیں ختم کردی ہیں تو اس کا سیدھا اثر یہ ہوگا کہ با صلاحیت افراد کا رجحان  شعبہ تعلیم کی طرف ختم ہوجائے گا۔ کیونکہ اس میں  ان کی  علمی لیاقت  اور کام کی صلاحیت کے مطابق ان کی امیدیں اور ضروریات پوری نہیں ہوسکتی ہیں۔ جب لوگوں کا رجحان اور بہاؤ اس شعبہ کی طرف ختم ہوجائے گا تو مجبورا حکومت کو افراد کی قلت کو کم کرنے کے لیے انہی افراد کا انتخاب  کرنا ہوگا جو دیگر شعبوں میں ہارے ہوئے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ ایسے افراد کے انتخاب سے عوامی تعلیم پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس طرح ریاست سے تعلیم چوپٹ ہوجائے گی اور سرکاری اسکول حکومت کا محض ایک غیر مفید شعبہ بن کر رہ جائے گا اور حکومت اس پر جو پیسے بھی خرچ کرے گی وہ ضائع ہوں گے۔ ریاست کے غریب بچے جن کی تعلیم کا ایک واحد ذریعہ سرکاری اسکول ہے معیاری تعلیم سے محروم ہوجائیں گے۔ آج بہار جو ملک بھرمیں اپنی فطری صلاحیتوں کی وجہ سے شناخت رکھتا ہے اس میں کمی آجائے گی۔ معیاری تعلیم چند امیر گھرانوں تک محدود ہو کر رہ جائے گی۔ ساتھ ہی غریب بچوں کے درمیان جو اعلی ذہانت  موجود ہے وہ مناسب موقع نہیں ملنے کی وجہ سے کند ہوجائے گی اور ریاست معاشی وسائل کے ساتھ  ذہنی وسائل کے بحران کا بھی شکار ہوجائے گی۔
اب حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ تعلیم اس کی ترجیح کس حد تک شامل رہے گی  اور وہ ریاست میں کس طرح کی تعلیم دینا چاہتی ہے۔ حکومت بار بار جس کوالیٹی ایجوکیشن کی بات کرتی ہے کیا وہ ہارے ہوئے لوگوں اور ہارے جی کام کرنے والوں لوگوں سے حاصل کرسکے گی؟؟؟

Sunday, 28 October 2018

تاثرات

محکمہ راج بھاشا کی جانب سے منعقد ضلع فروغ اردو سمینار میں پیش کئے گئے میرے تاثرات
مسند صدارت پر فائز صدر ایوارڈ یافتہ شاعر پروفیسر عبد المنان طرزی صاحب
وقار مجلس اس ضلع کے ڈائنیمک اور فعال ڈی ایم ڈاکٹر چندر شیکھر سنگھ صاحب
زینت مجلس ایڈیشنل کلکٹر محمد مبین علی انصاری، ضلع ایجوکیشن افسر ڈاکٹر مہیش پرساد سنگھ، اس سمینار کے کنوینر ضلع اقلیتی فلاح افسر محمد وسیم احمد صاحبان ،استاذ گرامی پروفیسر انیس صدری صاحب ، یہاں موجود اردو زبان و ادب کے ماہ و نجوم، اس کے سپاہی اور حاضرین کرام!
محکمہ راج بھاشا کی ہدایت پر ضلع انتظامیہ کی سرپرستی اور محکمہ اقلیتی فلاح کی جانب سے منعقد اس سمینار میں آج اردو زبان کے فروغ میں حائل دشواریوں اور ان کے حل سے متعلق تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔ اس خوبصورت سیمینار کے انعقاد کے لیے میں ضلع انتظامیہ اور منتظمین سیمینار کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ اس سمینار میں اس خاکسار کو بھی اپنے تاثرات رکھنے کا موقع دیا اس کے لیے میں ان کا بے حد شکر گزار ہوں۔
حضرات!
ہم جانتے ہیں کوئی زبان حکومت کے سہارے ہرگز زندہ نہیں رہتی ہے لیکن اگر اسے سرکار کی سرپرستی حاصل ہو جائے تو اس کے پر لگ جاتے ہیں۔ اردو ہمارے ملک کی سب سے زیادہ بولی اور سمجھی جانے والی زبان ہے۔ یہ ہمارے سماج کی سب سے زیادہ رائج زبان ہے۔ وہ اردو زبان جو ہندوستانی اور ہندوی کے نام سے بھی جانی جاتی ہے کہہ لیجئے کہ اس ملک کی قومی زبان ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ میں اس وقت اردو میں بول رہا ہوں اور یہاں موجود ہندی بھاشی حضرات اس کو ٹرانسلیٹ کئے بغیر ہندی میں سمجھ رہے ہیں۔ یہ زبان بڑے پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی ہے اس کے باوجود لکھنے اور پڑھنے کی سطح پر محدود ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے گھرانے جہاں اکا دکا اردو لکھنے پڑھنے والے موجود ہوتے تھے اب وہ بھی اردو لکھنے پڑھنے والوں سے خالی ہو چکے ہیں۔ کچھ نئے گھرانوں میں اردو ضرور پہنچی ہے لیکن خالی ہونے کی شرح پہنچ کی شرح سے تیز ہے۔
اردو جن کی مادری زبان ہے ان گھرانوں میں بھی لکھنے پڑھنے والے تیزی سے کم ہو رہے ہیں۔ نئی نسل کے بچے اردو رسم الخط سے نابلد ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض تقریبات میں ایسے بچے دیوناگری یا رومن رسم الخط میں لکھ کر اپنی تقریر یا پروگرام پیش کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو داں طلبہ و طالبات مادری زبان ہونے کے باوجود تدریس میں اردو زبان کے ساتھ Second Language کا سلوک روا رکھتے ہیں۔ یہ سکینڈ لینگویج بھی ان کے مضامین کی ترجیحات میں سکینڈری ہوجاتی ہے۔ جو چیز سکینڈری ہوجاتی ہے اس کا نتیجہ کیا ہوگا اس کو یہاں بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔
عمومی سطح پر بھی اردو زبان میں لکھنے پڑھنے کا عمل اب صرف زبان یا ادب کے موضوعات میں محصور ہوتا جا رہا ہے۔ دیگر موضوعات کا علمی کام اب ختم ہو تا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے اس کا ذمہ دار ہم حکومت کو تو نہیں ٹھہراسکتے ہیں۔    

کسی زبان کے فروغ کے لیے حکومت کی جانب سے جنتی مراعات ملنی چاہیے ہوسکتا ہے اردو کو وہ حاصل نہ ہوں۔ لیکن ہمیں دیکھنے کی ضرورت یہ ہے کہ ہمیں جو مراعات حاصل ہیں ہم ان کا استعمال کس حد تک کر رہے ہیں۔ اکنامکس کے اصولوں کو مد نظر رکھ کر بات کی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ بازار میں ڈیمانڈ کے مطابق ہی کسی چیز کی سپلائی ہوتی ہے۔ کسی چیز کی سپلائی اگر ڈیمانڈ سے زیادہ ہوجائے تو وہ بے وقعت ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لیے سپلائی روک دی جاتی ہے یا کم کردی جاتی ہے۔ ہمیں اگر حکومت سے مزید مراعات چاہئیں تو ہمیں اپنی یوٹیلائیزیشن کے ذریعہ ڈیمانڈ اتنی بڑھانی ہوگی کہ حکومت کے سامنے کرائسس دکھائی دینے لگے۔اور کرائسس کو بہت دنوں تک چھوڑا نہیں جاسکتا ہے کیونکہ ا س سے اشتعال پیدا ہوتا ہے۔ حکومت ڈانوا ڈول ہوجاتی ہے۔  
میں یہاں ایک بات اور کہتا چلوں کہ روز مرہ کے بہت سے کام ہیں جہاں اردو موجود ہے۔ کیا ہم وہاں اردو کا استعمال کرتے ہیں۔ایس بی آئی نے کئی اے ٹی ایم میں اردو میں فنکشن فراہم کردیا ہے جس کا پہلا اسٹپ پورا کرنے پر انسٹرکشن بنگلہ میں آتا ہے۔ اگر اس اسٹپ کو کسی طرح پورا کرلیں تو پھر اردو آجاتی ہے۔ ایچ پی گیس نے اپنے سائٹ پر اردو میں سہولت فراہم کرائی ہے۔ اس طرح کی روز مرہ کے بہت سے استعمال ہیں جہاں اردو موجود ہے۔ ہم اپنی ذاتی زندگی میں جہاں تیزی سے لکھنا ہو تو دیوناگری میں لکھنے لگتے ہیں۔ کیا اس کی ذمہ دار بھی حکومت ہے؟
انتظامیہ کی سطح پر اردو مترجم موجود ہیں ہم اردو الے ان سے کام نہیں لیتے ۔ ایسا نہیں ہے کہ سرکاری دفاتر میں اردو میں کام نہیں ہوتا ہے۔ میں نے چند برسوں قبل اردو میں آر ٹی آئی کی اس کا جواب ملا۔ ڈی ایم کمار روی صاحب کو میں نے اردو میں درخواست دی اور انہوں نے اسی وقت اس پر کارروائی کی۔ در اصل ہم حکومت کو مورد الزام ٹھہرا کر اپنے لیے فرار کی راہ تلاش کرتے ہیں۔  
باتیں بہت سی ہیں لیکن وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے میں مختصر طور پر صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ضلع میں سیکڑوں کی تعداد میں اردو میڈیم اسکول موجود ہیں۔ ایسے بہت سے اسکول جہاں اب ایک بھی اردو استاد نہیں ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں میں اردو داں اساتذہ موجود نہیں ہونے کے سبب ایسے اسکولوں کا میڈیم ہندی ہوگیا ہے۔ ایسے اسکولوں میں اردو اساتذہ یقینی طور پر بحال کئے جائیں۔ ایسی ہدایت دی جائے کہ جو اسکول اردو میڈیم ہیں ان میں درس وتدریس کا کام اردو میڈیم میں ہو۔  
اردو بہار کی دوسری سرکاری زبان ہے۔ اس حیثیت سے ہونا تو یہ چاہیے کہ ریاست کے تمام اسکولوں میں کم از کم اسکول کا نام اردومیں بھی لکھا جائے لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ ایسے درجنوں اردو میڈیم اسکول ہیں جن پر اس کا نام اردو میں لکھا ہوا نہیں ہے۔ ڈی ایم صاحب سے گزارش یہ ہے کہ وہ اسکولوں کو یہ ہدایت جاری کر دیں کہ تمام اسکولوں پر عمومی طور پر اور اردو اسکولوں پر خصوصی طور پر اردو زبان میں بھی نام لکھا جائے۔
اس کے علاوہ ضلع کے تمام سرکاری دفاتر پر اردو میں نام لازمی طور سے ہو۔ سڑکوں کے نام بھی دیوناگری کے ساتھ اردو میں بھی لکھے جائیں۔اس بات کی اگر گنجائش ہو تو محکمہ اقلیتی فلاح کی جانب سے اقلیتی اداروں کو جو لیٹر بھیجے جاتے ہیں وہ اردو زبان میں بھیجے جائیں۔ اقلیتی اداروں سے اقلیتی فلاح دفتر کو موصول ہونے والے مکتوبات اردو میں ہی حاصل کئے جائیں۔ 
محکمہ راج بھاشا نے جس طرح اپنے ملازمین کا ورکشاپ کرایا ہے ضرورت ہے کہ اردو اساتذہ کا بھی ورکشاپ منعقد کرایا جائے اور اس کو یہ بھروسہ دلایا جائے کہ آپ اردو کے فروغ کے لیے کام کریں جہاں دشواری ہوگی انتظامیہ ضابطے کے مطابق ان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔ 
انہی چند باتوں کے ساتھ میں اپنی بات ختم کرتا ہوں اور ایک بار پر انتظامیہ کو اس سمینار کے انعقاد کے لیے مبارکباد دیتا ہوں ۔ 
شکریہ
احتشام الحق


Sunday, 21 October 2018

شاہد جمیل کی شاعری میں رنگوں کا آہنگ



شاہد جمیل کی شاعری میں رنگوں کا آہنگ
                شاہد جمیل ایسے کہنہ مشق اور قادر الکلام شاعر ہیں جنہوں نے اردو شاعری کی مختلف اصناف میں نہ صرف طبع آزمائی کی ہے بلکہ استادانہ مہارت اور کمال ہنر کا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔ انہوں نے غزل، نظم، ماہیے، کہہ مکرنی اور دوہے بھی کہے ہیں اور بارہ ماسے کی طرز پر مہینوں کو عنوان بنا کر نظمیں کہی ہیں۔ان سب میں الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش کی ہے جس کا ناقدین نے اعتراف کیا ہے۔
                شاہد جمیل کے کلام میں کئی چیزیں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں ان میں سے ایک رنگوں کا استعمال بھی ہے۔ رنگ در اصل پینٹنگ یا مصوری کا ذریعہ ہے لیکن شاعری میں بھی رنگ کی اپنی اہمیت رہی ہے۔شعرا منظر کشی اور تصویر کشی کے لیے رنگوں کا استعمال کرتے رہے ہیں جسے پیکر تراشی اور محاکات وغیرہ کہا جاتا ہے۔ جو شعر پیکر تراشی کے عمل سے گزر تا ہے وہ قاری میں وجدان کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ شاعر کے لیے پیکر تراشی کے عمل کو رنگوں کاصحیح استعمال نہ صرف سہل بناتا ہے بلکہ پینٹ اور برش کے مقابلہ میں لفظوں سے بنائی جانے والی تصویر میں ابھار اور جان پید ا کردیتا ہے۔ رنگوں کے درست Combination سے جو Shadeبنتا ہے اور اس سے شاعر جو منظر کشی کرنا چاہتا ہے اس کی زندہ و سلامت تصویر قاری کے سامنے پھرنے لگتی ہے اور ذہن پر اس کا دیرپر اثر مرتسم ہوتا ہے۔
                شاہد جمیل نے بھی اپنے کلام میں رنگوں کے استعمال سے خیال کی منظر کشی اور تصویر کشی کے رنگ بھرنے کی جوکوشش کی ہے وہ کامیاب ہوتی نظر آتی ہے۔ اس کا اعتراف ماہرین نے بھی کیا ہے۔ ڈاکٹر مناظر عاشق لکھتے ہیں :
                ‘‘شاہد جمیل نئی اور منفرد آواز کے مالک ہیں۔ ہلکے اور گہرے رنگوں کی شاعری کی بنت کاری کا تانا بانا تیار کرنے کا فن انہیں آتا ہے۔
چند اشعار ملاحظہ ہوں:
سرمئی جسم، جاں سرمئی
درد کے سب جہاں سرمئی
....
بھنور میں قوسِ قزح
ہر ایک ساحل سیاہ
....

غم کو دونوں معتبر!
سرخ دل کہ داغ سرخ
....
گل پہ خزاں تھی تو کیا؟
باغ، شجر، آب سبز
دل کا کھنڈر زرد زرد
یاد کی محراب سبز
فلک سے پوچھئے آداب مقتل
شفق کی شام کا مطلب گلابی
تماشے دیکھنا پھر آسماں کے
سفیدی ہو رہی ہو جب گلابی
....
میں دل کی دھند پہ الحاد لکھ دوں
گلابی شب کا ہر مذہب گلابی
میں اک رات ہر رات بے خواب
تو اک خواب ہر دم سنہرا
....
تو ازل ہے یا ابد کچھ نہیں
آسماں! سب تیرے منظر نیلگوں
                مذکورہ اشعار جو یونہی جہاں تہاں سے اٹھا لئے گئے ہیں ان میں بھڑکیلے رنگ کے ساتھ اودے اور پھیکے رنگوں کا یہ امتزاج شاہد جمیل کی شاعری میں معنوی تہ داری پیدا کرتے ہیں اور ایک فکر اور بیان کے ظاہری سطح کے پیچھے احساس کا ایک سلسلہ اور در وبست ہے جو قاری کو دور تک لے جاتا نظر آتا ہے۔   
لہو کا سبز پرندہ! گماں کا سرخ آکاش
یقیں کے پاؤں میں زنجیرِ درد، جھوٹ کہ سچ؟
....
یاد سی چیز کوئی لا کے شفق پر رکھ دی
شام کو شام سے اس طرح جدا ہم نے کیا
....
سفید تو، میں سفید
ترے مرے دل سفید
....
                شاہدجمیل رنگوں کو علت اور معلول کے ساتھ اس طرح الٹ پھیر کرتے ہیں کہ قاری ایک نتیجہ تک ضرور پہنچتا ہے لیکن کسی ایک مقام پر ٹھہر کر نہیں رہ جاتا ہے بلکہ دیرتک سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ شاعر ہم سے آخر کیا کہنا چاہتا ہے ؟ خود قاری زندگی کے کئی تجربات میں کھوجاتا ہے اور اس سے قبل اس کو اپنے تجربہ سے جو بصیرت ملی ہوتی ہے اس سے پرے بھی اس کی نظر جاتی ہے اور اس کی نظروں میں ایک نئی روشنی پھیل جاتی ہے۔ صبح سفید دھند لکی روشنی اس کے ذہن کو روشن ومنور کئے دیتی ہے۔
سفید خواب، خواب کی سحر سفید
دھنک ہوئی سیاہ، بحر و بر سفید
....
سرخ شب، چراغ سرخ
گل سیہ تھا، باغ سرغ
....
یوں نہیں لوٹی دعا
لب سیہ، فریاد زرد
دھار دار فکروں کا ایسے نمونے شاہد جمیل کی شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں۔
                شاہد جمیل نے مہینوں اور ان کے مخصوص اوصاف اور تاثیر سے ابھرنے والے احساسات کو بھی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ ایسے کلام میں بھی انہوں نے رنگوں کے امتزاج سے منفرد آہنگ پیدا کیا ہے جو محسوس کرنے کے قابل ہے۔
                شاہد جمیل کی شاعری میں رنگ کے آہنگ کے ساتھ ساتھ فکرکا آہنگ بھی بدرجہ اتم موجود ہے اور قاری کی توجہ مبذول کراتی ہے۔ عام طور پر غزلوں کے مقابلہ میں نظموں میں اس کی زیادہ گنجائش رہتی ہے ۔ شاہد جمیل کے یہاں بھی نظموں میں بڑی فکر انگیزی ہے اور وہ فکر کو فن کی سطح پر برتنے میں بھی مکمل کامیاب نظر آتے ہیں۔ ہر قوم اور ہر ملک میں نئے سال کو ایک نئے انداز میں دیکھنے اور خوشی کے پیام کے طور پر دیکھنے کی روایت رہی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا ہر پل اور ہر لمحہ نیا ہے۔ اگر اس کی آنکھیں کھلی ہوں اور حوصلہ ہو تو ہر صبح نئی مسرت کا پیغام لاتا ہے۔ لیکن نیا سال یا نیا دن اسی کے لیے نئی امیدووں کا پیغام بنتا ہے جو خود کو حالات کے دھارے کو موڑنے کا ہنر اور حوصلہ رکھتا ہو۔ شاہد جمیل نے بھی اپنی طویل نظم نیا سال میں ان تمام امیدوں کو پیش کیا جاتا ہے جو نئے سال سے وابستہ کی جاتی ہیں۔ انہوں نے بڑی خوبصورتی سے نئے سال پر امیدوں کی ابتدا کا آغاز کیا ہے اور انسان کے دل میں جس طرح کے جذبات پیدا ہوتے ہوں ان سب کو شاعری کے رنگ میں پیش کرتے ہوئے جو نتیجہ پیش کیا ہے وہ قاری کو چونکاتا اور سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
ہم جس دن خود بدلیں گے
اس روز نیا سال آئے گا
                مجموعی طور پر شاہد جمیل کی شاعری میں عصری حسیت فنی ہنر مندی کے ساتھ جگہ بناتی ہے اور روایتوں کی امین ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی ایک منفرد آواز اور منفرد شناخت بنانے میں کامیاب نظر آتی ہے۔
٭٭٭

آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے


آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے
معروف شاعر جناب عبد المنان طرزی نے اپنی تازہ کتاب ‘‘توشیحی نظمیں’’ کے ٹائٹل پیج کی پشت پر ‘‘عزیزان با لیاقت کی سعادت مندیاں ’’ کے عنوان سے اپنے بارے میں مختلف کتابوں میں شامل چار عزیزوں کی آرا کو شامل کیا ہے جن میں یہ خاکسار بھی شامل ہے۔ بقیہ تین شخصیات ڈاکٹر مجیر احمد آزاد، ڈاکٹر احسان عالم اور ڈاکٹر منصور خوشتر نے یقینی طور پر ادب میں اپنی شناخت بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس خاکسار کی اس فہرست میں شمولیت  جناب طرزی کی محض اعلی ظرفی اور ذرہ نوازی ہے۔ یہ عزیزوں سے ان کی بے پناہ محبت اور شفقت عامہ کا ایک پہلو ہے ۔ ورنہ ‘‘چہ نسبت ایں خاک را’’ ۔
                اس میں کسی تامل کی گنجائش نہیں ہے کہ میری اس رائے سے ان کی شخصیت میں کوئی بھی  اضافہ نہیں ہوگا کیونکہ ان کی شخصیت ہندوستان ہی نہیں عالمی سطح پر کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ در اصل یہ اپنے عزیز کو شناخت عطا کرنے اور مقام اعتبار بخشنے کی ایک  سعی مشکور ہے۔
                حقیقت یہ ہے کہ پشت پر میری مشمولہ رائے ان کی شعری کائنات کا غیر مکمل اور نا کافی  تعارف ہے۔ کیونکہ  بڑا ادب اپنے اندر اتنی وسعت اور تنوع رکھتا ہے کہ چند لفظوں میں اس کا احاطہ ناممکن ہوتا ہے۔ ایک پہلو کو سامنے لائیں تو دوسرا ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ جس طرح غلہ کے ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر اٹھاتے ہیں تو مٹھی میں کچھ ہی دانے آتے ہیں اور ان میں سے بھی پھسل پھسل کر گرتے رہتے ہیں۔ جناب طرزی کی ادبی کہکشاں بھی کچھ ایسی ہی وسعت کی حامل  ہے  کہ اس کو سمیٹنے کی کوشش کریں تو الفاظ کی تنگ دامانی راستہ روک لیتی ہے اور کلام کی قدرت بیان کی عاجزی کا اظہار کرنے لگتی ہے۔

Tuesday, 7 August 2018

زباں (اردو) کی ہے آبرو باقی انہی خرقہ پوشوں سے


زباں (اردو )کی ہے آبرو باقی انہی خرقہ پوشوں سے 
۵ اگست ۲۰۱۸ کو  دربھنگہ کے ڈان باسکو اسکول میں محکمہ کابینہ سکریٹریٹ اردو ڈائرکٹوریٹ کی جانب سے فروغ اردو سمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔ مذکورہ سمینار میں بعض اسکالروں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو کو زندہ رکھنے میں سب سے بڑا رول موجودہ دور میں مدارس اسلامیہ کا ہے۔ یقینا یہ ایک سچائی ہے جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن اسی کے ساتھ بعض اسکالر اور مدبرین کا یہ احساس تھا کہ یہ محض جذباتی پہلو ہے اور اردو کو فروغ دینے میں مدارس کا کردار ضرور رہا ہے لیکن آج نوے فیصد مدارس صرف فارم داخل کرنے اور بچوں کو امتحان فارم داخل کرانے کے لیے رہ گئے ہیں۔ انہیں تعلیم و تعلیم سے کوئی مطلب نہیں۔ ایسے مدبرین کے خیال میں بھی  کسی  حد تک سچائی ہے لیکن در اصل یہ اشتباہ ہندوستان کے مدارس کے نظام میں فرق نہیں کرنے کے سبب پیدا ہوا ہے۔ 
ہم جانتے ہیں ہندوستان میں دو طرح کے مدارس کا نظام رائج ہے۔ ایک مدرسہ نظامیہ کہلاتا ہے جس کا سلسلہ پورے ہندوستان میں پھیلا ہوا ہے اور دوسرا وفاقی یا ملحقہ ہے۔ جب ہم مدارس کے نظام تعلیم کی بات کرتے ہیں اور اردو کے فروغ میں مدارس کے کردار کی تعریف کرتے ہیں تو اس وقت اہل نظر کے سامنے وفاقی یا ملحقہ مدارس کی بجائے نظامیہ مدارس ہوتے ہیں۔ 
جن اسکالروں کا خیال ہے کہ مدارس  اردو کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں ان سے مراد وہی نظامیہ مدارس  ہیں۔ اسٹیٹ یونیورسٹی سے لے کر سینٹرل یونیورسٹی میں اردو شعبہ کی آبرو انہیں نظامیہ مدارس کے فارغین سے بچی ہوئی ہے۔ وہاں کے اچھے بچے یقینا انہی مدارس کے ہوتے ہیں۔ اردو زبان جس ش ق کی درستگی، صحیح تلفظ اور شستہ و رواں لہجہ کے  لیے  پہچانی جاتی ہے اس کے مثالی نمونے ان مدارس کے طلبہ اور اساتذہ کے یہاں عام ہیں۔ اس کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ ابتدائی ایام میں اردو کو انگلی پکڑانے میں جن صوفیا کی خدمات کا اعتراف کیا جاتا ہے ان صوفیا کے صفات سے آج بھی یہی خرقہ پوشان مدارس متصف ہیں۔ آج بھی ان اہل مدارس عوام سے مضبوط رکھتے ہیں اور اس رابطہ کا ذریعہ یہی اردو زبان بنتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان نظامیہ مدارس میں متوسطہ سے اعلی تعلیم تک کے مرحلہ میں نصاب میں بطور زبان اردو مضمون کی حیثیت سے شامل نہیں ہے۔ یہ صرف ذریعہ تعلیم ہے۔ یا پھر تمام خارجی مطالعہ کا ذریعہ ہے۔ لیکن یہ کم بڑی بات نہیں ہے کہ طالب علم پر ایک مضمون کے بوجھ کا اضافہ کئے بغیر زبان کی تعلیم کا وہ مقصد حاصل کرلیا جاتا ہے جو عصری اداروں میں  بطور مضمون پڑھاکر بھی نہیں حاصل ہوپاتا ہے۔


Friday, 27 July 2018

بہتر تعلیم کیلئے صرف خصوصی تربیت مسئلہ کا حل نہیں



بہتر تعلیم کیلئے صرف خصوصی  تربیت مسئلہ کا حل نہیں
جڑوں کو سوکھا رکھ کر شاخوں پر پانی چھڑکنے سے درخت شاداب نہیں ہوں گے

میڈیا میں آئی خبروں کے مطابق سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم ریاضی اور دیگر مضامین میں کمزور بچوں کو محکمہ کی جانب سے خصوصی تربیت دی جائے گی۔ اس کی ذمہ داری حکومت نے بہار ایجوکیشن پراجیکٹ کونسل کو دی ہے۔ حکومت کو یہ خیال اس لیے آیا ہے کہ وزیر اعلی کے مشیر اور چیف سکریٹری نے محکمہ تعلیم کے حکام کے ساتھ ملاقات کی تھی جس میں یہ معاملہ سامنے آیا کہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم درجہ اول تا درجہ پنجم کے طلبہ ریاضی کے عام سوالات بھی حل نہیں کرپاتے ہیں۔
                حکومت کی یہ سنجیدگی قابل ستائش ہے۔ اگر حکومت یہ کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یقینا  سماج کے لیے بڑا کام ہوگا۔ لیکن ماضی میں کی  گئی اس طرح کی کوششوں کے مد نظر امکان یہ ہے کہ حکومت کی یہ کوشش  بھی ناکام ہوگی۔ کیونکہ یہ جڑوں میں پانی دینے کی بجائے شاخوں پر پانی دینے کا عمل ہوگا جس سے درخت شاداب نہیں ہوتے۔ اولا تو محکمہ کا یہ خیال کہ درجہ اول تا درجہ پنجم کے طلبہ ریاضی  کے عام سوالات حل نہیں کرپاتے گرچہ  صد فیصد درست ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ درجہ ہشتم تک ایسے طلبہ ہیں جو ریاضی ہی نہیں قومی و مادری زبان ہندی میں بھی اتنے کمزور پائے جاتے ہیں کہ اس کا بیان انتہائی تکلیف دہ ہے۔ حکومت جو خصوصی تربیت کا انتظام کرے گی اندازہ یہ ہے کہ اس کے  لیے اساتذہ کو یہ ذمہ داری دی جائے گی کہ وہ اسکول میں بچوں کی چھٹی ہوجانے کے بعد ایک گھنٹہ ایسے بچوں کو تربیت دیں۔ جو کاغذ پر تو ممکن ہے شاید عمل میں نہ آسکے۔ اگر یہ اساتذہ اتنے ذمہ اور ایماندار ہوتے کہ وہ بچوں کی تعلیمی ترقی اور پیش رفت کے لیے درجوں کے بعد انہیں ٹریننگ دینے کا اہتمام کریں تو خود کلاس میں ہی بچوں کو اتنی تعلیم ضرور دیتے کہ بیشتر بچوں کی تشفی درجہ میں ہوجائے اور کچھ بچے جو پیدائشی طور پر یا معاشی اور دیگر مسائل کے سبب کمزوریوں کے شکار ہیں محض ان کا مسئلہ رہ جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو خصوصی تربیت کے ذریعہ درست کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یہاں درجوں میں بیشتر کمزور ہوتے ہیں اور چند ایک اچھے ہوتے ہیں۔ یہ  بھی سچائی ہے کہ اساتذہ کی ایک بڑی تعداد کلاس کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے اور اس کے چند اسباب بھی ہیں۔
                اسکولوں میں تعلیم کی بہتری کے لیے محکمہ کا پورا نظام موجود ہے لیکن جس طرح اساتذہ تعلیم کے تئیں غیر سنجیدہ ہیں اس سے کہیں زیادہ محکمہ کا نظام غیر سنجیدہ ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اساتذہ کو ذمہ دار ی سے راہ فرا ر اختیار کرنے میں محکمہ کی جانب سے حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ محکمہ کی جانب سے اکثر اسکولوں میں سی آر سی سی، بی آر پی ، بلاک ایجوکیشن افسر ، ضلع ایجوکیشن افسر اور ضلع پروگرام افسر کی جانب سے معائنہ ہوتا رہتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ معائنہ میں ایسے افسران درجہ میں نہیں جاتے یا جاتے بھی ہیں تو محض بچوں کا سر گننے اور حاضری رجسٹر میں بنائی گئی حاضری سے گنے ہوئے سر کا مقابلہ کرنے تاکہ سر شماری اور رجسٹر میں درج تعداد میں بڑا فرق پائے جانے پر اسکول کے  ہیڈ ماسٹر سے پیسے کی وصولی کو جائز ٹھہرایا جاسکے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ اسکولوں کا معائنہ کرنے والے ہر سطح کے افسران درجہ میں پہنچ کر بچوں سے سوال کرتے۔ آج ان کو کون سا سبق پڑھایا گیا ہے۔ محکمہ کی جانب سے جو کیلنڈر دستیاب کرایا گیا ہے اس کے مطابق پڑھائی ہوئی ہے یا نہیں؟جو سبق پڑھایا گیا ہے اس کا حق ادا ہو سکا  ہے یا نہیں؟  سبق اگر بہت پیچھے ہے تو اس کے اسباب کیا ہیں؟کون کون سے مضامین پڑھائے گئے اور روزانہ پڑھائے جا رہے ہیں اور جن مضامین کی پڑھائی نہیں ہو پارہی ہے اس کے اسباب کیا ہیں؟ کیا اساتذہ کی کمی سے ایسا  ہو رہا ہے یا پھر اساتذہ اپنی ذمہ داری کے تئیں لا پرواہ ہیںَ جن مضامین کی پڑھائی ہوچکی ہے اس میں بچوں کی معلومات کی سطح کیا ہے؟  جن مضامین کے اساتذہ کی کمی  ہے اس کا حل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں محکمہ کو رپورٹ دی جانی چاہے کہ اساتذہ کی کمی کے سبب تعلیم کا کیا نقصان ہو رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ افسران کو ان سب سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔
                اسکولوں میں ناقص تعلیمی نظام  کی ایک بڑی وجہ اساتذہ کی غیر معمولی کمی ہے۔ اکثر اسکولوں میں ضرورت کے مطابق اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ ایک ہی درجہ میں دو دو، تین تین سے پانچ پانچ کلاسوں کی تعلیم بھی دیکھنے کو مل جائے گی اور اسکولوں کی ایسی تعداد بھی ہر ضلع میں قابل لحاظ ہے۔  جہاں ایسا ہے وہاں بچوں کی تعلیمی پیش رفت کیا ہوگی اس  کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا ذمہ دار اساتذہ کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسکولوں کو ضرورت کے مطابق اساتذہ فراہم کرائے۔ اگر ایسے اسکولوں میں بچوں کی تعلیمی  ترقی کو یقینی بنانے کے لیے خصوصی کلاس کا اہتمام کر بھی دیا جائے تو اس کا نتیجہ صفر ہی ہوگا۔
                حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں جو تقرری کی ہے اس میں درجہ ششم تا درجہ ہشتم میں اساتذہ کی تقرری میں مضمون کی شرط رکھی گئی  ہے۔ یہ بڑی  حد تک اچھی بات ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہر اسکول میں تمام مضامین کے اساتذہ  کی لازمی طور پر تقرری ہوتی۔ بلکہ نظام تو ایسا ہونا چاہیے تھا کہ ہر سال اسکولوں سے سکبدوش ہونے والے اساتذہ کے مقابلہ میں مضامین کے مطابق تقرری ہر سال ایک روٹین کے مطابق ہوتی رہنی چاہیے تھی تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔ لیکن یہاں تقرری صرف ایک انتخابی ایجنڈہ ہے۔ تقرری کا اشتہار جتنا ہوتا ہے تقرری اتنی نہیں ہوتی۔ ریلیف کے فنڈ کی طرح تقرری نامہ تقسیم کیا جاتا ہے پھر برسوں حکومت اور عوام کسی جانب سے ضرورت محسوس نہیں کی جاتی ہے۔ صرف ملازمت پانے والے امید کی نظروں سے دیکھتے رہتے ہیں۔  بڑی تعداد اسکولوں کی ایسی ہے جہاں تمام مضامین میں اساتذہ موجود نہیں ہیں۔ سماجی علوم کا استاذ ہے تو سائنس کا نہیں، ریاضی کا استاد ہے تو سماجی علوم کا نہیں۔ اسکولوں میں انگریزی، ہندی، اردو اور سنسکرت سمیت زبان کے اساتذہ کی بڑی کمی پائی جاتی ہے۔  حالت یہ ہوتی ہے کہ ایک استاذ کو بسا اوقات ایک ساتھ کئی درجوں پر نگرانی رکھنی ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے تعلیم متاثر ہوتی ہے۔  ان سب کاذمہ  دار اساتذہ کو تو بالکل ٹھہرایا نہیں جاسکتا ہے۔ لیکن معاملہ یہ ہے کہ حکومت نے جان بوجھ کر عوام میں سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے سلسلہ میں گمراہی پیدا  کر کے ان کے خلاف بد ظنی پید ا کردی ہے تاکہ عوام کی نظر اصل مسائل کی طرف نہیں جاسکے۔ عوام محکمہ کی جانب سے ملنے والے چند پیسوں کے مالی مفاد( پوشاک، اسکالر شپ ، کتابوں اور انڈوں) میں کھوجاتے ہیں اور اسکول انتظامیہ سے دست و گریباں رہتے ہیں۔ حالانکہ ان چیزوں کی دستیابی میں تاخیر یا کمی کا ذمہ دار بھی محکمہ ہی ہوتا ہے لیکن عوام کی نظروں میں قصور وار اساتذہ اور اسکول انتظامیہ ہوتی ہے۔اپنے کام کے تئیں اساتذہ کے والہانہ لگاؤ میں کمی کی ایک وجہ  وقت پر ماہانہ تنخواہ کی عدم ادائیگی بھی ہے۔ گرچہ اس کی ذمہ دار حکومت ہے اور اس کے لیے بچوں کے ساتھ نا انصافی کرنا  ناروا ہے۔ اساتذہ کو اس سے یقینا بچنا چاہیے۔ لیکن انسانی ضروریات کی تکمیل میں رکاوٹ پر یکسوئی پیدا ہونا محال بھی ہے۔ اساتذہ کی یکسوئی میں کمی کی ایک اور بڑی وجہ اساتذہ سے غیر تدریسی کاموں کا لیا جانا ہے۔ درجہ اول تا درجہ ہشتم تک کے اسکولوں میں کوئی کلرک نہیں ہوتا ہے۔ یہ سارے کام اساتذہ کو کرنے ہوتے ہیں۔ مڈ ڈے میل کے علاوہ روزانہ کی مختلف طرح کی رپورٹوں کے علاوہ کھلے میں قضائے حاجت کرنے والوں کی تصویر کشی اور بیت الخلا کی گنتی جیسے گھناؤنے عمل اور وقفہ وقفہ پر ملنے والی غیر تدریسی ذمہ داریاں اس  پر مستزاد ہیں۔  
                اسکولوں میں بہتر تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ عوام کی جانب سے بھی کچھ تعاون اساتذہ اور اسکول انتظامیہ کو ملے۔ الیکشن میں عوام کے جو مطالبات ہوتے ہیں یا حکومت عوام کے سامنے جو ایجنڈے پیش کرتی ہے اس میں بھی کبھی یہ شامل نہیں ہوتا کہ ہر اسکول میں ضرورت کے مطابق اساتذہ فراہم کرائے جائیں ۔ یہ صرف روزگار کی فراہمی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ بجلی، پانی، صحت اور سڑک جیسی بنیادی ضرورتوں کی طرح ایک ضرورت ہے کہ ان کے بچوں کی تعلیم کے لیے بھرپور اساتذہ بھی فراہم کرائے جائیں اور ان سے تدریسی کام لئے جائیں۔ حکومت اساتذہ کی ضروریات کا خیال رکھے تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ درس و تدریس میں منہمک ہوسکیں۔
                اگر حکومت کو اسکولوں میں بہتر نظام تعلیم کا ماحول فروغ دینا ہے تو اولا تو ضرورت کے مطابق اساتذہ بحال کرنے ہوں گے۔ اساتذہ کی بنیادی ضرورتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ان کو غیر تدریسی کاموں سے فارغ رکھنا ہوگا۔ اس بات کو یقنیی بنانا ہوگا کہ نگرانی اتھارٹی مالیات کی فراہمی کی بجائے تدریس کو یقینی بنائے۔ ورنہ یوں شاخوں پر پانی چھڑکے جاتے رہیں اور جڑیں سوکھی کی سوکھی ہی رہیں گی۔
***

بازار میں اردو کی تدریسی کتابوں کی دستیابی کے لیے اس کا ڈیمانڈ بڑھانا ضروری



بازار میں اردو  کی تدریسی کتابوں کی دستیابی کے لیے اس کا ڈیمانڈ بڑھانا ضروری
سرکاری اسکولوں کے درجہ اول تا درجہ ہشتم  کی کتابیں بازار میں دستیاب تو ہوگئی ہیں لیکن ایک بار پھر اردو کتابیں نظر انداز کردی گئی ہیں جس سے اردو پڑھنے والوں بچوں کا بڑا نقصان ہونا طے ہے۔ مجموعی طور پر یہ اردو زبان اور اردو داں آبادی کا بھی بڑا نقصان ہے۔ گزشتہ سال تک جب محکمہ تعلیم کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں کتابیں فراہم کرائی جاتی تھیں اردو کتابوں کے ساتھ سوتیلا رویہ صاف نظر آتا تھا۔ کتابیں اگر فراہم بھی کرائی جاتی تھیں تو آدھی ادھوری۔ اب جبکہ کھلے بازارمیں کتاب دستیاب کرانے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے تب بھی اردو کی کتابیں اب تک بازار میں نہیں آسکی ہیں جو انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے۔ پتہ چلا ہے کہ ابھی اردو کی کتابیں شائع نہیں ہوئی ہیں جبکہ سنسکرت سمیت تمام مضامین کی کتابیں شائع ہو کر بازار میں دستیاب ہیں۔ یہ اردو کے ساتھ کھلا تعصب ہے۔ حالانکہ بعض جگہوں سے ایسی خبر بھی ہے کہ اردو کتابیں وہاں دستیاب ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ اچھی بات ہے لیکن بیشتر اضلاع میں کتابیں عام کتابوں کی طرح نہیں مل رہی ہیں۔ ایسے میں اردو والوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت اور فروغ کے لیے آگے آئیں اور  ڈٹ کر ایسے حالات کا مقابلہ کریں۔
 سب سے پہلے تو ضروری ہے کہ بچوں اور ان کے والدین میں اردو کے تئیں بیداری پیدا کی جائے اور انہیں کہا جائے کہ وہ بازار میں دکانوں پر جہاں سرکاری اسکولوں کی کتابیں فروخت ہو رہی ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ اردو کتابیں ابھی بازار میں نہیں آئی ہیں خریدنے ضرور جائیں۔ اس سے ڈیمانڈ بڑھے گا  اور پبلشر اردو کتاب شائع کرنے اور دکاندار بیچنے پر مجبور ہوں گے۔ مزید اردو تنظیموں اور سرپرستوں کی یونین کی جانب سے محکمہ تعلیم اور حکومت سے مطالبہ کیا جائے کہ جس طرح دیگر کتابیں بازار میں آچکی ہیں اسی طرح اردو  کی کتابیں بھی فورا بازار میں دستیاب کرائی جائیں اور یہ سوال بھی کیا جائے کہ آخر اردو کے ساتھ ایسا رویہ کیوں برتا گیا ہے کہ ساری کتابیں آچکی ہیں اور اردو کو چھوڑ دیا گیا ہے؟
خیال رہے کہ یہ صرف اردو مضمون کی بات ہو رہی ہے۔ اردو میڈیم کی کتابوں کا تو بازار میں کوئی پتہ ہی نہیں ہے اور حکومت نے جو طریقہ اختیار کیا ہے اور خود  اردو والوں کا  اپنا  جو رویہ ہے کہنا چاہیے کہ اس سے بہار میں اردو میڈیم ختم ہی ہوگیا ہے۔اب اردو اسکول برائے نام رہ گئے ہیں۔ اس میں بھی ایک ہی ضلع میں ایسے سیکڑوں اردو اسکول مل جائیں گے جن کو اپنا نام بھی اردو میں لکھا ہوا نصیب نہیں ہے۔ افسوس تو وہاں کی اردو آبادی پر ہے جس کو اس زیاں کا احساس تک نہیں ہے۔ اب  شاید باید ہی کوئی اسکول ہو جہاں اردو میڈیم میں سارے مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ اب اگر اردو مضمون کی کتابیں بھی بازار میں نہیں ہوں گی تو  آنے والے دنوں میں سرکاری اسکولوں میں اردو کا کیا حال  ہوگا اس کو سمجھا جاسکتا ہے۔
اردو اساتذہ سے بھی مؤدبانہ اپیل ہے کہ وہ خود بھی کتابوں کی دکانوں پر اردو کتابیں خریدنے جائیں اور دکانداروں سے بات کریں کہ وہ اردو کتابیں منگوائیں۔ ممکن ہو تو بچوں سے بات کر کے خود ہی اردو کتابیں لا کر دستیاب کرائیں۔ اس ضمن میں عام اردو آبادی میں دانشورں، حساس، سماج کے ذمہ دار افران اور ائمہ مساجد کہ وہ لوگوں میں اردو کے تئیں بیداری لانے کے لیے سرگرم ہوں۔ سرکاری اسکولوں میں پڑھ رہے بچوں کے والدین اور سرپرستوں کو اس بات کے لیے آمادہ کریں کہ وہ اردو کتابیں خریدنے بازار جائیں اور جب اردو کتاب بازار میں دستیاب ہوجائے تو لازمی طور پر خریدیں۔ کیونکہ جب ڈیمانڈ بڑھے گا تو تجارتی منفعت کے مد نظر بھی پبلشر اردو کتابیں شائع کریں گے اور دکانوں میں فروخت بھی ہوگی۔کیونکہ تعصب خواہ کتنا بھی ہو تجارتی مفاد کے آگے وہ ماند پڑجاتا ہے۔ سماج کے ذمہ دار اور ہوش مند افراد جو شہر اور قصبات میں جاتے رہتے ہیں ایسے ماحول میں جب تک اردو کتابیں بازار میں نہیں آتی ہیں  ڈیمانڈ بڑھانے کے لیے بھی اردو کتابوں کے بارے میں بک اسٹالوں پر دریافت کریں یا خریدنے جائیں۔ ا س سے ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا اور ان شاء اللہ اس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
سرکاری اسکولوں کے بارے میں یہ شکایت عام ہے کہ وہاں تعلیم نہیں ہوتی ہے اور اسی ضمن میں اردو کی تعلیم کا بھی حال ہے۔ اس میں کسی حد تک سچائی بھی ہے۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے والدین اور سرپرستوں کو بیدار ہونا ہوگا اور انہیں بیدار ہونا بھی چاہیے کیونکہ یہ ان کی مستقبل کی تعمیر کا مسئلہ ہے۔ جس طرح وظیفہ اور پوشاک کی رقم نہیں ملنے پر وہ اسکول انتظامیہ سے محاسبہ کرتے ہیں اسی طرح تعلیم اور تدریس کے لیے بھی اسکول انتظامیہ سے مہذب اور احسن  طریقہ پر محاسبہ کا ماحول بنائیں اور ان بچوں کی تعلیمی پیش رفت پر ثبوت کے ساتھ محاسبہ کریں کہ ان کے بچوں کی پڑھائی نہیں ہو رہی ہے۔ اتنے دنوں سے انہیں اسکول کی جانب سے کوئی سبق نہیں ملا ہے۔ اسی طرح اگر اردو کی پڑھائی نہیں ہو رہی ہے تو  اسکول انتظامیہ اور اردو استاذ سے مہذب انداز مین محاسبہ کریں کہ اسکول میں اردو استاذ موجود ہونے کے باوجود اس کی پڑھائی کیوں نہیں ہو رہی ہے؟ اس کام کے لیے سماج کے ذمہ  دار افراد کی ذمہ داری زیادہ بڑھ جاتی ہے کہ وہ لوگوں کو اس کام کے لیے تیار کریں اور انہیں بتائیں کہ وہ اردو پڑھانے کے لیے اسکول سے بات چیت کرتے رہیں۔ اس سے اسکول انتظامیہ پر دباؤ بنے گا تو اسکول انتظامیہ اور اردو اساتذہ کو بھی اردو پڑھانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔سرکاری اسکولوں میں ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو والدین - اساتذہ میٹنگ تعلیمی پروگرام کا حصہ ہے جو اکثر جگہوں پر عمل میں نہیں ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے اسکول میں ہر ماہ کے پہلے سنیچر کو اسکول سے کوئی اطلاع نہیں ملنے کے باوجود اسکول جائیں اور اسکول انتظامیہ سے اس میٹنگ کے بارے میں سوال کریں۔ اپنے بچوں کے اساتذہ سے مل کر ان کی تعلیمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کریں۔ اگر وہاں اردو کی تعلیم نہیں ہو رہی ہے تو اس کے بارے میں سوال کرنا ہرگز نہ بھولیں۔
کتابوں کے لیے گرچہ حکومت کی جانب سے کتابوں کی قیمت فراہم کرائی جا رہی ہے لیکن حکومت کی جانب سے اسکولوں کو جو رقم ملتی ہے اس میں زیادہ امکان یہ رہتا ہے کہ سارے بچوں کو رقم نہیں مل سکے۔ اس کے لیے بھی لوگوں کو بیدار رہنا چاہیے اور حکومت سے محاسبہ اور مطالبہ جاری رکھنا چاہیے۔ ساتھ ہی خوشحال لوگوں کو چاہیے کہ اپنے معاشرہ میں تعلیم کے فروغ کے لیے ایسے غریب بچوں کو جن کو حکومت کی جانب سے رقم نہیں مل سکی ہے کتابیں خرید کر عطیہ کرنے کا ماحول بنائیں۔ یہ آپ کے لیے صدقہ جاریہ بھی ہوگا اور آپ کے سماج  میں تعلیم کی روشنی بھی پھیلے گی۔ ساتھ ہی جب کتابیں عطیہ کی جائیں گی تو ایسے بچوں سے ا س کی تعلیمی پیش رفت کے بارے میں پوچھ گچھ کا بھی ماحول پیدا ہوگا اور بچوں میں جواہدہی کا احساس پیدا ہوگا ۔ان شاء اللہ اس کے بھی کچھ نہ کچھ اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔ عام طور پر لوگوں میں اپنے بچوں کی تعلیم اور ترقی پر ہی توجہ رہتی ہے۔ حالانکہ کوئی بھی سماج چند افراد اور گھروں  کے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ہونے سے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ نہیں کہلاتا ہے بلکہ جب مجموعی طور پر کسی سماج میں تعلیم اور ترقی عام  ہوتی ہے تب جا کر کسی گاؤں، محلہ اور سماج کو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ گاؤں، محلہ اور سماج کا نام دیا جاتا ہے۔ اس لیے ایسے لوگ جن کی نظر میں تعلیم اور ترقی کی اہمیت واضح ہے اگر وہ خود کو تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ سماج کا حصہ کہلانا چاہتے ہیں تو اپنے ساتھ ساتھ پورے سماج کی تعلیم اور ترقی کی کوشش کریں۔
***

Wednesday, 4 July 2018

پینٹ شرٹ ڈریس کوڈ تکثیری ثقافت کو مٹانے کی مذموم کوشش



پینٹ شرٹ ڈریس کوڈ  تکثیری ثقافت کو مٹانے کی مذموم کوشش

میڈیا میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ یوپی مدرسہ بورڈ سے ملحقہ مدارس میں یوپی حکومت نیا ڈریس کوڈ نافذ کرنے جا رہی ہے اور اب وہاں کرتا پاجامہ یونیفارم کے طور پر پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔ابھی تک کی موصولہ خبر کے مطابق نیا ڈریس کوڈ پینٹ شرٹ یا پٹھانی سوٹ ہوسکتا ہے لیکن حکومت کے اب تک کے رویہ سے قیاس یہی کیا جارہا ہے کہ پینٹ شرٹ کا ہی زیادہ امکان ہے۔ خبروں کے مطابق حکومت  کے ذریعہ ایسا فیصلہ مدارس کے طلبہ کو قومی دھارے میں لانےاور احساس کمتری سے نکالنے کے لیے  کیا جارہا ہے۔
جہاں تک یونیفارم کی بات ہے تو چونکہ یہ فیصلہ بورڈ کے ملحقہ مدارس کے لیے  کیا جارہا ہے اس لیے یہ بات تسلیم کی جاسکتی ہے کہ حکومت ڈریس کوڈ کے سلسلہ میں کوئی رائے دے سکے لیکن حکومت کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ مدارس اقلیتی اداروں کے زمرہ میں آتے ہیں اور اسی حیثیت سے مدارس کے نصاب اور اسکولوں کے نصاب میں قدرے فرق بھی ہے۔ آج حکومت مدرسوں میں اسکول کا ڈریس کوڈ نافذ کرنا چاہتی ہے تو کیا کل مدرسوں کے نصاب کو بھی اسکول کے نصاب کے مطابق مکمل ڈھال دے گی حالانکہ اس کی کوشش تو مسلسل پہلے سے ہی جاری ہے اور جب نصاب بھی پوری طرح اسکول کے نصاب کے مطابق ڈھال دیا جائے تو پھر مدارس کے الگ نظام کی ضرورت ہی کیا ہوگی۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آئین نے اقلیتوں کو یہ آزادی دی ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق ادارے قائم کریں اور اس کا نصاب تشکیل دیں۔ ڈریس کوڈ کا تعلق بھی تعلیمی نظام سے ہے۔ اس لیے اس بات کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جس طرح ان کو تعلیمی ادارے قائم کرنے، قومی تعلیمی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے تدریسی نصاب مرتب کرنے کی آزادی ہے اسی طرح اپنے تعلیمی نظام میں اپنی مرضی کا ڈریس کوڈ نافذ کرنے کی آزادی کا بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔  ہاں اگر ایسے اداروں میں کوئی ڈریس کوڈ نہ ہو یا اس سلسلہ میں بے ضابطگی پائی جاتی ہو تو حکومت یہ  زرو ڈال  سکتی ہے کہ مدارس میں بھی ڈریس کوڈ نافذ ہو اور تمام طلبہ یکساں یونیفارم اختیار کریں تاکہ طلبہ میں مساوات کا جذبہ ابھر سکے۔ لیکن حکومت کے ذریعہ اقلیتی اداروں میں ان کی مرضی کے خلاف ڈریس کوڈ کو نافذ کرنے کی کوشش کرنا جمہوریت اور آئینی آزادی کے خلاف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔
خیال رہے کہ مسلمانوں میں کرتا پاجامہ کے ساتھ ساتھ پینٹ شرٹ بھی بالکل عام ہے اور کسی بھی سطح پر پینٹ شرٹ کو ناجائز لباس کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے۔ اسکولوں میں جہاں مسلمان بچوں کی مدرسوں میں پڑھنے والوں سے بڑی تعداد پڑھتی ہے اسکول کا یونیفارم پینٹ شرٹ بلا چوں چرا زیب تن کرتی ہے اور کہیں سے بھی کوئی ایسی آواز اقلیتوں کی جانب سے نہیں اٹھائی گئی ہے کہ مسلم بچوں کو پینٹ شرٹ پہننے پر کیوں مجبور کیا گیا۔ یہ صحیح ہے کہ مدرسوں میں ہر جگہ کرتا پاجامہ ہی ڈریس کوڈ کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ایسے میں پینٹ شرٹ کو مدرسوں میں جبرا نافذ کرنے کی کوشش کرنا اور اس کو مسئلہ بنانا کسی طرح بھی روا نہیں ہے۔ جس طرح مدرسوں  کو نصاب کی تشکیل میں یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اسکولوں میں رائج نصاب کی کتابوں  کے علاوہ دیگر کتابوں کو بھی شامل کریں اسی طرح یونیفارم کے معاملہ میں انہیں اب تک  جو اختیار حاصل رہا ہے اسے چھینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
مدارس میں ڈریس کوڈ کے نفاذ کے سلسلہ میں جو دلیل دی گئی ہے  کہ اس کا مقصد وہاں پڑھنے والے بچوں کو قومی دھارے میں لانا اور احساس کمتری سے نکالنا ہے، یہ بھی سراسر احمقانہ دلیل ہے۔ کرتا پاجامہ ہندوستان کا قدیم لباس رہا ہے۔ماضی میں برادران وطن کے درمیان کرتا اور دھوتی کا رواج رہا ہے جو اب کم ہوتا جا رہا ہے اور ان کے یہاں بھی ایک بڑی تعداد کرتا پاجامہ زیب تن کرتی ہے۔ مختلف تقریبات میں بڑے شوق اور ذوق سے وہ کرتا پاجامہ پہنتے ہیں۔ بلکہ ریشمی اور مٹکا کے کرتے تو ان کے یہاں ہی پہنے جاتے ہیں۔  ملک بھر میں خاص طور پر شمالی ہند سے تعلق رکھنے والے تقریبا تمام بڑے لیڈران آج بھی اور ہر دور میں کرتا پاجامہ زیب تن کرتے رہے ہیں۔ کیا یہ تمام لیڈران قومی دھارے سے الگ ہیں اور ان میں احساس کمتری پایا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو ہمیں سب سے پہلے ایوانوں میں نفیس قسم کے کرتے پاجامے زیب تن کئے ہوئے ان لیڈران کو احساس کمتری سے نکالنے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ خود یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ جو لباس پہنتے ہیں  وہ ایک مخصوص رنگ کا ہے  جس کی رنگت میں بظاہر  اتنی نفاست پائی  بھی نہیں جاتی ہے جیسا کہ مروجہ کرتا پاجاموں میں پائی جاتی ہے۔رنگ خواہ کوئی ہو وہ کرتا اور تہ بند ہی پہنتے ہیں۔ مدارس کے طلبہ کو پینٹ شرٹ پہنانے سے قبل وہ خود پینٹ شرٹ کیوں نہیں زیب تن کرلیتے۔ وہ  ہی  نہیں  ملک بھر میں سادھوؤں سنتوں کے درمیان پینٹ شرٹ رائج نہیں ہے۔ یوگی اور مودی حکومت کو چاہیے کہ وہ ملک بھر میں پھیلے سادھوؤں سنتوں کا ورکشاپ کراکر ان کی کونسلنگ کرائیں کہ وہ ان کپڑوں میں پسماندہ نظر آتے ہیں اور اس کے پیچھے ان کی پسماندہ ذہنیت کام کر رہی ہے۔ وہ اس احساس کمتری سے نکل کر قومی دھارے سے منسلک ہوں۔ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو تب مدارس یا ملک کے کسی طبقہ  کو ڈریس کوڈ نافذ کرنے کا حکم نامہ جاری کریں۔ اگر بفرض محال یہ ممکن بھی ہوجاتا ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کی ذہنیت رکھنے والے لوگ دشمنی میں ایسا کرنے بھی آمادہ ہوجائیں  اور اپنے مروجہ لباس کو چھوڑ کر پینٹ شرٹ پہن کر بابو بن جائیں تب بھی ہم اس بات کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے ہیں حکومت کی جانب سے آئینی اختیارات کو چھینا جائے اور اس کی جگہ ایک مخصوص قسم کا ڈریس کوڈ نافذ کیا جائے۔ کیونکہ اس سے ہمارے ملک کی روایت اور تکثیری ثقافت والی شناخت مجروح ہوگی وہیں شخصی آزادی بھی مجروح ہوگی اور ہم ان دونوں سے دست بردار ہونے کو کسی طرح تیار نہیں ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا لباس کے سلسلہ میں ہمارا قومی دھارا پینٹ شرٹ ہے؟ آخر اس ملک میں کیا صدیوں سے یہی پینٹ شرٹ رائج رہا ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بھی شخص اس ملک میں پینٹ شرٹ کے رواج کو ڈیڑھ دو سو سال سے اوپر نہیں لے جائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں ہمارے بیشتر مجاہدین آزادی جو اس ملک کے تمام مذاہب اور ذات سے تعلق رکھنے والے تھے بیشتر کرتا پاجامہ اور شیروانی زیب تن کرتے تھے۔ اگر پینٹ شرٹ اس ملک کا قومی دھارا ہوتا تو ہمارے لیڈران اور مجاہدین آزادی بھلا کرتا پاجامہ اور شیروانی کیونکر زیب تن کرتے؟جنگ آزادی کے درمیان جس سودیشی کپڑے کی تحریک چلائی گئی تھی کیا اس سے مردوں کے لیے کرتے نہیں سلائے جاتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ مرکز اور یوپی میں برسر اقتدار حکومت جو آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے وہ ملک میں مسلمانوں کی دشمنی میں اتنی اندھی ہوگئی ہے کہ اس نے اس ملک کی روایتوں کو بھی مٹانے کی مہم چھیڑ دی ہے  جس کو کسی بھی حال میں برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔ کرتا جو ایک سودیشی لباس ہے وہ اس کو ختم کرکے  ملک ایک روایت کو مٹانا چاہتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے اس سلسلہ میں تمام مذاہب کے اور ذات کے لوگوں کو یوپی حکومت کے خلاف آواز بلند کرنی چاہے۔ کیونکہ اس پر روک نہیں لگائی گئی تو اس ملک میں شخصی آزاد ی پوری طرح سے خطرہ میں پڑجائے گی اور پہننے کھانے، رہنے سہنے اور زندگی کے دیگر طریقے جن کا تعلق شخصی آزادی سے خطرہ میں پڑ جائے گی اور ہر چیز حکومت سے پوچھ کر کرنا ہوگا۔
ان سب سے اہم بات یہ ہے کہ بی جے پی  جو ترقی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کے نعروں کے ساتھ اقتدرا میں آئی تھی اب جبکہ اپنی پانچ سالہ میعاد کو پورا کرنے تک ملک میں ترقی لانے، سب کو ساتھ لے کر چلنے اور سب کا وکاس کرنے میں پوری طرح ناکام ہوچکی ہے ۲۰۱۹ کے انتخاب کے لیے پولرائزیشن کے ایشوز عوام میں شدت سے اچھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہی ایجنڈوں میں سے ایک ایجنڈا مدرسوں کا یونیفارم کرتا پاجامہ نہیں پینٹ شرٹ ہے۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ اس سیاسی ایشو کا مقابلہ ہم کس طرح کرتے ہیں۔
بی جے پی جس طرح نان ایشو کو ایشو بنارہی ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ملک میں ترقی کا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہ گیا ہے۔ اب صرف طرز زندگی کے کچھ ایشوز باقی رہ گئے ہیں جن کے ختم ہوتے ہی ہمارا ملک ترقی یافتہ ہوجائے گا۔ حالانکہ دنیا کی ترقی جس رفتار سے جاری ہے اگر ہم اس کے ساتھ ساتھ نہیں چل سکے تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا ملک ترقی میں مزید پیچھے ہوجائے گا۔
***

Wednesday, 18 April 2018

اسلام نہیں مسلمان خطرے میں ہیں۔


اسلام نہیں مسلمان خطرے میں ہیں
اسلام اس دنیا میں باقی رہنے اور پھلنے پھولنے کے لیے آیا ہے۔  یہ اپنی فنا کو مات دے کر آیا ہے۔ آب حیات سے اس کی پرورش ہوئی ہے۔ اسلام نہ  کبھی مٹے گا اور نہ ہی وہ مٹنے کے لیے آیا ہے۔ نبی اکرم محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ ان کے بعد نبوت کا سلسلہ ہمیشہ لیے منقطع ہوگیا ہے۔ اب نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ کسی شریعت کا نزول ہوگا۔ شریعت محمدیہ اسلام کا فائنل ایڈیشن ہے جو قیامت کی صبح تک کے لیے ہے۔
چانچہ جب اسلام کو  ہمیشہ باقی رہنا ہے تو اس پر کوئی خطرہ بھی لاحق نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس کے ماننے والوں پر ان کی بد اعمالیوں کے نتیجے میں خطرات کے بادل منڈلاتے رہتے ہیں۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جب بھی خطرات کے بادل ان کے سروں پر چھائے ہیں اور اس کے بعد بھی انہوں نے اپنے اعمال کی اصلاح نہیں کی تو ان کا وجود صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا ۔
چونکہ اسلام کو ہمیشہ باقی رہنا ہے اس لیے اللہ نے اپنے رسول سے یہ وعدہ بھی کیا ہے جس طرح گزشتہ قومیں نیست و نابود ہوگئیں اس طرح یہ قوم  ایک سال پوری کی پوری  مٹائی نہیں جائے گی۔ ایسے میں اللہ تعالی نے جب بھی اس مذہب کے نام نہاد دعویداروں کو اس  کے کرتوت کی سزا دی ہے تو ان کی جگہ پر اپنے دین اور شریعت کی حفاظت کے لیے دوسری قوم  کو لے آیا ہے۔
اس وقت جو خطرات کے بادل ہیں یقین جانیے یہ اسلام اور شریعت پر نہیں بلکہ موجودہ مسلمان قوم پر ہیں۔ اس لیے ساری تگ و دو اسلام کو بچانے کی نہیں مسلمان کو بچانے کی ہونی چاہیے۔ 
جہاں تک اسلام کی بات ہے تو جب بھی ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں وہ اسلام کے لیے سنہرا دور ہوتا ہے کیونکہ اسی منافرت کے ماحول میں دوسری متنفر قوموں کے افراد کے لیے اسلامی تعلیمات  کے راست مطالعہ کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے کہ اب تک جو قوم مسلمانوں سے برسر پیکا ری وہ  اسلام کی حامی و ناصر ہوجائے۔ اس طرح
رفتہ رفتہ مسلمان قوم کے پرانے افراد اپنے کرتوت کے نتیجے میں ٹھکانے لگتے جاتے ہیں اور دوسری قوم کے افراد ان کی جگہ لیتے رہتے ہیں جو فکر و عمل کے اعتبار سے اس سے کہیں زیادہ توانا ہوتے ہیں۔
موجودہ وقت میں بھی جب ہندوستان ہی نہیں ہر چہار جانب مسلمانوں پر خطرات کے بادل منڈلا رہے ہیں اور مسلمانوں کی بد اعمالیاں اور سرکشی غالب ہوتی جا رہی ہے ۔ دین اور شریعت سے ان کا رشتہ کمزور ہوتا جا رہا ہے، اسلام اپنے بہترین دور کی طرف بڑھ رہا ہے اور موجودہ مسلمان اپنے بدترین انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔لہذا دین کو نہیں خود کو بچائیے۔